Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 9

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

میڈیکل کالج لاہور کے وسیع عریض لان کی گھاس نمیر کے ہاتھوں بے دردی سے زمین سے اُکھڑ اُکھڑ کر ایک طرف ڈھیر ہو رہی تھی ، وہ سامنے نگاہیں جماۓ آہیں بھرتا ہوا گھاس پر مسلسل ظلم ڈھا رہا تھا ساتھ ہی بلال اور تقی بھی گھاس پر کتابیں سامنے ڈھیر کیے بیٹھے تھے ۔
شہر کا رنگ ڈھنگ تقی پر کچھ یوں بھی چڑھا تھا کہ وہ اب پتلون اور شرٹ کُرتے شلوار کی نسبت زیادہ زیب تن کرنے لگا تھا ۔ اور اب بھی چیک والی نیلی شرٹ کے نیچے وہ گرے رنگ کی پتلون پہنے ہوۓ سحر انگیز شخصیت کا حامل لگ رہا تھا ۔
” یار کاش ہمیں بھی کوٸ لڑکی ایسے دیکھا کرے کتنی خواہش ہوتی ہے نا ، تقی جتنے خوبصورت نہیں تو کیا ہوا اتنے گۓ گزرے بھی نہیں “
نمیر نے گھاس کو زمین سے کھینچتے ہوۓ ٹھنڈی آہ بھری تھی ، سامنے کچھ دوری پر بیٹھی شیریں ، صبا اور سدرہ بار بار ان کی طرف دیکھ کر کھس پھس کر رہی تھیں ، جن میں سے شیریں تھی جو محبت سے تقی کو بار بار دیکھ رہی تھی باقی دونوں تو بس شیریں کو چھیڑنے میں مصروف تھیں ۔
“ تو خود کسی لڑکی کو دیکھنا چھوڑے تو کوٸ بیچاری تمہیں دیکھے ۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔ “
بلال نے آنکھ دبا کر اسے شریر لہجے میں آٸینہ دکھایا اور پھر خود ہی اپنی بات پر پورا منہ کھول کر فلک شگاف قہقہ لگا گیا جبکہ پاس بیٹھے تقی نے بس ذرا سا سر اٹھا کر دھیمی سی مسکراہٹ سجاۓ ان کا ساتھ دیا ۔
” ہا۔۔۔ ہا ۔۔۔ ویری ۔۔۔فنی۔۔۔ یہ اپنا بلڈوزر جتنا منہ بند کر ، میری شرافت پر شک ہر گز نا کرنا تمھاری طرح تاڑو نہیں ہوں میں “
نمیر نے خفگی سے گھورتے ہوۓ بلال کو انگلی دکھاٸ
” لو جی دو آنے جتنی شرافت لیے پھرتا ہے ، شریف تو ان جیسے ہوتے ہیں دیکھیے اَدھر ان محترم کو محترم ڈاکٹر تقی نقیب صاحب “
بلال نے دھیمے سے مسکراتے تقی کی طرف ہاتھ اوپر نیچے نچاتے ہوۓ اشارہ کیا ،
” پورے میڈیکل کالج کی سب سے حسین مورت ان کو تاک تاک کر مجسم ہوۓ جاتی ہے ، شیریں سے پھیکی ہو گٸ بیچاری ان پانچ سالوں میں اور یہ ایسے ہیں نگاہ اٹھا کر بھی اسے دیکھنا گوارا نہیں کرتے “
بلال لہک لہک کر تقی کی شان اور شرافت کے قصیدے پڑھ رہا تھا ، جبکہ تقی بس سر نیچے کیے ان دونوں کی حرکتوں پر ہنستے ہوۓ تاسف سے گردن ہلا رہا تھا ۔ نمیر اور بلال دنوں کی مزاق مستیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور تقی جو پڑھنے بیٹھا تھا ایک لفظ نہیں پڑھ پا رہا تھا ۔
” میں یہاں پڑھنے کے لیے اور تم دونوں خبیثوں کو پڑھانے کے لیے بیٹھا تھا ، پر تم دونوں کی حرکتیں دیکھ کرلگتا ہے پڑھنے کا کوٸ ارادہ نہیں میں ہاسٹل جا رہا ہوں “
تقی فوارً اٹھ کر متوازن لہجے میں کہتا ہوا اب اپنی کتابیں سمیٹ رہا تھا ۔ اور تقی کے یوں اُٹھ جانے پر بلال اور نمیر سے زیادہ بے چین دور بیٹھی شیریں لگ رہی تھی ۔
” ارے ۔۔۔ تقی بھاٸ بات تو سنیں ۔۔۔ ہمارا نہیں تو کچھ مس نمکین جی کا ہی خیال کیجیے “
نمیر نے چھلانگ لگا کر تقی کا کندھا تھاما اور شریر سے لہجے میں سرگوشی کی ، ان دونوں پر کبھی کبھار یونہی تقی کو چھیڑنے کا دورہ پڑتا تھا ۔
” نہیں۔۔۔ میرے پاس نا کسی شیریں کے لیے وقت ہے اور نا کسی نمکین کے لیے ، مجھے چھوڑو اور معاف رکھو اس سب سے “
تقی جلدی جلدی دونوں سے جان چھڑاۓ آگے بڑھا تھا ، لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ بے اعتناٸ سے چہرہ اوپر اٹھاۓ بے تابی سے دیکھتی شیریں کے پاس سے گزر گیا تھا ۔
اُس کی خوبصورتی اس کی یہ تڑپ تقی کو ان سب سے کوٸ سروکار نہیں تھا اور نا وہ اس طرف متوجہ ہونا چاہتا تھا ۔ اپنے باپ سے اور ماں سے کیا وعدہ اور اپنے ساتھ رشتے میں بندھی مالا کو وہ یوں کسی بھی طرح کا دھوکا نہیں دینا چاہتا تھا اور سب سے بڑھ کر وہ خود کو کسی کی بھی نظروں میں گرانا نہیں چاہتا تھا۔
وہ اچھے سے جانتا تھا اس کی منزل اس کا گاٶں ہے یہ شہر اس کی چکا چوند اسے اس سب میں اپنا آپ گم نہیں کرنا تھا ۔ ان کے گاٶں کو ایک اچھے ہسپتال اور طبعی سہولیات کی اشد ضرورت تھی اور اسے وہاں ہسپتال بنا کر خواب کو حقیقت میں بدلنا تھا ۔
*********
حاکم قصر میں آج بہت دن بعد دسمبر کی تیز دھوپ نکلی تھی ، منڈیر پر کوے دھوپ سیک رہے تھے تو صحن اور اٹاری میں آتی دھوپ میں حویلی کے مکیں دھوپ سیک رہے تھے۔
صحن میں رونق جیسا سما تھا اتنے دنوں کی دھند اور سردی سےدبک دبک کر انگیٹھی جلا کر کمروں میں بیٹھنے والے حاکم قصر کے مکیں آج دھوپ سے ہڈیوں کو سیک کر سکون لے رہے تھے ۔
فرہاد ، مالا ، رملا ، نقی اور سکینہ ان سب نے صحن میں دھما چوکڑی مچا رکھی تھی ، وہ صحن میں پٹھو گرم کھیل رہے تھے ، جس کے لیے صحن کے وسط میں چند چھوٹے پتھروں کو ایک دوسرے کے اوپر نیچے رکھا ہوا تھا اور ایک نفس جس کے ہاتھ میں ربڑ کی گیند تھی اس نے ان پتھروں کا نشانہ باندھ کر گیند سے ضرب لگانی تھی ۔
چھٹیوں کے باعث تقی بھی گاٶں آیا ہوا تھا اور اب وہ بھی ایک طرف کرسی ڈالے پڑھنے میں مگن تھا ۔ وہ اب گاٶں آتا بھی تو سارا سارا دن پڑھاٸ میں مگن رہتا تھا جو کہ وہ اس وقت بھی کر رہا تھا ۔
برانڈے میں آتی دھوپ میں تخت کو کھینچ لیا گیا تھا جس پر خدیجہ بیگم بیٹھی تھیں، اور تاری بوا گرم زیتون کے تیل سے ان کی ٹخنوں کی مالش کر رہی تھیں ۔ بچوں نے کھیلتے ہوۓ پورا صحن سر پر اُٹھا رکھا تھا ، خدیجہ بیگم نے ان کے اچانک چیخیں مارنے پر گھور کر صحن میں دیکھا ۔
” بس کرو ۔۔۔ کیا حویلی سر پر اُٹھا رکھی ہے کمبختوں نے یہ جو مالا چنڈال ہے یہ تو سدا کی بدتمیز ٹھہری پر اس لونٹھے فرہاد کو دیکھو بڈھا ہو گیا موا بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہے “
خدیجہ بیگم منہ میں پان رکھے ، صحن میں دھما چوکڑی مچاۓ بچوں پر چیخیں تھیں پر مجال ہے کوٸ سن کے دے رہا ہو۔
مالا کے ہاتھ میں اب گیند تھی ، اور وہ آنکھوں کو سکوڑے اب اوپر نیچے پڑے پتھروں کا نشانہ باندھنے کے لیے منہ کے زاویے بدل رہی تھی ۔ وہ اب بارہ سال کی ہو چکی تھی بال اب کمر کو چھونے لگے تھے جن کو اس نے ایک چٹیا میں باندھ رکھا تھا ، وہ قد ایسے نکال رہی تھی کہ ابھی سے اپنے سے بڑی منہا جتنی لگنے لگی تھی ۔
” بی جی ساگ کے ساتھ ساری روٹیاں مکٸ کی بنانی ہیں یا پھر گندم کی بھی بنانی ہیں “
تاری بوا نے ہاتھوں کو اوپر نیچے چلاتے ، خدیجہ بیگم کی پنڈلیوں پر مالش کرتے ، موٶدبانہ سوال کیا ۔ مالا کی نگاہ پتھروں کی اٶٹ سے کرسی پر بیٹھے تقی پر پڑی تھی ۔ سادہ سے سفید کرتا شلوار پر سیاہ رنگ کی جرسی پہنے وہ کچھ لکھنے میں مگن تھا ۔
” تقی کہاں کھاتا ہے مکٸ کی روٹی اس کے لیے گندم کی روٹی پکانا اور باقی تو سبھی کھا لیتے ہیں مکٸ کی ، مکھن کے ساتھ اچھی طرح چوپڑیو سخت نا ہوں وے ذرا بھی ، پچھلی دفعہ چوہدری صاحب ناراض ہورے تھے “
خدیجہ بیگم نے ہاتھ اٹھا کر تاری بوا کو تنبہیہ کیا جو اب دوپہر کھانے کے لیے ساگ کے ساتھ روٹیوں کا پوچھ رہی تھی ۔
تقی پر نظر پڑتے ہی ، مالا کے ذہن میں کتنے ہی منظر گھوم گۓ تھے، تقی کا تھپڑ ، اس کا گھورنا ، سکول میں زبردستی بھیجنا ،ٹویشن اور سکول میں استانی جی کی مار، اسے تقی سے بدلہ لینے کا اس سے اچھا موقع زندگی میں نہیں مل سکتا تھا ، وہ جب بھی حویلی آتا سب سے بات کرتا تھا مسواۓ مالا کے اسے تو وہ نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا ، مالا کو اندر ہی اندر یہ بات بہت تکلیف دیتی تھی اگرچہ وہ اپنے اور تقی کے رشتے کے بارے میں ابھی تک نہیں جانتی تھی اس لیے اسے تقی کا یہ عجیب رویہ بہت غصہ دلاتا تھا اور اب وہ پتھروں کے بجاۓ تقی کے سر کا نشانہ باندھ رہی تھی ۔
تاری بوا تیل کی بوتل سمیٹتی تخت پر سے اٹھی تھی۔
” اور سن پہلے ملازموں کو روٹیاں اتار کے باہر برانڈوں میں بھیج دینا پھر گھر والوں کی بنانا “
خدیجہ بیگم نے زینے کی طرف جاتی تاری بوا کو پیچھے سے پکار کر اگلا حکم صادر کیا تھا ۔ مالا نے زور سے بازو کو جھٹکا دیا تھا اور گیند اس کے ہاتھ سے نکل کر ہوا کو چیرتی ہوٸ تقی تک پہنچی تھی اور پھر ٹھک کی آواز کے ساتھ سیدھے تقی کے ماتھے پر لگی تھی ۔ مضبوط ربڑ کی گیند اور اتنی زور سے پھینکی گٸ تھی کہ تقی ایک جھٹکا کھا گیا تھا ۔
” ہاۓ ۔۔۔۔۔ ستیاناش ۔ سر پھوڑ ڈالا موۓ کا “
خدیجہ بیگم جھٹکا کھا کر تخت پر سے اٹھی تھیں ۔ گیند اب تقی کے پاس سے ٹھپا کھاتی ہوٸ دور جا رہی تھی ۔ سب نے یک لخت مالا کی طرف دیکھا تھا جس نے چھت کے زینے کی طرف دوڑ لگا دی تھی اور باقی سب نے ماتھے پر ہاتھے رکھے تکلیف کو برداشت کرتے تقی کی طرف دوڑ لگاٸ تھی ۔
” ہاتھ ہٹا ۔۔ ہاتھ ہٹا آنکھ ہی تو نہیں پھوڑ ڈالی کہیں ؟ اس نگوڑ ماری نے ، گھوڑی کی گھوڑی ہو گٸ ہے عقل ابھی بھی گھٹنوں میں ہی ہے “
خدیجہ بیگم اب غصے میں مالا پر چیخ رہی تھیں ۔ اور تقی جو سر کو اب دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا اس کے ہاتھ پکڑ کر نیچے کر رہی تھیں۔
” تقی بیٹا آنکھ بچ گٸ ہے نا “
بلقیس نے پریشان ہو کر اس پر جھکتے ہوۓ پوچھا ، یہی حال پاس کھڑی غزالہ کا تھا وہ بھی پریشانی میں لب کچل رہی تھی ۔ جبکہ اریب بیگم جو اب کمرے سے نکلی تھی اب برانڈے میں ہی کھڑی اچک اچک کر سارا ماجرا دیکھ رہی تھی ۔
” ارے بس کرو آپ سب بس سر پر لگی ہے چوٹ کچھ نہیں ہوا مجھے آپ سب نے کیا شور مچا دیا “
تقی نے سر پر سے ہاتھ اٹھایا ، اور بیزاری سے اپنے اردگرد جھکے ہوۓ نفوس کو دیکھا ۔ تقی کے ماتھے پر اب پہاڑ نما ابھار بنا ہوا تھا ۔
” ہاۓ۔۔۔ ربا سر پر کون سا کم لگی ہے ، گامڑ بن گیا اتنا بڑا سا ، تاری بوا چھوڑ سارے کام سیک دینا تقی کے سر کو گرم کر کے لا کوٸ پتھر اور تولیے میں لپیٹیو اسے “
خدیجہ بیگم نے پاس کھڑی تاری بوا کو عجلت میں حکم صادر کیا ، جو سر زور سے ہلاتی باورچی خانے کی طرف بھاگی تھی ۔
” غزالہ ۔۔۔ کہاں گٸ وہ منحوس ماری مالا ، عقل دے اسے جا کر کچھ ، کب سے کہہ رہی ہوں سب کو بس کرو ۔۔۔ بس کرو ۔۔۔۔ “
خدیجہ بیگم نے گھور کر پریشان حال کھڑی غزالہ سے کہا ، غزالہ جو دوپٹے کے پلو کو ہاتھوں میں گھماتی تقی کے سر پر بنے ابھار کو دیکھ رہی تھی ، خدیجہ بیگم کے حکم پر گڑبڑا کر چھت کی طرف بڑھی ۔
چھت پر چڑھتے ہی ارد گرد نگاہ دوڑاٸ تو وہ اپنے مخصوص انداز میں برساتی پر بیٹھی نیچے ٹانگیں لٹکاۓ ہلا رہی تھی ، ہاتھ میں سوکھی کھجوریں پکڑی تھیں جن کو چھت پر چارپاٸ پر ڈالا ہوا تھا ۔
” مالا ۔۔ مالا ۔۔ اتر نیچے فوراً ، اتنی دفعہ کہا ہے عقل سے کھیلا کر اب لگ گٸ نا تقی کے سر پر گیند “
غزالہ نے ڈپٹتے ہوۓ غصے سے گھورا اور ہاتھ کے اشارے سے نیچے آنے کے لیے کہا ۔
” کھیل تو بہت دھیان سے رہی تھی بس لگ گٸ تو لگ گٸ ان کو کس نے کہا تھا صحن کے بیچوں بیچ کرسی ڈال کر بیٹھ جاٸیں “
مالا نے کندھے اچکاۓ ، اور مزے سے ٹانگیں ہلاتے ہوۓ کھجور کو منہ میں ڈالا
” تیرا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔کچھ نہیں ہو سکتا ، قد دیکھ اپنا گھوڑی ہو گٸ ہے اب نا کھیلا کر خاص طور پر جب تقی آیا ہوا ہو تو بلکل نا کیا کر ایسی حرکتیں “
غزالہ نے چیختے ہوۓ سمجھایا اور پھر افسوس سے سر ہلاتی نیچے کی طرف بڑھ گٸں اب کھل کر اسے کچھ بتا بھی نہیں سکتی تھیں ۔ جبکہ وہ بڑے آرام سے مسکراتے ہوۓ کھجور کھانے میں مصروف تھی ۔ تقی کو سر پر گیند مار کر آج اسے سکون مل گیا تھا ۔ وہ بہت خوش تھی جیسے سالوں پرانا حساب چکتا کیا ہوا ۔
********
یہ سکول میں آٹھویں جماعت کا کمرہ تھا جہاں جماعت کی تمام لڑکیاں اپنے ڈسکیوں کو خالی چھوڑ کر اب کمرے کی کھڑکیوں کی جالی کے ساتھ ناک منہ چپکاۓ باہر کا منظر دیکھ رہی تھیں جہاں مس نیلم ان کی جماعت کی ایک لڑکی کے منہ پر زور زور سے طمانچے مار رہی تھیں ، اور لڑکی زارو قطار رو رہی تھی اور بار بار ہاتھ جوڑ کرمس نیلم اور پاس کھڑی ہیڈ مسٹریس سے معافی مانگ رہی تھی ۔
یہ سارا منظر دیکھ کر کھڑکی سے باہر دیکھتی مالا کی بڑی آنکھوں اور لمبی پلکوں کی جھالر کے اوپر دراز بھنویں سکڑ گٸ تھیں وہ اب ساڑھے چودہ سال کی ہو چکی تھی ، ایک دفعہ چوتھی اور ایک دفعہ چھٹی جماعت میں فیل ہو جانے کی وجہ سے وہ اب دسویں کے بجاۓ آٹھویں جماعت میں پہنچی تھی اور عمر کا ہر گزرتا سال اس کے جوبن کو خوب نکھار سنوار کر بیتا تھا ۔ وہ لمبے قد ، لمبے بالوں ، بڑی آنکھوں ، گھنی پلکوں ، گدازوں گالوں ، چندن رنگ روپ ، اور دلکش سراپے میں تبدیل ہو چکی تھی ان سب خوبیوں میں سب سے منفرد اس کی ہلکے نیلے اور گرے رنگ کے ملاپ والی آنکھیں تھیں جو بقول نواش حاکم ان کی والدہ عصمت آرا پر گٸ تھیں مرحومہ خاندان کی خوبصورت ترین ہلکے نیلے رنگ کی آنکھوں والی خاتون تھیں ۔
” آۓ ہاۓ کس بےدردی سے مار رہی ہیں مس نیلم اسے ، کیا کر دیا اس بیچاری نے ایسا بھی ؟ “
مالا نے جھری جھری لے کر ساتھ کھڑی ثریا سے پوچھا ، اس کی آنکھوں میں سامنے کھڑی مار کھاتی اپنی ہم جماعت کے لیے بہت ہمدردی تھی ۔
” دیوار ٹاپ( پھلانگ ) کر جا رہی تھی مالی بابا نے دیکھ لیا اس کو اور پکڑ کر لے آیا مس نیلم کے پاس “
ثریا کے بجاۓ پاس کھڑی تبسم نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا اور پھر ثریا اور تبسم منہ پر ہاتھ رکھے کھسیانی سی ہسنی ہنسنے لگیں ، مالا نے نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھا
” بچاری کو مار پڑ رہی ہے تم دونوں ہنسی جاٶ بدتمیز ، مجھے تو ترس آ رہا ہے دیکھو تو مس نیلم کا موٹا سا ہاتھ اور اس کے گال “
مالا نے تاسف سے سر کو داٸیں باٸیں مارتے ہوۓ افسوس کیا
” ترس کھانے کی کیا ضرورت ہے بھٸ ، یہ کونسا اچھے کام کے لیے جا رہی تھی ، اپنے اُس سے ملنے کو جا رہی تھی “
تبسم نے نخوت سے ناک چڑھا کر جواب دیا ،
” اُس کون ۔۔۔ ؟ کس کو ملنے جا رہی تھی “
مالا کو ان کی باتیں سمجھ میں ہی نہیں آ رہی تھیں ، قد کاٹھ ، رنگ روپ ، چاہے بدل گیا تھا پر عقل کے گھوڑے ابھی تک وہ صرف وہیں تک دوڑاتی تھی جہاں تک ضروت ہوتی تھی ، بچوں کے ساتھ کھیل کود کرنا ، درختوں پر چڑھنا ، سکینہ کے ساتھ باغ میں جانا پھلوں کو توڑنا ، میٹھے کی مختلف کھانے بنا بنا کر کھانا بس یہی اس کی زندگی تھی اور یہیں تک وہ سوچتی تھی ۔
اور اس لیے اب اپنے ساتھ بیٹھی اپنی سہلیوں کی یہ معنی خیز بات اس کے سر کے اوپر سے گزر گٸ تھی ۔
” معصوم تو ایسے بن رہی ہے ۔۔۔ جیسے کچھ پتا نہیں کس کی بات کر رہے ہم ، لڑکے سےملنے جا رہی تھی یہ لڑکی “
ثریا نے خفگی سے مالا کو گھور کر پوری بات بتاٸ جس پر تبسم تو اب افسوس سے سر ہلا رہا تھی جبکہ مالا ابھی بھی پوری بات کو سمجھنے سے قاصر تھی ۔
” لڑکے کو کیوں ملنے جا رہی تھی “
مالا نے معصومیت سے اگلا سوال داغ دیا ، تبسم اور شازیہ نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا
” مالا تیرا نکاح ہوا ہے اور تجھے یہ نہیں پتا کہ لڑکے کو کیوں ملنے جاتی ہے لڑکی اور یہ غلط بات ہوتی ہے “
تبسم نے حیرت سے مالا کو دیکھ کر سوال کیا ، اب کتابوں کو امتحانوں کے دنوں میں کچھ دن پڑھنے اور فیل ہو ہو کر پاس ہونے والی مالا کو کیا پتا ان سب باتوں کا ۔
” میرا ۔۔۔ نکاح ۔۔نیں تو وہ تو میری فرزانہ آپا کی شادی ہوٸ ہے بس ، منہا آپا کی منگنی ہوٸ ہے ابھی صرف “
مالا نے پیشانی پر بل ڈالے انہیں بتایا ، منہا کی فرہاد سے منگنی ہو چکی تھی اریب پھپھو کو فرہاد کی ضد کے آگے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے تھے گو کہ منہا بھی اپنی منگنی سے بلکل ناخوش تھی اس لیے مالا نے کبھی اس کو اور فرہاد کو بھی ایک ساتھ نہیں دیکھا تھا غرض کے وہ اپنی دنیا میں مست ملنگ تھی اور گھر والے تو ویسے بھی اس طرح کی باتوں کو اس کے سامنے کرنے سے اجتناب ہی برتتے تھے ۔
” تو ڈارمے کس کے ساتھ کر رہی ہے مالا ، تقی بھاٸ تیرے تایا کا بیٹا اس سے تیرا نکاح ہوا ہے بچپن میں کیا تجھے نہیں پتا اس بات کا “
اب کی بار ثریا بھی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ لوگ بھی نٸ نٸ لڑکپن سے جوانی کے سفر پر تھیں اس لیے آج پہلی دفعہ اس طرح کی گفتگو کا دور دورہ چل نکلا تھا ۔
” کیا ۔۔۔ کیا۔۔۔ پاگل ہو تم دونوں میرا نکاح تقی سے “
مالا نے حیرت سے منہ کھول کر پوچھا اور سینے پر ہاتھ رکھے تعجب سے پوچھا
” مالا تجھے واقعی نہیں پتا کیا اس بات کا یہ تو پورے گاٶں کو پتا ہے میں نے اپنی اماں کے منہ سے سنا تھا ایک بار حیرت ہو رہی ہے یہ جان کر کہ تجھے پتا ہی نہیں ہم تو سمجھ رہے تھے تجھے پتا ہو گا “
تبسم نے واقعی حیرت سے مالا کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا جو یہ ساری بابت سن کر اب دم
بخودہ بیٹھی تھی ۔
ذہن میں کتنی ہی باتیں گردش کر رہی تھیں ۔ اسے تقی کو بھاٸ کہنے سے سب کا منع کرنا ، تقی کا اسے نا دیکھنا ، اس کی اماں کی معنی خیز باتیں ذہن میں ٹھا ٹھا کتنے ہی بمب پھوٹ گۓ تھے پر ذہن اب بھی ماننے کو تیار نہیں تھا کہ تقی سے اس کا نکاح ہو چکا ہے اور وہ اس کا دلہا ہے جیسے فرزانہ آپا کا حسن ، شمو کا اللہ دتا ، اور منہا آپا کا فرہاد وہ تو ساکن بیٹھی تھی ۔
” ہاں تو مجھے بھی پتا ہے ، میری پھپھو جو تم لوگوں کی حویلی کے پاس رہتی ہے اس نے بھی ایک دفعہ بتایا تھا کہ چوہدریوں کے بڑے پوتے کا نکاح مالا سے کیا ہوا ہے بچپن میں ہوا تھا جب تو چھوٹی تھی “
ثریا بھی اب اسے اپنی معلومات سے آگاہ کر رہی تھی اور ایک وہ تھی جسے پتا ہی نہیں تھا ، اور آج پتا چل رہا تھا وہ نکاح شدہ ہے اور منکوحہ بھی کس کی ہے جسے وہ پورے گھر میں سب سے زیادہ ناپسند کرتی ہے ۔
چھٹی کی پہلی ہی گھنٹی بجی تھی اور وہ اپنا بستہ اٹھا کر آج ان دونوں کو چھوڑ کر جماعت سے باہر بھاگی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا ۔۔۔ اسے کیا ہو گیا “
تبسم نے حیرت سے شازیہ کی طرف دیکھا جو کندھے اچکا گٸ
********
حویلی کے پھاٹک کے بعد روش عبور کرتے ہی وہ دوپٹے سے کیے نقاب کو ناک پر سے اتار کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی ۔ چھوٹی رملا اور ارحمہ اس کے پیچھے آ رہی تھیں جن سے وہ مکمل طور پر بے خبر تھی ۔ کمرے میں غزالہ نہیں تھی باہر آٸ اور پھر اٹاری کے ستون کے پاس کھڑی ہو کر اردگرد دیکھا ۔
” اماں ۔۔اماں ۔۔۔۔۔۔ “
چیختے ہوۓ وہ ادھر اُدھر دیکھ کر غزالہ کو بلا رہی تھی اور پھر غصے سے پیر پٹختی صحن میں داخل ہی ہوٸ تھی کہ غزالہ اس کے یوں پکارنے پر حواس باختہ سی باورچی خانے سے باہر نکلی تھی ۔
” کیا ہوا ۔۔۔ ؟ پاگلوں کی طرح کیوں چلا رہی ہے ؟ کیا بھونچال آ گیا ہے ؟ “
غزالہ نے حیرت سے پیشانی پر بل ڈالے اپنے دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ پوچھا ، جبکہ وہ تیر کی طرح غزالہ تک پہنچ کر اب اس کا بازو دبوچ چکی تھی ۔
” مالا ۔۔۔ مالا ۔۔۔ کیا ہوا بازو چھوڑ میرا ۔۔۔ “
غزالہ نے اسے بازو دبوچے کمرے میں لے جاتے دیکھ کر حیرت سے اپنا بازو اس کی مضبوط گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کی جبکہ وہ اپنی ماں سے بھی لمبی غزالہ کو غصے سے کمرے میں لے جا رہی تھی ۔ کمرے میں جاتے ہی مالا نے غزالہ کا بازو چھوڑ دیا تھا جلدی سے کمرے کا کواڑ بند کیا اور غزالہ کی طرف پلٹی
” مالا دیکھ ۔۔۔ اگر اب پھر سکول میں کوٸ نیا تماشہ کھڑا کر آٸ ہے تو میں اس دفعہ سکول نہیں جاٶں گی “
غزالہ نے اپنے خدشات کے پیش نظر اسے اپنا فیصلہ پہلے ہی سنا دیا ، جو سینے پر ہاتھ باندھے چھوٹی سی ناک کے نتھنے غصے سے پھلاۓ کھڑی تھی
” اماں تقی میرا کیا لگتا ہے ؟“
مالا نے ماتھے پر بل ڈاے غصے سے سوال کیا ، سوال اور انداز ہی ایسا تھا غزالہ کا ماتھا ٹھنکا
” اماں چپ کیوں ہے جواب دے تقی میرا کیا لگتا ہے ؟ ، سب گھر کے بچے اسے تقی بھاٸ کہتے ہیں ایک میرے ہی کہنے پر کیوں پابندی لگا دی گٸ تھی بتا “
مالا گھور کر ماں کی طرف دیکھ کر سوال کر رہی تھی
” نکاح ہوا ہے تیرا تقی سے “
غزالہ نے آہستگی سے جواب دیا ۔
” اماں ۔۔۔۔ تقی۔۔۔۔ مطلب اس اکڑو ۔۔۔ کھڑوس سے “
مالا کا تو اوپر کا سانس اوپر ہی اٹک گیا تھا ، آنکھیں پھیل گٸ تھیں
” تمیز سے بات کر مالا ، اور تجھے یہ سب کس نے بتایا آج ہم سب گھر والے تو ذکر تک نہیں کرتے کبھی اس بات کا تجھ سے “
غزالہ نے الٹا غصہ دکھا کر اس سے سوال پوچھ ڈالا
” پورا گاٶں جانتا ہے اماں اور ایک میں ۔۔۔ اماں مجھے تقی جیسا دلہا نہیں چاہیے ، دلہے ایسے ہوتے ہیں کیا “
مالا نے روہانسی آواز میں چیخ کر کہا
” بکواس نا کر کیسی باتیں کر رہی ہے آج “
غزالہ نے اسے گھور کر ڈپٹا تھا
” اماں میں سہی کہہ رہی ہوں دلہے تو فرزانہ آپا کے دلہے حسن بھاٸ جیسے ہوتے ہیں یا پھر وہ شمو کا دلہا کتنا خیال کرتا اس کا ، تقی جیسا کوٸ دلہا ہوتا ہے کیا؟ ، وہ تو مارے گا ڈانٹے گا ہر وقت مجھے اب بھی اتنے غصے سے دیکھتا ہے مجھے جب بھی آتا ہے “
مالا نے پریشان سے لہجے میں اپنے دل کے وسوسے ظاہر کیے
” مالا بیٹیاں ایسی باتیں کرتی اچھی نہیں لگتیں ، تو چھوٹی ہے مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا آج تو مجھ سے ایسی باتیں کر رہی ہے ، میں نے تیری ایسی تربیت تو نہیں کی تھی ، یہ ضرور اس شماٸلہ کی بیٹی تبسم کی کارنامے ہوں گے جاتی ہوں میں آج اس کی ماں کے پاس “
غزالہ نے خود ہی اس کی دوستوں کا اندازہ لگا کر دانت پیستے ہوۓ دھمکی دی
” اماں خبردار اگر میری سہیلیوں کے گھر گٸ تو ، بس مجھے نہیں پتا مجھے دلہا بدلنا ہے “
مالا نے پاٶں زمین پر مارے معصومانہ ضد کی ، غزالہ کا منہ کھل گیا تھا
” مالا ۔۔۔ مالا چپ ہو جا عقل کی ماڑی(کم ) ۔۔۔ کوٸ سن لے گا یہ باتیں تیری شرم کر کچھ “
غزالہ نے آواز کو آہستہ رکھتے ہوۓ اسے گھور کر چپ رہنے کے لیے کہا ، پر وہ تو آج گہرے صدمے میں ڈوبی ہوٸ تھی ۔ اچانک غزالہ کو اس کی صورت دیکھے ترس آ گیا اب وقت آ گیا تھا اسے سب سمجھانے کا ماشاءاللہ بڑی ہو گٸ تھی غلطی یہ ہوٸ کہ اسے یہ سب باہر سے پتا لگا ۔
” ادھر بیٹھ ۔۔ میرے پاس ۔۔ “
غزالہ نے کندھوں سے پکڑ کر اسے اپنے ساتھ پلنگ پر بیٹھایا تھا
” دیکھ بیٹا دلہا تو اللہ نے قسمت میں لکھا ہوتا ہے ، جسے آپکے بڑے آپ کے لیے پسند کرتے ہیں ، اور رہی تقی کی بات وہ تو بہت اچھا ہے ، پورے گاٶں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا ، ڈاکٹر ہے وہ ۔۔۔۔ بول ایسا دلہا ہے کسی کے پاس “
غزالہ نے محبت سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا ، وہ اب آنکھوں میں پانی لے آٸ تھی اتنا تو جانتی تھی جس سے نکاح ہو جاۓ اس کے ساتھ ساری عمر گزارنی ہوتی ہے اور تقی وہ شریک حیات ہے یہ خیال ہی سوہان روح تھا اس کے لیے
” اس کے غصے کو کیوں دیکھتی ہے ، اس کی عادتوں کو دیکھ کتنا اچھا ہے سب کا کتنا خیال کرتا ، تجھ سے جب شادی ہو جاۓ گی تیرا بھی بہت خیال رکھے گا ابھی اچھا نہیں لگتا نا کہ وہ تجھ سے بات کرے سب کے سامنے اس لیے نہیں بلاتا تجھے “
غزالہ نے اس کے آنسو گال سے صاف کیے تھے
” اور شمو کا میاں اور فرزانہ آپا کا دلہا ان دونوں سے اچھا ہے تیرا دلہا ، بابو ہے ، ڈاکٹر ہے ، سونا (پیارا ) کتنا ہے“
غزالہ اسے ایسے پچکار رہی تھی جیسے تقی اس کا دلہا نا ہوا عید کا سوٹ ہو گیا جسے پہننے سے وہ انکاری ہو اور ماں اس کی تعریفیں بگار کر پہننے پر رضامند کر رہی ہو
” چل اب اٹھ ۔۔۔ کپڑے بدل شاباش ۔۔۔کھانا لگاتی ہوں ، اور یہ بات ابھی اور کسی سے نا کرنا اچھا “
غزالہ نے اسے خبردار کیا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر نکل گٸ۔۔۔ اور وہ یونہی دم سادھے بیٹھی رہی ، لیکن ، تبسم ، ثریا اور غزالہ کی باتوں نے ساری رات نا سونے دیا اور صبح سویرے تک وہ جلتی آنکھیں لیے بس سوچتی ہی رہی ۔۔۔
لیکن پھر سکول میں تبسم اور ثریا کی چھیڑ خانی نے اس کے دل میں عجیب سے جذبات پیدا کر دیے تھے ۔ اور وہ جو کبھی ان باتوں کو سوچتی بھی نہیں تھی چوری چھپے منہا اور فرہاد کی نسبت کی تصاویر میں سے تقی کی تصویر چوری سے نکال لاٸ تھی جو اب ہر رات اس کے تکیے کے نیچے ہوتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: