Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 40

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 40

–**–**–

” منہا ۔۔۔ منہا ۔۔۔ سن رہی ہو , آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ ” ارد گرد سے مدھم ۔۔مدھم مختلف آوازوں کی بازگشت گونجنے لگی تھیں ۔
بہت سی آوازیں اس کا نام پکار رہی تھیں اور آنکھیں کھولنے کا کہہ رہی تھیں ۔ منہا نے ارد گرد گھوم کر دیکھا سارا منظر بدل چکا تھا , نا وہاں کیچڑ تھا , نا خوفناک موٹے تنوں اور بھیانک جڑوں والے درخت اور نا ہی وہ گندہ بدبودار تالاب تھا ۔
وہ ایک ساحل سمندر تھا اور اردگرد ناریل کے درخت تھے ۔ اس کے کپڑے چتھڑوں سے تبدیل ہو کر گہرے نیلے رنگ کی لمبی پاؤں تک آتی پوشاک میں تبدیل ہو چکے تھے ۔ رمنا اب وہاں موجود نہیں تھی۔
مسحور کن ہوا چلنے لگی تھی ۔ ہلکے نیلے پانی والے سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی لہریں ساحل سے ٹکرا کر ہلکے سلیٹی رنگ کی ریت کو گیلا کرتے ہوۓ پیچھے جا رہی تھیں ۔ سورج پوری آب و تاب سے چمکنے کے باوجود ٹھنڈا تھا ۔
منہا نے گہری سانس اند کو انڈیلی اور اپنے دونوں بازو پورے لمبائی کے رخ خلا میں کھول دیے , دل پرسکون تھا ایسے جیسے کسی نے گیارہ سالوں سے ناسور بنے زخموں پر مرحم رکھ دیا ہو ۔
اس نے رمنا کو آنسوؤں کے تالاب میں ڈوبنے سے بچا لیا تھا ۔ وہ اس سے ناراض نہیں تھی اور اسے سمجھا گئی تھی کہ وہ خود پر ظلم کر رہی ہے اور اللہ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے ۔
اس نے کیسے صرف ایک غلطی اور ایک انسان کے لیے اور ایک گناہ کے بعد ہی خود کو اتنا غیر اہم سمجھ لیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کر رہی تھی ۔ وہ زندگی جو ایک نعمت تھی جو اسے اللہ نے عطا کی تھی ۔ وہ اللہ جس نے ہمیں پیدا کیا, ہم اہم تھے تو ہی ہزاروں نطفوں کی دوڑ میں اس نے ہمیں فتح یاب کیا , ایک گوشت کے لوتھڑے سے ایک جسم , ایک وجود بنا دیا اور پھر اس جسم میں روح پھونک کر اس دنیا میں بھیج دیا ۔
وہی ہے ہماری ہر سانس پر اختیار رکھنے والا اور ہر سانس کا مالک ہے , ہم صرف سوچ سکتے ہیں , کچھ بھی چاہ سکتے ہیں , لیکن ہونا کیا ہے یہ اختیار اس مالک کے ہاتھ میں ہے جو اس کل کائنات کا مالک ہے ۔
جو ہونا ہے اس کی مرضی سے ہونا ہے اچھا یا برا , ہم نا تو ہونے سے پہلے جان سکتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے , نا کچھ بھی ہونے سے بدل سکتے ہیں اور نا ہونے کے بعد وقت کو واپس لا سکتے ہیں ۔ ۔۔۔۔
ہاں پر جو ہو گیا اس پر راضی ہو کر اسے قبول کرنا اور اس ذات سے اپنی خطاؤں کی توبہ کرنا یہ ہمارے اختیار میں ہے , نا کہ خود کے ہی خدا بن کر , خود کو ہی سزا سنا کر , خود کو ہی سزا دیتے پھیریں ۔ اس جان پر ظلم کریں جو ہماری ہے ہی نہیں اس کی دی ہوئی نعمت ہے ۔
” میں کیا سوچ کر خود کی سزا تجویز کر رہی تھی , کیا میں اپنے جسم اپنے جود کی مالک تھی نہیں یہ وجود ہر سانس سب پر اس ایک اللہ کا اختیار ہے ۔ وہ مہربان ہے میں نے کیسے سوچ لیا تھا کہ قتل خطا وہ معاف نہیں کرے گا ۔ میں ایک گناہ کی اذیت اور ندامت سے بچنے کی خاطر دوسرا کبیرہ گناہ سرزد کرنے جارہی تھی ۔ ” ذہن مثبت سوچوں سے بھرنے لگا تھا ۔
سامنے کا منظر غائب ہو گیا تھا , اچانک احساس ہوا , وہ کسی بستر پر لیٹی ہے ۔ آہستگی سے آنکھیں کھولیں , دھندلہ منظر آہستہ آہستہ واضح ہونے لگا ۔
” منہا ۔۔۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔۔” یہ محبت بھری آواز فرہاد کی تھی ۔
اس نے دھیرے سے بھاری ہوتے پپوٹے اٹھا دیے تھے ۔ آنکھوں میں ہلکی سی چپچپاہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔ جس کے باعث آنکھیں بمشکل کھل رہی تھیں ۔
” منہا ۔ا۔ا۔ا۔ا۔۔ا۔۔۔۔ ۔۔۔ اللہ۔۔۔۔۔ تیرا شکر ہے ۔۔۔۔ “
اس کے آنکھیں کھولتے ہی , کتنی ساری پرجوش آوازیں ایک ساتھ اس کے آس پاس سے ابھری تھیں ۔ وہ آدھی آنکھیں کھول چکی تھی اور سامنے دیکھ رہی تھی ۔
ان تمام آوازوں کے اور ان کے چہروں کے کھلتے رنگوں کے اندر موجود خوشی کی رمق وہ با خوبی محسوس کر سکتی تھی ۔ وہ منتظر تھے اس کے اٹھ جانے کے ۔ اب سب واضح ہو رہا تھا ۔
تقی , فرہاد , مالا , نقیب حاکم سب اس کے بیڈ کے اردگرد نم آنکھیں اور لبوں پر جاندار مسکراہٹ سجاۓ کھڑے تھے۔ سب کے چہروں پر اس کے لیے بے پناہ محبت تھی , وہی محبت جو کچھ دیر پہلے رمنا کے چہرے سے جھلک رہی تھی جب وہ اسے سب سمجھا رہی تھی ۔ ان سب کے پیچھے کچھ انجان چہرے بھی تھے سفید کوٹ میں ملبوس ڈاکٹرز تھے کافی سارے ۔
” آہ ۔۔۔۔ کیا وہ ان سب کو دکھ دینے جا رہی تھی ۔ ” دل نے تاسف سے آہ بھری ۔
نقیب حاکم نے روتے ہوۓ کانپتے ہاتھ آگے بڑھاۓ اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔
وہ ان سب کو باری باری دیکھ رہی تھی, آنکھوں کی پتلیوں کو گھما گھما کر ۔۔۔۔۔
سب اپنوں کے ہونے کا احساس کتنا طمانت بخش تھا ۔ ان سب کے لیے وہ کتنی اہم تھی ۔ یہ ان کی نم آنکھیں بتا رہی تھیں ۔
وہ خوفناک جنگل , وہ گھٹن جس میں وہ کچھ دیر پہلے اکیلی بھٹک رہی تھی ۔۔۔سب زندگی کی اور اپنوں کی اہمیت با خوبی سمجھا گیا تھا ۔
بدن ابھی بہت نقاہت محسوس کر رہا تھا کچھ دیر آنکھیں کھول کر ان کو دیکھنے سے ہی وہ تھک گئی تھی ۔ آہستگی سے آنکھیں موند لیں ۔ تقی کی آوازیں آ رہی تھیں اور ساتھ کچھ اور ڈاکٹرز کے بولنے کے بھی اسے اب سب سنائی دے رہا تھا اور محسوس ہو رہا تھا۔
وہ زندہ تھی۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔
” اللہ تیرا شکر ہے ۔۔۔ تو نے مجھے توبہ کی مہلت دی , بے شک تو ہر خطا کے بعد مہلت دیتا ہے , اور مجھے یقین ہے میری توبہ قبول ہو گی ۔۔۔” دل نے پرسکون ہو کر اسے پکارا جو شہہ رگ سے بھی قریب ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
گلاب دیوی ہسپتال کی عمارت چمکتے سورج کے نیچے پوری شان سے کھڑی تھی , حبس حد سے زیادہ تھا کہ اس بھری دوپہر میں سڑک پر اکا دوکا ذی روح دکھائی دے رہے تھے ۔
ہسپتال کی لمبی راہداری میں دائیں بائیں بنے کمروں میں سے اس کمرے کا ماحول آج پچھلے آٹھ دنوں کی نسبت یکسر مختلف تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زندگی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔
منہا بیڈ کے تکیے سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی ۔ اور ایک طرف فرہاد کرسی پر براجمان ہاتھ میں باؤل تھامے بیٹھا تھا جس میں گرم سوپ ہلکی سی بھاپ اڑا رہا تھا ۔ مالا ایک طرف بیٹھی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔
کتنی محبت سے فرہاد نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا تھا ۔
منہا کو ہوش میں آۓ آج دوسرا دن تھا , اس کا جسم ابھی نقاہت کا شکار تھا جس کے باعث سہارے کے بنا بیٹھنا اور ٹھوس غذا ابھی نہیں کھا سکتی تھی ۔
وہ فرہاد سے نگاہیں نہیں ملا رہی تھی ۔ آنکھوں کے گرد گہرے حلقے تھے ہسپتال کا ہی ہلکے نیلے رنگ کا گاؤن زیب تن کیے وہ زردہ چہرے کے ساتھ برسوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔
فرہاد نے سوپ کا بھرا چمچ اس کی طرف بڑھایا , منہا نے دھیرے سے جھکی نگاہوں سمیت منہ کھولا , چاندی رنگ چمچ جو سوپ سے بھرا تھا اس کے منہ کے اندر گیا ۔
مالا نے دونوں کی طرف مسکرا کر دیکھا ۔ دو دن کے بعد اب جا کر ان دونوں کو اکیلے موقع ملا تھا , اسی سوچ کے باعث وہ خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
دروازہ بند ہونے کے آواز پر فرہاد نے دھیرے سے گردن کو خم دے کر پیچھے دیکھا اور پھر منہا کی طرف متوجہ ہوا جو ہنوز نگاہیں جھکاۓ ہوئے تھی ۔
” ادھر میری طرف دیکھو۔۔۔۔ ” فرہاد نے ملائم سے لہجے میں پکارا ۔
خاموش کمرے میں اس کی آواز کانوں سی سیدھی دل میں اتری , منہا نے نگاہیں تب بھی نہیں اٹھائیں وہ کیسے نگاہیں اٹھا دیتی ۔ ہمت ہی نہیں تھی ۔ سامنے بیٹھے اس شخص سے کیسے نگاہیں ملاتی ۔ فرہاد نے ہاتھ میں پکڑا باؤل ایک طرف رکھا ۔
وہ گہری سانس باہر انڈیلتا کرسی بیڈ کے مزید قریب کرنے کے بعد اس کے اور اپنے بیچ کا فاصلہ کم کر چکا تھا , لبوں کو ایک دوسرے میں سختی سے پیوست کیے وہ اب شائد رو دینے کو تھی ۔
فرہاد نے اس کا لاغر سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔ انتہائی نرم اور اپنائیت بھرا لمس تھا جس میں گزرے دنوں کا کوئی شکوہ گلا شامل نہیں تھا ۔
لمس کی حدت نے ابھی سکون دیا ہی تھا کہ فرہاد کی آواز نے گونج کر خاموشی کو ختم کیا ۔
” جو خطا تم سے ہوئی جوانی میں اگر مجھ سے ہوئی ہوتی تو ۔۔۔۔ ۔۔” گھمبیر لہجہ مگر آواز حد درجہ آہستہ اور شائستہ تھی ۔
منہا نے پٹ سے پلکیں اوپر اٹھائیں اور اس کی طرف دیکھا جو چہرے پر بھی ملائمیت سجاۓ بیٹھا اس کے جواب کا منتظر تھا ۔
” بولو نا ۔۔۔ اگر ۔۔۔ مجھے ایسے کسی کے لیے کچھ محسوسات آتیں اور میں کچھ عرصہ اس لڑکی کے چکر میں رہتا مگر تم سے شادی ہو جاتی , پھر ایک دن تم پر یہ حقیقت کھلتی تو تم کیا کرتی ۔۔۔؟ ” وہ سوال کو تفصیل سے دہرا گیا تھا ۔
منہا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ اب بھنویں اٹھاۓ , اسے جواب دینے کا اشارہ کر رہا تھا ۔
شیو بڑھا رکھی تھی , شکن آلودہ ہلکے گرے رنگ کا کرتا زیب تن کیے وہ کافی دن سے سفر طے کرنے کے بعد منزل پر پہنچا ہوا مسافر لگ رہا تھا۔
” میں ۔۔۔۔ کہ۔۔ کچھ۔۔۔ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” خاموشی چند سکینڈ نگل گئی
فرہاد ہم تن گوش تھا
” کچھ بھی نہیں کرتی۔۔۔۔۔ تھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔ سا ناراض ہوتی شائد ۔۔د۔۔د۔۔ لڑتی۔۔۔ جھگڑتی ۔۔۔۔” منہا آہستگی سے رک رک کر اپنی بات مکمل کر رہی تھی ۔
” اور تمہیں پتا ہے میں یہ سب بھی نہیں کروں گا ۔۔۔” فرہاد نے اچک کر اس کی بات کاٹ دی
وہ جو جواب دیتے ہوۓ نگاہیں چرا رہی تھی چونک کر اس کی نگاہوں میں دیکھا ۔
” ہاں ۔۔۔ میں اتنا بھی نہیں کروں گا , نا تو تم سے ناراض ہوں گا ۔۔۔” ہاتھ پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کی
” نا تو تم سے لڑوں گا جھگڑوں گا ۔۔۔ پوچھو کیوں۔۔۔۔ ” دھمیا سا مسکرا کر اس کی گہری آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ سوال کیا ۔
” کیوں ۔۔۔؟ ” ٹرانس کی کیفیت میں اسی کا سوال اس سے پوچھا
فرہاد کی آنکھوں میں خود کے لیے جو جذبات چمکتے نظر آ رہے تھے , وہ اسے پرسکون کر گئے تھے۔ کتنی خوش قسمت تھی وہ کہ سب کچھ جان لینے کے باوجود سامنے بیٹھے شخص کی محبت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی تھی ۔
فرہاد نے اس کے کیوں پوچھنے پر مسکراہٹ کو مزید گہرا کیا , لبوں کے کنارے ہلکے سے وجہیہ چہرے پر پھیل گئے ۔
” کیونکہ میں تم سے زیادہ محبت کرتا ہوں , تم مجھ سے اتنی محبت کر ہی نہیں سکتی تھی ” خفیف لہجہ تھا
وہ پورے وثوق سے اپنی بات اپنی محبت اسے باور کر گیا تھا ۔
” تم نے جو کچھ کیا جذبات کی پہلی سیڑھی پر کیا , تب ہم سب ہی نادان ہوتے ہیں اور اکثر اوقات اچھے برے کی اتنی پرکھ نہیں کر سکتے , تب لگتا ہے سب کچھ بس یہ ہے ” فرہاد نے گہری سانس لی ۔
وہ سانس روکے سن رہی تھی۔ اس کی آواز کانوں کے پردوں سے ٹکرا کر اعصابوں کو تسکین بخش رہی تھی ۔
” میں تم سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔۔ , کرتا ہوں۔ں۔ں۔ں اور کرتا رہوں گا ” گھمبیر محبت میں ڈوبا لہجہ تھا ۔
ہاتھوں کی گرفت بھی منہا کے ہاتھوں پر منہ سے نکلے لفظوں کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو رہی تھی اور وہ تو اب نم آنکھوں سے سامنے بیٹھے اس مہربان کو دیکھ رہی تھی جو اس وقت اسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تر تھا ۔
” اور قسمت دیکھو کیسی میری کہ جس دن میری محبت نے مجھ سے محبت کا اظہار کیا , ساتھ ہی کوما میں چلی گئی ” فرہاد نے لہجہ ایکدم سے خوشگوار کیا
وہ تاہنوز اسی طرح بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اب مسکرا رہا تھا ۔
” بتاؤ ایسے اظہار کرتے ہیں کیا۔۔۔۔؟ , مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دیتے ساتھ ہی سب سے بڑا دکھ دینے جا رہی تھی ” فرہاد نے مصنوعی خفگی سے گھورا ۔
بھنویں اکٹھی تھیں اور آنکھیں چمک رہی تھیں , منہا اسی طرح مجسم بیٹھی تھی ۔
” اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ پھر سے اظہار کرنا ہے تمہیں ” شرارتی لہجے میں کہتے ہوۓ بھنویں اچکائیں
منہا ایک دم سے شرما کر سر جھکا گئ , لب مسکرا دیے , فرہاد کا انداز ہی ایسا تھا منہا مسکراۓ بنا نہیں رہ سکی ۔ اس کو مسکراتا دیکھ کر فرہاد کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی ۔
” سوپ پلا دیں اب ٹھنڈا کر دیا ہے ” منہا نے نم آنکھوں کو ٹپٹپاتے ہوۓ مسکرا کر رعب سے کہا ۔
” آ ہاں ۔۔۔ اتنا رعب ۔۔۔۔ ” فرہاد اس کے اس محبت بھرے انداز پر سرشار ہوا ۔
وہ منہ پر ہاتھ رکھے لجاۓ انداز میں ہنسی تو وہ اس کا ساتھ دیے بنا نہیں رہ سکا ۔
☆☆☆☆☆☆
گہرے بھورے رنگ کا دروازہ ہلکا سا کھلا تھا اور کمرے میں کھڑے تینوں نفوس کے درمیان ابھی ابھی گہری خاموشی چھائی تھی ۔
یہ گلاب دیوی ہسپتال میں بلال کا کمرہ تھا جہاں اس وقت تقی سفید قمیض شلوار میں ملبوس , سلیقے سے ایک طرفہ مانگ بناۓ , نکھرا سا , حیرت اور خوشی کے ملے جلے اثرات چہرے پر سجاۓ کھڑا تھا ۔ وہ یونہی حیرت زدہ کبھی اپنے بلکل سامنے کھڑے بلال اور کبھی شیریں کو دیکھ رہا تھا ۔
شیریں مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں تھامے لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ سجاۓ کھڑی تھی اور ایسا ہی کچھ حال اس کے برابر میں کھڑے بلال کا تھا , فرق صرف اتنا تھا وہ شیریں کی طرح شائستگی سے نہیں مسکرا رہا تھا بلکہ اس کی بتیسی باہر تھی ۔
بات ہی ایسی تھی جس میں تقی کا یوں حیران ہونا بنتا تھا۔ ان دونوں کی نسبت طے ہو چکی تھی اور کچھ ماہ بعد ہی شادی کی تاریخ بھی رکھ دی گئی تھی ۔
تقی مسکراتے ہوۓ حیرت سے باہر آیا اور پاس کھڑے بلال کو پرجوش انداز میں گلے لگایا ۔ فرط محبت سے اس کی پیٹھ تھپتھپا کر الگ ہوا اور خوشی سے دونوں کی طرف دیکھا ۔
” مبارک ہو دونوں کو بڑی خوشی کی خبر ہے یہ تو ۔۔۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں تم دونوں کے لیے ” تقی نے ہنوز گہری مسکراہٹ سجاۓ خوش کن لہجے میں اپنی خوشی کا اظہار کیا ۔
مٹھائی کے ڈبے میں ہاتھ ڈالا اور گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھی ۔ شیریں کا یہ قدم اس کے اندر سر اٹھاتی ہلکی پھلکی خلش ختم کر گیا تھا جو کبھی شریں کے لیے دل میں آتی تھی , جب بلال اکثر اسے بتاتا تھا کہ وہ شادی نہیں کر رہی ہے ۔
” صرف خوش ہی نہیں ہونا ہے جناب , آپ کو شادی پر بھی آنا ہے ۔۔” بلال نے مصنوعی خفگی سے گھورتے ہوۓ فورا ٹوکا
شیریں نے بھی اس کی بات کی تائید کے طور پر مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا اور پرجوش انداز میں انگلی ہوا میں اٹھائی
” اور ہاں ۔۔۔ اکیلے نہیں مالا کو ساتھ لانا ہے ۔۔۔ ” شیریں نے محبت سے تنبہیہ کیا ۔
جب سے دل سے تقی کے لیے محبت کی جگہ پوری طرح بلال نے لی تھی , اسے مالا کے ساتھ اپنائیت محسوس ہونے لگی تھی ۔ جب وہ منہا کے معائنے کے لیے کمرے میں جاتی تھی وہاں مالا سے ٹکراؤ ضرور ہوتا تھا ۔
” ان شا اللہ ضرور ضرور ۔۔۔ ” تقی نے سر ہلاتے ہوۓ خوشی سے حامی بھری ۔
شیریں نے مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھا تو اچانک تقی کو مٹھائی کا پورا ڈبہ دیکھ کر مالا یاد آ گئی ۔ کتنے دن سے وہ منہا اور اس کی پریشانی میں گھلتی اپنے شوق کو بھولے ہوۓ تھے ۔
حویلی میں تو وہ گاہے بگاہے اس کے لیے شہر سے مٹھائی لاتا رہتا تھا پر یہاں تو دس دن ہو گئے تھے نا اس نے مٹھائی کی فرمائش کی تھی اور نا تقی کو ہی اس پریشانی میں خیال رہا ۔
” اچھا ۔۔۔ سنو یہ مٹھائی کا ڈبہ دو گی مجھے ” تقی نے خجل سے لہجے میں انوکھی فرمائش کر ڈالی
شیریں اور بلال نے ایک ساتھ اس کی طرف دیکھا , بات ہی عجیب تھی پر وہ دل کے ہاتھوں مجبور مسکراہٹ دباۓ آنکھوں میں چمک لیے کھڑا تھا ۔
منہا کی پریشانی کے بادل جب سے چھٹے تھے اور اس کو فرہاد کے ساتھ خوش دیکھ کر وہ پرسکون ہو گیا تھا۔ تب سے ہی مالا کے اندر موجود گم صم سی تبدیلی زیادہ محسوس ہونے لگی تھی ۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی رہتی تھی جیسے کوئی بات ہو جو اس سے چھپا رہی ہو ۔
تقی کے یوں مٹھائی مانگنے اور شرمانے پر شیریں اور بلال الجھن کا شکار تھے ۔ تقی نے ان کے یوں دیکھنے پر خفیف سا قہقہ لگا کر کندھے اچکاۓ
” یار ۔۔۔ کیا کروں سمجھا کرو نا , وہ تم لوگوں کی بھابھی کو بہت پسند ہے ” لجاجت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اپنی اس فرمائش کا جواز بتایا ۔
اس کا بتانے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ شیریں اور بلال ایک ساتھ قہقہ لگا گئے ۔ شیریں نے مسکراتے ہوۓ مٹھائی کا ڈبہ اٹھا کر تقی کی طرف بڑھا دیا ۔
☆☆☆☆☆☆
مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں تھامے وہ جیسے ہی ۔ کمرے میں داخل ہوا سب سے پہلی نگاہ سامنے منہا کے بیڈ کی طرف اٹھی , وہ پرسکون سو رہی تھی ۔
ان تین دنوں میں وہ بہت زیادہ بہتری کی طرف آچکی تھی ۔ اس کی اتنی جلدی بہتری کی طرف لوٹنے میں اس کی اپنی چاہت تھی وہ بہت بہت خوش تھی ۔
ان تینوں نے مل کر اس سے بات کر لی تھی کہ وہ چاروں اس راز کو یہیں دفن کر کے جائیں گے اور کبھی اپنے بڑوں کو ان سب باتوں کی بھنک نہیں پڑنے دیں گے ۔
تقی نے آہستگی سے بے آواز دروازے کے کواڑ بند کیے جن کی آواز فرہاد ہی سن پایا , وہ سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جماۓ اخبار پڑھ رہا تھا اور مالا پلنگ پر کھوئی کھوئی لیٹی تھی وہ خیالوں میں اتنی مگن تھی کہ دورازے کی آواز پر بھی باہر نا آئی ۔
تقی کے کمرے میں داخل ہونے کی دیر تھی کہ فرہاد تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور اسے اشارہ کرتا ہوا باہر نکل گیا ۔ وہ کافی دیر سے اس کے آنے کا نتظار کر رہا تھا ۔
تقی مٹھائی کا ڈبہ تھامے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا پلنگ کے پاس آیا جہاں مالا لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔
سیاہ رنگ کے جوڑے میں منہ پھلاۓ تیوری چڑھاۓ پتا نہیں وہ دماغ میں کیا جنگ لڑ رہی تھی ۔ تقی کو یوں سامنے دیکھ کر آہستگی سے اٹھ بیٹھی ۔ لیٹنے کی وجہ سے چوٹی کے اردگرد سے اور درمیان میں نکالی مانگ سے بالوں کی لٹیں بکھری ہوئی تھیں ۔ گلابی گال خفگی سے پہلے ہی سرخ تھے اب اس کو دیکھ کر مزید پھول گئے تھے ۔
” یہ لو مٹھائی کھاؤ ” تقی نے چہکتے ہوۓ کہا اور ڈبہ کھول کر اس کے سامنے کیا ۔
وہ جو بے دل سی بیٹھی تھی , مٹھائی کو دیکھ کر آنکھیں چمک گئیں , کچھ دیر پہلے چہرے پر چھائی اداسی فورا ہوا ہوئی , جوش سے مٹھائی کے ڈبے کے طرف ہاتھ بڑھایا , جیسے ہی گلاب جامن اٹھانے لگی تقی نے ڈبہ بند کر کے پیچھے کر لیا ۔ مالا نے چونک کر چندھی آنکھوں سے تقی کی طرف دیکھا ۔
” پہلے جو پوچھوں گا اس کا ٹھیک ٹھیک جواب دو پھر ملے گی مٹھائی ” تقی نے رعب سے دو ٹوک لہجے میں شرط رکھی ۔
مالا کا کھلا منہ ایک دم سے بند ہوا اور مٹھائی اٹھانے کے لیے تانی ہوئی بازو اکٹھی کی اور خفگی سے گود میں دھر لی , تقی گہری کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
” اس چھوٹے سے دماغ میں جو کھچڑی پک رہی ہے , صاف صاف بتاؤ مجھے کیونکہ اب تو منہا کی بھی کوئی پریشانی نہیں ہے پھر تم کیوں ایسے چپ چپ ہو ” تقی اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
مالا نے گڑبڑا کر نفی میں بلاجواز ہی سر ہلا دیا , تقی نے آنکھوں کو مزید سکوڑ کر بھنویں اکھٹی کیں آنکھوں میں اس کے لیے بے پناہ فکر تھی ۔
” ریاضی کے کلیے نہیں پوچھ لیے جو یوں سر ہلا رہی ہو , کہا نا صاف صاف ۔۔۔۔۔ ” اب کی بار لہجہ اور سخت تھا ۔
مالا کو ریاضی کے کلیے والی بات نے ایسا تپایا کہ دانت پیس کر سر اٹھایا
” آپ ۔۔۔ مجھ سے پیار نہیں کرتے ہیں ” روہانسے لہجے میں شکوہ بمشکل حلق سے برآمد ہوا ۔
شکوہ کرتے ہی سر پھر جھکا لیا , چہرہ اترا ہوا تھا جبکہ سامنے بیٹھے تقی کا منہ حیرت سے وا ہوا۔۔۔ اور پھر اس کی بات سمجھ آتے ہی پوری بتیس دانت دکھنے والی ہنسی آئی ۔
” اچھا ۔۔۔ تو تمہیں ۔۔۔ یہ بات آج شادی کے چار ماہ بعد مجھے باپ بنانے کے بعد پتا چلی ” تقی نے اس کی بیوقوفی پر بمشکل ہنسی چھپاتے ہوئے کہا ۔
” نہیں شیریں کو دیکھ کر پتا چلی ” وہ ترکی با ترکی جواب دے بیٹھی تھی
ایک لمحے کے لیے تقی کی ہنسی کو بریک لگی اب مالا بات کر کے گود میں دھرے ہاتھ مڑوڑ رہی تھی ۔
” ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔ ” تقی نے محبت سے گہری نگاہوں کے حصار میں لیتے ہوئے حکم صادر کیا
وہ ہنوز خفگی سے چہرہ پھلاۓ اس کی طرف دیکھنے سے انکاری تھی ۔ تقی نے گود میں دھرے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور بازو کا ہلکا سا جھٹکا دیا ۔
” ادھر دیکھو ۔۔۔ ” مصنوعی رعب دار آواز
بازو کو ایسا جھٹکا پڑا کہ گڑیا کی طرح پٹ سے آنکھیں اٹھا کر تقی کی آنکھوں میں گاڑ دیں ۔
” ہاں ۔۔۔ اب بتاؤ ۔۔۔ میں پیار تم سے نہیں کرتا , اور پتا شیریں کو دیکھ کر چلا , ہو کیا گیا ہے میری کم عقل بیوی کو ؟ ” خفیف سا میٹھا لہجہ تھا اور گہری آنکھیں محبت سے تاک رہی تھیں
” آپ ۔۔۔ شیریں سے محبت کرتے تھے نا , اور اسی لیے مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ” خفا سے لہجے میں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے شکوہ کر ڈالا
” ویسے ایسا کچھ بھی نہیں تھا یہ تمھارے چھوٹے سے خالی ڈھکن میں آنے والا فطور ہے لیکن اگر ایسا ہوتا بھی تو اب تو تم میری بیوی ہو نا ” تقی نے اس کے چہرے پر نگاہیں گھماۓ محبت بھرے لہجے میں جواب دیا
” بیوی ہوں محبت تو نہیں نا آپکو مجھ سے ” خفگی ہنوز قائم تھی
” اچھا تو جو سب ہے وہ کیا ہے پھر ہمارے بیچ ” تقی نے بھنویں اچکاۓ سوال کیا
” وہ تو بس اب آپ کی مجبوری ہے ۔۔۔۔ ” نگاہیں جھکا کر اپنے گود میں دھرے ہاتھ پر گاڑ دیں
” تمہیں ایک بات بتاؤں آج ۔۔۔ ” تقی نے آہستگی سے اس کا دوسرا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔
مالا نے نگاہیں نہیں اٹھائیں ۔۔ ۔۔۔
” تمہیں پتا ہے محبت تو کبھی مجھے رمنا سے بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ صرف ہمارا رشتہ طے تھا تو ایک اپنائیت تھی اس سے , پھر یونیورسٹی میں شیریں کیا اور بہت سی لڑکیاں مجھ سے محبت کرتی تھیں ” سنجیدگی میں بات کرتے کرتے اچانک شرارت سوجھی
مالا نے چونک کر اوپر دیکھا , اسے پتا تھا بہت سی لڑکیوں والے الفاظ پر وہ یونہی دیکھے گی پر اس کا دیکھنا کچھ ایسا تھا کہ بے اختیار کھلکھلا اٹھا جبکہ وہ دانت پیستی اس کے دل میں اتر گئی ۔
نہیں جانتا تھا وہ اتنی محبت کرتی ہے اس سے , اس کا یہ شکی سا روپ ایک مکمل بیوی کا روپ لگا ۔
” پر ۔۔ ما بدولت نے کبھی کسی کو اپنے دل تک رسائی نہیں دی , پر نجانے یہ چھوٹی , نکمی لڑکی نے کیا جادو چلایا کہ پہلی بار میں محبت جیسے جذبے سے آشانہ ہوا ” انداز شوخ سے اچانک سنجیدہ ہوا
مالا اب حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جو سفید کرتے میں نکھرا سا اس کے دل کی اتھا گہرائیوں میں بسنے والا پہلا شخص تھا ۔ وہ پہلی دفعہ اپنی محبت کا یوں بھرپور انداز میں اظہار کر رہا تھا ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس کے کتنے ہی خواب آج سچ ہو گئے تھے ۔ جو اس نے کہانیاں پڑھ پڑھ کر سجائے تھے ۔
” میں نے تم سے پہلے ۔۔۔۔ کبھی کسی لڑکی کو اس نگاہ سے دیکھا تک نہیں تھا , پہلی دفعہ تمہیں ہی غور سے دیکھا , تم سے ہی محبت ہوئی اور بہت ہے۔۔۔۔ ” تقی کا لہجہ اب جذبات کی سچائی کا غماز تھا ۔
وہ سرشار تھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
” اب یقین آ گیا ہے میری اکلوتی بیوی کو کہ وہ ہی میری اکلوتی محبت ہے ” تقی نے ہنستے ہوئے پوچھا
مالا نے گلال چہرے کے ساتھ سر ہلا دیا , پتا نہیں کیوں پر ندامت سی ہوئی کہ کیوں تقی پر شک کیا ۔
” یہ لو مٹھائی کھاؤ شیریں نے دی ہے ” تقی نے اب رخ موڑے ڈبہ اٹھایا ۔
وہ جو مسکرا رہی تھی ایکدم سے مسکراہٹ پھر سے غائب ہوئی اور گھور کر پھر سے تقی کو دیکھا تھوڑی دیر پہلے والی ندامت بھک سے اڑی ۔ جبکہ تقی اس کے اس انداز پر پھر نا ختم ہونے والا قہقہ لگا گیا ۔
” سکون سے کھاؤ ۔۔۔ اس کی شادی طے ہوئی ہے اس کی مٹھائی ہے ” تقی نے بمشکل ہنسی میں ہی بات مکمل کی
گلاب جامن اٹھا کر اس کے منہ کی طرف بڑھائی جو پھر سے خوش ہو کر کھانے کے لیے منہ کھول چکی تھی ۔
گلاب جامن کھاتے ہی جھپٹ کر تقی کے ہاتھ سے ڈبہ بھی لے لیا جس پر دونوں کھلکھلا دیے ۔ ان کے قہقے پر منہا آنکھیں موندے پرسکون مسکرا دی ۔ ۔۔۔۔۔
تقی کے محبت کے اظہار پر اس کا دل مالا سے بھی زیادہ پرسکون ہوا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: