Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 6

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

وہ تقی سے منہ دھلوانے کی فرماٸش کر بیٹھی تھی اور باقی نفوس ہکا بکا دیکھ رہے تھے ۔ اس کی چہرے پر جگہ جگہ چپچپاہٹ کے نشان تھے جن پر اب مٹی چپکی تھی، مالا کی اس نوکھی فرماٸیش پر خدیجہ بیگم کی پیشانی مزید شکن آلودہ ہوٸ ۔
”غزالہ پکڑ لڑکی کو لے جا کمرے میں ، بے شرم بھاٸ بھاٸ لگی ہے اس کو ، کل اس سے نکاح ہو جاوے گا سمجھا اس کو بھاٸ مت بولے “
خدیجہ نے ماتھے پر سو بل ڈالے غزالہ کو گھورتے ہوۓ مالا کو الگ کرنے کا حکم دیا ، غزالہ گڑبڑا کر آگے بڑھی اور پھر مالا کو زبردستی کھینچتے ہوۓ باہر لے گٸ جو باہر جاتے ہوۓ بھی گلا پھاڑے رو رہی تھی ۔ جیسے ہی غزالہ کمرے سے باہر نکلی تقی بے زار سا اٹھ کر کھڑا ہوا ۔
” آپ لوگ ایسا کریں مالا کو چھوڑیں ، رملا سے ہی شادی کروا دیں میری اور جب تک وہ جوان ہو گی میں شاٸد اس دنیا سے ہی رخصت ہو جاٶں ، کب ختم ہوں گی یہ دقیانوسی روایات “
تقی ضبط کے آخری دہانے پر تھا ایسا لگ رہا تھا ابھی پھٹ جاۓ گا ۔ مالا کے رونے کی آوازیں اب بھی سناٸ دے رہی تھیں ۔ خدیجہ بیگم نے تقی کے یوں بھڑک اٹھنے پر غصیلی نگاہوں سے گھورا
” بک بک بک ۔۔۔ کرے ہی جاوے ہے گھوڑا کہیں کا ، بلقیس اپنے لال کو اچھے سے سمجھا دیو اس کا بیاہ مالا سے ہی ہووے گا ، میں جا رہی ہوں مجھ سے نا برداشت ہووے اس کی یہ طوفانِ بدتمیزی “
خدیجہ بیگم نے ہاتھ ہوا میں معلق کیے کہا اور سارا کچھ بلقیس کے کندھوں پر منتقل کرتی خود توبہ توبہ کرتے ہوۓ باہر نکل گٸیں ۔ بلقیس نے ابھی نگاہ اٹھا کر تقی کی طرف دیکھا ہی تھا کہ وہ جھنجلا کر گویا ہوا
” اماں عجیب جاہلانہ بات ہے یہ ، چلیں میرا کسی کو خیال نہیں مگر وہ کتنی چھوٹی ہے یہ کیا اس پر ظلم نہیں؟ “
تقی خدیجہ بیگم کے جاتے ہی ماں پر برس پڑا تھا ، بلقیس محبت سے آگے بڑھیں اور تقی کو کندھوں سے تھام لیا
” حضرت عاٸشہ جب نبی پاک ﷺ کے زوجیت میں آٸ تھیں آپ بہت چھوٹی تھیں اور پیارے نبی کی عمر پچاس برس سے زیادہ تھی ، ہمارے مزہب میں شادی کے لیے عمروں کی کوٸ قید نہیں ہے ہمارے نبی مثالیں ہمارے لیے ہی قاٸم کر گۓ ہیں ، یہ تو محبت کے ناطہ ہے بس میں بھی تو تیرے ابا سے بارہ سال چھوٹی ہوں ، کیا کمی ہے ان کے اور میرے رشتے میں “
بلقیس بیگم بہت شاٸستگی سے اسے سمجھا رہی تھیں مگر لہجے میں کہیں نا کہیں التجا ضرور تھی ، تقی نے ان کی بات پر بچارگی سے دیکھا اس کے سارے کے سارے دلاٸل بلقیس کی اس مثال کے آگے دھرے کے دھرے رہ گۓ تھے ۔
” اماں۔۔۔۔۔۔“
الجھے سے لہجے میں کہتا وہ بات کو درمیان ہی چھوڑ گیا وہ لوگ کسی بات کو نہیں سمجھ رہے تھے ۔ یہاں حویلی میں انسانوں کا ھال بھی بھیڑ بکریوں جیسا تھا جب چاہا جس بھی کھونٹے سے باندھ دیا ۔
” مان جا پتر۔۔۔۔ نا اپنے باپ کا سر نیچا کر اپنے داجی کے سامنے ، معاملا اور ہے داجی بس نوازش کی عادت سے گھبراتے ہیں ، پہلے بھی آٹھ برس اس کے بغیر بہت مشکل سے کاٹے انہوں نے “
بلقیس اب اس کی منت سماجت پر اتر آٸ تھی ، جو اب بھی ایسے کھڑا تھا جیسے اس کو عمر قید کی سزا سنا دی گٸ ہو ۔ تقی نے بے حال ہو کر ہاتھوں میں سر جکڑ لیا
” اماں بات صرف اتنی سی نہیں ہے ، وہ جب بڑی ہو گی میں بڈھا ہوں گا تب کیا اس کے دل میں ایسا کچھ نہیں آۓ گا ، اور میرے دل میں وہ ایک چھوٹی سی بچی کا مقام رکھتی ہے میں اسے وہ مقام ۔۔۔۔۔ کیا بکواس ہے اماں یہ “
تقی نے زور سے بازو نیچے ڈھلکاۓ ، بھنویں اوپر چڑھاۓ ماں سے ایک اور مسٸلہ پیش کر دیا
” مرد چالیس کا بھی ہو تو جوان ہی ہوتا ہے، اور تو ماشااللہ اتنا پیارا ہے مالا تو بہت محبت کرے گی تجھ سے دیکھ لینا تو “
بلقیس نے بے اختیار اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھر لیا ، خوبرو تو وہ تھا ہی ، ناک نقش ایسے کہ کوٸ ایک نظر ڈالے تو پھر مڑ کر ضرور تاکے ، قد کاٹھ رنگ و روپ اچھا تھا پر تھوڑا دبلا تھا وہ بھی اپنی عمر کے لحاظ سے ، بلقیس اس کے ماتھے پر بوسے دے رہی تھی اور وہ ماں کے لیے نیچے کو جھکا بس بےزار کھڑا تھا ۔
*******
حویلی مہمانوں سے بھری ہوٸ تھی ، کیا اٹاری کیا صحن سب جگہیں قریبی رشتہ داروں سے کھچاکھچ بھری ہوٸ تھی ، وہ سب کے سب آج دس ماہ بعد پھر سے حویلی میں جمع تھا بس اس دفعہ کوٸ گانا بجانا اور شوروغل نہیں تھا جیسے فرزانہ کی شادی پر تھا ۔
اور ویسے بھی یہ تو صرف نکاح کی تقریب تھی جس میں نکاح کے بعد مہمانوں کو کھانا کھلا کر فارغ کر دینا تھا ۔ صحن میں دھوپ تھی پر نیم کے گھنے درختوں کے نیچے چھاٶں میں چارپاٸیاں ڈال کر کٸ خواتین بیٹھی ہوٸ تھیں ۔
کمرے میں مالا کو سرخ جوڑا اور گوٹے والا دوپٹہ پہنایا کر بٹھایا ہوا تھا ۔ جوڑا غزالہ نے نیا سلاٸ کیا تھا اس کا ہر دوپٹہ اس کی شادی کا ہی تھا جو اس نے مالا کو اوڑھا دیا تھا ، وہ چھوٹی سی پورے دوپٹے میں ڈھک گٸ تھی ۔ وہ بار بار دوپٹے سے الجھ کر اسے سر سے اتار رہی تھی ۔ غزالہ جو سامنے کھڑی اسے چپ بیٹھنے کی نصیحت کر رہی تھی ، نظر بھر کے مالا کو دیکھا تو آنکھیں بھر آٸیں۔
وہ ویسے بھی آج صبح سے کونوں کھدروں میں گھس گھس کر کتنی دفعہ رو چکی تھی رمنا بہت یاد آ رہی تھی جوان بیٹی چاہے اپنے دل کی بات ماں سے نا کہے پر ماں اس کے جذبات سے باخوبی واقف ہوتی ہے اور غزالہ جانتی تھی رمنا تقی کے نام پر ہی گلال ہو جایا کرتی تھی ۔
اب بھی مالا کو یوں رمنا کی جگہ سرخ جوڑے میں دیکھ کر ایسے دل میں ٹیس اٹھی کے وہ نگاہیں چراتی باہر اٹاری کے ستون کے پاس آ کر بھیگی آنکھیں پونچھنے لگی ۔ کتنے ہی پل رمنا کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے پل آنکھوں کے آگے سے گزر گۓ ، وہ یونہی دوپٹے کے پلو سے نم آنکھوں کو صاف کر رہی تھی جب پیچھے سے اسے آواز سناٸ دی ۔
” آپا ۔۔۔ مالا کہاں گٸ ؟ مولوی صاب (صاحب ) نکاح پڑھانے آ رہے ہیں ادھر کو ہی “
غزالہ کی چچا زاد بہن نے آ کر غزالہ کا کندھا جنجھوڑ دیا ، وہ پریشان حال تھی ۔ غزالہ جلدی سے اس کے سنگ آگے بڑھی تھی کہ منہا تیز تیز قدم اٹھاتی غزالہ تک آٸ
” چچی ۔۔۔چچی ۔۔ وہ مالا وہاں درخت کے نیچے سکینہ کے ساتھ کھیل رہی ہے میں اگر لانے کی کوشش کر رہی ہوں تو مار رہی ہے مجھے “
منہا نے حواس باختہ مالا کی کارستانی بتاٸ ، غزالہ نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا اور پھر فوارً زینے اترتی نیم کے درخت کی طرف بھاگی اس سے پہلے کہ کسی اور مہمان کی نظر مالا پر پڑ جاۓ وہ اس کو واپس کمرے میں لانا چاہتی تھی ۔
سامنے ہی نیم کے درخت کے نیچے سفید چاک سے چھوٹے چھوٹے خانے زمین پر کھینچ کر وہ بنا دوپٹے دو چٹیاں گھماتی زمین پر پڑے چھوٹے سے پتھر کو ایک ٹانگ اٹھا کر پاٶں مارتی ہوٸ ایک خانے سے دوسرے خانے میں چھلانگ لگا رہی تھی ۔ سکینہ اس کے بلکل پاس کھڑی تھی ۔ غزالہ کا اسے اس حالت میں دیکھ کر پارہ چڑھ گیا تقریباً بھاگتی ہوٸ وہ مالا کے پاس آٸ ۔
” مالا ۔۔۔۔ مالا ۔۔۔۔ چل ۔۔چل کمرے میں “
وہ غصے سے مالا کو گھور رہی تھی ایسے جیسے مالا کو کچا چبا جاۓ گی غزالہ کو دیکھتے ہی مالا نے زبان دانتوں میں دبا لی تھی کیونکہ غزالہ نے اسے سختی سے کمرے سے باہر نکلنے سے منع کیا تھا ۔ غزالہ نے آگے بڑھ کر اس کے بازو کو ایک جھٹکے سے دبوچا وہ ہل کر رہ گٸ تھی ، غزالہ اب اسے کمرے کی طرف کھینچ رہی تھی
”اماں ۔۔۔ مجھے کھیلنا ہے ، سکینہ میری باری لے لے گی “ وہ ہاتھ لمبا کیے کھیلنے کے لیے بضد تھی ، بچی تھی صبح سے کمرے میں بند کر رکھا تھا کب تک یہ قید برداشت کرتی ، جیسے ہی دیکھا سب باتوں میں مگن ہیں دوپٹے کے نیچے سے غاٸب ہو کر باہر آ گٸ تھی ۔
اب غزالہ اسے زبردستی کمرے میں لے جا رہی تھی اور اردگرد بیٹھی بزرگ خواتین ایسے لطف اندوز ہو رہی تھیں جیسے یہ کوٸ پہلا واقعہ نہیں تھا ان کے لیے ۔ ایک بوڑھی عورت حقے کا کش لگا کر ساتھ والی سے گویا ہوٸ ۔
” میرا جس دن نکاح تھا تو وہ جو بڑا کڑاہایا ہوتا اس میں کھیل رہی تھی ، اماں آ کر جوتے مارتی لے کر گٸ ایسے ہی رو رہی تھی میں بھی ، اماں مرحومہ بتایا کرتی تھیں ۔۔۔“
بوڑھی ہنستے ہوۓ اپنے نکاح کا واقع دوسری سے گوش گزار کر رہی تھی ۔ اور جھری زدہ بوڑھی آنکھیں شاٸد وہ پل جی رہی تھیں ۔
غزالہ اس کو زبردستی کمرے میں لاٸ ، جلدی سے اس کے سر پر دوپٹہ سجایا ۔
مالا پھر بار بار جھنجلا کر گوٹے کناری والا دوپٹہ سر سے اتار رہی تھی جسے غزالہ اس کے سر پر درست کر رہی تھی۔ اتنی دیر میں ہی نوازش ، نقیب اور منیر کے ہمراہ مولوی صاحب کمرے میں ہلکی سی دستک کے بعد داخل ہوۓ سب خواتین جو اس وقت کمرے میں موجود تھیں کھینچ کر سروں پر دوپٹے لیے
نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کیا اور جب قبول ہے پوچھا تو پاس بیٹھی غزالہ کی بہن نے مالا کا سر پکڑ کر اثبات میں جھکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھ سالا مالا نوازش پل بھر میں ہی زوجہ تقی میں تبدیل ہو چکی تھی ۔ خواتین ایک دوسرے کے گلے مل رہی تھیں اور جسے خبر بھی نہیں تھی اس کے ساتھ کیا ہوا اسے بس باہر جا کر کھیلنے کی پڑی تھی ۔
*********
دوپہر کا وقت تھا ، حویلی خاموشی میں ڈوبی ہوٸ تھی۔ ہر کوٸ اپنے اپنے کمروں میں تھا ۔ مالا ننگے پاٶں اپنے کمرے سے چہکتی ہوٸ باہر نکلی ، وہی مخصوص انداز میں کندھوں تک آتے بالے جو بکھرے ہوۓ تھے ، چھوٹی سی فراک کے نیچے چست پاجامہ پہنے ، ایک ہاتھ کی مٹھی زور سے بند کر رکھی تھی ۔
اسی طرح بھاگتی ہوٸ وہ تقی کے کمرے میں داخل ہوٸ اور پردہ ایک ہاتھ سے پیچھے کیا ، تقی سامنے میز پر کتابوں کا ڈھیر لگاۓ کھڑا تھا اور اپنی کتابوں میں سے کتابیں نکال کر ایک بیگ میں بھر رہا تھا ۔ اچانک مالا کے یوں کمرے میں داخل ہونے پر ایک نگاہ اٹھاۓ اسے دیکھا اور پھر عجیب طرح سے نادم ہوا ۔ وہ تقی کے دیکھنے پر فوراً مسکراتی ہوٸ آگے بڑھی جبکہ تقی نے اس سے نگاہیں چراٸ تھیں ۔ اور جلدی سے اب وہ پلنگ پر رکھے بیگ میں میز سے کتابیں اٹھا کر رکھنے لگا تھا ۔
نکاح کو چار روز گزر چکے تھے اسے آج شام شہر کے لیے نکلنا تھا اور پھر وہاں سے لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا ۔
” تقی بھاٸ ۔۔۔۔ تقی بھاٸ ۔۔۔ “
مالا اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ اسے پکار رہی تھی ۔ وہ پلنگ کی طرف جاتا تو مالا بھی پلنگ کی طرف جاتی وہ میز کی طرف جاتا تو مالا بھی میز کی طرف آتی ۔
تقی اس کو دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا ، وقت اور حالات کی ستم ظریفی ہی ایسی ہوٸ تھی کہ کل تک جس مالا کی بات سننے کے لیے وہ دو زانو اس کے سامنے بیٹھ کر اس جتنا ہو کر اس کی بات سنتا تھا آج اس سے نگاہ تک نا ملا پا رہا تھا ۔
ملاتا بھی کیسے اس بے عقل کو تو پتا بھی نہیں تھا کل ہو جانے والے نکاح میں وہ اس کا بھاٸ نہیں رہا بلکہ اس کا شریک حیات بن گیا ہے ۔
” تقی بھاٸ ۔۔۔ سن بھی لو اب دیکھو تو میری طرف یہ اماں نے پیسے دیے ہیں مجھے پتاشے لینے ہے ان پیسوں سے ، مجھے دوکان پر لے چلو ساتھ “
مالا نے چہک کر اپنی ہتھیلی آگے کی جس پر دس پیسے کا سکہ پڑا تھا ۔ تقی نے جلدی سے رُخ موڑا ، وہ زندگی میں پہلی دفعہ مالا سے یوں بے اعتناٸ برت رہا تھا ۔
” مالا جاٶ یہاں سے ۔۔۔ اپنی اماں پاس جاٶ “
تقی نے سختی سے چہرہ موڑے اسے جانے کے لیے کہا جو تیکھی سی آواز میں بس اپنی ہی کہے جا رہی تھی ۔
” نہیں ۔۔۔ داجی باہر بیٹھے ہوں گے مجھے اور سکینہ کو جانے نہیں دیں گے دوکان پر ، آپ لے چلو نا مجھے ساتھ ۔۔۔ “
مالا کو اس کے بدلے رویہ کی کہاں سمجھ تھی وہ تو بس اپنا ہی راگ آلاپے جا رہی تھی ۔ اور اب تو باقاعدہ اس کے ہاتھ کو پکڑ کر جھول رہی تھی اور بضد تھی کہ جو جھٹ سے اس کو لے کر چل پڑتا تھا آج کیا ہوا اسے ایسے کیوں کر رہا ہے ایک وہی تو پوری حویلی میں اسے پیار کرتا تھا باقی تو کسی کے لیے وہ چنڈال تھی تو کسی کے لیے شیطان کی نانی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا چھوڑو مجھے ، جاٶ فرہاد پاس وہ لا دے گا “
تقی نے جھنجلا کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا تھا جو بات کو سمجھ نہیں رہی تھی اور اس کی برداشت آزما رہی تھی پتہ نہیں حویلی کے سارے مکین کہاں چھپے ہوۓ تھے جنہیں یہاں مالا نظر نہیں آ رہی تھی ۔
”نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ آپ چلو ۔۔۔بس چلو آپ ۔۔۔ تقی بھاٸ چلو نا “
وہ بچی تھی تو بچوں کی طرح ہی ضد لگا بیٹھی تھی ، اور تقی کا ضبط اب ختم ہونے کو ہی تھا اور پھر وہ ایک دم سے مڑا اور چٹاخ کی آواز کے ساتھ ایک زور دار تھپڑ مالا کے گال پر رسید کیا
” تمہیں ایک دفعہ کی ہوٸ بات سمجھ کیوں نہیں آ رہی ۔۔۔ جاٶ نکلو ۔۔۔ میرے کمرے سے ۔۔۔ نکلو ۔۔۔ اور خبردار دوبارہ میرے پاس آٸ ہو تو “
تقی کا لہجہ اور آواز کی کرختگی مالا کو تھپڑ سے زیادہ تکلیف دے گٸ تھی وہ جس کے منہ سے اس نے اپنے لیے ہمیشہ محبت بھرے الفاظ سنے تھے ، اس کا ہاتھ جس سے اس نے ہمیشہ پیار بھرا لمس پایا تھا آج ایسا وحشیانہ سلوک مالا کے ننھے سے دل کو دہلا گیا تھا ۔
وہ کانپ گٸ تھی اور وہیں حیرت زدہ کھڑی تھی ہاتھ سرخ ہوتے گال پر رکھا ہوا تھا ، آنکھوں میں انتہا درجے کی بے یقینی تھی ۔
” جاٶ۔و۔و۔۔و۔۔۔و۔ووو۔“
تقی پھر سے اونچی آواز میں دھاڑا تھا اب کی بار تو وہ بلبلا اٹھی اور پھر زارو قطار روتی سرپٹ دوڑی تھی ننگے پاٶں تھپ تھپ فرش پر مارتی اپنے کمرے کی طرف جہاں سے کچھ دیر پہلے وہ چہکتی ہوٸ نکل کر آٸ تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: