Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 14

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 14

–**–**–

“ہانی ۔۔۔۔”-وہ دونوں اُس کی طرف بڑھے-کانچ کے چبنے سے کئی جگہ سے خون نکل رہا تھا- اُس کی ایڑھی میں کانچ کا بڑا سا ٹکڑا اندر تک گھس گیا تھا- پورا پیر خون سے سرخ ہو رہا تھا- وہ درد سے چلا رہی تھی- عائشہ نے بھی ساتھ ہی رونا شروع کر دیا-
“او ہو پلیز اب یہ عورتوں والا ڈرامہ نہ شروع کر دینا ۔۔۔کچھ نہیں ہوا اِسے”-حارث نے عائشہ کو دیکھ کر چڑتے ہوئے کہا-
“حارث کتنا خون نکل رہا ہے دیکھو تو”-عائشہ نے بے ہوش ہوتی ہانیہ کو دیکھا-
“ہانی۔۔۔۔آنکھیں کھولو”-وہ اُس کے گال تھپتھپانے لگی-
“اِسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں”-حارث نے اُس کی تشویش ناک حالت دیکھتے ہوئے کہا-
“میں چادر لے کہ آتی ہوں”-عائشہ الماری کی طرف بڑھی-
************
وہ دونوں بے چینی سے کوریڈور میں ٹہل رہے تھے-پریشانی حد سے سوا تھی- گھر والوں کے ریکشن کے بارے میں سوچ سوچ کہ عائشہ کا دل بیٹھا جا رہا تھا-
“حارث اب کیا ہو گا”-وہ پریشانی سے گویا ہوئی-
“کچھ نہیں ہو گا تم پلیز میرا دماغ خراب مت کرو”-وہ پہلے ہی پریشان تھا اور اوپر سے اُس کی بار بار رونی شکل دیکھ کر اُس کو غصہ آگیا-
“یہ سب تمہاری وجہ سے ہی ہوا ہے نہ تم وہ بکواس کرتے اور نہ یہ سب ہوتا”-عائشہ نے تڑخ کر جواب دیا-
“دیکھو تم۔۔۔۔”-اِس سے پہلے کہ وہ اگلی بات کرتا اُس کی نظر سیڑھیوں سے اُترتے فہد پر پڑی-
“فہد بھائی۔۔۔۔”-اُس نے کہا تو عائشہ بھی اُس طرف دیکھنے لگی-
فہد نے آواز کی سمت دیکھا تو اُن دونوں کو وہاں دیکھ کر وہ حیران ہوا-دھیمے دھیمے قدم اُٹھاتا اُن کی طرف چلا آیا-
“حارث تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو ؟”-وہ عائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا-
“وہ ہانی گر گئی ہے ہم اُس کو لے کہ آئے ہیں”-حارث نے وارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا-
“ہانی گر گئی ہے” زیرِ لب وہ الفاظ دہرائے گیے-
وہ چار لفظ اُس کی دھڑکنیں مدھم کر گئے تھے-
“جی بھائی۔۔۔اور یہ سب اِس کی وجہ سے ہوا”-عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے حارث کو دیکھا-
“تم بھی تو ساتھ ہی تھی نہ۔۔۔میں نے اکیلے نے تو کچھ نہیں کیا نہ”-وہ دوبدو جواب دیتے ہوئے بولا-
آئیڈیا تو تمہارا ہی تھا نہ”-اُن کی بحث پر فہد نے اکتا کر اُن کو دیکھا-
“سٹاپ اٹ یار۔۔۔بند کرو یہ بچپنا اور یہ بتاؤ وہ کیسے گری ہے”-فہد کی جان پر بن رہی تھی-
“ٹوٹے ہوئے کانچ پر پیر پھسلا ہے اُس کا۔۔۔۔”-عائشہ نے پریشانی سے بتایا-
“مائی گاڈ۔۔۔ایسا کیا محاذ سر انجام دے دہے تھے تم لوگ”-فہد نے حیرت سے اُن کو دیکھا-
“فہد بھائی آپ اُس کو چھوڑیں آپ پلیز ڈاکٹر سے ملیں اور پوچھیں کے ہانی کیسی ہے”-عائشہ نے اُس کو ٹوکتے ہوئے کہا-
“اوکے حارث تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔”-فہد نے حارث کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا-عائشہ وہیں بینچ کر بیٹھ کر دل ہی دل میں خیریت کی دعا کرنے لگی-
***********
ڈاکٹر نے اُس کی حالت خطرے سے باہر قرار دے دی مگر ایک دو دن وہیں رکنے کے لئے کہا کیونکہ وہ اب چلنے کے قابل نہیں تھی- حارث نے فون کر کہ ساری سچائی بتا دی جس پرخوب عزت افزائی ہوئی- دادا جان اُسی وقت ہاسپٹل آگیے اور اب وہ تب سے یہیں براجمان تھے- گھر جانے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے-
“دادا جان اب میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں”-ہانیہ نے اُن کو تسلی دی-
“ہاں الله کا شکر ہے کہ تم ٹھیک ہو- میں اب تمہارے پاس رہوں گا”-وہ سیدھے ہو کر بینچ کر بیٹھتے ہوئے بولے-
“حارث ہے نہ میرے پاس آپ فکر نہ کریں- آپ بس گھر جا کر آرام کریں-رات ہونے والی ہے آپکی اپنی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی”-ہانیہ اُن کووہیں ڈھیرا جماتے دیکھ کر پھر بولی-
“ارے بیٹا تم میری فکر مت کرو میں تو اچھا خاصا ہوں”-وہ پوتی کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولے- “اور اِس ناہجار کی تو تم بات ہی چھوڑو اِس پر تو مجھے ایک فیصد بھی اب بھروسہ نہیں ہے یہ سب اِسی کی وجہ سے تو ہوا ہے”-اُنہوں نے سر جھکائے ہانیہ کے پاس بیٹھے حارث کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ جو پہلے ہی شرمندہ تھا مزید ہو گیا-
اِسی اثنا میں فہد کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا-اُن تینوں نے اُس کو دیکھا-اُسے دیکھتے ہی ہانیہ کی تیوری چڑھ گئی-
“السلام و علیکم۔۔۔!”-فہد نے مہذب انداز میں سلام کیا-
“وعلیکم السلام آؤ فہد ۔۔۔۔”-دادا جان اُسے دیکھ کر خوش ہو گیے-
فہد نے ہاتھ میں پکڑا بکے ٹیبل پر رکھ دیا-
“کیسی طبیعت ہے اب آپکی؟ “-وہ نرمی سے اُس کے کمزور چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا جس پر ذردیاں گھل رہی تھیں- ایک ہی دن میں وہ کیسے مرجھا گئی تھی- ہانیہ نے نفرت سے منہ پھیر لیا-اُس کی بات کا جواب دینا گوارا نہیں کیا تھا- دادا جان تو اُس کے لائے ہوئے بکے کی طرف متوجہ تھے مگر حارث نے یہ منظر حیرت سے دیکھا- ہانیہ کا ایسا ریکشن اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا-فہد نے شرمندگی سے سر جھکا لیا- اُسے شدید انسلٹ فیل ہوئی مگر وہ بھی کیا کرتا دل کے ہاتھوں مجبور تھا-
تبھی نرس نے آکر اطلاع دی کے ڈاکٹر نے اُن کو بلایا ہے-
“حارث تم میرے ساتھ آؤ”- اُنہوں نے حیران پریشان حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا- “فہد بیٹا ہم کچھ دیر میں آرہے ہیں تم یہیں رکنا تب تک”-ہانیہ نے اُن کے اِس شاہانہ آرڈر پر غصے سے دانت پیسے-فہد اپنی جگہ چور بن کر رہ گیا-
وہ دونوں باہر نکل گئے- فہد نے منہ پھلائے بیٹھی اُس دشمنِ جاں کو دیکھا-
“آپ کیوں آئے ہیں ؟”- وہ اُسے سٹول پر بیٹھتے دیکھ کر غصے سے بولی-
“دماغ نے بہت روکا تھا مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلا آیا”- وہ اُسے نگاہوں کے راستے دل میں اتارنے لگا-
“اِس طرح کی چیپ حرکتیں کر کے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں آخر۔۔۔۔”-ہانیہ کو اُس کی نظریں اپنے جسم میں گڑتی ہوئی محسوس ہوئیں-
“یہی کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں”-وہ اُسے تپانے لگا-اُس کا سرخ چہرہ دیکھ کر فہد کو مزہ آنے لگا-
“مگر میں آپ سے سخت نفرت کرتی ہوں”-وہ رُخ موڑتے ہوئے بولی-کیونکہ اُس کی نظرو سے بچنے کاایک ہی حل نظر آیا-
“میں انتظار کروں گا اُس دن کاجب تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی”-اُس کا لہجہ پر امید تھا-
اور وہ دن کبھی نہیں آئے گا”-ہانیہ نے اُس کی امیدوں پر پانی پھیرا-
“اپنی محبت پر پورا بھروسہ ہے”-وہ مسکرایا-ہانیہ کو وہ مسکراتا ہوا زہر لگا-
“خاصے ڈھیٹ ہیں آپ ۔۔۔مجھے سب کی نظروں میں گرا کر ہی دم لیں گے”-ہانیہ زچ ہوتے ہوئے بولی-
ہانیہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا- میں اپنی ذات پر ہر درد سہہ سکتا ہوں مگر تمہیں چھونے والی گرم ہوا بھی مجھے منظور نہیں”-اُس کا لہجہ جزبات کی شدت سے چور تھا- ایک لمہے کے لیے ہانیہ بھی چپ ہو گئی- اتنی شدت تھی اُس کی محبت میں وہ بے ساختہ اُسے دیکھے گئی- عائشہ ٹھیک کہتی تھی وہ واقعی اُس کے لئے پاگل تھا-
“کیا آپ سچ میں مجھ سے پیار کرتے ہیں؟ “-وہ اچانک بولی- فہد حیران ہوااُس کے اِس سوال پر-
“آزما کر دیکھ لو۔۔۔۔”-فہد نے دیوانگی سے اُس کو دیکھا-
“سوچ لیں۔۔۔۔”-وہ اُسے دیکھتے ہوئے بولی-
“سوچ لیا”-وہ اُس کی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش کرنے لگا-
“آپ آج کے بعد میرے سامنے نہیں آئیں گے”-پہلی پہیلی سلجھ گئی-
فہد کو اُس سے اتنی بے رخی کی امید نہیں تھی-
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔”-اپنے پیار کی آزمائش کے لیے پہلا کڑوا گھونٹ پی لیا-
“ہمارے گھر بھی کبھی نہیں آئیں گے -بھول کہ بھی نہیں ۔۔۔۔”-دوسرا پتا پھینکا گیا-
“منظور ہے”-وہ یہ بھی کر سکتا تھا-
“آپ میران شاہ کو جا کر بتائیں گے کہ آپ کے اور میرے درمیان کچھ نہیں ہے- میرا امیج اُس کی نظروں میں پہلے کی طرح کلین کرنا ہو گا”-ہانیہ نے حد کر دی-
“یہ بھی منظور ہے اور کچھ۔۔۔۔”-وہ اپنے ضبط کو آزمانے کے چکروں میں آخری حد کو چھو رہا تھا-
میرے اور میران شاہ کے بیچ آنے کی کبھی کوشش نہیں کریں گے”- وہ اُس کو توڑ کر ریزہ ریزہ کرنا چاہتی تھی-
“نہیں آؤں گا۔۔۔۔”-فہد کو لگا وہ اندر سے ٹوٹ گیا ہو- بھرم رکھنا بھی مشکل ہو رہا تھا-
“آپ یہاں سے چلے جائیں اب پلیز۔۔۔۔”-ہانیہ نے اُس کو دھواں دھار چہرہ دیکھتے ہوئے کہا-
فہد نے وہاں سے اُٹھنے میں لمہہ بھی نہیں لگایا تھا-وہ شاید اِسی انتظار میں تھا-اُس کے سامنے ٹوٹ کر بکھرنا نہیں چاہتا تھا-
وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا-ہانیہ نے سر گھٹنوں میں دے لیا-دل پہ ایک بوجھ آن پڑا تھا- دروازے کی اوٹ میں سب سنتی عائشہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی- اُس انسان پہ اُسے بے تحاشہ ترس آیا-وہ نادان لڑکی اُسے کس جہنم میں دھکیل چکی تھی- عائشہ کو اُس کی اتنی برداشت پر حیرت ہوئی- عائشہ کو ہانیہ پر غصہ آیا۔۔
ہانیہ ٹھیک ہو کر گھر واپس آ چکی تھی مگر ابھی ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا تھا- جب تک ٹانکے نہ کھل جاتے وہ چل پھر نہیں سکتی تھی-وہ سارا دن کمرے میں پڑی بور ہوتی رہتی عائشہ اُس کی کھیچی کھیچی رہنے لگی تھی- ہانیہ پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھی مگر وہ ہمیشہ ٹال مٹول سے مام لیتی-آج بھی وہ صبح سے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی کوئی بھی گھر پہ نہیں تھا- عائشہ اپنے کاموں میں مصروف تھی- اُس نے بور ہو کر ٹی وی آن کر لیا تبھی وہ چلی آئی-
“ہانی تم سے کوئی ملنے آیا ہے”-اُس نے آکر سنجیدگی سے اطلاع دی-ہانیہ بے ساختہ اُسے دیکھے گئی-کتنی بدل گئی تھی وہ-
“کون آیا ہے؟ “-اُس نے آبرو اچکا کر حیرت سے استفسار کیا-
“میران شاہ آیا ہے”-وہ کہہ کر چادر درست کرنے لگی- بکھری چیزیں سمیٹی-ہانیہ کتنے ہی لمہے اُس کو دیکھتی رہی اُسے یقین نہیں آرہا تھا-
“میں اُسے یہیں بھیج دیتی ہوں کیونکہ تم تو نیچے جا نہیں سکتی”-وہ کہہ کر جانے لگی تو ہانیہ نے اُس کا بازو تھام لیا – وہ رک گئی مگر پلٹ کر نہ دیکھا-
“وہ کیوں آیا ہے؟ “-اُس نے عائشہ کو بٹھانے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی-
“بتاؤ عاشی وہ کیوں آیا ہے”- اس نے دوبارہ پوچھا تو وہ غصے سے پھٹ پڑی-ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اُس کی طرف مڑی-
خود تو کہا تھا فہد بھائی کو کہ جا کہ تمہاری صفائی دیں اُسکو۔۔۔۔تو فہد بھائی نے اپنا کام کر دیا ہے اِسی لیے وہ تم سے ملنے آیا ہے”-
“عاشی۔۔”-ہانیہ نے آنکھوں میں انسو لیے اُس کو دیکھا-
“ہانیہ میڈم پلیز اب یہ ڈرامہ بازی بند کر دیں-آپ جو چاہتی تھی وہی ہو رہا ہے اب کس بات پہ رونا آرہا ہے اپکو۔۔۔”-عائشہ اُس کے انسوؤں سے متاثر نہیں ہوئی تھی-
“تم ہمیشہ اُس لمبو کی سائیڈ لیتی ہو- کبھی میری طرف کی بات نہیں کرتی “-اُس نے انسو صاف کرتے ہوئے کہا-
“ہانیہ پلیز سنبھل جاؤ اب بھی وقت ہے- ہیرے اور لوہے کی پہچان کر لو- ایسا نہ ہو کہ کل کو تمہیں پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے”-وہ اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے سمجھانے لگی-
“میران شاہ مجھ سے پیار کرتا ہے عاشی ۔۔۔۔وہ بہت اچھا ہے”-ہانیہ نے اُس سے ذیادہ خود کو تسلی دی-
“وہ اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے پر فہد بھائی سے زیادہ اچھا نہیں ہے – ہانی فہد بھائی تم سے بہت پیار کرتے ہیں وہ تمہیں بہت خوش رکھیں گے”-عائشہ کو وہ نادان سی لڑکی بہت پیاری تھی وہ اُس کو غلط راستے پر جاتے نہیں دیکھ سکتی تھی-
“تم میران کو اوپر بھیج دو”-اُس نے بات ہی ختم کر دی-عائشہ چپ چاپ نیچے چلی گئی-
کچھ ہی دیر میں وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا- ہانیہ نے سر جھکا لیا- دیکھنے کی ہمت نہیں تھی-
“کیسی ہو؟ “-وہ قریب آکر گویا ہوا-
“کیسی ہو سکتی ہوں”-ہانیہ نے شکوہ کناں نظروں سے اُس کو دیکھا – وہ شرمندہ ہو گیا-
“ایم سوری ہانی۔۔۔۔ایم رئیلی رئیلی سوری۔۔۔پلیز فار گیو می”-وہ اُس سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے ہوئے بولا-
“آپ نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے”-اُس کا لہجہ بھیگ گیا- میران شاہ کے دل کو کچھ ہوا- وہ لڑکی واقعی بہت معصوم تھی-
“سوری اُس دن کے لیے۔۔۔پلیز معاف کر دو”-وہ کان پکڑ کر بولاتو ہانیہ کا دل پل میں اُس کی طرف سے صاف ہو گیا-
“ٹھیک ہے۔۔۔مگر آپ آئندہ ایسا بیہو نہیں کریں گے مجھ سے پرامس کریں”-اُس نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا تو میران شاہ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا وہ ہاتھ تھام لیا-
“ایک دم پکا پرامس۔۔۔”-
“اوکے معاف کیا”-ہانیہ نے اُس پہ احسان جتایا-
“یہ کیسے ہوا؟ “- میران شاہ کا اشارہ اُس کے پاؤں کی طرف تھا-
“وہ میں پھسل گئی تھی”-اُس نے معصومیت سے بتایا تو وہ اُسے گھورنے لگا-
“دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی”-میران نے اُس کے پاؤں پر اپنا ہاتھ پھیرا تو ہانیہ کو لگا سارا درد اُس کے ہاتھ نے اپنے اندر چن لیا ہو-
زخم کو ایسی مسیحائی کی ہی ضرورت تھی-
“اپنا دیہان رکھا کرو پلیز”- اُس نے پیار سے اُس کا چہرہ دیکھا-
“جی اچھا۔۔۔”وہ شرم سے لال ہو گئی-چہرے پر دھنک رنگ بکھرنے لگے- آنکھوں میں دیے جل اُٹھے-میران شاہ نے دلچسپی سے اُس کا مشرقی روپ دیکھا-
“اچھا ایک بات پوچھنی ہے تم سے اگر اجازت دو تو”- وہ اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا-
“جی پوچھیں ۔۔۔۔”-ہانیہ بمشکل یہی بول پائی-
“ہانیہ شفیق ول یو میری می”- بڑے پر امید لہجے میں پوچھا گیا-
ہانیہ کے کانوں کی لویں تک سرخ ہو گئیں- دل کی دھڑکن معمول سے کئی گنا بڑھ گئی-پلکوں کی جھالر گر گئی-
“بولو ہانی۔۔۔۔”-اُسے چپ پاکر وہ پھر گویا ہوا-
“ہانیہ سے بولنا محال ہو گیا- اُس کی خاموشی میں ہی اقرار چھپا تھا- میران شاہ مسکرایا تھا-
“میں نے ماما سے بات کر لی ہے وہ ایک دو روز میں آئیں گی۔۔اب میں جلد سے جلد اپنے اِس رشتے کو نام دینا چاہتا ہوں تاکہ غلط فہمی کی دیوار پھر کبھی ہمارے درمیان حائل نہ ہو”- وہ مدھم سے لہجے میں سرگوشیاں کر رہا تھا- ہانیہ مدہوش ہوتی جا رہی تھی-
“تم سن رہی ہو نہ۔۔۔۔”-میران شاہ نے اُسکا ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا-
” جی۔۔۔۔”- وہ شرم سے بس یہی کہہ سکی تھی-
اُس دن میران شاہ نے سارے اقرار اُسے سونپ دیے- ہانیہ خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کرنے لگی- وہ دن اُس کی زندگی کا یادگار دن تھا- اُس کا رزکٹ بھی آگیا تھا- وہ بہت خوش تھی- زندگی اتنی حسین ہو جائے گی اُس نے سوچا بھی نہیں تھا- اُسے لگا اب سب ٹھیک ہو جائے گا- اس خوش فہمی پر کاتب تقدیر دیرے سے مسکرایا تھا- وہ پاگلی کہاں جانتی تھی کہ تقدیر آگے کیا کھیل کھیلنے والی ہے-
*************
میران شاہ کی ماما تین دن بعد ہی اُسے منگنی کی انگھوٹھی پہنا گئیں- سب گھر والے حیران تھے- دادا جان اتنی جلدی اِن سب کے حق میں نہیں تھی- اُن کے نزدیک ابھی وہ بہت چھوٹی تھی- عائشہ کی شادی سے پہلے وہ اُس کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے- مگر ماریہ نے سب کو منا ہی لیا- پھر میران شاہ دیکھا بھالا تھا انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی- وہ لوگ جلد سے جلد شادی کرنا چاہتے تھے- اس لیے میران شاہ کے فائنلز کے فورا بعد شادی کی تاریخ رکھنے کا فیصلہ ہوا- ہانیہ نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا- وہ اب باقاعدگی سے یونیورسٹی جا رہی تھی- وقت تیزی سے بیتنے لگا- میران شاہ کے پیپر ختم ہو گئے- شادی کی تاریخ دسمبر کی چوبیس فائنل ہوئی- ہانیہ بہت خوش تھی- وہ کافی کا مگ لے کر ٹیرس پر آگئی- آج ناجانے کتنے دن بعد یہاں آئی تھی-
دسمبر کی ٹھٹھرا دینے والی سردی گودے میں گھس رہی تھی- دھند کی چادر نے تمام کائنات کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا- اتنی سردی میں ہاٹ کافی بہت سکون دے رہی تھی ہر گھونٹ میں گرماہٹ تھی-
عائشہ بھی اپنی کافی لے کر وہیں چلی آئی-
“کیا سوچ رہی ہو؟ “- وہ اُس کو کھویا دیکھ کر پوچھنے لگی-
“کچھ خاص نہیں ۔۔۔۔”- اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دلگی-
“ہانی تم خوش ہو”- عائشہ نے اُس کو کھوجتی نظروں سے دیکھا-
“اف کورس یار بہت خوش ہوں”- اُس کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے-
“اچھا عاشی ایک بات تو بتاؤ؟”- ہانیہ کچھ یاد آنے پر بولی-
“کیا؟ “-
“یہ سامنے والے بنگلے میں آج کل کافی انجان لوگ آتے ہیں خیریت ہے”- اُس کا اشارہ سامنے والے بنگلے کی طرف تھا-
“ہاں یہاں ایک نئی فیملی آئی ہے”- عائشہ نے نارمل سے انداز میں بتایا-
“مگر یہاں تو وہ لوگ رہتے تھے نہ ۔۔۔۔”- فہد کا نام زبان پہ آتے آتے رک گیا-
“وہ لوگ کہیں اور شفٹ ہو گئے ہیں”- عائشہ نے سنجیدگی سے بتایا- جس لہجے میں سوال آیا تھا اُسی لہجے میں جواب دیا گیا تھا-
ہانیہ حیران رہ گئی- اُسے تو پتہ بھی نہ تھا- جس طرح وہ اُن کے آنے سے بے خبر تھی ویسے ہی اُن کے جانے سے بھی بے خبر تھی- ہانیہ کا دل ایک دم ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا- اور وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی- وہ کمرے میں آگئی- وحشت سی ہو رہی تھی- یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ کھو گیا ہو- وہ اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہی تھی- یہ اُس کو کیا ہو رہا تھا- عائشہ بھی کچھ دیر بعد اُس کے پیچھے ہی چلی آئی-
“تمہاری ساس کا فون آیا تھا وہ تمہیں شادی کے ڈریس کے لیے ساتھ لے کہ جانا چاہتی ہیں اب بتاؤ کب فری ہو”- عائشہ اُس کی حالت سے انجان تھی-
” کل مجھے آف ہے”- اُس نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے بتایا-
“ٹھیک ہے میں امی کو بتا دیتی ہوں”- وہ اُس کا اور اپنا کپ لے کر کمرے سے نکل گئی-
ہانیہ کو گھٹن محسوس ہونے لگی- اتنی سردی میں بھی اُسے پسینہ آرہا تھا-
“اللہ جی یہ مجھے کیا ہو رہا ہے”- وہ کمرے میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی-
جب کافی دیر نہ حالت سنبھلی تو رونے بیٹھ گئی-یہ سب اُس کی سمجھ سے باہر تھا- وہ کیوں اتنی بے چین ہو گئی تھی-
************
اگلے دن دو بجے کے قریب وہ اور عائشہ حارث کے ساتھ بازار آگئیں- میران شاہ اور اُسکی ماما بھی وہی تھے- پہلے وہ لوگ جیولر کے پاس گئے- ہانیہ غائب دماغی سے سب کام کر رہی تھی- کل سے بے چینی اپنے عروج پر تھی- میران کی نگاہوں کا حصار مسلسل اُسے گھیرے میں لیے ہوئے تھا- وہاں سے وہ لوگ برائڈل ڈریس کے لیے ایک شاپ میں آگیے- ہانیہ وہاں بھی دیہان نہیں دے رہی تھی- عائشہ جس ڈریس کے بارے میں اُس کی رائے پوچھتی وہ ہوں ہاں میں جواب دے دیتی-“تنگ آکر وہ بول ہی پڑی-
“ہانی کہاں ہے تمہارا دماغ۔۔۔۔میں کب سے دیکھ رہی ہوں تم کھوئی کھوئی ہو۔۔۔طبیعت تو سیٹ ہے نہ تمہاری”- عائشہ کو اُس کا زرد پڑتا رنگ دیکھ کر تشویش ہوئی-
“ہاں میں ٹھیک ہوں”- اُس نے خود کو سنبھالا-
عائشہ نے سر جھٹک کر اُس کو ریڈ کلر کا ایک لہنگا دکھایا- جس پر گولڈن کام ہوا تھا- وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا-
“یہ کیسا ہے؟ “- عائشہ نے وہ اُس کو دکھایا-
“اچھا ہے۔۔۔”- وہ سرسری سا دیکھ کر بولی-
دیہان اُس طرف ہوتا تو وہ دیکھتی نہ- عائشہ اُس کو کھول کر دیکھنے لگی-
تبھی ہانیہ کی نظر کچھ دور کھڑے فہد پر پڑی- وہ یونیفارم میں ملبوس تھا- شاید ڈیوٹی پر تھا- ہانیہ یک ٹک اُس کو دیکھنے لگی- دل کی بے چینی ایک دم سے کم ہو گئی تھی- عائشہ کی نظر بھی اُس پر پڑ گئی-
“ارے یہ تو فہد بھائی ہیں”- وہ خوشی سے کہتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی-
“فہد بھائی آپ یہاں۔۔۔”- اُس نے قریب جاکر کہا تو فہد ایک دم چونکا-
“عائشہ تم۔۔۔۔”- وہ حیرت سے بولا تھا- ایک مسکراہٹ لبوں کو چھو گئی- مگر جب نظر کچھ فاصلے پر کھڑی ہانیہ پر پڑی تو اُس کے مسکراتے لب سکڑ گئے-
“کیسے ہیں آپ؟ “- عائشہ اُسے دیکھ کر بہت پرجوش تھی-
“اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کیا حال چال ہیں”- وہ اُسے نظر انداز کر گیا- اور آج پہلی بار اُس کا یہ نظر انداز کرنا ہانیہ کو بہت چبھا تھا- وہ پورے چار مہینوں بعد اُسے دیکھ رہی تھی- فہد نے تو یوں منہ پھیرا تھا جیسے وہ اُسے جانتا تک نہیں تھا-
“میں بھی ٹھیک ہوں مریم انٹی کیسی ہیں”- عائشہ ہانیہ کے تاثرات سے انجان تھی-
“ماما بلکل ٹھیک ہیں تمہیں بہت مس کرتی ہیں کبھی چکر لگانا”- وہ اب عائشہ کو ہی دیکھ رہا تھا-
“جی ضرور آؤں گی”- وہ اُسے یقین دلاتے ہوئے بولی-
شاپنگ کرنے آئے ہو”- فہد نے اس کے ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز دیکھ کر سرسری سا پوچھا-
“جی ہانیہ کی شادی ہے تو اُس کے لیے برائڈل ڈریس لینا ہے”- عائشہ نے دھماکا کیا تھا- جس میں فہد مرتضی کا وجود بھک سے اُڑ گیا- دل کی دھڑکن تھم سی گئی-اُس سے اپنی ٹانگوں پہ کھڑا ہونا محال ہو گیا- وہ اتنے مضبوط اعصاب کا مالک انسان اس لمہے اتنا کمزور نظر آرہا تھا- مگر اُس نے خود کو سنبھال لیا- وہ دھیرے دھیرے چلتا ہواہانیہ کے قریب آیا-
“مبارک ہو شادی کی بہت بہت۔۔۔۔”- اُس کے کے لہجے میں طنز تھا- ہانیہ کا سر جھک گیا-
وہ کچھ نہیں بولی تھی- فہد کو مزید دکھ ہوا- ناجانے کیوں ہر بار دل خوش فہم ہو جاتا تھا کہ وہ اُس کے پیار کی شدت کو سمجھ لے گی-
پھر وہ کچھ دیر عائشہ سے باتیں کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا- وہ لوگ گھر واپس آگیے- ہانیہ کے اندر باہر ایک اگ لگی ہوئی تھی- وہ گھر آتے ہی کمرے میں گھس گئی-
“پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو۔۔۔۔ایٹی ٹیوڈ تو دیکھے کوئی”- وہ بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں چکر لگانے لگی- ناجانے غصہ کس بات پر آرہا تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: