Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 36

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 36

–**–**–

دودھیا گداز ہاتھ میں پکڑا تیز چاقو سیب کی اوپری سرخ چھلکے کو بڑی نفاست سے چھیل رہا تھا , مالا پلیٹ پر جھکی اس چاقو کو ہاتھ میں تھامے سیب کاٹ رہی تھی ۔
گلاب دیوی ہسپتال کے اس کمرے میں ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا پھینکنے کی آواز کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تھی , نقیب حاکم اسی صوفے پر مالا سے کچھ دور بیٹھے اخبار کے دونوں اوراق چہرے کے آگے پھیلاۓ اخبار کی موٹی سطروں کو پڑھنے میں مگن تھے ۔
منہا تاہنوز نالیوں میں جکڑی کچھ دور بیڈ پر آنکھیں موندے اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے خبر تھی , اسے کوما میں گئے اور ان کو ہسپتال میں آج تیسرا دن تھا ۔
اس وقت کمرے میں مالا اور نقیب حاکم موجود تھے اور تقی اور فرہاد کمرے سے باہر تھے ۔ وقفے وقفے سے ڈاکٹر منہا کا معائنہ کرنے کمرے میں آتے تھے ۔
مالا نے سیب کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پلیٹ میں سجایا اور نقیب حاکم کے ساتھ صوفے پر رکھ دیا , سیب کے چھلکے پھینکنے کے لیے کمرے میں موجود ایک کونے میں رکھے کوڑا دان کی طرف بڑھی ہی تھی جب کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک کے بعد ہی دروازہ خود بخود کھل گیا ۔
مالا اور نقیب حاکم نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا , شیریں ہاتھ میں فائل تھامے کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔
نقیب حاکم نے اسی لمحے ہاتھ میں پکڑی اخبار کو تہہ کیا اور شائستگی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
شیریں اب فائل تھامے کمرے کے وسط میں پہنچ چکی تھی ۔ وہ ہلکے گلابی کے رنگ کے نفیس جوڑے میں آج اور بھی دلکش لگ رہی تھی ۔
وہ کل شام ہی ڈاکٹر عرفان کو لے کر منہا کے معائنے کے لیے آ گئی تھی ۔ ڈاکٹر عرفان نا صرف اس کے ماموں تھے بلکہ اس ہسپتال کے مایہ ناز اور مشہور ڈاکٹر بھی تھے ۔
” اسلام علیکم , تقی نہیں ہے کیا کمرے میں ؟ “
شیریں نے آہستگی سے نگاہیں گھماتے ہوۓ نقیب حاکم کی طرف دیکھ کر تقی کے متعلق دریافت کیا
” وعلیکم سلام۔۔۔ بیٹا ۔۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی کمرے سے باہر گیا ہے , میں ابھی بلا کر لاتا ہوں , آپ بیٹھو “
نقیب حاکم نے بڑے احترام اور پیار سے شیریں کو بیٹھنے کا کہا اور خود تقی کو اس کے آنے کی اطلاع دینے کی غرض سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔
مالا جو کن اکھیوں سے ابھی تک شیریں کے دلکش سراپے کا جائزہ لینے میں محو تھی اس کے پلٹتے ہی جھجک کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا , شیریں مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ صوفے کی طرف بڑھ گئی ۔
وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نگاہیں چرا رہی تھیں ۔
شیریں صوفے پر ایک طرف بیٹھی تو مالا نے آہستگی سے سیب کی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی ۔
” نہیں ۔۔۔۔نہیں شکریہ “
شیریں نے مبہم مسکراہٹ سجاۓ ہاتھ کھڑا کرتے ہوۓ منع کیا ۔ مالا آہستگی سے سر ہلاتی ایک طرف بیٹھ گئی ۔ چور سی نگاہ شیریں پر ڈالی ۔
وہ کتنی مکمل حسن کی مالک تھی , خوب گلابی کھلتی رنگت , مناسب قد کاٹھ , سیاہ بڑی بڑی آنکھیں اور پھر پڑھائی لکھائی کا شخصیت میں رعب اور دبدبا , مالا ذہن میں اس کی شخصیت کو سراہے بنا نا رہ سکی اس کے سامنے اپنا آپ بے معنی سا لگ رہا تھا ۔
شیریں نے فائل کھولتے ہی جزبز نگاہ مالا پر ڈالی , تقی کے انکار اور نکاح کے اعتراف کی شام کا منظر ذہن کے پرودں میں سرکنے لگا ۔
اس وقت تو وہ یہی سمجھی تھی کہ تقی ایک دقیانوسی دیہاتی خاندان سے تعلق رکھتا ہے , جہاں کسی سے بھی پکڑ کر اس کا نکاح کر دیا گیا ہو گا مگر کل جب مالا کو دیکھا تو اس کی خود سے برتی بے اعتنائی اور روکھے پن کا جواز مل گیا ۔
مالا ایک دنگ کر دینے والے حسن کی مالک لڑکی تھی , چندن جیسا روپ , نیلی پتلیوں والی نایاب آنکھیں , معصوم سے نقوش والا خوبصورت چہرہ , تقی جیسا لڑکا کیسے اسے چھوڑ کر میرے عشق میں گرفتار ہوتا ۔
وہ یونہی پرکھتی نگاہوں سے مالا کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک مالا نے بھی نگاہ اٹھائی تو نگاہوں کا تصادم ہونے پر شیریں پہلے گڑبڑائی اور پھر ہلکا سا مسکرا کر گڑبڑاہٹ پر قابو پایا ۔
” آپ کی طبیعت کیسی ہے آج ؟ میڈیسن منگوا لی تھی “
ملائم سے لہجے میں مالا سے اس کی طبیعت دریافت کی , مالا جو اس کے یوں دیکھنے پر سوچ رہی تھی کہ وہ یقیناً اس کو جانچ رہی ہو گی کہ کس دیہاتی لڑکی نے میرے اور تقی کے رشتے کو ختم کر دیا , اس کے اچانک مدھر سے لہجے میں سوال کرنے پر بوکھلا گئی ۔
” افف ۔۔۔۔کتنا اچھا بولتی ہے یہ , اور میں ۔۔۔ مجھے تو بولنے تک کی تمیز نہیں ” مالا نے اس کے سوال پر ذہن میں مناسب جواب کو ترتیب دیا۔
” ٹھیک ہوں ۔۔ جی لے لی ہی میڈیسن تقی لے آۓ تھے “
مختصر جواب جھجکتے ہوۓ دیا , لگ رہا تھا کچھ غلط بول دی گی تو کہاں کی عزت رہ جاۓ گی اس کے سامنے
” گڈ ۔۔۔”
شیریں نے مختصر جواب دیا , اور نگاہیں پھر سے فائل پر جھکا دیں اسے مالا کا انداز عجیب سا لگا مگر ذہن کو جھٹکا ۔
“اتنی خوبصورت ہے اتنا مغرور ہونا تو بنتا ہے “
شیریں اب فائل پر نگاہیں جھکاۓ , مگن ہو چکی تھی اور مالا بار بار اضراری کیفیت سے دوچار اس کے سراپے کو دیکھ رہی تھی ۔
” پڑھ لکھ کر شخصیت کا نکھار ہی اور ہوتا ہے , یہ ڈاکٹر کتنی پیاری اور جدید طرز کے فیشن کیے ہوۓ ہے اسی لیے تو تقی کو میں اچھی نہیں لگتی “
مالا نے ایک نگاہ اس کے جدید فیشن سے لیس کپڑوں اور بنا دوپٹے کے سر پر ڈالی اور پھر خود کا جائزہ لیا , نارنجی رنگ کے سادہ سے قمیض شلوار کے نیچے , پاؤں میں کھسہ اور سر سے لے کر گھٹنوں تک آتی سیاہ چادر جس کو وہ سر پر سلیقے سے اوڑھے ہوۓ تھی ۔
صبح فجر کی نماز کے وضو سے دھلا چہرہ اور بار بار متلی جیسی کیفیت سے دوچار ہونے کی وجہ سے پپڑی زدہ گلابی ہونٹ, مالا نے بے دلی سے گردن پلیٹ پر جھکا دی ۔
شیریں نے فائل پر جھکا سر اٹھایا اور دیوار پر نصب کلاک کی طرف دیکھا اور پھر سے نگاہ بے اختیار مالا پر جا ٹکی
” کتنی سادگی بھرا حسن ہے اس کا اسی لیے تو میرے اس قدر جدید فیشن سے لیس حلیے پر کبھی تقی نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تک نہیں تھا ” شیریں نے سوچتے ہوۓ ٹھنڈی سانس بھری ۔
عورت کا یہی المیہ ہے اسے ہر دوسری عورت کے ساتھ اپنا موازانہ کرنا ہوتا ہے اور ہمیشہ اپنی خوبصورتی اور خاصیت کو نظر انداز کیے وہ دوسری عورت کو خود سے زیادہ خوبصورت گردان کر خود احساس کمتری کا شکار رہتی ہے , اس بات سے یکسر بے خبر کہ اسی وقت وہ عورت اس کے بارے میں یہی سوچ رکھے ہوۓ ہوتی ہے ۔
درحقیقت عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو کبھی بھی مطمئن نہیں ہو سکتی اور یہی حال یہاں مالا اور شیریں کا تھا ۔
وہ دونوں یونہی اپنی اپنی سوچ میں گم تھیں جب دروازہ اپنی مخصوص چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ کھلا اور تقی کے ساتھ ڈاکٹر بلال اور فرہاد بھی کمرے میں داخل ہوۓ ۔
ان کے داخل ہوتے ہی شیریں اپنی جگہ سے اٹھی اور ان کی طرف بڑھ گئی , چاروں ایک ساتھ منہا کے قریب کھڑے ہو چکے تھے ۔ اور اب منہا کے متعلق ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مگن تھے , بس ایک فرہاد تھا جو مالا کی طرح خاموش کھڑا ان کو دیکھ رہا تھا ۔
مالا دم سادھے ان کو دیکھ رہی تھی جو ایک فائل کو تھامے پتا نہیں کیا۔۔۔ کیا۔۔ بول رہے تھے۔
بہت مشکل الفاظ تھے جو اس کے سر کے اوپر سے گزر رہے تھے , اس نے کبھی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں آج سے پہلے یوں نہیں سوچا تھا , جیسی سوچ اب اس کے ذہن میں گردش کرنے لگی تھی ۔
کل تک تو وہ یہی سوچتی تھی جب بچے ہوں گے , وہ تقی کو منا لے گی اور آگے کبھی نہیں پڑھے گی پر پتا نہیں کیوں اب ایسا لگ رہا تھا کہ ایک پڑھے لکھے انسان کی شخصیت میں اور ان پڑھ کی شخصیت میں زمین آسمان کا فرق آ جاتا ہے , بھلے آج تقی اس سے ہی محبت کرتا ہے لیکن شیریں کو دیکھ کر اس سے موازانہ تو کرتا ہو گا , اس کے دل میں آتا تو ہو گا کہ کاش شیریں ہی میری بیوی ہوتی ۔
” افف اللہ کیا سوچے جا رہی ہوں میں بھی ” جھنجلا کر اپنے آپ کو لتاڑا ۔
وہ چاروں اب بات کرتے ہوۓ باہر جا رہے تھے اور پھر ان سب کے جانے کے بعد وہ اکیلی ہی کمرے میں بیٹھی تھی ۔
” اللہ مجھے اچھے نمبروں میں پاس کرنا مجھے اب آگے پڑھنا ہے ہر حال میں۔۔۔ مجھے تقی کے لیے اور خود کے لیے اپنے آپ کو ہر لحاظ سے مکمل بنانا ہے ” دل میں معصوم سی دعا مانگتی وہ سیب کے ٹکڑے کو اپنے منہ میں رکھ رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
فرہاد اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنا رہا تھا , اور اسے اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کی محبت کی دیکھ کر خود سے ہی گھن آ رہی تھی ۔
” کیا وہ اس قابل تھی کہ کوئی اسے اتنا چاہے ۔۔۔ نہیں وہ ہر گز اس قابل نہیں تھی , وہ تو ایسے لڑکی تھی جس نے اپنے جذبات کی روانی اس خوبصورت لمحے سے پہلے ہی ایک نامحرم کے گوش گزار کر دی تھی “
سینے میں گھٹن بڑھنے لگی تھی اور ضمیر زور زور سے کچوکے لگا رہا تھا ۔
” بتاٶ تو تمہیں پسند آٸ ؟ “
فرہاد نے تھوڑا سا جھکتے ہوۓ محبت سے پوچھا , وہ کتنا خوش دکھائی دے رہا تھا ۔ دل میں ایک پھانس سی اٹکی اور وہ سر اثبات میں ہلا گئ ۔
“اتنی خاموش تم ہو تو نہیں , جتنی آج بیٹھی ہوٸ ہو کچھ تو بولو چلو لڑ ہی لو مجھ سے “
فرہاد نے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھناساۓ کھیلتے ہوۓ کہا ۔
افف اس کی اتنی محبت گلے میں جیسے آنسوؤں کا گولہ اٹکنے لگا , بہادر کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی , وہ اس دن کتنے حق سے چہرہ دکھانے کی بات کر رہا تھا ۔
دل کیا زمین پھٹے اس میں سما جاۓ یا پھر آسمان نگل لے , خود سے ہی گھن آئی ۔۔۔
“م۔۔مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے مجھے “
سپاٹ لہجے میں کہا اور ہاتھ فرہاد کے ہاتھ سے کھینچ لیا تھا ، وہ جو منہا کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھا تھا اس کے ہاتھ یوں ہی ہوا میں ہی معلق رہ گئے ، پھر گہری سانس لے کر پاس پڑے گاٶ تکیے پر بازو دھرا
” آج تو نہیں سونے دوں گا“
فرہاد نے شریر سے لہجے میں کہا ، اللہ۔۔۔۔۔۔ کیسے سمجھاؤں اس شخص کو میں کہاں اس کی اتنی محبت اور اپنائیت کے قابل ہوں کل جب بہادر سے اسے میرے بارے میں پتا چلے گا تو ؟ ۔۔۔۔۔۔ دل تیزی سے انجانے خوف کے باعث دھڑکنے لگا , وہ بیڈ سے اترنے کے لیے آگے ہوٸ
” منہا ۔۔ کیا ہوا ؟ “
فرہاد نے فوراً سیدھے ہوتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں پوچھا ، کیا بتاتی اس کیا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ , وہ ایک نا محرم سے محبت کے اظہار کرنے والی , اپنی ہی بہن کو اس غیر کے لیے دھکا دے کر جان سے مار دینے والی ڈائن ہے ۔
” کچھ نہیں سونا ہے مجھے بہت تھک گئی ہوں “
آہستگی سے تھوک نگلا
” منہا مانتا ہوں بچپن سے اب تک بہت تنگ کرتا آیا پر یہ بھی سچ ہے بہت محبت کرتا ہوں میں , امی سے لڑ لڑ کر یہ رشتہ کروایا ہے میں نے “
فرہاد محبت بھرے لہجے میں اپنی سارے جذبے اس کے گوش گزار کر رہا تھا ، اور وہ اپنے آپ کو ان جذبوں کے قابل کہاں سمجھتی تھی ۔
”فرہاد میں بہت تھکی ہوئی ہوں “
منہا کی آواز کپکپا گئی تھی ۔
” اچھا ۔۔۔ پریشان ہو ؟ سر دبا دوں تمھارا “
محبت سے اس کے قریب ہوتے ہوۓ پیش کش کی , اس کی اتنی چاہت پر آنسوؤں آنکھوں کی پتلیوں پر امڈنے لگے ۔
” نہ۔۔۔نہیں سر میں درد نہیں ہے بس نیند آ رہی ہے سونا چاہتی ہوں “
بمشکل آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو روکا اور پھر فوراً پلنگ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ چھن چھن کی آواز کے ساتھ سنگہار میز تک پہنچی اور پھر زیور اتار کر سنگہار میز کے دراز میں رکھنے لگی ۔
فرہاد کچھ دیر یونہی دیکھتا رہا پھر پلنگ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا ، فرہاد اس کے عقب میں آ کر کھڑا ہوا دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے تھام کر قریب ہوا ، اس کے یوں قریب آنے پر منہا فوراً پلٹی۔
” سوئیں اب ۔۔۔۔ ۔۔۔ “
پلکیں لرزاتے ہوۓ پھیکی سی آواز میں کہتی وہ اس کے پہلو سے نکل کر آگے بڑھی اور پھر فرہاد کو وہیں چھوڑ کر ، پلنگ کے لحاف کو کھینچتی ہوٸ بستر پر لیٹ گٸ ۔
آنکھ سے آنسو چھلک ہی پڑے تھے ۔
فرہاد کچھ دیر وہیں کھڑا رہا پھر دل میں سر اٹھاتی الجھن کے سبب شکن پیشانی پر ابھارے پلنگ پر آیا ۔پلنگ پر بیٹھتے ہی کہنی کے بل منہا پر جھکا ، اور لحاف اس کے چہرے پر سے ہٹایا
” منہا ۔۔۔ “
محبت بھری سرگوشی تھی , مگر اس محبت کا جواب اس کے پاس محبت میں نہیں تھا وہ تو کھوکھلی ہو چکی تھی , آنکھیں زور سے میچ کر اس سے چھپا کر آنسو صاف کیے ۔
☆☆☆☆☆☆
ہلکے بھورے رنگ کا لکڑی کا دروازہ تھا , جس پر لگی سیاہ پلیٹ پر سفیر رنگ سے نام لکھا تھا ,
” ڈاکٹر بلال ناظم “
شیریں نے گہری سانس خارج کی اور بالوں کی لٹ کو کانوں کے پیچھے آڑستی آگے ہوئی , جھجکتے ہوۓ ہاتھ کو دروازے پر رکھا اور دستک دے دی ۔
جانتی تھی اس وقت بلال یہیں موجود ہو گا اور ایسا ہی ہوا تھا , دستک دینے کے چند سکینڈ کے بعد ہی اس کی گھمبیر آواز گونجی ۔
” یس ۔۔۔ کم ان “
شیریں نے آہستگی سے لکڑی کے دروازے پر لگا لوہے کا ہینڈل گھمایا اور اندر داخل ہوئی , بلال میزے کے پیچھے کرسی پر براجمان تھا اور اب سامنے کھلی فائل سے نگاہ اٹھاۓ حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” ت۔۔تم ۔۔۔ آؤ “
حیرت تو یقینی تھی , ایک ہی ہسپتال میں ہوتے ہوۓ بھی شیریں پہلی دفعہ اس کے کمرے میں آئی تھی ۔ وہ جھجکتے ہوۓ میز کے سامنے سے کرسی پیچھے کھینچتی ہوئی اس پر براجمان ہوئی جبکہ بلال اب بھی اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
شیریں نے دونوں بازو کہنیوں تک میز پر دھرے اور ہاتھوں کو آپس میں ملایا , وہ ذہن میں لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی ۔
بلال کے ساتھ اس کو ایک ہی ہسپتال میں کام کرتے ہوۓ کافی سال ہو چکے تھے , اور ایک ماہ پہلے ہی اس نے شیریں سے اس کے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر کی تھی اور رشتہ بھیجنے کی اجازت مانگی تھی , جسے اس نے دو ٹوک الفاظ میں رد کر دیا تھا کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہے مگر اب پچھلے دو دن سے ذہن عجیب طرز میں سوچنے لگا تھا ۔
تقی ۔۔۔۔ جس کے لیے وہ روگ لیے بیٹھی تھی اور شادی نہیں کر رہی تھی۔ ایک ضد باندھ لی تھی , اپنے ماں باپ تک کو پریشان کر رکھا تھا ۔
وہ اپنی کتنی مکمل زندگی جی رہا تھا ۔ اپنی بیوی کے ساتھ خوش باش تھا اور ایک وہ تھی ۔۔۔۔۔
بلال نا صرف ایک قابل ڈاکٹر تھا بلکہ ایک خوبرو نوجوان بھی تھا لیکن ان سب باتوں کے باوجود جو بات آج شیریں کو اس کے سامنے بیٹھاۓ ہوۓ تھی اس کی احترام کی نگاہ تھی جو اتنی پسندیدگی اور تقی اور اس کے بارے میں جاننے کے باوجود قائم تھی ۔
بلال ہونق بنا اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس کے سامنے مضطرب کیفیت میں بیٹھی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی ۔
” ڈاکٹر شیریں ۔۔۔ پلیز بلا جھجک کہیے ۔۔ کیا کہنا چاہتی ہیں ؟ “
بلال نے اس کی جھجک ختم کرنے کے لیے شائستگی سے کہا , شیریں نے گہری سانس لیتے ہوۓ چہرہ اوپر اٹھایا ۔
” وہ ۔۔۔ ایک ماہ پہلے آپ نے مجھ سے ۔۔۔ میرے گھر رشتہ بھجوانے کی بات کی تھی ۔۔۔”
شیریں نے آہستگی سے بات شروع کی اور سر جھکا دیا جبکہ بلال ساکن ہم تن گوش تھا ۔
” میں ۔۔۔ چاہتی ہوں آپ ۔۔ آپ اپنے پرینٹس کو بھیج دیں میرے گھر “
شیریں نے جھکے سر کے ساتھ ہی نوید سنائی تو سامنے ماتھے پر نا سمجھی کے شکن ڈالے بلال کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا ۔
” آ۔۔۔آ ۔۔آ ۔۔۔۔۔ ۔ وہ۔۔۔۔ “
بلال کی سمجھ سے باہر تھا وہ اپنی خوشی کو کیسے قابو کرے اور اس وقت کیا کہے , شیریں نے اچانک چہرہ اوپر اٹھایا تو اس کے یہ بادل بیتاب سی حالت پر ہنسی چھوٹ گئی ۔
بلال جو اس کے یوں پیش کش پر بوکھلایا سا تھا , اس کے ہنسنے پر جیسے دم میں دم آیا اور پھر کندھے گراۓ اس کے سنگ ہنس دیا ۔ شیریں لبوں پر ہاتھ رکھے آج اتنے مہینوں کے بعد کھل کر ہنسی تھی ۔
انسان بعض اوقات انجانے میں ہی خود سے زیاتی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ خوشیاں اس کے آس پاس ہی ہوتی ہیں بلکہ اکثر اس کے اندر ہی چھپی ہوتی ہیں ۔
شیریں کا حساب بھی کچھ ایسا ہی تھا تقی ایک سیراب تھا اس کے لیے جس کے پیچھے بھاگتے ہوۓ وہ آس پاس کی خوشیوں کو ٹھکراۓ ہوۓ تھی , پر تقی کا یوں سامنا اور مالا کے ساتھ اس کی محبت اس کو آئینہ دکھا گئی ۔
اپنے سامنے بیٹھے ہنستے ہوئے شخص کو پرسکون ہو کر دیکھا تو دل میں طمانت بھر گئی ۔
☆☆☆☆☆☆
وہ بہادر سے زیور کے عوض زہر منگوا چکی تھی , بس اب اس زہر کو باقاعدگی سے کھانا تھا , ہر روز وہ جب زہر کو کھاتی تھی تو یوں لگتا کہ جیسے وہ انصاف کر رہی ہے ۔
خود کے ساتھ انصاف۔۔۔۔
رمنا کے ساتھ انصاف ۔۔۔
اس جیسے انسان کا انجام یہی ہوتا ہے جو اس کا ہونا تھا , اس کا کسی خوشی پر کوئی حق نہیں تھا اور نا ہی فرہاد جیسے مخلص انسان کی پاک محبت پر ۔
فرہاد اس سے سچی محبت کرتا ہے ۔ یہ دل با خوبی جاننے لگا تھا مگر جب بھی وہ اس کی محبت کی طرف ایک قدم بھی بڑھانے کا سوچتی عجیب طرح کا احساس جاگنے لگا تھا , کیا اس کو یوں ہنسی خوشی شادی شدہ زندگی گزارنے کا حق ہے ۔
تقی اور مالا کی دوری واضح تھی جو اسے اندر ہی اندر رمنا کی یاد دلاتی تھی ۔ اسے سب سے چھپ کر زہر کھاتے ہوۓ بیس دن ہو چکے تھے ۔
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر نیم دراز یونہی سوچوں میں گم تھی جب اچانک دل بری طرح متلانے لگا ۔ وہ بادل نخواستہ کمرے کے دروازے کی طرف بھاگی تھی مگر اٹاری کے زینے اترتے ہی ابکائی کی صورت وہ زینہ اور اپنے جوتے بھر چکی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 10

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: