Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 41

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 41

–**–**–

یہ حویلی کی چھت سے ملتی جلتی چھت تھی جو حویلی کی چھت سے زیادہ کشادہ اور صاف تھی ۔مالا اس چھت کے وسط میں کھڑی تھی جہاں بلکل سامنے آسمان پر قوس قزح آنکھوں کو خیرہ کر دینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی ۔
وہ یونہی یک ٹک آنکھیں کھولے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی جب اچانک اس قوس قزاح میں کوئی پھولوں کا جھولا جھلاتا دکھائی دیا ۔
مالا مزید حیرت سے آنکھیں چندھی کیے غور کرنے لگی ۔ جھولا لینے والی کوئی لڑکی تھی جس نے سفید رنگ کی گھٹنوں تک آتی ریشمی فراک پہن رکھی تھی ۔
اچانک جھولا نیچے چھت کی طرف آنے لگا اور پھر ایک دم سے جھولا لینے والی چھت پر اتر گئی ۔ سفید سی دھند چھٹی تو سامنے رمنا کھڑی تھی ۔ سفید چاند سی چمکتی فراک سر پر نماز صورت باندھا سفید سکارف شفاف چہرہ گلابی لب ۔ وہ ہاتھ میں سنہری رنگ کی ٹوکری تھامے ہوئی تھی ۔
مالا نے حیرت سے سامنے کھڑی رمنا کی طرف دیکھا ۔ وہ آج کتنے دنوں بعد اسے خواب میں نظر آئی تھی ۔ سفید رنگ کی خوبصورت پوشاک میں وہ کھل رہی تھی ۔ اور اب آہستہ آہستہ چلتی ہوئی مالا کے پاس آ گئی تھی ۔ اس کا مسکراتا چہرہ مالا کو سکون دے گیا ۔
” آپا ۔۔۔ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو ” مالا کی تحیر میں ڈوبی آواز ابھری
رمنا اور گہرا مسکرا دی ۔۔۔ مالا بے ساختہ آگے بڑھی
” آپا ۔۔۔ اب تو تم خوش ہو نا ۔۔۔ منہا آپا کو بچا لیا میں نے ” مالا نے ملائم سے لہجے میں استفسار کیا
رمنا نے مسکراتے ہوئے سر کو آہستگی سے اثبات میں جنبش دی اور پھر سنہری ٹوکری مالا کی طرف بڑھا دی ۔ مالا نے تحیر سے آنکھیں پھیلائے ٹوکری کو تھاما ۔ اور پرتجسس اس میں جھانکا
ٹوکری کے اندر ایک خوبصورت آم رکھا ہوا تھا ۔ گہرے پیلے رنگ کا آم انتہائی خوبصورت تھا ۔ مالا نے چہک کر سر اوپر اٹھایا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔
پٹ سے اس کی آنکھ کھلی ۔۔۔ وہ اپنے بستر پر تقی کے برابر لیٹی تھی کل رات ہی وہ لوگ حویلی واپس آئے تھے اور آج رمنا اس کے خواب میں آ گئی تھی , مگر اس بار کے خواب نے اسے ڈرایا نہیں تھا ۔
وہ پرسکون ہو گئی تھی آہستگی سے تقی کے قریب ہوئی اور بازو اس کے گرد حائل کرتی پرسکون آنکھیں موند لیں ۔
☆☆☆☆☆☆☆
دنیا پور کے سٹیشن سے نکلتی ٹرین سست روی سے پٹڑی پر دوڑتی شہر کو پیچھے چھوڑ رہی تھی ۔
ٹرین کے اندر موجود بہادر , اس کی بیوی اور بوڑھا باپ ۔۔۔ بلکل خاموش بیٹھے تھے ۔
وہ اس شہر کے گاؤں میں جہاں اتنے برس کی یادیں چھوڑ جا رہے تھے۔ وہاں بہادر کی ماں کی آخری آرام گاہ کو بھی الودع کہہ آئے تھے ۔
اس رات مالا اور تقی کے جانے کے بعد ہی بہادر کے گھر میں ایسا بھونچال آیا کہ ان کے کچے مکان کی دیواریں بھی کانپ اٹھیں ۔
بہادر کے کمرےمیں بند ہو جانے پر اس کی بوڑھی ماں یہ ساری حقیقت اور اس کا انجام سوچ کر ایسی دل برداشتہ ہوئی کہ اس دنیا سے ہی چل بسی , باپ تو پہلے ہی ناتواں تھا , اب بیوی کے یوں اچانک جانے کا غم اسے نڈھال کر گیا ۔
سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بہادر نے آنکھیں موند رکھی تھیں ۔ سفر کی شروعات میں ہی وہ اختتام جیسا تھکا ہوا لگ رہا تھا ۔ شکن آلودہ کپڑے , بکھرے بال وہ بے حال حلیے میں تھا ۔
ٹرین کے متواتر جھٹکوں سے سر دائیں بائیں ہل رہا تھا ۔ آنکھیں ہلکی سی نمی لیے ہوئے تھیں مگر ذہن آج بہت دن بعد پرسکون تھا ۔ ذہن کے پردوں پر پرسوں رات کا منظر گھوم گیا ۔
تقی اس کے بلکل سامنے کھڑا تھا اور وہ سر جھکائے ہر سزا کو قبول کرنے کے لیے کھڑا تھا ۔ تقی کے چہرے پر کوئی اضطراب اور غصہ نہیں تھا ۔
اور پھر خاموشی کے چند وحشت زدہ پلوں کے بعد اس نے بہادر کو اس کی سزا سنا دی تھی ۔۔
” جہاں غلطی منہا کی تھی وہاں تمھاری بھی تھی ۔۔۔ ۔۔۔ پر میں اتنا خود غرض نہیں کہ اپنی بہن کو معاف کر دوں اور تمہیں سولی پر چڑھا دوں ۔۔۔۔ , تم چلے جاؤ یہاں سے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ فرہاد کا تم سے کبھی سامنا بھی ہو , میں تو بھائی ہوں مگر وہ شوہر ہے ” تقی کے کہے الفاظ کانوں میں اب بھی گونج رہے تھے ۔
اس کے لیے تو اتنا ہی بہت تھا کہ منہا زندہ تھی , جب سے سکینہ کی زبانی اسے یہ سچائی پتہ چلی تھی کہ وہ زہر منہا نے فرہاد کے لیے نہیں خود کے لیے منگوایا تھا ۔۔۔ وہ خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا ۔ کیا وہ اپنی ہی محبت کا خون کرنے جا رہا تھا ۔ اپنے کیے پر تو ندامت اس رات سے ہی شروع ہو چکی تھی , جب مالا نے آ کر گریبان تھام لیا تھا مگر منہا کے اٹھائے قدم نے تو اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا ۔
مگر اب وہ اسے لے کر پرسکون تھا۔ انجام تو وہی تھا جو ہونا تھا , پر دل سے یہ پھانس بھی نکل گئی کہ منہا اس سے محبت کا دم بھرتی ہے ۔ وہ تو کب سے اسے بھول چکی تھی۔ لڑکپن میں ہوئی ایک غلطی سمجھ کر اور اب اسے بھی اپنی غلطیاں سدھارنی تھی ۔
اپنی بیوی جس کو نکاح میں رکھ کر بھی وہ اس کا حق اور محبت نا دے کر اللہ کی ناراضگی کما رہا تھا ۔ اب وقت آ گیا تھا وہ اپنے تمام بگڑے ہوئے کام سنوار لیتا ۔
کچھ فاصلے پر اس کی بیوی سیاہ برقعے میں لیپٹی , ایک گٹھڑی کی طرح بیٹھی تھی ۔ وہ یتیم اور غریب تھی شوہر کی بیوفائی کی سچائی جان لینے کے بعد بھی وہ مسکین کہاں جاتی اسے چھوڑ کر , مگر اب اسے بھی سکون تھا۔
وہ اس گاؤں سے دور جا رہے تھے , مطلب منہا سے اور اس کی پرچھائی سے بھی دور تو دل میں امید جاگ اٹھی تھی کہ اب وہ بہادر کے دل میں اپنی محبت جگا ہی لے گی ۔
تقی نے ان کو اتنی رقم دے دی تھی کہ وہ کہیں بھی جا کر آسانی سے اپنا خرچ اٹھاتے ہوئے کوئی کام شروع کر سکتے تھے , لیکن بہادر کے باپ نے اپنے ابائی شہر پشاور اپنے بھائیوں کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ اسے یہ یقین تھا کہ اس کے بھائی اس کو ضرور قبول کر لیں گے ۔
☆☆☆☆☆
تقی ہاتھ میں سرسوں کے تیل کی بوتل تھامے کمرے سے باہر آیا , آج جمعہ کا دن تھا اور جمعہ کے دن غسل سے پہلے وہ سرسوں کے تیل سے لازمی سر کی مالش کرواتا تھا ۔ شادی سے پہلے بلقیس کرتی تھی اور اب مالا یہ فریضہ انجام دیتی تھی ۔
نیلے رنگ کی آدھی آستین والی ٹی شرٹ کے نیچے ڈھیلے سے کپڑے کی سیاہ پینٹ زیب تن کیے اور بکھرے سے بالو کی چند لٹیں ماتھے پر گرائے اب وہ کمرے کے دروازے سے آگے بڑھ رہا تھا ۔
اٹاری میں تخت کے اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا , خدیجہ بیگم گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے تخت پر نیم دراز تھیں , جبکہ پاس بیٹھی اریب پان دان کھولے بیٹھی تھیں ۔ سامنے صحن میں نیم کے درخت کے نیچے غزالہ اور تاری بوا چارپائی پر سبزی کے تھال لیے بیٹھی تھیں ۔
ان سب کو لاہو سے واپس آئے دو ہفتے ہو چکے تھے , منہا اب بلکل ٹھیک تھی ۔ بہادر اپنے خاندان کے ساتھ چپ چاپ پشاور جا چکا تھا ۔ اریب بیگم اب بھی تقی اور فرہاد سے کھچی کھچی رہتی تھیں ۔
بارہا کوشش کے باوجود اور اپنے لگائے گئے الزام پر پشیمان ہونے پر بھی وہ اریب سے معافی نہیں مانگ سکے تھے۔ ہاں البتہ لاہور سے واپس آکر تقی نے سب کو یہ بتا دیا تھا کہ وہ غلط تھا۔ منہا کو کوئی زہر نہیں دیا گیا تھا بلکہ وہاں کے بڑے ڈاکٹرز نے منہا کا اچھی طرح معائنہ کیا ہے اور اسے معدے کی کوئی بیماری تھی جس کی وجہ سے یہ سب ہوا اور اب وہ تندرست ہے ۔
تقی مالا کو ہی دیکھنے کے لیے باہر اٹاری کے ستون کے پاس کھڑا ارد گرد نگاہیں گھما رہا تھا ۔ جب عقب سے خدیجہ بیگم کی آواز سنائی دی ۔
” کس کو ڈھونڈے ہے ۔۔۔۔ , مالا تو سکینہ کے ساتھ ابھی ابھی نکلی ہے , درزن کی طرف گئی ہیں دونوں شائد , کچھ کپڑے سلوانے دینے کو ” خدیجہ بیگم نے ہاتھ میں پکڑا پان منہ میں رکھتے ہوئے اسے مالا کے حویلی میں نا ہونے کی خبر دی ۔
تقی اب رخ موڑے تخت کی طرف دیکھ رہا تھا , اریب بیگم ہنوز اسی انداز میں اس سے لاپرواہی برتے خفا سا چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔ وہ اب بھی تقی اور فرہاد کی طرف دیکھتی تک نہیں تھی۔
” بلقییس ۔۔۔ اری ی۔ی۔ی۔ او ۔۔و۔و ۔۔ بلقیس ۔۔۔۔ تقی کے سر پر تیل لگا دیجیو ۔۔۔ , جمعہ کا وقت نکلے جاوے ہے , موا کب سے تیل پکڑے کھڑا ہے ” خدیجہ بیگم نے وہیں بیٹھے گھٹنے پر ہاتھ دھرے ہانک لگائی ۔
تقی نے کن اکھیوں سے اریب کی طرف دیکھا جو اب دوسرا پان بنانے میں مگن تھی اور نگاہیں خفا سے چہرے پر جھکائے ہوئی تھی ۔
تقی نے آہستگی سے چند قدم آگے بڑھائے , پاس پڑا موڑھا کھینچا اور تخت کے پاس اریب کے بلکل سامنے کر دیا ۔ وہ جیسے ہی موڑھے کو سیدھا کر کے اریب کے پاؤں کے پاس بیٹھا اریب نے چونک کر دیکھا ۔
” پھپھو آپ ہی لگا دیں میرے بالوں میں تیل ” بڑی اپنائیت سے کہا
اریب جو پہلے ہی اس کے یوں بیٹھنے پر چونکی تھی , اب اس کے یوں اپنائیت سے تیل لگانے کی فرمائش پر مزید دم بخودہ ہوئے اس کی پشت کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
تقی یونہی اس کی طرف پشت کیے ہاتھ میں تیل کی بوتل تھامے بیٹھا تھا ۔
اریب اب ہونق بنی کبھی خدیجہ بیگم اور کبھی تیل کی بوتل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ خدیجہ بیگم بھی تقی کے اس رویے پر اریب ہی کی طرح حیرت زدہ بیٹھی تھیں ۔
ادھر سے بلقیس اپنے کمرے سے باہر نکلی اور دوسری طرف چند سکینڈ کے وقفے سے فرہاد اور منہا بھی ہنستے ہوئے ایک ساتھ اپنے کمرے سے باہر نکلے ۔ منہا نے ہاتھ میں فرہاد کے کپڑے پکڑے ہوئے تھے , جنہیں شائد وہ استری کرنے کی غرض سے باہر لائی تھی ۔
اب سب سامنے تخت کے منظر کو دم سادھے دیکھ رہے تھے , جہاں تقی اتنے دنوں کے بعد اریب سے بات کر رہا تھا ۔ اریب نے خفگی سے تیل کی بوتل کو دیکھا اور پھر نگاہ بلقیس پر پڑی
” وہ ۔۔۔ آ گئی ہے تمھاری ماں ۔۔۔ چل اٹھ اسی سے لگوا تیل ” خفگی بھرا اکھڑا سا لہجہ تھا ۔
تقی نے ایک سرسری نگاہ سامنے کمرے کے دروازے میں کھڑی بلقیس پر ڈالی اور پھر چہرہ سیدھا کر لیا ۔
” نہیں پھپھو اب تو آپ کے سامنے بیٹھ گیا ہوں ۔ اب آپ ہی لگا دیں ” تقی نے مسکراتے ہوئے محبت سے اصرار کیا ۔
اریب نے چونک کر پھر سے سب کی طرف دیکھا , جہاں اب سب کے چہروں پر تقی کے اس انداز پر مدھم سی مسکان ابھرنے لگی ۔ دور درخت کے نیچے بیٹھی غزالہ بھی سبزی کے تھال کو وہیں چارپائی پر دھر کر اب تجسس آنکھوں میں سجائے اٹاری کی طرف آ رہی تھی ۔
” نہیں میں کیوں لگاؤں , کیا پتا تو الزام لگا دے۔۔۔۔ کہ پھپھو نے تیل میں زہر ملا کر میرے بالوں میں لگا دیا ” دلخراش لہجے میں شکوہ کیا ۔
اریب کی آواز میں خفگی کے ساتھ ساتھ بھرپور غصہ بھی جھلک رہا تھا ۔ تقی نے محبت سے گردن کو ہلکا سا خم دیا اور اریب کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
” پھپھو آپ کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتیں , چلیں اب غصہ چھوڑیں , لگا دیں تیل جلدی سے ” اپنائیت سے بھرپور ہلکی سی ندامت میں گھلا لہجہ تھا ۔
تقی نے اریب کا ہاتھ محبت سے پکڑ کر زبردستی اپنے سر پر دھر دیا , وہ چند سکینڈ تو ماتھے پر شکن نمودار کیے اس کی پشت کو گھورتی رہیں ۔ اور باقی سب بھی دم سادھے اب اریب کے جوابی ردعمل کے منتظر تھے ۔
تقی متواتر اریب کا ہاتھ تھامے اس کے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کو ناکام بنائے ہوا تھا ۔
” پھپھو ۔۔۔۔ لگا دیں نا ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ نہیں چھوٹے گا چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں ” تقی نے بچوں جیسی ضد میں اریب کو اپنے ارادے سے باخبر کیا ۔
دھیرے سے اریب کے ماتھے کے شکن ختم ہوئے اور اس نے جیسے ہی تقی کے ہاتھ سے تیل کی بوتل کھینچی سب کے چہرے ایک دم سے کھل اٹھے ۔
تقی نے سر اٹھا کر فرہاد کی طرف دیکھا جو بھرپور انداز میں مسکرا رہا تھا جیسے ہی دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا , تقی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے آنکھ کا کونا دبا دیا۔
بلقیس اپنے بیٹے پر صدقے واری جاتی اپنی آنکھوں کے نم کونے صاف کر رہی تھی جبکہ خدیجہ بیگم اب خوش ہو کر تقی کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔
” اچھا کیا منا لیا اپنی بوا کو , تیرے باوا کی ماں جائی ہے ۔۔۔ کیسے نا محبت کرے تجھ سے پگلے , پڑھ لکھ کر گنوا دیا تو نے تو ۔۔۔ اب دیکھا لاہور کے ڈاکڈر(ڈاکٹر ) نے بتایا نا کہ کوئی زہر وہر نہیں تھا , بس بچی کے معدے کا مسئلہ ہووے تھا ” خدیجہ بیگم اب متواتر بول رہی تھیں ۔
تقی اور فرہاد ہنسی دبا رہے تھے جبکہ منہا سر جھٹک کر اب استری کی میز کی طرف بڑھ گئی ۔
” تو ایسا کر ہسپتال ابھی مت بنا ابھی ۔۔۔۔ موا آتا جاتا تو تجھے کچھ ہے نہیں ۔۔۔۔ بنا پھرتا ہے ڈاکڈر (ڈاکٹر)۔۔۔ ” خدیجہ بیگم اب اسے ساری اگلی پچھلی سنا رہی تھیں۔
وہ مزے سے مالش کے زیر اثر پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر رہا تھا ۔ تیل سے چمکتے بالوں کی کتنی لٹیں , اریب کے سر پر تھرکتے ہاتھوں کے باعث اب اس کے ماتھے پر ٹپٹپا رہی تھیں اور خوبرو چہرے پر طمانت بھری مسکان سجی تھی ۔
آج خدیجہ بیگم کی یہ ڈانٹ بری نہیں لگ رہی تھی ان سب کی یہ غفلت بھری باتیں بھلی ہی لگ رہی تھی ۔
” چل اٹھ اب ہو گئی مالش دفعہ ہو یہاں سے ۔۔۔۔” اریب نے اس کی پشت کو ہلکے سے دھکا دیتے ہوئے مصنوعی خفگی جتائی ۔
تقی نے فورا پلٹ کر اریب کا ہاتھ تھام لیا ۔
” شکریہ پھپھو ۔۔ ” اریب کے ہاتھ پر بوسہ دے کر محبت سے کہا ۔
وہ گردن اکڑاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں مسکرا دیں ۔ جیسے ہی تقی اپنی جگہ سے اٹھا فورا ہی فرہاد تیل کی بوتل اس کے ہاتھ سے لے کر اسی جگہ پر اریب کے آگے بیٹھ گیا۔
” امی ۔۔۔ میرے بھی لگا دیں سر میں تیل ” فرہاد نے بھی شرارت اور محبت سے ملے جلے لہجے میں فرمائش کر ڈالی ۔
ارد گرد کھڑے سب مکیں کھلکھلا کر ہنس پڑے جبکہ اریب جو خفگی سے اٹھنے لگی تھی , فرہاد نے ان کے دونوں بازو اپنے گلے میں ڈال لیے ۔
اریب کچھ دیر تو غصے سے بازو چھڑواتی رہی پھر ایکدم سے اس کے سر کو پیچھے کیے ماتھے پر دیوانہ وار بوسے دینے لگی ۔
آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔ ایسا محبت بھرا منظر وہاں کھڑے ہر نفوس کی آنکھ کے کونے نم کر گیا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆
تقی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا ہلکے گرے رنگ کا کرتا شلوار پہنے وہ ابھی باہر برآمدوں سے لوٹا تھا جہاں وہ چوہدری حاکم کے ساتھ لمبرداری کے معاملات دیکھنے کے بعد کمرے میں آیا تھا ۔
سب سے پہلے نگاہ مالا پر پڑی جو حسب معمول میز پر کتاب میں سر دیے بیٹھی تھی اور چھ ماہ کا مازن تقی ننھے ننھے سفید ہاتھ پاؤں پسارے پلنگ پر گہری نیند سو رہا تھا ۔
مالا نے میٹرک میں بہت اچھے نمبر لیے تھے اور اب میڈیکل کی پڑھائی میں دن رات جتی تھی , ڈاکٹر بننا تو جیسے اس نے اپنا خواب بنا لیا تھا ۔ دن میں کالج اور رات میں تقی سے پڑھتی تھی ۔
تقی لاپرواہی سے مالا کے قریب سے گزرتا پلنگ پر آ چکا تھا جہاں سفید رنگ کے تقی کی ہی پرچھائی لیے روئی کے گالے کی طرح نرم و نازک سے چھوٹے چوہدری گہری نیند میں مسکرا رہے تھے ۔
تقی کو ہمیشہ کی طرح اس کی اس ادا پر بے پناہ پیار آیا اور وہ بے ساختہ بیڈ پر بیٹھ کر کہنی کے بل اس پر جھکتا اس کے گالوں پر بوسے دینے لگا ۔ مالا نے گھورتے ہوئے قلم کو کتاب پر پٹخا ۔ سرخ رنگ کے قمیض شلوار میں اس کے گال بھی سرخ ہو رہے تھے ۔
” تقی ۔۔۔ اب اگر یہ اٹھا نا تو آپ سنبھالیں گے اسے , میں پہلے ہی بتا رہی ہوں ” مالا نے دانت پیستے ہوئے خبرادر کیا
تقی نے مالا کی بات ان سنی کی اور مسکراتے ہوئے مازن کے ماتھے پر لب رکھ دیے وہ جو مسکرا رہا تھا , مسکراہٹ اور گہری ہوئی اور ننھا سا ہاتھ اوپر اٹھا ۔
” تقی ۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔۔۔۔ ” مالا دانت پیس کر آواز کو زبردستی مدھم رکھتی چیخ پڑی
جھنجلا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور پلنگ کے پاس آ کر مازن پر جھکے تقی کے کندھے کو ایک جھٹکے سے پیچھے کیا ۔
” آپ کو ایک دفعہ کی کہی ہوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کیا ؟ اٹھ گیا تو کہاں پڑھنے دے گا مجھے , رات کو تو اماں بھی نہیں سنبھالیں گی اسے ” ماتھے پر شکن سجائے چڑ کر کہا
تقی نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کا ہاتھ تھامے ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا ۔
” چلو ٹھیک ہے پھر یہ نہیں تو تم سہی ” شریر سے لہجے میں کہتے ہوئے اسے قریب کیا ۔
مالا بھرپور غصہ میں ہی ہنس دی اور لجائے سے انداز میں کلائی ایک جھٹکے سے چھڑوائی
” ہاں ۔۔۔ اور پڑھے گا کون ۔۔۔۔ اس کے ڈاکٹر ابا ” شرمیلی سی مسکراہٹ کو دبایا
تقی اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا , گہری شرارت بھری نگاہوں سے گھورتے ہوئے چہرہ قریب کیا
” چلو کیا یاد کرو گی آج کی چھٹی دیتا ہوں تمہیں ۔۔۔ ” باہیں کھولے بڑے فخر سے کہا اور آنکھ کو شرارت سے دبایا
” نہیں ۔۔۔ جی ۔۔۔ اپنا احسان اپنے پاس رکھیں اور چائے ۔۔۔ وہ نہیں لائے آج ” مالا نے کمر پر دونوں ہاتھ دھر کر رعب سے کہا ۔
ایک دن مالا اور ایک دن وہ مالا کے لیے چائے بنا کر لاتا تھا اور آج بھی بنا چائے ہی کمرے میں آ چکا تھا ۔
” تم دن بہ دن بدتمیز نہیں ہوتی جا رہی ۔۔۔۔ چائے کیوں بنواتی ہو مجھ سے ” تقی نے اسی کے انداز میں کمر پر ہاتھ دھرے شکوہ کیا
بھنویں اکٹھی کیے وہ مصنوعی غصہ دکھا رہا تھا ۔ مالا نے شرارت سے ناک چڑھائی ۔
” میں شروع سے ہی بدتمیز ہوں , البتہ آپ دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں ” ترکی با ترکی جواب دیا
تقی نے بے ساختہ قہقہ لگایا
” او۔۔۔ ہو ۔۔۔ خراب ۔۔۔ بتاتا ہوں ” تقی نے شرارت سے لب بھینچے اور قدم آگے بڑھائے ۔
ہنستے ہوئے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی وہ بدک کر پیچھے ہوئی ۔ تقی نے ایک ہی جست میں اس کا ہاتھ تھام کر قریب کیا جو اب کھلکھلاتے ہوئے تقی کی آنکھوں میں جھانک رہی تھی ۔
” آویں۔۔۔ں۔ں۔ں۔ اہ۔۔ اہ ۔۔ اہ۔۔۔” مازن کی چیختی ہوئی باریک سی رونے کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی ۔ وہ فورا سے ایک دوسرے سے الگ ہوئے
” دیکھا اٹھا دیا نا ۔۔۔ ” مالا جو مسکرا رہی تھی اب تیوری چڑھائی اور غصے سے کہا۔
تقی نے حیرت سے اس کے الزام پر منہ کھولا
” او۔۔۔ میں نے کب اٹھایا بھئی میں تو یہاں کھڑا ہوں تمھارے سامنے کیا اندھی ہو تم ” تقی نے ہاتھ ہوا میں اٹھائے اپنی صفائی پیش کی
” اور پھر کیا میں نے اٹھایا ہے , اتنی دفعہ کہا ہے سوتے ہوئے کو پیار مت کیا کریں پر نہیں ۔۔۔۔ میں تو پاگل ہوں نا ۔۔۔۔ ” وہ غصے میں بڑ بڑاتی اب پلنگ کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
تقی کمر پر ہاتھ دھرے لب بھینچے مڑا ۔۔۔
” مالا الزام ہے یہ ۔۔۔ سراسر الزام میں ادھر کھڑا ہوں میں نے کب اٹھایا اسے ” انگلی اٹھائے صفائی پیش کی
وہ مازن کو اپنے کندھے کے ساتھ لگائے تھپک رہی تھی جس کا باجا کسی صورت نہیں بند ہو رہا تھا ۔ گھور کر تقی کی طرف دیکھا اور بار بار مازن کو تھپکا وہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ مالا جھنجلا گئی ۔
” اب لیں چپ کرائیں اسے ۔۔۔ ” جھنجلا کر کہا
مازن غصے سے تقی کی طرف بڑھایا , تقی نے ناک پھلا کر دیکھا
” جان ہی چھڑاتی ہو ۔۔۔ ویسے اتنا پیار تھا بچوں سے اب سارا دن چچی سنبھالتی ہیں اور رات کو میں ” تقی نے تیوری چڑھائے شکوہ کیا
” ارے ۔۔۔ واہ۔۔۔۔یہ اچھی کہی ۔۔۔۔ آپ سارا دن گھر ہوتے ہیں کیا ۔۔۔؟ ” مالا غصےمیں دانت پیستی اب مازن کو پھر سے گلے لگا چکی تھی جس کی ریں ریں کسی صورت نہیں بند ہو رہی تھی ۔
” نہیں ہوتا گھر , پھر بھی پتا تو ہے نا ۔۔ چچی سنبھالتی ہیں سارا دن ” تقی نے اس کی بات کی پھر سے نفی کی
” ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میں تو جھک مارتی ہوں نا سارا دن ” مالا روہانسی ہوئی
اس کے یوں رونے والی صورت بنانے پر تقی نے جھٹ ہتھیار پھینکے ۔
” میں نے کب کہا جھک مارتی ہو۔۔۔ اچھا اب تم تو نا رونا شروع کرنا , دونوں کو کیسے چپ کرواؤں گا ” تقی نے اس کے رونے جیسی صورت پر ہنسی دبائی
اس کے ہاتھ سے مازن کو پکڑا تو وہ جھٹ سے آنسو صاف کرتی میز کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
” اس کو فوارے کے پاس لے جائیں وہاں بڑا خوش ہوتا ہے , میرا ٹیسٹ ہے صبح میں پڑھ لوں تھوڑا ” شرارت سے نچلا لب دانتوں میں دبائے آنکھیں سکوڑ کر کہا
کرسی پر بیٹھ کر سر جھٹ سے کتاب پر جھکا لیا ۔
تقی نے ناک پھلائے گھور کر دیکھا اور پھر باجے کی طرح روتے مازن کو کندھے سے لگائے کمرے سے باہر نکل گیا ۔ اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا پھر مزے سے کتاب بند کیے پلنگ پر آ کر لیٹ گئی ۔۔۔ چائے کے بنا کہاں پڑھا جانا تھا ۔
ہنستے ہوئے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: