Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 32

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 32

–**–**–

سیاہ رنگ کی گاڑی بھرے بازار کی تنگ گلی کے آگے دیوار کے قریب رکی ، صبح دس بجے کے قریب ہی بازار میں رونق شروع ہو جاتی تھی اور اب تو پھر ساڑھے گیارہ کا وقت تھا لیکن اب بھی کچھ دوکاندار اور ٹھیلے والے دوکان کے آگے سے صاف صفاٸ کا کام کر رہے تھے اور کچھ دوکان کی چیزیں جو وہ رات کو سمیٹ کر اندر رکھ جاتے تھے اب لا کر باہر سجا رہے تھے ۔
گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھیں منہا اور بلقیس اپنی چادریں درست کرنے لگی تھیں کیونکہ بہادر کے گاڑی روکتے ہی ان کو اترنا تھا ۔
گاڑی کے رکتے ہی بہادر جلدی سے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا اور پہلے باٸیں طرف کا دروازہ کھولا ، بلقیس دروازے سے باہر نکلی بہادر تیزی سے چلتا ہوا داٸیں طرف لپکا اور دروازہ کھولا ، منہا آہستگی سے چادر کو سمیٹتی باہر نکلی ، بہادر نے کن اکھیوں سے بلقیس کو دیکھا جو ہاتھ میں پکڑے تھیلے درست کر رہی تھی، بقلیس کی نظروں سے بچتے اس نے منہا کے کان کے قریب سرگوشی کی
” آج رات جب سب سو جاٸیں گے ، حویلی کی چھت پر برساتی کے پاس آپ کا انتظار کروں گا “
بہادر نے حدر دھیمی آواز میں سرگوشی کی ، منہا نے چونکتے ہوۓ پیچھے مڑ کر بلقیس کی طرف دیکھا جو گھوم کر اس کی طرف ہی آ رہی تھی ، اس نے جزبز حالت میں بنا بہادر کی طرف دیکھے چادر درست کی اور تیز تیز قدم بلقیس کے ہمقدم ہونے کے لیے بڑھا دیے ۔
بہادر نے گہری سانس خارج کی اور گاڑی کے دروازے کی پشت سے ٹیک لگاۓ آسمان کی طرف دیکھا ۔
وہ ہار چکا تھا ۔۔۔بہت برے طریقے سے ہار چکا تھا ۔۔۔ سوچا تو یہ تھا کہ اس کی شادی ہو جاۓ تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا، لیکن یہ اس کی بھول تھی ۔
اس کی شادی کو سات ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا تھا لیکن وہ اپنی بیوی کے لیے کسی قسم کے جذبات دل میں ابھارنے سے قاصر تھا ، ذہن میں وہ سیاہ رات چپک کر رہ گٸ تھی جس دن منہا نے اس سے فرہاد کو زہر دینے کی بات کی تھی ۔
اس رات تو وہ گھبرا گیا تھا مگر اب بار بار منہا کی اس پیش کش کو ذہن میں دہرا کر ضمیر مرنے لگا تھا ۔
خود غرض محبت ، ہاں یہ محبت کی قسم کچھ ایسا ہی نشہ چڑھا دیتی ہے ، جب محبت جیسے خالص جذبے میں خود غرضی کا عنصر گھلنے لگے اس کا رنگ خود غرضی کے رنگ کے پیچھے پھیکا پڑنے لگتا ہے ، ایک شخص کی محبت کے پیچھے باقی تمام رشتے بیکار اور بے معنی لگنے لگتے ہیں ، ایسا لگتا ہے ، اگر وہ نا ملا تو سب رشتے اپنی وقعت کھو دیں گے ، ایسا لگ رہا تھا زندگی کی ہر خوشی اس سے کچھ اسطرح جڑ گٸ ہے کہ سانس لینا تک دشوار ہو رہا ہے ۔
کوٸ تھا جو ذہن کو چیخ چیخ کر کچوکے لگانے لگتا تھا کہ تو مرد ہو کر کچھ نہیں کر سکتا وہ عورت ہو کر اپنی محبت میں سب کرنے کو تیار ہے ، وہ تمام زیور لے کر گھر سے بھاگے گی فرہاد بلقیس کا اکلوتا بیٹا ، منہا تقی کی اکلوتی بہن دونوں طرف کا زیور ان کو اچھی رہاٸیش اور زندگی کی بہتر شروعات میں مدد دے سکتے ہیں ۔
منہا اور فرہاد کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور وہ تھا کہ یہ سب سوچ کر اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کوٸ بہت قیمیتی چیز کو کھو دے گا ۔ اور اس سارے احساس کے بڑھنے کی ایک وجہ آۓ دن منہا اور بلقیس کا اس کے ساتھ بازار جانا تھا ، ہر رات جہاں وہ خود کو سمجھا کر اس خود غرضی کو تھپک کر سوتا تھا صبح ہوتے ہی منہا کا وجود بجھتی راکھ میں چنگاری کا کام کر دیتا تھا ۔
اور آج وہ اس نعل درآتشگی کے ہاتھوں اپنی تمام تر خوف کا گلا گھونٹ کر منہا سے ملنے کی درخواست کر چکا تھا ۔
********
رات کے اندھیرے میں ڈوبی حویلی اور یخ بستہ ہوٸ ہر چیز ، بہادر پچھلے صحن کے چھپڑ سے حویلی کی چھت تک پہنچا تھا ۔
وہ آج رات گھر جانے کے بجاۓ گاڑی کی صفاٸ کے بہانے پچھلے صحن کا باہر برانڈوں کی طرف کھلنے والا دروازہ پہلے سے کھول چکا تھا ، اب جب سب سو گۓ تھے وہ اسی دروازے سے با آسانی پچھلے صحن اور پھر صحن کے چھپڑ سے لکڑی کی سیڑھی لگا کر چھت پر آ چکا تھا ۔
برساتی کے قریب پہنچ کر آہستگی سے چلتا ہوا وہ دیوار کے قریب ہوا اور صحن میں جھانکا ، چاروں طرف سناٹا تھا ۔
برساتی کے ایک کونے میں دیوار سے لگ کر وہ کچھ اسطرح بیٹھ گیا کہ دونوں اطراف کے زینے باآسانی دیکھ سکتا تھا ، وہ کبھی داٸیں دیکھ رہا تھا تو کبھی باٸیں ۔
ہولے ہولے لرزتے دل کو پوری اُمید تھی منہا اوپر آۓ گی ، یونہی بیٹھے ، ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑ رگڑ کر گرم کرتے اسے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا ۔ سیاہ اور سفید رنگ کے ڈبیوں والے کھیس میں لپٹا وہ کھلی چھت کی ٹھنڈی ہوا سے لڑتے سردی کے وار سے مزاحمت کر رہا تھا ۔
امید ایک گھنٹے کے بعد ہی خوف اور مایوسی کی لپیٹ میں آنے لگی تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھا ، چند قدم ہی سرخ اینٹوں والی چھت کے فرش پر چلا تھا ، جب سناٹے میں قدموں کی چاپ واضح سناٸ دی ، ایک لمحے کو دل دھڑکنا بھولا اور رونگٹے کھڑے ہوۓ ، خوف سے کانپتے وجود کے ساتھ پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سیاہ شال میں لپٹی چند قدم کے فاصلے پر پیچھے کھڑی تھی ۔ شال گھٹنوں تک آ رہی تھی اور ہلکے بھورے رنگ کی شلوار اندھیرے میں گہرے بھورے رنگ کی لگ رہی تھی۔
ایک لمحہ ۔۔۔دوسرا ۔۔۔ تیسرا ۔۔۔ چوتھا
” آپ آ گٸیں۔۔۔۔ مجھے لگا تھا ۔۔۔ مجھے لگا نہیں آٸیں گی “
بہادر کے لب کھلے تو سفید رنگ کی منہ سے اُڑتی ، ہوا میں گھلتی ، بھاپ کے ساتھ سرگوشی نے یخ بستہ سناٹے میں ارتعاش پیدا کیا ۔
” کچھ کہنا ہے تمہیں مجھ سے کہو ؟ “
بے تاثر ، سردی میں سرد لہجہ ، وہ چہرہ سیاہ چادر میں کچھ یوں چھپاۓ کھڑی تھی کہ صرف آنکھیں اور ناک کی اوپری سطح واضح تھی ۔
” میں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔“
بہادر رکا کندھوں پر ڈالے کھیس کو درست کیا ، ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رگڑا ، مضطرب چہرہ ذہن میں ترتیب دیے تمام جملوں کے بے ترتیب ہونے کی عکاسی کر رہا تھا ۔
” میں آپ کا ساتھ ، ہر حال میں چاہتا ہوں “
آخر کار مضطر لہجے میں وہ جھجکتے ہوۓ اپنی بات کہہ پایا ، منہا کے بولنے کے لیے منتظر سی نگاہ اُٹھاٸ
” تم مجھے زہر لا دو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
لمحہ منجمند ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہادر کی حیرت سے بے نیازہ برتتی کلام کا سلسلہ جوڑ چکی تھی
” یہ ۔۔۔۔۔ یہ ایسا زہر ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے جسم پر اثر کرتا ہے اور پھر وہ اندر سے ایسا کھوکھلا ہو جاتا ہے کہ بچ نہیں سکتا “
منہا کسی ٹرانس کی کفییت میں بول رہی تھی ، بہادر تیزی سے دو قدم آگے بڑھا
” منہا بی بی کیا ۔۔۔۔۔۔۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ۔۔۔ ایسا کچھ بھی نا کریں میرے پاس ایک خبر ہے ایسی جو شاٸد ایسا کچھ کرنے کی نوبت ہی نا آنے دے “
بہادر نے ٹھٹھرتے اور خشک ہوتے لبوں کو بھینچے راز دارانہ انداز میں کہا ، منہا نے نگاہیں اُٹھاۓ اس کی طرف دیکھا
” منیر میاں کا ایک راز ہے میرے پاس ۔۔۔ وہ ۔۔۔وہ دوسری شادی کر چکے ہیں ایک طواٸف کے ساتھ “
بہادر نے بڑے رازدانہ انداز میں اسے ایک اہم بات سے آگاہ کیا ، وہ اس راز سے بہت سال پہلے ہی واقف ہو چکا تھا جب اس نے ایک دفعہ شہر میں منیر میاں کو دو بچوں کے ساتھ دیکھا تھا پھر چھپ کر ان کا پیچھا کرنے پر اسے پر یہ راز افشاں ہوا تھا کہ وہ چھپ کر نکاح کر چکا ہے ، اس بات کا ذکر جب اس نے گھر میں اپنے باپ سے کیا ، تو اس نے اسے اپنی زبان بند رکھنے کا کہا ، وہ تب سے خاموش ہو گیا تھا لیکن آج وہ چاہتا تھا کہ منہا بجاۓ فرہاد کو مارنے کے اس راز کا پردہ فاش کرتے ہوۓ کچھ کرے ۔
اس بات پر منہا ایک لمحے کے لیے چونکی مگر دوسرے ہی پل آہستگی سے سر نفی میں ہلا دیا ۔
” اس سے کیا ہو گا ، کچھ نہیں ہو گا ، زیور حاصل کرنا ہمارا اصل مقصد ہے جو شادی سے پہلے کسی بھی صورت میری دسترس میں نہیں آ سکتے ہیں ، اس لیے شادی کرنا مجبوری ہے ، تمہیں زہر تیار کروانا ہو گا ، میں شادی کے بعد تمہیں زہر خریدنے کے پیسے دوں گی “
منہا تو اپنی بات پر ڈٹی تھی اور ایک طرح سے وہ درست تھی زیور ابھی اس کی دسترس میں نہیں تھا جو شادی کے بعد ہی مل سکتا تھا مگر یہ زہر اور فرہاد کی موت ۔۔۔۔ ایک لمحے کو بہادر کو پھر سے اپنے ارداے سے ڈگمگا گٸ پر یہاں بھی وہ درست تھی فرہاد کے نکاح میں آنے کے بعد وہ نکاح پر نکاح نہیں کر سکتے تھے اس کے لیے فرہاد کا مرنا لازمی تھا ۔
دونوں طرف خاموشی کی فضا چھاٸ تھی ، بہادر گہری سوچ میں ڈوبا تھا اور منہا چھت کی دیوار کو گھور رہی تھی۔
ایک لمحہ ۔۔۔ دوسرا ۔۔۔ تیسرا ۔۔۔۔
” اچھا میں چلتی ہوں ، تم میں ہمت نہیں ہے کچھ بھی کرنے کی “
منہا ایک دم سے پلٹی
” رکیں ۔۔۔۔ رکیں ۔۔۔ “
بہادر نے بے ساختہ گڑبڑا کر بازو لمبا کرتے ہوۓ اسے روکا
” میں ۔۔۔ کروں گا سب کچھ آپ کے لیے ۔۔۔نہیں ۔۔۔ ہماری محبت کے لیے “
بہت دور سے آتی ہوٸ آواز تھی ، وہ خاموش ہوٸ پھر ایک لمحے کا سناٹا تھا
” ٹھیک ہے ، میں شادی کے بعد تمہیں بتاٶں گی کیا کرنا ہے ، تم بس کسی پنساری سے رابطہ کرو اور اس سے اس دوا کے مطلق پوچھو ، کیسے۔۔۔۔۔ اور کتنے پیسوں کے عوض تیار کرے گا “
منہا نے دو ٹوک لہجے میں اپنی بات کہی اور پھر تیزی سے پلٹتے ہی قدم آگے بڑھا دیے
” رکیں ۔۔۔۔ “
بہادر کی آواز پر قدم تھمے مگر وہ پلٹی نہیں ، بہادر نے دو قدم گھسیٹ کر چھت کی مٹی کو روندتے ہوۓ بڑھاۓ
” چہرہ ۔۔۔۔ تو دکھا دیں اپنا ، اس ٹھنڈ میں بھی آنکھیں جل رہی ہیں۔۔۔۔ شاٸد کچھ سرور ملے “
بہادر کے گھمبیر لہجے میں جذبات کی گرماہٹ موجود تھی بڑے حق اور وثوق سے وہ یہ بات کہہ گیا تھا اور اب لب مسکرا رہے تھے کہ وہ پلٹے گی اور چہرے پر سے سیاہ چادر کو ہٹا دے گی ، وہ یونہی رُخ موڑے مجسم کھڑی تھی اور پھر تیزی سے قدم آگے بڑھا گٸ ۔
بہادر جو ہاتھوں کو آپس میں ملتا مسکرا رہا تھا اور اس کے دید کی خوشی چہرے پر گلال کھلا رہی تھی ایک دم سے حیرت میں اسے زینے کی طرف جاتے دیکھا ۔ وہ زینہ اتر چکی تھی ۔
بے یقینی سے خالی چھت کو دیکھا جہاں کچھ پل پہلے وہ کھڑی تھی ، گہری سانس خارج کی اور پچھلے صحن کی دیوار کی طرف قدم بڑھا دیے
**********
” یا میرے اللہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ !!!!“
مالا نے پھٹتے دل کے ساتھ منہ پر ہاتھ رکھا اور بے ساختہ چند قدم پیچھے ہوٸ ، حقیقت ایسی روح پرور تھی کہ سانس تک اٹک گیا ۔ اُس کے لیے منہا آپا کا ایسا روپ ناقابل یقین تھا ۔
تقی بد حواس پھٹی آنکھوں سمیت بہادر کی طرف دیکھ رہا تھا ، دل چاہ زمین پھٹے اور وہ پورے کا پورا اس میں سما جاۓ ، منہا سے محبت کے سارے مناظر ایک ایک کر کے ذہن کے پردوں میں بھڑکتی آگ سے جل کر راکھ ہو رہے تھے ۔
بوڑھی عورت کے ساتھ کھڑی بہادر کی بیوی منہ پر ہاتھ رکھے سسکنے لگی تھی ، بہادر کی خود سے بے اعتناٸ کو سہتے دو برسوں کا سبب آج پتہ چلا تھا ۔
” اس کے بعد ۔۔۔ منہا بی بی نے مجھے اپنی ایک انگوٹھی اور ایک سونے کا کڑا بیچنے کو دیا ، میں نے وہ بیچ کر زہر خریدہ اور منہا بی بی کو دے دیا “
بہادر سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا اور سننے والے وجود بھی کان بن چکے تھے
” بعد ازاں منہا بی بی چپ سادھ گیں ، میں نے بہت بار ان سے بات کرنے کی کوشش کی پر انہوں نے آگے کے بارے میں مجھے کوٸ آگاہی نہیں دی “
بہادر اب جھکے سر کو آہستگی سے داٸیں باٸیں جنبش دیتے ہوۓ بات کر رہا تھا ، ایک سکینڈ کے توقف کے بعد اس نے وہیں سے سلسلہ کلام جوڑا
” مجھے ایک دن جوش آیا ۔۔۔۔ اور میں نے اپنے ایک جاننے والے سے منیر میاں کے راز پر ایک خط لکھوا کر حویلی بھیج دیا ، میں چاہتا تھا اس خبر سے منہا بی بی کچھ اشارہ سمجھے گی اور بات آگے بڑھاۓ گی مجھے کچھ بتاۓ گی کہ اب کب تک ہم یہاں سے بھاگیں گے پر اس کے بعد ہماری کوٸ بات نہیں ہوٸ “
بہادر نے ہتھیلی کی پشت سے ہونٹوں کی اوپری سطح پر آیا پسینہ صاف کیا اور آہستگی سے نیچے ڈھلکا سر اوپر اُٹھایا ۔ کانپتے سے ہاتھ تقی کے سامنے جوڑے
” تقی بھاٸ بہک گیا تھا ، منہا بی بی کی باتوں میں اور محبت میں آ کر سب کیا پر اب یہ چاہتا ہوں مجھے کڑی سے کڑی سزا ملے “
بہادر نے ہاتھ جوڑے نگاہیں جھکاٸیں ، مالا جو بد حواس کھڑی یہ سب سن رہی تھی تیزی سے تقی کی طرف بڑھی ، ساکن کھڑے تقی کے بلکل سامنے آ کر چہرہ اوپر اُٹھایا
” تقی ۔۔۔۔ جلدی گھر چلیں ۔۔۔ ہمیں فرہاد بھاٸ کو سب بتانا ہو گا ، ان کو بچانا ہو گا ، اگر منہا آپا ان کو اس وقت سے زہر دے رہی ہیں تو ۔۔۔۔“
مالا سوجی آنکھوں اور سرخ ناک لیے بمشکل روندھاٸ آواز میں بول رہی تھی ، اس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوٸ تھے جب تقی اس سکتے کے عالم سے باہر آیا ، سلگتے دماغ اور کنپٹی کی ابھرتی نسوں میں شدید درد تھا ، اعصاب کا تناٶ اتنا بڑھا تھا کہ اب سر میں ہتھوڑے سے برسنے جیسا احساس تھا ۔
تقی نے پیشانی کے دونوں اطراف کنپٹی کو نسوں پر انگلیاں رکھیں ، ابھی بہادر کے جرم کی سزا سے فرہاد کو بچانے کی اہمیت زیادہ تھی ۔ اس نے ایکدم ہاتھ نیچے گراۓ ، تیزی سے قدم بیرونی دروازے کی طرف بڑھاۓ تو مالا بھی بدحواس سی ساتھ ہوٸ سکینہ نے ایک نفرت بھری نگاہ بہادر پر ڈالی اور بھاگتی ہوٸ دروازے سے نکلتے تقی اور مالا کے ہمراہ ہوٸ ۔
بہادر اب سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اور پھر لکڑی کے دو پٹ والا دروازہ ٹھک ، ٹھک کی آواز کے ساتھ لگنے کے بعد چٹخنی اوپر چڑھنے کی آواز آٸ ۔
*********
حویلی کا بیرونی گیٹ ٹھک کی آواز سے کھل کر بند ہوا ، گیٹ کا چھوٹا پٹ کھول کر وہ تینوں آگے پیچھے تیز تیز قدم اُٹھاتے راہداری پر چل کر صحن کی طرف بڑھ رہے تھے ، تقی کا چہرہ تنے ہوۓ اعصاب کے باعث سخت اور غصے کے باعث سرخ ہو رہا تھا ۔
تین قدم صحن میں پہنچے تو ٹھٹھک کر رک گۓ ، صحن کا منظر ہی عجیب تھا ، حویلی کے سارے مکیں ہواٸیاں اڑے چہرے لیے صحن میں موجود تھے ۔
فرہاد نے منہا کو بازٶں میں اُٹھا رکھا تھا ، سب نے ایک ساتھ ان تینوں کی طرف دیکھا ، بلقیس اور غزالہ برق رفتاری سے ایک ساتھ مالا اور تقی کی طرف بڑھیں ، بلقیس بھاگتی ہوٸ تقی کے پاس پہنچی جو ناسمجھی سے بھنویں سکیڑے سامنے کے منظر کو دیکھ رہا تھا ۔
وہ تو سوچ رہا تھا ، منہا کو بالوں سے نوچتے ہوۓ صحن میں لا کر پٹخے گا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا دبوچ کر اسے جان سے مار دے گا ۔
” تقی کہاں تھا تو ۔۔۔ دیکھ بہن کو کیا ہو گیا ہے ؟ ، ہوش میں نہیں آ رہی ہے ، آنکھیں ہی نہیں کھول رہی ہے کب سے ، دیکھ اسے ۔ے۔ے۔ے۔ے “
بلقیس کی پھٹتی آواز خوف سے کانپ رہی تھی ، ممتا کا کلیجہ کسی نے مٹھی میں لیا ہو جیسے ، غزالہ پریشان صورت لیے مالا کے قریب ہوٸ
” مالا ۔۔کہاں تھی تو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں تجھے “
غزالہ نے حد درجہ دھیمے لہجے میں پوچھتے ہوۓ ساکن کھڑی مالا کا کندھا جھنجوڑ ڈالا جو سامنے کے منظر کو پھٹی سے آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔
تقی اب مضطرب سا بلقیس کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا ، جہاں صحن میں فرہاد اب تقی کو دیکھ کر منہا کو چارپاٸ پر لیٹا چکا تھا ۔
تقی نے ایک نگاہ فرہاد کے چہرے کی طرف دیکھا جو منہا کی اس حالت سے پریشان حال پیشانی پر شکن ڈالے کھڑا تھا اور پھر چارپاٸ پر لیٹی منہا پر جھک گیا ۔
صحن میں جلتے پیلے بلب کی تیز روشنی میں وہ با آسانی منہا کا چہرہ دیکھ سکتا تھا ، اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے گال کے پاس سے نیلے رنگ کے ہو رہے تھے ، اس کے لبوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا وہ بھی ہلکے نیلے اور سیاہ رنگ کے ہو رہے تھے جن پر جمی پپڑی سفید رنگ کی تھی ۔ تقی نے اس کے زرد پژمردہ سے بازو کو اوپر اُٹھایا
” مجھے زہر لا دو گے ، یہ زہر انسان کو اندر سے آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتا ہے “
بہادر کے کہے جملے تقی کے ذہن میں گونجتے ہی اس کے اوسان خطا کر چکے تھے ، دل ایک دم سے دہل گیا، اس کی نبض کی رفتار بہت آہستہ تھی ، تقی نے جلدی سے اس کی آنکھ کے پپوٹے کو اپنے انگوٹھے سے اوپر کیا
” ڈاکٹر تقی مجھے پورا یقین ہے ، منہا کے بے بی کی ڈیتھ کی ریزن کوٸ دوا ہے “
ڈاکٹر تسنیم ناک پر چشمہ درست کر رہی تھیں ، تقی نے منہا کے آنکھ کی پتلی میں نیلی دھاریوں کو دیکھا
” تقی یار یہ کوٸ دوا کے اثرات ملے تو ہیں خون میں پر ان کی مقدار اتنی کم ہے کہ سہی سے معلوم نہیں ہو رہا ، میں نے رپورٹ تمہیں تار کے ذریعے بھیج دی ہیں “
نمیر کی آواز کانوں میں گونجی تھی ، تقی نے ایک جھٹکے سے منہا کو گود میں اُٹھایا اور حویلی کے بیرونی گیٹ کی طرف دوڑ لگا دی ۔
ڈب۔۔ڈب۔۔۔ڈب۔۔۔ڈب ۔۔۔ دل کی دھڑکنے کی آواز کانوں میں بجنے لگی تھی ، وہ پوری قوت لگا کر جتنا تیز چل سکتا تھا چل رہا تھا ، اب مضبوط بازوں کی رگیں بھی کنپٹی کی نسوں کی طرح اُبھر گٸ تھیں ۔
” رمنا آپا نے کہا اس کو بچا لو ۔۔۔۔ ، ایک قبر اور بنے گی “
مالا کی آواز تھی اور اب اُبھرتی رگوں والے بازو کے اوپر موجود بال بھی کھڑے ہو رہے تھے ۔
” تقی ۔۔ی۔ی۔ی۔ی۔ ۔ تقی ۔۔۔ ہوا کیا ہے منہا کو “
کتنی ہی آوازوں کی ملی جلی بازگشت بھاگتے تقی کے عقب میں گونج رہی تھیں ، نقیب حاکم ، فرہاد ، نوازش ، منیر سب تقی کے پیچھے بھاگے تھے ۔
صحن میں کھڑے باقی لوگ اب پھٹی آنکھوں اور پریشان چہروں سے حویلی کے گیٹ کو تاک رہے تھے ۔
سکینہ نے مضطرب چور سی نگاہوں سے مالا کی طرف دیکھا ، مالا نے آہستگی سے انگلی اُٹھاٸ اور خشک ہوتے لبوں پر رکھ دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: