Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 5

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

کمرے میں ملگجا سا ندھیرا تھا تقی بیڈ پر چت لیٹا تھا اور ایک بازو موڑے آنکھوں پر رکھا ہوا تھا ۔ کُرتے کی آٸستین ہمیشہ کی طرح آگے سے موڑ کر تھوڑے اوپر چڑھا رکھے تھے ۔
کمرے میں پلنگ کے سرہانے لگے لکڑی کے میز پر پڑی کتابوں پر گرد کی مہین سی تہہ جمی تھی ، کرتی بھی کیا یہ بے جان کتابیں ان کو چھوۓ مہینوں بیت گۓ تھے ۔ کتابیں جمع کرنا ان کو پڑھنا اور پھر یوں سنبھال کر رکھنا تقی کا مشغلہ تھا ، پھر وہ ان پڑھی ہوٸ کتابوں کو بھی بار بار پڑھتا تھا ۔
اسے عام کتابیں رسالے نہیں اچھے لگتے تھے وہ تحقیق ، ساٸنس ، اسلامک تاریخ پر لکھی گٸ کتب پڑھنے کا شوقین تھا لیکن اب رمنا کے جانے کے بعد تو جیسے وہ کتابوں سے روٹھ گیا تھا اور کتابیں اس پر فقط نالاں گرد کی چادر اوڑھے ہوۓ تھیں ۔
ان کتابوں کو کسی کو ہاتھ لگانے کی اجازت بھی تو نہیں تھی شمو تمام کمروں میں جھاڑو کے بعد جھاڑ پونجھ بھی کرتی تھی پر یہاں تقی کی قیمتی کتابوں کی وجہ سے جھاڑ پونجھ اور دیگر صفاٸ سختی سے منع تھی وہ خود جب چاہتا تھا ان کو صاف کرتا تھا ۔ پر اب تو چھ ماہ سے وہ خود اپنا خیال کم رکھتا تھا تو ان کتابوں کی گرد کو کیسے صاف کرتا ۔
رمنا کو گزرے چھ ماہ کا عرصہ بیت چکا تھا پر جہاں تقی کی یہ حالت تھی وہاں گھر کے اور مکیں بھی ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آۓ تھے لیکن ان کے زندگی کے معاملات پھر بھی چلنے لگے تھے۔ لیکن تقی تو جیسے بس کمرے کا ہو کر رہ گیا تھا ۔ اب بھی کمرے کواڑ ، کھڑکی بند کیے پردے گراۓ وہ پلنگ چوکی پر نیم دراز تھا ۔ کہیں دور دماغ میں کچھ آوزیں اور یادیں اور کچھ گزرے لمحے اُبھر رہے تھے مندمل ہو رہے تھے۔
یار کے غم کو عجب نقش گری آتی ہے
پور پور آنکھ کی مانند بھری جاتی ہے
بےتعلق نہ ہمیں جان کہ ہم جانتے ہیں
کتنا کچھ جان کے یہ بےخبری آتی ہے
اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی
ہاتھ گُھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے
کتنا رکھتے ہیں وہ اس شہرِ خموشاں کا خیال
روز ایک ناؤ گلابوں سے بھری آتی ہے
زندگی کیسے بسر ہوگی کہ ہم کو
صبر آتا ہے نہ آشفتہ سری آتی ہے
کواڑ ہلکی سی دستک کے بعد کھلا اور پھر کسی کے قدموں کی چاپ قریب آ رہی تھی پر تقی نے نا تو بازو آنکھوں پر سے ہٹایا اور نا دیکھنے کی زحمت کی جو کوٸ بھی تھا اب اس کے پلنگ کے پاس بلکل پاس کھڑا تھا ۔ ایسے گھر کے مکین اکثر آتے تھے کمرے میں بس اس کو سویا دیکھ کر واپس چلے جاتے تھے ۔
وہ کھانا کھانے یا گھر کے دوسرے معاملات کے لیے کمرے سے باہر جاتا تھا اور پھر واپس کمرے میں ہی بند رہتا تھا ، ایک واحد مالا تھی جو کبھی کھیلتی ہوٸ یا پتاشے کھانے کی ضد لیے اس کے پاس آ جاتی تو پھر وہ اسے ٹال نہیں پاتا تھا ۔ پلنگ کے پاس کھڑے فرہاد کی بھاری سے آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا تھا ۔
” تقی ۔۔۔ تقی سن فرزانہ آپا بلا رہی ہیں باہر بس کچھ ہی دیر میں نکلنے والی ہے گھر کو ، ملنا نہیں ہے کیا ان سے ؟ “
فرہاد نے دھیمی سی آواز میں اس کا بازو تھام کر اسے فرزانہ کی واپسی کی خبر سناٸ ، تقی نے اُس کے یوں بازو ہٹانے پر کسلمندی سے آنکھیں کھول کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ سو رہا تھا ، پھر بکھرے سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ سر کو آہستگی سے اثبات میں ہلا دیا ۔
چادر جو پاٶں سے لے کر کمر تک تانے ہوۓ تھا خود سے اتار کر وہ ابھی سیدھا ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ کواڑ پر پھر سے آہستہ سے دستک ہوٸ ۔ فرزانہ چوڑیوں کی کھنک کے ساتھ کمرے میں داخل ہوٸ ، فرہاد اور تقی نے ایک ساتھ اس کی طرف دیکھا ۔ وہ غور سے تقی کا اور کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی ہاتھ میں خاکی پیپر میں کچھ لپٹا پکڑا ہوا تھا ۔
” فرہاد تو چل ذرا باہر مجھے تقی سے بات کرنی ہے “
فرزانہ نے فرہاد کی طرف گردن کا رخ تھوڑا سا موڑ کر اسے حکم دیا وہ فوراً حکم کی تعمیل کرتا ہوا سر ہلا کر باہر نکل گیا ۔
” کیسی ہو آپا اور حسن میاں کیسے ہیں ؟ آۓ ہیں کیا ساتھ تمھارے ؟“
تقی نے اس کی کھوجتی نگاہوں سے نظریں چراتے ہوۓ کتنے ہی سوال ایک ساتھ پوچھ ڈالے ، وہ کل رات سے آٸ ہوٸ تھی اور اب شام ہونے کو ہی تھی ، تقی کا یوں نادم ہونا بجا تھا ، وہ تاسف سے سانس باہر انڈیلتی اب میز کے پاس پڑی کرسی کو پلنگ کے قریب گھسیٹ رہی تھی ۔
” کتنا بدتمیز ہے نا تو ، چلو میری بات اور سہی ل
ملنے نہیں نکلا کمرے سے پر یہ حسن میاں ۔۔۔ حسن میاں ۔۔ بھاٸ کہا کر بہنوٸ ہے تیرا “
فرزانہ نے مصنوعی خفگی سے شکوہ کیا وہ جان بوجھ کر اس کے ساتھ یوں متوازن سا رویہ رکھ کر بات کر رہی تھی ، جس پر تقی کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری ۔ وہ کرسی پر بیٹھ چکی تھی اور پیپر میں لپٹا جو کچھ بھی وہ ساتھ لاٸ تھی گود میں رکھ لیا ۔
” تقی کیا حالت بنا لی ہے میرے ویر ، دیکھ جانے والے جاتے ہیں ان سنگ جا نہیں سکتے ہم “
فرازنہ کے لہجے میں درد تھا اور تقی کی اس حالت پر دکھ بھی تھا۔ وہ عجیب اداس آنکھیں لیے بیٹھا تھا ۔ کوٸ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ لاپرواہ ہر وقت پڑھنے والا تقی بھی رمنا کے لیے ایسے جذبات رکھتا تھا کہ نا صرف چھ ماہ سے وہ کمرے کا ہو کر رہ گیا تھا بلکہ اپنے سارے خواب بھی پسِ پشت ڈال چکا تھا ۔
” آپا جیسے وہ گٸ ہے ایسے کوٸ نا جاۓ ، آپ کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔ کچھ نہیں جانتی آپ ۔۔۔ “
کھوۓ سے لہجے میں وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے خودساختہ سرگوشی کر رہا ہو ، فرزانہ نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا ۔
” دیکھ تقی ، چھ ماہ ہونے کو آۓ ہیں تو نے زندگی کو وہیں روک دیا ایسا غلط ہے ۔۔۔ کیا تو سب بھول گیا تجھے تو آگے پڑھنا ہے ، ڈاکٹر بننے کا وہ خواب کہاں گیا بول “
فرزانہ نے آنکھیں اوپر اٹھاۓ تیوری چڑھا کر سوال کیا ، تقی کچھ دیر لب بھینچے خاموش رہا پھر بالوں میں ہاتھ پھیرتا سیدھا ہوا جو اب کافی بڑھ چکے تھے ۔
” اسی کے ساتھ دفن ہو گۓ خواب سارے آپا “
تقی کی آواز میں تھکاوٹ، تاسف ، کرب جھلک رہا تھا ، فرزانہ نے افسوس سے سر کو ہوا میں جنبش دی
” کیوں ہوۓ دفن وہ کہاں ایسا چاہتی تھی بول ۔۔۔۔وہ تو خود پڑھاٸ کی اتنی شوقین تھی ، اور دیکھ اس دن اگر ہمارے گاٶں میں کوٸ ہسپتال ہوتا تو شاٸد اس کی جو چند سانسیں باقی تھیں انہی کے بل بوتے پر وہ لوٹ آتی ۔۔۔۔۔“
فرزانہ نے جھک کر اس کے جھکے سر کے نیچے مضطرب چہرے کو دیکھتے ہوۓ سوال کیا تھا ۔ وہ آہستہ آہستہ نفی میں سر کو ہلا رہا تھا ۔
” تمہیں جانا ہے میں کچھ نہیں سنوں گی ، لاہور میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لے تجھے ڈاکٹر بن کر واپس آنا ہے اس گاٶں میں ہسپتال بنانا ہے “
فرزانہ اسے ان خوابوں کی یاد دلا رہی تھی جو اس نے اپنے اندر ہی کہیں دفن کر لیے تھے ۔ وہ رمنا ، فرزانہ آپا ، فرہاد اور منہا سے اکثر اپنے ان بڑے بڑے خوابوں کا ذکر کرتا تھا ،وہ ڈاکٹر بنے گا پھر یہاں ہمارے گاٶں میں ایک ہسپتال ہوگا بڑا سا ۔
” آپا ۔۔۔۔ لیکن “
تقی نے منہ سے الفاظ نکالے ہی تھے کہ فرازنہ نے فوراً بات کاٹ دی
” بس چپ کچھ نہیں سنوں گی ایسے کمرے میں بند رہ کر آگے نا پڑھنے کا فیصلہ کر کے ، تو خود کو تو مار ہی رہا ہے ساتھ اس کی روح کو بھی تکلیف دے رہا ہے جو ہمیشہ تیارا ہر کام میں ساتھ دیتی تھی ، دیکھ ہم سب کو وہ بہت پیاری تھی منہا کو دیکھ جس کے سنگ سنگ رہتی تھی ہر وقت ، غزالہ ممانی جس کی بیٹی تھی پر اب سب اپنی زندگی کے مصروفیت میں ہنستے بھی ہیں بولتے بھی ہیں۔ ان میں سے کوٸ بھی تمھاری طرح مجنوں نہیں بن بیٹھا جو زندہ ہیں وہ بھی تیری توجہ اور محبت کے حقدار ہیں “
فرزانہ بول کم ڈپٹ زیادہ رہی تھی ، اور یہ سب کرنے کے لیے اسے بلقیس نے ہی کہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں وہ فرزانہ سے نا صرف پیار کرتا ہے بلکہ بڑی بہن کی طرح اس کی ہر بات بھی مانتا ہے ۔
” اور یہ دیکھ اس دفعہ میں تیری پسند کے رنگ کا کُرتا کاڑھ کر لاٸ ہوں “
فرزانہ نے ہاتھ میں پکڑا خاکی لفافہ ایک طرف کیا اور اس میں لپٹا ہلکے نیلے رنگ کا قمیض شلوار آگے کیا جس کے گلے پر نفاست سے کڑھاٸ کی ہوٸ تھی ۔
” شکریہ آپا ۔۔۔۔ “
تقی نے آہستگی سے کہا ، اور پھر جوڑا ہاتھ بڑھا کر فرزانہ کے ہاتھ سے لے لیا ۔ وہ بہت خوبصورت کڑھاٸ کرتی تھی اور سب چھوٹوں کو ہمیشہ مختلف تحفے تحاٸف دیتی رہتی تھی ۔
” شکریہ نہیں چاہیے تمھارا مجھے تو بس یہ چاہیے کہ تو واپس آ جاۓ زندگی کی طرف “
فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ اپنی خواہش کا اظہار کیا ، تقی بھی مسکرا دیا ۔
” اچھا چل آجا باہر جلدی سے ، تیرے حسن بھاٸ بس جانے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ “
فرزانہ نے مسکراتے ہوۓ اسے اٹھنے کا کہا تو وہ بھی جوڑا ایک طرف رکھے سر ہلاتا ہوا پلنگ سے اٹھ گیا اور پھر فرزانہ کے پیچھے چل دیا ۔ فرزانہ کی باتوں کا واقعی بہت اثر ہوا تھا کہ رات کو وہ قندیل جلاۓ اپنی میز کی صفاٸ کر رہ تھا ۔
*********
مالا باورچی خانے میں دبے پاٶں آٸ تھی ، بھوک کم میٹھے کی طلب زیادہ ہو رہی تھی جو اسے یوں رات کے اندھیرے میں بھی باورچی خانے تک کھینچ لاٸ تھی ۔ جیسے ہی باورچی خانے میں داخل ہوٸ وہیں دروازے پر ہی قدم تھم گۓ باورچی خانے میں موجود قندیل کی ہلکی سی روشنی کے باعث وہ بمشکل دیکھ پا رہی تھی باورچی خانے کے کونے میں کوٸ لڑکی گھٹنوں میں منہ دیے رو رہی تھی بال کندھوں سے نیچے کمر تک بکھرے ہوۓ تھے ، اس کی سسکیاں پورے باورچی خانے میں گونج رہی تھیں ۔
مالا نے قدم آگے بڑھاۓ وہ ننگے پاٶں تھی شاٸد اسی لیے روتی ہوٸ لڑکی کو پتا نہیں چل رہا تھا کہ کوٸ باورچی خانے میں آیا ہے اور اب اس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
” کون ہو کیوں رو رہی ہو “
مالا نے پاس جا کر تھوڑا سا جھکتے ہوۓ پوچھا ، لڑکی کا وجود آہستہ آہستہ ہل رہا تھا، مالا کی آواز پر اس کا رونا ایک لمحے کے لیے بند ہوا ، لڑکی نے سر اوپر اٹھایا سفید لٹھے جیسے رنگت سیاہ آنکھیں جن میں سفید پتلی نہیں تھی گالوں پر بہتے آنسو اور ناک سے بہتا خون وہ رمنا تھی ۔۔۔
” آپا۔۔۔۔۔۔۔“
مالا نے حیرت سے کہا اور پھر جھٹ سے رمنا کے گھٹنے تھام کر اس کے بلکل پاس بیٹھ گٸ
” آپا ۔۔۔۔ تم آ گٸ ؟ ۔۔۔ کہاں گٸ تھی آپا ؟ ، اللہ نے بھیج دیا کیا واپس ؟ مٹی کے نیچے سانس کیسے لیتی تھی ؟ “
کتنے ہی سوال اس نے رمنا سے پوچھ ڈالے تھے جو ان چھ ماہ میں اس کی قبر دیکھ لینے کے بعد اس کے معصوم ذہن میں پنپتے رہے تھے ۔ رمنا بلکل خاموش تھی بس آنسو بہہ رہے تھے ۔
” آپا بولو تو ۔۔۔۔۔۔کچھ تو بولو نا ۔۔۔ “
مالا نے ہاتھ آگے کیے محبت سے اس کی ٹھوڑی کے نیچے اپنا ہاتھ رکھا رمنا کا آنسو آنکھ سے نیچے گرا اور مالا کی ہتھیلی پر گرتے ہی بٹن بن گیا وہی بٹن جو مالا کو اس کی مٹھی میں سے ملا تھا ۔
” ہاں ۔۔۔۔ آپا یہ تمھارا بٹن ہے ۔۔ اس دن تمھارے ہاتھ میں تھا نا “
مالا نے جھٹ اس بٹن کو پہچان لیا
” مجھے معاف کر دو آپا یہ میں نے اپنی گڑیا کے گلے میں ہار بنا کر ڈال دیا تھا “
مالا نے ڈرتے ہوۓ رمنا سے معافی مانگی ، رمنا کے آنسو اور تیزی سے بہنے لگے تھے ۔
” آپا رو مت یہ لے لو اپنا بٹن ۔۔۔ آپا لے لو اپنا بٹن “
مالا ہاتھ آگے بڑھاۓ بار بار رمنا کو بٹن دے رہی تھی ، اچانک رمنا اس کی گود میں گری تھی ۔ اور اس کی پیٹھ کے پیچھے خنجر پیوست تھا ۔ جس میں سے خون نکل رہا تھا ۔
مالا نے چیخ ماری تھی ، اتنی بھیانک چیخ کہ اس کی آنکھ کھل گٸ تھی ۔ خواب سے جاگ کر وہ کانپ رہی تھی اٹھ کر اپنے بستر پر بیٹھ گٸ ۔ خنجر کا رمنا کی پیٹھ میں پیوست ہونا اس کے لیے اس دن رمنا کے گر جانے سے زیادہ خوفناک منظر لگا تھا کیونکہ خنجر ، چھری ان چیزوں سے وہ بکروں اور مرغیوں کو زبح ہوتے اکثر دیکھتی تھی ۔
کمرے میں دوسرے کمرے کی قندیل کی مدھم سی روشنی تھی کچھ دور لکڑی کے جھولے میں رملا بے خبر سو رہی تھی ، یہ کمرہ پہلے اس کا اور رمنا کا ہوتا تھا اور اب رملا کا جھولا اس کمرے میں آ گیا تھا ۔
مالا نے آہستگی سے پاٶں زمین پر اتارے وہ اب بھی کانپ رہی تھی گردن اور ماتھے پر پسینہ تھا جلدی سے اس نے آگے بڑھ کر کمرے کی بتی کو جلایا اور پھر ایک طرف پڑے جوتے کے ڈبے کی طرف بڑھی جس میں اس نے اپنی گڑیا اور سامان کو رکھا ہوا تھا ۔
زمین پر بیٹھ کر ڈبہ کھولا تو اس میں گڑیا کے گلے میں بٹن موجود تھا جو اس نے ایک دھاگے میں باندھ کر اس کے گلے میں ڈال دیا تھا ۔ کچھ دیر یونہی گڑیا کو دیکھتے رہنے کے بعد وہ آ کر پھر سے بستر پر لیٹ گٸ تھی پر عجیب سا خوف تھا جو سونے نہیں دے رہا تھا ۔ مالا کی سسکیاں پھر سے سناٸ دے رہی تھیں اسے بہت کم خواب آتے تھے ۔ اور آج کا خواب ۔ ۔۔ خواب کم حقیقت زیادہ لگ رہا تھا وہ سرپٹ دوڑی اور اپنے کمرے سے ملحقہ کمرے میں داخل ہوٸ جہاں غزالہ اور نوازش پلنگ پر سو رہے تھے ۔ وہ پلنگ پر چڑھی اور پھر غزالہ اور نوازش کے درمیان میں لیٹ کر آنکھیں موند لیں ۔
*******
یہ چوہدری حاکم کی بیٹھک تھی جو حویلی کے بیرونی برانڈوں کے ساتھ بناٸ ہوٸ تھی ۔ یہ بیٹھک کم ھال زیادہ تھی ۔ اس میں لکڑی کے بہت سے صوفے لگے تھے اور ان کے آگے لکڑی کے میز پڑے پڑے تھے ۔ جن کے اوپر بڑی نفاست سے میز کور بچھاۓ ہوۓ تھے ۔
ایک طرف دیوار میں بڑی سی الماری تھی جس میں دو کواڑ والے دروازے لگے تھے پر اس کے ایک طرف ویسے ہی دیوار میں سلیب بناٸ گٸ تھیں جہاں مختف سجاوٹی پیس رکھے ہوۓ تھے اور کچھ پینٹنگز دیوار سے لٹک رہی تھیں ۔ سلیب پر بھی سفید کپڑے پر کڑھاٸ کیے ہوۓ کور بچھا کر سجاوٹی پیس رکھے گۓ تھے ۔
الماری کے ساتھ ہی چوہدری حاکم کے حقوں کی قطار لگی تھی ، چھوٹے بڑے کتنے ہی حقے تھے جو برانڈوں میں ہونے والے اجتماع کے وقت سلگا سلگا کر مہمانوں کے آگے پیش کیے جاتے تھے ۔ ایک طرف لکڑی کا پلنگ لگا تھا جس پر بہت سارے چمکتے ہوۓ گاٶ تکیے پڑے تھے سنہری رنگ کے چمکتے گاٶ تکیوں پر نیلے حروف میں شادی مبارک لکھا تھا ۔
چوہدری حاکم اس وقت پلنگ پر لیٹے تھے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر چڑھا رکھی تھی ۔ یہ دوپہر کا وقت تھا جب وہ کچھ دیر آرام کی غرض سے بیٹھک میں سے سب کو رخصت کر دیتے تھے ۔
اب بھی وہ نقیب حاکم کے بیٹھک میں آنے سے پہلے ہلکی سی غنودگی میں ہی تھے جب نقیب حاکم نے کسی ضروری بات کہنے کی غرض سے اجازت طلب کی اور جو ضروری بات نقیب حاکم نے کی تھی اس پر چوہدری حاکم کا تو پارہ چڑھ گیا تھا۔
” دیکھ نقیب حاکم ، تیرے پتر نے مجھے کہا دا جی بس دسویں جماعت کروں گا بس پھر ابا اور آپ کے ساتھ آ جاٶں گا “
چوہدری حاکم کی پیشانی پر بل پڑے تھے اور ان کی بارعب آنکھیں جن کے گرد جھریاں آنے کے بعد بھی ان کا رعب اور دبدبا نہیں گیا تھا غصے سے سُکڑ کر شیر کی آنکھ جیسا تاثر دے رہی تھیں۔ وہ اب اُٹھ کر پلنگ پر ہی بیٹھ چکے تھے جبکہ نقیب پاس پڑی کرسی پر مٶدب انداز میں بیٹھا تھا ۔
اس نے چوہدری حاکم سے تقی کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو دراصل دل میں دبی ان کی اپنی بھی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے۔ پر چوہدری حاکم کے تیور بتا رہے تھے ان کو یہ بات بہت ناگوار گزری ہے ۔
” اس کے بعد وہ دسویں سے آگے ضد پر آ گیا بارہویں تک پڑھوں گا بس دا جی شہر جانے دیں ، اور اب کہتا ہے ڈاکٹری مکمل کرے گا “
چوہدری حاکم نے ہوا میں ہاتھ کھول کر استہزایہ گھمایا ، نقیب نے جلدی سے سر نیچے جھکایا
” ابا جی چھوٹے ہوتے سے بس یہ ہی خواب دیکھا اس نے ڈاکٹر بنے گا گاٶں میں ہسپتال بناۓ گا “
نقیب نے سر جھکاۓ ہی اپنی بات مکمل کی ۔
” او۔۔۔۔ رہنے دے نقیب حاکم ، یہ سب باتیں ہیں ایک دفعہ وڈے(بڑے) شہر گیا بس ہاتھ سے نکل گیا سمجھا ، پھر یہ کہے گا مجھے ملک سے باہر جانا ہے اور بس پھر میں اور تم بیٹھے رہیں گے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نقی کے جوان ہونے کے انتظار میں “
چوہدری حاکم نے ہتک آمیز لہجے میں نقیب کو آٸینہ دکھایا ۔ یہ ان کے دل کے وسوسے تھے جو وہ نقیب حاکم پر ظاہر کر رہے تھے ۔
” نہیں ۔۔۔ ابا جی تقی بلکل نہیں ایسا کرے گا وہ ڈاکٹری بھی کرے گا اور گاٶں میں رہے گا بھی ، یہاں لمبرداری کا بھی سب سنبھالے گا اس نے خود کہا ہے مجھ سے “
نقیب نے التجاٸ لہجے میں بیٹے کی سفارش کی ، چند پل کے لیے بلکل خاموشی رہی پھر چوہدری حاکم کی آواز گونجی
” تو پھر ایک شرط ہے میری بھی ، اگر وہ یہ چاتا ( چاہتا ) ہے کہ میں اس کی بات مان کر اسے لاہور بھیج دوں اور ڈاکٹری کی تلیم(تعلیم ) کا سارا خرچ اس کا اٹھاٶں تو پھر اس کو کہہ میری ایک بات مان کر اس پر عمل کر کے جاۓ “
چوہدری حاکم ایک جھٹکے سے پلنگ پر سے اٹھے تھے اور اب سیدھے کھڑے اپنی مونچھوں کو تاٶ دے رہے تھے
” کیا۔۔شرط ابا جی “
نقیب نے پرتجسس لہجے میں پیشانی پر افقی رخ بل ڈالتے ہوۓ پوچھا
” میں نے رمنا کا رشتہ تقی سے چھ سال پہلے اس لیے کیا تھا کہ نوازش کا دل تم سے اور خدیجہ کی طرف سے بلکل صاف ہو جاۓ اور تم دونوں بھاٸ ہمیشہ یونہی گٹھ جوڑ کے ساتھ رہو ، تم جانتے ہو مجھے جتنی محبت تم سے ہے اتنی ہی نوازے سے ہے “
چوہدری حاکم کا لہجہ اچانک ہی رعب سے نرمی میں تبدیل ہو گیا تھا ۔ وہ اب سنجیدگی سے غیر مرٸ نقطے کو گھور رہے تھے ۔
” تم جانتے ہو اس کی صحت بھی اتنی ٹھیک نہیں رہتی اور پھر رب نے اولاد نرینہ نہیں دی ، اور اب تو جوان اولاد کا غم ۔۔۔۔ آ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔“
چوہدری حاکم کے دل سے جیسے ٹیس اٹھی تھی اپنے بیٹے کو یوں اداس دیکھنا سوہان روح تھا ان کے لیے ، وہ اپنی دوسری بیوی عصمت آرا سے بے پناہ محبت کرتے تھے باپ نے لوگوں کی طعنوں سے بچنے کے لیے گھر میں پناہ دی ہوٸ خدیجہ سے شادی کروا دی تھی حلانکہ اس وقت خدیجہ ان سے بڑی بھی تھی ، بعدازاں ان کو خدیجہ سے بھی بے پناہ الفت ہو گٸ تھی پر عصمت آرا کی جگہ اپنی تھی اس لیے عصمت آرا جب نوازش کی پیداٸش پر ہی ان کو چھوڑ گٸ تو وہ بہت دکھی ہوۓ تھے اور اب عصمت آرا کی آخری نشانی نوازش سے بھی ان کو وہی محبت تھی۔
” تو ابا جی ۔۔۔ آپ جانتے ہیں رمنا اور تقی کے رشتے پر میں اور بلقیس کیا تقی خود بھی دل سے راضی تھا “
نقیب نے ان کے یوں پریشان اور اداس سے لہجے کے پیش نظر وضاحت دی
” ہممم جانتا ہوں یہ سب۔۔۔پر اب میں یہ چاہتا ہوں تقی کی شادی مالا سے ہو جاۓ “
چوہدری حاکم نے پیچھے ہاتھ باندھے لب بھینچ کر اپنا فیصلہ سنایا ، دوسری طرف نقیب حاکم کی آنکھیں پوری کھل گٸ تھیں
” ا۔۔۔ا۔۔۔۔با۔۔ابا جی ۔۔۔ مالا ۔۔؟ “
نقیب کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اسے بلکل توقع نہیں تھی کہ چوہدری حاکم یہ شرط رکھیں گے
” ہاں مالا ۔۔۔ اسے کہو مالا سے عقد کرے اور جاۓ پڑھ لے جتنا پڑھنا چاہتا ہے “
چوہدری حاکم نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا ، نقیب کے تو چھکے چھوٹ گۓ تھے
” پ۔۔پر ابا جی مالا بہت چھوٹی ہے ۔۔نکاح ۔۔“
نقیب حاکم حیرت زدہ تو تھا ہی اب پریشان بھی ہو گیا تھا
” ہاں تو عقد ہی کرے گا نا اب ، رخصتی تو مالا کے جوان ہونے پر کریں گے نا جب یہ پڑھاٸ سے فارغ ہو کر نو سال بعد آۓ گا تب ہی کریں گے مالا جب بیس ، باٸیس کی ہو جاۓ گی “
چوہدری حاکم نے پیچھے باندھے ہاتھ میں سے ایک ہاتھ باہر نکال کر سیدھا کھڑا کیا اور وثوق سے اپنی بات کہی
” ابا ۔۔۔جی لیکن ۔۔“
نقیب حاکم نے الجھ کر ڈرتے ہوۓ کہنا چاہا وہ جانتا تھا تقی کسی صورت ایسے رشتے پر راضی نہیں ہو گا اور نا ہوا تو سمجھو اپنے خواب سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا
” لیکن ویکن کچھ نہیں ، اگر تم یہی سوچ رہے ہو کہ تقی نہیں مانے گا تو ٹھیک ہے نا مانے پر یہ بھی ہو سکتا ہے کچھ سالوں بعد جب مالا جوان ہو جاۓ تب بھی میرا فیصلہ اس کے لیے یہی رہے ، پھر تو نا وہ ڈاکٹر بن سکے گا اور نا ۔۔۔ “
چوہدری حاکم کا لہجہ پھر سے بارعب اور گرج دار ہو گیا تھا ، نقیب بس خاموش کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
********
یہ تقی کا کمرہ تھا جہاں اس وقت وہ غصے میں سرخ چہرہ لیے میز کے پاس کھڑا تھا اور سامنے بلقیس اور خدیجہ بیگم کھڑی تھیں ۔
” مجھے حیرت ہے آپ سب کی ذہنیت پر مالا چھ سال کی ہے اور میں بیس کا ہوں “
تقی کی آواز کہیں دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی ، اس نے تاسف سے سامنے کھڑی بلقیس کو اور بی جان کو دیکھا
” بلقیس پیچھے ہو ذرا کی ذرا “
خدیجہ بیگم نے بلقیس کو کندھے سے تھام کے پیچھے کیا جو بیٹے کی بچارگی پر اب پگھلنے کو تھی۔ نقیب حاکم کے بہت سمجھانے پر بھی جب وہ مالا کے ساتھ نکاح پر نہیں مانا تو اب خدیجہ بیگم اور بلقیس اسے سمجھا رہج تھیں ۔
” تو جب پڑھ کر واپس آوۓ گا تو وہ کیا چھ سال کی عمر پر ہی رک جاوے گی ، یہ لونٹھے کی طرح جوان ہووۓ گی اگلے تین چار سال میں “
خدیجہ بیگم نے آنکھیں سکیڑی تھیں ۔ بلقیس نے ہاتھ مڑوڑتے ہوۓ تقی کی طرف دیکھا جو شکن آلودہ پیشانی لیے کھڑا آج پہلی دفعہ بی جان کو بھی گھور رہا تھا ۔
” تو بی جان میں بھی تو بیس سال پر ہی نہیں رک جاٶں گا نا ، ویسے بھی رمنا نہیں ہے تو کیا مالا ہی ہے بس “
تقی بہت کاٹ دار لہجہ اپناۓ ہوۓ تھا ، غصے کا تو ازل سے ایسا ہی تھا اب اس افتاد نے تو سوا نیزے کو چھونے پر مجبور کر چھوڑا تھا موۓ کو
” ہاں بس مالا ہی ہے ، مت اتنی بحث کر مت کر نہیں جا سکے گا پڑھنے “
بلقیس نے گڑبڑا کر بی جان کے غصے کے پیش نظر بات کو سنبھالا
” بہو ۔۔۔پڑھنے نہیں بھی جاوۓ گا چوہدری حاکم شادی پھر بھی اس کی مالا ہی سے کرواٸیں گے ، دماغ متی خراب کیجیو اپنے لال کا “
خدیجہ بیگم نے گھور کر بلقیس کو دیکھا جو اب نگاہیں چرا رہی تھیں ، کواڑ کا پٹ ایک دھماکے سے دیوار میں لگا تھا اور وہ تیر کی سی تیزی کے ساتھ بھاگتی ہوٸ آ کر تقی کی ٹانگوں کے ساتھ چمٹ گٸ ، اس آفت کے پرکالا کی آمد پر سب یکایک کھلے منہ سے اب اسے تاک رہے تھے ۔
” مالا ۔۔۔۔ مالا ۔۔۔۔۔“
غزالہ جو اس کے پیچھے چیختے ہوۓ کمرے میں داخل ہوٸیں تو ایک دم سے خدیجہ بیگم کو وہاں دیکھ کر دروازے میں ہی قدم جم گۓ ، عجلت میں کھینچ کر دوپٹہ سر پر درست کیا جو مالا کے پیچھے بھاگنے میں سر پر سے سرک گیا تھا ، سانس بھی پھولی ہوٸ تھی ۔
” تقی بھاٸ بچاٶ اماں جان مارتی ہیں “
معصوم سی باریک آواز میں وہ تقی کے ٹانگوں کے پیچھے چھپی اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے کھڑی مدد طلب کر رہی تھی ، خدیجہ بیگم جو اب تک منہ کھولے کھڑی تھیں گڑبڑا کر گویا ہوٸیں
” غزالہ پکڑ اس کو کیسے چمٹی کھڑی ہے تقی کے ساتھ بے شرم کہیں کی “
خدیجہ بیگم نے غزالہ کو گھوری ڈالی وہ بدحواس سی آگے بڑھیں
” بی جی چھوٹی ہے “
بلقیس نے جلدی سے غزالہ کی شرمندگی کم کرنے کو خدیجہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا
” زیادہ بھاشن متی دیو مجھے پکڑ لڑکی کو “
خدیجہ بیگم نے غصے سے کہا ، غزالہ اب مالا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور مالا تقی کی ٹانگوں کے گرد گرفت مضبوط کرتی جا رہی تھی
” تقی بھاٸ اماں جان منہ دھلوا رہی ہیں مجھے نہیں دھونا ہے “
مالا نے چہرہ اوپر اٹھاۓ معصومیت سے تقی کی طرف دیکھ کر کہا
” چچی جان ۔۔ چچی جان چھوڑیے “
تقی نے غزالہ کے ہاتھ سے مالا کا بازو چھڑوایا اور خود نیچے بیٹھ کر مالا کو کندھوں سے تھام لیا ۔
” مالا منہ دھونا اچھی بات ہے نا جاٶ اماں خفا ہوں گی اور میں پھر مٹھاٸ نہیں لاٶں گا سمجھی “
تقی نے ملاٸم سے لہجے میں مالا کے گال پر ہاتھ رکھے سمجھایا تھا
” تقی بھاٸ آپ دھلوا دو منہ “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: