Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 3

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

مغرب کی اذان کے فوراً بعد ہی برانڈے میں تخت کی باٸیں طرف رات کے کھانے کا دسترخوان بچھ جاتا تھا ، سردی ہو یا گرمی دسترخوان کی یہی جگہ مخصوص تھی جہاں چوہدری حاکم کی موجودگی میں حویلی کے تمام مکیں ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ۔
اور اب بھی دسترخوان پر رات کے پکوان سجے تھے ، مٹی کی ہانڈی جس سے بھاپ اُڑ رہی تھی اس میں بکرے کا گوشت تھا ، اوپر ادرک کے لچھے اٹھتی بھاپ کے باعث بمشکل نظر آ رہے تھے ، چاندی کے بڑے سے گول تھال میں مٹر والے چاول اور ایک طرف بھاپ اڑاتی مسور کی دال جس پر سبز دھنیہ سجا تھا ، سالن روز دوپہر اور شام کو تازہ پکتا تھا اور ہفتے میں دو بار چاول پلاٶ بنتا تھا ۔ ناشتہ سب پراٹھے اور چاۓ ، اچار اور انڈوں کے ساتھ کرتے تھے ۔
چاندی ، پیتل اور سٹیل کے برتن بڑے سلیقے سے دسترخوان پر سجے تھے ۔ صحن میں باورچی خانے کے قریب کچی مٹی سے بنے چبوترے پر تندرو سے دھواں اٹھ رہا تھا ۔
شمو تندرو میں بازو لمبا کیے تھپ تھپ روٹیاں لگاتی جا رہی تھی اور تاری بوا تندرو سے گرم گرم روٹیاں ایک لمبے سے کھونٹھے میں پھنسا پھنسا کر نکالتی اور چپاتیا میں رکھتی جاتی ، جہاں سے یہ روٹیاں بلقیس اور غزالہ دسترخوان تک لے جا رہی تھیں ۔
سب لوگ باری باری اپنے کمروں سے نکل کر ہاتھ دھونے کے بعد آ کر بیٹھے تو بلقیس نے غزالہ کو دسترخوان پر بیٹھنے کا اشارہ کر دیا اگرچہ اس کا نقی بھی ابھی صرف تین سال کا تھا پر وہ غزالہ کا اسی طرح خیال رکھتی تھی ، شمو اور تاری کے آ جانے کے بعد ہی بلقیس دسترخوان پر بیٹھتی تھی کیونکہ پھر تاری بوا اور شمو مل کر ضرورت کی چیزیں دسترخوان پر لاتی تھیں ۔
” اس دفعہ کی فصل میں سے فرزانہ کے داج کے پیسے نکالنے کے بعد گودام بھرنے ہیں “
چوہدری حاکم نے دسترخوان پر بیٹھے نقیب حاکم اور نوازش حاکم کی طرف دیکھتے ہوۓ حکم صادر کیا ۔
” جی ابا جی ۔۔۔ “
دونوں کی ایک ساتھ جی نکلی تھی ، مٶدب سے وہ سر ہلا کر رہ گۓ ، منیر میاں نے تشکر آمیز نگاہوں سے چوہدری حاکم کی طرف دیکھا مگر وہ کھانا کھانے میں مشغول تھے ۔
چوہدری حاکم کے سیاہ اور سفید امتزاج کے بال تھے جن کے اوپر وہ سارا دن سفید لٹھے کی کلف زدہ پگڑی پہن کر رکھتے تھے اور رات کے کھانے سے کچھ دیر پہلے ہی اتار دیتے تھے ۔ با رعب مونچھوں اور پر وقار داڑھی والے حاکم دین اپنی عمر کے اس ادوار میں بھی مضبوط اور توانا ہونے کی وجہ سے اپنی عمر سے کہیں کم عمر نظر آتے تھے ۔
چپ ۔۔۔چپ۔۔۔۔چپ۔۔۔ فرہاد کے کھانے کی آواز دسترخوان کی خاموشی میں خلل ڈال رہی تھی ۔ جس دن بھی بکرے کا گوشت بنتا کچھ ایسا ہی حال ہوتا ۔
نقیب کے بلکل پاس بیٹھے تقی نے باپ کو ٹہوکا نقیب حاکم نے اس کی طرف دیکھا تو تقی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا ۔ دراصل وہ اپنی داخلہ فیس مانگنا چاہتا تھا جس کے لیے وہ اب باپ کو اشارے کر رہا تھا۔ کہ وہ چوہدری حاکم سے بات کریں ۔
نقیب حاکم نے ایک نظر چوہدری حاکم پر ڈالی اور پھر جھکا دی ، تقی دل مسوس کر رہ گیا ۔ اور پھر خود نگاہ اٹھاۓ چوہدری حاکم کی طرف دیکھا ۔
” دا جی ۔۔۔ وہ میری اس دفعہ کی داخلہ فیس “
تقی نے باپ سے ناامید ہو کر خود ہی ہمت دکھاٸ تھی ۔ کیونکہ وہ اپنی فیس کے ساتھ رمنا کی بھی فیس اسی پیسوں سے ادا کرتا تھا ۔ چوہدری حاکم نے اُس کی آواز پر اس کے بجاۓ پہلے نقیب کی طرف دیکھا تھا ۔
چپ ۔۔۔۔چپ ۔۔۔۔۔ چپ۔۔۔ فرہاد گوشت چبانے میں مصروف تھا ۔
” یہ تو کلیکٹر لگ کے ہی ہماری جان چھوڑے گا “
چوہدی حاکم نے ایک آبرو چڑھاۓ ذرا کی ذرا تقی کی طرف اور پھر دوبارہ نقیب کی طرف دیکھا جو اب نادم سا نگاہیں چرا رہا تھا ۔ چوہدری حاکم کو تقی کی پڑھاٸ سے عجیب سا ہی بیر تھا ، ان کو لگتا تھا یہ زیادہ پڑھ لکھ کر اپنی جدی پشتی لمبرداری اور سیاست چھوڑ کر ملازمت کرنے کو ترجیح دینے لگے گا اور پھر اتنی زمینیں اور گاٶں پر یہ حکومت ختم ہو جاۓ گی جو ایک عرصے سے ان کے خاندان میں پیڑھی در پیڑھی چلتی آ رہی تھی ۔
چپ۔۔۔۔چپ۔۔۔۔۔چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آواز فرہاد کے منہ سے مسلسل آ رہی تھی ۔
” نقیب ، اس سے پوچھ کر اس کو دے دینا داخلہ فیس “
چوہدری حاکم نے رعب سے نقیب کی طرف دیکھ کر کہا پھر جھنجلا کر فرہاد کی طرف دیکھا
” فرہاد ۔۔۔۔ چپ چپ کی آواز اتنی کیوں نکال رہے ہو ، کھانے کی تمیز نہیں نوالہ ایسے چباٶ کہ آواز صرف تمھارے کان سن سکیں “
پیشانی پر بل ڈالے اونچی آواز میں اسے ڈپٹا ، فرہاد نے سہم کر آواز بند کی ، بدقسمتی سے وہ آج چوہدری حاکم ذرا قریب بیٹھ گیا تھا ، اس کے پاس بیٹھے منیر میاں نے سٹپٹا کر فرہاد کے سر پر ہلکی سی چپت لگاٸ ۔ اریب تو اپنے بیٹے کی اس عزت افزاٸ پر پہلو بدل کر رہ گٸ ۔
” ابا جی فرہاد نے بھی آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کر لیا ہے “
منیر نے جلدی سے پوری باچھیں کھلاۓ چوہدری حاکم کے سامنے اپنے نمبر بنانے کی ناکام کوشش کی ۔ چوہدری حاکم نے بغور فرہاد کی طرف دیکھا جو اب آہستہ آہستہ منہ ہلا رہا تھا ۔
” لگتا ہے اگلی ساری پیڑھی باپ دادا کی سیاست ، بیوپار اور زمینداری چھوڑ کر غلامیاں ہی کرے گی “
چوہدری حاکم نے استہزایہ مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ، خدیجہ بیگم نے دوپٹے کا کونا درست کیا اور پھر کچھ دور چوکی پر بیٹھی تاری بوا کی طرف گردن موڑی
” تاری بوا۔۔۔۔ میٹھا لے آۓ اب ۔۔۔ “
ہاتھ کے اشارے سے تاری بوا کو کھیر لانے کا کہا روز رات کے کھانے کے بعد کھیر ، سویاں ، یا حلوا بنتا تھا جو تھوڑا تھوڑا چینی کی پیالیوں میں ڈال کر سب کو پیش کیا جاتا تھا ۔ تاری بوا نے مٶدب انداز میں سر ہلایا اور شکر کا کلمہ پڑھتی اٹھی کیونکہ اب دسترخوان سمیٹ کر اس کو بھی کھانا کھانا تھا ۔
تاری بوا برانڈے کے زینے اترتی باورچی خانے کی طرف بڑھی اور اس کے باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی اس کی ہولناک چیخ برآمد ہوٸ ۔
” ہاۓ او۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرایا ربا!!!!!!!! “
غزالہ کا ہاتھ جو نوالہ بناۓ اس کے منہ کو جا رہا تھا ہوا میں ہی رک گیا۔ وہ رملا کو کھلا کر اب جلدی جلدی خود کھانے میں مصروف تھی ۔ غزالہ نے گڑبڑا کر اپنی داٸیں طرف دیکھا جہاں مالا کو ہونا چاہیے تھا پر وہاں مالا نہیں تھی ۔
” مالا ۔۔۔۔۔ “
خودکلامی کے ساتھ ہی نوالہ پلیٹ میں دھر کر وہ باورچی خانے کی طرف دوڑی ۔ اور ڈر سچ ثابت ہوا تھا مالا کھیر کا پتیلا الٹاۓ کھڑی تھی جو شاٸد تاری بوا نے بڑی چوکی پر رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ غزالہ اس کی طرف بڑھتی مالا تیر کی سی تیزی سے باورچی خانے سے باہر نکل چکی تھی ۔
*********
میرے نیہر سے آج مجھے آیا یہ پیلا جوڑا ۔۔۔ یہ پیلا جوڑا ۔۔۔ یہ ہری ہری چوڑیاں۔۔۔۔۔
ڈھولک اور تالیوں کی تھاپ کے سنگ نسوانی آوازوں میں گیت گونج رہا تھا ، جس کی آواز پھاٹک کے باہر برانڈوں میں بھی ہلکی ہلکی سناٸ دے رہی تھی ۔ پھاٹک کا ایک کواڑ کھلا تھا آج اور چھن چھن ، چم چم اور کھی کھی کرتی خواتین پھاٹک سے اندر صحن میں داخل ہو رہی تھیں ۔
میرے نیہر سے آج مجھے آیا یہ پیلا جوڑا ۔۔۔ یہ پیلا جوڑا ۔۔۔ یہ ہری ہری چوڑیاں۔۔۔۔۔
حویلی برقی قمقوں سے سجی تھی باہر کی دیواریں ، پھاٹک ، بیرونی راہداری ، باہر کے کھلے برانڈے ان کے ستون ، پھر پھاٹک سے اندر داخل ہو کر چھت کی سامنے کی دیوار ، صحن کے درخت ، فوارہ اور اٹاری کے ستون جن کے گرد گول گول گھما کر قمقوں کو لگایا گیا تھا ، غرض کے حویلی برقی قمقوں میں نہاٸ ہوٸ تھی ۔
آج فرزانہ کے مایوں کی تقریب تھی جو شادی سے سات روز پہلے رکھا گیا تھا ۔ دور والے تمام عزیز ، ناتہ دار حویلی میں جمع ہو چکے تھے جن کو اب سات دن تک حویلی میں شادی تک قیام کرنا تھا ۔ پورے صحن میں چارپاٸیاں ڈالی ہوٸ تھیں جہاں ٹولیوں کی شکل میں عمر رسیدہ خواتین کرن لگے دوپٹے سروں پر اوڑھے خوش گپوں میں مگن تھیں ، حقوں اور پان کا دور دورہ وقفے وقفے سے چل رہا تھا ۔ جب کے جوان لڑکیاں اور کچھ خواتین اٹاری میں تخت کے قریب بچھے قالین پر بیٹھی ڈھول پییٹ رہی تھیں ۔ بچے پوری حویلی میں بھاگتے دوڑتے اور روتے دھما چوکڑی مچاۓ ہوۓ تھے ۔
خدیجہ بیگم باورچی خانے کے کواڑ کے پاس اور تاری بوا کواڑ تھامے اندر کھڑی تھیں ، شمو باورچی خانے میں چوکی پر بیٹھی پیالیوں میں چاۓ ڈال رہی تھی ۔ ہلکے سے گندمی رنگ کی چاۓ پیالیوں اور کپوں سے بھاپ اڑاتی الاٸچی کی خوشبو کو پورے باورچی خانے میں بکھیرے ہوٸ تھی ۔
”لڈو مہمانوں کو چاۓ کے ساتھ دے کر لڈو والی ڈرمی کو یاد سے تالا لگا دیجیو ۔۔۔ “
خدیجہ بیگم نے اپنی قمیض کے اطراف پر بنے کھیسے میں سے ڈرمی کی چابی نکال کر تاری بوا کی طرف بڑھاٸ ، تاری بوا نے سر ہلاتے ہوۓ چابی ہاتھ سے پکڑی ۔
ہاتھ سے تیار کیے ہوۓ موتی چور کے لڈو خود حویلی کے صحن میں تیار کرواۓ جاتے تھے اور پھر ان سے ایک ڈرمی بھر لی جاتی تھی اور پوری شادی کے دوران مہمانوں کو چاۓ کی پیالی کے ساتھ لڈو پیش کیے جاتے تھے ۔
” بے فکر ہو جاۓ بی جی میں کُنجی اپنے دوپٹے کے پلو سے باندھ لوں گی “
تاری بوا نے چابی کو اپنے دوپٹے کے ایک کونے کو اٹھا کر باندھتے ہوۓ کہا
” ہممم ، بہت اچھا کرے گی ، نہیں تو وہ ہے نا ایک چھوٹی سی چنڈال میٹھے کی دشمن ہڑپ کر جاۓ گی سارے “
خدیجہ بیگم نے ہاتھ کھڑا کرتے ہوۓ تاری بوا کو مالا سے خبردار کیا پھر جانے کے لیے قدم بڑھاۓ پر رُک کر پرسوچ انداز میں پلٹیں
” دو وقت لڈو دیجیو مہمانوں کو ، صبح کے ناشتے کی چاۓ کے ساتھ اور شام کی چاۓ کے ساتھ “
خدیجہ بیگم سمجھانے کے انداز میں تاری بوا کو حکم صادر کرتیں باہر نکل گٸیں اور تاری بوا سر ہلاتی لڈو کی ڈرمی کی طرف پلٹ گٸ ۔۔۔۔
********
ہلکے سے سبز رنگ کے جوڑے پر ٹشو کپڑے کا سنہری کناری والا دوپٹہ اوڑھے ، رمنا کمرے میں داخل ہوٸ تو سامنے پیلے جوڑے میں پلنگ پر بیٹھی فرزانہ کو دیکھ کر آنکھیں پوری کُھل گٸیں ۔
فرزانہ اپنی سہیلیوں کے جھمگٹے میں پیلا جوڑا پہنے بیٹھی تھی اور ایک طرف خدیجہ بیگم کی سب سے چھوٹی بیٹی زیب ٹانگ ہر ٹانگ چڑھاۓ بیٹھی تھی ۔
وہ جب بھی گھر آتی اس کے ٹھاٹھ ہی الگ ہوتے تھے ، زیب کی شادی شہر میں ہوٸ تھی جو چوہدری حاکم کے کسی دوست کے بیٹے کے ساتھ ہوٸ تھی جو شہر میں ایک متوسط طبقے کا ناٸب ناظم تھا اور نیا نیا شہر میں رہاٸیش پزیر ہوا تھا ۔
” ہاۓ فرزانہ آپا کتنی خوبصورت لگ رہی ہو “
رمنا محبت سے ستاٸشی جملہ ادا کرتی فرزانہ کے قریب پلنگ کے پاس آٸ جواباً فرزانہ بھی محبت سے مسکا دی ۔ مایوں کا جوڑا فرزانہ پر جچ رہا تھا ۔
” ارے نظر لگاۓ گی کیا ، بے عقل کہیں کی ماں جیسی ۔۔۔ ماشاءاللہ بولتے ہیں ساتھ “
زیب نے ماتھے پر بل سجاۓ ایک ہی پل میں رمنا کو جھاڑ دیا جو اسطرح جھاڑنے پر روہانسی ہوٸ ، کیونکہ زیب کے یوں پل بھر میں جھاڑ دینے پر کمرے میں موجود سب لوگ ایک ساتھ رمنا کی طرف متوجہ ہوۓ تھے ۔
” زیب خالہ ۔۔۔۔“
فرزانہ نے رمنا کا اترا چہرہ دیکھا تو گھور کر زیب کی طرف دیکھا جو لاپرواہی سے ہاتھ ہوا میں چلا چکی تھی ۔
” معافی چاہتی ہوں زیب پھپھو آٸیندہ دھیان رکھوں گی “
رمنا جو کچھ دیر پہلے چہک رہی تھی مریل سی آواز میں کہتی پلنگ چوکی پر سے اٹھی ، دل ایک دم سے بجھ گیا تھا ۔
” سنو نسیم میرا بھی کر دو تھوڑا سے یہ موا میک اپ شیک اپ ، اسلم میاں خوش ہی ہو جاٸیں گے “
زیب نے گردن کو داٸیں باٸیں جنبش دیتے ہوۓ شرما کر فرزانہ کی ایک سہیلی سے کہا جو دوسری کا سنگہار کرنے میں مصروف تھی ، پاس بیٹھی فرزانہ کی تمام سہیلیاں منہ پر ہاتھ رکھے کھی کھی کرنے لگیں ۔
رمنا اداس اور نادم سی صورت لیے کمرے سے باہر نکل آٸ یونہی اتری صورت لیے اب اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اچانک تقی کی آواز پر قدم تھم گۓ ۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ؟ منہ کیوں لٹکا ہوا ہے “
محبت اور اپناٸیت بھرا لہجہ تھا ، رمنا نے نگاہیں چراٸیں ۔ وہ کُرتے کے آستین اوپر کو موڑے ہاتھ میں تھیلا تھامے کھڑا تھا جس میں شاٸد فرزانہ کی سہیلیوں کے لیے گجرے تھے ۔
” کچھ بھی تو نہیں اور منہ کب لٹکا ، گردن پر ہی تو لگا ہے “
رمنا نے زبردستی مسکراہٹ سجاۓ بات کو گول کرنے کی کوشش کی
”بات سنو ، اریب پھپھو نے کہا کچھ یا زیب پھپھو نے ؟ “
تقی نے آنکھوں سے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا اور ساتھ ہی سوال پوچھا ، رمنا جزبز سی ہوتی خود کو سنبھال پاٸ اور پھر اس کے پیچھے کمرے میں چل دی ۔ تقی نے گجرے کے تھیلے ایک طرف میز پر رکھے اور پھر سیدھا ہوا۔ یہ تقی کا ہی کمرہ تھا جہاں کسی بھی مہانوں کو آنے کی قطعً اجازت نہیں تھی کیونکہ اس کی کتابیں میز پر ہی سجی تھیں ۔
” کسی نے کچھ بھی نہیں کہا تقی بس تھکی ہوٸ ہوں نیند نہیں پوری ہوٸ شاٸد “
رمنا نے آہستگی سے جواب دیا ، جبکہ آواز ابھی بھی رندھی ہوٸ تھی ۔
” جھوٹ نا کم بولا کرو ، خاص طور پر مجھ سے ، اچھا اب یہ بتاٶ تیاری کیسی ہے امتحان میں بس دو مہینے ہی باقی ہیں “
تقی نے خفگی سے ڈپٹ کر پوچھا ، رمنا نے جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ پیچھے سے منہا کی آواز پر چپ ہونا پڑا
” او۔۔۔۔ ہو ۔۔۔۔ ملاقاتیں ہو رہی ہیں “
منہا نے شرارت سے کہا اور پھر شوخ ہوتے ہوۓ تقی کو اور رمنا کو دیکھا اگرچہ وہ رمنا سے تین سال چھوٹی تھی پر اس سے بےتکلفی بہت تھی ۔ اور تقی تو ویسے ہی اس کا بھاٸ تھا تو دونوں میں نوک جھونک مزاق مستی چلتی ہی رہتی تھی ۔ وہ بلکل رمنا کی طرح کا جوڑا زیب تن کیے ہوۓ تھا ۔
یہ ایک تھان سے لایا گیا کپڑا تھا جس سے گھر بھر کی تمام بچیوں رمنا ، منہا، مالا اور رملا کے ایک جیسے جوڑے بناۓ گۓ تھے ۔
” جیسی شکل ہے ہمیشہ ویسی بات کرنا تم تو ، یہاں تمہیں ملاقات لگ رہی ہے ، اس کو دیکھو زیب یا اریب پھپھو کا شکار ہوۓ منہ لٹکاۓ کھڑی ہے “
تقی نے گھور کر اس کی چھیڑ خانی پر تگڑا جواب دیا جو اب تقی کو منہ چڑا کر فکرمندی سے رمنا کو کندھوں سے پکڑ کر ساتھ لگا چکی تھی۔ دونوں کے درمیان بچپن سے ہی بے حد دوستی تھی ۔ کمرے میں کوٸ داخل ہوا تھا ۔
” تقی بھاٸ آ جاٸیں ۔۔۔ پھر سے لسٹ تھما دی ہے زیب خالہ نے “
فرہاد مصروف سے انداز میں ایک ہاتھ میں پرچہ تھامے اور دوسرے ہاتھ سے کواڑ کے آگے ڈالے پردے کو پیچھے کیے اندر داخل ہوا تھا۔
” ایک تو یہ خواتین کی چیزیں ۔۔۔۔ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں “
تقی نے پیشانی پر بل ڈالے بیزاری ظاہر کی ، جس پر رمنا اور منہا ایک ساتھ منہ پر ہاتھ رکھے ہنس دیں ۔ زیب تین دن پہلے ہی حویلی آٸ تھی اور خریداری شاٸد اب کر رہی تھی ۔
” ما۔۔۔م۔۔۔منڈی ۔۔۔۔ ارے تقی بھاٸ منڈی ہی منگوا لی اس دفعہ تو زیب خالہ نے “
فرہاد نے بمشکل زیب خالہ کے لکھاٸ پڑھتے ہوۓ لسٹ کے اوپر لکھی سب سے پہلی چیز بتاٸ
” بدھو یہ منڈی نہیں مہندی لکھا ہو گا ، بہت نکمے ہو تم “
رمنا نے فرہاد کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر پاس کھڑی منہا کی طرف دیکھا اب دونوں اس پر کھی کھی کر رہی تھیں ۔ فرہاد تقی سے چھوٹا پر رمنا اور اور منہا دونوں سے بڑا تھا ۔
” تم تو بڑی جیسے اُستانی لگ گٸ ہو نا ، آٹھویں تو میں نے بھی اس دفعہ پاس کر لی ہے اور بہت جلد نویں جماعت میں جا کر تم سے آگے نکل جاٶں گا “
فرہاد نے کالر چڑھا کر تڑی لگاٸ ، وہ تین دفعہ فیل ہونے کے بعد آٹھویں جماعت میں پاس ہوا تھا اس کا رمنا اور منہا سے بیر ہی رہتا تھا ۔
”یہ منہ اور مسور کی دال “
اب کی بار منہا نے کہا اور پھر سے رمنا اور منہا کی کھی کھی کمرے میں گونجی تھی
” چل ۔۔۔ بڑی آٸ تو رمنا بگو کی چمچی ۔۔۔ اپنی ناک دیکھی چپٹی سی۔۔ تقی بھاٸ ڈاکٹر بن کر سب سے پہلے اس کی ناک پر تحقیق کرنا کہ سانس کیسے لیتی ہے یہ بیچاری “
فرہاد نے جل کر منہا کے ناک پر چوٹ کی اور پھر تقی کو مشورہ دیتا ہوا خود ہی اپنی بات پر قہقہ لگا گیا
منہا اس کی بات پر بھنا کر دانت پیستے ہوۓ آگے ہوٸ تو تقی جھنجلا کر ان کے بیچ میں آیا ۔
” ارے بس کرو تم سب کیا تماشہ لگا رکھا ہے ، چلو فرہاد بہادر کو کہو گاڑی نکالے “
تقی نے منہا اور رمنا کو زبان نکال کر منہ چڑاتے فرہاد کا کندھا تھام کر حکم دیا اور پھر دونوں باہر نکل گۓ ۔ اور منہا نے رمنا کا پھر سے اداس ہوتا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا ۔
” پتا ہے تقی بھاٸ کا دل کیوں نہیں چاہ رہا تھا جانے کو “
منہا نے شریر سے لہجے میں رمنا سے دیکھ کر پوچھا جو ایک دم سے اس کی بات کا اشارہ سمجھ کر جھینپ گٸ اور پھر اس کے کندھے پر زور کی چٹکی کاٹی جس پر وہ مصنوعی چیخ اٹھی ۔۔۔۔
اسی لمحے پلنگ کے نیچے کھٹ پٹ ہوٸ تو دونوں نے ایک ساتھ دو زانو بیٹھ کر نیچے دیکھا مالا لڈو کی بھری پلیٹ لیے پلنگ کے نیچے بیٹھی تھی ۔
**********
دیگیوں میں چمچ زور زور سے چل رہے تھے جن سے کھٹ ، کھن ۔۔۔۔ جیسی آوازیں پیدا ہو رہی تھیں اور حویلی سے باہر برانڈوں میں لگے چارپایوں پر کہیں پیاز کٹ رہا تھا تو کہیں لہسن چھیلا جا رہا تھا ۔
ایک طرف بڑی بڑی پراتوں میں گوشت دھو دھو کر لایا جا رہا تھا۔ دیگوں کے نیچے جلتی لکڑیوں کا دھواں دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور مسالوں کی خوشبو پھاٹک تک پھیلی ہوٸ تھی ۔
گاما پیچھے کمر پر ہاتھ باندھے دیگوں کی نگرانی کر رہا تھا ۔ وہ چوہدری حاکم کی زمینوں کے حساب کرنے والا منشی تھا ۔
آج فرزانہ کی بارات تھی جس کے لیے صبح ہوتے ہی دیگیں چڑھا دی گٸ تھیں تاکہ دوسرے گاٶں سے براتیوں کے آنے سے پہلے کھانا تیار ہو جاۓ ۔ گاما یونہی ہاتھ باندھے برانڈے میں داخل ہوا تو لڈن میاں کو اخبار تھامے پریشان حال دیکھ کر اس کی طرف قدم بڑھا دیے ۔
” اوہ۔۔۔۔ اللہ بس بچا لے آنے والی آفت سے ۔۔۔۔ اللہ تو ہی بچانے والا ہے “
لڈن میاں نے اخبار کو گود میں رکھے ہاتھ اوپر اٹھاۓ رقت آمیز لہجے میں اللہ سے دعا گو تھا ۔ لڈن میاں سال میں دس مہینے گنج ہی کرواۓ رکھتا تھا اسے سر کے بالوں سے عجیب ہی چڑ تھی ۔
” کیا ہوا لڈن میاں ایسی کیا خبر دیکھ لی پرچے میں ، ہمیں بھی تو پتا چلے “
گامے نے تجسس سے ناک پر عینک درست کرتے ہوۓ پوچھا ، لڈن میاں شاٸد کل کی اخبار لیے بیٹھا تھا
” بس اُلٹ گٸ ہے کہیں پر یاڑ ، تصویر ہی دیکھی ہے پڑھنا تو آتا نہیں مجھے ، ذڑا پڑھ کڑ تو بتا کہاں ۔۔۔کدھر کڑ کے الٹی ہے بس “
پریشان حال لڈن میاں نے اخبار گامے کے آگے کرتے ہوۓ پوچھا ، گامے نے جھک کر اس کے ہاتھوں میں تھامے اخبار کی طرف دیکھا
” بس ۔۔۔ تو تیرے دماغ میں ہی الٹی ہے لڈن “
گامے نے ایک نگاہ ڈالتے ہی کہا اور ہنسنے لگا ، لڈن اور پریشان ہوا ، گامے کا تو ہنسنا بند ہی نہیں ہو رہا تھا ۔
” مطبل کیا تیری بات کا یہ کون سی جگہ جو لڈن کے دماغ کے نام پر رکھ دی سرکار نے “
لڈن لبوں پر انگلی رکھے پریشان حال ہو گیا ۔
” جگہ کوٸ نہیں ہے ایسی ، تو نے پرچہ ہی الٹا پکڑا ہے ، سیدھا پکڑ بس الٹی نہیں ہے ، سیدھی کھڑی ہے “
گاما لگاتار ہنس رہا تھا ، اور لڈن میاں اب اخبار کو سیدھا کیے کھسیانی ہنسی ہنس کر گامے کا ساتھ دے رہا تھا ۔ اور ساتھ ساتھ گنج پر خارش کر رہا تھا۔
********
حویلی میں ایک ہنگامہ سا برپا تھا ، کچھ دیر میں ہی مہمانوں کو ولیمے کی تقریب کے سلسلے میں دوسرے گاٶں کے لیے نکلنا تھا۔ حویلی کے تمام مکین مدعو کیے گۓ تھے ۔ رمنا پژمردہ سا چہرہ لیے تقی کے کمرے میں داخل ہوٸ ۔
” تقی ۔۔۔۔ سنو ۔۔۔“
رمنا نے عجلت میں تیار ہوتے تقی کو پکارا وہ مضطرب سی تھی ۔ اور اس کا یہ انداز پچھلے سات دن سے تھا ۔
” ہاں کیا ہوا ایسے کیوں گھبراٸ ہوٸ ہو بولو “
تقی نے بالوں میں کنگھی چلاتے ہوۓ مصروف لہجے میں پوچھا ، وہ کمرے میں لگے آٸینے کے سامنے کھڑا تھا ۔
” تقی تم سے بات کرنی ہے بہت ضروری ہے “
رمنا اضطراب کی کیفیت میں دونوں ہتھیلیوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ کھڑی تھی ۔
” ہاں تو کرو “
تقی نے کھیڑی کو پاٶں میں پہنتے ہوۓ پوچھا ، وہ آج بھی سب لوگوں کے بعد تیار ہو رہا تھا اور کچھ دیر بعد جب جانے کا شور برپا ہونا تھا پھر جو تیار نہیں ہوا وقت پر سبھی کو اعتاب کا شکار ہونا تھا
” نہیں وہ بات یوں یہاں کرنے والی نہیں ہے ، آس پاس اتنے مہمان ہیں ، میں چھت پر جا رہی ہوں تم اوپر آجانا کچھ دیر میں ۔۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں تمھارا “
رمنا نے الجھے سے لہجے میں اسے اوپر آنے کا کہا ، تقی نے اس ساری بات چیت کی دوران پہلی دفعہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ واقعی پریشان لگ رہی تھی ۔
ہلکے سے گلابی جوڑے میں اسکی دودھیا رنگت زرد سی لگ رہی تھی ۔
” تقی ۔۔۔۔۔۔ بات سننا ذرا کی ذرا “
باہر سے زیب کی آواز ابھری جو شاٸد پھر سے کسی کام کے لیے تقی کو پکار رہی تھی ۔
” ایک تو یہ زیب پھپھو ۔۔۔ “
تقی نے جھنجلا کر کہا اور پھر گہری سانس لیتے ہوۓ جواب کے انتظار میں کھڑی رمنا کی طرف دیکھا
” تم چلو میں ابھی آتا ہوں ۔۔ اور جہاں تک مجھے شک ہے تو میں جانتا ہوں تم کیا کہنے والی ہو“
تقی نے آبرو چڑھاۓ افسردہ سی مسکراہٹ سجاٸ وہ جانتا تھا یقیناً رمنا اسے یہی کہے گی کہ وہ میٹرک کا امتحان نہیں دینا چاہتی ہے ۔
” نہیں تقی ۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم مجھے کیا بات کرنی ہے ، میں پریشان ہوں “
رمنا نے زرد چہرے کا ساتھ التجا کی ، تقی ذرا کی ذرا مضطرب ہوا کواڑ دھاڑ سا بجا اور زیب پھپھو غصے سے منہ پھلاۓ کمرے میں داخل ہوٸیں
” تقی سن لے آکر بات کتنی منتیں کرواۓ گا ، تیرے اسلم پھپھا بلا رہے ہیں “
زیب نے ناگوار سی نگاہ رمنا پر ڈالی جو تیزی سے زیب کے پہلو سے نکلتی اب چھت کے زینے کی طرف جا رہی تھی ۔
***********
سب لوگ ویلیمے کی تقریب کے لیے نکلنے کو بلکل تیار کھڑے تھے ، خواتین سے حویلی کا صحن بھرا ہوا تھا ۔ باہر ایک بس کھڑی تھی اور چند گاڑیاں ۔ حویلی کا پھاٹک آج پورا کھلا تھا ۔
مالا غزالہ کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی اور غزالہ نے ایک طرف گود میں رملا کو اٹھایا ہوا تھا جبکہ نگاہیں اردگرد رمنا کی متلاشی تھیں ، وہ کافی دیر سے نظر نہیں آ رہی تھی ۔
ٹھپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک عجیب سی آواز پاس سے ابھری ، کوٸ وجود چھت سے نیچے گرا تھا مالا کے قدموں کے بلکل پاس ۔۔۔۔ وہ سیدھی گری تھی ، سر زمین پر زور سے لگا تھا اور چھت سے گرتے ہی آنکھیں اوپر کے رُخ کھلی ہی رہ گٸ تھیں ۔۔۔
غزالہ کی چیخ کے ساتھ کتنی اور ہولناک چیخیں ابھری تھیں سب لوگ بھاگ کر اس طرف آ رہے تھے رمنا کے سر سے نکلتا خون حویلی کی سرخ اینٹوں سے بہتا مالا کے پاٶں کے قریب آ رہا تھا ۔
مالا نے خون کی لکیر کے پاس رمنا کے ہاتھ کی طرف دیکھا جہاں اس کی آدھ کھلی مٹھی میں ایک مردانہ قمیض کا بٹن تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: