Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 39

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 39

–**–**–

وہ حیرت اور دکھ سے پھیلی آنکھوں کے ساتھ منہا کو تاک رہا تھا جو ہچکیوں میں بھل بھل روتی اس پر حیرت انگیز حقیقت کا انکشاف کر رہی تھی ۔
کبھی اس کی قمیض کے کالر کو تھامتی تو کبھی گریبان کو ہاتھ میں لیتی وہ بہادر سے لگائی گئ ضد سے لے کر رمنا کو دھکا دینے تک لفظ لفظ اسے بتا رہی تھی ۔
ایسے بتا رہی تھی جیسے کوئی صدیوں کا ترسا انسان ہو اور اس کو جا کر اب زباں ملی ہو ۔ فرہاد دم سادھے اسے سن رہا تھا ۔
بھنویں اپنی جگہ سے اٹھ کر پھیلی ہوئی تھیں آنکھوں کی پتلیوں میں حیرت کا سمندر موجزن تھا ۔
وہ حقیقت اتنی ناقابل یقین تھی کہ وہ فقط اس وقت ان کو سن ہی سکتا تھا ۔ جسم میں اتنی سکت کہاں تھی کہ منہا کے ان آخری لمحوں میں کئے گئے اعتراف پر اس کو کچھ حوصلہ دیتا ۔
وہ بلک رہی تھی ۔۔۔
” م۔۔مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔ میں سب کے ساتھ کبھی تمہیں بھی کوئی خوشی کا لمحہ نہیں دے سکی , میں صرف غم دے سکتی ہوں کسی کو خوشی نہیں ۔۔۔۔۔ ” دلگیر اور آنسوؤں سے روندھا لہجہ تھا ۔
وہ اپنی گالوں پر بہتے آنسو تک صاف کرنے کی سکت میں نہیں تھی ۔ فرہاد کو سارا کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔
اس کے سامنے بیٹھی یہ لڑکی جسے اس نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے دل کے جذبات سونپ دیے تھے ۔
آج اس کے دل کا خون کر رہی تھی جس کے لیے اسے کسی خنجر کسی بھالے کی ضرورت نہیں تھی اس کے الفاظ اور ان سے آشکار ہوتی حقیقت ہی بہت تھی ۔
” مہ۔۔۔میں تم سے ۔۔۔مو۔۔محبت کرتی ہوں۔۔۔ فرہاد ۔۔۔۔ بہ۔۔بہت محبت ” منہا کی نحیف , کانپتی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی ۔
وہ سامنے پنکھے کی ہوا سے ہلتے پردے کو دیکھ رہا تھا , دماغ میں جیسے کوئی سوئیاں چبھو رہا تھا کوئی ۔
” میں ۔۔۔۔ بہت محبت کرتی ہوں تم سے ۔۔۔۔ بہت محبت کرتی تھی ہمارے بچے سے ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔۔” وہ ہچکیوں میں اس سے معافیاں مانگ رہی تھی , اپنی غلطیوں اور گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی ۔
وہ سفید پڑتے کھچے پٹھوں والے سخت چہرے کے ساتھ مجسم بنا بیٹھا , ہوش و خرد سے بے بہرہ تھا اور پھر اچانک ہی منہا کی اس کے کالر پر سے ہاتھ کی گرفت ختم ہوئی اور وہ مجسم بنے فرہاد کی باہوں میں جھولتی پلنگ پر ایک طرف گر پڑی ۔
وہ سکتے کے عالم سے باہر نکل کر جیسے ہی اس کی طرف متوجہ ہوا تو اسے ہوش میں نا دیکھ کر گڑبڑا گیا ۔
کانپتے ہاتھوں اور پھٹتے دل کے ساتھ اسے باہوں میں بھر کر باہر کی طرف بھاگا ۔
بات ہی ایسی تھی ابھی تک ذہن خود اس کو قبول نہیں کر رہا تھا تو کوئی اور کیا کرتا ۔
اس کو یوں کمرے سے باہر آتا دیکھ کر سب گھر والے جو دسترخوان پر بیٹھے تھے , اس کی طرف بھاگے تھے ۔ گھر میں اچانک افراتفری جیسا سماں پیدا ہو گیا تھا ۔
وہ اٹاری کے زینے اترتا جب صحن میں داخل ہوا اسی لمحے سامنے بیرونی گیٹ سے تقی بھی گھر میں داخل ہو چکا تھا ۔
فرہاد نے منہا کو صحن میں پڑی چارپائی پر لیٹا دیا ۔ تقی اب منہا پر جھکا ہوا تھا ۔
☆☆☆☆☆
گلاب دیوی ہسپتال کی عمارت رات کے تین بجے بھی گھپ اندھیرے میں ڈوبی تھی
ہسپتال کے اس کمرے میں , جہاں ایک زندگی موت سے لڑنے میں مصروف تھی وہاں گھڑی کی ٹک ۔۔۔ ٹک ۔۔۔ اور میز پر جلتی موم بتی اب آدھی سے بھی کم رہ گئی تھی ۔
ہلکے گلابی رنگ کی موم بتی کا موم نارنجی رنگ کے بھڑکتے شعلے کے باعث کناروں سے پگھل پگھل کر آنسو کے قطرے کی طرح نیچے رکھی چینی پلیٹ پر گر گر کر سوکھ رہا تھا ۔ دیوار سے لگے صوفے پر مالا اور تقی دم سادھے , بھنویں اوپر اٹھاے , آنکھیں پھیلاۓ بیٹھے تھے اور ان کے سامنے چھوٹے سے سٹول پر فرہاد بیٹھا تھا ۔
دونوں بازوؤں کی کہنیوں کو گھٹنوں پر دھرے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ کر ٹھوڑی کے نیچے رکھے ۔ وہ مدھم سی آواز میں اس دن کا سارا قصہ ان کے گوش گزار کر رہا تھا ۔
فرہاد کی بھاری آواز خاموش کمرے میں بھنبھناہٹ کی صورت ایک تسلسل لیے گونج رہی تھی ۔ سامنے صوفے پر بیٹھے مالا اور تقی دم سادھے اسے سننے میں محو تھے ۔
منہا اتنی تکلیف میں رہی گیارہ برس , ان کو اس بات کی بھنک تک نہیں پڑی , کتنے غافل تھے سب کے سب , اس کی خاموشی کو اس کی عادت سمجھ کر چپ ہو گئے تھے ۔ کبھی یہ جاننے کی کھوج کرنے کی کوشش ہی نہیں کی وہ اکیلے کمرے میں گھسی کیا سوچتی رہتی تھی ۔ وہ اپنے ہی ضمیر سے جنگ کرتی رہتی تھی اور آج وہ فرہاد کو اپنی ساری تکلیفیں سارے پچھتاوے بتا کر خود زندگی اور موت کی کشمکش میں بیڈ پر پرسکون سے لیٹی تھی ۔
جو تکلفیں اور اذیتیں وہ کومے میں جانے سے پہلے اس کی رگ و پے میں اتار گئی تھی ۔ فرہاد نے یہ چھ دن پل پل اس کی ہر تکلیف کو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس کیا تھا
اس نے منہا کو جان بوجھ کر دھکا نہیں دیا تھا , جو بھی تھا مگر اس کے پاس یہ غم بانٹنے کو گیارہ سال تک کوئی نہیں تھا ۔ وہ کس کو بتاتی , کس سے پوچھتی , کس سے مشورہ لیتی کہ کیا کرے ۔
اس لیے پل پل خود اکیلی اس انجانے میں ہو جانے والے گناہ کی آگ میں جلتی رہی اور رفتہ رفتہ یونہی گھلتے ہوۓ ۔ اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل چکی تھی ۔
فرہاد ساری بپتا سنا کر خاموش ہوا اور گہری سانس لے کر دونوں ہاتھیلیوں کو کھول کر ان میں چہرہ چھپا لیا ۔
کچھ دیر تین نفوس کی موجودگی کے باوجود کمرے میں ہو کا عالم قائم رہا , پھر تقی کی آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا تو فرہاد نے بھی جھکا چہرہ اوپر اٹھایا ۔
تقی اب خفیف اور نادم لہجے میں بہادر کی بتائی ساری باتیں بتا رہا تھا اور پھر مالا کے خواب , رمنا کے اشارے
تینوں کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں ۔ گیارہ سال پہلے ان کو چھوڑ جانی والی کے غم سے زیادہ اس کے دکھ , درد اور تکلیف سے دل پھٹ رہا تھا جو اس وقت دنیا سے غافل آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔
سب بتانے کے بعد ایک بار سے پھر چند لمحے خاموشی نے نگل لیے ۔
تقی نے آہستگی سے گود میں دھرے اپنے ہاتھ اٹھاے اور فرہاد کے سامنے جوڑ دیے ۔ اس کے ہاتھوں میں ہلکی سی لغزش نمایاں تھی جو ہر غیرت مند بھائی کے ہاتھ میں بہن کی غلطی کے باعث ہونی چاہیے ۔
” فرہاد میری بہن کو معاف کردو ۔۔۔۔ ” گھٹی سی آواز بمشکل حلق سے برآمد ہوئی
” تقی ۔۔۔ بھائی ۔۔۔ ” فرہاد نے آنسوؤں سے تر چہرہ چونک کر اٹھایا
تقی کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا اور سر کو آہستگی سے نفی میں ہلایا , تقی تو اس کی سن ہی نہیں رہا تھا۔ بس بھاری غم سے چور آواز میں بولے ہی جا رہا تھا ۔
” فرہاد اس سے جب یہ گناہ سرزد ہوا تھا , وہ نادان تھی ۔۔۔ وہ خود کو بہت سزا دے چکی ہے اور ۔۔۔۔ اب شائد ۔۔۔” تقی روندھے لہجے میں بات بھی مکمل نہیں کر پایا۔
مالا لب بھینچے آنسو بہاتی تقی کے حالت دیکھ کر بے حال تھی ۔
” تقی بھائی ۔۔آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں, کم از کم آپ دونوں کو میری منہا کے لیے محبت پر شک نہیں کرنا چاہیے ” بھیگا سا لہجہ تکلیف سے چور تھا
فرہاد نے ہاتھ کی پشت سے آنکھ کے نیچے لڑھکتا آنسو بے دردی سے پونچھ دیا اور سامنے بیٹھے مالا اور تقی کو پر عزم نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ تھوک نگلا ۔
” منہا کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ اور ہم چاروں اس بات کو یہیں دفن کر دیں گے , حویلی کے بڑوں کے لیے جیسے گیارہ سال تک رمنا کی موت ایک حادثہ تھی وہ حادثہ ہی رہے گی , بہادر کو اس کی بیوی کے ساتھ یہاں سے بہت دور بھیج دیں گے ” پر عزم لہجے میں وہ اپنا فیصلہ سنا کر تقی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
تقی نے حیرت سے آنکھیں پھیلاۓ , اس بڑے دل کے مالک کو دیکھا اور جوش سے اٹھ کر اسے گلے لگایا اور خود سے بھینچ لیا ۔
فرہاد نے تقی کے گلے لگی سوالیہ نگاہوں سے مالا کی طرف دیکھا تو اس نے بھی گالوں پر بہتے آنسو صاف کیے اور اثبات میں سر ہلا دیا ۔
تینوں کے دل دھڑکنے کے ساتھ ساتھ منہا کی زندگی کے لیے خدا سے دعاگو تھے ۔
☆☆☆☆☆☆
عجیب سا سماں تھا , نا سحر تھی , نا شام اور نا ہی رات , نا سورج نکلا تھا اور نا ہی چاند , ملگجا سا اندھیرا دور تلک چھایا تھا جو آنکھوں پر بھاری پن پیدا کرے ایسا بھاری پن جس میں آنکھیں پوری کھولنے کی کوشش بھی کرو تو نا کھل سکیں۔
یہ گھنا جنگل تھا جہاں اونچے آسمان سے باتیں کرتے موٹے تنے کے درخت آپس میں سر جڑے کھڑے تھے ۔ ان سب کی شاخیں زمین پر پھیل کر ایک دوسری کے اوپر نیچے چڑھی ہوئی تھیں , کچھ زمین میں پیوست تھیں اور کچھ اوپر کو ابھری ہوئی تھیں , حد نگاہ انتہائی کم تھی اور گھٹن زدہ حبس ایسا کہ سانس لینے میں انہتا کی دشواری تھی ۔
منہا ان میں سے ہی ایک گھنے درخت کے نیچے بڑے سے پتھر پر اپنے گھٹنوں میں چہرہ چھپاۓ بیٹھی تھی ۔ پتھر سیاہ کائی میں لپٹا ہوا تھا ۔ وہ ننگے پاؤں اور پھٹے پرانے کپڑوں میں نا جانے کتنے گھنٹوں سے اس جنگل میں بھٹک رہی تھی ۔ اور اب تھک کر اس اونچے سے پتھر پر بیٹھ گئی تھی ۔
وہ کہاں تھی کچھ سمجھ نہیں تھی , وہ یہاں کیوں اور کب سے تھی کچھ پتا نہیں تھا ۔ بس ہر سو ویرانی تھی , سناٹا تھا ۔
نا کوئی جانور تھا نا کوئی ذی روح , فقط درخت , کیچڑ اور ملگجا اندھیرا ہر سو پھیلا تھا ۔ گیلی مٹی جگہ جگہ کیچڑ اور چھوٹی چھوٹی کھائیاں بناۓ ہوۓ تھی ۔
وہ گھٹنوں میں یونہی چہرہ دیے سسک رہی تھی ۔ جب اچانک آنے والی بازگشت سے دہل کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔
” بچاؤ۔۔۔۔ بچاؤ ۔۔۔۔۔۔ ” نسوانی آواز میں چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی , کوئی عورت تھی جو مدد طلب کر رہی تھی ۔
منہا ایک جھٹکے سے اپنی جگہ پر سے اٹھی , اور متواتر گونجتی آواز کی بازگشت کی طرف دوڑ لگا دی ۔ اتنے گھنٹوں کے بعد کسی انسان کی یہاں موجودگی اسے فرحت بخش لگ رہی تھی ۔
” شکر ہے میرے علاوہ بھی یہاں موجود ہے کوئی ۔۔۔” دل میں اللہ کا شکر ادا کرتی وہ آواز کے پیچھے بھاگتی جا رہی تھی ۔
ہر طرف جھاڑیاں , پتے , اور ٹہنیاں تھیں ۔ جگہ جگہ کیچڑ تھا اور وہ ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی ۔ وہ درخت , پتوں اور جھاڑیوں سے ٹکراتی پاگلوں کی طرح آواز کے پیچھے بھاگ رہی تھی ۔
” بچاؤ۔۔۔و۔و۔وو۔۔۔۔۔۔۔ بچاؤ۔و۔و۔و۔ ۔۔۔۔۔مجھے ” کوئی مسلسل نسوانی آواز میں مدد کے لیے پکار رہا تھا ۔
منہا اس ملگجے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے ادگرد دیکھ رہی تھی ۔ آنکھیں اتنی بھاری ہو رہی تھیں کہ بمشکل ہی کھل رہی تھیں ۔
اچانک اس کی نگاہ چند قدم کی دوری پر موجود ایک تالاب پر پڑی جس کے پانی میں سیاہ کائی تیر رہی تھی اور ڈوبتے وجود کا ہاتھ اوپر کو اٹھا تھا ۔ وہ جو کوئی بھی تھی اس تالاب میں ڈوبنے سے بچنے کے لیے اب منہا کو ہاتھ ہلا رہی تھی ۔
منہا بھاگتی ہوئی آگے بڑھی تالاب میں جگہ جگہ بڑے بڑے پتھر پڑے تھے اور ڈوبنے والی لڑکی تالاب کے وسط میں ڈوبکیاں لگا رہی تھی ۔ منہا پتھروں پر پیر دھرتی اس تک پہنچی اور اس کا اوپر کو مدد کے لیے اٹھا ہاتھ تھام لیا ۔
منہا کا ہاتھ تھامنے کی دیر تھی کہ وہ لڑکی خود بخود باہر آنے لگی اس کے سیاہ رنگ کے کپڑے پانی سے نچڑ رہے تھے , بال گیلے تھے اور ان سے چہرہ ڈھکا ہوا تھا ۔ وہ باہر نکل کر اب ایک پتھر پر منہا کے بلکل سامنے کھڑی ہو چکی تھی ۔
منہا خوف سے لرزتے دل کے ساتھ اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تاک رہی تھی ۔ لڑکی نے آہستگی سے ہاتھ اٹھایا اور اپنے گیلے بالوں کو چہرے پر سے ہٹایا , منہا اس کا چہرہ دیکھ کر کانپ گئی ۔۔۔
رمنا سفید لٹھے کی مانند چہرہ لیے کھڑی تھی آنکھوں کے گرد گہرے بھورے حلقے تھے اور ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔
وہ رمنا کو یوں خود کے سامنے دیکھ کر ساکن رہ گئی ۔۔۔۔ آنکھیں ششدر تھیں تو سانس لینے میں اور دشواری ہوئی خوف سے زبان تالوے سے جا لگی ۔
وہ کانپ اٹھی ہاتھ پاؤں جسم سب لرزنے لگا ۔ ۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
ڈوبتے سورج کی نارنجی اور زرد ملاپ والی روشنی گلاب دیوی ہسپتال کی وسیع عمارت کو چاروں طرف سے اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی ۔
یہ بوجھل سی سرمئی حبس زدہ شام اسی ہسپتال کے ایک کمرے میں موجود نفس کے دل پر بھی بھاری بوجھ کا موجب بن رہی تھی ۔
ہولناک خاموشی میں ڈوبے اس کمرے کی واحد کھڑکی کے آگے لگا سفید پردہ بھی سورج ڈوبنے کی وجہ سے نارنجی رنگ کا ہو رہا تھا ۔ ڈوبتے سورج کی زرد اور سرخ شعاعیں کھڑکی کے پردے سے سر پٹخ کر کمرے میں داخل ہونے کی ناکام کوشش میں تھیں , جس کے باعث کمرے میں اب ملگجی سی روشنی تھی ۔
مالا دیوار سے لگے لکڑی کے پلنگ پر سو رہی تھی ۔ ساری رات بجلی بند ہونے کی وجہ سے اور ان تینوں کی باتوں کی وجہ سے اس کی نیند نہیں پوری ہوئی تھی ۔ اس لیے اپنی ہی سیاہ چادر کو پاؤں سے لے کر سر تک تانے وہ بے خبر سو رہی تھی ۔
فرہاد سامنے بیڈ پر نیم مردہ لیٹی منہا کے سراہنے سٹول رکھے بیٹھا تھا ۔ نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں اور چہرہ دکھ اور اداسی میں ڈوبا تھا ۔
دل چاہ رہا تھا اسے جھنجوڑ کر اٹھا دے جو یوں ساتویں دن بھی لاغر اور بے سدھ پڑی اس کے دل کو چھلنی کر رہی تھی ۔ آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے لاغر سے پیلاہٹ زدہ ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔
اس کا ہاتھ بے جان محسوس ہو رہا تھا۔ فرہاد کے گہرے سانولے ہاتھوں میں منہا کا ہاتھ اور زردی مائل رلگ رہا تھا ۔ منہا کے ہاتھ کی نیلی رگیں تک واضح ہو رہی تھیں ۔
” منہا ۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جانا ۔۔۔۔ ” دل سے ایک ٹیس کے سنگ صدا اٹھی اور سامنے بند آنکھوں والے چہرے سے ٹکرا کر واپس پلٹ آئی
” میں نے تمہیں بہت دعائیں مانگ کر , اماں اور ابا سے لڑ جھگڑ کر پایا ہے ۔ تم یوں مجھے سفر کے آغاز میں ہی چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہو؟ ۔ ابھی تو تمہیں مجھ سے محبت ہوئی ہے اور ابھی تو مجھے اس محبت کے سایے تلے جینا ہے , تمہیں ابھی نہیں جانا ہے ۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔؟؟؟ ” فرہاد نے اس کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اپنی آنکھوں سے لگاۓ خاموش صدا دی ۔
” تمہیں نہیں جانا ابھی ۔۔۔۔ بس اب اٹھ جاؤ ۔۔۔۔ ہمیں بہت سی باتیں کرنی ہیں ۔۔۔ ہمیں پیار کرنا ہے ۔۔۔۔ ہمیں ایک ساتھ جینا ہے ” وہ بے آواز آنسو بہا رہا تھا ۔
اس کے گرم آنسو منہا کے ہاتھ بھگو رہے تھے ۔۔۔
سورج غروب ہو چکا تھا , کمرے کا اندھیرا اب مزید گہرا ہو گیا تھا ۔
وہ یونہی اس کے ہاتھ کو عقیدت اور محبت سے اپنی نم آنکھوں کے پپٹوں سے لگاۓ بیٹھا تھا جب اچانک اس کے ہاتھ میں ہلکی سی کپکپاہٹ محسوس ہوئی ۔
فرہاد نے چونک کر اس کے ہاتھ کو آنکھوں سے الگ کیا , ملگجی روشنی میں وہ پوری آنکھیں کھولے اسے حیرت اور زور سے دھڑکتے دل کے ساتھ دیکھ رہا تھا ۔
منہا کا ہاتھ ہی نہیں پورا جسم کانپ رہا تھا اور پیشانی پر بھنوں کے پاس شکن ابھر کر معدوم ہو رہے تھے ۔
” منہا۔ا۔ا۔ا۔ا۔۔۔۔۔ ” فرہاد کی سرگوشی نما آواز ابھری تھی ۔
وہ تقریبا بھاگتا ہوا کمرے کے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھا اور تیزی سے کمرے میں لگے بلب کے بٹن کو نیچے گرا دیا ۔
ٹک۔۔۔۔ کی آواز سے کمرہ زرد روشنی میں نہا گیا ہر چیز واضح نظر آنے لگی , منہا کا پورا جسم لغزش میں تھا ۔
” مالا ۔۔۔۔۔۔ مالا ۔۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ ۔۔ اٹھو ۔۔۔ دیکھو لگتا ہے منہا کو ہوش آ رہا ہے ” فرہاد نے گردن موڑ کر چیختے ہوۓ مالا کو پکارا ۔خود تیزی سے بوکھلاہٹ میں بیڈ کی طرف بڑھ گیا ۔
مالا اس کے یوں چیخ کر پکارنے پر ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں اور پھر جیسے ہی ایک سکینڈ کے ہزارویں حصے میں حواس بحال ہوۓ , جھٹکا کھا کر پلنگ پر سے اٹھی ۔
وہ ننگے پاؤں منہا کے بیڈ کی طرف بھاگی جہاں فرہاد پہلے ہی خوشی اور حیرت کے ملے جلے اثرات لیے کھڑا تھا ۔
منہا کا کانپنا اب اور تیزی اختیار کرتا جا رہا تھا ۔ اس کا جسم اب ہلکے سے جھٹکے کھانے لگا تھا۔ فرہاد گھبرا کر اس پر جھکا۔ وہ بے سدھ آنکھیں موندے ہوئے تھی مگر جسم جھٹکے کھا رہا تھا ۔
” مہ۔۔۔مہ۔۔۔مالا میں ۔۔۔ تقی کو بلا کر لاتا ہوں تم خیال رکھو اس کا ” فرہاد نے گھبرائی سی آواز میں پاس ششد کھڑی مالا سے کہا
وہ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا جبکہ مالا اب منہا کے یوں جھٹکے کھاتے وجود کو خوف سے دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
☆☆☆☆☆☆
” رم۔۔۔۔رمنا۔۔ ت۔۔۔ت۔ تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو اور یہ تالاب۔۔۔ اس میں کیسے گری۔ی۔ی۔۔ی ۔۔۔ تم ؟ “
منہا نے خوف سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ سامنے کھڑی رمنا کی طرف دیکھا اور انگنت سوال پوچھ ڈالے
اس کا پورا جسم خوف سے جھٹکے کھا رہا تھا ۔
” تم نے ہی پھنسا رکھا تھا مجھے۔۔۔۔۔ گیارہ سال سے اس گھنے خوفناک جنگل میں ۔۔۔۔ اور یہ تالاب نہیں ہے ۔۔۔۔۔ تمھارے آنسو ہیں ” رمنا نے ہاتھ کا اشارہ تالاب کی طرف کرتے ہوئے خفیف لہجے میں جواب دیا ۔
منہا نے لرز کر بھنویں اکٹھی کیں اور خوف سے اردگرد دیکھا یہ تالاب کا پانی ساکن تھا اور اس میں جگہ جگہ سیاہ کائی تیر رہی تھی ۔
” گیارہ سال ہو گئے میں اس تالاب میں اس جنگل میں بھٹک رہی ہوں , آج اگر تم نا آتی تو میں ڈوب جاتی , تم نے مجھے بچا لیا منہا ۔۔۔۔ تمھارا شکریہ ” رمنا دھیرے سے مسکائی ۔
” یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔ جنگل ۔۔۔ تم ۔۔۔ اور۔۔رر۔۔۔ میں یہاں کیا کر رہی ہوں ۔۔۔؟ یہ کونسی جگہ ہے رمنا ۔۔۔ کیا ۔۔۔؟ ” منہا کی آنکھیں ایک دم سے خوف کے باعث پھٹنے کی حد تک کھل گئیں ۔
” کیا۔۔۔ میں بھی تمھاری طرح مر گئی ہوں ۔۔۔ ؟ ” گھٹی سی آواز میں سوال کیا
رمنا اب اس کی بات کا جواب دینے کے بجاۓ تالاب میں موجود پتھروں پر پاوں رکھتی تالاب سے باہر جا رہی تھی ۔
” رمنا ۔۔ کہ۔۔ کہاں ۔۔۔ جا رہی ہو ؟ مجھے اکیلے مت چھوڑو ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے یہاں ۔۔۔ ” منہا نے گھبرائی کانپتی سی آواز میں اسے عقب سے پکارا
وہ چپ چاپ تالاب سے باہر نکل رہی تھی ۔ منہا نے بھی تیزی سے قدم اس کے پیچھے بڑھا دیے ۔ رمنا اب تالاب سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے کھڑی ہو چکی تھی ۔
منہا تیز تیز قدم اٹھاتی ہانپتی ہوئی اس تک پہنچی ۔ خوف سے ارد گرد دیکھا
“رم۔۔۔ رمنا ۔۔۔ یہ ۔۔ یہ کون سی جگہ ہے ۔۔۔ مہ۔۔۔ میں کیا مر گئی ہوں ۔۔۔ ” منہا کا سانس پھول رہا تھا ۔
خوف سے آواز اور جسم دونوں کانپ رہے تھے , رمنا نے گہری سانس لی اور چہرے کا رخ اس کی طرف موڑا
” یہ تمھارا دماغ ہے منہا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ میں گیارہ سالوں سے اس میں قید ہوں ۔۔۔۔۔ تمھاری منتظر تھی ۔۔۔ کہ تم کس دن آؤ گی اور مجھے اپنے آنسوؤں کے بناۓ گئے تالاب سے باہر نکالو گی ” رمنا ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی ۔
منہا حیرت زدہ کھڑی اس کی عجیب سی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔ اچانک ذہن میں گیارہ سالوں کے دکھ تکلیف تمام مناظر پردوں سے ٹکرانے لگے ۔
” رم۔۔۔رمنا ۔۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔۔ مجھے معاف کردو میں پچھلے گیارہ سالوں سے تم سے معافی مانگنا چاہتی تھی ۔ اللہ سے معافی مانگنا چاہتی تھی ۔” منہا تڑپ کر اس کے قریب ہوئی کچھ دیر پہلے والا خوف ایک دم سے زائل ہو گیا تھا ۔
” کس ۔۔۔ بات کی معافی منہا ؟” رمنا نے میٹھے سے حیرت زدہ لہجے میں بھنویں سکیڑے پوچھا ۔
” ت۔۔تمہیں جو دھکا دیا تھا چھت سے ۔۔۔ اور وہ تمھاری بات نہیں مانی تھی ۔۔ مجھے معاف کر دو رمنا ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہتی تھی ۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو ” منہا بلکنے لگی تھی ۔۔۔ ۔۔۔
آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے ۔
” تم نے مجھے دھکا دیا تھا ۔۔۔ لیکن میری موت اللہ کی رضا سے آئی تھی اس سب میں تمھارا کوئی قصور نہیں تھا ۔ تم نے مجھے مارنے کی غرض سے دھکا نہیں دیا تھا ۔۔۔ ” رمنا متوازن اور پرسکون لہجے میں بول رہی تھی ۔
منہا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا , اس کے کپڑے اب سیاہ سے سفید ہو چکے تھے, سر پر دوپٹہ تھا اور ناک کے پاس اب خون کی لکیر بھی موجود نہیں تھی ۔
” موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے , اس نے ہر وقت مقرر کر رکھا ہے , اس دنیا میں آنے کا بھی , جانے کا بھی , جو ہونا ہے ۔۔۔۔ وہ ہونا ہے پر جب کوئی اس کے ہونے میں اپنی مرضی شامل کرے یہ گناہ ہے ۔۔۔حرام ہے , میں اپنے مقرر وقت پر اس دنیا سے گئی میری عمر اللہ پاک نے اتنی ہی لکھ رکھی تھی ۔ مجھے اتنا ہی جینا تھا ” رمنا آہستہ آہستہ متوازن لہجے میں بولتی اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔
منہا حیرت سے اسے سن اور دیکھ رہی تھی ۔ رمنا کے ہاتھوں پر اب سفید رنگ کے جالی کے دستانے آ چکے تھے ۔ وہ روشن ہو رہی تھی ۔ ساتھ ساتھ گھنے جنگل میں بھی روشنی پھیلنے لگی تھی ۔
” تم اپنی زندگی جان بوجھ کر ختم کر رہی ہو , اللہ کے مقرر وقت سے بغاوت کرنے جا رہی ہو , زندگی اس کی دی ہوئی نعمت ہے اور اس نعمت سے محروم کرنے کا اختیار صرف اس کے پاس ہے تم یہ اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ناراضگی کی مرتکب ہو رہی ہو ” رمنا کی آواز اس کی باتیں اس کے تڑپتے دل کو سکون بخش رہی تھیں ۔
” تم اتنے سالوں سے جو میرے لیے اتنا روتی رہی ہو , مجھے یاد کر کے خود کو اذیت دیتی رہی ہو اس سے مجھے تکلیف ہوتی رہی ہے ۔ اسی وجہ سے میں برسوں سے یہاں قید ہوں ” اب کی بار رمنا کے لہجے میں درد تھا ۔
روشنی مزید پھیل گئی تھی ۔ آسمان نظر آنے لگا تھا ۔ آسمان سے اب سفید رنگ کی بگھی نیچے اتر رہی تھی ۔
منہا حیرت سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ بگھی اب زمین پر کچھ فاصلے پر کھڑی تھی ۔ سفید رنگ کا گھوڑا آہستہ آہستہ اپنی گردن ہلا رہا تھا , جس کے باعث اس کی گردن پر ملائم بال ہل رہے تھے
رمنا نے قدم بگھی کی طرف بڑھا دیے , منہا چونک کر اس کے پیچھے لپکی ۔ ۔
” کہ ۔۔۔ کہاں جا رہی ۔۔ ہو رمنا ؟ ” خوف سے لرزتی آواز میں سوال کیا وہ اس کو یوں چھوڑ کر کہاں جا رہی تھی ۔ رمنا ایک دم سے رکی اور پلٹی
” اوپر ۔۔۔ اوپر جا رہی ہوں , آسمان کے پار ۔۔۔۔ ” مسکرا کر جواب دیا
قدم پھر سے آگے بڑھا دیے
” مجھے ساتھ لے کر جاؤ ۔۔۔ تم مجھے لینے آئی ہو نا ۔۔۔ ؟ ” منہا نے اس کے ہمقدم ہو کر پھولی سانسوں میں سوال کیا
وہ پھر سے رکی ۔۔۔ منہا اب بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
” نہیں ۔۔۔ تمہیں نہیں جانا میرے ساتھ ۔۔۔ تمہیں وہاں جانا ہے ” رمنا نے اس کا کندھا پکڑا اور رخ موڑ دیا ۔
سامنے سورج پوری تمازت سے چمک رہا تھا ,سارے درخت غائب ہو گئے تھے ۔۔ زمین ایک چٹیل شفاف میدان بن گئی تھی ۔ حبس اور گھٹن ختم ہو چکی تھی ۔ اسے سانس لینے میں اب دشورای نہیں ہو رہی تھی ۔
سامنے کا منظر اس قدر حسین تھا کہ وہ ٹٹکی باندھے اسے دیکھے گئی ۔۔۔ سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور وسط میں چمکتا سورج پیلی , نارنجی روشنی بکھیر رہا تھا ۔ لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں ۔۔۔
منہا نے ایک دم سے پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے رمنا کھڑی تھی اب وہاں کوئی نہیں تھا ۔ منہا نے حیرت سے اردگرد دیکھا ۔
” رمنا ۔۔۔۔ رمنا ۔۔۔۔ کہاں گئی تم ۔۔۔ ” وہ اونچی آواز میں پکار رہی تھی ۔
” منہا ۔۔۔ منہا ۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔ “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: