Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 8

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

” اچھا چل بتا فیل ہونے کے کیے کیا کیا کرنا ہو گا “
مالا نے ہاتھ کو درخت کے تنے پر دھرتے ہوۓ آگے ہو کر جوشیلے انداز میں پوچھا اور سکینہ جو اس کو اچانک یہ مشورہ دے کر اب پریشان صورت بناۓ بیٹھی تھی ۔ تھوک نگلا اور اس کے جوش سے گھومتے ڈیلوں کو دیکھا جو انوکھی سی چمک لیے ہوۓ تھے۔
” بتا نا ۔۔۔ کیا منہ میں گول گپہ ڈال کر بیٹھ گٸ ہے ، بول جلدی کیا کرنا پڑے گا مجھے کہ بس اماں ابا گھر میں بیٹھا لیں “
مالا نے حواس باختہ بیٹھی سکینہ کے بازو کو پکڑ کر جھنجوڑ دیا ، اس نے بے بسی سے مالا کی طرف دیکھا جو جواب کی بے تابی سے منتظر تھی
” مالا تجھے کچھ نہیں کرنا پڑے گا “
سکینہ نے آہستگی سے سچ اُگلا ، اور وہ تو چہک اٹھی
” سچی بتا ۔۔۔ شکر ہے شکر ہے ۔۔۔ میں سوچ رہی تھی اب فیل ہونے کو پتا نہیں کیا کرنے پڑے گا ، ہاۓ مزے سے گھر رہوں گی ارحمہ کے ساتھ کھیلوں گی “
مالا نے کھوۓ سے لہجے میں سارے خواب بُن لیے تھے ، رملا کے بعد نوازش اور غزالہ کے گھر پھر سے چوتھی بیٹی کی پیداٸش ہوٸ تھی جس کا نام ارحمہ نوازش رکھا گیا تھا ۔ مالا کی اپنے سے دو سال چھوٹی رملا سے تو ایک پل نا بنتی تھی اسے تو مارتی رہتی تھی پر ارحمہ میں تو جیسے اس کی جان بستی تھی ۔ وہ بھی تین ماہ کی تھی اور مالا تو ساری گڑیا کو ڈبوں میں دفن کیے سارا دن اس کے چاٶ لاڈ کرتی رہتی تھی ۔
وہ اب سارے منصوبے بنا رہی تھی کہ جب وہ سارا دن گھر رہا کرے گی تو کیا کچھ کیا کرے گی اور سکینہ بس تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جسے ہر سہولت میسر تھی اور وہ پڑھنا نہیں چاہتی تھی اور ایک وہ تھی جسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا اور وہ پڑھ نہیں سکتی تھی۔
*********
یہ لاہور میڈیکل کالج کا کشادہ لان تھا جس کے فرش پر سبز گھاس قالین صورت بچھی ہوٸ تھی۔ جگہ جگہ طلبہ ٹولیوں کی صورت بیٹھے کتابوں پر سر جھکاۓ پڑھاٸ میں مگن تھے انہی ٹولیوں میں اونچے سے جوڑے بناۓ اور آنکھوں میں کاجل کے کنارے باہر کنپیٹوں تک نکالے اور جوڑوں میں سے نکلی لٹوں کو کانوں کے پاس گولاٸ میں لا کر موڑے تین جدید فیشن سے لیس دوشیزاٸیں گھاس پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں پاس ہی کتابوں کا ڈھیر لگا تھا جس سے بے نیاز وہ کانا باتی میں ہی مگن تھیں ۔ اچانک ان میں سے ایک کی نگاہ سامنے راہداری پر اٹھی اور وہ جوش سے آگے ہوٸ
” شیریں ۔۔۔ وہ دیکھ ۔۔۔ وہ دیکھ۔۔۔ آ گیا وہ جس کے انتظار میں گُھلی جا رہی تھی تو “
سدرہ نے شرارت سے ہنستے ہو شیریں کو ٹہوکا جس نے راہداری پر سے کچھ دیر کے لیے ہی نگاہیں ہٹا کر کتاب پر جما تھیں اور جیسے ہی کتابیں پر جماٸیں وہ آ گیا تھا جس کا وہ کب سے انتظار کر رہی تھی ۔
تقی بلال کے ساتھ کالج کے گیٹ میں داخل ہو رہا تھا ، وہی سحر انگیز ، بارعب شخصیت جس کو دیکھ کر کتنی ہی پلکیں جھپکنا بھول جاٸیں ، شیریں کے لب دلکش انداز میں مسکا اٹھے تھے ۔
پہلے سال کے امتحانات ہونے والے تھے ، سب لوگ سارا سارا دن پڑھاٸ میں مگن رہتے تھے اور تقی نقیب تو کالج میں ہی کم نظر آتا تھا۔
” آہستہ ۔۔۔ سدرہ سن لے گا وہ “
شیریں نے سامنے دیکھتے ہوۓ کھوۓ سے لہجے میں کہا اور زور کی چٹکی سدرہ کے بازو پر بھری ، جو تڑپ کر بازو سہلانے لگی ،
شیریں بلا کی خوبصورت لاہور شہر کی رہاٸیشی امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ تھی ، جماعت میں بہت سے لڑکے اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے پر وہ تھی کہ بری طرح تقی کی شخصیت کے سحر میں جکڑی جا چکی تھی پورا سال وہ یونہی تقی کو چھپ چھپ کر دیکھتی رہی تھی اور وہ تھا کہ کسی بھی لڑکی سے کبھی بات نہیں کرتا تھا ۔
وہ جماعت کا قابل طالب علم تھا اور ہر وقت دھیان بس پڑھاٸ کی طرف ہی رہتا تھا پر شیریں کی طرح بہت سے دل اس کی ایک نگاہ خود پر اُٹھ جانے کے بس منتظر ہی رہتے تھے ۔ باقی سب لڑکیاں تو تقی کے اس سنجیدہ رویے سے مایوس ہو گٸ تھیں لیکن شیریں بی بی تو بری طرح دل ہار بیٹھی تھیں ۔
” ” تو کیا ہے ۔۔ ارے بھٸ سننے دو نا سال بھر ہونے کو آیا ہے ، اب موصوف کو پتا چلنا چاہیے کوٸ ہے اسے کا چاہنے والا جو اس کی ایک جھلک کے لیے دم بھرتا ہے “
صبا نے لہک لہک کر شریر سے لہجے میں لجاٸ سی شیریں کو مزید تنگ کیا ، شیریں نے خفگی سے گھورا
” خبردار ۔۔ جو کوٸ بھی ایسی ویسی حرکت کی ہو تو ، ایک تو پہلے سے ہی اتنا اکڑو ہے وہ اور پھر ایک سال بعد جو ہمت کی ہے بات کرنے کی وہ بھی جاتی رہے گی “
شیریں نے دونوں کو دو ٹوک لہجے میں تنبہیہ کیا ، اور وہ پھر بھی کھی کھی کرنے میں مگن تھیں کیونکہ آج شیریں کو اپنے اس منصوبے پر عمل پیرا ہونا تھا جو وہ کتنے دن سے تقی سے بات کرنے کے لیے بنا رہی تھی ۔
تقی اور بلال کچھ ہی دور لان میں درخت کے نیچے لگے پتھر کے بنچ پر بیٹھ گۓ تھے اور تقی اب سامنے پتھر سے ہی بنے میز پر کاغز رکھے کچھ لکھ رہا تھا اور بلال اس کے ساتھ سر جھکاۓ بیٹھا کاغز پر دیکھ رہا تھا ۔
” چلو اب اٹھو دونوں چلو میرے ساتھ اور ادھر جا کر میں بات کروں گی صرف ، تم دونوں خاموش رہو گی بس “
شیریں نے دونوں کو ہاتھ کھڑا کرتے ہوۓ سمجھایا اور پھر اٹھ کر کھڑی ہوٸ ، کپڑے اور بال بڑے ناز سے درست کیے ۔ بند چاک اور سامنے پلیٹ والی تنگ قمیض جو بمشکل گھٹنوں تک آتی تھی ، نیچے گھیرے دار شلوار جس سے پاٶں میں پہنا جوتا بھی ڈھک رہا تھا اور کریب کپڑے کا باریک سا دوپٹہ جو گلے میں جھول رہا تھا زیب تن کیے شیریں غضب ڈھا رہی تھی ۔
اور پھر تینوں سہج سہج گھاس پر پاٶں رکھتیں بلال اور تقی کے قریب آ کر کھڑی ہو چکی تھیں ۔ بلال اور تقی نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا ۔ بلال تو خوش ہو گیا تھا جبکہ تقی کے چہرا سپاٹ تھا ایک سرسری نگاہ ڈال کر ہی وہ نظریں پھیر چکا تھا
” اسلام علیکم کیسے ہو بلال ؟“
شیریں نے مسکراتے ہوۓ سلام کیا اور ایک چور نگاہ تقی پر ڈالی جو ایک نظر ان کی طرف دیکھ کر اب پھر سے اپنے سابقہ کام میں مشغول ہو چکا تھا ۔
” وا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ علیکم سلام ۔۔۔ ہم۔م۔م۔م۔ بلکل ٹھیک آپ لوگ سناٸیں “
بلال نے مسکراہٹ دباۓ ایک نظر تقی پر ڈال کر جواب دیا ، بلال کیا سارا کالج شیریں کی تقی کے لیے بے تابی کے بارے میں آگاہ تھا ۔
” وہ دراصل بات یہ ہے کہ ہمیں تقی کے نوٹس چاہیں ، سر طیب نے بہت تعریف کی تھی اگر مل جاتے تو ؟ ؟ ؟ اور اگر تھوڑا گاٸیڈ کر دے تقی ہمیں اس میں۔۔۔ “
شیریں نے اپنی بات بمشکل پوری کی اور وہ بات بلال سے کر رہی تھی مگر دیکھ بار بار تقی کی طرف رہی تھی جو پہلے سے ہی قلم روک چکا تھا اور یقیناً ان کی بات سن چکا تھا پر سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ابھی تک نہیں تھا ۔ ایک دو سکینڈ کے لمحے یونہی گزر جانے کے بعد تقی نے گہری سانس لیے سر اوپر اٹھایا چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار رقم کیے گویا ہوا
” میں آپ کو نوٹس دے دیتا ہوں ، لیکن گاٸیڈ میں نہیں کروں گا ، بلال اور نمیر کو وہ سب میں سمجھا چکا ہوں میں ، آپ ان دونوں سے مدد لے سکتی ہیں ، نوٹس کل میں دے دوں گا آپ کو “
تقی نے بے حد سنجیدگی سے بات کا جواب دیا اور پھر شیریں کے جزبز ہوتے چہرے سے بے اعتناٸ برتتے ہوۓ بلال کی طرف متوجہ ہوا جو پوری باچیں کھلاۓ لڑکیوں کو دیکھنے میں مصروف تھا ۔
” بلال میں جا رہا ہوں ، تمہیں جانا ہے ابھی یا ۔۔۔۔ ؟ “
تقی نے اس کے یوں یک ٹک لڑکیوں کو تکنے پر معنی خیز جملا اچھالا جس پر وہ گڑ بڑا کر کھڑا ہوا
” نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔ اچھا لیڈیز پھر کل ملتے ہیں نوٹس کے ساتھ “
بلال نے گردن کھجاتے ہوۓ پوری بتیسی نکال کر تینوں سے اجازت طلب کی جس پر شیریں کا بس نہیں چل رہا تھا اس کا سر ہی پھوڑ دے ۔ تقی لمبے لمبے ڈگ بھرتا اب جا رہا تھا اور بلال بھاگ بھاگ کر اس کے ساتھ چل رہا تھا ۔
” چلو ۔۔۔ جی۔ی۔ی۔ی خواب دیکھے شہزادے کے اور پڑھانے کون آۓ گا ۔۔۔۔ ہا۔۔۔ہا۔۔۔ ہا۔۔۔“
صبا نے سدرہ کی طرف ہاتھ سیدھا کیا جس پر سدرہ نے قہقہ لگاتے ہوۓ اپنی ہتھیلی تالی کی صورت ماری ، وہ دونوں قہقے لگا رہی تھیں اور شیریں کا خون جل رہا تھا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔
” شیریں بس کر میرا تو مشورہ ہے چھوڑ اسے ، جس لڑکے کے خود اتنے نخرے ہوں وہ کہاں اٹھاتا ہے لڑکیوں کے نخرے “
سدرہ نے شیریں کے کندھے پر ہاتھ دھرے کان میں سرگوشی کی ، شیریں نے ہاتھ کی انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ گہرے سانس اندر باہر انڈیلے
” تو مت اٹھاۓ ۔۔ منظور ہے مجھے یہ بھی میں اٹھا لوں گی اس کے نخرے “
شیریں نے گردن اکڑاۓ پر عزم لہجے میں اپنے ارادے سے آگاہ کیا ، وہ کہاں تھی ہمت ہارنے والی ۔
” اوہ ۔۔۔ ماٸ گاڈ ۔۔۔ کیا بنے گا اس لڑکی کا “
صبا نے تاسف بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ اپنا ماتھا پیٹ لیا
” مقبرہ بنا گے اس کا اور کچھ نہیں “
سدرہ نے آنکھیں نچاتے ہوۓ جواب دیا اور پھر وہ دونوں پھر سے قہقہ لگا رہی تھیں اور شیریں اب کالج کے گیٹ سے نکلتے تقی کو دیکھ رہی تھی جس نے اس کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں اور خود کے فرشتوں تک کو خبر نہیں تھی ۔
********
حویلی کے بیرونی برانڈوں میں دوپہر کے باعث اب قدرے خاموشی تھی ، چوہدری حاکم کے پاس آنے والے لوگوں کی آمد اب تقریباً دوپہر کے بارہ بجے ختم ہو چکی تھی ۔
چوہدری حاکم کی بیٹھک کے باہر ہی چند لکڑی کی کرسیاں میز لگاٸ گٸ تھیں جن پر اکثر گاما بیٹھ کر حساب کتاب کرتا تھا اور اس وقت بھی چوہدری حاکم کے بیٹھک میں جانے کے بعد وہ بیٹھا بڑے سے رجسٹر پر سر جھکاۓ کچھ لکھنے میں مصروف تھا جب لڈن چوہدری حاکم کی ٹانگیں دبا کر باہر نکلا ، وہ اس وقت تک چوہدری حاکم کی ٹانگیں دباتا رہتا تھا جب تک وہ گہری نیند میں نہیں چلے جاتے تھے ۔
لڈن اداس سی صورت بناۓ گامے کے پاس لگی کرسی پر آ کر براجمان ہوا وہ ہر وقت قمیض اور تہبند میں ملبوس رہتا تھا اب بھی تہبند سمیٹتا وہ اپنے مخصوص انداز میں کرسی پر سمٹ کر بیٹھ گیا اور غیر مرٸ نقطے پر بے حد سنجیدگی سے گھورنے لگا جو اس پر گامے کو بلکل جچتی ہوٸ محسوس نا ہوٸ آخر کار اس نے زبان پر ہونے والی کھجلی کے باعث لڈن سے پریشانی کا سبب پوچھ ہی لیا ۔
” کیا ہوا لڈن میاں بڑا اداس بیٹھا ہے “
گامے نے اپنے حساب کتاب کے بڑا رجسٹر بند کیا اور ایک طرف رکھتے ہوۓ لڈن کو غور سے دیکھا ، لڈن گہری سانس لے کر گامے کی طرف متوجہ ہوا
” تقی میاں بہت یاد آ رہے ہیں ، دیکھو تو سال ہونے والا ہے ان کو گۓ ہوۓ ،کیا رونقیں ہوتی تھیں ان کے ہونے سے ، باہر آتے تھے مجھے تنگ کرتے تھے ہنسی مزاق چلتا تھا اب تو بور ہو جاتا ہوں “
لڈن نے اداس لہجے میں اپنی افسردگی کا سبب بتایا ، تقی لڈن کو اس کے بھول پن کی وجہ سے اکثر بہت ستاتا تھا اور پھر یونہی ہنسی مزاق کا دور چلتا رہتا تھا جس میں بہادر اور گاما بھی لڈن کو چھیڑنے میں تقی کا بھرپور ساتھ دیتے تھے ۔
” لڈن اتنا اداس مت ہو ، کچھ دن بعد عید پر آ رہے ہیں تقی میاں ان شاء اللہ “
گامے نے مسکراتے ہوۓ اسے خوشخبری سناٸ تو لڈن کی تو باچھیں کھل گٸیں ۔
” اچھا واہ پھر ہسپتال بنے گا ؟ “
لڈن ایک دم سے پر جوش ہوا سینہ باہر کو نکالے گامے سے سوال کیا جو اب اس کی بات پر خفیف سا قہقہ لگاتے ہوۓ سر کو نفی میں ہلا رہا تھا
” ارے ابھی تھوڑی ابھی تو ایک سال ہوا ہے چھوٹے میاں کو گۓ ہوۓ یہ تو نو ، دس سال کی پڑھاٸ ہوتی ہے سنا ہے ، ابھی تو چھٹیاں ہیں عید منانے آ رہے ہیں ، کل بہادر جا رہا ہے شہر سٹیشن سے لے کر آنا ہے تقی میاں کو “
گامے نے اس کی چھوٹی عقل میں بڑی بات گھسانے کی کوشش کی
” اچھا ۔۔۔ اچھا سہی اللہ کرے دس سال بھی گزر ہی جانے ہیں میں پھر دیکھوں گا یہ بڑا ہسپتال تقی میاں کیا ۔۔۔ اور میں وہاں بن جاٶں گا ٹھاٹ سے کمپوڈر۔۔۔ “
لڈن نے میاں نے گردن گھماتے ہوۓ اپنی خواہش کا اظہار کیا ، گامے کو اس کی انوکھی خواہش پر بے ساختہ ہنسی آٸ ۔
” ہا۔۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔ تو بن جاۓ گا کمپوڈر اور پھر غلط دواٸیں اٹھا اٹھا کر دے گا سب مریضوں کو “
گامے نے ہنستے ہوۓ اس کی خواہش سے ہوجانے والے نقصان سے اسے آگاہ کیا ، لڈن فوراً خفگی سے منہ پھلا گیا
” اب ایسی بھی بات نہیں چاچے گامے ، میں حویلی میں کام کرنے سے پہلے وہ جو اپنی ڈاکٹر پینو ہے نا اس کے میڈیکل سٹور پر جھاڑ پونجھ کا کام کرتا تھا کوٸ دس سال وہاں کام کیا ہے “
لڈن نے گردن اٹھاۓ فخر سے بتایا ، گاٶں میں زچگی کے لیے ایک نرس نے ہی چھوٹا سا میٹرینٹی ہوم بنا رکھا تھا جس کا نام بھی لیڈی میٹرینٹی ہوم کے نام سے مشہور تھا ۔
” پھر چھوڑا کیوں ۔۔۔ ؟ “
گامے نے بھنویں اچکاۓ سوال پوچھا
” او نیں میں نے نہیں چھوڑا جی ، بس سمجھ نہیں آٸ غلطی کہاں ہوٸ مجھ سے ڈاکٹر صیبا کو غصہ کس بات کا آیا “
لڈن نے اپنے سر پر پرسوچ ہاتھ پھیرتے ہوۓ بتایا
” میں نے ایک دن مشورہ ہی دیا تھا انھیں کہ ڈاکٹر صیبا ایک میٹرینٹی ہوم مردوں کا بھی بنا لو بس ایسے غصے میں آٸ کے کام سے ہی نکال دیا “
لڈن اپنی بات بتا کر اب بھی پریشان بیٹھا تھا جبکہ گامے ہنستے ہوۓ لوٹ پوٹ ہوا جارہا تھا
*******
تقی اپنے کمرے میں لگے میز کے سامنے پڑی کرسی پر براجمان تھا ، ڈھیلا سا سفید کُرتا اس پر سلیقے سے بنے بال جو کچھ ماتھے پر بکھرے تھے ، شہر کی ہوا نے اور پڑھاٸ کے رعب نے شخصیت کو چار چاند لگا دیے تھے ۔ اس کے بلکل سامنے میز کا ایک کونا انگوٹھے کے ناخن سے کھرچتی منہا رونی صورت بناۓ مجرموں کی طرح کھڑی تھی وہ کل رات ہی عید الفطر کی چھٹیوں پر گھر پہنچا تھا اور آج صبح منہا کے دسویں جماعت میں فیل ہو جانے کی خبر نے اُسے آگ بگولہ کر دیا تھا ۔
منہا چار مضامین میں فیل ہو گٸ تھی جو تقی کے لیے نا قابل برداشت خبر تھی ۔
” کیوں ہوٸ تم فیل وجہ پوچھ رہا ہوں میں بولو “
تقی کا چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا اور پیشانی پر بے پناہ شکن تھے ، سامنے کھڑی منہا اس کے یوں دھاڑنے پر کانپ گٸ
“ بھاٸ وہ ۔۔ تیاری تو بہت اچھے سے کی تھی پتا نہیں ۔۔ “
منہا کی روہانسی آواز بمشکل حلق سے برآمد ہوٸ تھی ، ویسے تو وہ تقی سے ہنسی مزاق بھی کر لیا کرتی تھی لیکن جب کبھی تقی غصے میں آتا تو اس کی گھگی بندھ جاتی تھی
” کیا خاک تیاری کی تھی ، سکول بھی جاتی تھی استانی جی کے گھر بھی جاتی تھی پھر بھی چار مضمون میں فیل ؟ “
تقی نے بے یقینی سے اس کے جھکےسر کو دیکھ کر سوال کیا جو اب نادم سی ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ کھڑی تھی ۔ تقی نے گاٶں میں موجود ایک استانی کے گھر اس کی ٹیوشن بھی لگا رکھی تھی ۔ جب وہ یہاں ہوتا تھا تو خود پڑھا لیتا تھا منہا کو پر اپنے جانے سے پہلے وہ اس کی ٹیوشن کا انتظام کر کے گیا تھا ۔
” بھاٸ نہیں ہوتا مجھ سے یاد اور نا سمجھ آتی ہے ، دسویں جماعت بہت مشکل ہے “
منہا نے بیچارگی سے کہا جس پر تقی کے جبڑے ضبط کے باعث اور باہر کو ابھرے ، کمرے کے دروازے پر پردے کے پاس کوٸ ہیولہ چوری سے کھڑا محسوس ہو رہا تھا ۔
مالا جو ویسے ہی کمرے کے پاس سے گزر رہی تھی تقی کی گرج دار آواز سن کر سہم کر وہیں جم گٸ تھی ۔
” کوٸ مشکل نہیں ہے ، اور کان کھول کر سن لو اگر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ تم فیل ہو گٸ ہو تو میں تمہیں پڑھانے کا خواب ادھورا چھوڑ دوں گا تو یہ بھول ہے تمھاری “
تقی نے انگلی ہوا میں معلق کیے منہا کو اپنے سخت ارادوں سے آگاہ کیا ، وہ اپنی اکلوتی بہن کو ان پڑھ نہیں رکھنا چاہتا تھا اس کا ماننا تھا لڑکی ہو چاہیے لڑکا ان کو اتنی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے کہ وہ زندگی کے کسی بھی سنگین موڑ پر کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلاٸیں ۔ اور منہا کو وہ بارہ جماعتیں پڑھانے کی ٹھان چکا تھا ۔
” تم دوبارہ پیپر دے رہی ہو، میں نے سپلی کے لیے داخلہ فارم پُر کر دیا ہے کل استانی جی کو دے آٶں گا “
تقی نے اسے اپنا اٹوٹ فیصلہ سنایا اچانک مالا سے چھوٹی رملا نے وہاں آ کر پورا پردہ ایک طرف کر دیا جس کے پیچھے مالا کھڑی تھی ، بے ساختہ تقی نے دروازے کی طرف دیکھا مالا نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا ، پردہ چھوڑ کر واپسی کے لیے دوڑ لگا دی ۔
تقی اسے ایک پل میں ہی پہچان گیا تھا اس کا انداز وہی ایک سال پہلے والا ہی تھا ، کچھ دیر ہلتے پردے کی طرف دیکھنے کے بعد وہ پھر سے منہا کی طرف متوجہ ہوا جو اسی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” یہ کس کلاس میں ہے ؟ “
تقی نے بھنویں اچکاۓ ، بنا نظریں ملاۓ منہا سے سوال کیا ، رشتہ جو بھی بن گیا تھا گھر کے باقی بچوں کی طرح اس کی پڑھاٸ کی فکر اسے آج بھی تھی ۔
” تقی بھاٸ بہت نکمی ہے دوسری میں فیل ہو گٸ ہے تو اب آگے سکول نہیں جانے کی ضد کی تو دا جی نے کہا گھر بیٹھا لو “
منہا نے دھیمے سے متوازن لہجے میں جواب دیا جس پر تقی کی تو آنکھیں پھیل گٸیں اس خبر پر اور بے اختیار وہ صدمے سے چیخ اٹھا
” کیا!!!!!!“
آنکھیں پوری کھل گٸ تھیں اور غصہ پیشانی کے شکن کا موجب بن گیا تھا ، ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے باہر قدم نکالے ، غزالہ کے لیے متلاشی نگاہیں ارد گرد دوڑاٸیں ، بی جی اریب کے ساتھ تخت ہر بیٹھی تھیں ، شمو نیچے فرش پر چٹاٸ بچھاۓ بی جی کی ہدایت پر کچھ سلاٸ کرنے میں مصروف تھی ، فرہاد کچھ دور موڑھے پر بیٹھا ریڈیو کان سے لگاۓ گانا سننے میں مصرف تھا ، تقی نے نگاہیں صحن میں دوڑاٸیں تو سامنے ہی چارپاٸ پر بلقیس اور غزالہ سبزی بناتی نظر آٸیں ۔
اور وہ محترمہ دوسری فیل دور نیم کے درخت پر مہرانی کی طرح جھولا جھول رہی تھی ارحمہ کو گود میں بیٹھا رکھا تھا اور رملا کو جھولا جھلانے پر لگا رکھا تھا ۔ وہ غصے میں بھرا اب تیز تیز قدم اٹھاتا صحن میں آیا اور آتے ہی بلقیس اور غزالہ کے سر پر کھڑا ہو گیا
” چچی۔۔۔ مالا کو سکول سے اُٹھا لیا ہے اور گھر بیٹھا لیا ہے کیوں ؟ “
پیشانی پر بل ڈالے وہ غزالہ سے سوال کر گیا اور وہ اس کے یوں مالا کے متعلق سوال پر گڑ بڑا کر اب بلقیس کی طرف دیکھ رہی تھی جو خود حیران پریشان سی بیٹھی تھی۔
ان کے تو وہم و گمان میں بھی نا تھا تقی یوں مالا کے متعلق ان سے باز پرس کرے گا حیرت میں آنا تو بنتا تھا
” وہ تقی ۔۔۔ پڑھاٸ میں چل ہی نہیں رہی تھی تو گھر بیٹھا لیا “
غزالہ نے جزبز حالت میں کبھی تقی اور کبھی بلقیس کی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا ، ہاتھ میں چھری تھی اور سبزی پر اب مکھیاں بیٹھنے لگی تھیں۔
” تو آپ نے اس کا حل تلاش کرنے کے بجاۓ اسے گھر میں بیٹھا لیا ؟ “
تقی نے تاسف سے سر ہوا میں گھمایا اور بیزار لہجے میں کہتے ہوۓ کچھ دور مزے سے جھولا جھولتی ساڑھے سات سالہ مالا کو دیکھ کر کہا ، غزالہ کی تو زبان ہی گنگ ہو گٸ تقی کو اتنے غصے میں دیکھ کر
” چچی مالا گھر نہیں بیٹھے گی پڑھے گی جس استانی کے پاس شام کو منہا پڑھنے جاتی ہے یہ بھی جاۓ گی کل سے ہی ، تقی تو اب رعب سے حکم چلانے پر آ چکا تھا
” تقی ۔۔۔ لی۔۔۔ے۔۔ک۔۔۔ن “
غزالہ نے دھیمی سی آواز میں کچھ کہنا چاہا جسے تقی فوراً کاٹ گیا
” لیکن ویکن کچھ نہیں چچی ، میں چاچو سے بھی بات کرتا ہوں اور دا جی سے بھی ، زبردستی بھیجیں اس کو سکول “
تقی نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور اسی انداز میں اٹاری کی طرف قدم بڑھا دیے ، اور پھر تقی تو عید کے تیسرے روز ہی لاہور واپس روانہ ہو گیا پر مالا کو دوگنے عذاب میں مبتلا کر گیا ، سکول سے جان چھڑانے والی مالا اب نا صرف سکول جاتی تھی بلکہ شام کو استانی جی کے گھر ٹیوشن کے لیے بھی جاتی تھی ۔ بہت روٸ بہت منت سماجت کی پر سب کو تقی کا حکم یاد تھا وہ سب کو دو ٹوک کہہ گیا تھا نکاح آپ لوگوں نے زبردستی کیا تھا اب وہ میری منکوحہ ہے خبردار اگر کسی نے اسے سکول سے اٹھایا ۔
مالا کو ابھی تھپڑ بھولا نہیں تھا کہ تقی اسے یہ چوٹ دے گیا تھا وہ اندر ہی اندر تقی پر تلملانے لگی تھی ۔
*****
یہ حویلی کے بڑے کمروں میں سے ایک کمرہ تھا جو خدیجہ بیگم نے اپنی بڑی بیٹی اریب کو دے رکھا تھا ۔ اریب نے بڑے سلیقے سے کمرے کے ایک حصے میں اپنی پٹیاں اور اٹیچی اوپر نیچے رکھے ہوۓ تھے جن کے اوپر سرخ رنگ کے کور بڑے سلیقے سے بچھا رکھے تھے اور ایک طرف لکڑی کی پلنگ چوکی اور صوفہ میز پڑے تھے ۔
کمرے میں پلنگ کے قریب ایک طرف منیر صوفے پر بیٹھا تھا اور ساتھ اریب غصے سرخ ہوتا چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔ اور پلنگ پر فرزانہ بیٹھی تھی ۔
فرزانہ نے چوڑیوں سے بھری بازو اوپر اُٹھاٸ اور دوپٹہ سر پر درست کرتے ہوۓ ماں کی طرف دیکھا ، وہ آج اریب کے بہت اسرار پر میکے آٸ تھی گو کہ اس کا گاٶں اتنا دور نہیں تھا پر اس کا سسرال بہت بڑا تھا کہیں چھ مہینوں میں ایک دفعہ چکر لگاتی تھی اور اب تو ایک سال کا بیٹا بھی تھا جس کے باعث اس کی مصروفیت مزید بڑھ گٸ تھی ۔
”اب کی بار آٸ ہو تو فرہاد کا دماغ سہی سے درست کر کے جاٶ “
اریب نے غصے سے دانت پیستے ہوۓ تکیہ کلام جوڑا وہ فرزانہ سے فرہاد کے دکھڑے رو رہی تھیں جو آجکل ماں سے منہا کا رشتہ مانگنے کی ضد لگاۓ ہوا تھا ۔
” اماں تو ایک بات بتاٸیں مجھے اس میں براٸ کیا ہے ، منہا میں ایسی کیا کمی ہے مان لیں فرہاد کی بات “
فرزانہ نے جھنجلا کر اپنی ماں کی ضد کی وجہ پوچھی ، جس پر اریب جھٹکا کھا کر سیدھی ہوٸ
” کمی کیا ہے ۔۔۔۔ یہ پوچھو کیا کمی نہیں ہے اس لڑکی میں ، بلقیس نے سر چڑھا رکھی ہے کوٸ کام نہیں آتا اس کو ، نا سلاٸ نا کڑھاٸ نا کچھ پکانا “
اریب نے نخوت سے ناک چڑھاتے ہوۓ منہا کی خامیاں گنواٸیں ، منیر بس خاموشی سے ماں بیٹی کی گفتگو سننے میں مگن تھا ۔
” میں نے کیا ایسی بہو لا کر اپنا بڑھاپا غارت کرنا ہے ، ایک ہی تو بیٹا ہے میرا “
اریب تو آج جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھی ، فرزانہ نے باپ کی طرف مدد طلب نگاہوں سے دیکھا جو کندھے اچکا گیا
”اماں ایسا بھی کیا ہے یہ بھی تو دیکھو کہ تقی اسے پڑھا بھی رہا ہے دس جماعت پاس ہے ماشا اللہ سونی ہے “
فرزانہ نے ماں کو اس کی خوبی گنواٸ ، منہا دسویں جماعت پاس کر چکی تھی اور اب گھر میں ہی گیارھویں جماعت کی تیاری کر رہی تھی ، جس کے لیے وہ مالا کے ساتھ استانی جی کے گھر جاتی تھی مالا اب تیسری جماعت میں تھی ۔
” بس کر آٸ بڑی تو وکالت کرنے والی تجھے میں نے اپنا ساتھ دینے کے لیے بلایا ہے اور تو اسی کی وکالت کرنے بیٹھ گٸ ہے ، دیکھ میری طرف سے وہ پڑھ لکھ کر استانی کیوں نا لگ جاۓ میں پھر بھی اسے فرہاد کے لیے نہیں بیاہ کر لاٶں گی ، یہ ساری باتیں اپنے بھاٸ کے دماغ میں ڈال کر جانا “
اریب جھٹکا کھا کر اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے کا کواڑ زور سے دیوار میں مارتی باہر نکل گٸ ، فرزانہ تو چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ گٸ تھی ۔ فرہاد کہہ رہا تھا اس کےساتھ دے اور اریب کہہ رہی تھی اس کا ساتھ دے ۔ فرزانہ نے گہری سانس لی اور پلنگ پر بے خبر سوتے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر مسکرا دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: