Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 11

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 11

–**–**–

“خیریت عائشہ اتنی رات گیے فون کیا”-فہد کچھ پریشان ہوا تھا-دل میں عجیب طرح کے وسوسے آنے لگے-دل نے دعا کی کہ وہ بلکل ٹھیک ہو-
“فہد بھائی مجھے آپ سے ملنا ہے-آپ بتائیں کب فری ہیں”-عائشہ نے اپنا مدعا بیان کیا-فہد سمجھ گیا کہ وہ کیوں ملنا چاہتی ہے-
“کل سنڈے ہے کل میں فری ہوں”-وہ مدھم سے لہجے میں بولا تھا-
“اوکے میں آجاؤں گی”-عائشہ نے مختصر سی بات کے بعد فون بند کر دیا-فہد کتنے ہی لمہے فون کوہاتھ میں لیے پرُسوچ انداز میں کھڑا رہا-پھر ایک لمبا سانس لیتے ہوئے بیڈ تک آیا-سائیڈ ٹیبل سے دو سلیپنگ پلز نکال کر پانی کے ایک گلاس کے ساتھ نگل لیں-
!——————–!
آج کافی دنوں بعد وہ مریم کے ساتھ لان میں بیٹھ کر چائے پی رہا تھا- کل رات اُن سے ساری بات شئیر کر کے اُسے جیسے سکون سا مل گیا تھا-مریم اُس سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہی تھیں جن کا وہ کبھی ہوں ہاں اور کبھی مختصر جواب دیتا اُن کے لیے یہی کافی تھا-کم از کم اُس کی چپ تو ٹوٹی تھی- فہد کی نظریں سامنے گھاس کی کٹائی کرتے مالی پر تھیں-
تبھی عائشہ چلی آئی-مریم اُسے دیکھ کر بے تحاشہ خوش ہوئیں کیونکہ وہ آج کافی دنوں بعد آئی تھی-فہد نے البتہ ایک سرسری سی نظر اُس پر ڈالی تھی-
“ارے میری بیٹی آئی ہے”-مریم نے چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا-عائشہ مسکراتے ہوئے اُن کے ساتھ ہیبیٹھ گئی-
“میں نے سوچا لوگوں کے پاس تو ٹائم ہے نہیں تو میں ہی مل آتی ہوں”-اُس نے فہد کو دیکھتے ہوئے طنز کیا تھا-مریم مسکرائیں-وہ سمجھ گئیں تھی- فہد کا اطمینان قابل دید تھا-
“میں اپنی بیٹی سے ملنے آنے والی تھی مگر وہ خود آگئی”-مریم نے اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا-
“انٹی آپ کی محبت پر شک نہیں ہے”-وہ اُن کے اتنے پیار پر کھل سی گئی تھی- “لیکن کچھ اور بھی بے حس لوگ ہیں یہاں جن کو اپنی دنیا سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ہے “-ایک اور طنز۔۔۔فہد نے اُس کو ایک نظر دیکھا اور پھر نظر انداز کر گیا-
“اچھا میں تمہارے لئے کافی بنا کر لاتی ہوں کیونکہ چائے تو تم پیو گی نہیں ۔۔۔۔”-مریم نے اپنا خالی کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا- “آج کل کی نوجوان عوام ناجانے کیوں کافی کی اتنی دیوانی ہے خاص طور پر تم اور فہد”-وہ مسکراتے ہوئے بولیں-
“ہانیہ کو بھی کافی بہت پسند ہے اُسے تو جتنی مل جائے کم ہے ۔۔۔بلکہ اُس کا تو یہاں تک خیال ہے کہ وہ اپنے ہونے والے ہزبینڈ کو بھی ساری زندگی کافی ہی پلائے گی”- عائشہ نے کن آکھیوں سے فہد کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی-فہد کا منہ کی طرف جاتا کپ رُک گیا-عائشہ نے اُس کے تاثرات نوٹ کیے-یہی تو وہ دیکھنا چاہتی تھی-مریم بھی ایک لمہے کے لئے چپ سی ہو گئیں-ایک نظر ساکت بیٹھے بیٹے پر ڈالی جو بت بنا کپ کو گھور رہا تھا-ایک طویل وقفہ اُن تینوں کے درمیان حائل ہوا-
“میں تمہارے لیے کافی لاتی ہوں”-مریم نے ہی اِس خاموشی کو مزید طویل ہونے سے بچایا-عائشہ نے اُن کو روکا نہ کیونکہ وہ اُن کی غیر موجودگی میں فہد سے بات کرنا چاہتی تھی-
“فہد بھائی آپ ویسے بہت تیز ہیں “-وہ اُٹھ کہ اُس کے سامنے والی چئیر بھی بیٹھ گئی-
“شکریہ۔۔۔۔”-وہ چائے ختم کر چکا تھا-کپ سامنے ٹیبل پہ رکھتے ہوئے بولا-
اب آپ مجھے شرافت سے پوری بات بتا رہے ہیں یا کوئی ڈرامہ کرنے کا ارادہ ہے”-وہ اُس کی بے نیازی پر تپ گئی تھی مگر خود کو کنٹرول کر لیا-
“کونسی بات؟ “- وہ انجان بنا تھا-
“یہی کہ آپ اور ہانی کے بیچ کیا کھچڑی پک رہی ہے آجکل “-اُس نے اُسے گھورتے ہوئے کہا-فہد نے چند لمہے اُسے دیکھنے کے بعد ٹیک لگا لی-
“اپنی کزن سے پوچھ لینا تھا وہ تمہیں ذیادہ اچھی طرح بتاتی۔۔۔۔”-اُس کا چہرہ بے تاثر تھا-
“وہ محترمہ یہاں ہوں تو پوچھوں نہ۔۔۔۔”-وہ چڑ کر بولی- “وہ تو ماریہ آپی کے ساتھ جا چکی ہے”-
“جب آئے گی تب پوچھ لینا”-فہد کا اطمینان قابل دید تھا-وہ لاپرواہی کا بھر پور مظاہرہ کر رہا تھا-جتنا باہر سے بہادر نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا اندر اُتنا ہی توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہا تھا-
“اگر مجھے اُس سے پوچھنا ہوتا تو یہاں تھوڑی آتی- وہ تو مجھ سے پکا بائکاٹ کر کہ گئی ہے-اس لیے اب آپ مجھے بتائیں”-عائشہ نے منہ بناتے ہوئے کہا تو وہ اُسے دیکھ کر رہ گیا-
“ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے”-فہد نے اُسے ٹالا-
“فہد بھائی۔۔۔۔”-وہ ناراضگی سے اُسے دیکھنے لگی- “صاف صاف کہہ دیں کہ مجھے بتانا ہی نہیں چاہتے فضول کے بہانے مت بنائیں”-
“میں نے اُسے پرپوز کیا تھا”-وہ دھیرے سے بولا تو عائشہ کا منہ حیرت کے مارے پورا کھل گیا-یعنی کہ جس بات کا شک تھا وہی بات تھی-
“مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ معاملہ گڑبڑ ہے-اویں تو وہ اُس دن اتنا نہیں چلا رہی تھی”-وہ خود کلامی میں بولی تھی-
“اور کچھ جاننا۔۔۔۔۔”-فہد نے اُس کو دیکھتے ہوئے پوچھا-
“ایک بات بتائیں؟ “- وہ سیدھی ہوکہ بیٹھ گئی-
“کیا؟ “-اُس نے سوالیہ انداز میں بھنویں اچکاتے ہوئے پوچھا-
“آپ کتنے پرسنٹ سیریس ہیں”-تجسس سے پوچھا گیا-
“جتنے پرسنٹ کوئی بھی پاگل انسان ہوسکتا ہے”- عجیب سا جواب آیا تھا-وہ عائشہ کو واقعی پاگل لگا-
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتی مریم آگئیں-اُن کی بات آدھوری ہی رہ گئی-مریم کے آنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا-عائشہ البتہ کافی دیر اُن کےپاس بیٹھی رہی-
!————————-!
میران شاہ آج ہانیہ کو اپنے ساتھ ریسٹورینٹ لے کہ آیا تھا-آج اُس کا برتھ ڈے تھا- مگر ہانیہ اِس بات سے انجان تھی-
“میران ہم کہاں جارہے ہیں ؟”-اُس نے کوئی چوتھی بار یہ سوال پوچھا تھا-اُس کی مسلسل چپ سے وہ جنھجلا گئی-
“آپ نے بتانا ہے یا نہیں ۔۔۔۔”-اُس اب کی بات نے غصے سے پوچھا تو میران شاہ کو اپنی چپ توڑنی پڑی-
“ایک سرہرائز ہے یار تھوڑا سا ویٹ کرو”-وہ مزے سے بولا-
“ایسا کونسا سرپرائز ہے”-وہ بے چینی سے بولی تو میران شاہ نے اُسے گھورا-
“تم پھوڑا سا صبر نہیں کر سکتی”-وہ گاڑی کو ریسٹورینٹ کے پارکنگ میں روکتے ہوئے بولا- “چلو اترو”-وہ باہر نکلتے ہوئے بولا-
ہانیہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو میران شاہ کو مجبوراً اُس کی طرف آنا پڑا-
“اتر بھی جاؤ یار”-اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے باہر نکالا-جسے باہر نکلتے ہی ہانیہ نے فورا چھڑوا لیا-
“اب تو بتا دیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ “-ہانیہ کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی-
“اففف لڑکی تم کتنے سوال کرتی ہو”-وہ منہ بناتے ہوئے بولا-
“اچھا آؤ”-میران نے پھر اُس کا ہاتھ تھام کر کھینچا-
“میران میں گر جاؤں گی”-وہ اُسے روکتے ہوئے بولی-اِس وقت وہ لمبی ہیل پہنے ہوئے تھی- بار بار پیر لڑکھڑا رہا تھا- ہیل پہن کر اُس کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا تھا مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتی تھی-
میران نے اُس کی بات سنی ان سنی کر دی اور اُسے لیے اندر آگیا-ہانیہ بے بسی سے اُس کے ساتھ چلتی آئی-
وہ اُس ٹیبل کی طرف بڑھا جہاں وہ سب جمع تھے-
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔”-سب نے اُسے دیکھتے ہی ایک ساتھ کہا تو ہانیہ نے حیرانگی سے اپنے ساتھ کھڑے میران شاہ کو دیکھا-
“آپ کا برتھ ڈے ہے آج؟ “-وہ سوالیہ انداز میں گویا ہوئی تو میران نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا-
“آپ نے مجھے بتایا تک نہیں ۔۔۔۔”-وہ ناراضگی سے بولی-
“سوچا سرپرائز دوں گا۔۔۔۔خیر چھوڑو آؤ میں تمہیں اپنےفرینڈز سے ملواؤں”-میران اُسے لیے اُن لوگوں کے پاس آگیا-ہانیہ کا سب سے تعارف کروایا-وہاں موجود سب لوگوں نے کھلے دل سے اُسے ویلکم کیا تھا- ہانیہ کو بھی اُن سب سے مل کہ بہت اچھا لگا-سب لوگ اُس سے مختلف سوال کرنے لگے-اگر وہاں کوئی چپ تھا تو وہ تھی نیہا درانی ۔۔۔۔جس نے میران شاہ کی آنکھوں سے وہ راز چرا لیا تھا جو پچھلے دنوں سے اُس کے اندر آنے والی تبدیلیوں کی وجہ بنا ہوا تھا-یہ بات جان کر اُس کا دل ٹوٹ گیا تھا-اُسے وہاں دہشت ہونے لگی دل چاہا اُس لڑکی کو جادو کی چھڑی سے فورا وہاں سے گم کر دے جو اُس کی خوشیوں کے درمیان آگئی تھی- اُس کی محبت چھننے آگئی تھی- نیہا کو اُس سے بے تحاشہ نفرت محسوس ہوئی-
“تمہیں کیا ہوا”-میران شاہ نے اُسے چپ بیٹھے دیکھا تو استفسار کیا-
“کچھ نہیں مانی آئی تھنک میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے-میں گھر جا رہی ہوں اِدھر نہیں بیٹھ سکتی”-وہ ہانیہ کو نفرت ذدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی-انسو باہر آنے کو بے تاب ہو رہے تھے مگر وہ یہاں رونا نہیں چاہتی تھی-چاند اُس کی حالت سے واقف تھا- وہ سمجھ گیا تھا کہ اچانک سے اُس کو کیا ہو گیا-
“ہاں اوکے یار تم گھر چلی جاؤ اگر اچھا محسوس نہیں کر رہی تو”-میران شاہ کچھ پریشان ہوا تھا-
نیہا کی ساری امیدیں ٹوٹ گئیں-میران شاہ کو اُس کے ہونے یا نہ ہونے سے واقعی فرق نہیں پڑتا تھا-وہاں رکنے کا اب کوئی جواز نہیں تھا- وہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی-چاند کو میران شاہ کی اِس بے نیازی پہ بہت افسوس ہوا-
!——————–!
رات کے ناجانے کس پہر ہانیہ کی آنکھ کھلی-پیاس کا احساس شدت سے ہو رہا تھا- اُس نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے پانی والا جگ اُٹھا کر ایک گلاس پانی پیا-پانی والا جگ ماریہ رات کو رکھ گئی تھی-
ہانیہ نے پانی پیا تو کچھ سکون ہوا-کمرے میں مدھم سی روشنی ہو رہی تھی- اُس نے جونہی رُخ موڑا تو حیران ہوئی-آنکھیں پھاڑ کہ اپنے ساتھ سوئے وجود کو دیکھا-ہانیہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا-دل کی دھڑکن بھی ایک دم جیسے تھم سی گئی تھی-یہ کیسے ہو سکتا تھا-اُس کو یقین نہیں آرہا تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: