Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 12

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 12

–**–**–

“عاشی تم۔۔۔۔”-ہانیہ نے اُسے جھنجوڑ ڈالا تو وہ بڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی-
“کیا تکلیف ہے؟ “-وہ نیند سے بوجھل آنکھیں ملتے ہوئے غصے سے بولی-
“تم سچ میں عاشی ہو نہ”-ہانیہ کو یقین نہیں آرہا تھا-رات کو تو وہ اکیلی سوئی تھی پھر وہ کیسے اور کب آگئی-
“کہیں کوئی چڑیل تو نہیں ۔۔۔”-دل میں خیال آیا-اُس نے آنکھیں پھاڑ کر پھر اُس کو دیکھا-عاشی کے روپ میں چڑیل اُس کے کمرے میں گھس آئی تھی- اففف خوف سے ایک جھرجھری لی تو کیا وہ مرنے والی تھی- اُس کا آخری وقت آن پہنچا تھا- ابھی میری عمر ہی کیا ہے کیا میں اتنی جلدی مر جاؤں گی-طرح طرح کے خیالات ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگے-اُس نے تصور میں خود کو چڑیل کے بڑے بڑے اور نوکیلے ناخنوں سے شہید ہوتے دیکھا-وہ چڑیل بڑے مزے سے اُس کا خون پی رہی تھی-پھر اُس نے چڑیل کو اپنا گلا دباتے دیکھا-ہانیہ نے اپنے گلے پر دونوں ہاتھ رکھ لیے-وہ ابھی نہیں مرنا چاہتی تھی-کاش کوئی آجائے-اُس کے دل سے دعا نکلی-
“دیکھو پلیز مجھے مت مارو۔۔۔پلیز”-وہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کہ گڑگڑانے لگی-
“ہانی۔۔۔۔۔کیا ہوا؟ “-عائشہ نے اُس کو شانوں سے تھام کر زور سے ہلایا تو وہ چونکی-
“مجھے چھوڑ دو پلیز۔۔۔”-اُس نے التجا کی-
“یہ لو چھوڑ دیا۔۔۔۔اب بتاؤ کیا ہوا؟ “-عائشہ نے اُسے فورا چھوڑ دیا-
“تم یہاں کیوں آئی ہو؟ “-وہ اندھیرے میں اُسے دیکھتے ہوئے بولی-
“تمہارا قتل کرنے”-عائشہ چڑ کر بولی اور اُسے پھر شانوں سے تھام لیا-ہانیہ نے تصور میں خود کو ایک بار پھر مرتے ہوئے دیکھا-
“تم چڑیل ہو نہ۔۔۔۔”-چہرے پر پھیلی دہشت کے باوجود بھی بڑی معصومیت سے سوال کیا گیا-
“لعنت ہے تم پہ ہانی۔۔۔میں تجھے چڑیل لگتی ہوں۔۔۔۔میں یعنی عائشہ رفیق اتنی خوبصورت دوشیزہ تمہیں چڑیل نظر آرہی ہوں”-عائشہ کو تو اُس کی بات سے صدمہ ہی لگ گیا تھا- اُس نے ایک جھٹکے سے اُسے دور کیا-ہانیہ گرنے سے بمشکل بچی-کتنی طاقت وار ہے یہ چڑیل۔۔۔اُس نے دل میں سوچا-“ناجانے کیا کھاتی ہے”-وہ بے وقوفی کی طرح الٹا سیدھا سوچی جارہی تھی-
“چڑیل کسی بھی پیاری لڑکی کا روپ لے سکتی ہے”-ہانیہ نے اُس سے زرا فاصلے پر ہوتے ہوئے کہا تو عائشہ کو اُس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا-
“شکر ہے تمہیں میرے حسین ہونے پر تو یقین ہے”-عائشہ نے سکھ کا سانس لیا-
“پر تم مجھے مارنا کیوں چاہتی ہو؟ “-وہ پھر معصومیت سے گویا ہوئی-
“افففف اب بندہ اتنا بھولا اور بے وقوف بھی نہ ہو۔۔۔سہی کہتی ہیں کرن اپی تمہاری عقل ٹخنوں میں بھی نہیں ہے”-عائشہ نے اپنا سر پیٹ لیا-
“تم سو جاؤ صبح بات کریں گے کیونکہ اِس وقت تم اپنے ہواسوں میں نہیں ہو”-عائشہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولی-ساتھ ہی سر سے پیر تک چادر تان لی-وہ مزید بکواس نہیں سن سکتی تھی-
“تم چڑیل نہیں ہو کیا؟ “-وہ ڈرتے ڈرتے بولی تو عائشہ کا غصہ عروج پہ پہنچ گیا-
“اگر تم نے اپنی بکواس بند نہ کی تو میں سچ میں تمہارے ساتھ چوڑیلوں والا سلوک کروں گی یاد رکھنا”-عائشہ نے کمبل منہ سے ہٹا کہ اُس کو وارننگ دی تو ہانیہ کی جان میں جان آئی-ایسی وارنگز اُسے اصلی والی چڑیل ہی دے سکتی تھی-
“تم کب اور کس کے ساتھ آئی؟”-ہانیہ کچھ ریلکس ہوئی-ٹانگیں پسارتے ہوئے پوچھا-
“اِس بات کا جواب میں سو کہ اُٹھ کہ دوں گی”-وہ چادر کے اندر سے ہی بولی-عائشہ کو اپنی نیند بہت عزیز تھی- ہانیہ نے اُسے دوبارہ مخاطب کرنا ضروری نہ سمجھا اور چپ چاپ اُس کی طرف پشت کر کہ لیٹ گئی-
!——————-!
وہ صبح دس بجے کے قریب اُٹھی-کسلمندی سے ایک انگڑائی لی تو رات والا سارا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گیا-ہانیہ نے فورا اپنے برابر دیکھا مگر اب وہاں کوئی بھی نہیں تھا- کہیں وہ خواب تو نہیں تھا یا سچ مچ کی چڑیل تھی-وہ سوچتی ہوئی کچن میں آگئی-جہاں ماریہ بریک فاسٹ بنا رہی تھی-سب لوگ اپنے اپنے کاموں پہ جا چکے تھے-ماریہ لیٹ ہی ناشتہ کرتی تھی-ہانیہ اندر داخل ہوئی تو ماریہ کے ساتھ کھڑی عائشہ کو دیکھ کر اپنے سب خیالات کی منفی کر دی-وہ واقعی آئی ہوئی تھی کیونکہ خواب دن میں تو نظر آنے سے رہے-
ہانیہ نے اُس کو مخاطب نہیں کیا تھا- وہ دونوں اُسے دیکھ چکی تھیں-
“اِس نے کل رات مجھے چڑیل سمجھ لیا تھا”-عائشہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے ماریہ کو بتایا جو املیٹ بنارہی تھی-عائشہ کی بات پر مسکرائی-ہانیہ نے البتہ کوئی جواب نہیں دیا تھا-
وہ چپ چاپ ٹیبل پر بیٹھ گئی-کھلے بالوں کو لپیٹ کر کیپچر لگا لیا-عائشہ ہاتھ دھو کہ اُس کے پاس ہی آن بیٹھی اور سوپٹے سے ہاتھ صاف کیے-
“ابھی تک ناراض ہو”-عائشہ نے اُس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر پیار سے پوچھا-وہ اُس کی طرف جھک کر اُس کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی-ہانیہ نے مزید منہ نیچے کر لیا-
“اچھا سوری نہ۔۔۔”-وہ اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو ہانیہ نے فورا سے پیشتر اپنا ہاتھ چھڑوا لیا اور اُٹھ کہ ماریہ کے پیچھے کھڑی ہو گئی-عائشہ جانتی تھی اب وہ سو سو نخرے دکھائے گی-
“اپی اِس کو بولیں مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرے”-وہ عائشہ کو گھورتے ہوئے ماریہ سے مخاطب ہوئی جو مسلسل اُن کی باتوں پر مسکرا رہی تھی-
“میں تو کروں گی۔۔۔۔روک لو اگر روک سکتی ہو تو۔۔۔۔”-وہ اُسے تنگ کرتے ہوئے بولی-
“اپی آپ نے اِس کو یہاں کیوں بلایا یے؟ “-وہ ایک بار پھر ماریہ سے باز پرس کرنے لگی-
“ہانی میں نے اِس کو نہیں بلایا وہ خود تمہیں منانے آئی ہے”-ماریہ نے املیٹ تین پلیٹوں میں نکالا-
“اور واپس لے جانے بھی۔۔۔”-عائشہ نے لقمہ دیا-
“میں اِس کے ساتھ بلکل واپس نہیں جاؤں گی اور نہ اِس سے بات کروں گی”-وہ ضدی پن سے بولی-
“ہانی میری جان۔۔۔میری بہن”-عائشہ نے اُٹھ کہ اُس کے گلے میں بانہیں ڈال لیں-
“میں تمہاری بہن نہیں ہوں۔۔۔بہنوں کے ساتھ ایسے کرتے ہیں کیا”-وہ رونے والی ہو گئی تھی-عائشہ کو دل میں پھر افسوس ہوا-
“تم تو میری جان ہو۔۔۔ اُس دن تو بس غصے میں آکر غلطی ہو گئی تھی۔۔۔معاف کر دو پلیز”-وہ اُسے منانے لگی-
“چھوڑو مجھے۔۔۔”-وہ اُسے دور کرنے لگی مگر عائشہ نے مزید گھیرا تنگ کر دیا تو اُس نے بے بسی سے ماریہ کو دیکھا-
“ہانی چلو معاف کر دو بیچاری کو ۔۔دیکھو خاص تمہیں منانے آئی ہے”-ماریہ نے عائشہ کے اشارہ کرنے پر اُس کی سفارش کی-عائشہ اُسے چھوڑ کہ ماریہ کے پیچھے ہوئی-
“اِس نے مجھے تھپڑ کیوں مارا تھا”-وہ اب بھی اُس بات پر ہی آڑی ہوئی تھی-
“آئندہ نہیں ماروں گا پکا والا پرامس۔۔۔اب معاف کر دو پلیز”-عائشہ مسلس اُس کی منتیں کر رہی تھی-
“نہیں۔۔۔”-وہ کسی صورت تیار نہیں تھی- عائشہ نے ماریہ کو کہنی ماری-
“ہانی میرے کہنے پر معاف کر دو اسے ایک بار۔۔۔اگر دوبارہ اِس نے تمہیں کچھ بھی کہا نہ تو ہم مل کہ اِس کی مرمت کریں گے”-ماریہ نے ایک اور کوشش کی-
“بس آپ کے کہنے پر کر رہی ہوں”-وہ احسان جتاتے ہوئے بولی-
“بہت شکریہ اِس نوازش کا ملکہ عالیہ ۔۔۔”-ماریہ نے شرارت سے اُس کے سامنے جھکتے ہوئے کہا تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی-
“اب میں اپنی سزا ختم سمجھوں”-عائشہ جو ماریہ کے پیچھے کھڑی تھی آگے ہوتے ہوئے بولی-
“سوچ کر بتاؤں گی”-وہ مسکراہٹ دبا کر بولی تو عائشہ اُسے گھورتے ہوئے اُس کے گلے لگ گئی-ہانیہ بھی اُسی وقت سب بھول بھال گئی-
!——————!
میران اُسے لنچ کروانے لایا تھا- وہ اُس کے ساتھ آنے پر راضی نہیں تھی مگر وہ زبردستی لے آیا تھا- ہانیہ کو اِس طرح روز روز اُس کے ساتھ باہر جانا پسند نہیں تھا- مگر میران شاہ اُس کی سنتا کب تھا-وہ تھوڑی سی کوشش کے بعد مان گئی تھی-
“یار تم ہر وقت اتنی سڑی کیوں رہتی ہو؟ “-میران شاہ نے مینیو کارڈ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اُس سے پوچھا جو اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی- اُس کو محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر نظر اُس پر جمی ہو-وہ پتہ نہیں کونسا گناہ کر رہی تھی-ہانیہ کو وہاں وہشت ہونے لگی مگر مجبوری تھی وہ کچھ بول نہیں سکتی تھی-
“ہانی ۔۔۔کہاں کھوئی ہو یار؟ “-میران شاہ نے اُس کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ اُس کو دیکھنے لگی-
“میران مجھے یہاں بیٹھ کہ اچھا نہیں لگ رہا”-اُس کو پسینہ آنے لگا-کل تک وہ ہوٹلوں میں بیٹھے جوڑوں پر تنقید کرتی تھی اور آج خود تنقید کا نشانہ بنی ہوئی تھی-
“او پلیز یار یہ مڈل کلاس سوچ کو ختم کردو-ہم کونسا کوئی غلط کام کر رہے ہیں”-میران شاہ نے اُس کی بات چٹکیوں میں اُڑاتے ہوئے کہا-
“میران واپس چلتے ہیں”-ہانیہ کو لگا اگر وہ کچھ دیر اور اُدھر بیٹھی رہی تو یقیناََ ڈر کے مارے بیہوش ہو جائے گی-
“پاگل ہو کیا-ہم لنچ کرنے آئے ہیں اور کر کہ جائیں گے”-میران شاہ کو اُس کی دقیانوسی ٹائپ باتوں پہ سخت افسوس ہو رہا تھا-
“ہم گھر جا کہ بھی تو کر سکتے ہیں”-ہانیہ کا دل بہت بے چین ہو رہا تھا-
“اگر ایسی بات تھی تو تم آتی نہ۔۔۔میں زبردستی تو نہیں لایا تم اپنی مرضی سے آئی ہو”-اُس کا موڈ خراب ہو گیا- “اور ہانیہ تم اتنی چھوٹی سوچ رکھتی ہو مجھے یقین نہیں آرہا ۔۔۔اِس طرح کے ڈرامے تو مڈل کلاس لڑکیاں بھی اب نہیں کرتی جیسے تم کر رہی ہو”-وہ ناگواری سے بولا تھا-
“میران میرا وہ مطلب نہیں تھا”-ہانیہ تھوڑا گڑبڑا گئی-
“تم نے میرا موڈ خراب کرنا تھا اور وہ تم کر چکی ہو”-وہ غصے سے بولا-
آئی ایم سوری پلیز۔۔۔۔”-اُس نے فورا معزرت کی تو میران شاہ کا موڈ کچھ سیٹ ہوا-وہ خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرنے لگا-
“اٹس اوکے۔۔۔۔اب بتاؤ کیا کھاؤ گی؟”-اُس نے مینیو کارڈ اُس کے سامنے کرتے ہوئے پوچھا تو ہانیہ نے ناچاہتے ہوئے بھی ایک دو ڈشز کا کہہ دیا وہ اب دوبارہ اُسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی-
میران شاہ ویٹر کو آرڈر لکھوانے لگا-ہانیہ بے چینی سے اپنی انگلیاں مروڑتی رہی-
ریسٹورینٹ کے دروازے سے اندر داخل ہوتے فہد نے اُسے دیکھ لیا-وہ اتنی دور سے بھی پہچان گیا تھا کہ وہ ہانیہ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی-اُسے ازحد حیرت ہوئی وہ کسی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی- فہد کے ساتھ دو تین اور لوگ تھے-فہد اُن سے ایکسکیوز کرتا اُن کی طرف آیا-وہ لوگ اپنے ٹیبل کی طرف چلے گیے-
ہانیہ نے سر اُٹھایا تو سامنے کھڑے فہد کو دیکھ کر جیسے سانس ہی رک گیا-میران شاہ بھی اُس کو دیکھ چکا تھا-
“آپ کون؟ “-میران شاہ نے اُسے مسلسل ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا-
“تو یہ وجہ تھی ہانیہ شفیق تمہاری مجھے انکار کرنے۔۔۔۔میرا دل توڑنے کی”-فہد نے میران شاہ کی بات کو تو جیسے سنا ہی نہیں تھا- ہانیہ کو لگا وہ کبھی سر نہیں اُٹھا سکے گی-اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے تمسخر دیکھ کر اُس کی آنکھیں مارے شرم کے جھک گئیں-
“اے مسٹر کیا بکواس کر رہے ہو اور تم ہو کون؟ “-میران شاہ نے اُٹھ کہ اُس کا گریبان تھام لیا-وہ ایسا ہی تھا غصہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا-ہانیہ نے بے ساختہ منہ پہ ہاتھ رکھا-یہ کیا ہو گیا تھا-
“ڈی ایس پی فہد مرتضی”-اُس نے اپنا کالر چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی- بلکہ اُس کی بات سن کر میران شاہ نے خود چھوڑ دیا تھا-سارا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا- ریسٹورینٹ میں سب لوگوں نے دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھا-فہد کے ساتھ جو لوگ آئے ہوئے تھے وہ فورا اُٹھ کہ اُن کے پاس آئے-
“فہد اینی پرابلم۔۔۔۔”-
“نو سر نتھنگ۔۔۔”-وہ اپنے اندر اُٹھتے اشتعال پر قابو پاتے ہوئے بولا-
“ہانیہ شفیق ایک بات یاد رکھنا ہوٹلوں میں سر عام گھومنے والی محبت ٹائم پاس کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔۔۔۔عزت کا تماشہ بنانا ہو تو لوگ یہ سب کرتے ہیں”-فہد نے ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی تھی اُس پر اور وہ اپنی بات کہہ کہ وہاں رکا نہیں تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا-ہانیہ شفیق کو اُس کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے سرد سے جزبات دیکھ کر حیرت کا جٹکا لگا تھا اور اُس سے ذیادہ اُس کی بات سے لگا تھا-
میران شاہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا ہانیہ کو بلانا بھی گوارا نہ کیا-وہ خود ہی اُس کے پیچھے اپنے بکھرے وجود کو گھسیٹتی ہوئی لپکی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: