Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 37

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 37

–**–**–

رات کے ایک بجے گلاب دیوی ہسپتال کی سفید عمارت رات کے اندھیرے میں ڈوبی سیاہ لگ رہی تھی , ہسپتال کی بجلی میں کوئی خرابی کے باعث پچھلے آدھے گھنٹے سے پورے ہسپتال کی عمارت گھپ اندھیرے میں غرق تھی ۔
کمرے میں دیوار کے ساتھ لگے چھوٹے سے میز پر رکھی موم بتی کی ہلکی سی پیلی روشںنی پورے کمرے کو پیلاہٹ زدہ روشنی بخش رہی تھی ۔
گرمی کے باعث تقی نے کمرے کی کھڑکی اور دروازہ پورا کھول رکھا تھا جو کمرے میں مدھم سے ہوا کے جھونکے لانے کا باعث بن رہے تھے ۔ زیادہ طر لوگ سو رہے تھے اس لیے ہسپتال کے وارڈز اور راہداریوں میں خاموشی معمول سے زیادہ تھی ۔
مالا دیوار سے لگے لکڑی کے پلنگ پر چت لیٹی تھی اور تقی کچھ دور کمرے کے وسط میں موجود صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ سر اوپر کیے بیٹھا تھا۔ منہا کو کومے میں گئے آج چھ دن ہو چلے تھے اور ہر گزرتا دن اس کی واپسی کی امید کم کرتے ہوۓ گزر رہا تھا ۔
دن میں مالا کے ساتھ کمرے میں فرہاد اور نقیب حاکم باری باری قیام کرتے تھے اور رات کو تقی ہوتا تھا ۔ مالا کی طبیعت کے باعث تقی کی پریشانی دوگنی ہو گئی تھی , وہ تین دن سے عجیب کچھی کچھی سی رہنے لگی تھی ۔ نا بات کا جواب پوری توجہ سے دے رہی تھی اور نا خود سے اس سے کوئی بات کر رہی تھی ۔
وہ یہ پچھلے دو دن ڈاکٹر عرفان کے ساتھ اس قدر مصروف رہا تھا کہ چاہ کر بھی اس کے طبیعت کا نہیں پوچھ سکا اور آج بھی جس وقت کمرے میں آیا وہ سو چکی تھی ۔
وہ اس پریشانی کے عالم میں بھی بچے کی خوشی کو لے کر سرشار تھا , پر پچھلے دو دن سے مالا کی بے رخی بری طرح کھل رہی تھی ۔ تقی نے گردن کا رخ موڑے پلنگ کی طرف دیکھا ۔
“تقی کتنے اجنبی ہو گئے ہیں مجھ سے , اب ایسی بھی کیا بے اعتنائی کے مجھے بھول ہی گئے , کمرے میں آتے بھی ہیں تو بس منہا کا چیک اپ شیریں اور دوسرے ڈاکٹرز سے باتیں “
دل پر وزن بڑھنے لگا تھا اور آنکھوں میں آنسو آنے لگے ۔
وہ دونوں بلکل خاموش اپنی اپنی سوچوں میں مگن تھے اور گھڑی کی ٹک ٹک کمرے کی خاموشی کو مزید وحشت ناک بنا رہی تھی ۔ آنسو آنکھ کے کونے سے بہہ نکلے تو مالا نے ہاتھ اٹھا کر نم کونے انگلی کی پور سے دباۓ ۔
وہ جو سمجھ رہا تھا کہ مالا آج پھر سو چکی ہے اس کے ہاتھ کی جنبش کو دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور چند قدم کی دوری پر پلنگ کے پاس جا کر کھڑا ہوا۔
مالا جو اپنے خیالوں میں گم لیٹی تھی اس کے یوں پاس آ کر کھڑے ہونے پر ہلکی سی گردن کو خم دیے دیکھا ۔
” مالا ۔۔۔ طبیعت کیسی ہے ؟”
فکرمندی سے اس کی طبیعت دریافت کرتا وہ اس پر جھکا ۔ مالا نے اس کا خود پر جھکا وجود دیکھ کر چہرے کا رخ نا چاہتے ہوۓ بھی دوسری طرف موڑ لیا ۔
” آ گیا خیال میرا بھی ۔۔۔ ” دل مسوس کر سوچا
” جی ٹھیک ہوں “
مختصر جواب مگر لہجہ ڈھکی چھپی خفگی کا غمازی تھا ۔
” لگ تو نہیں رہی تم ٹھیک ؟ ادھر دیکھو “
تقی نے لب بھینچے اس کے چہرے کو پھر سے سیدھا کیا , وہ اس طرح کے نخرے اسے پہلی دفعہ دکھا رہی تھی اور وہ ان نخروں کی کوئی وجہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔
” ٹھیک ہوں آپ پریشان نا ہوں , آرام کریں صبح اٹھنا بھی ہے “
مالا کا لہجہ ہنوز ویسا ہی تھا , تقی نے حیرت اور ناسمجھی کے ملے جلے اثرات میں بھنویں اچکائیں
” ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ کس بات کی پریشانی ہے , طبیعت زیادہ تنگ کر رہی ہے تو واپس بھیج دیتا ہوں اماں کو بلوا لیتا ہوں “
تقی نے اپنے ذہن میں فوری امڈ آنے والے خیال کے زیر اثر پوچھا
” نہیں ۔۔۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے یہاں , سارا دن آرام ہی کرتی ہوں باقی سارا کام تو نرسیں کرتی ہیں , آپ بلاوجہ کے وہم مت پالیں “
اکھڑے سے لہجے میں جواب دیا
” یہ بات کیسے کر رہی ہے مجھ سے ” تقی کی پیشانی پر افقی لکیریں ابھریں , اب اس کی یہ بے رخی غصہ دلا رہی تھی ۔
” سیدھے سے بتاؤ کیا ہوا ہے ؟ میں ویسے بھی پریشان ہوں اور تم پریشانی میں اضافہ کر رہی ہو “
تقی نے اب کی بار کچھ سخت لہجے میں استفسار کیا , وہ جو پہلے ہی منہ پھلاۓ ہوۓ تھی اس کی یہ توجہ اب لطف دینے لگی ۔ اتنے دن کی بے اعتنائی کے بعد تو وہ یوں مہربان ہو رہا تھا ۔
” ٹھیک ہے نہیں بتانا چاہتی تو مت بتاؤ “
اس کی خاموشی سے چڑ کر تقی اکھڑے سے لہجے میں کہتا سیدھا ہوا اور ماتھے پر بل ڈالے واپس صوفے پر آ کر اسی طرح بیٹھ گیا جیسے پہلے بیٹھا تھا , مالا کا منہ حیرت سے کھل گیا , دونوں طرف پھر سے خاموشی کا دور دورہ چل نکلا ۔
مالا نے سر گھما کر تقی کی طرف دیکھا , یہاں تو معاملا ہی الٹا تھا دل تو چاہ رہا تھا وہ کچھ دیر اور مناۓ پر۔۔۔۔ وہ اپنی جگہ درست تھا وہ یہاں اس کی پریشانی میں اضافہ کرنے نہیں آئی تھی ایک دم سے خفگی ندامت میں بدل گئی ۔
کمرے کی خاموشی ہولناک صورت اختیار کرتی جا رہی تھی , مالا کو اب وحشت سی ہونے لگی اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ صوفے کی طرف بڑھی اور چند قدم کا فاصلہ طے کرتے ہوۓ صوفے پر بیٹھے تقی کے پاس آ گئی ۔
خفگی کس بات کی اپنے ہی ذہن کے امڈتے وہم تھے وہ کیوں ان کی سزا تقی کو دیتی , بری طرح خود کو ملامت کیا ۔
وہ اسی طرح سر صوفے کی پشت سے ٹکاۓ خاموش بیٹھا تھا ۔ مالا کے قدموں کی چاپ سے بھی سیدھا نہیں ہوا ۔
مالا آہستگی سے اس کے پاس بیٹھی اور پھر اس کے گھٹنے پر سر رکھے دائیں کروٹ سمٹ کر لیٹ گئی , مالا کے یوں لیٹتے ہی اس نے سر نیچے کیا اور اسے یوں معصومیت سے گھٹنے پر سر رکھے لیٹے دیکھ کر مبہم مسکراہٹ نے لبوں کا گھیراؤ کیا ۔
” ہو گئی ناراضگی دور ؟”
مسکراتے ہوۓ سوال کیا , مالا نے بنا اس کی طرف دیکھے سر کو آہستگی سے ہلایا ۔
” یہ بلاوجہ کی ناراضگی مجھے قطعا پسند نہیں منانا نہیں آتا مجھے “
تقی نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور انگلیاں اس کی کنپٹی سے سر کی طرف چلانی شروع کردیں ۔ مالا نے اسکے گود میں دھرے دوسرے ہاتھ کو آہستگی سے اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
” آپ کو منانا نہیں آتا اور مجھے زیادہ دیر ناراض نہیں رہنا آتا “
خفیف سے لہجے میں کہتی وہ اس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں پھنسا رہی تھی ۔
” ناراض ہونے کی کوئی وجہ کوئی جواز تو ہو یہ کیا بس ناراض ہوں , وجہ سرے سے کوئی ہے نہیں اور میرا سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا ہے کہ میں نے کوئی غلطی کر دی کیا ؟ “
تقی نے مصنوعی خفگی سے اس کے گال پر ہلکا سا تھپڑ رسید کیا
” آپ مصروف تھے تو اداس ہو گئی تھی , اب نہیں ہوں ناراض “
تقی کے ہاتھ کو اپنے چہرے پر دھرتے ہوۓ معصومیت سے کہا , وہ مسکرا کر سر ہلا گیا اور ذہن اتنا تھکا ہوا تھا کہ اس کے اس جھوٹے سبب پر ہی ایمان لے آیا ۔
” تقی مجھے بھی بتائیں نا کچھ منہا آپا کی طبیعت کے متعلق , آپ لوگ جو بھی باتیں کرتے ہیں وہ تو میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ “
مالا نے کروٹ کو سیدھا کیا اور اس کے ہاتھ پر اپنے ملائم ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے ہوۓ پوچھا ۔ تقی نے یونہی اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ اس کی طرف دیکھا , ہلکی پیلی سی روشنی میں وہ اب ناراضگی ختم کیے پیشانی پر فکرمندی کے لکیریں ابھارے ہوۓ تھی ۔
” آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ ۔۔۔۔ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتے , ڈاکٹر عرفان نے دماغ کا معائنہ کیا ہے , دعا کرو برین ڈیتھ نا ہوئی ہو صرف کومے میں ہو ۔۔۔ “
تقی دھیمے سے لہجے اور روانی سے ساری بابت کہہ رہا تھا , تقی کی بات پر اس کا بھی دل بیٹھ گیا , دونوں طرف پھر سے خاموشی چھا گئی ۔ اور چند سکینڈ کے وقفے کے بعد خاموشی کا سکوت مالا کی آواز نے ہی توڑا ۔
” میں یہ سوچ رہی تھی کہ منہا آپا نے اکیلے ہی بہت پریشانی اور تکلیف کو سہا ہے , پتا نہیں کیا کیا سوچتی رہتی ہوں گی , اور مجھے پورا یقین ہے انہوں نے بہادر سے وہ زہر فرہاد بھائی کے لیے نہیں اپنے لیے منگوایا تھا “
مالا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ تقی کے چہرے پر سایہ لہرا گیا ۔
” ہم۔م ۔م فرہاد کو نہیں دے رہی تھی , وہ زہر خود لے رہی تھی , میں نے فرہاد کا خون لینے کے بہانے ٹیسٹ لے لیے ہیں اس کے , آخری دن منہا نے اس زہر کی مقدار معمول سے زیادہ لی تھی شائد ۔۔۔۔”
تقی نے دلگیر لہجے میں اپنی سوچ بتائی , مالا ایک دم چونک کر اٹھ بیٹھی انگلی کو کچھ یاد آ جانے کے انداز میں ہوا میں معلق کیا ۔
” شائد۔۔۔۔ ۔۔۔میں نے جو قمیض کو لے کر واویلا مچا دیا تھا حویلی میں ۔۔۔ اس کی وجہ سے انہوں نے ۔۔۔”
مالا کرب کی کیفیت میں لب بھینچ گئی ۔ تقی نے آہستگی سے آنکھیں موند کر صوفے کی پشت سے سر ٹکایا ۔
” ہاں ۔۔۔ اسی وجہ سے تم نے بہادر سے پچھ گچھ شروع کی تو اس نے خوف زدہ ہو کر زہر کی زیادہ مقدار لے لی “
تقی نے تکلیف دہ آہ بھرتے ہوۓ اس کی بات کی تصدیق کی جبکہ چہرہ چھت پر اٹھاۓ ہوۓ تھا ۔ اور مالا کا رخ بھی اس کے چہرے کی طرف ہی تھا ۔
” تقی بہادر کو سزا ملنی چاہیے اسے معاف نہیں کریں گے ہم اور ۔۔۔ کیا پتا اب تک تو وہ بھاگ گیا ہو گاؤں سے ۔۔۔”
مالا نے دانت پیستے ہوئی ضبط میں بات مکمل کی , تقی کی خاموشی کچھ پل قائم رہی اور پھر وہ اسی لہجے میں گویا ہوا ۔
” اس وقت منہا کے زندہ بچ جانے کے علاوہ اور کچھ نہیں سجھائی دے رہا مجھے , مجھے اس کی زندگی چاہیے بس , میں اس کو یوں دنیا سے جانے نہیں دے سکتا “
مالا نے حوصلہ دینے کی خاطر نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ دھر دیا ۔
” فرہاد نے میری وجہ سے اریب پھپھو پر شک کرتے ہوۓ ان سے ہر تعلق توڑ دیا تھا , اب اسے کیسے بتاؤں ؟ کیا کہوں اس سے کہ میں غلط تھا , منہا کو زہر اریب پھپھو نہیں دیتی تھیں بلکہ وہ زہر وہ خود کھا رہی تھی “
تقی نے کرب ناک لہجے میں جملا ادا کیا , وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے میں اتنے مگن تھے کہ , دروازے پر ساکت کھڑے نفس سے لاپرواہی برت گئے جو ان کی اس گفتگو پر دروازے کے بیچ و بیچ کھڑا مجسم ہو چکا تھا , جیسے ہی اس نے لڑکھڑاتے جسم کو سنبھالنے کی خاطر کواڑ تھاما تو دروازے کی چرچراہٹ خاموش کمرے میں گونج گئی , مالا اور تقی نے ایک ساتھ چہرہ اوپر اٹھایا ۔
اور سامنے کھڑے فرہاد کے چہرے کے رنگ دیکھ کر دونوں کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆
منہا نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے اثرات سے آنکھیں کھولے سامنے کھڑی دائی اماں کو دیکھا جو اب فرہاد سے پیسے لے رہی تھی ۔
اپنی ہی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا , کیا اللہ نے سچ میں اس پر مہربانی کر دی تھی ۔ بلقیس اس کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیر رہی تھی اور پلنگ کے کے پاس کھڑے فرہاد کی خوشی دیدنی تھی , آج پہلی دفعہ وہ کچھ دور کھڑی اریب پھپھو کے چہرے پر بھی اپنے لیے نرمی کے تاثرات دیکھ رہی تھی ۔
خوشی سے سرشار ہوتے ہوۓ نگاہ اٹھاۓ فرہاد کی طرف دیکھا , وہ کتنا خوش تھا , چہرے پر انگنت خوشی کے رنگ رقص کر رہے تھے ۔ باچھیں کھلاۓ اب جوش سے اریب کے گلے لگ چکا تھا ۔ وہ کتنا وجہیہ تھا , کتنا سادہ , دل کی دھڑکن ہلکی سی لے میں دھڑک اٹھی ۔
وہ ماں بننے والی تھی ۔ اتنے سالوں بعد کسی انوکھی سی خوشی نے اپنے حصار میں لیا تو وہ اپنے پچھلے سارے غم پس پشت ڈال بیٹھی , سرہانے کھڑے محبتیں لٹاتے وجود کے لیے دل میں عجیب سا احساس امڈنے لگا ۔
بلقیس اور اریب اس کا ماتھا چوم کر باہر نکلیں تو وہ جو ان کے ہی جانے کے انتظار میں تھا والہانا انداز میں آگے بڑھا ۔
” سن لیا نا سب جو ابھی ممانی اور امی نے ہدایات دیں , کوئی کوتاہی نہیں کرنے دوں گا سمجھی “
فرہاد کا لہجہ سرشار تھا اور انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔ منہا نے سراسیمگی کی حالت میں گردن اثبات میں ہلائی , وہ جو آج فرہاد کے لیے محسوس کر رہی تھی پہلے کبھی نہیں کیا تھا اور دل انہیں محسوسات پر حیرت زدہ تھا ۔
کیا اولاد ایسی طاقت رکھتی ہے کہ اسے جس فرہاد کے لیے کل تک کوئی محسوسات نہیں تھیں آج وہ پوری دنیا کا سب سے پیارا مرد لگ رہا تھا ۔
محبتیں تو وہ پہلے بھی نچھاور کرتا ہی تھا پر آج اس کی محبت اس کے لمس اور باتوں سے دل کو عجیب سا سرور آنے لگا ۔
” میں کتنی ناشکری تھی اللہ ۔۔۔۔ تو نے مجھے احساس دلا دیا , میں اب وہ زہر پھینک دوں گی کبھی نہیں کھاؤں گی ۔ میں جس دن ماں بن رہی ہوں گی اس تکلیف کے دوران میں تجھ سے معافی مانگوں گی , سنا ہے تو ماں بننے جیسے عظیم عمل پر سارے گناہ دھو دیتا ہے “
دل میں عجیب سی خواہشیں جنم لینے لگی تھیں اور دل جینے کے لیے , فرہاد کی محبت کے لیے اور بچے کے لیے ہمکنے لگا تھا ۔ تقی کی مالا کے لیے وارفتگی بھی اس کے دل کو اب محسوس ہونے لگی تھی جس سے احساس جرم بہت حد تک مندمل سا لگا ۔
فرہاد اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے , پتا نہیں آنے والے وقت کے متعلق کیا کیا خواب بن رہا تھا ۔ اور وہ آج پہلی دفعہ اسے اتنی محبت سے تاک رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆
منہا نے بمشکل اٹاری کے ستون کا سہارا لے کر خود کو سنبھالا تو وگرنہ وہ گر جاتی , دل کانپ گیا تھا , سامنے کے منظر نے پچھلے ایک ماہ کی ساری خوشیاں ملیا میٹ کر دی تھیں ۔ چوہدی حاکم ہاتھ میں خط تھامے کھڑے تھے اور اریب پھپھو تخت پر بیٹھی بین کر رہی تھیں ۔
سب لوگ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ کچھ دور لٹھے کی طرح سفید پڑتا چہرہ لیے کھڑی منہا کے سر میں اس سارے منظر کو دیکھ کر ہتھوڑنے چلنے لگے ہیں ۔ بہادر کچھ نہیں بھولا تھا ۔ اس کو جس غلط فہمی کا شکار وہ کر چکی تھی , اب وہ اس سے آسانی سے باہر نہیں آنے والا تھا ۔
منیر پھپھا کے خفیہ نکاح کے بارے میں صرف بہادر جانتا ہے یہ یہاں صرف اسے معلوم تھا ۔ اور اس نے یہ پردہ فاش کس لیے کیا ہے ۔ اس بات کا خوف اس کے دل میں سایے پھیلانے لگا ۔
وہ پچھلے ایک ماہ سے فرہاد کے ساتھ خوش رہنے لگی تھی , خاموش رہنا تو طبیعت کا خاصہ بن گیا تھا لیکن یہ ضرور تھا کہ وہ اب جینے لگی تھی اور فرہاد سے محبت کرنے میں وہ اس بات کو تو یکسر فراموش کر بیٹھی کہ بہادر کو وہ ایک جھوٹی آس دلا چکی تھی ۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا , طبیعت تو پہلے سے ہی بوجھل رہتی تھی اوپر سے یہ نئی افتاد نے ہاتھ پاؤں پھلا دیے تھے ۔
بہادر کی طرف سے اٹھایا ہوا یہ انتہائی قدم اسے اچھی طرح باور کروا گیا تھا کہ وہ کسی صورت نہیں بھولا کچھ اور اس کا دیوانہ پن اب بھی قائم ہے اور وہ اس کے جواب اور اگلے عمل کا منتظر ہے ۔
“اگر ۔۔۔ اگر میں نے اسے کوئی جواب نا دیا تو ۔۔۔ اللہ کیا کروں ؟؟؟ ۔۔۔ میں نے یہ کیا کیا؟ ۔۔۔۔ کیوں کیا تھا وہ سب ؟؟۔۔ اب کیا کروں ؟ , اسے سمجھا دوں کہ میں خوش ہوں اب ۔۔۔ اگر وہ نا مانا تو ؟۔۔۔۔۔۔ وہ جانتا ہے میں نے رمنا کو دھکا دیا تھا اور اب ۔۔۔ زیور بیچ کر زہر ۔۔۔۔ افف میرے خدا ۔۔۔ “
دل میں پھانس اٹکنے لگی , دل خوف کے مارے لرز رہا تھا ۔ اپنی بیوقوفیوں کا یہ بھگتان بھگتنا پڑے گا کبھی سوچا تک نہیں تھا ۔ گھر کا ماحول کشیدگی اختیار کر گیا تھا ۔
گھر میں اتنا تناؤ اس کے ذہن کو مفلوج کر رہا تھا , وہ خوف زدہ سی ٹرانس کی حالت میں اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی ۔ باہر سے بین کی اور رونے کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔
☆☆☆☆☆☆
منہا نے پلنگ پر چت لیٹے آہستگی سے گردن گھما کر سامنے دیکھا, فرہاد سامنے لکڑی کے صوفے پر چپ چاپ بیٹھا تھا , شیو بڑھی ہوئی غمناک آنکھیں ۔ وہ کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہیں جماۓ بیٹھا تھا ۔
فرہاد کو اتنا دکھی اور چپ اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ فرہاد کی خود پر سے توجہ ایک دم سے ختم ہو جانا , اس کا یوں اندوہ گیں ہو جانا , آۓ دن گھر میں منیر میاں کی طلاق , بچوں کو لے کر جھگڑے کی فضا , اریب پھپھو کا بلکنا بین کرنا , فرزانہ آپا کا اترا چہرا اور بی جی کی اداسی سب ۔۔۔۔سب۔۔۔ کی قصور وار وہ تھی ۔
اور اب تو منیر پھپھا کے ان بچوں کے ماں سے جدا ہو جانے کا گناہ بھی اسی کے سر ہی تھا ۔ وہ اتنے دن سے عجیب بے کلی کا شکار تھی ۔
فرہاد اپنے غم میں مبتلا تھا اس کو دلاسا دینا چاہتی تھی لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔ اس کے پاس جاتی تو یوں لگتا کل جب اسے بہادر سے سب پتا چلے گا تو اس کا کیا حال ہو گا ۔ احساس جرم جو کم ہوا تھا وہ پھر سے سر اٹھانے لگا ۔
” ہاں ۔۔۔۔ اللہ نے دکھا دیا , میرے جیسے گناہ گار کبھی بھی سکون سے زندگی گزارنے کا حق نہیں رکھتے ہیں اور میں نے یہ سوچ بھی کیسے لیا تھا کہ میرا گناہ معافی کے قابل ہے , میں نے یہ سوچ بھی کیسے لیا تھا کہ اللہ نے بچے کی خوشی اس لیے دی ہے کہ مجھے ایک موقع مل جاۓ ۔۔۔۔میں کیسے بھول گئی کہ میں ایک قاتل ہوں “
ڈوبتے دل اور بھری آنکھوں سے اسے اچانک یاد آیا کہ وہ زہر اس نے ابھی پھینکا ہی کہاں تھا ۔ وہ تو ابھی تک باورچی خانے میں چھپا کر رکھا ہوا تھا اس نے , اکثر سوچتی رہی , پھینک دے گی پر کوئی موقع نہیں ملا تھا ۔
جلدی سے گالوں پر آۓ آنسو ہاتھ کی پشت کے ساتھ بے دردی سے رگڑ ڈالے ۔ چور نگاہ فرہاد پر ڈالی وہ اسی طرح ساکن بیٹھا تھا۔ جوش میں پلنگ پر سے اٹھی اور کچن کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔
” مجھے جینے کا کوئی حق نہیں , کسی معصوم کی خوشیوں کی قاتل ہوں میں , کتنے ہی دلوں کے دکھنے کی وجہ ہوں میں , ایک طرف بہادر کو دھوکا دے رہی ہوں تو دوسری طرف اپنے فرشتہ صفت شوہر کو ۔۔۔۔ “
ذہن مفلوج تھا اور ضمیر کمر پر ہاتھ دھرے اسے باتیں سنا رہا تھا ۔
” اپنی بہن سے بڑھ کر پیار کرنے والی دوست کو اپنی چچازاد کو موت کے گھاٹ اتار دینے والی , نامحرم سے محبت کے دعوی کرنے والی , یہ کیسے بھول گئی سب میں ۔۔۔ , اتنی خود غرض اپنی خوشیوں میں یہ کیسے بھول گئی کہ یہ سب کسی کی خوشیوں کو تباہ کرنے کے بعد ملا ہے ۔ ۔۔۔”
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی اب کچن میں موجود تھی , خود کو سزا دینے کا ایسا جوش چڑھا کہ یہ بھول ہی گئی کہ اس کی کوک میں ایک ننھی سی جان ابھی ایک لوتھڑے کی صورت موجود ہے , جسے اس دنیا میں آنے کے لیے اس کے وجود کی اشد ضرورت ہے , جو یہ کھاۓ گی اس کا سارا اثر اس بے جان لوتھڑے پر اثر انداز ہو گا , اور وہ جس میں ابھی اللہ پاک نے روح پھونکنی تھی کہاں اتنی سکت رکھتا تھا کہ زہر کی تاب لا سکتا ۔
اس کا رونا اب سسکیوں سے ہچکیوں میں بدل گیا تھا ۔ باوچی خانے میں کھڑی وہ بلکتے ہوۓ دودھ کے گلاس میں زہر گھول رہی تھی اور پھر ایک ہی سانس میں گلاس کو منہ سے لگاۓ وہ پورا گلاس ختم کر چکی تھی ۔ زہر آلودہ دودھ لبوں کے کناروں سے نیچے گر رہا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 37

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: