Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 34

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 34

–**–**–

مالا کے سوال پر اس کا یوں سر جھکا لینا مالا کو بے چین کر گیا , بے کلی سے تقی کے جھکے سر کو اس کی ٹھوڑی پکر اوپر اٹھایا , اس کی آنکھوں سے جھلکتی مایوسی نے دل کو ایک لمحے کے لیے منجمند کر دیا ۔
“تقی ۔۔۔ کیا ہوا منہا آپا کو ۔۔۔آپ ایسے کیوں بیٹھ گئے ہیں کچھ بولیں تو۔۔۔ کیا کہتے یہاں کے ڈاکٹر , وہ ٹھیک ہو جائیں گی نا ؟ “
تقی کی چپ مالا کے دل کو دہلا رہی تھی , اس نے جھنجھلا کر تقی کے کندھے کو ہلایا
” منہا کوما میں چلی گئ ہے , اس نے زہر کی مقدار اتنی زیادہ لے لی تھی کہ۔۔۔”
بہت پھیکی سی آواز تھی جو بمشکل اس کے حلق سے نکل کر مالا کے کانوں تک سفر طے کر پائی تھی , مالا نے یک لخت سینے پر ہاتھ رکھا آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ۔ کوما کو تو آدھی موت ہی مانا جاتا تھا ۔
” تقی تو اب ۔۔۔ اب ۔۔۔ کیا ہو گا ؟”
مالا نے گڑ بڑاتے ہوۓ ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ سوال کیا , مالا کی آنکھوں میں آنسوؤں کی دبیز تہہ چمکنے لگی تھی , تقی نے سر اوپر اٹھاۓ اس کی طرف دیکھا ۔
” کوما کی واپسی کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں ہوتا , وہ چاہے تو اس کو ابھی چند گھنٹوں میں ہوش ہو جاۓ اور کیا پتہ سالوں بیت جائیں ۔۔ “
تقی نے لب بھینچے کرب زدہ لہجے میں اپنی بات مکمل کی , مالا اب رو دی تھی , تو ابھی آزمائیش باقی تھی ۔
اگر کبھی ہوش نا آیا آپا کو تو ؟؟؟۔۔۔۔ تو کیسے ان کو بتاؤں گی کہ رمنا آپا آپ سے خفا نہیں ہیں , وہ تو آج بھی آپ کو بچانا چاہتی ہیں , گناہ کی دلدل سے نکالنا چاہتی ہیں ۔ سوچوں کے بھنور دل کو مایوسی کے گہرے سمندر میں دھکیل رہے تھے ۔
تقی نے آہستگی سے اپنے جوتوں سے پاؤں آزاد کیے اور وہیں دائیں کروٹ سمٹ کر مالا کے گھٹنے پر سر رکھے بچوں کی طرح آنکھیں موند لیں ۔ ہلکے گرے رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے وہ سیاہ رنگ کی پینٹ پہنے ہوۓ برسوں کا تھکا ہوا مسافر لگ رہی تھی ۔
دو دن سے مسلسل دن رات جاگنے کے سبب اس کے اعصاب کا تناؤ اتنا بڑھ چکا تھا کہ اس وقت یوں خود کو مالا کے حوالے کر دینے کے بجاۓ کوئی چارہ نہیں تھا ۔ اسی کا وجود تھا جو بلقیسں کی ممتا کے بعد اس کو سکون بخش رہا تھا ۔
مالا نے آہستگی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو تقی نے فورا ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو اپنی جلتی آنکھوں پر دھر لیا ۔
مالا کے گداز اور ٹھنڈی انگلیوں کا لمس آنکھوں کے دکھتے , جلتے پپٹوں کو سکون دے رہا تھا , وہ دھیرے دھیرے سے دوسرے ہاتھ سے سر دبانے لگی اور چند منٹ کے بعد ہی تقی یونہی اس کے گھٹنے پر سر رکھے فرش پر لیٹے گہری نیند میں چلا گیا ۔
وہ اتنی گہری نیند میں تھا کہ مالا نے اسے اٹھانے کا ارادہ ترک کرتے ہوۓ قریبی صوفے سے سر ٹکا دیا ۔ کچھ دیر میں ہی فجر کی اذان ہونے والی تھی اور اس وقت تک تقی کی یہ گہری نیند اس کے لیے بہت ضروری تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھپ اندھیرے میں ڈوبا کمرہ قبرستان جیسی خاموشی لیے ہوۓ تھا , کمرے کے دروازے کے دونوں پٹ سختی سے بند تھے۔ شب کا درمیانی پہر تھا جب ہر ذی روح نیند کی آغوش میں تھا , اور روحیں بدن سے پرواز کیے خوابوں کے بھنور میں گھوم رہی تھیں ۔
حاکم قصر کے اس کمرے میں منہا پلنگ پر گھٹنوں میں چہرہ دیے اور دونوں بازوؤں میں وجود کو لپیٹے بیٹھی تھی ۔ چہرہ اور گردن مسلسل کتنے گھنٹوں سے جھکے رہنے کی وجہ سے اب قلب خون کی ترسیل کی رفتار کو سر تک پہنچانے میں سست ہو رہا تھا , اور سر میں سوئیاں سی چبھنے لگی تھیں ۔
رمنا کو گزرے تین دن اور اسے حواسوں میں آۓ آج پہلا دن تھی ۔ اس وحشت ناک دن سے لے کر آج تک وہ جب بھی ہوش میں آتی دلخراش چیخ و پکار کرتے ہوۓ پھر سے حواس کھو بیٹھتی , دماغ اب بھی اس سانحے پر یقین نہیں کر رہا تھا ۔
یوں لگ رہا تھا بس کسی لمحے اور کہیں سے رمنا آۓ گی دروازہ کھولے گی اور اسے گلے لگا کر کہے گی
” میں زندہ ہوں پگلی۔۔۔۔ بس تجھے سبق سکھا رہی تھی” لیکن نہیں وہ جا چکی تھی بہت ۔۔۔بہت۔۔۔ دور جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آتا ۔
لاکھ پکارو , لاکھ منت سماجت کرو جب سانس کی ڈور ٹوٹ جاۓ تو پھر ڈوری کے سروں کی گانٹھ سے جڑا نہیں کرتی , اور کونسا سرا وہ سانس کی ڈوری کو توڑتے ہی دوسرا سرا اوپر عرش پر کھینچ لیتا ہے۔
نا دوسرا سر ہو گا نا کوئی گانٹھنے کا سوچے گا بس پھر خاموشی سے وہ لوگ جو جسم میں روح ہونے تک آگے پیچھے بھاگتے ہیں , ہنستے بولتے ہیں , خود ہی اس کی روح پرواز کیے ہو جسم کو منوں مٹی تلے دبا کر , سر جھکاۓ واپس آ جاتے ہیں ۔
وہ بے سروپا نڈھال اس دن سے جب بھی ہوش میں آتی تھی بس ذہن سوچوں , پچھتاوں اور ندامت کا ماتم کرنے لگتا ۔ اس کی چیخ و پکار سے تنگ آ کر گھر والے اسے نیند کی گولیاں دینے لگے تھے ۔
جب تک وہ سوئی رہتی تھی یا بے ہوش رہتی تھی تب تک ہی سکون میں رہتی تھی, سب گھر والے اس کی اس حالت کو فقط رمنا کے گزر جانے کا صدمہ سمجھ رہے تھے مگر یہ صرف وہ جانتی تھی کہ اس پر کیا بیت رہی ہے۔
” رمنا کو ابھی جانا تو نہیں تھا , اس کی عمر ہی کیا تھی , اس کو تو کوئی بیماری بھی نہیں تھی , اس کے یوں بے وقت چلے جانے کی وجہ میں ہوں صرف میں ۔۔۔ “
گھٹنوں میں منہ دیے وہ سسک اٹھی , بہادر سے محبت ,ضد , جنون اور پاگل پن سب ۔۔۔سب کچھ پل بھر میں ہی بھک سے اڑ گئے ۔ اب دل ویران صحرا بن گیا تھا جہاں جگہ جگہ ریت سے بنی قبریں تھیں ۔
ضد کی قبر ۔۔۔
جنونیت کی قبر ۔۔۔
محبت کی قبر ۔۔۔۔
پاگل پن کی قبر ۔۔۔
جوش اور غصے کی قبر ۔۔۔
جوانی کے ہیجان کی قبر ۔۔۔
جذبات کی قبر ۔۔۔۔
کمرے سے باہر قدم رکھتی تو رمنا , آنکھ کھلتی تو رمنا , ہنستی تو رمنا , تقی , غزالہ اور نوازش چچا کی طرف دیکھتی تو رمنا اسے ہر جگہ رمنا نظر آتی تھی ۔
غزالہ کا بلک بلک کا رونا , نوازش چچا کے حالت , تقی کی حالت سب کی ذمہ دار وہی تو تھی ۔ سب کو یہ دکھ اسی نے تو دیا تھا وہ قاتل تھی ۔
اس نے رمنا کا نا حق قتل کر دیا تھا , ایک ضد ایک نا محرم کو بچانے کی خاطر اس کی جان ہی گنوا دی , کس کو بتاتی کیا کرتی سب کچھ سمجھ سے باہر تھا , ذہن مفلوج تھا , دل پھٹتا تھا , ضمیر نادم تھا ۔
سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے وہ چیخ اٹھی ۔۔۔۔۔۔
کاش۔۔۔ کاش ۔۔۔وقت واپس آ جاۓ رمنا اسے پھر سے چھت پر لے کر جاۓ سمجھاۓ اور وہ اس کے گلے لگ کر کہے ۔
” رمنا تم بلکل ٹھیک کہتی ہو , مجھے یوں بہادر کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے , بس میں آج کے بعد صرف اللہ سے اس مانگوں گی “
پھر رمنا اسے اپنی باہوں میں بھینچ لے اور کہے
” شاباش مجھے تم سے اسی سمجھداری کی امید تھی”
اور پیچھے ہوتے ہوۓ اس کا ماتھا چوم لے وہ بارہا آنکھیں زور سے میچ کر کھولتی کہ شائد وقت پلٹ کر وہیں آ جاۓ , شائد یہ سب ایک بھیانک خواب ہو پر نہیں ۔۔۔۔۔وقت واپس نہیں آیا کرتا ہے جو پل گزر جائیں جو خطائیں سرزد ہو جائیں ان کی تلافی کے طور پر خدا کبھی بھی وقت کی سوئی کو واپس نہیں گھماتا ہے کہ لے میرے بندے وہی لمحہ دے دیا اب اس کو سدھار لے , نہیں وقت پلٹا نہیں کرتے جو لوگ ایک دفعہ چلے جائیں وہ کبھی کسی قیمیت نہیں لوٹ سکتے ۔
” اب میں چاہیے جتنا رو لوں , سسک لوں اور گڑگڑا لوں رمنا تو کبھی نہیں آۓ گی واپس , کبھی نہیں ۔ ۔۔۔۔۔
مجھے مر جانا چاہیے ہاں میں صبح وہی سپرے کی بوتل پی لوں گی مار لوں گی خود کو کیونکہ ایسے سوچ۔۔۔ سوچ کر میں پاگل ہو جاوں گی اور بہادر !!!!!!!..
بہادر کسی دن تو , کبھی تو , کسی کو تو بتاۓ گا یہ سچ کہ رمنا کو دھکا میں نے دیا تھا ۔ وہ جانتا ہے قاتل میں ہوں ۔
“اللہ۔۔۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ مجھے بھی اٹھا لے “
وہ بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے چیخ رہی تھی ۔ نا کوئی سن رہا تھا اور نا وہ کسی کو سنا سکتی تھی ۔ جس کو ہر بات بلا جھجک سنا دیا کرتی تھی وہ تو اب جا چکی تھی کبھی نا واپس آنے کے لیے ۔
☆☆☆☆☆☆
گلاب دیوی چیسٹ ہاسپٹل لاہور کے وسیع و عریض عمارت کے بلکل اوپر آسمان میں سورج پوری تمازت سے چمکتے ہوۓ گرمی کو عروج بخش رہا تھا ۔
اسی ہسپتال کے وی آئ پی پیشنٹ کمرے میں موجود بیڈ پر مختلف آلہ جات میں جکڑی منہا کو آج کوما میں گئے دوسرا دن تھا ۔ ان چار دنوں میں وہ نچڑ کر ڈھانچے جیسی دکھائی دینے لگی تھی ۔ آلہ تنفس اور مختلف نالیوں سے چہرہ جکڑا ہوا تھا ۔
یہ کافی بڑا کمرہ تھا جو ان کو تقی کے ہی توسط سے ملا تھا ۔ تقی نے اسی ہسپتال میں ہاؤس جاب اور ملازمت کی تھی اور یہاں بلال اور نمیر کے علاوہ بھی اس کے کئی ہم جماعت ڈاکٹری کے فرائض سر انجام دے رہے تھے ۔
کمرے میں ایک طرف منہا کے لیے بیڈ لگا تھا اور دوسری طرف دیوار کے ساتھ بڑے بڑے کاؤچ اور ایک چھوٹا پلنگ لگا تھا جس کہ چوڑائی اور لمبائی دونوں عام پلنگ کی نسبت کم تھی ۔
کمرے کے ایک طرف لکڑی کی چھوٹی میز رکھی گئی تھی جس پر اس وقت بہت سے تھیلے اور معمول کی چیزیں موجود تھیں۔ بائیں طرف کی دیوار میں ملحقہ واش روم تھا ۔
یہاں منہا کے ساتھ ایک وقت میں صرف دو نفوس کی موجودگی کی اجازت تھی ۔ اور اس وقت فرہاد اور مالا کمرے میں موجود تھے ۔
فرہاد صوفے سے پشت ٹکاۓ سر پیچھے گراۓ بیٹھا چھت کو گھور رہا تھا اور مالا کہنی کو گھٹنے پر اور چہرے کو ہاتھ کی مٹھی پر ٹکاۓ سامنے منہا کو دیکھتے ہوۓ خاموش دعا گو تھی ۔
دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر مالا نے ہاتھ کی بند مٹھی پر سے چہرہ اوپر اٹھایا , فرہاد بھی سیدھا ہوا اور اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ فرہاد کے دروازہ کھولتے ہی تین نرسیں لوہے کی بنی ایک ٹرالی گھسیٹتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوئیں ۔
سفید وردی اور سلیقے سے سروں پر سفید کریب کے دوپٹے سجاۓ وہ اب کمرے کے وسط میں پہنچ چکی تھیں ۔
” آپ باہر چلے جائیں پلیز , پیشنٹ کا چینجنگ ٹائم ہے “
تینوں نرسوں میں سے ایک نے فرہاد کی طرف دیکھتے ہوۓ شائستگی سے درخواست کی , فرہاد نے سر جھکایا اور باہر نکل گیا ۔
وہ تینوں اب صوفے پر بیٹھی مالا سے بے نیازی برتتیں منہا کے بیڈ کی طرف بڑھ گئیں , بیڈ کےقریب جاتے ہی تینوں مختلف کاموں میں جت گئیں , کوئی منہا کا یورن بیگ بدل رہی تھی , تو کوئ اس کے ہاتھوں اور بازوؤں کی صاف صفائی کر رہی تھی ۔ مالا اب یک ٹک ان کو دیکھنے میں مصروف تھی ۔
وہ کسی محلول سے منہا کے بازو اور ہاتھ صاف کر رہی تھیں جس کی مہک ایک دم پورے کمرے میں پھیل چکی تھی ۔
تیز مہک کے ناک کے نتھنوں میں گھستے ہی مالا کو اچانک ہی عجیب گھبراہٹ کے احساس نے گھیرا تو وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی , سانس لینے میں جہاں دقت محسوس ہوئی وہاں دل بھی بری طرح متلایا تھا , وہ کمرے کے ایک طرف ملحقہ واش روم کی طرف بڑھی ۔
ایک دم سے پورا کمرہ اور سب چیزیں گھوم گئیں , سر اس بری طرح چکرایا کہ آنکھوں کے آگے گہرا سایہ لہرایا وہ لڑکھڑا کر نیچے گری , جیسے ہی وہ نیچے گری تینوں نرسوں نے ایک ساتھ پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ۔
” اوہ اسے کیا ہو گیا ؟ “
ان میں سے جو سب سے آگے کھڑی تھی تیزی سے مالا کی طرف بھاگی ۔ باقی دونوں بھی اب منہا کو چھوڑ کر مالا کی طرف متوجہ تھیں
” ڈاکٹر کو لے کر آؤ جلدی اور ان کے ساتھ جو میل تھا ان کو بلاؤ “
دوسرے نمبر والی نرس نے تیسری کو ہاتھ کے اشارے سے حکم صادر کیا اور خود پہلی نرس کی مدد سے مالا کو اٹھا کر پلنگ پر لٹانے لگی ۔
” بی پی چیک کرو اس کا “
ایک نے دوسری کو حکم صادر کیا وہ بھاگتی ہوئی بلیڈ پریشر کو جانچنے والے آلے کی طرف بڑھی , مالا اب بھی بے ہوش تھی ۔ نرس ابھی مالا کا بی پی ہی چیک کر رہی تھی جب دروازہ کھول کر نرس اور ایک عدد لیڈی ڈاکٹر ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں ۔ کمرے میں نرس کے ہمراہ داخل ہونے والی لیڈی ڈاکٹر شیریں تھی جو اس وقت قریبی وارڈ میں راؤنڈ پر تھی ۔
” کیا ہوا اسے ؟ “
شیریں حیرت سے پوچھتے ہوئے آگے بڑھی , سفید کورٹ اور گلے میں سٹیتھ سکوپ ڈالے وہ آہستگی سے چلتی ہوئی مالا تک پہنچی ۔
” ڈاکٹر یہ پیشنٹ کے ساتھ ہیں ابھی بے ہوش ہو کر گر پڑیں “
بی پی چیک کرتی ہوئی نرس نے بلیڈ پریشر چیک کرنے کے بعد بینڈ کو مالا کے بازو کے گرد سے اتارتے ہوۓ شیریں کو آگاہی دی ۔
” اچھا ہٹیں ذرا یہاں سے اور بی پی نوٹ کریں ان کا “
شیریں نے مالا کے قریب پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ پاس کھڑی نرس کو حکم صادر کیا اور خود مالا کی نبض کو جانچنے کے لیے کلائی ہاتھ میں پکڑی , نرس نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑے گتے نما رجسٹر پر بی پی نوٹ کرنے کے بعد شیریں کی طرف بڑھایا ۔
شیریں نے مالا کی آنکھوں کے پپوٹے اٹھاۓ معائنہ کیا اور گہری سانس لیتے ہوۓ پیچھے ہوئی ۔
” ہمممم آئی تھنک شی از پریگیننٹ , ان کے ساتھ کون ہے ؟ , بی پی بہت لو ہے “
شیریں نے چہرہ اوپر اٹھاۓ , بھنویں اچکا کر پاس کھڑی نرس سے سوال کیا
” میم ایک میل تھے اب باہر نظر نہیں آ رہے “
نرس نے ہاتھ کا اشارہ دروازے کی جانب کرتے ہوۓ جواب دیا ۔ شیریں نے سر اثبات میں ہلایا اور پریسکریپشن بک پر جھکی
” اوکے تم جاؤ یہ انجکشن لے کر آؤ “
شیریں اب پریسکریپشن بک پر انجکشن کا نام لکھ رہی تھی , لکھ کر نرس کی طرف بڑھایا , نرس نے ہاتھ سے کاغذ تھاما اور باہر نکل گئی ۔
” روحی آپ دیکھو ان کے ساتھ کون ہے لے کر آؤ انہیں روم میں “
شیریں نے پاس کھڑی نرس کو کہا اور خود مالا کے گال کو ہلکے سے تھپ تھپایا ۔ دوسرے نمبر والی نرس بھی اب کمرے سے باہر جا چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
کمرے میں پیلے بلب کی پھیلی زرد روشنی میں منہا کا چہرہ اور زرد لگ رہا تھا , رو رو کر آنکھوں کے پپوٹے سوج رہے تھے ۔ وہ تین دن سے مسلسل روۓ جا رہی تھی ۔
اتنا تو وہ فرہاد کے ساتھ نسبت ہو جانے پر نہیں روئی تھی جتنا آج شادی کی تاریخ رکھ دینے اور تقی کے شادی سے منع کر دینے پر رو رہی تھی ۔
احساس جرم سے چور ضمیر کو اتنے سالوں میں چین تو ایک پل نہیں آیا تھا ۔ بہادر کو دیکھنا تک چھوڑ چکی تھی , مگر پھر بھی ایک عجیب سے گناہ کا احساس تھا جو وہ چڑھتی جوانی کے جذبات میں کر چکی تھی اپنی پچھلی باتیں یاد کرتی تو سر ندامت سے جھک جاتا تھا اور وہ بہادر جس کے لیے جان دینے کو تیار تھی وہ شادی بھی کر چکا تھا , خود پر کڑوڑوں بار بھی تف کرتی کم تھا ۔
وہ جو خود کو بڑی بہادر سمجھ رہی تھی بہت بار خود کو مارنے کی کوشش میں ناکام ہو چکی تھی ۔ اور اس کی ایک جھٹکے کی موت رمنا کی قتل کی تلافی کہاں تھی ۔
وہ سات سال اس جرم کے ساتھ پلتے پلتے ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی تھی ۔
نماز پڑھنے کھڑی ہوتی تو یوں لگتا فرشتے اس کے چاروں اور کھڑے اس کو دیکھ کر ستہزائیہ مسکرا رہے ہیں ۔ نا دن کو چین تھا نا رات کو سکون اور اب تقی کے شادی سے انکار کر دینے پر احساس جرم اور بڑھنے لگا تھا ۔
آج اگر رمنا زندہ ہوتی تو اب اس کی ساتھ تقی کی شادی ہو رہی ہوتی , دونوں کتنے خوش ہوتے , تقی کے شادی سے انکار نے یہ بات ثابت کر دی تھی کہ وہ آج بھی رمنا کو نہیں بھولا ہے اور اب یہی بات اسے اندر سے کچوکے لگا رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆
تقی تیزی سے ہسپتال کی راہداری میں قدم بڑھا رہا تھا , مالا کو کیا ہو گیا دل کی دھڑکن تھم رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: