Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Last Episode 42

0
چِراغ شام سے پہلے از ہماوقاص – آخری قسط نمبر 42

–**–**–

سفید شفاف اور تازہ رنگ و روغن میں لپٹی حاکم ہسپتال کی عمارت پوری شان سے گاؤں کی مین سڑک پر کھڑی تھی ۔ پورا ہسپتال جدید طرز کے سہولیات پر تعمیر کیا گیا تھا ۔ یہ دو منزلہ عمارت تھی اور اوپر بڑی سی سفید لوہے کی پلیٹ پر سرخ اور سیاہ رنگ میں حاکم ہسپتال لکھا گیا تھا ۔
ہسپتال کی یہ کشادہ عمارت ایسی تھی کہ کوئی بھی دیکھے تو پل بھر کو تو نگاہ یقین نا کر پائے کے کہ یہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں تعمیر کیا گیا ہسپتال ہے ۔ بیرونی گیٹ سے لے کر ہسپتال کے اندرونی حصے تک کو انہتائی دیدہ زیب اور ہر طرح کی جدید طبعی سہولیات کو مد نظر رکھ کر بنا گیا تھا ۔
تقی نے جدید طبعی آلات اور ہر طرح کی سہولت کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہا دیا تھا ۔ یہ اس کا خواب تھا جو آج پورے دو سال بعد پورا ہوا تھا اور آج حاکم قصر کے مکیں اس اعلی شان ہسپتال کے سامنے کھڑے تھے جسے دیکھنے کے لیے دور دور گاؤں سے بھی لوگ جمع تھے ۔
آج حاکم ہسپتال کے افتتاح کا دن تھا ۔ سارا مجمع ہسپتال کے بیرونی گیٹ کے آگے جمع تھا ۔ چوہدری حاکم سفید کلف لگے اکڑے قمیض شلوار کے ساتھ پگ پہنے ہوئے تھے ۔ وہ بہت نحیف ہونے کے باوجود آج ہشاش بشاش کھڑے تھے۔ انہیں اب اٹھنے بیٹھنے میں کافی تکلیف ہوتی تھی۔ سہارے کے بنا چلنا مشکل ہو جاتا تھا پچھلے سال خدیجہ بیگم کے اس دنیا سے چل بسنے کے بعد سے وہ بھی بہت ناتواں ہو گئے تھے ۔ نقیب حاکم اور نوازش حاکم نے انہیں دائیں بائیں سے تھام رکھا تھا ۔
چوہدری حاکم جو شروع سے ہی تقی کی تعلیم اور ڈاکٹر بننے کے مخالف رہے تھے۔ آج انگنت لوگوں کی آنکھوں میں عزت کی چمک دیکھتے ہوئے نا صرف حیران تھے بلکہ فخر سے سر بھی اٹھ گیا تھا ۔
لوگوں کی اتنی زیادہ مبارک باد وصول کرنے کے بعد ان کے اندر کچھ ایسا احساس جاگ گیا تھا , جیسے وہ اپنی ہی عمر میں کتنے برس پیچھے چلے گئے ہوں ۔ آہستگی سے ہاتھ کے اشارے سے نقیب اور نوازش کو سہارا دینے سے منع کر دیا ۔
تقی کی پورے گاؤں میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کے تمام گاؤں میں بہت عزت بن گئی تھی ۔ وہ لوگوں کے دلوں میں ایسا گھر کر چکا تھا کہ اس دفعہ کے انتخابات میں اس کے مخالف کو بہت بری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
یہ سب اس کی نیک سیرت , اس کی تعلیم اور غریبوں کو مفت جدید علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی بدولت تھا ۔
چوہدی حاکم کو آج اچھی طرح سمجھ آ گیا تھا کہ تقی کی تعلیم سے ان کی جدی پشتی عزت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ انہوں نے مزید عزت کمائی تھی ۔
وہ فخر سے گردن اٹھائے آج اپنے نام کے ہسپتال کے سامنے کھڑے تھے ۔ ان کے پوتے نے ان کے نام کو جاوداں کر دیا تھا یہ نام اب ان کی حیات تک کا محتاج نہیں رہا تھا بلکہ امر ہو گیا تھا ۔
تقی بڑے مؤدب انداز میں ان کو ہسپتال کے آگے لگے سرخ ربن کو کاٹنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔ بلکل انہی کی طرح سفید کرتا قمیض پہنے وہ اپنے دادا کی ہی پرچھائی تھا خوبرو , رعب دار اور تعلیم کی روشنی اس کے چہرے کو روشن کیے ہوئے تھی ۔ مختلف اخبارات کے صحافی تصویریں لے رہے تھے ۔ چوہدی حاکم یک ٹک محبت سے تقی کو دیکھ رہے تھے ۔
” دا جی ۔ ۔۔۔۔ربن ۔۔ کاٹیے ۔۔۔” تقی نے شائستگی سے مسکراتے ہوئے قینچی چوہدری حاکم کے آگے کی ۔
انہوں نے ایک نگاہ ہتھیلی پر رکھی قینچی پر ڈالی اور پھر والہانہ انداز میں قینچی پکڑنے کے بجائے اس کا بازو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔
آج کتنے سالوں کے بعد وہ تقی کو یوں اپنے سیںنے سے لگائے ہوئے تھے ۔ جب سے تقی نے ڈاکٹری پڑھنے کی ضد لگائی تھی تب سے ان کا رویہ تقی کے ساتھ سخت ہو گیا تھا ۔ لیکن آج نا صرف تمام گلے شکوے چھٹ گئے تھے بلکہ ان کی آنکھیں کھل گئی تھیں ۔
چند لمحے یونہی اسے اپنے ساتھ چمٹائے رکھنے کے بعد محبت اور جوش سے سرخ چہرہ لیے پیچھے ہوئے اور اس کے دونوں کندھے تھام لیے ۔
“تو میرا غرور ہے ۔۔۔ پتر شاباش ۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔” پرجوش لہجے میں اس کے کندھوں کو جکڑتے ہوئے کہا ۔۔
تقی کی مبہم سی مسکان اور گہری ہوئی وہ جیت گیا تھا۔ یہ وہ الفاظ تھے جن کو وہ ہر جماعت میں میں اول آنے کے بعد چوہدی حاکم کے منہ سے سننا چاہتا تھا ۔
اب ان کی اگلی نسلیں دا جی کی خوشی سے پڑھیں گی۔ بڑوں کی رضا سے پڑھیں گی , چوری چھپ کر یا ان کی ناراضگی مول لے کر نہیں ۔ اب وہ مالا کے ڈاکٹر بننے سے بھی خفا نہیں ہوں گے ۔ ۔۔۔ منیر پھپھا کے دونوں بچوں کو بھی وہ اور فرہاد پڑھا رہے تھے ۔ گو کہ اریب نے ان کو قبول نہیں کیا تھا مگر وہ حویلی میں سب سے گھل مل گئے تھے۔
سرخ رنگ کا ربن جیسے ہی کٹا ربن کی دائیں بائیں جھولتی لڑیوں کے ساتھ ہی تالیوں کی آواز گونج اٹھی ۔۔۔ ہجوم میں کھڑے سب کے چہرے سرشار تھے۔
سورج ہسپتال کی عمارت پر جی جان سے چمک رہا تھا ۔ حاکم ہسپتال ڈاکٹر تقی نقیب کا خواب تھا ۔ ایسے ہی خواب اگر تمام پوتے اور بیٹے دیکھیں اور اپنے خواب کے لیے جی جان لگا دیں تو کتنے ہی دا جی اور والدین کے نام جاوداں ہو جائیں ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
یہ جدید طرز کا کمرہ تھا جس کے سفید ماربل لگے فرش پر ایک طرف نفیس صوفے لگے تھے۔ خوبصورت اور بیش قمیت فرنیچر اور سجاوٹ کی چیزوں سے لیس یہ بڑا سا ھال نما کمرہ تھا ۔
حویلی میں جو ترمیم ہوئی تھی اس میں ماربل کا فرش , جدید فرنیچر اور یہ بڑے ھال نما کمرے کا اضافہ ہو گیا تھا ۔ چوہدری حاکم کے گزر جانے کے بعد تقی نے حویلی کا نقشہ کافی حد تک جدید طرز میں تبدیل کر لیا تھا ۔
حاکم ہسپتال میں اب مالا بھی اس کے ساتھ ایک ڈاکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دیتی تھی ۔ فرہاد منہا کو لے کر شہر میں منتقل ہو چکا تھا , جہاں منیر پھپھا کی وفات کے بعد اریب بھی ان کے ساتھ وہیں مقیم تھی ۔
اس بڑے سے ھال میں ایک طرف لگے جدید کاؤچ پر غزالہ بلقیس کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اور چند قدم کے فاصلے پر صوفے پر تقی اخبار پڑھنے میں مگن تھا ۔ سفید قمیض شلوار میں ملبوس , وہی خوبرو چہرہ بس چہرے پر ایک عدد عینک کا اضافہ ہو گیا تھا ۔
ایک دم سے شور برپا ہوا جیسے کئی بھونچال آ گیا ہو ۔۔۔ اچانک کی چیخ و پکار کے ساتھ اس شور پر تینوں نفوس نے ایک ساتھ سر اوپر اٹھایا۔
مالا پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی آ رہی تھی اور اس کے آگے سات سالہ مازن اور چار سالہ روشان ہنستے ہوئے بھاگ رہے تھے۔
مالا کا چہرہ غصے سے لال تھا اور سانس بری طرح پھول رہی تھی ۔ ہلکے سے پیچ رنگ کے کرتے اور شلوار میں وہ گلابی رنگت لیے ہوئے تھی جسم اب زیادہ بھرا بھرا تھا مگر خوبصورتی کے ساتھ شخصیت کا نکھار چار چاند لگا رہا تھا ۔
” مازن ۔۔۔ رک جائے ۔۔۔ روشان رک جائے فورا ۔۔ مما وارنز بوتھ آف یو لاسٹ ٹائم ۔۔۔” مالا نے انگلی کھڑی کرتے ہوئے دونوں کو خبردار کیا ۔
مازن بھاگتا ہوا سامنے بیٹھی غزالہ کی گود میں دبک گیا ۔ اور روشان بلقیس کی گود میں , مالا اب جھپٹنے کے انداز میں مازن پر لپکی ۔
تقی ایک جست میں اٹھا اور لپک کر مالا کا ہاتھ تھام لیا جو اب مازن کو بس مارنے کو ہی تیار تھی ۔ مازن اور روشان انتہا کے شرارتی بچے تھے جو اسے یہ بھولنے پر مجبور کر دیتے تھے کہ وہ اب ایک ڈاکٹر ہے ۔
” تقی چھوڑیں مجھے میں کہہ رہی ہوں ۔۔۔” مالا نے چیختے ہوئے کہا تقی اس کی کمر کے گرد بازو حائل کیے ہنس رہا تھا اور بلقیس اور غزالہ بھی مازن اور روشان کے ساتھ ہنس رہی تھیں ۔
” اماں , تائی اماں ۔۔۔ چھوڑ دیں ان دونوں کو بہت تنگ کیا ہوا ہے مجھے , جائیں ذرا کچن کا حال دیکھیں کیا کیا ہے دونوں نے , چینی کا پورا ڈبہ الٹا دیا ہے ” مالا روہانسی ہوئی ۔
بلقیس اور غزالہ بچوں کو اپنے ساتھ لپٹا رہی تھیں اور تقی اس کو آگے بڑھنے سے روک رہا تھا ۔
” تو کیا ہوا مالا بچے ہیں ۔۔۔ ” غزالہ نے گھورتے ہوئے کہا اور بغل میں لیے مازن کا ماتھا چوم لیا
” خبردار اگر میرے پوتوں کو ہاتھ بھی لگایا ” بلقیس نے مصنوعی گھور کر مالا کو تنبہیہ کیا ۔
” تائی اماں ۔۔۔ منہا آپا کی بیٹی دیکھی ہے کتنی سلجھی ہے اور یہ دونوں پتا نہیں کس پر چلے گئے ۔۔۔” مالا نے دانت پیستے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ کہا
بلقیس , تقی اور غزالہ نے فورا ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ایک نا ختم ہونے والا قہقوں کا طوفان تھا ۔ اور مالا کمر پر ہاتھ رکھے تلملا رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆
سن 2020
شیشے کی میز کے سامنے بیٹھا بائیس سالہ خوبرو لڑکا مسلسل ہنس رہا تھا ۔ اور شیشے کے میز کے دوسرے پار بیٹھی خاتون چمکتی فتح یاب آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” جی پھر ۔۔۔ بتائے ۔۔۔ کیا کہتے ہیں آپ ۔۔۔ اور میں تو حیران ہوں کہ آپ آ گئے ۔۔۔ موسٹلی پیشنٹ تو بھول ہی جاتے ہیں ” خاتون نے ہنستے ہوئے کہا
” میم آتا کیسے نا آپ نے میری زندگی بدل دی اور دو سال پہلے والی میری ساری حرکتیں آج مجھے حماقت لگ رہی ہیں ” لڑکے نے ہنستے ہوئے کہا
سامنے بیٹھی خاتون نے لب بھینچ لیے ۔۔۔۔
” میں اس وقت بھی جانتی تھی لیکن آپ اس وقت یہ بات سمجھ نہیں سکتے تھے اس لیے دو سال بعد کا وقت دیا تھا ۔ ” خاتون نے مسکراتے ہوئے یاد دلایا
اور لڑکا سر جھکا کر گہری مسکراہٹ کے ساتھ دو سال پہلے کی ملاقات یاد کر گیا ۔
☆☆☆☆☆☆
سن 2018……
شفاف شیشے کی میز کے بلکل سامنے بیٹھا یہ بیس سالہ لڑکا اپنے ہاتھوں پر نگاہیں جمائے ہوا تھا ۔ سرخ رنگ کی ٹی شرٹ , گلے میں چین , بکھرے لمبے سے بال , آنکھوں کے گرد سیاہ گہرے حلقے ۔ وہ صدیوں کا بیمار لگ رہا تھا
جدید فرنیچر سے لیس کمرہ گہری خاموشی میں ڈوبا تھا ۔ سفید چمکتی ٹائلز , بیش قمیت سجاوٹی گلدان , دیوار سے لگا کاؤچ اور کمرے کے تقریبا وسط میں شیشے کا بڑا سا میز جس کے ایک طرف گھومنے والی کرسی اور دوسری طرف جدید طرز کی تین کرسیاں تھیں جن میں سے ایک پر اس وقت وہ بیس سال کا لڑکا بیٹھا تھا ۔
شیشے کے بنے اس لمبے چوڑے میز کے دوسری طرف لڑکے کے بلکل سامنے بیٹھی انتہائی پروقار خاتون نفیس چشمے کی اؤٹ سے بغور گہری نگاہیں سامنے بیٹھے لڑکے پر گاڑے ہوئے تھی۔
کمرے کے بائیں طرف نفاست سے جدید طرز کے نیلی اور سفید دھاری والے وال پیپر پر میں لپٹی دیوار پر لگی سیاہ رنگ کی گھڑی کی ٹک ٹک کمرے کی خاموشی میں خفیف سا ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔
خاتون نے گہری سانس باہر انڈیلی اور گھومتی کرسی کو تھوڑا سا آگے کھسکاتے ہوئے اپنے بازو کہنیوں تک میز پر ٹکا دیے ۔
” کتنے سال سے تھی دوستی اس لڑکی سے تمھاری ؟ ۔۔۔” خاتون نے شائستگی سے حد درجہ متوازن لہجے میں سامنے بیٹھے لڑکے سے سوال کیا ۔
لڑکے کے جھکے سر میں ہلکی سی جنبش ہوئی مگر اس نے چہرہ نہیں اٹھایا۔ پھر کچھ دیر ہتھیلوں پر ہی نظر جمائے رکھنے کے بعد گویا ہوا
” دو سال سے جانتے تھے ہم دونوں ایک دوسرے کو ” گھٹی سی آواز تھی جو کمرے کی خاموشی کے باعث آسانی سے سنائی دے گئی تھی ۔
” ہم۔م۔م۔ اچھا وہ لڑکی آپ کو دو سال سے جانتی تھی ۔۔” خاتون ایک دم سے پیچھے ہوئی اور کرسی کو جھلاتے ہوئے دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں ملایا ۔
” جانتی ہی نہیں۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ۔ وہ ۔۔۔ مجھ سے بہت محبت کرتی تھی ” لڑکے نے فورا خاتون کی بات کو اچک لیا اور سر اوپر اٹھائے درستگی کی ۔
” اوکے ۔۔۔اوکے ۔۔۔ جانتی نہیں۔۔۔۔ محبت کرتی تھی ۔۔۔ تو۔و۔و۔و۔و وہ ۔۔۔ جو سامنے اس شیشے کے پار بیٹھی ہیں۔ وہ تمہیں کب سے جانتی اور محبت کرتی ہیں ؟ ۔۔۔” خاتون نے ملائم سے لہجے میں پوچھتے ہوئے ہاتھ سے دائیں طرف اشارہ کیا ۔
شیشے کے بنی دیوار کے پار چالیس سال کے لگ بھگ عمر کی خاتون مضطرب سی بیٹھی تھی ۔ آنکھیں نمی کا شکار تھیں اور ان کی سوزش بتا رہی تھی کہ وہ لگاتار بہت دن سے روتی رہی ہے ۔
لڑکا اس سوال پر جیسے مجسم ہو گیا اور اب شیشے سے پار اس خاتون کو دیکھ رہا تھا جو اسے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
” میں نے کچھ پوچھا ہے آپ سے , یہ خاتون آپ کو کب سے جانتی ہیں اور محبت کرتی ہیں ۔۔” سامنے بیٹھی خاتون نے پھر سے سوال دہرائے لہجہ حد درجہ ملائم اور شائستہ تھا ۔
” بہ۔۔۔بیس سال سے ۔۔۔ میں بیس سال کا ہوں تو ۔۔۔ تو بیس سال ہوئے ” لڑکے کی زبان لڑ کھڑا گئی ۔
” ہم۔م۔م بیس سال اور دو سال ۔۔۔۔ کافی فرق ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ” خاتون نے لب باہر نکالے استہزائیہ پوچھا جبکہ وہ اب بھی کرسی پر جھول رہی تھی۔
” ڈاکٹر ۔۔۔ لیکن میں ہما سے بہت محبت کرتا ہوں بہت زیادہ میں جانتا ہوں وہ بھی بہت کرتی تھی ۔۔۔ پھر اس نے بیوفائی کیوں کی مجھ سے۔۔۔ وہ نہیں کر سکتی ایسا میرے ساتھ ” لڑکا مضطر سے لہجے میں بات کرتے ہوئے سر کو دائیں بائیں ہلا رہا تھا ۔
” دو سال کی محبت کے بعد بیوفائی پر آپ خود کو ختم کر رہے تھے۔۔۔۔ تو وہ جو سامنے بیٹھی ہے اس کی بیس سال کی محبت ۔۔۔ وہ کہاں گئی ؟؟ ” سامنے بیٹھی ڈاکٹر نے متوازن مگر دو ٹوک لہجے میں سوال کیا ۔
لڑکا مجسم بن گیا تھا اور اب شیشے کی بنی دیوار کے پار بیٹھی اپنی ماں کی طرف دیکھ رہا تھا جو بار بار آنسو پونچھ رہی تھی ۔ کچھ پل یونہی خاموشی نگل گئی ۔ پھر سامنے بیٹھی خاتون کی آواز گونجی۔
” اللہ انسان سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے ۔۔۔ یقین اور ایمان ہے اس بات پر ؟ ” ڈاکٹر خاتون نے گہری نگاہیں جمائے سوال کیا
لڑکے نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا
” کبھی سوچا ۔۔۔ اللہ کی محبت کے لیے ماں کی ہی محبت کی مثال کیوں دی گئ ہے ؟ ” خاتون نے بڑے وثوق سے پوچھا
لڑکا کا سر نفی میں ہلا گیا ۔۔۔
” کیونکہ ماں جیسی بے لوث محبت کوئی نہیں کر سکتا , تم اس لڑکی کی دو سال کی محبت پر اس ماں کی محبت کو قربان کر رہے تھے ۔۔۔ خودکشی کرتے ہوئے ایک دفعہ بھی سوچا کہ اس لڑکی پر تو اس کا رتی بھر اثر نہیں ہو گا۔۔۔ زیادہ سے زیادہ چار دن اداس رہے گی اور بس پھر اپنی زندگی میں مگن ہو جائے گی ۔۔۔ مگر یہ جو عورت باہر بیٹھی ہے, تمھارے جانے کے بعد کیسے زندہ رہتی دیکھو اس کی طرف ۔۔۔ ” ڈاکٹر خاتون نے ہلکے سے سخت لہجے میں کہا اور اشارہ پھر سے شیشے کی دیوار کی طرف کیا ۔
لڑکے نے سر جھکا لیا۔۔۔ اور پھر ایک دم سے سر اٹھایا
” ڈاکٹر میں نہیں جی سکتا اس کے بنا ۔۔۔ میں مر جاؤں گا ۔۔۔ میں نہیں رہ سکتا ” اس کی روندھائی بھاری آواز پورے کمرے میں گونج گئی
خاتون نے مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر سجائی ۔۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔ میں مانتی ہوں تم بہت محبت کرتے ہو اس سے , مگر میں چاہتی ہوں اسے ثابت کرنے کے لیے تم دو سال کی شرط رکھو میرے ساتھ بلکہ ایک کانٹریکٹ ۔۔۔ سائن کرو ” خاتون نے جلدی سے سامنے پڑا رائٹنگ پیڈ اور قلم لڑکے کی طرف بڑھایا
لڑکا اب حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔ خاتون نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
” اس کانٹریکٹ میں تم یہ لکھو گے کہ تم دو سال تک خودکشی کی کوشش نہیں کرو گے اور دو سال کے بعد تم مجھے یہاں میرے کیبن میں ملنے آؤ گے اور پھر آ کر بتاؤ گے کہ تم اب کتنی محبت کرتے ہو اس لڑکی سے ۔۔۔ ” خاتون مسکراہٹ سجائے کرسی پر جھولتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔
لڑکے نے لب بھینچے اور راٹنگ پیڈ پر قلم چلانے لگا لکھنے کے بعد سر اوپر اٹھایا۔
” گڈ ۔۔۔۔ اب آپ اس کانٹریکٹ کے مطابق اگلے دو سال تک خودکشی کی کوشش نہیں کر سکتے , کیونکہ دو سال بعد میرے سامنے بیٹھ کر آپ کو کہنا ہے کہ ہاں میں آج بھی اس لڑکی سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں , اور پھر میں خوشی سے آپ کو خودکشی کی اجازت دے دوں گی ” خاتون نے مسکرا کر کہا
لڑکا خاموش ساکن رہا ۔
” اب آپ جائے اور اپنی مما کو کمرے میں بھیج دیجیے “
خاتون نے مسکرا کر حکم دیا
لڑکا اٹھا اور سر جھکائے مریل سے قدم اٹھاتا باہر نکل گیا ۔ شیشے کے پار وہ اپنی ماں کو اندر جانے کے اشارہ کرتا خود اسی طرح شکست خوردہ سا سر جھکا کر اپنی ماں والی جگہ پر ہی بیٹھ گیا ۔
باہر بیٹھی لڑکے کی ماں دروازے کو دھکیلتی ہلکی سی چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی اور ڈاکٹر کے اشارہ کرتے ہی سامنے کرسی پر براجمان ہوئی ۔
ڈاکٹر نے چند لمحے کے توقف کے بعد لب کھولے ۔۔۔
” مسز احمر ۔۔۔ سعد بہت جزباتی بچہ ہے ایسے بچے ہمیشہ ہر جزبے کی انتہا تک جاتے ہیں , ایسے بچوں کو لگتا ہے کوئی انہیں سمجھتا نہیں ہے , سب انہیں فقط سمجھاتے ہیں ۔۔۔ ” ڈاکٹر بڑے دھیمے لہجے میں سامنے بیٹھی لڑکے کی ماں کو سمجھا رہی تھی ۔
” آپ کو اپنے بیٹے کے قریب آنا ہے بہت قریب اس کی دوست بن جائیے ۔۔۔ اس کی باتیں سنئیں ۔۔۔ اس کی تعریف کریں ۔۔۔ اس سمجھانا چھوڑ دیں بلکہ اسے سمجھنا شروع کریں , وہ اگر کہتا ہے کہ وہ اس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہے اور غم زدہ ہے کہ اس نے چھوڑ دیا تو آپ بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے غم میں پہلے آنسو بہائیے اسے سینے سے لگائیں پھر احساس دلائیں کہ آپ مانتی ہیں وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے مگر آپ بھی اس سے محبت کرتی ہیں ۔۔۔ ” ڈاکٹر خاتون دھیمے لہجے میں سمجھا رہی تھیں اور سامنے بیٹھی خاتون آہستہ آہستہ سر ہلا رہی تھی ۔
” میں اس کے سیشن لیتی رہوں گی پر آپ کی محبت اور توجہ کی اشد ضرورت ہے آپکے بیٹے کو , اپنی پارٹیز اور دوسری تمام اکٹوٹیز چھوڑ دیجیے کچھ عرصے تک اس کے آس پاس رہیں احساس دلائیں کہ وہ کتنا اہم ہے آپ کے لیے ” ڈاکٹر ہاتھ ہلاتے ہوئے سمجھا رہی تھی ۔
خاتون نے تشکر آمیز نگاہیں ڈاکٹر پر جمائیں اور پھر گویا ہوئی
” شکریہ ڈاکٹر منہا ۔۔۔ آپ سے مل کر بہت تسلی ہوئی ہے میں سعد کو اب ایسے ہی ٹریٹ کروں گی جیسے آپ نے سمجھایا ہے ” خاتون نے تشکر آمیز لہجے میں شکریہ ادا کیا ۔
منہا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلادیا سامنے میز پر پڑی شیلڈ پر نام چمک رہا تھا ۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر منہا نقیب ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: