Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 30

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 30

–**–**–

رمنا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جو اس کی بات سمجھنے کے بجاۓ الٹا اس کے اور تقی کے رشتے کے ساتھ اپنی محبت کا موازانہ کیے اس سے سوال کر چکی تھی ۔
“بولو کیا تم اور بھاٸ نہیں کرتے ایک دوسرے کے ساتھ محبت “
منہا دانت پیسے رمنا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا اور اب وہ حیرت سے منہ وا کیے کھڑی رمنا کے سامنے تن کر کھڑی جواب کی منتظر تھی ۔ کچھ پل کی خاموشی کے بعد رمنا کی آواز گونجی
” میری اور تقی کی بات یہاں کہاں سے آ گٸ منہا “
رمنا نے حیرت کو ختم کیے ، تیوری چڑھاۓ اس سے سوال کیا جو اس وقت رمنا کو خونخوار نگاہوں سے گھور رہی تھی ، رمنا اسے اپنی بہن سے بڑھ کر چاہتی تھی اور ہر اچھی بری بات میں ہمیشہ سمجھاتی رہی تھی ۔
اسی غرض سے وہ اب بھی اس کو سمجھانے کے لیے ہی اوپر لاٸ تھی لیکن بات ہی ایسی تھی کہ غصے میں اسے تھپڑ جڑ گٸ شاٸد یہیں پر اس سے خطا ہوٸ اور منہا جو پہلے سے ہی دل و دماغ سے باغی ہو چکی تھی ہتھے سے اکھڑ گٸ ۔
” آتا ہے سوال تم مجھے اتنی حقارت سے کہہ رہی ہو کہ میں محبت کیوں کرتی ہوں بہادر سے اور تو اور مجھے تھپڑ تک مار دیا جیسے میں نے بہت بڑا گناہ سرزد کیا ہو ، لیکن کیا تمہیں خود کا پتا ہے تم بھی تو کرتی ہو میرے بھاٸ سے محبت اور بھاٸ تم سے “
منہا کا یہ روپ نا صرف رمنا کے لیے حیرت کا باعث تھا بلکہ ساتھ ساتھ اس کا یہ رویہ تکلیف بھی دے رہا تھا ، وہ غصے میں سرخی ماٸل چہرہ لیے اس کے ساتھ ہر محبت اور پیار کو اس چار دن کے نۓ جذبات کے لیے فراموش کیے کھڑی تھی ۔
“منہا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تقی سے محبت کے بارے میں میں نے تمہیں نہیں تقی کو بتایا ہو یا اس سے میں چھپ کر ملنے کے تقاضے کرتی ہوں ، میرے اور اس کے دل میں اگر ایک دوسرے کے لیے جذبے ہیں بھی تو ہم نے ان کو خود تک محدود کر رکھا ہے ، میں اگر تم سے یہ دل کی بات بانٹ چکی ہوں کہ میں تقی سے محبت کرتی ہوں تو کیا یہ تمھاری بہادر کے لیے محبت کے برابر ہو گٸ بولو “
رمنا نے نے تاسف سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنی بات مکمل کی ، اور پھر آگے ہوتے ہوۓ اپناٸیت سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیے ، منہا کا ناک نخوت سے اوپر چڑھا اور لبوں پر استہزاٸیہ مسکراہٹ نے گھیراٶ کیا
” ہاں برابر ہی ہوٸ ، محبت فقط محبت ہوتی ہے ، جیسے تم بھاٸ سے کرتی ہو میں بہادر سے کرتی ہوں تم یہاں کھڑی ہو کر مجھے گناہ گار اور خود کو پارسا ثابت نہیں کر سکتی “
منہا نے ہاتھ اوپر اُٹھا کر اس کے ہاتھ اپنے کندھوں سے جھٹک دیے ، رمنا ہلکا سا جھٹکا کھا کر پیچھے ہوٸ پھر پورے وثوق سے گویا ہوٸ
” نہیں ہوٸ برابر ۔۔۔۔۔ یہ محبت جو تم کر رہی ہو تم اس کا انجام اچھے سے جانتی ہو رسواٸ اور ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں “
رمنا کے لہجے میں نرمی تھی ، محبت سے اس کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنی طرف گھمایا
” کیسی ذلت ، یہ میری زندگی ہے میری خوشی بہادر کے ساتھ جڑی ہے میں اس کے ساتھ ہر حال میں خوش رہوں گی ، وہ جہاں جس حال میں رکھے گا ، مجھے صرف بہادر چاہیے کوٸ ڈاکٹر نہیں کوٸ شہزادہ نہیں “
منہا نے ناک پھلاۓ بڑے عزم سے جواب دیا ، وہ بپھر گٸ تھی رمنا کی ہر بات کا جواب تھا اس کے پاس درحقیقت وہ کچھ بھی سمجھنا چاہتی ہی نہیں تھی ۔
یہ حالت ہی ایسی ہوتی ہے کہ ہر اپنا بھی دشمن لگنے لگتا ہے ، ہر صیح بات بھی غلط لگتی ہے ۔
” یہ صرف کہنے کی باتیں ہوتی ہیں منہا ، یہ جو جذبے ہیں یہ چند دن کی مشکلات کی مار بھی نہیں سہہ پاتے ، اماں مجھے کہتی ہے شادی کے بعد کی زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے ذمہ داریوں کا بوجھ جذبات سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے اور محبت کا اصل حق دار وہ ہوتا ہے جس سے نکاح ہوتا ہے اور نکاح کس سے ہوگا یہ اللہ جانتا ہے اس لیے نکاح سے پہلے یوں کسی بھی غیر محرم سے محبت کا اظہار کرنا اور اس سے محبت کی بھیک مانگنا یہ سب غلط ہے “
رمنا نے اپنی عقل کے مطابق اور غزالہ کی سمجھاٸ گٸ باتوں کے پیش نظر اسے بات سمجھانے کی کوشش کی تھی
” تو تمھارا بھی تو بھاٸ سے نکاح نہیں ہوا کیا پتا تمھاری بھاٸ سے شادی ہی نا ہو پھر ۔۔۔ پھر تو تم بھی گناہ کی مرتکب ہوٸ نا “
منہا کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا تھا ، وہ تنک مزاجی سے اس کے ہر سوال کا جواب دے رہی تھی
” ہاں میں یہ کب دعوی کرتی ہوں کہ میری شادی تقی سے ہی ہو گی اور تم کیوں میرے اور تقی کے رشتے کو بار بار بیچ میں لا کر مجھے قاٸل کرنے کی کوشش کر رہی ہو ، تمہارا اور بہادر کا کوٸ جوڑ نہیں اور جب جوڑ نا ہو تو زبردستی جوڑ بنانے میں ہم اللہ کے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ، جیسے کہ ظاہری بات ہے ، دا جی کبھی تمھاری اور اس کی شادی کے لیے نہیں مانیں گے تو ایسے میں تم اس کو حاصل کرنے کے لیے غلط اقدامات اُٹھاٶ گی اور تم جو بھی کرو گی اس میں بہت سے کام اسلام اور حکم الہی کے خلاف کرو گی اس لیے تمھاری محبت میری محبت کے برابر نہیں ہے “
رمنا ایک ہی سانس میں اسے بہت کچھ سمجھانے کی ناکام سعی میں تھی پر وہاں وہ نفرت بھری نگاہوں سے اپنے سامنے کھڑی اپنی جان عزیز سہیلی کو دیکھ رہی تھی جو آج اسے اپنی سب سے بڑی دشمن لگ رہی تھی ۔
“کیسے ۔۔۔ ؟ محبت میں سب جاٸز ہے جب میں اس سے محبت کرتی ہوں تو سب کروں گی اسے پانے کے لیے “
منہا نے تاہنوز سپاٹ لہجے میں اپنا اگلا موقف پیش کیا ، رمنا نے گہری سانس خارج کی سینے پر ہاتھ باندھے
” یہیں سے ثابت ہو گیا کہ تمھاری محبت اور میری محبت میں زمین آسمان کا فرق ہے ، میں تو اس سے خاموش محبت کرتی ہوں ایسی محبت جس کے ہر جذبے کو میں نے نکاح کے بعد کے لیے سنبھال رکھا ہے ، حتیٰ کہ میں نے آج تک تقی سے برملہ اپنی محبت کا اظہار تک نہیں کیا اور اگر کل میری شادی اس سے نہیں ہو گی تو مجھے دکھ ہو گا لیکن ملامت نہیں ۔۔۔۔ کیونکہ میں نے اس سے یا اس نے مجھ سے اپنے کسی بھی قسم کے جذبات کا تبادلہ نہیں کیا اور میرے وہ جذبات صرف ایک کے لیے ہی ہوں گے ، بے شک ابھی میں تقی کے لیے محسوسات رکھتی ہوں لیکن میں ان محسوسات کو اس پر ظاہر کر کے ناپاک نہیں کرنا چاہتی دعا مانگتی ہوں فقط کہ اس سے میری شادی ہو جاۓ اور اگر ہو گٸ تو پھر ان محسوسات کو ایک پاک رشتے میں باندھ کر اس پر آشکار کر دوں گی “
رمنا نے نہایت ملاٸم لہجے میں اسے اپنی اور اس کی محبت کا فرق باور کروا دیا تھا
” محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے اس میں جو بھی ہوتا ہے انسان کی اختیار میں نہیں ہوتا ہے “
منہا نے آنکھوں میں موٹے آنسو سجاۓ کانپتے ہوۓ کہا ، بہادر پر غصہ آ رہا تھا بجاۓ اس کی محبت کا جواب محبت میں دیتا اس نے رمنا کو سب بتا کر اسے اس کی ہی نظروں میں گرا دیا تھا
” ہاں میں تمھاری اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہوں محبت ہو جاتی ہے ، کی نہیں جاتی ، لیکن ہر معاملے میں جذبات کو قابو میں رکھنا ہمارے اختیار میں ہوتا ہے یہ نفس کی جنگ ہے جس میں جیت کے لیے صرف اللہ کی طرف دیکھنا ہوتا ہے لوگوں سے بھیک نہیں مانگی جاتی محبوب سے بھی نہیں اگر کوٸ پتھر بھی تمہیں پسند آ گیا ہے تو اسے تمھاری قسمت میں اللہ ہی لکھتا ہے ، تم سب اللہ پر چھوڑ دو “
رمنا نے اب کی بار اس کے کندھے پر دباٶ ڈالے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو جیسے اس کے تپتے دماغ کو سکون ملا اور لگا کہ رمنا اس کے ساتھ ہے ، آنکھوں میں اٹکے آنسو گال پر لڑھک گۓ۔
” رمنا میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔ میرا ساتھ دو کیا کروں ؟ ؟ مجھے ایسا لگتا ہے میں بہادر کے بنا جی نہیں سکوں گی ، مجھے دن رات اس کا خیال رہتا ہے دل چاہتا ہے بس جلدی سے سارا دن اور رات گزر جایا کرے اور وہی لمحہ آ جایا کرے جس میں ۔۔۔ میں اسے دیکھتی ہوں وہ میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے اور میں اس کے پاس سے گزر کر گاڑی میں بیٹھتی ہوں ، رمنا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے میں جانتی ہوں میرا دل جانتا ہے پر وہ کیوں نہیں آگے بڑھتا “
منہا کانپتے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ لیے اسے اپنے پاگل پن سے آگاہ کر رہی تھی ، رمنا کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے تھے ، منہا کی یہ حالت اس کے اندر ایک خوف اتار رہی تھی ، جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے ، اپنے خوف پر بروقت قابو پانا بہت ضروری تھا کیونکہ منہا کو اس وقت صرف وہی انسان اچھا لگ رہا تھا جو اس کی محبت میں ساتھ دینے کے لیے بات کرے
” منہا میری بات سنو گڑیا ۔۔۔ “
رمنا نے بڑی محبت سے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا وہ اب پہلے رویے کے بلکل برعکس رمنا کی طرف دیکھ رہی تھی ، اسے منہا سے بے حد لگاٶ تھا اور یہی وجہ تھی وہ اس کی تھوڑی دیر پہلے والی تلخی بھلاۓ اسے پھر سے سمجھا رہی تھی ۔
” تم بہادر سے بات کرتی ہو اس کو ڈر ہے کہ کوٸ اگر دیکھ لے گا تو تمہیں نہیں اسے غلط سمجھے گا ، تم اللہ پر سب چھوڑ دو اگر تمھاری بہادر کے لیے محبت سچی ہو گی تو تمھارے دل سے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہو گی اور اللہ سے دعا کرتی رہنا اگر وہ تمہیں مل جاۓ تو سمجھنا تمھارا پیار سچا تھا اگر نا ملے تو اس کو بھی اللہ کی رضا ماننا “
رمنا نے بہت محبت سے اسے سمجھایا تھا جس پر وہ آہستگی سے سر ہلا کر رمنا کے گلے لگ گٸ ، رمنا اب محبت سے اس کی پشت سہلا رہی تھی ۔
“میری باتوں کو ٹھنڈے دل اور دماغ کے ساتھ سوچنا ، اور آج کے بعد تم بہادر سے کوٸ بات نہیں کرو گی “
رمنا دھیرے سے اس کے کان میں رس گھول رہی تھی اور وہ فقط رو رہی تھی دل تھا کہ جذبات سے پھٹنے کو تھا ۔
چھت اندھیرے میں ڈوب چکی تھی اور ڈھولک کی تھاپ کے ساتھ گانے کی آوازیں چھت پر بھی سناٸ دے رہی تھیں ۔
***********
دوپہر کا وقت تھا سورج پوری تمازت سے حویلی کے اوپر آسمان پر چمک رہا تھا ، نیم اور پیپل کے درختوں کو چھوڑ کر پورے صحن کو دھوپ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
حویلی کے صحن ، اٹاری اور کمروں میں دور دراز سے آنے والے مہمانوں کی رونق لگی تھی۔ خواتین کی کھی کھی اور بچوں کی ریں ریں نے شور و غل برپا کر رکھا تھا ۔
درختوں کے نیچے چارپاٸیوں پر ، کمروں میں اور جن کو کچھ زیادہ ہی سردی لگتی تھی وہ صحن کی دھوپ میں چارپاٸ ڈالے بیٹھے تھے ۔
کہیں کوٸ کھانا کھا رہا تھا تو کہیں کوٸ چاۓ کے ساتھ لڈو کھا رہا تھا ۔ فرزانہ کو مایوں میں بیٹھے آج چوتھا دن تھا وہ اس دن والے ہی پیلے جوڑے میں ملبوس بس ایک کمرے کی ہو کر رہ گٸ تھی ۔
رمنا نے آہستگی سے برانڈے کے زینے چڑھے وہ بڑی احتیاط سے ہاتھ میں چاۓ کی پیالیوں سے بھری ٹرے تھامے ہوٸ تھی ، ٹرے کو تخت پر خدیجہ بیگم اور چند بوڑھی خواتین کے سامنے رکھا اور پھر تیز قدم اُٹھاتی منہا کے کمرے کی طرف بڑھی اس کو اب بھی کام کے لیے بہت سی آوازیں پڑ رہی تھیں جنہیں نظر انداز کرتی وہ اب منہا کے کمرے کے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔
رمنا نے دروازے کے کواڑ پر ہاتھ رکھا تو ہلکی سی کھٹ کی آواز پر سامنے لکڑی کے کرسی پر براجمان منہا جو اپنے پیروں پر جھکی تھی ، نگاہ اُٹھاۓ اس کی طرف دیکھا اور پھر چہرے کو اسی انداز میں جھکا کر سیاہ رنگ کے سکول کے جوتوں سے اپنے پاٶں آزاد کرنے لگی ۔ وہ سکول کی وردی میں ملبوس تھی ، چہرہ ہنوز اداس تھا
رمنا اب آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتی اس تک پہنچ چکی تھی جو جوتوں کو لکڑی کے کرسی کے نیچے کھسکا کر اپنی جگہ سے اُٹھ رہی تھی ، جیسے ہی اپنی جگہ سے اُٹھی رمنا بلکل سامنے کھڑی تھی ۔
“تم سکول کیوں گٸ تھی آج ؟”
رمنا کے لہجے میں تھوڑی سی سخت در آٸ تھی ، چھت والے واقعے کے بعد آج تیسرا دن تھا اور وہ اس واقع کے بعد سے ہر پل منہا کو جانچ رہی تھی ، اور منہا کی حالت صاف صاف بتا رہی تھی کہ اس دن چھت پر وہ اس کے گلے لگ کر اس پاگل پن سے نکلنے کا کہہ تو چکی تھی لیکن اس پر رمنا کی باتوں کا اثر زیادہ دیر نہیں رہا تھا ۔ اس کی بے چینی ، اس کا گم صم انداز سب رمنا کے لیے تکلیف کا باعث تھا ۔
اب بھی وہ خاموشی سے ، رمنا سے بے نیازی برتے ، اپنا دوپٹہ ایک طرف رکھ کر پلنگ کے نیچے سے اپنی چپل نکالنے کے لیے جھکی
” منہا میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ، شادی کو تین دن رہ گۓ ہیں ، گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے ، تم آج سکول کیوں گٸ تھی “
رمنا نے اس کے چپل تلاش کرنے کے بعد کھڑے ہوتے ہی اس کے کندھے کو گھما کر اس کا رُخ اپنی طرف کیا ۔
” وہ جماعت ٹیسٹ تھا بہت ضروری اس لیے جانا پڑا “
منہا نے اس سے نگاہیں چرا کر جھوٹ بولا ، رمنا نے تاسف سے ایک پل رک کر اس کو گھورا
” جھوٹ بول رہی ہو تم ، تم بہادر کو دیکھنے گٸ تھی “
رمنا نے حدر درجہ دھیمے لہجے میں کہا ، منہا نے جزبز انداز میں چپل اپنے پاٶں میں اڑاٸ ۔
رمنا صبح اُٹھتے ہی معمول کے مطابق مہمانوں کی خدمتوں میں لگ گٸ تھی جب احساس ہوا کہ منہا آج کہیں نظر نہیں آ رہی ، نہیں تو وہ اس کے ساتھ بھاگ دوڑ کر رہی ہوتی تھی اس خیال کے آتے ہی وہ بلقیس کے پاس گٸ تھی جہاں سے اسے آج منہا کے سکول جانے کی خبر ملی اور اس خبر پر اس کا ماتھا بری طرح ٹھنکا ۔
” ہاں گٸ تھی ، بہادر کو دیکھنے نہیں ، اس سے دو ٹوک بات کرنے گٸ تھی ، کیونکہ میں چاہتی ہوں وہ ہمارے رشتے کو جاٸز کرے وہ اپنے ابا سے کہے کہ دا جی سے میرا رشتہ مانگیں “
منہا نے سپاٹ لہجے میں اپنی بابت بتاٸ اور سامنے کھڑی رمنا کو حیرت کا شدید دھچکا لگا
“منہا تم پاگل ہو گٸ ہو اور کچھ نہیں ، یہ وقت یہ عمر ہے کیا تمھاری اس سب کے لیے اور تقی ۔۔۔ وہ تو تمہیں اتنا پڑھانا چاہتا ہے “
رمنا کو اس کی بیوقوفی پر حیرت تھی وہ کیوں ایک ہی بات کو ذہن پر سوار کیے ہوۓ تھی کیا تھا جو اس کے اندر کا لاوا ٹھنڈا نہیں ہونے دے رہا تھا
” نہیں میں پاگل نہیں ہوں ، تمھارا بھی تو رشتہ ہو گیا ہے ، فرزانہ آپا کا بھی ہو گیا تھا اس عمر میں ، پھر میری دفعہ تمہیں کیوں براٸ نظر آ رہی ہے ، میری ہر بات کو کیوں غلط قرار دے رہی ہو “
منہا نے دانت پیس کر بے تکا سا جواز پیش کیا ، رمنا نے فوراً اپنی پیشانی کے بل کم کیے
” پھر کیا کہا بہادر نے ؟ “
منہا نے ٹھنڈی سانس خارج کیے اس سے سوال کیا، جانتی تھی وہ اس وقت کسی کو بھی اپنا نہیں سمجھ رہی ہے اس لیے سمجھانے کا کوٸ فاٸدہ نہیں تھا اس دن چھت پر بھی ایک گھنٹہ سمجھانے کا اس پر کوٸ اثر نہیں ہوا تھا دراصل وہ خود ہی کچھ سمجھنا نہیں چاہتی تھی ۔
” انکار ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح انکار وہ صرف نام کا بہادر ہے وہ بزدل انسان ہے مجھ سے محبت کرتا ہے مگر ہمت نہیں ہے “
منہا نے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پھنساۓ دل برداشتہ لہجے میں جواب دیا
” وہ بزدل نہیں تم سے عمر میں بڑا ایک سمجھدار لڑکا ہے اور تم بھی اب سمجھدار ہو جاٶ یہ وقتی جذبہ ہوتا ہے خود کو سنبھالو دیکھنا کچھ دن تک سب بھول جاٶ گی “
رمنا نے محبت سے اس کے گال تھپتھپاتے ہوۓ اسے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی
” ہممم یہ تو وقت ہی بتاۓ گا “
منہا نے بمشکل آنسو روکتے ہوۓ جواب دیا اور اس کے ایک طرف سے نکلتی کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی ۔ رمنا وہیں خاموش کھڑی تھی دل عجیب طرح سے ڈوبنے لگا تھا ، رونگٹے کھڑے ہونے لگے تھے ۔
ایک انوکھا سا احساس تھا بیزاری سی ہر چیز سے ہر انسان سے وہ دل میں تہیہ کر چکی تھی اب نا تو منہا کے بارے میں سوچے گی اور نا ہی اسے سمجھاۓ گی ، گہری سانس باہر انڈیلتی وہ دل کا بوجھ کم کرتی باہر آٸ ۔
باہر قدم رکھتے ہی ارد گرد سے پھر سے آوازیں ابھرنے لگی تھیں ، رمنا یہ کردو ، رمنا میری بات سنو۔۔۔ وہ خاموشی سے ایک کے بعد دوسرا کام کر رہی تھی ۔
لیکن منہا کی فکر تھی کہ ذہن کو بری طرح جکڑ چکی تھی وہ ایسی ہی تھی شروع سے ہر رشتے کی فکر میں گھل جانے والی ۔
نوازش حاکم جب حویلی چھوڑ گیا تھا تو رمنا ہی نے اپنی ماں کو کونوں کھدروں میں چھپ چھپ کر روتے دیکھا تھا۔ وہ سات سال اسے اپنی عمر سے کہیں زیادہ سمجھدار اور حساس بنا گٸ تھی اور اب یہی وجہ تھی وہ منہا جو اس کی چچا زاد تھی اس کی فکر دل سے لگا بیٹھی تھی اور اندر ہی اندر گھُل رہی تھی ۔
*********
فرزانہ کے ویلیمے کا دن تھا ، صحن میں تمام مہمان تیاری مکمل کیے کھڑے تھے ، بسیں اور گاڑیاں بس نکلنے کو تیار کھڑی تھیں ۔
رمنا پریشان ، بے حال صورت بناۓ تقی کے کمرے سے باہر نکلی تھی اور قدم اب ٹاری کے زینے اترتے ہی چھت کے زینوں کی طرف تھے ، وہ زرد پڑتے چہرے کے ساتھ زینے کے جنگلے کو تھامے اوپر چڑھ رہی تھی ۔
اب تقی کو سب بتانے کے علاوہ کوٸ چارہ نہیں تھا وہ تیار ہونے کے بعد اریب بیگم کے حکم پر گاڑی میں فرزانہ آپا کا کچھ قمیتی سامان رکھنے باہر گٸ تھی۔ جیسے ہی گاڑی میں سامان رکھ کر پلٹی ، بدحواس سا بہادر بلکل اس کے پیچھے کھڑا تھا جو چور نگاہوں سے اردگرد سب کو جانچ بھی رہا تھا کہ کوٸ ان کو دیکھ تو نہیں رہا ۔ اس سے پہلے کے رمنا کچھ پوچھتی وہ حد درجہ دھیمے مگر فکرمند لہجے میں گویا ہوا ۔
” رمنا بی بی ۔۔۔ منہا بی بی کو بچا لو وہ کچھ دیر پہلے یہاں آٸ تھی اور پاس سے گزرتی مجھے یہ کہہ گٸ ہے وہ آج کچھ کھا کر مر جاۓ گی ، اگر میں نے کوٸ ہمت نہیں کی تو وہ اپنی جان دے دی گی “
بہادر کانپ رپا تھا اور الفاظ بھی بمشکل ادا کر رہا تھا ، شاٸد وہ منہا کے جذبات سے حد درجہ خوف کھانے لگا تھا یا پھر یہ اس کی محبت تھی ۔
رمنا نے اردگرد سب کی طرف دیکھا اور پھر اثبات میں سر ہلاتی اسے تسلی دے کر حویلی کے گیٹ کی طرف بڑھی ، دماغ میں ہتھوڑے چلنے لگے تھے زندگی میں پہلی دفعہ اسے منہا پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ جی چاہا خود اس کا گلا دبا دے جسے کسی کی عزت کا خیال نہیں تھی بس ایک محبت کا بھوت سوار تھا ۔
اس کا رُخ سیدھا تقی کے کمرے کی طرف تھا اور اب وہ تقی سے اوپر آنے کا کہنے کے بعد چھت پر جا رہی تھی ، آہستگی سے چھت کے زینے چڑھ کر جب وہ اوپر آٸ تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔
سامنے صحن کی طرف کی دیوار سے کچھ دور منہا زرعی ادویات کا بوتل ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی اور اس کے سامنے بہادر ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ۔ رمنا تقریباً بھاگتی ہوٸ ان تک پہنچی ، بہادر نے جیسے ہی رمنا کی طرف دیکھا منمناتا ہوا اس کی طرف بڑھا
“رمنا بی بی یہ دیکھیں کیا کر رہی ہیں منہا بی بی ، ان کو روک لیں “
بہادر کی التجا پر رمنا نے خوف سے منہا کی طرف دیکھا جو جنون کی حد تک سرخ آنکھیں لیے تیز تیز سانس لے رہی تھی ۔ وہ بہادر کو جان بوجھ کر ذہنی اذیت دے رہی تھی دل کو ایک پل سکون نہیں تھا کہ وہ اس کی محبت میں بلکل اس کی طرح ہی کیوں نہیں تڑپ رہا ہے اسی لیے وہ پھر سے باہر جا کر اسے اپنے دوپٹے کی اٶٹ میں چھپی یہ زہریلی بوتل دکھا کر آٸ تھی ۔
بہادر بدحواس ہو کر اس کے پیچھے ہی حویلی چلا آیا تھا اور پھر مہمانوں سے نگاہ بچاتا وہ چھت پر آ چکا تھا ، اور وہ جس کے سر پر خون سوار تھا پتا نہیں اس کو یہ ساری ہمت کون سی طاقت دے رہی تھی ۔ رمنا گڑبڑا کر آگے بڑھی
“منہا تم۔۔۔ تم۔۔۔ پاگل پن مت کرو سمجھی یہ دو مجھے ۔۔۔ دو مجھے بوتل “
رمنا اس کے قریب آ رہی تھی اور منہا پیچھے ہٹتی جا رہی تھی بہادر بھی ساتھ ساتھ بدحواس سی صورت بناۓ آگے بڑھ رہا تھا ، وہ اب تقریبا دیوار کے قریب پہنچ چکے تھے
” پہلے اس سے کہو کہ اپنے ابا سے بات کرے میں سب کچھ سنبھال لوں گی بھاٸ کو بھی منا لوں گی اور اگر یہ اب نہیں کر سکتا تو مجھے بھگا کے لے جاۓ یہاں سے “
منہا نے روتے ہوۓ اپنی ازل کی ضد دہراٸ ، بہادر کی لاپرواہی اور محبت سے انکار اور پھر رمنا تک اس بات کا پہنچنا سب مل جل کر اسے اور ضد اور پاگل پن پر اکسا چکے تھے ، جذبات کو ایک عجیب سا ہیجان تھا جو دماغ کو مفلوج کر رہا تھا اسے رمنا اور بہادر کی آپس میں اس کے لیے یہ بات بری طرح کھل رہی تھی وہ دنوں کیوں اسے پاگل سمجھ رہے تھے ۔
رمنا تو اس کے اس پاگل پن پر ششدر کھڑی تھی جبکہ بہادر حواس باختہ قریب ہوا
” منہا ۔۔۔ بی بی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میں راضی ہوں ، میں محبت کرتا ہوں آپ سے ، میں ابا سے بات نہیں کر سکتا پر ہم بھاگ جاٸیں گے یہاں سے”
بہادر نے ڈرتے ہوۓ اپنی بات کہی ، رمنا نے چونک کر بہادر کی طرف دیکھا
” بکواس مت کرو ۔۔۔ بھاگنا اس سب کا حل ہے کیا اور ابھی تقی آ رہا ہے اوپر میں اس کو یہ سب بتانے والی ہوں “
رمنا کے منہ سے نکلے الفاظ تھے کہ منہا کے ہاتھ سے ایک دم بوتل چھوٹ کر نیچے جا گری ، وہ تنک کر آگے ہوٸ اور رمنا کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر دیوار کے رخ سیدھا کیا
” تم ۔۔۔ پاگل ہو ک۔۔کیا۔۔۔ بھ۔۔۔بھاٸ ، رمنا تم ۔۔۔”
منہا کے چہرے کا رنگ ایک دم سے بدل گیا تھا ، کچھ دیر پہلے والی ہمت بھک سے اُڑی تھی اور کچھ ایسا ہی حال بہادر کا ہوا تھا بہادر جو ایک دم سے بھاگنے کے لیے پلٹنے لگا تھا رمنا نے اس کے گریبان کو پکڑنے کی سعی کرتے ہوۓ اس کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔
” رکو تم بھی کہیں نہیں جاٶ گے ، تقی کو سب بتاٶ میرے ساتھ مل کر منہا کے بارے میں “
رمنا نے چیخ کر اسے روکا تھا ، اس کے قمیض کی جیب چراچراہٹ سے پھٹی تھی ، منہا کا دماغ پھٹنے لگا تھا ، اس طرف تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ، اپنا مٹی سے اٹا ایک ہاتھ اس نے بہادر کے سینے پر رکھا اور گھور کر رمنا کی طرف دیکھا
” رمنا چھوڑو بہادر کو جانے دو ، تقی بھاٸ مار دیں گے ، اسے بھی اور مجھے بھی “
منہا نے حواس باختہ ہو کر التجا کی ، رمنا نے گردن ہلا کر انکار کیا
” ہاں تو تمھارا مرنے کا شوق بھی پورا ہو جاۓ گا جو تم آۓ دن بہادر کو دھمکی دیتی ہو “
رمنا کو اس کا دماغ ٹکانے پر لانے کا اس سے بہتر حل کوٸ نہیں لگ رہا تھا اس وقت ، منہا نے جوش میں ایک قدم آگے بڑھایا
” چھوڑو بہادر کو ۔۔۔۔ “
ایک جھٹکا دیا تھا اس نے رمنا کو جس پر اس کا توازن ایسا بگڑا کہ اس کی کمر دیوار سے ٹکراٸ ایک سکینڈ کے بارہویں حصے میں بہادر نے اپنا بازو لمبا کیا تھا مدد کے لیے پر رمنا اس کے کف کو تھامنے کے باوجود اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: