Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 4

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

حویلی میں بھگدڑ سی مچ گٸ تھی ، ٹپ ٹپ ۔۔ٹپ۔۔۔ ٹپ۔ٹپ بہت سے قدم کمروں ، اٹاری کے زینوں اور حویلی کی ہر جانب سے فوارے کے پاس گری بے سدھ پڑی رمنا کی طرف بھاگے چلے آ رہے تھے ۔ آنکھیں پھٹیں منہ وا۔۔۔ چہرے زرد ۔۔۔۔ چیخ و پکار ۔۔۔۔۔۔
” نقیب۔ب۔ب۔ب۔ب۔۔۔ نوازے۔۔۔۔ے۔۔ے۔ے “
نوازش اور نقیب کو خدیجہ بیگم گلا پھاڑے بلا رہی تھیں منہا کی چیخیں تھیں۔۔۔۔ اور غزالہ کی دلخراش چیخیں ۔
” رمنا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔۔۔۔۔۔۔ رمنا۔ا۔۔ا۔ا۔اا “
غزالہ کی ہولناک چیخوں سے تو پوری حویلی کی در و دیوار گونج اٹھی تھیں ۔ رملا اس کی گود سے ایک طرف لڑھک کر رو رہی تھی ۔ مالا بہتے خون سے اپنا نیا جوتا بچاتی زمین پر دو زانو بیٹھی گٸ تھی بلکل رمنا کی بند مٹھی کے پاس اسے بس یہ سمجھ میں تھا آپی نے چھلانگ لگاٸ ہے اور اسے چوٹ آ گٸ ہے جیسے اسے آۓ دن کہیں نا کہیں سے گر کر آ جاتی ہے ۔
مالا کی نگاہیں جمیں تھیں جہاں ایک سیاہ مکھی بٹن سے قریب ہاتھ پر بیٹھی تھی ۔پھر غزالہ نے رمنا کے وجود کو جھنوڑا تھا ۔ مکھی اڑ گٸ تھی پر بٹن وہیں تھا ۔
حویلی کے پھاٹک سے کتنے ہی سیاہ کھیڑیاں پہنے قدم حویلی کے صحن کی طرف آ رہے تھے ۔ اور پھر سب کے جھمگٹے سے میں سے آوازیں ابھریں ۔
” ہٹو سب ۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رمنا۔۔۔ رمنا پُتر “
نقیب حاکم دو زانو رمنا کے پاس بیٹھ گۓ تھے اور گال تھپتھپا رہے تھے۔ نوازش تو لڑکھڑا سا گیا جسے پیچھے کھڑے منیر میاں نے تھام کر گرنے سے بچایا تھا ۔
بہت دیر ہو چکی تھی اس کی ناک کے نتھنے سے بھی خون کی لمبی لکیر اب بہہ کر اس کے ہونٹوں تلک آ رہی تھی۔ بے جان کھلی آنکھیں چیخ چیخ کر بتا رہی تھیں کہ جسم سے روح پرواز کر چکی ہے ۔ سارے رشتہ دار گول داٸرے کی شکل میں جھکے ہوۓ تھے منہ پر ہاتھ تھے ۔ اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی ، ششدر ۔۔۔۔
مالا نے آہستگی سے رمنا کی ہتھیلی میں سے بٹن کو اٹھایا ہلکے شربتی رنگ کا بٹن تھا جس پر چھوٹی چھوٹی سیاہ لمبی لاٸنیں تھیں ۔ ایک جھٹکے سے کسی نے رمنا کو گود میں اٹھایا تو مالا کی گال سے رمنا کا بے جان ہاتھ ٹکرا گیا تھا ایسے جیسے اس نے مالا کے گال کو چھوا ہو ۔
کسی کا دھکا لگا تھا مالا کو۔۔۔۔شاید کسی کے پاٶں کا دھکا ۔۔۔۔ بٹن ہاتھ سے چھوٹا اور گرا۔۔۔۔۔ لڑھکتا ۔۔۔لڑھکتا ۔۔۔ لڑھکتا ۔۔۔۔ دو سرخ اینٹوں کے درمیان رک گیا ، مالا نے ننھے سے ہاتھ بڑھاۓ اور دو انگلی کی پوروں میں بٹن کو پھر سے اٹھا لیا ۔
” بہا۔۔درررر ۔۔۔ تقی۔۔۔۔۔ جلدی ۔ گاڑی نکالو کوٸ “
نقیب نے رمنا کو باہوں میں اٹھایا ہوا تھا اور نوازش دلخراش چیخوں سے پکار رہا تھا ۔ سب پیچھے پیچھے ہو کر جگہ دے رہے تھے نقیب سولہ سالہ رمنا کو بازوٶں میں ڈالے آگے بڑھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ سفید لٹھے کی مانند چہرہ لیے نوازش چل رہا تھا ۔
”ہاۓ ۔۔۔۔ میری بچی ۔۔۔۔ کیا ہو گیا ۔۔۔۔ رمنا۔۔۔۔۔ رمنا۔۔۔۔ا۔ا۔ا۔ رمنا۔ا۔ا۔ا۔ اٹھ جا میری بچی “
غزالہ بے حال بنا دوپٹے پیچھے بھاگ رہی تھی نا جانے ہجوم میں کب کسی کے پاٶں کے نیچے دوپٹہ دب گیا تھا ۔ مالا بٹن مٹھی میں لیے ناسمجھی سے سب کو تاک رہی تھی سب رو رہے تھے چیخ رہے تھے ۔
” بلقیس غزالہ کو پکڑ ۔۔۔۔۔پکڑڑ۔ڑ۔۔ اس کو لے کر آ ۔۔۔۔۔ ہاۓ۔۔۔۔ لے کر آ اس کو “
خدیجہ بیگم کی کانپتی سی آواز پر بدحواس کھڑی زیب اور بلقیس بھاگی تھیں ۔ خدیجہ بیگم سینے پر ہاتھ دھرے ڈھنے کو تھیں جن کو اریب نے تھام رکھا تھا ، بلقیس اور زیب غزالہ تک پہنچی جب تک بہت سی خواتین غزالہ کو تھام چکی تھیں وہ ان کے ہاتھوں سے اپنا آپ چھڑا رہی تھی تڑپ رہی تھی ۔
” رمنا۔۔ا۔ا۔ا۔۔۔۔ ہاۓ میری شہزادی آنکھیں کیوں نیییییں کھول ری ۔۔۔۔ ہاۓ ۔۔۔۔ او میرے ربا “
وہ دہاٸ دے رہی تھی پیٹ کے اندر ناف پھڑ پھڑانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ دل کے اندر اٹھتے ہچکولے پتا دے رہے تھے ۔۔ وہ موٸ کوکھ سے جنی اللہ کو پیاری ہو گٸ ہے ۔
حویلی کے پھاٹک پر ہجوم بڑھ گیا تھا ۔۔۔ چوہدری حاکم کی بوڑھی ٹانگیں کانپ اٹھیں ایسے کانپ رہی تھیں کہ پاس کھڑا گاما اگر نا سہارا دیتا وہ گر جاتے ۔
اسلم کی جیپ میں تقی نقیب کے ساتھ مل کر رمنا کو جیپ کی پچھلی سیٹ پر لٹا رہا تھا ۔ ہجوم ایسا تھا کہ جیسے پورا گاٶں امڈ آیا ہو گھڑی پل میں ، تقی بدحواس کھڑا بار بار خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتا کانپتے ہاتھوں سمیت پیچھے ہوا ،عقل دنگ تھی ، چہرہ زرد تھا ۔۔۔۔ اور دل دھڑکنا کم کر چکا تھا ۔
نوازش جلدی سے دوسری طرف سے گاڑی میں بیٹھا تھا اور رمنا کا خون سے لت پت سر اپنی گود میں دھر لیا ۔ اسلم اب گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا ، نقیب فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول رہا تھا ۔
” جلدی بیٹھ تقی اپنے چچا کے ساتھ جلدی کر۔۔۔ “
پیچھے سے نقیب نے اس کی پیٹھ پر دھکا مارا تھا وہ جو بے حال سا کھڑا تھا ہل گیا ۔ اور پھر اسی طرح بے جان سا رمنا کے پاٶں اپنی گود میں دھر کے بیٹھ گیا ، اس کے پاٶں ٹھنڈے تھے ۔۔۔۔ ٹھنڈے ۔۔۔
جیپ چلنے لگی تھی تقی کی نگاہیں اس کے پاٶں پر جمی تھیں ، جو اس کی گود میں ہل رہے تھے ، گلابی ایڑیوں والے ٹھنڈے پاٶں
” رمنا ۔۔۔ رمنا ۔۔۔ رمنا پتر ۔۔۔ اٹھ ۔۔ پتر ۔۔“
نوازش کی کانپتی سی آواز ہچکولے کھاتی جیپ میں ابھر رہی تھی ۔ اسلم جیپ کو جتنا تیز چلا سکتا تھا چلا رہا تھا ۔ گاٶں میں کوٸ ہسپتال نہیں تھا ایک چھوٹی سی ڈسپنسری تھی اس لیے رمنا کو سیدھا شہر لے جایا جا رہا تھا ۔ نوازش نے اپنا منڈاسا رمنا کے سر کے نیچے بہتے خون پر رکھا ہوا تھا
” رمنا ۔۔۔ رمنا۔۔۔۔ رمنا۔۔۔ پتر ۔۔۔ “
آواز تقی کے کانوں میں متواتر پڑ رہی تھی ، تقی نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کانپتے ہاتھوں سے رمنا کی کلاٸ تھامی اور نبض پر اپنی انگلی کا دباٶ ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔۔ وہ نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کلاٸ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گری تھی اور آنسو آنکھ سے ٹوٹ کر رمنا کے پاٶں پر گرا تھا ۔
**********
حویلی کے بیرونی برانڈوں میں مرد چٹاٸیوں پر سفید کپڑے ڈالے سر جھکاۓ بیٹھے تھے ۔ چار پاۓ سبھی ایک طرف ایک دوسرے کے اوپر نیچے کھڑے کر دیے گۓ تھے ۔
آج رمنا کے انتقال کے تیسرے روز قُل تھے ۔
فسوں میں ڈوبی حویلی اور ہر مکیں کا پژمردہ چہرہ اس موت ناگہانی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ رمنا کے چھت کے گر جانے کو ڈاکٹر نے بھی حادثاتی موت قرار دیا تھا ۔ ہر کوٸ اس کے چھت پر ہونے کے الگ الگ قیاس لگا رہا تھا ۔ کوٸ کہہ رہا تھا مالا کو تلاش کرنے گٸ ہو گٸ ، کوٸ کہہ رہا تھا چھت میں کھیلتے بچوں کو اتارنے گٸ ہو گٸ کہ چلو بسیں نکلنے کو تیار ہیں ۔
حویلی کا پھاٹک کھلتے ہی پکی اینٹوں کی روش سے آگے صحن میں نیم اور پیپل کے پتے بکھرے ہوۓ تھے ۔ جو ہوا چلنے سے کبھی ادھر تو کبھی ادھر پورے صحن میں گھوم رہے تھے ۔ آدھے صحن میں دھوپ آ چکی تھی ، چڑیاں درختوں سے اڑ کر فوارے تک آتیں اور پھر فوارے کے فرش پر سے سوکھا تنکا اٹھا کر اُڑ کر پھر سے درخت کی طرف چلی جاتیں، درختوں کے نیچے چارپاٸیاں لگی تھیں جن پر کچھ بزرگ خواتین نیم دراز سستا رہی تھیں ، کچھ بیٹھیں آہستہ آہستہ محو گفتگو تھیں اور کچھ حقے کے کش رلگ رہی تھیں ۔
اور بلکل سامنے حویلی کے لمبے برانڈے میں سفید چادریں بڑے سلیقے سے بچھی تھیں ۔ اور ان سفید چادروں پر جگہ جگہ کھجور کی خشک گٹھلیوں کے ڈھیر لگے تھے ۔
میز پر پڑی چاندی کی پیالی میں سوکھے آٹے میں دھنسی تین اگربتیوں کے دھویں سے تین دھاری دار لاٸنیں اوپر کو اٹھ رہی تھیں اور کچھ انچ کے فاصلے پر جا کر ہوا میں گُھل رہی تھیں ۔ اگربتیوں کی معطر خوشبو اٹاری کیا تمام کمروں میں بھی پھیلی ہوٸ تھی ۔
اگربتیوں کے بلکل پاس میز پر سفید کپڑا ڈال کر قرآن پاک اوپر نیچے رکھے ہوۓ تھے ۔ سفید بچھی ہوٸ چادروں کے اردگرد آلتی پالتی مارے ، سروں پر دوپٹے ڈالے خواتین آگے پیچھے وجود کو حرکت دیتے ہوۓ قرآن پڑھ رہی تھیں اور کچھ کھجور کی گٹھلیوں کو ہاتھ میں مڑوڑے پہلے کلمے کے ورد کے بعد ٹک ۔۔ٹک کی آواز کے ساتھ کھجور کی گٹھلی اپنے سامنے پڑے چھوٹے سے گٹھلیوں کے ڈھیر پر پھینک رہی تھیں ۔ گٹھلیوں کی ٹک ٹک گرنے کی آوازوں کے ساتھ خواتین کی باتوں کی مدھم سرگوشیاں اردگرد سے اُبھر رہی تھیں
” چھت پر تھی ، دیوار بھی چھوٹی ہے وہاں سے نیچے گری ہے سیدھا سر پکے فرش پر آ کر لگا بس ۔۔۔ “ کوٸ عورت کسی دوسری عورت کو رمنا کے انتقال کا سبب بتا رہی تھی ۔
غزالہ خشک آنکھوں کی پتلیوں کو سامنے غیر مرٸ نقطے پر مرکوز کیے سر کو دیوار کے ساتھ لگاۓ ان سب کے درمیان خاموش بیٹھی تھی ۔ سر آدھا دوپٹے سے ڈھکا تھا آدھا ننگا تھا جسے پاس بیٹھی عورت نے دیکھا تو کیھنچ کر اس کا دوپٹہ آگے کر دیا اور خود پھر سے ہلتے ہوۓ قرآن پڑھنے لگی ۔ دوپٹے کے ساتھ غزالہ کے بالوں کی کتنی لٹیں بھی منہ پر آ گری تھیں جن سے وہ بے پرواہ کسی مجسمے کی طرح بیٹھی تھی ، تین دن سے متواتر رونے سے آنکھوں کے اوپری پپوٹے سوزش لیے ہوۓ تھے ہونٹ خشک تھے جن پر سیاہ پیپڑی جمی تھی ۔
” آہ۔۔۔۔۔۔اللہ رے توبہ ۔۔۔۔ جوان اولاد کا دُکھ ۔۔۔ رب کسی کو نا دکھاۓ “
کسی نے غزالہ کو دیکھ کر آہ بھری تھی ۔
” اتنی خوبصورت تھی بچی ، یہ۔۔۔۔ بھاگی پھر رہی تھی اپنی بوا کی بیٹی کی شادی پر بس نظر کھا گٸ بیچاری کو “
” یہ نوازش کی وہی والی بیٹی تھی نا جو تقی کی منگ تھی “ کانوں میں کی ہوٸ سرگوشیاں تھیں پر اردگرد سب کو سناٸ دے رہی تھیں ۔
” چوہدری حاکم نے حویلی اتنی پیاری بناٸ ہے چلو بندہ چھت کے پردے بھی اونچے کر دے بچوں والا گھر ہے ، جوان جہان پتری گنوا دی “
” ارے بھٸ جو قسمت میں لکھی کون ٹال سکتا ۔۔۔۔ بس کیا کر سکتے ہیں اللہ کی چیز تھی اس نے لے لی “
خواتین کی کُھسر پھُسر بڑھتی بڑھتی مکھیوں کی بھنبناھٹ جیسی آواز ابھرنے لگی ۔ ایک معزز خاتون نے چہرہ اوپر اٹھایا اور ناک پر دھرے چشمے کی اٶٹ سے کاناباتی کرتی خواتین کو گھورا ۔
” باتیں کم کیجیے ۔۔۔ قرآن پاک پڑھیے بچی کی روح کو بخشیں۔۔۔ پتہ نہیں گٹھلی پر گٹھلی گرا رہی ہیں سب ، کر باتیں رہی ہیں “
خاتون نے تمام باتیں کرنے والی خواتین کو تنبہیہ کیا تو سب ایک دم شرمندہ ہوٸیں ، باتیں چھوڑ کر پڑھاٸ کرنے لگیں، لیکن کچھ دیر بعد پھر وہی حال تھا ۔
************
حاکم قصر کے صحن میں موجود بڑے نیم کے پتے ہوا کے جھونکے سے سرسراہٹ کا شکار ہوتے تو ایک مخصوص سی آواز فضا میں ترنگ سا بجاتی اور پھر تھم جاتی ۔ دوپہر عروج پر تھی اور حویلی کے تمام مکین کمروں میں سستانے کو لیٹے تھے ۔ نیم کے درخت کے نیچے لگی چارپاٸ پر تاری بوا آنکھوں پر ایک بازو دھرے خراٹے مار رہی تھی ۔
اور کچھ دور کونے میں مالا اور سکینہ بیٹھی کھیل رہی تھیں ، سارا گھر دوپہر کو سُستاتا تھا لیکن مجال ہے کہ وہ دونوں گھڑی پل کو بھی لیٹتی ہوں ساری دوپہر یونہی نیم کے درخت کے نیچے کھیلتی رہتی تھیں ، غزالہ مار پیٹ کر اگر مالا کو ساتھ لیٹا بھی لیتی تو وہ کچھ دیر بعد ہی غزالہ سے آنکھ بچا کر نکل آتی ۔ اور آجکل تو ویسے ہی غزالہ کو کچھ ہوش نا تھا ، رمنا کے انتقال کو ابھی ہفتہ بھر ہی تو ہوا تھا وہ تو ہر وقت سر کو دوپٹے سے باندھے رکھتی یا پھر کونے کھدرے میں گھس کر روتی رہتی ۔
مالا نے پاس پڑی گڑیا اٹھاٸ ، یہ سفید کپڑے میں روٸ بھر کر بناٸ گٸ گڑیا تھی ، جس کی آنکھیں ، ناک ، منہ اُون کے دھاگے سے کڑھاٸ کاڑھ کر بناۓ ہوۓ تھے ناک اور آنکھیں کالے دھاگے سے اور ہونٹوں کے لیے ایک باریک سی لاٸن سرخ دھاگے سے بناٸ ہوٸ تھی کانوں کی جگہ بس ایک ایک موتی لگایا ہوا تھا۔ گڑیا کو چمچماتا سُرخ غرارا اور چھوٹی سی تنگ قمیض پہنا رکھی تھی ، اور گلے میں موتیوں کو ایک دھاگے میں پرو کے ہار بھی پہنایا ہوا تھا ۔ یہ گڑیا مالا کو فرزانہ نے بنا کر اس کی سالگرہ پر تحفے میں دی تھی ۔ ویسے تو مالا کے پاس ایسی بہت سی کپڑے کی گڑیاں تھیں پر مالا کو یہ والی سب سے زیادہ عزیز تھی ۔
مالا نے گڑیا کے دھاگے سے بنے بالوں کی ننھے ہاتھوں سے چٹیا بناٸ اور پھر ربن باندھنے کی غرض سے پاس پڑی ماچس کی ڈبی کو کھولا ۔ جیسے ہی ماچس کی ڈبی کو کھولا نظر ربن کے بلکل پاس پڑے بٹن پر تھم سی گٸ ۔
بٹن اٹھایا اور پاس بیٹھی سکینہ جو مٹی کے برتن میں پتے توڑ کر ڈال رہی تھی اس کو پکارا
” یہ دیکھ سکینہ آپا کا بٹن جب چھت سے چھلانگ لگاٸ تھی آپا نے ، اس کے ہاتھ میں تھا “
مالا نے آنکھیں سکیڑ کر مسکراتے ہوۓ بٹن سکینہ کے آگے کیا ، سکینہ تاری بوا کی چھوٹی بیٹی اور مالا سے ایک سال بڑی تھی ویسے تو اسکا زیادہ کام نقی اور رملا کو اٹھاۓ رکھنا ہوتا تھا پر جیسے ہی وہ سوتے تو وہ جھٹ سے مالا کے ساتھ کھیلنے کو پہنچ جاتی ۔
” دکھا ۔۔۔ مجھے ۔ ۔۔۔ مالا یہ تو مردانہ بٹن ہے “
سکینہ نے بٹن کو مالا سے پکڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا اور داٸیں باٸیں گھماتے ہوۓ آنکھوں کو سکوڑے بٹن پر نگاہیں جماۓ مالا کو بٹن کے متعلق آگاہی دی ، وہ تاری بوا اور شمو کے ساتھ کام کرواتی تھی اس لیے اس طرح کی باتوں میں اس سے سیانی تھی
” وہ کیا ہوتا ہے ؟ مُردانہ ۔۔۔۔ لا دے ۔۔۔ جھوٹی کہیں کی یہ تو میری آپا کا ہے ، آ کر ڈانٹے گی مجھے “
مالا نے اچک کر سکینہ کی دو انگلیوں کے بیچ دبوچا ہوا بٹن چھینا ، اور پھر سے ماچس کی ڈبی میں احتیاط سے رکھ دیا
” تیری آپا اب کبھی نہیں آۓ گی مالا ، وہ اوپر آسمانوں میں چلی گٸ ہے اللہ میاں کے پاس “
سکینہ کی بات پر دونوں نے ایک ساتھ چہرہ اوپر اٹھاۓ آسمانوں کی طرف دیکھا تھا ۔ مالا نے ایک ہاتھ سے چہرے پر آۓ بال ہٹاۓ اور چھوٹی سی ناک چڑھاٸ
” اچھا۔۔۔۔ تو پھر جب آٸیں گی ، تب تو پوچھں گی نا ، بتا مالا میرے ہاتھ سے جو بٹن اٹھایا تھا وہ کہاں ہے ، دے مجھے نہیں تو اماں کی طرح پیٹ ڈالوں گی تجھے “
مالا نے ایک ہاتھ کھڑا کرتے ہوۓ اور دوسرا کمر پر دھر کر رمنا کی طرح ادکاری کی
” ارے ۔۔۔ بدھو کہیں کی ، اللہ پاس جو چلا جاتا ہے ، وہ پھر کبھی واپس نہیں آتا ہے بس وہیں رہ جاتا ہے اوپر آسمانوں میں “
سکینہ نے اس کی عقل پر اپنا ننھا سا ماتھا پیٹ لیا ، جبکہ وہ اب پیشانی پر بے یقینی کے بل ڈالے اسے گھور رہی تھی ۔
” تجھے کیسے پتا اتنا کچھ ۔۔۔ بتا بتا ۔۔۔ چلاکو بٹن نہیں دوں گی تجھے پھر بھی “
مالا نے خفگی سے گھورتے ہوۓ اس سے پوچھا ، اور ماچس کی ڈبی اٹھا کر اپنے پیچھے چھپاٸ
” مجھے چاہیے بھی نہیں گندا سا بٹن ہے ، میرے ابا بھی تو اللہ پاس ہیں میری اماں نے بتایا ہے مجھے یہ سب کہ بس ہم کو جانا ہو گا ایک دن ، وہ نہیں آ سکتے جی “
سکینہ نے منہ پھلاۓ اسے ساری بابت بتاٸ اور پھر دنوں لبوں کو داٸیں باٸیں خفگی کے اظہار کے طور پر گھمایا
” اچھا چل مان لی تیری بات پھر میں چلی جاٶں گی اللہ کے پاس تب دوں گی یہ بٹن آپا کو ، اماں سے کہوں گی مجھے جانا ہے وہاں “
مالا نے بڑی احتیاط سے ڈبی کھول کر بٹن کے پاس پڑے ربن کو اٹھایا ڈبی کو بند کیا اور پھر گڑیا کے بالوں میں ربن باندھنے لگی ۔ سکینہ نے بھی مٹی کے برتن میں پتے توڑ کر پھینکنے شروع کر دیے ۔
” جلدی کر تیرا سالن ہی نہیں بنا ابھی تک میری گڑیا تیار بھی ہو گٸ ہے “
مالا نے پاس پڑے شاپر میں سے چنے ایک طرف کرتے ہوۓ میٹھے سفید پتاشے اٹھا کر منہ میں ڈالے۔ سکینہ اب زور زور سے مٹی کے بناۓ چھوٹے سے پتیلے میں مٹی کا چمچ چلا رہی تھی ۔۔۔
**********
شمو دھلے کپڑوں کا ڈھیر اٹھاۓ چھت کا زینہ اتر رہی تھی ، سیاہ رنگ کی قینچی چپل کے اگلے سرے پر چمڑے سے گانٹھ لگی تھی جو اب تقریباً کھلنے کو تھی گھسی ہو چمڑے کی چپل بمشکل وہ پاٶں میں پھنساۓ ہوۓ تھی ۔
زینے اتر کر نیچے آٸ اور پھر کپڑوں کا ڈھیر درخت کے نیچے لگی چارپاٸ پر رکھا جہاں تاری بوا جلدی جلدی اب جوڑوں کو الگ کر رہی تھی مردوں کے تمام جوڑے استری کے لیے باہر جانے ہوتے تھے ، اس لیے ان کو الگ کیا جاتا تھا ۔ شمو بھی تاری کی مدد کر رہی تھی ہلکے سے بھورے شربتی رنگ میں کاٹن کی مردانہ قمیض پر مٹی کا دھبہ تھا جس پر شمو کی نظر پڑی ۔
” اماں ۔۔۔ یہ قمیض دھلا نہیں کیا چھت پر سے تو دھلے کپڑوں میں تھا“
شمو نے داغ لگے مردانہ قمیض کو اوپر اٹھایا ، قمیض ایک دم سے کُھل کر سیدھا ہو گیا قمیض پر نا صرف داغ تھا بلکہ اس کے سامنے کی جیب پھٹ کر لٹک رہی تھی ۔
” یہ کس کی قمیض ہے ؟ ۔۔۔۔ اماں دیکھ تو جیب پھٹی ہے ویسے نٸ قمیض ہے “
شمو پھٹی جیب کو دیکھ کر اور حیران ہوتے ہوۓ تاری بوا سے پوچھ رہی تھی اب کی بار تاری بوا نے ماتھے پر بل ڈالے قمیض پر غور کیا ۔
” اللہ جانے ۔۔ شادی پر اتنے مہمان تھے ، سب نے نۓ جوڑے بنواۓ تھے اب موٸ یہ کس کی قمیض ہے شاٸد کسی مہمان کی رہ گٸ ہو یہاں “
تاری بوا نے حیرت ظاہر کرتے ہوۓ آگے بڑھ کر شمو کے ہاتھ سے قمیض کو تھاما اور الٹ پلٹ کرنے لگی
” لے بھلا بتا نٸ قمیض ہے جیب بھی پھٹی ہے اور بازو کا بٹن بھی ٹوٹا ہے “
تاری بوا نے ایک نیا انکشاف کیا
” اماں دکھا باجی جی سے پوچھ کر آتی ہوں ۔۔۔ کسی مہمان کا رہ گیا تو بھجوا دیں “
شمو نے ماں کے ہاتھ سے قمیض لیا اور برانڈے کی طرف قدم بڑھا دیے ، ٹوٹی چپل بس ساتھ چھوڑنے کو ہی تھی جسے گھسیٹ گھسیٹ کر وہ اٹاری کےزینے تک پہنچی ، اریب عجلت میں اپنے کمرے سے نکلی اور شمو کو دیکھ کر دانت پیستے ہوۓ آگے بڑھی
” شمو ۔۔۔ کہاں مصروف ہو تم اور تاری بوا آج ۔۔۔ جلدی کر ٹفن بنا دے تیرے بھاٸ جی کو نکلنا ہے شہر کے لیے “
اریب غصے میں بھری اس کے سر پر آٸ اور عجلت میں شمو کو حکم صادر کیا
” باجی جی کپڑے الگ کرنے کو بیٹھے تھے ، آپ پریشان نا ہوں میں ابھی کیے دیتی ہوں کام “
شمو نے جلدی سے اریب کے غصے کو کم کرنے کے لیے صفاٸ دی اور باورچی خانے کی طرف قدم بڑھاۓ پھر یک دم قمیض کا یاد آجانے پر پلٹی جو ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا
” باجی جی ۔۔۔ یہ قمیض نا پہچان میں آۓ کس کا ہے ۔۔۔ “
شمو نے قمیض اریب کی طرف بڑھایا اریب نے آنکھیں سکوڑے قمیض تھاما ابھی ہاتھ میں ہی لیا کہ پیچھے سے منیر کی ہانک پر گڑبڑا کر پلٹی ۔ زینے چڑھتے ہی قمیض تخت پر پھینکا اور اپنے کمرے کہ طرف دوڑ لگا دی جہاں سے منیر بار بار آوازیں دے رہا تھا ۔ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوٸ وہ جھنجلا کر گویا ہوا
” اریب جلدی کردو بھٸ ، بس نکل جاۓ گی کب سے کہہ رہا ہوں “
منیر منڈاسے کو بڑے سلیقے سے کندھے پر رکھ رہا تھا ، وہ کنگھی بھی کر چکا تھا اب بس ٹفن کو پھیلک میں رکھنا تھا اور روانہ ہونا تھا ۔
” بس ابھی آپ باہر کو آجاٸیے بی جی سے سلام دعا کیجیے میں ٹفن تھیلے میں رکھواتی ہوں “
اریب نے پلنگ پر پڑے پھیلک کو اٹھایا اور تیزی سے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ ۔ تخت پر دھرے قمیض سے بے نیازی برتتی وہ اٹاری کے زینے اتر کر باورچی خانے کی طرف جا رہی تھی ۔
خدیجہ بیگم تھوک دان تھامے کمرے سے باہر آکر جیسے ہی تخت پر بیٹھنے لگیں سب سے پہلے نظر قمیض پر گٸ ۔ ماتھے پر بل پڑ گۓ ۔
” اری او ۔۔۔سکینہ ۔۔۔ اٹھا یہ موا پیرہن یہ کوٸ جگہ ہے جہاں پھینکا ہوا “
خدیجہ بیگم نے ستون کے گرد باہیں ڈالے جھولتی سکینہ کو آواز دی وہ بھاگتی ہوٸ آٸ تو خدیجہ بیگم نے اسی طرح گٹھڑی صورت قمیض اٹھا کر سکینہ کے بازٶں پر دھر دیا ۔ سکینہ قمیض بازو پر ڈالے بھاگی چلے جارہی تھی جب بلقیس کی آواز پر قدم تھمے ۔ بلقیس روتے نقی کو اٹھاۓ کھڑی تھی ۔
” سکینہ ۔۔۔ رُک رُک ۔۔۔ یہ نقی کو پکڑ ، روۓ چلے جا رہا ہے جھولے پر لے جا اسے ، مجھے اور بھی سو کام ہیں “
بلقیس نے گود میں اٹھاۓ روتے بلکتے نقی کو اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا
” باجی جی یہ قمیض رکھنے کو بولا ہے بی جی نے “
سکینہ نے نقی کو تھامنے کے بجاۓ ہاتھ آگے کیا ، جس پر قمیض رکھا تھا
” رکھ دے کسی بھی الماری میں جان چھڑا ، جلدی آ نقی کو پکڑ “
بلقیس نے قمیض کو دیکھے بنے بلکتے نقی کو جھلاتے ہوۓ مگن سے انداز میں حکم دیا ، سکینہ نے فوارً سر ہلایا اور ساتھ ہی کمرے میں گھسی اور بھاگ کر جاتے ہی الماری کے کواڑ کھول کر قمیض وہاں ایک کونے میں رکھ کر بھاگتی ہوٸ واپس آٸ ۔ بلقیس کے ہاتھوں سے بلکتے نقی کو تھاما اور درختوں کے تنے سے رسیوں کے ساتھ ٹاٸر باندھ کر بناۓ گۓ جھولوں کی طرف بڑھ گٸ ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: