Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 13

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 13

–**–**–

شک کا کیڑا جب دماغ میں کلبلانے لگتا ہے تو رشتے کھوکھلے ہو جانا شروع ہو جاتے ہیں-اُن میں خود بخود دوریوں کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے-مرد کبھی بھی عورت پر اعتبار نہیں کر سکتا-عورت کی طرف سے ہونے والی زرا سی کوتاہی بھی اُس کا دل عورت کے لیے بدظن کر دیتی ہے-وہ چاہ کر بھی پھر عورت کو وہ پہلے والا مقام نہیں دے سکتا-محبت میں جب بے اعتباری اور شک پیدا ہوتے ہیں تو پھر وہ محبت نہیں رہتی بلکہ ایک مجبوری بن جاتی ہے جس سے کوئی کبھی بھی پیچھا چھڑا سکتا ہے-
وہ لائبریری کے خاموش ماحول میں بیٹھا ہوا تھا مگر اُس کے دل و دماغ میں ایک شور برپا تھا- اور یہ شور بے اعتباری اور شک جیسے جزبات کا تھا اُس شور میں محبت کی آواز کہیں دب گئی تھی-
سامنے رکھی کتاب پہ نظریں جمائے وہ کہیں دور سوچوں کی وادی میں بھٹک رہا تھا-
چاند بیگ میز پہ رکھتے ہوئے اُس کے سامنے بیٹھ گیا-اُس نے کتابیں بیگ سے نکال کر میز پر رکھیں تو نظریں میران شاہ کے کھوئے ہوئے چہرے پر پڑیں-
“کیا ہوا تمہیں ۔۔۔۔؟کہاں کھوئے ہو۔۔۔؟”-وہ اُس کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے بولا تو میران شاہ نے چونک کر اُس کو دیکھا-مگر کچھ بولا نہ-
“سب سیٹ ہے نہ باس۔۔۔”-وہ چاند کو کافی پریشان اور الجھا ہوا لگا-
“ہممممم ۔۔۔۔”-اُس نے لمبا ہنکار بھرتے ہوئے چہرے پہ ہاتھ پھیرا-
“کیا بات ہے؟ “-وہ اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا-میران شاہ نے کچھ دیر بعد اپنا ہاتھ نکال لیا-بے چینی حد سے بڑھ رہی تھی-
“ایک بات بتاؤ گے؟ “-وہ سیدھا ہو کہ بیٹھ گیا-
“کیا۔۔۔۔؟”-چاند نے بھنویں اچکاتے ہوئے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا-
“اگر ہم کسی سے پیار کرتے ہوں اور وہ پہلے کسی اور کو پسند کرتا ہو تو کیا کرنا چاہیے”-اُس نے سنجیدگی سے سوال کیا-ذہن میں موجود سوالوں کا کسی طرح تو جواب پانا تھا-
“اِس سوال کا جواب تو نیہا ذیادہ اچھی طرح دے سکتی ہے کیونکہ اُسے تھوڑا بہت تجربہ ہے اِس بارے میں۔۔۔ہم تو بلکل کورے ہیں اِس طرح کے معاملات میں ۔۔۔”-چاند نے شاید طنز نہیں کیا تھا مگر میران شاہ کو وہ طنز ہی لگا تھا-
“تم سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے”-میران شاہ کو غصہ آگیا اُس نے اپنی کتابیں سمیٹی اور ایک گھوری اُس پر ڈالتا لائبریری سے نکل گیا-چاند نے پیچھے سے کئی آوازیں دی مگر وہ بنا سنے ہی چلا گیا-
“توپ کا گولا ہے پورا۔۔۔”- چاند واپس کتابیں بیگ میں رکھتے ہوئے بڑبڑایا-بیگ دائیں کندھے پہ لٹکاتے ہوئے اُس کے پیچھے ہی چلا آیا-
وہ لان میں ہی ٹہل رہا تھا چاند اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-میران شاہ نے اُسے اگنور کر دیا-
“اب بتاؤ کیا کہہ رہے تھے؟ “-وہ شوز سے زمین کو کھرچتے ہوئے بولا-
“وہ پہلے کسی اور کو بھی لائیک کرتی تھی”-اُس نے سیدھی مطلب کی بات کی-
“تمہیں کیسے پتہ”-وہ رک کے اُسے دیکھنے لگا-میران شاہ بھی رک گیا-
“بس مجھے پتہ ہے”-وہ ٹالتے ہوئے بولا-
“مجھے بھی تو بتاؤ نہ۔۔۔”-چاند نے ضد کی تو میران شاہ نے دو دن پہلے والا سارا واقع اُس کے گوش گزار دیا-
“اب کیا کرو گے”-وہ ساری بات سننے کے کافی دیر بعد گویا ہوا-
“میں اُسے چھوڑ رہا ہوں”-اُس نے بڑے آرام سے جواب دیا-چاند کتنے ہی لمہے بے یقینی سے اُسے دیکھتا رہا-
“تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو”-چاند کو لگا وہ مزاق کر رہا تھا-
“اچھی طرح جانتا ہوں اور یہ فیصلہ میں بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے”-میران شاہ کا اطمینان باہر سے قابل دید تھا مگر اندر پھر بھی توڑ پھوڑ ہو رہی تھی-
“اتنی چھوٹی سی بات پہ اتنا بڑا فیصلہ کچھ ٹھیک نہیں ہے”-چاند نے اُسے سمجھانا چاہا-
“چھوٹی سی بات۔۔۔۔”-وہ استہزائیہ انداز میں بولا تھا- “مجھ سے پہلے وہ اُس ڈی ایس پی کے ساتھ تھی-اُس سے کسی بات پہ بریک اپ ہوا تو میرے ساتھ ہو گئی-کل کو مجھ سے لڑ کہ وہ کسی اور کے ساتھ ہو گی۔۔۔۔ایسی لڑکیوں کا کام ہی یہی ہوتا”-محبت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والا ہی آج زہر اگل رہا تھا-
“اور مجھے اُس کی کزن کی آج بھی یہ بات یاد ہے کہ اُس نے کہا تھا کہ ہانی تمہیں کتنی دفعہ محبت ہونی ہے۔۔۔۔تم خود سوچو آخر کوئی بات ہو گی تو اُس نے یہ بات کہی ہو گی نہ”-سہی کہا ہے کسی نے کہ مرد کانوں کا بہت کچا ہوتا جو سنتا اُسی کو سچ مان لیتا-سوچنے سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا-
“یہ سب تمہیں پہلے بھی تو پتہ تھا نہ تو کیوں کی تھی اُس کے ساتھ محبت”-چاند کو اُس کی تھرڈ کلاس سوچ پہ بہت افسوس ہوا-اگر وہ اُس کا دوست نہ ہوتا تو وہ کب کا ایسے انسان پہ لعنت بھیج کہ اُس سے دور جا چکا ہوتا-
“وہ محبت تھی ہی نہیں ۔۔۔۔شاید وقعتی جزبات تھے اِسی لیے اتنی جلدی ختم ہو گیے”-اُس نے انتہا کر دی تھی-
چاند کے پاس بولنے کے لیے الفاظ ختم ہو گیے-وہ اِس حد تک سیلفش تھا چاند کو یقین نہیں آرہا تھا-
“نیہا کہاں ہے؟ “-اُس نے نیہا کا پوچھا-اب نیہا پھر اُسے یاد آگئی تھی-
“پتہ نہیں ۔۔۔۔”-وہ دھیمے سے بولا تھا-
“میں دیکھتا ہوں اُسے”-وہ اپنی بات کہہ کہ چلا گیا اور چاند کتنے ہی لمہے وہاں سے ہل بھی نہیں پایا تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: