Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 15

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 15

–**–**–

مہندی رچے گی تیرے ہاتھ
ڈھولک بجے گی ساری رات
ڈھولکی کی تھاپ پہ لڑکیاں گا رہی تھی- پورا لان برقی قمقموں سے جگ مگ کر رہا تھا- اسٹیج کو گلاب اور گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا- ہر طرف شور برپا تھا- سب لوگ بہت خوش تھے- مگر اُس گھر میں دو مکین ایسے تھے جو اندر سے تو دور کی بات ہے باہر سے بھی خوش نہیں تھے- لڑکیوں کے جرمھٹ میں بیٹھی عائشہ اور اپنے کمرے کے آئینے کے سامنے کھڑی ہانیہ۔۔۔
“عائشہ اب تم کچھ سنا دو”- اُس کی ایک دور کی کزن بولی- تمام لڑکیاں خاموش ہو گئیں-
“مجھے کچھ نہیں آتا”- وہ سنجیدگی سے بولی تھی-
“لو جی اِس نے تو صاف منع کر دیا”- ایک دوسری نے منہ بناتے ہوئے کہا-
“لگتا اِس کو اپنی کزن کی شادی کی خوشی نہیں ہو رہی”- فرح جو اُس کی پھوپھو ذاد تھی نخوت سے بولی-
“ارے بھئی خوشی کیسے ہو گی – اِس کو تو اپنی شادی کا انتظار تھا مگر ہو پہلے اِس کی کزن کی گئی مطلب اِس کے ارمانوں پہ تو اوس پڑ گئی- تو پھر یہ خوش کیسے ہو سکتی ہے”- فرح کی چھوٹی بہن نے طنز کیا- اُسے عائشہ سے خدا واسطے کا بیر تھا- عائشہ کا چہرہ مارے توہین سے سرخ پڑ گیا- اتنی انسلٹ وہ بھی سب کے سامنے وہ کچھ بول ہی نہ پائی- سب لڑکیوں کے دبے دبے قہقے سنائی دیے-
“بس اپنی اپنی قسمت کی بات ہے- جس کی قسمت پہلے کھل گئی اُس کا ہو رہا ہے”- فرح نے تمسخر سے کہا- “فکر نہ کرو کوئی تمہارے لیے بھی آ ہی جائے گا- جس کو کوئی نہیں ملے گا وہ تمہارے پاس آجائے گا”- فرح اپنی بات کے اختتام پہ خود ہی ہنسی تھی-
عائشہ سے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا- وہ چپ چاپ انسو پیتی وہاں سے اُٹھ گئی- دل پہلے ہی اداس تھا مزید ہو گیا- وہ ہانیہ کے پاس چلی آئی- آدھ کھلے دروازے کو اپنے پیچھے آہستگی سے بند کیا-عائشہ نے اُس کو دیکھا- ہرے اور پیلے لہنگے میں پھولوں کا زیور پہنے وہ بہت ہی خوبصورت اور معصوم لگ رہی تھی- بانہوں میں ہری اور پیلی چوڑیاں اُس کے حسن کو مزید چار چاند لگا رہی تھیں-
کسی بھی قسم کے میک اپ سے عاری اداس سا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا پتہ دے رہا تھا- ہانیہ نے اُس کو نظریں اُٹھا کر دیکھا- عائشہ حیران رہ گئی- جن آنکھوں میں خواب اور ارمان ہونے چاہیے تھے وہاں نمی چمک رہی تھی- وہ اُس کے پاس آگئی-
“کیا ہوا ہانی؟ “- اس نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا-
“کچھ بھی نہیں لیکن دل بہت اداس ہے”- وہ اُس کے کاندھے سے سر ٹکا کر بولی-
“طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری ۔۔۔۔”-وہ تشویش سے بولی-
“پتہ نہیں عاشی دل گھبرا رہا ہے”- وہ رونے لگی تو عائشہ پریشان ہو گئی-
“ہانی کیا بات ہے بتاؤ مجھے “- وہ اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے بولی-
ہانیہ نے اپنے انسو صاف کیے-
“عاشی کیا میران شادی کے بعد بھی مجھ پر ویسے ہی شک کرے گا جیسے پہلے کرتا تھا”- اُس کے چہرے پر انسؤوں کے نشان اب بھی باقی تھے-
“تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو- ایسا کچھ نہیں ہو گا”-عائشہ نے اُسے تسلی دی مگر خود وہ اندر سے مطمئن نہیں تھی-
“میرا دل کیوں نہیں مانتا”- وہ اپنی کلائیوں میں پڑی چوڑیوں سےکھیلنے لگی-
“تو مت کرو پھر شادی۔۔۔۔پلیز ہانی چھوڑ دو اُسکو”- عائشہ اپنے دل کی بات دل میں زیادہ دیر نہیں چھپا سکی تھی-
“کیا کروں پھر میں ۔۔۔۔”- وہ رونے لگی-
“ہانی تم فہد بھائی سے شادی کر لو وہ تم سے بہت پیار کرتے ہیں اور وہ بہت اچھے ہیں”- عائشہ نے اُس کا ہاتھ تھام کر کہا-
”وہ تو میری طرف دیکھتا بھی نہیں ہے اب”- ہانیہ کو اُس دن کا منظر یاد آگیا-
“وہ سب بھی تو تمہاری مرضی پر ہو رہا ہے نہ”- عائشہ نے اُسے یاد دلایا-
“نہیں چھوڑو تم بس اُس کو۔۔۔۔”- ہانیہ نے بات ختم کر دی- مگر دل اُس کے نام پہ ناجانے کیوں بے چین ہو اُٹھا-
عائشہ نے ایک تاسف بھری نگاہ اُس پہ ڈالی- تبھی کرن اپی نے اُن کو باہر بلایا- مہندی کی رسم کا وقت ہو چکا تھا-
******************
چٹا کوکڑ بنیرے تھے
کاسنی دوپٹے والیے
منڈا صدقے تیرے تے
لڑکے والے مہندی لے کر آچکے تھے- اور اس وقت اُن کا لڑکی والوں کے ساتھ گانوں اور ڈانس کا کمپیٹیشن جاری تھا- دونوں میں خوب مقابلہ ہو رہا تھا- ہانیہ کو اسٹیج پر لا کر بٹھا دیا گیا- لمبا سا گھونگھٹ اوڑھے وہ عورتوں کے درمیان بے بسی کا منہ بولتا ثبوت بنی بیٹھی تھی- عائشہ اُس سے کچھ فاصلے پر پلر سے ٹیک لگائے اداس سی کھڑی تھی- تبھی اُس کی نظر مریم اور فہد پر پڑی- عائشہ کا موڈ پل بھر میں خوشگوار ہوا- وہ فورا اُن کی طرف بڑھی-
“انٹی۔۔۔۔۔”- اُس نے بے تابی سے پکارا-
اُنہوں نے فورا اُسے گلے لگا لیا- عائشہ سے مل کہ اُن کی خوشی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا-
“کیسی ہے میری بیٹی؟”- اُنہوں نے عائشہ کو پیار کیا-
“میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔پر تم سے ناراض ہوں تم ایک بار بھی مجھ سے ملنے نہیں آئی”-اُنہوں نے مصنوعی گفگی کا اظہار کیا-
“سوری انٹی میں بس آنے ہی والی تھی”- وہ اُن کے گلے میں بانہیں ڈال کر پیار سے بولی-
“رہنے دو تم۔۔۔۔بس بہانے ہیں سب”- وہ اُس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے بولیں تو وہ مسکرا دی-
“فہد بھائی آپ کیسے ہیں؟ “- عائشہ نے پاس کھڑے فہد کو چھیڑا-
“بڑی جلدی خیال آ گیا آپ کو پوچھنے کا”- وہ اُسے گھورتے ہوئے بولا-
مریم اُن کو وہیں چھوڑ کر اسٹیج کی طرف بڑھ گئیں-
“اب بتائیں کیا کہہ رہے تھے آپ”- وہ اُن کے جاتے ہی اُس سے لڑنے کے سٹائل میں بولی-
“تمہیں نا میری ماما کی بیٹی ہونا چاہیے تھا- تمہارا اُن کے بغیر اور اُن کا تمہارے بغیر دل نہیں لگتا”- فہد نے اُسے چھیڑا-
“آپ جیلس ہو رہے ہیں کیا”- وہ اُسے چھیڑنے لگی تو وہ اُسے گھور کر رہ گیا-
“چلو یار میں اب چلتا ہوں کل ایک میٹنگ ہے میری اُس سلسلے میں کچھ تیاری کرنی ہے”- فہد نے ریسٹ واچ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا-
“ہانیہ سے نہیں ملیں گے”- عائشہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی- فہد کا رنگ فق یوا- دل میں پہلے ہی ہلچل مچی ہوئی تھی اور وہ پھر اُس دشمنِ جاں کا نام لے رہی تھی-
“تمہاری کزن کو میری شکل پسند نہیں ہے اور ویسے بھی اب وہ کہاں ہم سے بات کرنا چاہیں گی”- فہد نے دل میں اُٹھتی ٹیسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا- ورنہ اِس وقت وہ جس تکلیف سے گزر رہا تھا وہ صرف وہ ہی جانتا تھا-
“آپ کو دکھ نہیں ہو رہا”- عائشہ نے اُس کے تاثرات نوٹ کیے-
“یار میں اتنا دکھ برداشت کر چکا ہوں کہ اب تو پتہ نہیں چلتا کہ کس بات پہ دکھی ہوں”- وہ بولا تھا تو عائشہ نے اُس کی آواز میں نمی محسوس کی- اُس کادل دکھ سے بھر گیا-
“عائشہ میں تکلیف کی انتہا سے گزر رہا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ اِس وقت یہاں کھڑے ہو کر مجھے کتنا درد ہو رہا ہے”- اُس کا چہرہ اُس کے جزبات کی عکاسی کر رہا تھا-
“کاش میں آپ کے لیے کچھ کر سکتی”- عائشہ کو افسوس ہوا-
“تمہاری کزن بہت پتھر دل ہے عائشہ ۔۔۔۔کاش ایک بار صرف ایک بار وہ میرے پیار کی شدت محسوس کرتی اُسے پتہ چلتا کہ میں اُس دیوانی سے کتنا پیار کرتا ہوں”-وہ خود کو بمشکل سنبھال رہا تھا-
“خیر چھوڑو اب کیا فائدہ ۔۔۔میں چلتا ہوں”- وہ جانے لگا تو عائشہ نے اُسے روک لیا-
“ایک بار اُس سے مل لیں پلیز”-
“تم کیوں میرے صبر کو آزمانا چاہتی ہو”- فہد نے دکھ سے کہا-
“آپ میری خاطر ایک بار اُس سے مل لیں۔۔۔۔”- عائشہ نے اُسے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گیا-
“اوکے ۔۔۔۔”- وہ اسٹیج کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اکیلی تھی اِس وقت۔۔۔۔
“فہد بھائی میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ میں نےکیا محسوس کیا آج۔۔۔۔”- وہ بڑبڑائی-
فہد اسٹیج پہ بیٹھی ہانیہ کے پاس بیٹھ گیا- وہ سر جھکائے اپنی چوڑیوں سے کھیلنے میں مگن تھی- فہد کتنی ہی دیر اُس کے ہاتھوں کو دیکھتا رہا- اُن ہاتھوں اور ان میں پہنی چوڑیوں کو چھونے اُن کو چھیڑنے کا اُسے کس قدر جنون تھا- وہ پاگل سا ہو جاتا تھا اُن کی کھنک سن کر-
ہانیہ نے کسی احساس کے تحت سر اُٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی- مگر دوپٹہ کافی نیچے تک تھا- ناجانے کیوں دل میں اُس وقت ایک ہی خیال آیا-
“کیسی ہو۔۔۔۔؟”- وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بولا- نظر چاہ کر بھی نہ ہٹ پائی-
ہانیہ کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی- وہ اُس سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھا تھا- مگر وہ فاصلہ میلوں پہ محیط لگ رہا تھا-
اُس کے دل کے ایک انوکھی سی خواہش کی کہ وہ گھونگھٹ اُٹھا کر پاس بیٹھے اُس انسان کا چہرہ دیکھے- فہد کتنی ہی دیر اُس کے جواب کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ بولی-
“اب تو ناراضگی ختم کر دو پلیز۔۔۔۔اب تو سب کچھ ٹھیک ہو گیا”- اُس نے اپنے اُدھم مچاتے دل کو سنبھالا- وہ اب بھی چپ تھی- مگر دو موتی پلکوں کی باڑ توڑ کر چپکے سے گالوں پر بکھرے تھے- وہ دونوں اب خاموش تھے- مگر دل دونوں کے دھڑک رہے تھے- محبت نے دونوں کے دلوں میں شور مچایا ہوا تھا- ہانیہ نے اپنی کلائی کو مٹھی میں لے لیا- وہ لمس آج بھی ویسے ہی دہک رہا تھا- مگر اِس وقت دل کی حالت عجیب سی تھی- بے ساختگی میں دل نے ایک اور خواہش کی کہ کاش وہ اُس کو پھر چھوئے- یہ سب کیا ہو رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی مگر ایک بات تو تھی کہ یہ پل بہت خاص تھے وہ انسان جس سے کبھی اُسے بے تحاشہ نفرت تھی اُس کے پاس بیٹھا تھا اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ وہ چاہ رہی تھی کہ کاش وہ وہیں بیٹھا رہے- وہ اُسے مخاطب کرے مگر وہ چپ چاپ اُس کو سنے- وہ آواز اِس وقت دنیا کی خوبصورت ترین آواز محسوس ہو رہی تھی اُسے۔۔۔یہ دل بھی عجیب شے ہے عجیب سی خواہشات ہیں اسکی۔۔۔۔عجیب سے ضدیں کرتا ہے-
“شادی کی بہت بہت مبارک ہو ہانیہ ۔۔۔۔میں دعا کروں گا تمہاری زندگی میں کبھی کوئی غم نہ آئے-تمہارے حصے کے سب غم مجھے مل جائیں-تم اِس دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہو خدا کرےتمہارے چہرے کی مسکان ہمیشہ یونہی رہے”-وہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو بمشکل اندر اتارتے ہوئے کرب سے بولا تھا-ہانیہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ کہ اپنی چیخوں کو روکا تھا-اُس کے دل کے کئی ٹکڑے ہوئے تھے-یہ کیا ہو رہا تھا وہ کیا کر رہی تھی-وہ کتنی شدت سے محبت کرتا تھا اور محبت بھی ایسی تھی جس میں پانے کی چاہ نہیں تھی-بے لوث محبت جسکی کوئی حد نہیں ہوتی-یہ محبت بھی انسان کو کتنا بے بس اور لاچار کر دیتی ہے-
اُس کا دل چاہا وہ چیخے اور اُس کو کہے کہ وہ کیوں محبت کرتا اُس سے وہ اِس قابل نہیں ہے-
فہد وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا- ہانیہ کا دل دھڑکنا بند ہو گیا- اُس کو لگا سب ختم ہو جائے گا-
کاش فہد اُس سے زبردستی کرتا اور کہتا کہ وہ صرف اُسکی ہے- کاش وہ اُس کو ایک بار اور منا لیتا- کئی کاش نے سر اُٹھایا- پھر اچانک ہر منظر تاریک ہونے لگا- اُس کا سر چکرانے لگا- فہد نے اسٹیج سے نیچے پیر رکھا تھا اور ہانیہ صوفے پر بائیں جانب گر گئی- فہد کے دل میں ایک دم سے طوفان آیا تھا- دل نے کہا کہ مڑ کہ دیکھ لے مگر پھر سب نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھ گیا-
***************
دلہن بے ہوش ہو گئی تھی- ہر کوئی حیران تھا- کئی سوال لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرنے لگے- کیئ کیوں نے سر اُٹھایا-وہ اُس کے پاس بیٹھی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی- اچانک اُسکی نظر اُس کے چہرے پر پڑی اُسے لگا ہانیہ بے ہیہوشی میں کچھ بڑبڑا رہی تھی- عائشہ نے اپنا چہرہ فورا اُس کے قریب کیا-عائشہ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس کا اندازہ صحیح ثابت ہو گیا-وہ بے یقینی سے اُسے دیکھ رہی تھی مگر اُس کا چہرہ اندرونی جزبات کی چغلی کھا رہا تھا-
“تم مجھے چھوڑ کے کیوں چلے گیے۔۔۔۔پلیز واپس آجاؤ۔۔۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔مجھے تمہارے ساتھ تمہارے پاس رہنا ہے پلیز آجاؤ”- وہ نیم بیہوشی کی حالت میں تھی- عائشہ حیرانگی سے اُس کو دیکھ رہی تھی- اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ جو اُس نے سنا تھا وہ سچ تھا یا جو ہانیہ خود اپنے ہواس میں کہتی تھی وہ سچ تھا-
اُس کا دماغ تیزی سے کچھ پلان کرنے لگا- اب جو بھی کرنا تھا اُسے ہی کرنا تھا- ہر مسئلے کا حل نکالنا تھا-
اُس نے فہد کا نمبر ملایا-بیل جا رہی تھی مگر وہ اُٹھا نہیں رہا تھا-اُس نے پھر ملایا- کچھ دیر بعد کال ریسیو کر لی گئی-
“ہیلو۔۔۔۔! “- دوسری طرف سے فہد کی مصروف سی آواز سنائی دی- وہ شاید بزی تھا-
“فہد بھائی مجھے آپ سے ملنا ہے”- اُس نے بنا سلام دعا کے فورا کہا-
“اِس وقت۔۔۔”- وہ حیران ہوا- رات کے تین بج رہے تھے- فہد حیران ہوا-
“جی اِس وقت ۔۔۔مجھے آپ سے بہت ضروری کام ہے”- عائشہ نے ایک نظر بیڈ پہ بے سُد پڑی ہانی پر ڈالی-
“خیریت یے کیا؟ “- وہ پریشان ہو گیا-
“بس یوں سمجھ لیں کے کچھ خیریت ہے اور کچھ نہیں ہے”- وہ بولتی دوسری طرف سنتے فہد کی پریشانی کو بڑھا رہی تھی-
“عائشہ بتاؤ کیا ہوا”- فہد کا بے چینی سے برا حال تھا-
“آپ گھر آ جائیں پھر سب بتا دوں گی”- وہ مدھم سے لہجے میں بولی تھی-
“نہیں تم مجھے ایسے ہی بتا دو۔۔۔۔میں گھر نہیں آسکتا”- فہد نے صاف انکار کر دیا-
“لیکن کیوں فہد بھائی”- وہ حیران ہوئی-
“بس نہیں آسکتا نا۔۔۔۔”- وہ وجہ نہیں بتانا چاہتا تھا-
“لیکن کیوں ۔۔۔۔وجہ بھی تو بتائیں نا”- عائشہ کی سمجھ میں اُس کا انکار نہیں آرہا تھا-
“میں نے ہانیہ سے وعدہ کیا ہے اور میں وہ توڑ سکتا”- فہد نے ناچاہتے ہوئے بھی وجہ بتا ہی دی-
“اگر وہ خود یہ سب چاہے تو۔۔۔۔”- عائشہ نے اُس کو مزید حیرت میں مبتلا کر دیا-
“عائشہ ۔۔۔۔”- فہد کو لگا اُسے سننے میں غلطی ہوئی ہو-
“شادی کریں گے اُس سے۔۔۔۔”- وہ بولی تو دوسری طرف فہد کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے رہ گیا-
اُسے اپنی سماعت پہ یقین نہ آیا- یوں لگا جیسے کانوں نے سننے میں غلطی کی ہو-
“یہ تم کیا کہہ رہی ہو”- فہد کو یہ بات مزاق لگی تھی-
“آپ بتائیں کریں گے شادی۔۔۔۔”- وہ دوبارہ بولی-
“عائشہ پلیز ایسا مزاق برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں میں اِس وقت۔۔۔۔”- فہد رو دینے کوہو گیا- دل نے ضد شروع کر دی- یہ خواہش تو اُس کی زندگی تھی- اِس کے لیے وہ سب کچھ کر سکتا تھا- دل نے شدت سے دعا کی کہ کاش یہ ہو جاتا-
“میں مزاق کروں گی وہ بھی آدھی رات کو ۔۔۔۔”- عائشہ نے اُلٹا اُسی سے پوچھا-
“عائشہ میں مر جاؤں گا۔۔۔۔پلیز مجھے ایسے مت تڑپاؤ۔۔۔بتاؤ کیا بات ہے”- وہ دیوانہ ہو رہا تھا-
“اُس سے شادی کر لیں سب سمجھ میں آجائے گا”- وہ اُس کی حالت سے انجان نہیں تھی-
“وہ نہیں مانے گی عائشہ ۔۔۔۔”- فہد رو پڑا- کتنی بے بسی تھی-
“یہ سب آپ مجھ پہ چھوڑ دیں۔۔۔۔”- عائشہ نے اُسے کو یقین دلایا-
“اور میران شاہ۔۔۔۔۔”- فہد نے اچانک یاد آنے پر پوچھا-
“میں اُسے سب کچھ سچ سچ بتادوں گی۔۔۔اور ویسے بھی اُسے ہانیہ سے اتنی محبت نہیں ہے کہ وہ اُس کے بغیر مر جائے”- عائشہ فہد کو جان چکی تھی- وہ ہانیہ کے لیے کس حد تک سیریس تھا وہ اچھی طرح جانتی تھی-
“میں ماما سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔”- فہد کی آواز خوشی سے لڑکھڑا رہی تھی-
“بائے۔۔۔۔”- عائشہ نے فون بند کر دیا-
**************
شادی کا دن کسی بھی لڑکی کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے- وہ اِس دن کے حوالے سے کئی خواب آنکھوں میں سجا کہ رکھتی ہے- اگر شادی من پسند لڑکے سے ہو تو اُن خوابوں کو تعبیر مل جاتی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو سب خواب ٹوٹ کر چکنا چور ہو جاتے ہیں-
کطھ بیوٹیشن کے ہاتھوں کا کمال تھا اور کچھ وہ خود بہت خوبصورت تھی وہ غضب ڈھا رہی تھی- ایک سے دوسری نگاہ ڈالنے والا سوچتا کہ کہیں نظر ہی نہ لگ جائے-
عائشہ کمرے میں آئی- بیوٹیشن فری ہو چکی تھی- عائشہ اُسے باہر تک چھوڑ کر واپس اندر چلی آئی-ہانیہ سر جھکائے بیٹھی تھی-
“بہت پیاری لگ رہی ہو ماشاء اللہ ۔۔۔۔”- عائشہ نے اُس کا چہرہ اوپر کیا- بھوری آنکھوں میں انسو تھے-
“کیا بات ہے۔۔۔”- وہ اُس کے پاس بیٹھ گئی-
“ماما اور پاپا بہت یاد آرہے ہیں آج۔۔۔کاش وہ میرے پاس ہوتے۔۔۔میری زندگی میں اُن کی دعاؤوں کی بہت کمی ہے عاشی۔۔۔۔اِسی لیے خوشیاں ہمیشہ مجھ سے روٹھی رہتی ہیں”-وہ رو رہی تھی- عائشہ کو بہت دکھ ہوا- یہ موقع ہی ایسا تھا ہر لڑکی کو اس موقعے ہر والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے-
“ایسے کیوں سوچتی ہو ہانی۔۔۔۔ہم سب ہیں نا تمہارے اپنے۔۔۔۔تمہارے لیے دعا کرنے والے ۔۔۔تم کیوں ایسی باتیں کرتی ہو”- وہ اُسے تسلی دینے لگی-
“ایسا پیار مجھے اور کون کرے گا عاشی۔۔۔۔”- وہ مزید اُداس ہو گئی- “میں نے زندگی میں صرف محبت دیکھی ہے کسی کی بے رخی اور نفرت کیسے سہوں گی”-
“الله نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو ۔۔۔تمہیں کبھی کوئی دکھ ملے یا تم سے کوئی نفرت کرے”-وہ اُس کی رگ رگ سے واقف تھی- سمجھ گئی تھی کہ وہ ایسا کیوں بول رہی ہے-
“تم سے محبت ہے ہانی اسی لیے تو چاہتی ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔اور مجھے پورا یقین ہے کہ فہد بھائی سے ذیادہ پیار کوئی اور تم سے کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔وہ تمہیں بہت خوش رکھیں گے”- عائشہ اُس کا چہرہ دیکھتی دل میں سوچ رہی تھی-
فہد کے لیے گھر والوں کو منانا اتنا آسان کام نہیں تھا- مگر عائشہ نے یہ رسک لیا تھا- دادا جان کو سب کچھ سچ بتا دیا تھا- وہ سب لوگ بھی ہانیہ کی خوشی ہی چاہتے تھے اور فہد سے دادا جان کو دلی لگاؤ تھا- وہ سلجھا ہوا ایماندار سا افیسر اُن کی نادان اور بے وقوف سے پوتی کے لیے واقعی بہترین تھا- باقی گھر والوں کو اُنہوں نے خود سمجھا لیا تھا- سب سن کے شاکڈ ہوئے تھے مگر دادا جان کے فیصلے سے اختلاف کی جرات کسی کی نہیں تھی-
دادا جان نے ہی میران شاہ کے گھر والوں کو بڑی راز داری سے انکار کر دیا- اُن لوگوں کو بہت بری لگی یہ بات مگر عائشہ کے سب کچھ بتا دینے پر میران شاہ نے خود ہی اپنے گھر والوں کو سمجھا لیا- وہ اتنا ظالم نہیں تھا کہ ہانیہ کی خوشی کے لیے یہ سب نہ کرتا۔۔۔۔ہانیہ اگر فہد کے ساتھ خوش تھی تو وہ اُس کی خوشی میں خوش تھا- چاند نے اُسے نیہا سے شادی کرنے کا مشورہ دیا تو کچھ سوچ کر وہ مان گیا- ایک بات جو اُس نے بہت پہلے سنی تھی کہ شادی اُس سے کرو جو آپ سے محبت کرتا ہو نا کہ اُس سے جس سے آپ محبت کرتے ہوں- نیہا اُس کی اچھی دوست تھی- وہ دونوں خوش رہ سکتے تھے-
ہانیہ اِس سب سے بے خبر تھی- کسی نے بھی اُسے کچھ نہیں بتایا تھا-
“ہانی اتنا مت سوچو جو ہو رہا ہونے دو۔۔۔”- عائشہ نے کہا تو وہ چپ چاپ انسو اندر اتارنے لگی-
تبھی دادا جان اور تایا ابو نکاح خواں کو لے آئے- ساتھ میں تائی اماں بھی تھیں- عائشہ نے بڑی سی چادر اُس پر اُوڑھا دی-
ہانیہ کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا- جب تایا ابو نے اُس کے ہاتھ میں پینسل تھمائی تو اُس کا پورا جسم پسینے میں بھیگ گیا-
“یہاں سائن کرو بیٹا۔۔۔۔”- اُنہوں نے ایک انگلی سے اُس کی گود میں رکھے رجسٹر پر اشارہ کیا-
تو وقت آگیا تھا کہ فیصلہ ہو جاتا- مطلب سب ختم ہونے والا تھا-
“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی فہد۔۔۔۔تم نے میرے ساتھ بلکل اچھا نہیں کیا۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر چلے گیے”- وہ ہچکیاں لینے لگی- یہ سب سوچنے سے پہلے وہ بھول گئی تھی کہ وہ خود بھی یہی سب چاہتی تھی- اُس کی مرضی سے ہی ہو رہا تھا-
“ہانیہ پتر سائن کرو۔۔۔۔”- دادا جان نے اُس کے سر پہ ہاتھ رکھا-
ہانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے جہاں وہ بتاتے گئے سائن کر دیے- پنسل ہاتھوں سے گر گئی- جسم سے جان ختم ہونے والی ہو گئی-
نکاح کے بعد کیا ہوا وہ نہیں جانتی تھی- مگر عائشہ کے گلے لگ کہ وہ بہت روئی تھی- یوں لگا جیسے زندگی میں سب کچھ کھو دیا ہو-
**************
ہانیہ کو اسٹیج پہ لا کہ بٹھا دیا گیا- سرخ لہنگے میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی- اُس کے ساتھ بیٹھا فہد بھی کوئی شہزادہ لگ رہا تھا- آج تو اُس کا ہر انداز ہی نرالا تھا- زندگی میں سب کچھ تو پالیا تھا اس سے ذیادہ کی خواہش وہ کہاں کر سکتا تھا- قسمت اتنی جلدی بازی پلٹے گی کب سوچا تھا-
ہانیہ کسی بت کی طرح بیٹھی ہوئی تھی-تبھی عائشہ چلی آئی-
“جی تو سنائیں فہد بھائی کیسے ہیں آپ۔۔۔؟”- وہ شرارت سے بولی-فہد نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کہ اُسے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور ساتھ میں گھورا- عائشہ نے اوپس کہہ کہ منہ پہ ہاتھ رکھا – یہ وہ کیا کر بیٹھی تھی- ہانیہ حیرت سے سر اُٹھا کر عائشہ کو دیکھنے لگی- فہد نے اپنا سر پیٹ لیا- عائشہ سے ایسی بے وقوفی کی امید نہیں تھی- عائشہ نے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی-
ہانیہ نے گردن موڑ کر اپنے برابر بیٹھے فہد کو دیکھا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا- یہ کیسے ہو سکتا تھا- اُس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا- وہ تو سکتے میں آگئی-
“ہانیہ۔۔۔۔”-فہد نے اُسے پکارا-
“تم۔۔۔۔”-وہ بولی نہیں چلائی تھی- فہد نے فورا ادھر ادھر دیکھا- شکر تھا کہ ابھی کوئی متوجہ نہیں تھا- مگر ہو سکتا تھا- فضول میں تماشہ بن جاتا-
“دیکھو پلیز چلانا مت۔۔۔میں تمہیں رات کو سب بتا دوں گا مگر پلیز ابھی چپ چاپ بیٹھی رہو۔۔۔۔”- وہ اُس کی منت کرتے ہوئے بولا-
“آپ نے مجھ سے چیٹنگ کی۔۔۔۔”- وہ شاکڈ تھی-
“نہیں ہانی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔میں سب سمجھا دوں گا۔۔۔۔تم جو سزا دو گی مجھے منظور ہو گی مگر ابھی کچھ مت بولنا۔۔۔”- سرگوشی میں بولا-
“آپ نے ایسا کیوں کیا؟ “- بھوری آنکھوں میں پانی آگیا-
“سب گلے شکوے دور کر دوں گا آئی پرامس۔۔۔۔”- وہ دھیرے سے اُس کا ہاتھ تھام کر بولا مگر ہانیہ نے فورا چھڑوا لیا- البتہ اُس کے بعد وہ کچھ نہیں بولی تھی- اندر ہی اندر انسو پیتی رہی-
رخصتی کے وقت وہ اس قدر روئی تھی کہ وہاں ہر آنکھ اشک بار ہو گئی- اُس کا ایک ایک انسو فہد کے دل پر گر رہا تھا-
“میں ان سب انسؤوں کا بدلہ چکا دوں گا ہانی۔۔۔۔۔”- وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا تھا…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: