Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 2

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 2

–**–**–

ہانیہ ماریہ کے ہزبینڈ کو گفٹ دے کہ نیچے اُتری ہی تھی کہ کسی سے زوردار ٹکر ہوئی-ہانیہ کا دماغ گھوم گیا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا-اِس سے پہلے کہ وہ گرتی دو مضبوط بانہوں نے اُسے کسی گڑیا کی طرح سنھال لیا-کئی منٹ تک تو اُس کے حواس ہی قابو میں نہ آئے-کچھ دور کھڑی عائشہ نے یہ منظر دیکھ کر بےساختہ اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا تھا-اردگرد کافی لوگ تھے اِس لئے مقابل نے جلد ہی اُسے چھوڑ دیا-ہانیہ کے ہواس کچھ بحال ہوئے تو مقابل کی ٹھکائی کا خیال آیا-اُس نے اپنے چکراتے سر کو بمشک تھام کر سامنے والے کو دیکھا-میران شاہ کو دیکھ کر اُس کی سٹی گم ہو گئی-تمام الفاظ ہلق میں ہی دم توڑ گیے-بولنے کی ہمت جواب دے گئی-
“تم۔۔۔۔۔”-میران شاہ اُسے ایک سیکنڈ میں پہچان گیا-
“اگر پہلے پتہ ہوتا تو کبھی نہیں سنبھالتا۔۔۔بلکہ جان بوجھ کہ گرا دیتا”-وہ نخوت سے بولا-ہانیہ کا منہ اتنی عزت افزائی پہ پورا کھل گیا-دل چاہا سب کچھ بھول بھال کر اُس کو وہ سنائے کہ بس اُس کی عقل ٹھکانے آ جائے-مگر اگلے ہی لمہے اس خیال کو مسترد کر دیا-یہ رسک نہیں لینا تھا ابھی-
“آپ کو لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے”-اُس نے لہجے کو تھوڑا روکھا اور سخت بنانے کی کوشش کی-مقابل نے اُس کو گھور کہ دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئی-
“جی نہیں مجھے لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے اورآپ جیسی لڑکیوں سے بات کرنے کی تو بلکل نہیں ہے”-وہ اُس کے دائیں جانب کھڑا ہوتے ہوئے لاپرواہی سے بولا-وہ اسٹیج پر جانے کی غرض سے آیا تھا مگر وہاں رش دیکھ کر ارادہ ترک کر کہ وہیں کھڑا ہو گیا-
“مجھ جیسی لڑکی مطلب۔۔۔”-ہانیہ نے اُس کے سامنے ہوتے ہوئے غصے سے پوچھا-
“یہ تو آپ کو ہی پتہ ہو۔۔۔”-میران شاہ نے اُسے تپانے کی بھرپور کوشش کی-اُس کا سرخ انار جیسا چہرہ دیکھ کر اُسے مزہ آنے لگا-
“آپ بہت ہی بدتمیز قسم کے انسان ہیں”-ہانیہ ذیادہ دیر اپنے غصے پہ قابو نہیں رکھ پائی تھی-
“کل اسی بدتمیز انسان سے آپ کو محبت ہو گئی تھی شاید”- میران شاہ نے اُسے چھیڑا تھا-وہ اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرنے لگا-
“ہنہہہہ آپ سے محبت۔۔۔۔مائی فٹ”-وہ منہ پھیرتے ہوئے بولی-میران شاہ کے لبوں پر دھیمی سی مسکان پھیل گئی-یہ لڑکی اُسے کافی دلچسپ لگی-
“کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا کیونکہ میں آل ریڈی انگیجڈ ہوں”-وہ بولا تو ہانیہ نے اُس کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں دیکھا-میران شاہ نے فورا مسکراہٹ دبا لی تھی-
“آپ یہ بات مجھے کیوں بتا رہے ہیں”-وہ دل میں آئے جزبات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی-
“تاکہ آپ مجھ پر ٹرائی کرنے کی کوشش نہ کریں”-میران شاہ اُسے تپانے کے موڈ میں تھا اور وہ اچھی خاصی تپ بھی چکی تھی-مگر چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا تھا-
“آپ کو بڑی خوش فہمیاں ہیں اپنے بارے میں۔۔۔”-ہانیہ کو وہ ہنستا ہوا زہر لگا تھا-اُس کا دل چاہا اُس کا سر پھاڑ دے-کتنے آرام سے وہ کہہ گیا تھا کہ میں انگیجڈ ہوں اِس بات کی پرواکیے بغیر کہ اُس کا نازک سا دل ٹوٹ گیا تھا-
“بس جی سب کو ہوتی ہیں مجھے بھی ہیں”- وہ ایک ادا سے بولا تھا-
“ویسے کیا آپ کو سچ میں مجھ سے محبت ہو گئی ہے”- میران شاہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے شرارت سے پوچھا-
“ہوئی بھی ہو گی تو آپ کو کیا مسئلہ ہے”-ہانیہ تڑخ کر بولی تھی-
“نہیں مجھے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا کہ اگر آپ اظہار کرنا چاہیں تو میں برا نہیں مانوں گا”-میران شاہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا-
“ہانی کی محبت اتنی ارازاں نہیں ہے کہ وہ خود اظہار کرے۔۔۔بلکہ ایسی ہے کہ مقابل اظہار کرے گا”-وہ شان بے نیازی سے بولی تو میران شاہ بے ساختہ اُسے دیکھے گیا-
“اتنا یقین ہے خود پر۔۔۔۔”-وہ گھمبیر سے لہجے میں بولا تھا-
“اِس سے بھی ذیادہ۔۔۔۔”-ہانیہ اُس کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں دیکھنے لگی-مگر یہ بس کچھ لمہوں کی بات تھی اگلے ہی لمہے وہ سر جھکا گئی-مقابل کی آنکھوں میں دیکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا-
“اپی آپ کو پھوپھو نے بلایا ہے”-فلزا نے اُسے آکر اطلاع دی تو وہ فورا وہاں سے بھاگی-
میران شاہ کتنے ہی لمہے وہاں سے ہل بھی نہیں پایا تھا-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
وہ سب کزنز بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے-وہاں ہونے والی بات چیت کا موضوع تھا میران شاہ کی شادی۔۔۔۔ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق اُسے مشوروں سے نواز رہا تھا مگر وہ چپ چاپ اُن کی باتیں سننے اور مسکرانے پر اکتفا کر رہا تھا-تبھی اُس نے اپنے سے کچھ فاصلے پر بیٹھتی ہانیہ کو دیکھا-ہانیہ نے ایک نخوت بھری نگاہ اُس پہ ڈالی تھی اور اُس کی طرف پشت کر کہ بیٹھ گئی-میران شاہ کے لبوں پہ پھیلنے والی مسکراہٹ بہت گہری اور معنی خیز تھی-
“ہاں تو آپ لوگ میری شادی کے بارے میں کیا باتیں کر رہے تھے”-وہ سیدھا ہو کہ بیٹھ گیا اور اُن سے پوچھا-اُس کی آواز خاصی بلند تھی-ہانیہ کا رواں رواں سماعت بن گیا-
“یہ سائکل کی فیل بریک نے اچانک کیسے کام کرنا شروع کر دیا”-چاند نے اُسے چھیڑا تھا-میران شاہ ڈھٹائی سے مسکراتا رہا-چاند کی بات پر باقی سب کے بھی قہقے ابھرے تھے-
“ہم کہہ رہے تھے کہ طلحہ بھائی کے بعد آپ کی شادی ہونی چاہیے ۔۔۔ کیونکہ اُن کے بعد آپ کا نمبر آتا ہے”-ایان نے مسکراتے ہوئے کہا-خدیجہ بیگم بھی اُن کی طرف متوجہ ہوئیں تھی-وہ پہلے کسی اور سے باتیں کرنے میں مگن تھیں-اب میران کی شادی میں دلچسپی دیکھ کر اُنہوں نے اپنا رُخ اُن کی طرف موڑا-
“بلکل یار میری شادی ہونی چاہیے اب۔۔۔۔مجھے خود بہت جلدی ہے۔۔۔”-وہ شرارت سے بولا تھا-نظریں مسلسل ہانیہ کی طرف تھیں-وہ بنا دیکھے جان سکتا تھا کہ دوسری طرف کیا صورتِ حال ہو گی-
“یہ ایک دم تمہیں شادی کی جلدی کیوں پڑ گئی-پچھلے آدھے گھنٹے سے ہم لوگ پوچھ رہے تھے تب تو تم مشرقی لڑکیوں کی طرح شرمانے میں مصروف تھے-اب اچانک سے کیا سوجھی”-چاند کچھ مشکوک ہوا تھا-
“بس یار کچھ لوگ مجھ جیسے ہینڈ سم بندے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور میں اُن کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہتا۔۔۔ اِسی لیے میں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے”-میران شاہ نے معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجائے اونچی آواز میں کہا تو سب شرارت سے اُس کی طرف دیکھنے لگے-خدیجہ بیگم نے بھی مسکرا کر اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا-
“اوئے ہوئے بڑی خوش فہمیاں پال رکھی ہیں”-چاند نے اُسے چھیڑا تھا-
“سب کو ہوتی ہیں مجھے بھی ہیں”-وہ باتیں اُن سے کر رہا تھا مگر نظروں کے حصار میں مسلسل ہانیہ تھی-وہ یہ سب خاص اُس کو سنانے کے لیے کہہ رہا تھا-
“تمہیں تو کچھ ذیادہ ہی ہیں ۔۔۔انٹی اِس کی شادی کا سوچیں یہ واقعی مجھے سیریس لگ رہا ہے”-چاند نے خدیجہ بیگم سے کہا جو مسلسل مسکرا رہی تھیں-
کمینہ کہیں کا”-ہانیہ نے غصے سے کہا تو موبائل کے ساتھ لگی عائشہ نے حیرت سے اُس کو دیکھا-
“کون۔۔۔۔؟”-وہ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی-اُسے لگا شاید اُسے کوئی تنگ کر رہا تھا-مگر اردگرد سب لوگ اپنی باتوں میں مگن تھے-
“کوئی نہیں تم اپنا کام کرو”-وہ بے رُخی سے بولی تو عائشہ اُسے گھور کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی-
“ہاں ماما بتائیں پھر آپ میری شادی کب کر رہی ہیں؟”-میران شاہ نے ٹیبل پہ آگے کی طرف جھکتے ہوئے خدیجہ بیگم سے پوچھا-
“کیا بات ہے بڑی جلدی ہے شادی کی ۔۔۔کہیں کوئی لڑکی تو پسند نہیں آ گئی”-چاند کو اُس کی اچانک بےتابی کی یہی وجہ سمجھ میں آئی تھی-
“لڑکی کوئی ایسی ملی ہی نہیں کہ اُسے پسند کروں”-میران شاہ مسلسل شرارت پر آمادہ تھا-وہ جانتا تھا کہ اُس کی باتوں سے دوسری طرف زلزلے کے آثار تیز سے تیز ہوتے جارہے ہیں-
“نیہا سے کر دیں”-خدیجہ بیگم نے اُسے کی کلاس فیلو کا نام لیا تھا جس کے ساتھ اُس کی کافی دوستی تھی-بلکہ اُن دونوں کی بات بھی چل رہی تھی-وہ سب اُسے اکثر نیہا کے حوالے سے چھیڑتے تھے-
“ہاں بلکل اُسی سے کرنی ہے آخر کو وہ میری پہلی اور آخری محبت ہے”-اُس نے کہا تو چاند کو خواہ مخواہ ہی کھانسی شروع ہو گئی-پہلی اور آخری محبت والی بات اُس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی-
“حوصلہ رکھیں چاند بھائی”-ایان نے ہنستے ہوئے اُس کمر تھپتھپائی-
“ویسے اگر نیہا یہ بات سُن لیتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی”-چاند نے اس کے مُسلسل مسکراتے چہرے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا تھا-
“فکر نہ کرو جاتے ہی پاگل کر دوں گا اُس کو”-وہ اب بھی باز نہیں آرہا تھا-
“چلو اُٹھو کہیں اور چل کہ بیٹھتے ہیں”-ہانیہ کی برداشت جواب دے چکی تھی-اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جا کہ اُس کا منہ توڑ آتی-وہ جانتی تھی کہ وہ یہ سب بس اسے سنانے کے لئے ہی کہہ رہا تھا-
“کیوں۔۔؟”-عائشہ نے حیرت سے اُس کا سرخ چہرہ دیکھا جہاں غصے کے آثار نمایاں تھے-
“وجہ بتانا ضروری نہیں ہے”-وہ اُٹھتے ہوئے بولی-
“پھر میں نہیں جارہی”-عائشہ نے انکار کر دیا تو اُس نے اُس کا بازو پکڑ کر کھینچا-
“ہر وقت ہڈ حرامی نہ دکھایا کرو”-ہانیہ ایک منٹ سے بھی پہلے وہاں سے غائب ہونا چاہتی تھی-
“ہانی۔۔۔۔”-عائشہ نے اپنا بازو کھینچا-اُس کی کئی چوڑیاں اُس کے بے رحم ہاتھوں ٹوٹ چکی تھیں مگر اُسے پروا کب تھی وہ اُسے گھسیٹتی ہوئی وہاں سے لے گئی-میران شاہ اُسے تب تک جاتا دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی-
“تم واقعی سیریس ہو؟ “-چاند نے سنجیدگی سے پوچھا-اُسے ناجانے کیوں یقین نہیں آرہا تھا-
“کس بارے میں”-وہ انجان بنا تھا-
“شادی کے بارے میں ۔۔۔۔”-چاند حیران ہوا-اچانک سے وہ پھر پلٹی کھا گیا تھا-
“پاگل ہو گئیے ہو کیا”-میران شاہ نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تو سب نے اچنبھے سے اُس کی طرف دیکھا-
“لو جی سائکل کی بریک پھر فیل ہو گئی”-چاند سخت بدمزہ ہوا تھا-
“پگلا نہ ہو تو”-خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اُس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی اور وہاں سے چلی گئیں-وہ اُن کی سمجھ سے باہر تھا-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
“پتہ نہیں کیا سمجھتا خود کو۔۔۔۔باتیں تو ایسے کر رہا تھا جیسے کوئی پرنس ہو”-وہ گھر آتے ہی غصے سے بولی-
“کون؟ “-عائشہ کے خاک بھی پلے نہیں پڑا تھا-
ایک تو پہلے ہی اُس کے اچانک گھر آنے کی وجہ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اور اب وہ جو بول رہی تھی وہ بھی اُس کی ننھی سی عقل میں نہیں سما رہا تھا-
“وہی میران شاہ۔۔۔۔”-وہ اب کمرے میں غصے سے اِدھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی-اُس کو جب بھی غصہ آتا وہ یہی کرتی تھی-
“ہیںں۔۔۔۔یہ میران شاہ کہاں سے آگیا”-عائشہ نے پوری آنکھیں کھول کر اُس کو دیکھا جو جلے پیر کی بلی کی طرح چکر لگا رہی تھی-
“پتہ نہیں کہاں سے آگیا میری زندگی میں ۔۔۔”-اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ غصے کو کم کرنے کے لئے کیا کرے-
“ایک منٹ ایک منٹ وہی تو میران شاہ نہیں جس کے ساتھ تم ٹکرائی تھی”-عائشہ کو اچانک یاد آیا تو استفسار کیا-
“ہاں وہی نمونہ تھا”-وہ بولی تو اُس کے نمونہ کہنے پر عائشہ کی ہنسی نکل گئی-
“ویسے ہانی بندہ ہے بڑا ہینڈ سم۔۔۔۔”-اُس نے ہانیہ کے زخموں پہ مزید نمک چھڑکا تھا-
“اُتنا ہی بدتمیز اور سڑیل بھی ہے-خود کو ناجانے کونسی مخلوق سمجھتا ہے۔۔۔۔شوخا کہیں کا۔۔۔”-وہ بیڈ پہ دھڑام سے بیٹھتے ہوئے بولی تو عائشہ کا قہقہ کمرے کے درو دیوار میں گونجا-ہانیہ نے کھا جانے والی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا-
“تو کس نے کہا تھا اُس سے محبت کرو”-وہ اُس کے گھورنے پر کچھ سنجیدہ ہوئی-
“مت جو میری ماری گئی تھی”-وہ ناک پھلاتے ہوئے بولی-
“اب کیا کرو گی؟ “-عائشہ نے بمشکل اپنی ہنسی روکی تھی-
“اُس کو ناکوں چنے چبواؤں گی۔۔۔۔ہمیشہ یاد رکھے گا کہ کس بلا سے پالا پڑا تھا”-وہ اپنی بات کہہ کہ تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی-
“افففف کیا چیز ہے یہ لڑکی۔۔۔۔”-عائشہ کتنی ہی دیر پیچھے اُس کی باتوں پر ہنستی رہی….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: