Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 35

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 35

–**–**–

کچھ دیر پہلے وہ منہا کی کچھ ادویات لے کر لوٹا تھا جب ریسپشن پر کھڑی نرس نے اسے پہچان کر مالا کی طبیعت کے بارے میں آگاہ کیا ۔ وہ پریشانی کی عالم میں اسی لمحے کمرے کی طرف بڑھا ۔
سلیٹی رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس , آستین کو کہنیوں سے تھوڑا نیچے فولڈ کیے , بکھرے سے بالوں کی کچھ لٹیں پیشانی پر بکھیرے وہ بے حال سا لمبے لمبے ڈگ بھر کر آس پاس سے گزرتے لوگوں سے کتراتا ہسپتال کے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
منہا کی حالت سے اعصاب پہلے کھچے ہوۓ تھے اور اب یوں مالا کی طبیعت اور بے ہوش کر گر جانے نے ہاتھ پاؤں پھلا دیے تھے ۔
☆☆☆☆☆☆
مالا نے آہستگی سے پیشانی پر شکن ڈالتے ہوۓ آنکھیں کھولیں , جہاں ذہن ہوش میں آ رہا تھا وہاں آنکھوں کے سامنے کے منظر کو دھندلے سے صاف ہونے میں چند سکینڈ لگے تھے ۔
وہ کمرے میں موجود پلنگ پر چت لیٹی تھی اور اس کے بلکل پاس ایک ڈاکٹر اس پر جھکی ہوئی تھی ۔ دائیں ہاتھ میں سوئی پیوست تھی جس کے ساتھ ملحقہ نلی سٹینڈ پر لٹکتی ڈرپ کے اندر موجود محلول اس کی رگوں میں اتار رہی تھی , کچھ دیر پہلے کا سارا منظر کسلمندی سے ذہن نے دہرایا , وہ تین نرسیں اب کمرے میں موجود نہیں تھیں ۔
” کیسا فِیل کر رہی ہیں اب آپ ؟ “
شیریں نے نہایت ملائم لہجے میں اس کی طرف دیکھتے ہوۓ استفسار کیا , مالا نے آہستگی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔
” کیا۔۔۔ ہوا تھا۔۔۔ مجھے ؟ “
اس نے شیریں کی بات کا جواب دینے کے بجاۓ پھیکی سی آواز میں سوال پوچھ ڈالا جس پر شیریں بے ساختہ نرماہٹ سے مسکرا دی ۔
” ابھی بتاتی ہوں , پہلے اپنا نام بتائیے ؟ “
شیریں نے معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ , پریسکریپشن بک پر نگاہیں جھکائیں , مالا شیریں کے انداز سے الجھتی کبھی اپنے ہاتھ پر لگی ڈرپ کو دیکھ رہی تھی تو کبھی شیریں کے لبوں پر سجی مبہم سی مسکراہٹ کو ۔
“مالا ۔۔۔ مالا ہے نام میرا “
مالا نے الجھے سے لہجے میں خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ جواب دیا , کمرے میں ارد گرد نگاہ دوڑائ , “تقی کہاں ہیں” ذہن نے پریشان ہو کر سوچا
” ما شا اللہ بیوٹی فل نیم لائک یو , تو مالا۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ آپ۔۔۔ ماں بننے والی ہو “
شیریں نے اپنائیت بھری مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ مالا کو خوشخبری سنائی تو وہ ایک لمحے کے لیے یوں ساکن ہوئی جیسے اپنے ہی سماعت پر یقین نا ہو , جہاں دل دھڑکنا بھولا وہاں خوشی کی بھرپور لہر تن بدن میں سرائیت کر گئی , بات ہی ایسی تھی
” آپ کے ہسبینڈ کو بلایا ہے , ابھی آ رہے ہیں , یہ کچھ ادویات میں نے لکھ دی ہیں یہ منگوا لیجیے گا “
شیریں نے پریسکرپیشن بک کے اوپری ورق کو الگ کیا اور مالا کی طرف بڑھایا , وہ جو اب تک بے یقینی کے عالم میں تھی سراسیمگی کے حالت میں ہی کاغذ شیریں کے ہاتھ سے تھام لیا۔
کمرے کا دروازہ ہلکی سی چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ کھلا اور پھولی سانسوں کے ساتھ جیسے ہی تقی نے کمرے میں قدم رکھا تو سامنے بیٹھی شیریں کو مالا کے پاس بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا, ایک سکینڈ کے ہزارویں حصے میں وہ حیرت سے بھنویں اچکاۓ شیریں کو پہچان چکا تھا ۔
شیریں جو تقی کو یوں سامنے دیکھ کر منجمند ہوئی , ذہن کے حواسوں میں آتے ہی گزشتہ یادوں کے باعث چہرے پر گہرا سایہ لہرا گیا ۔
تقی اب آہستگی سے چلتا ہوا پاس آ گیا تھا , شیریں یونہی ورطہ حیرت میں ڈوبی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی , مالا ہاتھ میں کاغذ تھامے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ کو چھپاۓ گلال ہوتے ہوۓ خود کو ابھی تک اتنی بڑی خوشی ملنے کی یقین دلا رہی تھی ۔
” تقی ۔ی۔ی۔۔۔ تم ۔۔۔ یہاں۔ں۔ں ؟ “
شیریں نے سامنے بیڈ پر لیٹی منہا اور پھر مالا کی طرف دیکھ کر اب چہرہ تقی کی طرف گھماۓ حیرت سے سوال کیا ۔
” کیسی ہو شیریں ؟ “
تقی نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجاۓ شناسائی کی مسکراہٹ سجاۓ سوال کیا , مالا جو شرمگیں نگاہوں سے تقی کی جانب دیکھ رہی تھی , تقی کی توجہ اپنے بجاۓ شیریں کی طرف مبذول دیکھ کر اور اس کے شیریں سے کیے گئے سوال کو دیکھ کر ششد آنکھیں ٹپٹپائیں ۔
” میں ٹھ۔۔ٹھیک ہوں ؟ تم کیسے ۔۔۔ ہو ؟ یہاں ۔۔۔ کیسے خیریت ؟ “
شیریں اب بھی حیرت میں مبتلا پھر سے منہا اور کبھی مالا کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کر رہی تھی ۔
” نہیں خیریت نہیں ہے ۔۔ دراصل ہمشیرہ کو لے کر آیا ہوں , شی از ان کریٹیکل سچویشن “
تقی نے سنجیدگی سے لب بھینچے منہا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ جواب دیا اور نگاہ اسی لمحے مالا پر اٹھی
” مالا کیا ہوا تمہیں ؟ ۔۔۔ ٹھیک ہو نا ؟ “
تقی پریشانی سے تفتیشی انداز میں مالا کی طرف بڑھا , شیریں جو منہا کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ چونک کر مالا اور تقی کی طرف دیکھا , تقی اب مالا کے بلکل سامنے بیٹھ کر اس کی کلائی تھام چکا تھا , اور پھر سوالیہ نگاہیں شیریں کی طرف اٹھائیں جو حیرت زدہ کھڑی تھی ۔
تقی کی سوالیہ نگاہوں کو جانچتے ہوۓ شیریں نے بمشکل اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوۓ لب کھولے
” تم۔۔ میرا مطلب تمھاری کیا لگتی ہیں یہ ؟”
جانتی تھی یہ اس کے سوال کا جواب تو نہیں عجیب سا سوال عجیب سے وقت پر کیا تھا , مگر وہ بے ساختہ پوچھ چکی تھی ۔
” اوہ ۔۔۔ سوری ۔۔ یہ میری وائف ہے مالا ۔۔ اور مالا یہ ڈاکٹر شیریں ہیں یونیورسٹی میں میری ہم جماعت بھی تھیں “
تقی نے پیشانی پر ہاتھ رکھے , شائستگی سے تعارف کروایا ‘ مالا جو اس وقت سے ان دونوں کے انداز پر عجیب کشمکش میں مبتلا تھی تعارف پر دم سادھے اب شیریں کو جانچنے لگی اور یہی حال شیریں کا تھا وہ مالا کو اب تقی کی بیوی کی طور پر گہری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔
” شیریں از ایوری تھنگ اوکے نا , کیا ہوا میری وائف کو ؟ “
تقی اب ایک مضطرب سی نگاہ مالا پر ڈال کر شیریں سے سوال کر رہا تھا , شیریں جو ٹکٹکی باندھے مالا کی طرف دیکھ رہی تھی چونک گئی
” ہاں۔۔ ہاں ۔۔ وہ ۔۔۔ کانگریجولیشن یور وائف ۔۔۔ از ایکس پکٹنگ “
شیریں کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی اس کا چہرہ متعجب تھا, تقی نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں سکوڑیں اور پھر اگلے ہی لمحے بات سمجھ آنے پر بے ساختہ جہاں تمام مسکراہٹوں میں سب سے حسین مسکراہٹ نے لبوں کا گھیراؤ کیا وہاں خجالت سے انگلیاں پیشانی کو سہلانے لگیں ۔
اپنی بے پناہ امڈ آنے والی خوشی کو بمشکل قابو کیے ایک محبت پاش نگاہ مالا پر ڈالی اور پھر خجل ہوتے ہوۓ پریسکریپشن کاغذ مالا کے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا ہوا ۔
شیریں چہرے کا تاسف چھپاۓ بمشکل مسکرا رہی تھی ۔ تقی سے ملاقات کچھ ایسے ہوگی کبھی نہیں سوچا تھا ۔
دل کیا بھاگ جاۓ یہاں سے ۔ تقی اب پیشانی کو سہلاتے ہوۓ پریسکرپیشن پڑھ رہا تھا ۔
” سب ٹھیک ہے , بس بی پی بہت لو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے بے ہوش ہوئیں , میں نے میڈیسن لکھی ہیں , تم بھی چیک کر لینا “
شیریں نے سنجیدگی سے کہا اور بغور مالا کی طرف دیکھا , بلاشبہ سامنے پلنگ پر لیٹی لڑکی بہت حسین تھی اور تقی کی طرح ہی ہر قسم کی مصنوعی زیبائش سے پاک تھی ۔ سادہ سے نیلے رنگ کے جوڑے پر سیاہ بڑی سی چادر اوڑھے وہ نیلی آنکھوں اور سفید شفاف چہرہ لیے معصوم سی لڑکی اسے آئینہ دکھا گئی ۔ بے شک محبت چکاچوند کی محتاج نہیں ہوتی ۔
وہ اپنی بھرپور زندگی جی رہا ہے اور میں کتنی بیوقوف ہوں , آج بھی دل میں کسی اور کو اس کے مقام پر نا بیٹھا سکی اور نا شادی کی ۔
“تھنکیو بروقت آ کر چیک کرنے کے لیے ۔۔۔ اور سناؤ کیسی جا رہی ہے جاب ؟”
تقی کے پوچھے گئے سوال پر وہ چونک کر پلکیں جھپکاۓ مالا پر سے توجہ ہٹاتی سیدھی ہوئی ۔ وہ شیریں کی موجودگی میں اپنی خوشی کو بالاۓ طاق رکھے اب مالا کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔
” جاب ٹھیک جا رہی ہے ۔۔ تم بتاؤ سسٹر کو کیا ہوا ہے اور مجھے کیون نہیں بتایا تم یہاں آۓ ہوۓ ہو ؟ “
شیریں نے بھنویں سکیڑے منہا کی طرف رخ کرتے ہوۓ شکوہ کیا , تقی کے چہرے پر پھر سے پریشانی کے سایے لہرا گۓ جو خوشی کی وجہ سے لمحہ بھر کے لیے مندمل ہوۓ تھے ۔
گہری سانس لیتا ہوا وہ منہا کے بیڈ کی طرف بڑھا تو شیریں بھی آہستگی سے قدم اٹھاتی اب منہا کے بیڈ کے قریب تقی کے بلکل سامنے کھڑی تھی اور تقی اب اسے منہا کی حالت کے متعلق تمام آگاہی تفصیل سے دے رہا تھا ۔
مالا جو تب سے شیریں اور تقی کی بات چیت کی وجہ سے الجھی ہوئی تھی اب اور الجھ گئی , دماغ ایک سو ایسی کی رفتار سے خالص بیویوں والی سوچ میں دوڑنے لگا , تقی کے سامنے کھڑی لڑکی نا صرف اس سے ہزار درجے حسین تھی بلکہ پڑھی لکھی ڈاکٹر اور تقی کی ہم عمر تھی ۔
جہاں دل میں ایک پھانس سی اٹکی وہاں ذہن کی سوچ دل کے ساتھ مل کر وسوسے پالنے لگی , شیریں کے چہرے کے بدلتے رنگ اور لب و لہجے کا انداز ایسا کھٹکا کہ دل نے ذہن کے اندر امڈنے والے وسوسوں کی تصدیق کر دی۔
“کہیں تقی اور یہ ڈاکٹر ایک دوسرے کو ۔۔۔۔ کیا تقی اس سے محبت کرتے تھے , اسی لیے شادی کے بعد مجھ سے دور رہے اور یہ ڈاکٹر ۔۔۔۔ دیکھو تو کیسے دیکھ رہی ہے تقی کو ۔۔۔”
دل کی دھڑکن رُک رہی تھی اور ذہن سوچ رہا تھا , تقی اب منہا کی فائل کھولے سنجیدگی سے شیریں سے گفتگو کر رہا تھا اور وہ بھی لب بھینچے تقی کی باتوں پر سر ہلا رہی تھی ۔
ان دونوں کی گفتگو کا ایک لفظ بھی اس کے پلے نہیں پڑ رہا تھا اور عجیب سی احساس کمتری اندر گھٹن پیدا کرنے لگی ۔
” تقی تم پریشان نا ہو میں آج ہی ماموں جان سے بات کرتی ہوں “
شیریں نے اپنائیت سے تقی کو کہا , شیریں کے ماموں اسی ہسپتال کے سنئیر اور مشہور ڈاکٹر تھے ۔
” تمھارا بہت بڑا احسان ہو گا مجھ پر , ایکچولی میں خود کل سے ان کو اپروچ کر رہا ہوں لیکن ۔۔۔”
تقی نے تشکر آمیز لہجے میں شکریہ ادا کرتے ہوۓ لب بھینچے
” تقی شرمندہ مت کرو , کیا میں اتنا نہیں کر سکتی تمھارے لیے “
عجیب سی کسک تھی شیریں کے لہجے میں جو تقی تو بلکل نہیں سمجھ سکا البتہ کچھ دوری پر لیٹی مالا کی سانس اٹک کر رہ گئی ۔
” آج اگر میں نا آتی تو تم اور بلال تو مجھے بتاتے تک نا کیا اتنا گیا گزرا سمجھ لیا تھا , میں یہ فائل لے جارہی ہوں , تم فکر مت کرو , میں آج ہی ان کو لے کر آتی ہوں “
شیریں نے تسلی دیتے ہوۓ کہا اور پھر فائل تھامے بنا مالا کی طرف دیکھے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
” شیریں کے باہر جاتے ہی تقی نے فورا گردن گھما کر مالا کی طرف دیکھا تو وہ جو اسی طرف گھور رہی تھی جلدی سے افسردہ چہرہ سیدھا کیے چھت کو گھورنے لگی ۔
تقی بھرپور مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ آگے بڑھا جو وہ شیریں کی موجودگی میں روکے ہوۓ تھا۔
مسکراہٹ دباۓ پلنگ پر اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ اس کے چہرے پر جھکا جو اپنی ہی الٹی سیدھی سوچوں کے باعث امڈ آنے والی خفگی کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ کچھ دیر پہلے جو دل بلیوں اچھل رہا تھا اب افسردگی کا شکار تھا ۔
” ہاں جی ۔ی۔ی ۔۔۔۔ ادھر دیکھو تو ۔۔ یہ کیا کہہ رہی تھی ڈاکٹر ؟ “
اس کے اندرونی کشمکش اور جلن سے بے خبر تقی نے میٹھی سی مسکراہٹ سے لب سکوڑے اور اس کی ناک کو پکڑتے ہوۓ چہرے کا رخ اپنی طرف کیا ۔
” آپ نے بھی تو سن ہی لیا ۔۔۔ کیا کر رہی تھی ڈاکٹر “
باوجود کوشش کے وہ اپنے اندر کے وسوسے کے اثرات اپنے لہجے میں نا لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
تقی جو بے انتہا خوشگوار موڈ میں بیٹھا تھا اس کے لہجے اور چہرے کے تاثرات پر ایکدم پریشان ہوا اور لبوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی ۔
” مالا ۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔ پریشان کیوں ہو ؟ طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی کیا ابھی ؟ “
تقی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ کی پشت رکھے تشویش ظاہر کی ۔
” اس حالت میں اس طرح کی طبیعت ہو جاتی ہے , پریشان کیوں ہو رہی ہو “
تقی نے محبت سے اس کی گال پر ہتھیلی رکھتے ہوۓ تسلی دی اور وہ جو اتنی دیر سے دل کے اندر بھرے غبار کو تھپک رہی تھی بے ساختہ رو دی ۔
” مالا ۔۔۔۔ پاگل ہو کیا ۔۔۔؟ ارے کچھ نہیں ہوا تمہیں “
تقی اس کے یوں رونے پر پہلے حیران ہوا اور پھر بے ساختہ ہنس دیا , ہنسی پر قابو پاتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا جو آنسو روک رہی تھی
” تمہیں تو بچے اتنے پسند ہیں پھر ایسے کیوں رو رہی ہو ۔۔”
گہری نگاہیں اس کی متورم نگاہوں میں گاڑے سوال کیا , مالا نے پلکیں گرائیں اور سر اثبات میں ہلا دیا
” بچے پسند ہیں پر اب میں آگے کیسے پڑھوں گی ؟”
مالا نے بھیگے سے لہجے میں اپنے رونے کی بے تکی وجہ بتائی تو تقی بے یقینی سے ایک لمحے کے لیے ساکن ہوا اور پھر اس پریشانی میں بھی اپنے بے لگام قہقے کو ابھرنے سے نہیں روک سکا ۔
” یہ ۔۔۔ یہ تم کہہ رہی ہو ؟”
ہنسی پر قابو پاتے ہوۓ حیرت سے سوال کیا , مالا جو گزشتہ پندرہ منٹ میں ہزار وسوسے اور بے شمار بدگمانیاں پال چکی تھی تنک کر تقی کی طرف دیکھا ۔
” ہاں کیوں مجھے آگے نہیں پڑھنا کیا ؟ ڈاکٹر بننا ہے مجھے بھی “
مالا نے دانت پیستے ہوۓ جواب دیا , نجانے کیوں تقی پر غصہ آ گیا تھا اور اس وقت خود کو بہت کمتر محسوس کر رہی تھی , تقی جو اپنی ہنسی کو تقریبًا روک ہی چکا تھا پھر سے ہنس دیا ۔
“اس کو ہو کیا گیا ہے اچانک ” ہنسی تو آ ہی رہی تھی ساتھ ہی اس کا یہ انداز الجھا بھی رہا تھا ۔
” میں نے کب روکا ہے تمہیں , میں تو چاہتا ہوں کہ تم بہت زیادہ پڑھو اور ڈاکٹر , استانی جو بننا چاہتی ہو بنو , پر اس میں ہمارا بچہ رکاوٹ تھوڑی ہے جو تم خوش ہونے کے بجاۓ یوں رو رہی ہو , اور مجھے تو اب بھی یقین نہیں آ رہا کچھ دیر پہلے والی بات تم نے ہی کی ہے نا “
تقی نے محبت سے اس کے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لیا اور لبوں میں مسکراہٹ دباۓ شرارت سے سوال کیا ۔ مالا نے بنا مسکراۓ تقی کی طرف دیکھا ۔
” آج اپنی محبت کو اپنے سامنے یوں دیکھ کر یہ کیسے ہسنی جا رہے ہیں ” دماغ بدگمانی کی وجہ سے اتنا آلودہ ہو گیا تھا کہ اس کو تقی کی خوشی بھی شیریں سے جڑی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
” اچھا چلو بعد کی بعد میں سوچیں گے , ابھی میں تمھارے لیے کچھ کھانے کے لیے لے کر آتا ہوں , تب تک ڈرپ بھی ختم ہو جاۓ گی “
تقی نے محبت سے اس کے تھامے ہاتھ پر دباؤ ڈالا اور اپنی جگہ سے اٹھا , کچھ دیر منہا کے پلنگ کے پاس جا کر اس کا معائنہ کیا اور پھر کمرے سے باہر نکل گیا ۔
اور وہ دل مسوس کر رہ گئی کل تک کبھی ایسی سوچ تک ذہن میں نہیں آئی تھی کہ تقی اس سے زبردستی کا رشتہ نبھا رہا ہے لیکن آج ڈاکٹر شیریں کو دیکھ کر دل عجیب کملاہٹ کا شکار ہو گیا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
بہادر کی آواز پر منہا نے چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔ بہادر اس سے محبت کا اظہار کر رہا تھا ۔ لمحہ تھم گیا تھا ۔
وہ اس سے سوال پر سوال کر رہا تھا اور منہا منجمند بیٹھی تھی ۔ ذہن تیزی سے سوچوں کے بھنور میں گردش کرنے لگا ۔
” ہاں بہادر ۔۔۔۔ بہادر مجھے وہ زہر لا دے گا جس کے متعلق میں نے پڑھا ہے , اسی زہر سے اذیت ناک موت ہی میری سزا ہے “
مختلف طریقوں سے بارہا خودکشی میں ناکام ہو کر اس نے گھر میں موجود ایک کتاب سے اس جڑی بوٹی کے متعلق پڑھا تھا , جو انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کھوکھلا کرتے ہوۓ ابدی نیند سلا دیتی ہے ۔
بہادر اس سے سوال پر سوال کر رہا تھا اور وہ کچھ اور ہی سوچ رہی تھی , اس وقت نا تو اسے بہادر کے لیے محبت کا احساس جاگا اور نا اس کے رونے پر دل میں کوئی رحم جیسا احساس جاگا۔
احساس تو سب کب کے ختم ہو چکے تھے , اب تو اذیت تھی فقظ اپنے ہی وجود سے نفرت تھی فقط جو اب شادی کے دنوں میں اور جاگ گئی تھی , اچانک ذہن میں امڈتے منصوبے کے پیش نظر اس نے لب کھول دیے
” تم مجھ سے شادی کرو گے “
بہادر آنکھوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا جب اچانک اس کی آواز گونجی اور وہ چونک کر پلٹا
” میں تم سے شادی کروں گی پر۔۔۔۔۔ اس دفعہ ہم شادی کے لیے خالی ہاتھ نہیں بھاگیں گے ، فرہاد سے شادی کسی صورت نہیں ٹل سکتی میں نے بہت کوشش کی “
بہادر کو راضی کرنے کے لیے اس سے بہتر منصوبہ اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا
” آ۔۔آپ فرہاد سے شادی کریں گی تو۔۔ تو پھر مجھ سے …”
بہادر نے الجھ کر سوال کیا
” فرہاد ۔۔۔ کو زہر دوں گی اور سارا زیور جو شادی پر مجھے ڈالا گیا ہو گا وہ لے کر بھاگ جاٸیں گے ہم “
دل پھٹ رہا تھا یہ الفاظ کہتے ہوۓ , پر وہ جانتی تھی وہ اس سے بھی بری سزا کی مستحق ہے ۔ بہادر نے تیزی سے جواب دینے کے بجاۓ گاڑی بھگا کر اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔
گاڑی حویلی کے بیرونی گیٹ کے آگے رکی تو وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ چادر میں منہ چھپاۓ گاڑی سے اتری اور بیرونی گیٹ کی دونوں باغوں کے درمیان کی روش پر چل دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: