Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 38

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 38

–**–**–

منہا نے پیشانی پر بے پناہ شکن ابھارے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی , زرد چہرے پر آنکھیں کھولنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ تکلیف کے آثار صاف واضح تھے ۔
جیسے ہی حواس بحال ہو رہے تھے , اردگرد سے باتوں کی آوازیں کانوں میں پڑنے لگی تھیں , اس نے دھیرے سے بھاری سوزش زدہ پپوٹے اٹھاۓ آنکھیں کھولیں تو وہ ہسپتال کے ایک نجی کمرے میں بیڈ پر تہی دامن لیٹی تھی ۔
کلائی پر سوئی جلد کے اندر پیوست تھی اور ناف سے لے کر ٹانگوں تک اور پشت میں تکلیف کی ٹیسیں ابھر ابھر کر معدوم ہو رہی تھیں ۔ شکم میں عجیب سی ہوک اٹھی اور ذہن کی دیوراں پر بے ہوش ہونے سے پہلے کا منظر واضح ہونے لگا ۔
وہ رات کو زہر آلود دودھ پی کر سو گئی تھی , اور پھر صبح بارہ کے قریب ہی پیٹ میں تکلیف کے ایسے مرغولے اٹھنے لگے تھے کہ وہ اونچا اونچا چیخنے پر مجبور ہو گئی اور اب یاد آ رہا تھا کہ گاڑی میں شہر کی طرف سفر کے دوران ہی وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی ۔
کچھ قدم کی دوری پر بلقیس کے سامنے ایک لیڈی ڈاکٹر کھڑی اس سے باتوں میں محو تھی , منہا نے گردن گھما کر آبرو اچکاۓ ان دونوں کی طرف دیکھا تو لیڈی ڈاکٹر کی نظر اس پر پڑتے ہی وہ فورا منہا کی طرف بڑھی ۔
” کیسی ہو بچے ۔۔۔؟ ” قریب آ کر محبت سے منہا کے سر پھر ہاتھ پھیرتے ہوۓ طبیعت دریافت کی
منہا نے جواب دینے کے بجاۓ پہلے نگاہ اٹھا کر ان کے بائیں طرف مضطرب کھڑی بلقیس کی طرف دیکھا ۔
” بیٹا آپ نے کل کچھ کھایا تھا کیا ؟ “
ڈاکٹر کے سوال پر منہا نے چونک کر خوف سے لرزتے دل کے ساتھ ڈاکٹر کی طرف دیکھا جو بہت ملائم لہجے میں اس سے تفتیش کر رہی تھی ۔
” نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔ کچھ نہیں بس رات کا کھانا کھ۔۔کھایا تھا ۔۔۔ اور تو کچھ ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ” خوف سے لرزتے دل اور خشک ہوتے ہونٹوں کو بھینچتے ہوۓ خفیف سی آواز میں جھوٹ بولا ۔
سامنے کھڑی لیڈی ڈاکٹر کو تو جیسے اس کی بات پر رتی بھر یقین نہیں آیا تھا ۔
” نہیں بیٹے اچھے سے یاد کریں کیا کوئی دوا لی آپ نے ؟ , مطلب سر میں درد یا کچھ اور محسوس ہو رہا ہو تو آپ نے کوئی دوا لی ہو ؟” وہ سوالیہ نگاہیں گاڑے کھڑی تھی
منہا ہونق بنے ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی کل جب زہر پیا تو کہاں پتا تھا جوش میں اٹھایا یہ قدم اس کے بطن کو ہی تہی کر چھوڑے گا ۔
اب کی بار کہاں زبان نے ساتھ دیا تھا آہستگی سے جہاں سر کو نفی میں ہلایا وہاں آنکھوں میں بھی موٹے موٹے آنسو تیر گئے تھے ۔
” ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔ کھانا ہی کھایا تھا اس نے بس , ہم سب مل کر رات کا کھانا کھاتے ہیں جی , اس کے علاوہ تو ایسا کچھ نہیں کھایا اس نے پھر تو سو گئی تھی یہ ” اب کی بار منہا کے بجاۓ جواب بلقیس نے دیا تھا۔
ڈاکٹر نے منہا سے نگاہیں ہٹاۓ بلقیس کی طرف دیکھا ۔
” پتا نہیں کیوں پر کچھ تو گڑ بڑ ہے بچی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے , یہ جان بوجھ کر ہوا ہے , اس نے غلطی سے کھا لیا ہے یا پھر کسی نے کچھ کھلایا ہے , جس کی وجہ سے بچہ نہیں بچ سکا ۔۔۔۔۔” ڈاکٹر بڑے وثوق سے اپنی بات پر ڈٹی تھی ۔
منہا کے چہرے پر سایہ لہرا گیا ۔ بلقیس نے چونک کر سوالیہ نگاہوں سے اسے گھورا تو منہا نے تکیے پر دھرا سر آہستگی سے دائیں بائیں تردید میں ہلا دیا ۔
کچھ باقی نہیں رہا تھا , ایک ہی رات میں زہر اس کی کوک میں پلنے والے ایک ماہ کے ثقل کو زائل کر چکا تھا ۔
ڈاکٹر اب پھر سے اس سے توجہ ہٹا کر بلقیس سے باتوں میں مشغول ہو چکی تھی ۔
دل میں ہوک اور شکم میں ہول اٹھنے لگے , جہاں خود سے نفرت محسوس ہو رہی تھی وہاں جینے کی خواہش مکمل طور پر دم توڑ چکی تھی , دل کر رہا تھا چیخ چیخ کر رو دے مگر یہ وہ راز تھا کہ جو ہمراز تھا اس سے بھی درد نہیں بانٹ سکتی تھی۔
کچھ دور کھڑی لیڈی ڈاکٹر نے اس کی پریشانی میں اضافہ کر دیا تھا وہ بار بار بلقیس کو اس کے حمل زائل ہونے کی وجہ کوئی زہریلی دوا قرار دے رہی تھی ۔
منہا کی سانس اٹکنے لگی , اگر کہیں ڈاکٹر نے تقی سے بات کی اور پھر تقی کو معلوم پڑ گیا کہ میں نے زہر کھایا ہے ۔
” اوہ میرے خدا مجھے اس اذیت بھری زندگی سے نجات دے اللہ ہ۔ہ۔ہ۔ہ” دل جہاں خون کے آنسو رو رہا تھا وہاں زندگی جیسی نعمت سے منہ موڑنے کے لیے دعاگو تھا ۔
☆☆☆☆☆
منہا نے نقاہت سے گردن کا رخ دائیں جانب موڑا , موم بتی کی زرد روشنی میں نہایا کمرہ , کچھ دور لکڑی کی کرسی پر بیٹھی پریشان حال مالا اور صحن سے آتی جھگڑے کی آوازیں خاموشی کو چیرتی ہوئی اس کے دل اور دماغ پر ہتھوڑے برسا گئیں ۔
لگاتار بہت دن سے زہر کھانے کی باعث وہ وضو خانے میں بے ہوش ہو کر گر گئی تھی اور اس کے بعد آج۔۔۔۔
حویلی کے صحن میں تو جیسے ایک بھونچال آ گیا تھا۔ وہ اس وقت بھی بیڈ پر ڈرپ لگاۓ لیٹی ہوئی تھی ۔
تقی غصے میں بھرا اریب پھپھو پر الزام تراشی کر رہا تھا اور وہ اپنی صفائی میں چیخ رہی تھیں ۔ کمرے میں وہ سب کی آوازیں با آسانی سن سکتی تھی ۔ مالا اس کے پاس بیٹھی ہاتھ میں پکڑی پنکھی کے ساتھ اسے ہوا دے رہی تھی ۔ اریب نے چیخ چیخ کر پورا حاکم قصر سر پر اٹھا رکھا تھا ۔
” یہ قدر ہوٸ میری اماں ۔۔۔۔ بول یہ قدر ہے میری کہ آج میرا بھتیجا مجھ پر میرے پوت کے قتل کا الزام لگاۓ کھڑا ہے “
اریب گلا پھاڑے چیخ رہی تھی , وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی پر یہ اس وقت کمرے میں لیٹی بے بس وہ ہی جانتی تھی کہ وہ سچ کہہ رہی ہیں ۔
” پھپھو الزام کی کیا بات کرتی ہیں آپ ، میں یہ ثبوت آپ کے سامنے لیے کھڑا ہوں “
تقی کی آواز کا جوش اس سے محبت کا واضح ثبوت تھا , دل خون کے آنسو رو دیا ایسے محبت کرنے والے بھائی کی پیٹھ پیچھے وہ اس کی عزت کو داؤ پر لگاۓ گھر کے ملازم سے محبت کی دعوی دار بنی بیٹھی تھی ۔
” یہ کاغذ ۔۔۔۔میرے خون سے زیادہ گواہی دے گئے تجھے ، مجھے کیا پتا یہ کونسا جھوٹ کا پلندہ ہے ، منہا میرے سگے بھائی کی اولاد ہے میں کیوں کروں گی منہا کے ساتھ ایسا ؟ ؟ ” اریب نے چیخ کر اپنی صفاٸ دی
ان کا ایک ایک لفظ سچ تھا جب سے اس کے ماں بننے اور پھر بعد میں منیر پھپھا کی دوسری شادی کا پتہ چلا تھا ۔ وہ تو بلکل بدل گئی تھیں اس کی فکر بھی کرتی تھیں اور اب اسے بلا وجہ غصے سے گھورتی بھی نہیں تھیں ۔ تقی ان پر الزام تراشی کر رہا تھا اور وہ کمرے میں لیٹی اس سب پر تڑپ رہی تھی ۔
” پھپھو آپ نے پھپھو بن کر کب گلے لگایا ہمیں جو اب ساس بن کر منہا کو قبول کرتیں ، آپ مان کیوں نہیں لیتیں کہ آپ نے نفرت میں یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے “
تقی تو آج آپے سے باہر تھا
” تقی بس کر بدتمیزی منہ توڑ دوں گا تیرا “
نقیب حاکم کی گرجدار آواز گونجی تو منہا کا دل بھی دہل گیا۔ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جا رہا تھا , مالا بھی مضطرب سی کان کھڑے کیے بس سن رہی تھی ۔
” نقیبے ۔۔۔۔ اور پڑھا ۔۔۔ بنا اس کو ڈاکٹر ۔۔۔۔ دیکھ آج کیسے اپنی ماں سے بھی بڑی پھپھی کے سر اتنا بڑا الزام منڈھ رہا ہے ” چوہدری حاکم کی بوڑھی آواز میں لغزش ضرور آ چکی تھی لیکن رعب اور دبدبا نہیں کم ہوا تھا ۔
” میں اب اس حویلی میں ایک دن نہیں رکوں گی ، منیر اٹھیں ، ہمیں نہیں رہنا یہاں اب اور یہ ۔۔۔۔جورو کا غلام یہ رہے یہیں اپنی بیوی کے ساتھ , چاٹے تلوے اپنی بیوی کے اور اپنے پڑھے لکھے سالے کے میں تجھے کبھی نہیں بخشوں گی یاد رکھنا “
اریب نے غصے میں کہا ۔
” افف میرے خدا سب کتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے اور میں کتنی تکلیف دے رہی ہوں سب کو , فرہاد کتنا چاہتے ہیں مجھے کہ میرے لیے اپنی ماں کے آگے تن کر کھڑے ہو گئے اور میں ۔۔۔ میں کیا کرنے جا رہی تھی “
” نہیں میں اب زہر نہیں کھاؤں گی , میں بہادر کو سمجھاؤں گی اور اسے زہر واپس دے دوں گی کہ بیچ کر پیسے خود رکھ لے اور اب سے مجھے بھول جاۓ , میں نے رمنا کے مرنے کے بعد سے کبھی بھی اس سے محبت نہیں کی تھی ۔۔۔۔ اور وہ جو بھی تھا وہ شائد محبت تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔ ” منہا بے چینی سے لب بھینچے سوچ رہی تھی ۔
” اریب غصہ نا کر , اس کےسر میں ، میں جوتے لگاتا ہوں ، تو کیوں جاۓ گی گھر چھوڑ کر ، اس کا دماغ درست کرتا ہوں میں “
اب نقیب حاکم کی اریب سے منتیں کرنے کی آواز آ رہی تھی ۔
” رہنے دو نقیب ، بہت عزت کما لی ، میں تو اب کبھی نہیں رکوں گی یہاں ، منیر چلیں سامان باندھیں “
اریب کی تکلیف دہ آواز پر منہا کا دل کٹ گیا ۔۔۔۔
” اے اللہ بے شک۔۔۔ میں بہت گناہ گار بندی ہوں , پر رب میرے ایک دفعہ معاف کر دے یہ سب نا بگڑے , اب سے میں زہر نہیں کھاؤں گی ۔” دل بری طرح دعاگو تھا ۔۔۔
” بیغرت چل مانگ معافی ۔۔۔۔ مانگ معافی اپنی پھپھی سے “ نقیب حاکم اب تقی پر چیخ رہے تھے ۔
” جب تک یہ بات ثابت نہیں ہو جاتی کہ منہا کو زہر دینے والی اریب پھپھو نہیں ہیں میں ان سے معافی نہیں مانگوں گا “ تقی کے دو ٹوک لہجے میں کی گئی بات پر منہا نے زور سے آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔۔
” آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ جان سے پیارے بھائی میرے۔۔۔۔۔ اور اگر تجھے یہ پتہ چل جاۓ کہ وہ زہر تیری بہن خود کھا رہی ہے۔۔۔ ” منہا کے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں
” نقیب یہ ایک چماٹ اس ۔۔۔ کمبخت کے منہ پر بھی جڑ دیجیو , یہ بھی گردن تان کر اپنی اماں کے آگے کھڑا ہو گیا ، ارے ناس پٹی اس ڈاکٹری کی پڑھائی کا ستیاس ناش جاۓ ، ہمارے زمانے میں بھی یوں بیمار پڑ جاویں تھی بچیاں پہلی بار میں ، تو کیا سب کی ساسیں ان کو دوا دیے تھیں ” خدیجہ بیگم کی تیکھی آواز پورے صحن میں گونج رہی تھی
” ابھی اسے بیمار ہوۓ مہنیہ بھر تو گزرا ہے ، چوہی سی جان ہے نا کھاتی ہے سہی سے نا پیتی ہے تو جان کیسے بنے گی ، منہ اُٹھا کر لے آیا یہ دو پرچے اور اپنے باوا کی ماں جنی پر لگا دیا الزام ” خدیجہ بیگم کا لہجہ آخر میں روندھا گیا تھا۔
” افف بی جی کو ایک کے بعد دوسرا غم , دوسری تکلیف , کیا میں اپنوں کو صرف دکھ تکلیف دینے اور موت دینے کے لیے اس دنیا میں آئی ہوں ۔ ۔۔۔۔ ؟؟” دکھ سے لب بھینچے وہ خود پر ملال کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔
” بی جی بچہ ہے میں سمجھاتی ہوں ابھی معافی مانگے گا “ بلقیس کی خوفزدہ سی آواز ابھری ۔۔۔
” ہاۓ ۔۔۔ میری بھولی ماں ۔۔۔۔ کاش ۔۔۔ کاش ۔۔۔۔ تجھ سے اپنے دل کی ہر بات کر سکتی ۔۔۔۔ کاش ۔۔۔ کوئی تو ایسا ہوتا جس کو اپنی تکلیف بتا سکوں ۔۔۔ اتنے سالوں سے یہ بوجھ اٹھاۓ اٹھاۓ اب تھک گئی ہوں ماں ۔۔۔” منہا کا دل اور دماغ دونوں پھٹ رہے تھے ۔
” منیر ۔۔۔۔۔ منیر ۔۔۔۔ آ جاٸیں ، اب اپنے کپڑے بھی رکھ لیجیے ٹرنک میں ” اریب کی کڑک دار آواز کہیں اٹاری کے پاس سے ابھری تھی ۔۔۔۔
” پھپھو ۔۔۔۔ رک جائیں ۔۔۔۔ مت جائیں ۔۔۔۔ ” بے آواز آنسو ہچکیاں بننے کو بے تاب تھے مالا اب کرسی سے اٹھ کر کمرے کے دروازے میں کھڑی ہو چکی تھی ۔
” میری بات سن لو سب غور سے کوئی نہیں جاۓ گا حویلی سے ، تقی کی ہمیشہ سے ہی یہ خصلت ہے ، اس کی ڈاکٹری نے دماغ خراب کر رکھا ہے اس کا , اس کی بات میں ایک فیصد بھی صداقت نہیں ہے ، اس کو کہو آ کر پیر پکڑے اپنی پھپھو کے نہیں تو میں یہ حویلی چھوڑ کر چلا جاتا ہوں ، میں جہاں بھی رہوں ڈیرے رہوں یا کہیں بھی پھر پیچھے سے سر پھاڑ لینا ایک دوسرے کا اور دھکے دینا ایک دوسرے کو۔۔۔۔” چوہدری حاکم کی ہلکی لغزش زدہ آوز حاکم قصر کے صحن میں گونج اُٹھی ۔۔۔
گھر کے سب افراد ایک دوسرے پر چیخ کر چپ ہو چکے تھے اور وہ جو اس سب فساد کی جڑ تھی , کمرے میں لیٹی بے بس تھی ۔
کیا کرتی کیا نا کرتی نا اٹھنے کی سکت تھی نا کسی کو بتانے کی , بس زندہ درگور ہونا اس لمحے کا واحد حل لگ رہا تھا ۔ بے بسی کے عالم میں بس آنکھوں سے گرتا گرم نمکین سیال , لیٹے ہونے کی وجہ سے آنکھوں کے کناروں سے بہہ بہہ کر کانوں اور بالوں کو بری طرح تر کر گیا تھا ۔
وہ اب زہر نا لینے کا تہیہ کر چکی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆
نحیف سی حالت میں وہ کمرے میں پلنگ پر لیٹی تھی ۔ زہر کھانا تو اب بیت دن سے بند کر دیا تھا پر ابھی اس کے اثرات ایسے جسم پر اثر انداز ہوۓ تھے کہ وہ ہر وقت سستی اور بے کلی محسوس کرتی تھی ۔
بلقیس اور نقیب حاکم کو وہ اس بات پر یقین دلانے میں کامیاب ہو چکی تھی کہ وہ اب ٹھیک ہے , وہ خود بھی بس اب ٹھیک ہونا چاہتی تھی ۔ ایک تو گھر کی کشیدگی ختم کرنا چاہتی تھی , دوسرا فرہاد سے اتنی محبت ہو چکی تھی کہ اب اس کو کھونے سے ڈر لگنے لگا تھا ۔
باہر کافی دیر سے آوازیں گونج رہی تھیں ۔ جن میں مالا کی آواز واضح تھی وہ بہت دیر سے ان آوازوں کو نظر انداز کیے ہوئے تھی , لیکن اچانک ایسا لگا جیسے باہر صحن میں بہادر کا نام پکارا جا رہا ہو ۔ آہستگی سے پلنگ پر سے اٹھی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی جب باہر آئی تو جیسے دنگ رہ گئی ۔
اب وہ ہونق بنی کھڑی سامنے کے منظر کو دیکھ رہی تھی ۔مالا ہاتھ میں ایک قمیض تھامے سامنے کھڑے بہادر پر چیخ رہی تھی ۔ سب گھر والے جمع تھے ۔ ہر گزرتا پل جیسے اس کی سانس بند کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پوری کھلی گئی تھیں ۔ مالا جو کچھ بول رہی تھی , نا قابل یقین تھا ۔ سچ ہے نا حق قتل کبھی نہیں چھپتا , کبھی نہیں۔۔۔۔ اور آج مالا جو کچھ بھی بہادر سے پوچھ رہی تھی , اس کے رنگ اڑا گیا تھا۔
” آ خر کو یہ سب مالا کیسے جانتی تھی ” ذہن میں امڈتے خیال کے باعث منہا نے خود کے لڑکھڑاتے وجود کو سنبھالنے کی خاطر اٹاری کے ستون کو تھاما ۔
” نہ۔۔۔نہیں ۔۔ مالا بی بی میں نے فرازنہ آپا کی شادی پر نہ ویلیمے پر کسی دن بھی یہ قمیض نہیں پہنی تھی۔ میں نے تو ویلمے کے روز سفید قمیض شلوار پہنی تھی اور یہ تو بعد میں پھٹ گئی تھی۔ ایک دفعہ میں نے یہاں دھلائی کو دی ملی نہیں پھر میں نے لڈن کے ہاتھ پیغام بھی بھیجا تھا ایک دو دفعہ کہ میری قمیض ہے حویلی میں ” بہادر نے حیرت سے بھنویں اچکاٸے وضاحت دی
وہ سب لوگوں کی طرف نگاہیں گھما گھما کر بے چارگی سے دیکھ رہا تھا ۔ منہا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔ مالا نے لب بھینچے اور بازو جھٹک کر قمیض اس کے پھر سے سامنے کی
” جھوٹ ۔۔۔ بلکل جھوٹ یہی پہنی تھی ، تقی کا یہ جوڑا تم نے ہی لیا تھا , بس اتنا بتاٶ پہلے” مالا اب تنک مزاجی سے سوال بدل کر پوچھ رہی تھی ۔
منہا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مالا کی طرف دیکھا ۔
” کیا بہادر نے اسے سب بتا دیا ہے سب ۔۔۔۔افف۔ف۔۔۔میرے خدا یہ کیا ہوا ۔۔۔۔؟” منہا کا دماغ گھوم گیا
” مالا آخر کو یہ سب جانتی کیسے تھی ” ذہن میں بس بار بار ایک ہی سوال سر اٹھا رہا تھا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منہا کا خون خشک ہو رہا تھا ۔ وہ تو ابھی موقع ہی تلاش کرنے میں لگی تھی کہ کب موقع ملے اور کب وہ بہادر کو زہر واپس دے اور اسے سب بھول جانے اور کسی کو نا بتانے کی منت کرے پر یہاں تو سب ملیا میٹ ہوتا نظر آ رہا تھا ۔
” جی بی بی یہ جوڑا تو مجھے یاد ہے ، یہ بہادر نے ہی اُٹھایا تھا ، کُل چار جوڑے تھے جن میں سے نقیب میاں کے دو جوڑے میں نے اور ایک لڈن نے لیا تھا اور چوتھا یہ تقی میاں کا بہادر نے اُٹھا لیا تھا پر ویلیمے کے روز تو رمنا بی بی کے حادثے کے بعد کسی کو کوئی ہوش ہی نا رہا کہ دیکھتے کس نے کونسا جوڑا پہنا ہے ، پر ہوا کیا ہے بیٹی ؟” گامے نے ناک پر عینک درست کرتے ہوۓ بات کی تصدیق کر دی اور ساتھ ہی اس سے تفشتیش کا سبب پوچھا
مالا نے گامے کے سوال کا جواب دینے کے بجاۓ گھور کر بہادر کی طرف دیکھا , منہا بھی چور نگاہیں بہادر پر گاڑے کھڑی تھی پر اس وقت بات یہ سمجھ سے باہر تھی آخر کو مالا یہ سب کیسے جانتی ہے ۔
” ہاں یہ جوڑا میں ہی لے کر گیا تھا ، ۔۔ پر ۔۔۔پر ویلیمے کے روز یہ نہیں پہنا تھا میں نے” بہادر نے بدحواسی میں مالا کی بات سے انکار کیا
وہ نفی میں گردن ہلا رہا تھا , مدد طلب نگاہوں سے ایک نگاہ منہا پر ڈالی جو آنکھیں پھاڑے کھڑی اس سے بھی زیادہ حیرت زدہ تھی ۔
” میں جانتی ہوں سب سچ کیا تھا , تم یہاں سب کو یہ بتاؤ تم نے رمنا آپا کو چھت سے کیوں دھکا دیا تھا ؟ “ مالا نے مٹھیاں بھینچے سوال کیا
منہا کو لگا وہ ابھی یہیں پر ڈھیر ہو جاۓ گی , دل خوف کے باعث پھٹ کر باہر آنے کو تیار تھا ۔
” رمنا آپا کو چھت سے دھکا کیوں دیا تھا ؟؟ “ مالا نے بہادر کے سامنے کھڑے ہو کر چیختے ہوۓ پھر سے وہی سوال دہرایا
بہادر نے چونک کر سر اوپر اٹھا کر مالا کی طرف دیکھا اور منہا نے بہادر کی طرف
” م۔۔مالا بی بی ک۔۔کیا بات ہے ، ہوا کیا ہے ؟ ۔۔۔” بہادر ابھی بے ربط سے الفاظ ہی ادا کر رہا تھا
چوہدری حاکم آگے بڑھے اور مالا کا کندھا جھٹکتے ہوۓ اپنی طرف موڑا
” یہ کیا بے تکی باتیں لے کر بیٹھ گئی ہے۔۔۔ ہوا کیا ہے ؟ اتنے سال بعد رمنا کی موت کا ذکر کہاں سے آ گیا ؟” چوہدری حاکم نے وہ تمام سوال مالا سے کیے تھے جو اس وقت منہا سمیت یہاں کھڑے تمام نفوس کے ذہنوں میں گردش کر رہے تھے ۔
مالا نے چوہدری حاکم کے غصے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ پھر سے بہادر کی طرف دیکھا ۔
” مہ۔۔مالا بی بی یہ آپ کہہ کیا رہی ہیں میں ۔۔۔ میں بھلا کیوں دھکا دوں گا رمنا بی بی کو اور میں تو حویلی کے اندر ” بہادر نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ مالا نے پھر سے بات کاٹی
” شادی کے دنوں میں تمہیں تھی اجازت تم گھوم رہے تھے آرام سے صحن میں , اس لیے جھوٹ بولنا اب بند کردو اور بتاٶ صاف صاف سب کو ۔۔۔۔تم نے میری آپا کو کیوں دھکا دیا اور اب تم کس کو مارنے والے ہو ہم میں سے , جلدی بتاٶ نہیں تو تمھارا خون پی جاٶں گی میں ” مالا متواتر چیخ چیخ کر سوال کر رہی تھی
چوہدری حاکم نے غصے سے نوازش اور نقیب کی طرف دیکھا۔
” بی بی جی۔۔۔۔ مجھ غریب پر اتنا بڑا الزام مت لگائیں خدا قسم۔۔۔۔ میں نے رمنا بی بی کو دھکا نہیں دیا تھا ” بہادر ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
منہا نے تھوک نگلا , پورا جسم لرز گیا , بازو پر رونگٹے ننھے ننھے پہاڑ صورت ابھر گئے ۔
” تم نے ہی دیا ہے اللہ پاک کی جھوٹی قسم مت کھا ذلیل انسان ۔۔۔۔میری بہن کو کیوں مارا ۔ا۔ا۔ا۔ا۔ ؟ اور اب کس کی قبر کھود رہا ہے بتا دے مجھے ” مالا چیختی ہوٸ نوازش اور نقیب کے ہاتھوں سے اپنے بازو چھڑوا رہی تھی
چوہدری حاکم نے مالا کی تشویش ناک حالت دیکھ کر قدم آگے بڑھاۓ
” بہادر تو جا یہاں سے ، منیر بہادر کو لے کر جا باہر ” چوہدری حاکم نے ہاتھ کھڑا کیے رعب سے حکم صادر کیا
” نہیں۔ں۔ں۔ں یہ کہیں نہیں جاۓ گا ۔۔۔۔ یہ بھاگ جاۓ گا۔۔۔۔۔ یہ بھاگ جاۓ گا ۔۔۔۔۔ یہ خواب میں بھی بھاگ گیا تھا ، ابا اس کو مت جانے دو میں سچ کہہ رہی ہوں ” چیخ کر مالا کا گلا بیٹھا ہوا لگ رہا تھا ۔
” مالا ۔۔۔ ۔۔۔ چپ بلکل چپ “ چوہدری حاکم کی گرجدار آواز سے حاکم قصر کے درو دیوار کانپ اُٹھے ۔
مالا ایک دم سے چپ ہوٸ ، چوہدری حاکم نے لڈن ، گامے اور بہادر کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا بہادر پیشانی پر ہاتھ پھیرتا ان کے ساتھ باہر کو بڑھ گیا , منہا نے کانپتے ہاتھوں سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا
” اب بتاٶ یہ کیا معاملا ہے سارا ، غزالہ ادھر آ ۔۔۔۔” چوہدی حاکم نے رعب سے بیٹی کی جگہ ماں کی پیشی لگاٸ
مالا اب روتے ہوۓ سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ، غزالہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوائیاں اُڑے چہرے کے ساتھ ، چوہدری حاکم کے سامنے آ کھڑی ہوٸ اور پھر نگاہیں جھکاۓ , الف سے یے تک ساری داستان گوش گزار کی , منہا کا تو اوپر کا سانس اوپر رہ گیا
” تو اللہ مجھے نہیں بخش رہا ۔۔۔۔ میری پکڑ شروع ہو چکی ہے , اس نے ڈور کھینچ لی ہے ” منہا کو سب سننا بند ہو چکا تھا ۔
دماغ میں سائیں۔۔۔۔ سائیں ۔۔۔۔جھکڑ چلنے لگے تھے ۔ سب سے بے پرواہی برتتی , آہستہ۔۔۔ آہستہ۔۔۔ قدم اٹھاتی , وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆
” ٹک ۔۔۔ٹک۔۔۔۔ٹک۔۔۔” دیوار پر لگی گول گھڑی کی چھوٹی سوئی متواتر آواز پیدا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔ ظالم وقت اس ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ سرکے ہی جا رہا تھا ۔
دنیا کا وقت تو کلاک کی سوئی کے ساتھ سرک رہا تھا مگر گلاب دیوی ہسپتال کے اس کمرے کا یہ لمحہ تو جیسے وقت کے گزر جانے کے باوجود زمین کے کھونٹے سے زنجیریں ڈالے ٹھہر گیا تھا ۔
کمرے میں جلتی موم بتی کی زرد روشنی میں نہاۓ خاموش کمرے میں اس وقت فقط گھڑی کی سوئی کی ٹک۔۔۔ ٹک سنائی دے رہی تھی ۔
مالا اور تقی کی دھڑکن تو فرہاد کو یوں دروازے پر دیکھ کر تھم گئی تھی ۔ اس کا انداز صاف بتا رہا تھا , وہ سب کچھ سن چکا ہے ۔
تقی کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے , ذہن نے ایک سو اسی کی رفتار سے چند لمحے قبل کی ساری باتوں کو ذہن میں دہر لیا ۔
وہ بہادر کا ذکر کر چکے تھے ۔۔۔۔۔پھر زہر کا ذکر چکے تھے۔۔۔۔۔۔ اور منہا کے خود زہر کھانے کا بھی ذکر کر چکے تھے ۔۔۔۔۔
” اف۔ف۔ف۔ف ۔۔۔ خدایا ۔۔۔ اس کا مطلب ہے , فرہاد سب سن چکا ہے ” تقی کے سینے میں جیسے سانس کی رکاوٹ جیسا کچھ اٹکنے لگا ۔
اس نے تو منہا کا یہ راز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فرہاد سے چھپاۓ رکھنے کا سوچا تھا , چاہے منہا زندہ رہتی یا نا رہتی , ہر صورت وہ اپنی بہن کے اس راز کو خفیہ رکھنا چاہتا تھا اور مالا بھی اس میں اس کا ساتھ دینے کو راضی تھی مگر فرہاد یوں سب سن لے گا یہ تو سوچا تک نا تھا ۔
تین منٹ اسی حالت میں گزر چکے تھے ۔ وہ دونوں یونہی دم سادھے صوفے پر بیٹھے تھے اور فرہاد دروازے کے وسط میں ٹٹکی باندھے کھڑا , ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ تینوں نفوس ایسے تھے مانو زندہ لاشیں ہوں ۔ مالا نے نگاہیں جھکا لیں تھیں تو تقی نے فرہاد سے نگاہیں چرا لی تھیں ۔ فرہاد بمشکل قدم اٹھاتا ان تک پہنچا ۔
ایک لمحے کے توقف کے بعد کمرے میں گھڑی کی ٹک۔۔۔ ٹک ۔۔۔ کے ساتھ فرہاد کی آواز گونجی
” تم ۔۔۔ ۔۔۔ تم دونوں ۔۔۔۔ کیسے جانتے ہو یہ سب ۔۔۔ ؟ تم دونوں کو کیسے پتا چلا کہ منہا نے وہ زہر میرے لیے نہیں اپنے لیے لیا تھا ” متحیر لہجے میں سوال پوچھا ۔
فرہاد کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ وہ اب ان دونوں کے سر پر کھڑا سوال کر رہا تھا ۔ مالا اور تقی کو اس سے اس سوال کی ہر گز توقع نہیں تھی ۔ اسی لیے چونک کر , ایک ساتھ بھنویں سکیڑے فرہاد کی طرف دیکھا جو خود ان کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
” مہ۔۔۔مطلب ۔۔ کیا تمھاری بات کا۔۔۔۔۔۔ ؟ , تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ ” تقی نے لڑکھڑاتی زبان میں بمشکل حیرت ظاہر کی
فرہاد جو ششدر کھڑا تھا اب پیشانی پر ہاتھ دھر چکا تھا۔ پھر تاہنوز تحیر میں ڈوبے لہجے چند لمحے پہلے والا سوال دہرایا ۔
” مطلب یہ کہ تم دونوں کیسے جانتے ہو کہ منہا زہر کھا رہی تھی اور ۔۔۔ بہادر سے اس کا کوئی تعلق تھا ؟ ” فرہاد نے گھٹے اور حیرت زدہ لہجے میں دریافت کیا ۔
مالا اور تقی کے سر پر تو جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹ گیا ۔ وہ دونوں جو اب تک فکر سے گھل رہے تھے کہ فرہاد نے سب سن لیا ہے اور اب نا جانے کیسا ردعمل ظاہر کرے گا , اس کے منہ سے یہ بات عجیب ورطہ حیرت میں مبتلا کر گئی ۔
” ت۔۔تم۔۔۔۔ کیسے جانتے ہو سب ۔۔۔ ؟ ” تقی کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھلی تھیں اور لہجہ انتہائی تشویش ناک تھا ۔
فرہاد جھنجلا سا گیا , مالا نا سمجھی اور خوف میں گردن گھما گھما کر کبھی فرہاد کی طرف دیکھ رہی تھی تو کبھی تقی کی طرف ۔ فرہاد نے پیشانی پر بھنویں اکٹھی کی تو انگنت بل پڑے جو اس کے اندر کی کشمکش کے غمازی تھے ۔
” مجھے ۔۔۔تو یہ سب منہا نے خود بتایا تھا ” فرہاد کی سرگوشی نما آواز میں بلا کا کرب تھا
کمرے کے اس ملگجے سے اندھیرے میں بھی سامنے صوفے پر بیٹھے نفوس اس کے چہرے پر رقم دکھ اور درد کو صاف دیکھ سکتے تھے
☆☆☆☆☆
فرہاد نے تھکے سے انداز میں حویلی کے گیٹ کو دھکیلا اور اندر داخل ہوا , مغرب کی اذان گاؤں کی بڑی مسجد سے گونج رہی تھی , وہ آج معمول کے وقت سے پہلے حویلی آ گیا تھا , دل عجیب سی بے چینی کا شکار تھا , اسی لیے وہ شہر سے جلدی نکل آیا تھا ۔
جیسے ہی گیٹ سے فاصلہ طے کرتا صحن میں پہنچا تو حاکم قصر میں معمول سے بھی بڑھ کر خاموشی کو محسوس کرتا ایک لمحے کے لیے صحن کے وسط میں رک گیا ۔
چہرے کو موڑے بائیں طرف دیکھا , تندور پر تاری بوا اکیلی روٹی لگاتی بے حال ہو رہی تھی۔ ابھی تک دسترخوان بھی نہیں بچھایا گیا تھا ۔ فرہاد نے دائیں طرف گردن گھمائی , نیم کے درختوں کی اؤٹ سے نظر آتے وضو خانے کی تین نشستوں پر پشت کیے خواتین بیٹھیں وضو کر رہی تھیں ۔
نماز کے لیے تو اسے بھی جانا ہے یہی سوچ ذہن میں آتے وہ چہرہ سیدھا کرتا اب تیز تیز اٹاری کے زینے چڑھ رہا تھا ۔ پہلے وہ نماز پڑھ کر ہی حویلی آتا تھا لیکن آج جلدی آ گیا تھا ۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا , آہستگی سے پردہ سرکاتا کمرے میں داخل ہوا تو سامنے کے منظر پر ٹھٹھک کر رکا , سامنے پلنگ پر منہا ٹانگیں نیچے لٹکاۓ بیٹھی تھی , پتیل کا بڑا گلاس منہ کو لگا تھا اور اس کے بلکل سامنے اس کے گھٹنے کے پاس پلنگ کی چادر پر اخبار کے انگنت چھوٹے چھوٹے چکور ٹکڑے پڑے تھے ۔
فرہاد نا سمجھی میں پیشانی پر بل ڈالے آگے بڑھا , آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے منہا اس کی طرف نہیں دیکھ پائی تھی ۔ وہ گلاس منہ کو لگاۓ کچھ پینے میں مگن تھی ۔
” منہا ۔۔۔ یہ ۔۔۔ سب کیا ۔۔ہے ؟” پلنگ کے پاس اس کے بلکل سر پر کھڑے ہو کر تشویش زدہ لہجے میں پوچھا ۔
فرہاد کی یوں اچانک آمد اور متحیر سے لہجے میں سوال پوچھنے پر وہ تو اس طرح چونکی کہ ہاتھ کانپ گئے , پیتل کا گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا ۔۔
“ٹن ۔ن۔ن۔ن۔۔۔۔ٹن۔۔۔ٹن۔۔۔ن۔ن۔۔۔۔۔۔” کی آواز کے ساتھ فرش پر لڑھکتا گلاس اب فرہاد کے قدموں میں کچھ دوری پر پڑا تھا ۔
منہا پھٹی آنکھوں اور خوف زدہ چہرے سے فرہاد کو دیکھ رہی تھی , جو حیرت زدہ بھنویں سکیڑے اب جھک کر پلنگ کی چادر پر سے اخبار کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھا رہا تھا ۔
مالا کو سب پتا چل چکا تھا , مطلب اب اتنے سالوں بعد رمنا کے قتل سے پردہ اٹھنے والا تھا ۔ اس بات کے خوف نے اس کے دماغ کو ایسا جکڑا کہ وہ کچھ دن پہلے خود سے کیے گئے جینے کے وعدے کو فراموش کر گئی ۔
اس سے پہلے کہ مالا حقیقت تک پہنچے اسے اپنے آپ کو ختم کر لینا چاہیے , بس اسی سوچ کے ذہن میں آتے ہی وہ باورچی خانے سے زہر اٹھا لائی تھی اور سارا کا سارا بچا ہوا زہر پانی میں گھول کر پی چکی تھی ۔
” منہا ۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔ پیا ہے ؟ ۔۔۔ یہ کیا ہے؟ ” فرہاد کاغذ کے ٹکڑے کو سونگھتے ہوۓ حیرت سے اس سے استفسار کر رہا تھا جو ہونق بنی بیٹھی تھی ۔
فرہاد نے جھک کر گلاس اٹھایا اور گلاس کو سونگھتے ہی ناک بری طرح بھینچ کر چہرہ پیچھے کیا , اور تشویش ناک انداز میں تیزی سے منہا کے قریب ہوا جو بھاری آنکھوں اور خوف سے سیاہ ہوتے چہرے کے ساتھ اسے بس دیکھے ہی جا رہی تھی , بول کچھ نہیں رہی تھی ۔
فرہاد نے پاس بیٹھ کر اسے دونوں کندھوں سے تھام لیا
” منہا ۔۔۔۔ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔ کیا ہے یہ ۔۔۔؟ کیا پیا ہے تم نے ۔۔۔؟ اور ایسے کیوں بیٹھی ہو اب؟ ” فرہاد کی آواز اب حد درجہ اونچی تھی ۔
پوچھنے کے ساتھ ساتھ وہ منہا کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑ رہا تھا اور وہ کسی بے جان پتلی کی مانند ہل رہی تھی ۔ اس کی اس ہولناک خاموشی کے باعث فرہاد کے چہرے پر خوف اپنے سایے پھیلانے لگا ۔
” کچھ بول کیوں نہیں رہی ۔۔۔۔ ” وہ چیخ پڑا تھا , ذہن جھنجلا گیا تھا ۔
” منہا ۔۔۔ خدا کا واسطہ کچھ تو بولو ۔۔۔ کیوں پریشان کر رہی ہو مجھے ۔۔۔ ” فرہاد کے لہجے میں اب کی بار حیرت کے ساتھ ساتھ فکرمندی اور خوف بھی تھی ۔
منہا کے لب دھیرے سے کپکپاۓ اور پھر اس نے جھکی پلکیں اٹھائیں ۔۔۔۔۔۔
سرخ ۔۔۔۔ آنکھیں اتنے سالوں سے اکیلے روتے روتے ۔۔۔ سہتے سہتے ۔۔۔ تھکی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ دل و دماغ سب تھک چکے تھے ۔ سامنے بیٹھے اس شخص سے اسے بے پناہ محبت ہو چکی تھی , سچی محبت ۔۔۔۔ پاک محبت ۔۔۔۔
تڑپ کر آگے ہوئی اور فرہاد کے سینے سے میں چھپ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور پھر وہ اس سے کچھ نا چھپا سکی تھی۔
زندگی کے ان آخری لمحوں میں وہ ٹوٹتی , بکھرتی ۔۔۔ زخموں سے چور , ہچکیوں میں فرہاد کو سب بتاتی چلی گئی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: