Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 33

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 33

–**–**–

فجر کی اذن کی آواز ہسپتال سے ملحقہ چھوٹی سی مسجد سے گونج رہی تھی, ویسے تو ہسپتال میں ساری رات ہی ہلکی پھلکی چہل قدمی لگی رہتی تھی , لیکن اذان کی آواز کے ساتھ ہی مریضوں کے ساتھ آۓ اہل خانہ اب اٹھ کر وضو کرنے کی غرض سے وضو خانوں کا رُخ کر رہے تھے ۔
ہسپتال کے اندرونی انتہائی نگہداشت کے وارڈ کی لمبی راہداری ابھی بھی سناٹے کا ہی شکار تھی ۔ اور یہیں راہداری کے بائیں طرف موجودہ وی۔ آئی۔ پی کمرہ وحشت ناک خاموشی میں ڈوبا تھا ۔
آلہ تنفس میں جکڑی مہنا اور ٹوں ۔۔۔ٹوں کی متواتر ایک وقفے سے آتی آواز ہسپتال کے اس ملگجی روشنی میں نہاۓ کمرے کی ہولناک خاموشی میں خلل پیدا کر رہی تھی ۔
وہ بے جان پژمردہ ہسپتال کے بیڈ پر نیم دراز تھی ۔ چہرہ زرد آنکھوں کے گرد گہرے ہوتے حلقوں کے باعث خوفناک لگ رہا تھا , وہ یوں ادھ موئی حالت میں لیٹی کچھ دن پہلے والی منہا ہر گز نہیں لگ رہی تھی ۔
آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھلا تو آلہ تنفس سے آتی ٹوں ۔۔۔ ٹوں کی آواز کے ساتھ کمرے کے دروازے کی چرچراہٹ کی آواز شامل ہوئی , تقی ہلکے نیلے رنگ کی چیکدار شرٹ کے اوپر سفید کورٹ میں ملبوس کمرے میں داخل ہوا , تقی کے پیچھے ہی ایک اور سنئیر ڈاکٹر بھی کمرے میں داخل ہوا ۔
ڈاکٹر وقاص ہسپتال کے سنئیر ڈاکٹر میں شمار ہوتا تھا لیکن تقی سے اس کی بہت دوستی تھی منہا کا معاملہ مکمل طور پر ایک پولیس کیس بن رہا تھا لیکن تقی سے دوستی کی بنا پر ڈاکٹر وقاص اس معاملے کو چھپانے میں اس کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے ۔
رات بھر انتہائی نگہداشت میں رکھتے ہوۓ معدہ واش کرنے کے باوجود اب معاملا سنگینی اختیار کرنے لگا تھا کیونکہ منہا کی حالت تشویش ناک صورت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔
تقی اور ڈاکٹر وقاص آہستگی سے چلتے ہوۓ اب منہا کے بیڈ کے قریب آ چکے تھے , منہا پر نگاہ پڑتے ہی تقی کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ۔ ماں جائی ہونا شائد اسے ہی کہتے ہیں , آج اسے یہ بات باخوبی سمجھ آ رہی تھی
” تقی مجھے لگتا ہے اسے بڑے شہر لے جانا چاہیے ، لاہور یا کہیں اور “
ڈاکٹر وقاص نے ایک نگاہ منہا پر ڈالی اور لب بھینچے پریشان حال کھڑے تقی کی طرف دیکھا ۔ تقی نے چونک کر منہا پر جھکا چہرہ اوپر اٹھاۓ ڈاکٹر کی طرف دیکھا ۔
وہ رات ہی منہا کو لے کر فوراً شہر آ گۓ تھے , اس وقت فرہاد , نقیب حاکم , نوازش حاکم اور منیر باہر موجود تھے , تقی ان سب سے بھی منہا کے متعلق ہر بات چھپاۓ ہوۓ تھا ۔
” ابھی ۔۔۔ اس کی حالت ۔۔۔ آکسیجن کے بنا مطلب یہ کچھ مشکل لگ رہا ہے مجھے “
تقی نے پیشانی کو پریشانی سے سہلاتے ہوۓ بے ربط سے جملے ادا کیے , اس کی یہ گھبرائی ہوئی حالت سامنے لیٹی منہا کی وجہ سے تھی , ڈاکٹر وقاص نے آگے بڑھ کر تقی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” دیکھو تقی آنسٹلی سپیکنگ ۔۔۔ پیشنٹ کی حالت بہت کریٹیکل ہے ، زہر کاسب سے زیادہ اثر سٹمک اور گردوں پر ہوا ہے فوری علاج کے لیے بہترین طبعی سہولیات درکار ہیں جو یہاں دنیا پور میں تو بلکل نہیں ملیں گی تمہیں ، میرا مشورہ یہی ہے آج رات ہی تم پیشنٹ کو لے کر کسی بڑے شہر کے لیے روانہ ہو جاو “
ڈاکٹر وقاص نے اب کی بار دو ٹوک لہجے میں اپنی بات مکمل کی ، تقی کے کندھے کو تھپ تھپایا اور کچھ توقف کے بعد تقی کو یونہی پرسوچ چھوڑ کر باہر نکل گیا ، تقی نے نگاہ اُٹھاۓ سامنے بے حال لیٹی منہا پر ڈالی ۔
وہ شائد پچھلے تین ماہ سے یا اس سے کم عرصے سے زہر لے رہی تھی اور زہر کی یہ مقدار آہستہ آہستہ اس کے اندر بہت سے عضا کو بری طرح اثر انداز کر چکی تھی ۔
تقی نے بے بسی سے منہا کے چہرے کی طرف دیکھا , کہاں تھی کل اس کے لیے دل میں اُٹھنے والی نفرت , کہاں تھا وہ غصہ جو اسے منہا پر تھا , اس وقت تو سواۓ رحم کہ اسے منہا پر کچھ نہیں آ رہا تھا ۔
وہ چاہے ذہن کو بار بار جھٹلا رہا تھا , لیکن وہ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے با خوبی جانتا تھا منہا کا بچنا اب بہت مشکل تھا ۔ اس کا ہسپتال نا آنے کی ضد کرنا دوا لینے میں کوتاہی برتنا وہ یہ سب جان بوجھ کر کرتی رہی تھی اور ۔۔۔ اریب پھپھو پر جو وہ انجانے میں الزام لگا چکا تھا سب کچھ اندر سے ایسے جھنجوڑ رہا تھا ۔
☆☆☆☆
گہرے بھورے رنگ کی کپڑوں کی الماری کے دونوں پٹ کھُلے تھے , تقی خالی ذہن اور مضطرب چہرہ لیے سامنے کھڑا تھا ۔ کندھے ڈھلکے ہوۓ تھے اور اعصاب بھاری بوجھ تلے دبے ذہن کو مفلوج کر رہے تھے۔
کمرے کی اس ہولناک خاموشی کا ساتھی صرف اُس کا ہی وجود نہیں تھا ، چند قدم کی دوری پر سراسیمگی اور تاسف میں ڈوبی مالا بھی کھڑی تھی جو سست رفتاری سے پلنگ پر پڑے جوڑے اٹھا کر ان کو ہاتھوں میں گھماتی پلنگ پر پڑے سیاہ رنگ کے بیگ میں رکھ رہی تھی۔
تقی نے تاہنوز اسی حالت میں ہاتھ بڑھا کر سامنے پڑے دو جوڑے اُٹھاۓ اور پلٹا , جیسے ہی پلٹا تو پیچھے کمرے میں داخل ہوتی بے حال بلقیس کو دیکھ کر وہیں تھم گیا , وہ مضطر سے آگے بڑھی ۔
” تقی تو بس مجھے لے جا ساتھ لاہور , دیکھ میں یہاں پل پل مرتی رہوں گی اس کی فکر میں اور پھر اس کی دیکھ بھال کون کرے گا یہ سب وہاں ۔۔۔ “
بلقیس روندھائی آواز میں تقی سے التجا کر رہی تھی , تقی کچھ دیر پہلے ہی شہر سے حویلی پہنچا تھا اور آتے ہی اس نے مالا کو اپنے ساتھ لاہور جانے کا حکم صادر کر دیا تھا ۔
وہ اب جہاز کے ذریعے منہا کو لاہور لے جا رہے تھے , وہاں وہ نمیر اور بلال کے ساتھ بات کر چکا تھا وہ دونوں لاہور کے اچھے ہسپتال میں ملازمت کر رہے تھے اور اب وہیں منہا کا علاج ہونا تھا ۔
بلقیس کا یہ درد اور دکھ سے بھرا چہرہ وہ جانتا تھا وہ ماں ہیں اور منہا کی یہ حالت ان کے لیے بہت پریشان کن ہے لیکن منہا کی اس حالت کے پیچھے موجود حقیقت سے صرف مالا ہی واقف تھی اسی لیے وہ مالا کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا ۔
” اماں۔۔۔ اماں ۔۔۔۔ فکر نا کریں آپ , مالا سنبھال لے گی سب ۔۔۔ “
تقی نے بلقیس کے کندھے پر ہاتھ رکھے تسلی دی مگر اس کی یہ تسلی کارآمد ثابت نہیں ہوئی تھی وہ جانتا تھا اس بارے میں ۔
” مالا اتنی چھوٹی ہے اسے کہاں وہاں سب سنبھالنا آۓ گا , تو فکر نا کر میں ساتھ چلتی ہوں “
بلقیس اب بھی پریشان حال تھی، تقی نے گہری سانس لیتے ہوۓ رُخ موڑا , وہ ہاتھ میں پکڑے کپڑے پلنگ پر رکھ چکا تھا ۔
مالا اب ان کپڑوں کو بھی اُٹھا کر تہہ لگانے کے بعد بیگ میں رکھ رہی تھی , نگاہیں بار بار تقی اور بلقیس پر اُٹھ رہی تھیں , وہی دونوں نہیں پورا حاکم قصر اُداسی میں ڈوب گیا تھا , ابھی تو ایک جوان موت کا غم قصر کی مکینوں کے دلوں سے مندمل نہیں ہوا تھا تو دوسرا ۔۔۔۔۔
بلقیس کے مالا کو یوں چھوٹا اور ناسمجھ کہنے پر تقی نے جھنجلا کر بلقیس کی طرف دیکھا
” نہیں ہے وہ چھوٹی اماں , بہت سمجھدار ہے , آپ سے نا تو جہاز کا سفر ہو پاۓ گا اور نا وہاں ہسپتال میں اتنی بے آرامی کاٹی جاۓ گی ، میں ہوں فرہاد ہے ابا ہیں ہم سب سنبھال لیں گے “
تقی نے تسلی آمیز لہجے میں بلقیس کے کندھے پر زور دیتے ہوۓ پھر سے وہی جواب دیا , تقی کے یوں اس کو سمجھدار کہنے پر مالا نے ایک لمحے کے لیے پلکوں کی گھنی جھالر اٹھاۓ اسے دیکھا۔
شکن آلودہ شرٹ , بکھرے سے بال , تنے اعصاب کے باعث کچھا سا چہرہ , رتجگے سے اوپر کو چڑھی , تھکی سی آنکھیں ‘ بے اختیار دل چاہا تائی اماں کمرے میں نا ہوتی تو تقی کے سینے سے جا لگتی اس کی تکلیف اس کے دُکھ کو اپنے اندر کہیں سمیٹ لیتی اس کی یہ کرب ناک حالت دل میں کسک پیدا کر رہی تھی ۔
ایک متوازن ڈگر پر چلتی زندگی یوں پلٹا کھاۓ گی ان میں سے کسی نے سوچا بھی نا تھا ۔ تقی اب ایک بازو کے حصار میں بلقیس کو اپنے ساتھ لگاۓ ان کے سر پر بوسہ دے رہا تھا ۔
” آپ بس یہاں رہیں اور دعا کریں اس کے لیے ان شا اللہ وہ صحت یاب ہو کر لوٹے گی “
تقی کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوئی , مالا نے چونک کر تقی کی طرف دیکھا , بلقیس تو شائد اس کے لہجے میں چھپی مایوسی کو جانچ نہیں سکیں تھیں لیکن مالا تقی کی رگوں میں بہتے خون کی روانی سے بھی محبت کرتی تھی وہ کیسے اس کے لہجے میں موجود دُکھ اور مایوسی کو نا جانچ پاتی ۔
بلقیس آنسو صاف کرتی پاؤں گھسیٹتی کمرے سے باہر نکلی تو تقی گم صم سی کھڑی مالا کی طرف متوجہ ہوا ۔
” میرے کپڑے تیار ہیں ؟ اور تم بھی جلدی تیار ہو جاٶ ، آدھے گھنٹے میں نکلنا ہے ہمیں “
تقی نے مصروف سے لہجے میں اس سے نگاہیں چراۓ حکم صادر کیا ، مالا نے دلگیر نگاہ اس پر اُٹھائی وہ اس سے کیوں نگاہیں چرا رہا تھا , اس لیے کہ مالا یہ سوچ رہی ہوگی کہ اُس کی بہن , اس کی بہن کی قاتل ہے اور وہ اسے سزا دینے کے بجاۓ اس کی زندگی بچا رہا ہے ۔
مالا کا دل ڈوب کر اُبھرا , تیزی سے آگے بڑھ کر کمرے کے دروازے کے دونوں پٹ کھٹ کھٹ کی آواز سے مارتی پلٹی اور ایک جست میں اس کے اور اپنے درمیان کا فاصلہ ختم کرتی اس کے سینے سے جا لگی ۔
تقی کے کپڑے اٹھانے کی خاطر اوپر کو اٹھے بازو ہوا میں ہی معلق رہ گۓ , دائیں گال کو اس کے سینے سے چپکاۓ , اس کے وجود سے اٹھتی سوندھی سی مہک کو اپنے اندر اتارتی وہ اس کے اور اپنے غم کو تھپک رہی تھی ۔
ایک پل یونہی گزرا , مالا نے آہستگی سے چہرہ اوپر اٹھاۓ تقی کی طرف دیکھا جو ہنوز باہیں ہوا میں ہی معلق کیے کھڑا تھا , جونہی چہرہ اوپر کیا اسی لمحے تقی کی آنکھ کی پتلی سے ٹوٹ کر آنسو سیدھا اس کے لبوں پر گرا۔
آہ۔ہ۔ہ۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچ ڈالا تھا ۔ تقی نچلے لب کو بے دردی سے کچلتے ہوۓ آنسوؤں کو رکنے کی ناکام کوشش میں تھا , چہرہ سرخ ہو رہا تھا ، جسے وہ آہستگی سے دائیں بائیں گھما کر مالا سے آنسو چھپانے کی کوشش میں تھا , ضبط کے آخری دہانے کے بند ٹوٹ چکے تھے ۔
مالا نے تڑپ کر اسے کندھوں سے تھام کر پلنگ پر بیٹھایا , وہ کندھے اور گردن ڈھلکا چکا تھا , وہ مضبوط ڈیل ڈول رکھنے والا اونچا لمبا تقی آج اس کے سامنے پہلی دفعہ رو رہا تھا , اس کے متواتر بہتے آنسو اس کے گال بھگو رہے تھے , وہ اب اوپری لب کو دانتوں سے کھنچتا ہوا مالا سے نگاہیں چرا رہا تھا نادم چہرہ سامنے کھڑی مالا سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں تھا ۔
ہاں وہ کل سے یہی سوچ رہا تھا , وہ جس نے بچپن سے لے کر اب تک ایک ایک خواب کے موتی کو پرو کر اب ایک لڑی تیار کی تھی جو اسے اس کے بہن کے قاتل اور اس کے خوابوں کی سچائی تک لے آئی تھی وہ کیسے اب یہ چاہے گی کہ منہا بچ جاۓ ۔
تقی کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے دل پر گرے تھے , ایک جھٹکے سے تقی کے چہرے کو ساتھ لگاۓ وہ اور قریب ہوئی , وہ پلنگ کے پاس بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی اور تقی پلنگ پر بیٹھا تھا ۔
تقی کے بے آواز آنسو اس کی گردن ہی نہیں اس کے دل تک کو بھگو رہے تھے , اس کا سر گرم تھا اس کی خاموشی وہ با خوبی سن سکتی تھی , بار بار اس کے بے ترتیب بالوں پر اپنے لب رکھے وہ اسے اپنی بے پناہ , بے لوث محبت کا یقین دلا رہی تھی ۔
وہ خاموش آنسو بہاتا اپنی بہن کی محبت میں بے بس اس سے اس کی بہن پر کۓ گۓ ظلم کی معافی مانگ رہا تھا ۔ ایک سسکتا لمحہ یونہی گزرا تو مالا نے آہستگی سے پیچھے ہو کر تقی کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا , تقی نے بے ساختہ اس سے چراتی نگاہیں اٹھاۓ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
گہری نیلی متورم نگاہوں میں محبت , اپنائیت کے سوا کچھ نہیں تھا , نہ بدلے کی آگ نا نفرت کی جھلک ۔
” تقی ہمیں آپا کو ہر حال میں بچانا ہے , یہ اشارے جو مجھے خواب میں ملتے تھے , یہ منہا آپا کے لیے ہی ملتے تھے , وہ جس کو رمنا آپا بچانا چاہتی تھیں اپنی زندگی میں بھی اور اپنے گزر جانے کے بعد بھی وہ کوئی اور نہیں منہا آپا ہی ہیں , ہمیں آپا کو بچانا ہے ہر حال میں اور میں آپ کے ساتھ ہوں ہمیشہ “
مالا تقی کے چہرے کو ہاتھوں میں لیے اپنائیت اور محبت سے چور لہجے میں بولتی اسے حیران کر رہی تھی , وہ کہاں تھی نا سمجھ۔۔۔ بہت چھوٹی۔۔۔۔
وہ تو اس وقت فقط اس کی شریک حیات تھی , اس کے غم اور دکھ کو اپنے اندر سمیٹ کر اپنے الفاظ سے وہ اس کے اندر موجود اذیت کو ختم کر گئی تھی جس میں وہ کل سے مبتلا تھا ۔
” میں ہر فیصلے ہر قدم میں آپ کے ساتھ ہوں “
مالا کی بھیگی سی آواز پر وہ بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اسے پوری قوت سے اپنی باہوں کی حصار میں لیے پرسکون ہو گیا ۔
ملال , الم , مایوسی کے بادل اس نازک سے وجود نے اپنے اندر سمیٹ کر اسے پھر سے چست اور توانا کر دیا تھا , باہوں میں سمٹی یہ نازک سی لڑکی اس کی زندگی کا بہترین تحفہ تھی اس کو اس بات کا آج اندازہ ہو چکا تھا ۔ وہ بہت خاص تھی , وہ جسے وہ ایک کھوٹا سکا سمجھا تھا وہ تو ایک نایاب ہیرا تھی ۔
☆☆☆☆☆
کانپتے وجود , ہانپتے حواس اور زور زور سے دھڑکتے دل کے ساتھ جب وہ چھت سے اتر کر سب کی نظروں سے بچتی , صحن میں پہنچی تو رمنا کے گرد ایک جھمگٹا لگ چکا تھا , غزالہ کی دلخراش چیخوں سے پاس کھڑے تمام نفوس کے کانوں کے پردے تک ہل کر رہ گۓ تھے ۔
بدحواس سی اٹاری کا زینہ چڑھتی وہ رمنا کو دیکھنے کے لیے اوپر ہوئی اور اس پر نگاہ پڑتے ہی دل پھٹنے جیسا احساس ہوا , دماغ میں طوفان کے جھکڑ چل پڑے , سائیں ۔۔۔۔ سائیں کی آوازوں سے آس پاس کی آوازیں بند ہونے لگیں , گال تپنے لگے , اعصابوں پر بوجھ اس قدر بڑھا کہ آنکھیں پوری کھولنی مشکل ہونے لگیں ۔ رمنا صحن میں فوارے کے قریب بے سدھ لیٹی تھی , اس کے سر اور ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔
بولو کیا تم اور بھاٸ نہیں کرتے ایک دوسرے کے ساتھ محبت “
” میری اور تقی کی بات یہاں کہاں سے آ گٸ منہا “
” آتا ہے سوال تم مجھے اتنی حقارت سے کہہ رہی ہو کہ میں محبت کیوں کرتی ہوں بہادر سے اور تو اور مجھے تھپڑ تک مار دیا جیسے میں نے بہت بڑا گناہ سرزد کیا ہو ، لیکن کیا تمہیں خود کا پتا ہے تم بھی تو کرتی ہو میرے بھاٸ سے محبت اور بھاٸ تم سے “
“میں اگر تم سے یہ دل کی بات بانٹ چکی ہوں کہ میں تقی سے محبت کرتی ہوں تو کیا یہ تمھاری بہادر کے لیے محبت کے برابر ہو گئی بولو “
” ہاں برابر ہی ہوئی ، محبت فقط محبت ہوتی ہے ، جیسے تم بھائی سے کرتی ہو میں بہادر سے کرتی ہوں تم یہاں کھڑی ہو کر مجھے گناہ گار اور خود کو پارسا ثابت نہیں کر سکتی “
” نہیں ہوٸ برابر ۔۔۔۔۔ یہ محبت جو تم کر رہی ہو تم اس کا انجام اچھے سے جانتی ہو رسوائی اور ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں “
” تو تمھارا بھی تو بھاٸ سے نکاح نہیں ہوا کیا پتا تمھاری بھاٸ سے شادی ہی نا ہو پھر ۔۔۔ “
” کیا پتا تمھاری بھاٸ سے شادی ہی نا ہو پھر ۔۔۔ “
” کیا پتا تمھاری بھاٸ سے شادی ہی نا ہو پھر ۔۔۔ “
” ہاں میں یہ کب دعوی کرتی ہوں کہ میری شادی تقی سے ہی ہو گی “
” اور آج کے بعد تم بہادر سے کوٸ بات نہیں کرو گی “
رمنا دھیرے سے اس کے کان میں رس گھولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے سر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑ لیا , بے ساختہ اس کی ہولناک چیخ ابھری , وہ چیخ رہی تھی دل پھٹ کر باہر آنے جو تھا ۔
وا۔وا۔واپس ۔۔۔۔ واپس ۔۔۔ چلا جاۓ وقت ۔۔۔۔ اللہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ یہ خواب۔ب۔ب ہے ۔۔۔۔۔ دل کانپ رہا تھا ۔۔۔ ذہن میں ہتھوڑے برسنے لگے تھے
ہاتھ پاؤں بے اختیار ٹھنڈے ہونے لگے , نقیب حاکم رمنا کو گود میں اٹھا چکا تھا اور اب سب حویلی کے گیٹ کی طرف بھاگ رہے تھے ۔ غزالہ چیخ رہی تھی۔
“ہاۓ ۔۔۔۔ میری بچی ۔۔۔۔ کیا ہو گیا ۔۔۔۔ رمنا۔۔۔۔۔ رمنا۔۔۔۔ا۔ا۔ا۔ رمنا۔ا۔ا۔ا۔ اٹھ جا میری بچی “
اچانک اس کی آنکھوں کے آگے سیاہ گہرے سایے لہرانے لگے اور وہ ستون کو تھامے پیچھے کو گری , کسی نے تھام لیا تھا جو آخری لمحہ دھندلی ہاتھوں آنکھوں نے دیکھا وہ یہ تھا کوئی اس کے گال تھپ تھپا رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆
دیوار کے درمیان میں نصب ائیر کنڈیشنر یخہ بستہ ہوا کمرے کے اندر پھینک کر اسے باہر کی گرمی سے بلکل برعکس سرد کۓ ہوۓ تھا۔
یہ ہسپتال کا نجی کمرہ تھا جہاں ایک طرف ایک لکڑی کا جدید طرز کا صوفہ پڑا تھا , صوفے کے پاس ہی ایک لوہے کا میز تھا ‘ جس پر پانی کا جگ اور گلاس پڑا تھا, ایک طرف لوہے کا ہی پلنگ تھا جس پر سفید چادر بچھی تھی اور نیچے سمینٹ اور بجری کے بنے ملائم فرش پر مالا جاۓ نماز پر بیٹھی تھی , ہاتھ ہوا میں دعا کی صورت اوپر اٹھے تھے , آ نکھیں بند تھیں ۔
وہ آج رات ہی لاہور پہنچے تھے , منہا کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا تھا اور اس کی حالت یہاں کے ڈاکٹر بھی تشویش ناک ہی بتا رہے تھے ۔
یہاں بلال نے ان کو دو کمرے دیے تھے جن میں سے ایک میں اس وقت وہ اکیلی موجود تھی , فرہاد , تقی اور نقیب حاکم باہر تھے ۔ تہجد کی نماز کے بعد وہ جاۓ نماز پر دعا کی غرض سے ہاتھ اٹھاۓ بیٹھی تھی ۔
“اے اللہ , اے اس پوری کائنات کے مالک تو جسے چاہتا ہے بخشتا ہے , ہر سانس کی ڈوری تیرے ہاتھ میں ہے , اے پروردگار اگر تو نے مجھے اپنے ان بندوں میں شمار کر رکھا ہے , جنہیں تو اپنی رضا سے آنے والے وقت کے خواب میں اشارے دیتا ہے , تو اللہ پاک میں تجھ سے منہا آپا کی زندگی کی بھیک مانگتی ہوں “
ہوا میں اٹھے دعا کی صورت میں ہاتھ دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے , لب کپکپا رہے تھے ۔
“اے اللہ آپا کے گناہوں کے بوجھ میں اضافہ مت کر پیارے پروردگار , ان کو اس موت سے بچا لے میرے اللہ , میری بہن جو چاہتی تھی اور جو چاہتی ہے وہ کر دے اللہ پاک , اس کی روح کو سکون عطا کر , وہ منہا سے بہت محبت کرتی ہے , اس دنیا سے جانے کے بعد بھی وہ اسے بچانا ہی چاہتی ہے “
بند آنکھوں سے آنسو ایک لڑی کی طرح بہہ رہے تھے اور گالوں کے ساتھ ساتھ دوپٹہ بھی بھیگ گیا تھا ۔
” اے اللہ پاک تو سب کی دعائیں سنتا ہے تیرے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں , نا ممکن کو ممکن بنا دے پروردگار , نا ممکن کو ممکن بنا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپاۓ سسک رہی تھی , کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وجود تھم گیا پر چہرے پر سے ہاتھ نہیں اٹھاۓ , جو کوئی بھی تھا اب اس کے پاس آ کر بیٹھ چکا تھا ۔
” مالا ۔۔۔ “
تقی کی آواز اس کے کندھے کے پاس سے ابھری , مالا نے ہاتھوں کو جلدی سے چہرے پر سے ہٹایا , وہ دو زانوں اس کے پاس بیٹھا تھا ۔
” تقی ۔۔۔ کہ۔۔کیسی ہیں منہا آپا ؟ “
روندھا بھاری لہجہ عجلت لیے ہوۓ تھا , تقی نے آہستگی سے سر نیچے جھکایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: