Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 10

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 10

–**–**–

فہد کے ضبط کی طنابیں ٹوٹ گئیں-وہ مریم کی گود میں منہ چھپا کر بچوں کی طرح رویا-اُس کا ایک ایک انسو مریم کے دل پر گرنے لگا-اُس کے بالوں میں اُن کا ہاتھ ساکت ہو چکا تھا-
“وہ مجھ سے پیار نہیں کرتی ماما۔۔”-وہ لمبا چوڑا مردایک لڑکی کے لیے رو رہا تھا- یہ محبت انسان کو کتنا ذلیل کرتی ہے اُس کے ضبط کے سارے بندھ توڑ دیتی ہے-یک طرفہ محبت انسان کو توڑ کہ رکھ دیتی ہے-
مریم کے پاس الفاظ ختم ہو گیے-اُن کی سجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اب کیا کریں-اس کو کیسے چپ کروائیں-
تبھی اُن کے دل میں ایک خیال آیا-آنے والے وقت میں اُن کو اُس پر عمل کرنا تھا- اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھیں-ہر حد تک جا سکتی تھیں-
؛؛؛؛؛؛؛؛———-؛؛؛؛؛؛؛
وہ ماریہ کے ساتھ آ تو گئی تھی مگر دل بہل نہیں رہا تھا-ماریہ کے سسرال والے بہت اچھے تھے-سب نے اُس کو کھلے دل سے ویلکم کہا-مگر اُس کا دل نہیں لگ رہا تھا-اُسے یہاں آئے تین دن ہو گیے تھے-ہر گزرتے دن کے ساتھ بے چینی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا-
ویک اینڈ چل رہا تھا-میران شاہ یونیورسٹی سے گھر آیا تو اُسے ہانیہ کے آنے کی اطلاع ملی-وہ حیرت اور خوشی کے تاثرات میں گر گیا-جس وقت وہ گھر آیا اُس وقت ہانیہ اپنے، کمرے میں سو رہی تھی اُس نے ڈسٹرب کرنا غیر مناسب سمجھا-
شام کو وہ لان میں سب کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا جب وہ چلی آئی-زرد رنگ کلر کے کاٹن کے سوٹ میں وہ کوئی سرسوں کا پھول لگ رہی تھی-میران شاہ نے دور سے اُسے دیکھا-وہ ماریہ کے ساتھ کسی بات پہ بحث کر رہی تھی-کچھ دیر بعد ماریہ چلی گئی تو وہ اکیلی کھڑی رہ گئی-میران نے چپکے سے طلحہ کو بیٹ پکڑایا اور اُس کے پاس چلا آیا-
“کیسی ہو؟ “-وہ اُس کے پیچھے اچانک آکر بولا تو وہ چونک گئی-میران شاہ کو دیکھ کر جیسے اُس کی موجودگی کا یقین ہی نہ آیا-دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی-مرجھائے ہوئے چہرے پر جیسے بہار آگئی-
“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟ “-ہانیہ کو لگا جیسے ساری بے چینی ایک دم سے ختم ہو گئی ہو-اُسے تپتے صحرا میں جیسے ٹھنڈا پانی مل گیا ہو-خزاں کے موسم میں ہی اچانک سے بہار آگئی ہو-کڑکتی دھوپ میں اچانک ٹھنڈی چھاؤں مل گئی ہو-کانٹوں کے سفر میں گلاب بچھا دیے گئے ہوںیسی ہی تو ہوتی ہے محبت کسی کو خون کے انسو رلاتی ہے اور کسی کو خوشیاں ہی خوشیاں دیتی ہے-ساری بات صرف قسمت کی اور تقدیر کی ہوتی ہے-کاتبِ تقدیر کسی کی زندگی کو پھولوں کی راہ بنا دیتا ہے اور کسی کو پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے-
“تمہیں دیکھ کہ میں ٹھیک سے بھی زیادہ ٹھیک ہو گیا ہوں”-وہ اُس کے چہرے کو نگاہوں میں لیتے ہوئے بولا تھا- حرف حرف میں سچائی تھی-
“تم کب کی آئی ہو ویسے؟ “-میران شاہ نے اُس کی جھکی نظروں کے تاقب میں دیکھا-وہ گھاس پہ ناجانے کیا تلاش رہی تھی-
“بدھ کو آئی تھی”-وہ بہت مختصر جواب دے رہی تھی-نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں-مقابل کی لو دیتی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں تھی-
“کیا بات ہے پریشان ہو”-جو محبت کرتے ہیں وہ اندر تک رسائی رکھتے ہیں-میران شاہ نے اُس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا دکھ دیکھ لیا تھا- حالانکہ اُس مختصر سے وقت میں ہانیہ نے بس ایک نظر اُس کو دیکھا تھا-
“کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔”-وہ گڑبڑا گئی-تو کیا اُس کے چہرے پر لکھا تھا کہ وہ پریشان ہے-کوئی بھی اُس کا چہرہ دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ اُس کے اندر ایک جنگ چھڑی ہوئی ہے-وہ اُس جنگ سے لڑتے لڑتے تھک سی گئی ہے-
“ہانیہ یو نو تم چھوٹ نہیں بول سکتی”-میران شاہ کے لہجے میں اُس کے کیے فکر تھی- “تمہیں اپنی آنکھوں میں راز چھپانے نہیں آتے۔۔۔اِن سمندر سی گہری آنکھوں میں بھی تمہارے راز تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں تم لاکھ جھٹلانے کی کوشش کرو مگر تم کامیاب نہیں ہو سکتی-تمہاری آنکھیں ہی تمہاری ہر بات کی نفی کر دیتی ہیں تمہارے جھوٹ کو جھٹلا دیتی ہیں”-وہ مدھم لہجے میں اُس کی حقیقت بتا رہا تھا-ہانیہ جو باتیں خود اپنے بارے میں بھی نہیں جانتی تھی وہ اُسے وہ سب بتا رہا تھا-
“تم جانتی ہو مجھے تمہاری آنکھوں میں دیکھ کر یہ خدشہ ہو رہا ہے کہ کچھ تو ایسا ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو ۔۔۔۔جسے تم بتانا نہیں چاہتی۔۔۔ہانیہ اگر میں سب جھوٹ کہہ رہا ہوں تو مجھے ثبوت دو کہ میری باتیں بے بنیاد ہیں اُن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔میرے سب خیالات کو غلط ثابت کرو۔۔”-وہ عجیب سے لہجے میں اُس سے باز پرس کر رہا تھا- ہانیہ حیران سی اب اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اور اُسی کا فائدہ اُٹھا کر میران شاہ اُس کو پرت در پرت کھول رہا تھا-اُس کی آنکھوں کے رازوں تک رسائی کر رہا تھا-
ہانیہ نے سوچا اُسے سب کچھ بتا دے-سارے رازوں سے پردہ اُٹھا دے-اس کے ہر خدشے کو سچ کر دے-مگر وہ کیا سوچے گا اُس کے بعد اُس کے بارے میں ۔۔۔اُس کو غلط سمجھے گا تو وہ اپنی صفائی کیسے دے گی-اُسے یاد آیا عائشہ نے ایک بار کہا تھا کہ مرد کبھی بھی قابل بھروسہ نہیں ہوتے-اُن پربھروسہ کر کہ اُن کو کوئی راز مت بتاو کیونکہ اُن کا ظرف بہت چھوٹا ہوتا-وہ کبھی بھی یہ بات برداشت نہیں کر سکتے کہ اُن کا جس عورت سے تعلق ہو وہ کسی اور کو پسند کرتی ہو یا اُسے کوئی پسند کرتا ہو پھر وہ اُن کی بیوی ہو یا محبوبہ دونوں کے لئے ہی اُنہیں یہ بات گوارا نہیں ۔۔۔۔اُن کی مردانہ آنا اُنہیں کبھی اِس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایسا کچھ جاننے کہ بعد پوزیٹولی ریکٹ کریں-ہانیہ نے اپنے خیال کو مسترد کر دیا-
“بولو ہانیہ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔تم مجھ پر اعتبار کرسکتی ہو”-وہ جواب جاننے کےلیے بے چین ہو رہا تھا-
“کچھ نہیں میری عائشہ سے لڑائی ہو گئی تھی”-وہ خود کو کمپوز کرتے ہوئے بولی-
“اتنی سی بات نہیں ہے ہانیہ کچھ اور بھی ہے جو تم اب بھی چھپا رہی ہو”-میران شاہ مطمئن نہیں ہوا تھا-
“اُس نے مجھے تھپڑ مارا تھا”-وہ مزید گویا ہوئی-
“لڑائی کیوں ہوئی تھی؟ “-وہ پھر بولا-
“کچھ پرسنل ایشو کی وجہ سے ہوئی تھی”-وہ اپنی طرف سے اُسے مطمئن کر رہی تھی مگر میران شاہ نہیں ہوا تھا- البتہ اُس نے مزید کچھ نہیں پوچھا تھا-
“کرکٹ کھیلو گی ہمارے ساتھ۔۔۔۔”-مسکراتے ہوئے آفر دی تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی-
“کم۔۔۔۔”-میران شاہ اُسے ساتھ لے کہ اُن سب کی طرف بڑھ گیا-میچ پورے عروج پر تھا-
؛؛؛؛؛————؛؛؛؛؛؛؛؛
جہاں کوئی مسیحا نہ ہو
درد کا درماں نہ ہو
کوئی تیرے جیسا نہ ہو
یہ اُن ساحلوں پہ اُتار دیتی ہے
محبت مار دیتی ہے
درد کے ماروں کو
گھر کی دیواروں کو
ہر ٹوٹے ہوئے لہجے کو
زندگی دیتی ہے
اعتبار دیتی ہے مگر
محبت مار دیتی ہے
گر جدائی کا ہلکا سا بھی کانٹا چبھ جائے
تڑپ اُٹھتی ہے
رو پڑتی ہے
اپنی گود ماں سے اُتار دیتی ہے
محبت مار دیتی ہے
وہ کھڑکی سے ٹیک لگائے مسلسل برسنے والی بارش کو دیکھ رہا تھا اکتوبر کی یہ بارش موسم کی خنکی کو مزید بڑھا رہی تھی ۔۔۔اس کے دل میں دور دور تک اداسی اور ویرانی چھائی ہوئی تھی بارش اس کی اداسی کو مزید بڑھا رہی تھی اس کے اندر کی پیاس زور پکڑتی جا رہی تھی بارش کا موسم اس کی جان تھا مگر آج یہی موسم اس کی جان لے رہا تھا وہ یک ٹک برستی بارش پر نظریں گاڑھے ہوئے تھا آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی انسووں کو اندر اتار رہا تھا پچھلے دو گھنٹے سے اپنی سابقہ پوزیشن پہ کھڑے رہنے کے باعث ٹانگیں شل ہو چکی تھی مگر پروا کسے تھی ۔۔۔۔اس سے پہلے بارش جب بھی ایی تھی اس کے لیے ہمیشہ خوشیوں کا پیغام لائی تھی مگر اب اُس کی ساری خوشیاں روٹھ چکی تھیں-
تبی اُس کے سیل پر بپ ہوئی-وہ چونکا-اُس نے بیڈ پہ پڑا سیل اُٹھایا-کوئی انجان نمبر تھا-وہ کچھ حیران ہوا-یس کا بٹن پریس کر کہ فون کان سے لگا لیا-
“ہیلو۔۔۔۔”-اُس نے شائستگی سے پوچھا-
“ہیلو۔۔۔”-دوسری طرف سے بھی وہی لفظ دہرایا گیا-نسوانی آواز پر کچھ حیرانگی ہوئی-
“جی کون؟ “-اُس نے ایک لمبا سانس خارج کرتے ہوئے بے دلی سے پوچھا-
“فہد بھائی میں عائشہ بات کر رہی ہوں”-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: