Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 3

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 3

–**–**–

ہانیہ بڑے ریلکس انداز میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی-گود میں مونگ پھلی والی پلیٹ رکھی ہوئی تھی- ٹی وی میں اُس کا دیہان اِس قدر ذیادہ تھا کہ وہ مونگ پھلی کے چھلکے پلیٹ میں رکھنے کی بجائے بیڈ پر ہی رکھ دیتی-اُس کا فیورٹ سیریل چل رہا تھا-بیڈ پہ رکھا کمبل آدھابیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا-کرن کمرے میں داخل ہوئی تو کمرے کی ابتر حالت دیکھ کر اُس کا پارہ ہائی ہو گیا-
“ہانی۔۔۔۔”-وہ اُس کے قریب آ کر چلائی-
“جج جی اپی۔۔۔۔”-وہ ڈر کے مارے اُچھل پڑی-مونگ پھلی والی پلیٹ گود سے بیڈ پر گر گئی-ساری مونگ پھلی بیڈ پر بکھر گئی تھی-کرن کے غصے میں مزید اضافہ ہو گیا-
“اپی کی کچھ لگتی یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے کمرے کی ۔۔۔ابھی آدھا گھنٹہ پہلے میں صفائی کر کے گئی تھی اور تم نے سارے کمرے کا ناس مار دیا۔۔۔پتہ نہیں کونسی مٹی لگی ہے جو تمہیں چین سے بیٹھنے ہی نہیں دیتی۔۔۔ہر وقت بندروں کی طرح اچھل کود کرتی رہتی ہو۔۔۔۔غضب خدا کا اتنا گند تو پورے گھر میں سب مہمانوں نے نہیں ڈالا جتنا تم نے اس ایک کمرے میں ڈالا ہوا “-کرن بولنے پہ آئی تو بولتی چلی گئی-وہ اُس کی اچھی خاصی کلاس لینے کے بعد اب چیزیں درست کر رہی تھی-بیڈ پہ دبکی بیٹھی ہانیہ کی ہمت نہیں تھی کہ آگے سے کوئی جواب ہی دے دیتی-
“سوری اپی۔۔۔”-وہ منمناتے ہوئے بولی تو کرن نے اُس کو گھورا-
“چلو نکلو یہاں سے۔۔۔۔دادا جان نے بلایا تمہیں ۔۔۔”-کرن نے اُسے وہاں سے بھگایا-ہانیہ نے ایک لمہہ ضائع کیے بنا وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی-
وہ وہاں سے سیدھی دادا جان کے کمرے میں آئی-وہ صوفے پر بیٹھے کسی رسالے کے مطالعہ میں مصروف تھے-ہانیہ نے دروازے کو ہلکا سا کھٹکھٹایا تو وہ اُنہوں نے رسالہ سائیڈ پہ رکھتے ہوئے اُسے اندر انے کو کہا-وہ دھیمے دھیمے قدم اُٹھاتی اُن کے پاس چلی آئی-اِس وقت وہ ڈھیلے سے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی-دوپٹہ بے ترتیبی سے ایک سائیڈ پہ لٹک رہا تھا-سر پہ لینے کی وہ کم ہی تکلیف اُٹھاتی تھی-بالوں کی ڈھیلی چوٹیا کی ہوئی تھی جس میں سے آدھے سے ذیادہ بال باہر تھے-وہ ایسی ہی تھی من موجی لاپرواہ قسم کی۔۔۔کسی بات کی ٹینشن نہیں لیتی تھی-ہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی-
“آپ نے بلایا مجھے دادا جان۔۔۔”-وہ اُن کے بائیِں طرف بیٹھتے ہوئے سعادت مندی سے بولی-
“ہاں میں نے بلایا ہے”-اُنہوں نے اپنا چشمہ اُتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے کہا-
“عائشہ بتا رہی تھی کہ تم ماریہ کو لینے نہیں جا رہی”-وہ اُس کی طرف متوجہ ہوئے-آج ماریہ کا ولیمہ تھا-نائٹ فنکشن تھا سب لوگ اُس کو لینے جارہے تھے مگر ہانیہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اُن کے ساتھ نہیں جائے گی-عائشہ سمجھ گئی تھی کہ اُس کو پھر دورہ پڑا ہے اِس لئے اُس نے جانے کے لئے فورس نہیں کیا تھا بلکہ آکر دادا جان کو بتا دیا تھا-کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر اُس نے ایک بار منع کر دیا تو پھر ہزار منتوں کے بعد بھی نہیں مانے گی-
“جی وہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے”-وہ مسکین سی شکل بنا کر بولی-آواز کو بھی کسی حد تک مدھم کر لیا-ساتھ ہی دل میں عائشہ کو ڈھیروں گالیوں سے بھی نوازا جس نے یہ حرکت کی تھی-
“کیا ہوا طبیعت کو۔۔۔زیادہ تو نہیں خراب ۔۔اگر ہے تو میں حارث سے کہتا ہوں وہ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے”-وہ فورا تشویش میں مبتلا ہوئے-
“نہیں ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے میں آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی”-اُس نے فورامنع کر دیا-اُس حارث کے بچے کو وہ اچھے سے جانتی تھی وہ ایک سیکنڈ میں اُس کا جھوٹ پکڑ لیتا تھا-
“چلو جاؤ آرام کرو اور اب جب تک ٹھیک نہ ہو جاؤ ہلنا مت بستر سے”-اُنہوں نے اُسے ہدایت کی تو وہ جی اچھا کہہ کر وہاں سے چلی آئی-
“یاہو۔۔۔۔۔اب تو کوئی مجھے فورس نہیں کر سکتا۔۔۔۔اُس میران شاہ کو تو میں بتاؤں گی ناجانے کیا سمجھتا خود کو۔۔۔اُسے لگتا میں اُس کے بغیر مر جاؤں گی۔۔۔”-وہ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی-
“کیسے کہہ رہا تھا کہ اگر مجھ سے اظہار کریں گی تو میں برا نہیں مناؤں گا”-اُس نے اُس کی نقل اُتاری-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
شادی کے ہنگامے سرد پڑے تو حالات پھر سے پہلے والی ڈگر پر آگئے-ماریہ دو دن پہلے آئی تھی اور طلحہ بھائی اُسے چھوڑ کہ چلے گئے تھے-ہانیہ سارا دن ماریہ کے ساتھ باتوں میں لگی رہتی وہ آجکل کالج سے فری تھی-سیکنڈ آئیر کے پیپرز دے کہ رزلٹ کے انتطار میں تھی-
عائشہ اور کرن باقاعدگی سے یونیورسٹی جاتی تھیں-وہ دونوں شام کو ہی آتی تھیں-اُن کے بغیر وہ بہت بور ہوتی تھی مگر اب ماریہ کے آنے سے اُس کا دل بہل گیا تھا-
ماریہ اپی نے اُسے ڈرائنگ روم میں کچھ لینے کے لئے بھیجا تو وہ اندھا دھند دوڑتی ہوئی آئی مگر ڈرائنگ روم کے دروازے پر ہی کسی سے ٹکر ہو گئی-اُس کا سر مقابل کے سینے سے اتنی شدت سے ٹکرایا تھا کہ درد کی لہریں فورا اُٹھی-غلطی سراسر اُس کی تھی-مقابل کا غصے سے برا حال ہو گیا-وہ جس طرح بھاگتی ہوئی آئی تھی وہ اُسے دیکھ چکا تھا-
“آپ کو شرم نہیں آتی یوں بچوں کی طرح بھاگتے ہوئے”-اُس نے غصے سے کہا-
ہانیہ نے سر اُٹھا کر آگ اگلنے والے کو دیکھا تھا-
“تم۔۔۔”-میران شان نے کھا جانے والی نظروں سے اُسے دیکھا-
“تمہیں شرم کہاں آئے گی تمہارا تو کام ہی لوگوں سے ٹکریں مارنا ہے”-میران شاہ اُسے سامنے پاکر ایک دم سے آگ بگولا ہوا تھا-
“ہاہ۔۔۔۔”-ہانیہ نے پوری آنکھیں اور منہ کھول کر اُس کو دیکھا-“آپ اپنی غلطی کتنے آرام سے دوسروں کے سر پر تھوپ دیتے ہیں”-وہ اُلٹا اُس پہ چڑ دوڑی-
“محترمہ ہوش کے ناخن لیں ۔۔۔۔۔شیر سے ریس تو آپ نے لگائی ہوئی تھی میں تو انسانوں کی طرح اپنے دیہان سے باہر نکل رہا تھا”-میران شاہ کو وہ لڑکی پاگل لگی تھی-
“ہاں تو آپ سامنے سے ہٹ جاتے”-ہانیہ بنا شرمندہ ہوئے بولی تو میران شاہ نے ایک گہرا سانس بھرا-
“آپ نے ہٹنے کا موقع دیا کب تھا”-وہ شریر ہوا تھا-یہ لڑکی جب جب اُس سے ملی تھی اُس حیرت میں مبتلا کر گئی تھی-وہ اُس سے ملنے کے بعد بھی گھنٹوں اُسی کے بارے میں سوچتا رہتا-
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ “-اُسے اچانک یاد آیا تو سوال کیا-
“آپ سے ملنے آیا تھامگر مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ بھی میرے انتظار میں بیٹھی ہیں۔۔۔اور اتنی شدت سے منتظر ہوں گی کہ ملتے ہی گلے لگ جائیں گی”-میران شاہ نے شوخ نظروں سے اُس کو دیکھا تھا-
“مجھے آپ کا دماغ درست نہیں لگ رہا”-ہانیہ اُس کے اتنے بے باک انداز پر کنفیوز ہوئی تھی-
“آپ درست کر دیں”-میران شاہ کو اُس کی حالت مزہ دینے لگی-وہ اُس کے چہرے پر آئے دھنک رنگوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگا-وہ جتنا بہادر بننے کی کوشش کر رہی تھی اُتنی وہ تھی نہیں۔۔۔وہ اُس کے نگاہیں جھکانے پر زیر لب مسکرایا-
ہانیہ نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی-وہ مڑی ہی تھی کہ میران شاہ نے اُس کی کلائی تھام لی-ہانیہ کی ساری جان اُس کلائی میں ہی اٹک گئی-
“آپ ولیمے والے دن کیوں نہیں آئی تھیں؟ “-وہ اُس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا اور یہ فاصلہ اُس نے خود رکھا تھا-
“میری مرضی آپ کو اس سے کیا”-اُس نے ایک ہی جھٹکے میں کلائی چھڑواتے ہوئے کہا-میران شاہ کا مقصد بس اُس کو روکنا تھا اِس لئے اُس نے ہانیہ کے ہلکے سے احتجاج پر ہی فورا اُس کا بازو چھوڑ دیا-
میں نے ویسے ہی پوچھا تھا”-وہ سنجیدگی سے بولا تھا-
ہانیہ نے ایک نظر مڑ کہ اُس کو دیکھا تھا-وہ اُسی کو دیکھ رہا تھا-چہرے پر پہلے والی شرارت اب نہیں تھی-شاید اُسے ہانیہ کی بات بری لگی تھی-ہانیہ بنا کچھ بولے وہاں سے آگئی-میران شاہ نے بھی سر جھٹک کر اپنے قدم باہر کی جانب بڑھا دیے-وہ ماریہ کو کچھ سامان دینے آیا تھا اور اب اُس کا کام ہو چکا تھا-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
دن سست روی سے گزر رہے تھے-کبھی کبھی تو وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے اور کبھی کبھی رینگنا شروع کر دیتا ہے-ہانیہ کے پاس آجکل کرنے کے لئے کوئی کام نہیں تھا وہ پورا دن کسی بھٹکی ہوئی اتما کی طرح پورے گھر میں بوکھلائی بوکھلائی پھرتی تھی-ماریہ اپنے سسرال جا چکی تھی-گھر میں بس سناٹوں کا راج تھا-
ہانیہ کافی کا مگ لے کر ٹیرس پر آگئی-موسم کافی خوشگوار تھا-ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی-اُس نے اپنے بال کھول دیے-ہوا کے دوش اُڑتے بال بار بار اُس کے چہرے پر آنے لگے-
وہ سامنے پھیلے وسیع لان میں اِس قدر محو تھی کہ ہاٹ کافی کے کولڈ ہونے کا بھی پتہ نہ چلا-تبھی اچانک اُسے اپنے چہرے پر کسی کی گہری نگاہوں کی تپش کا احساس ہوا تو اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا-اُن کے برابر والے بنگلے کے لان میں کھڑا وہ اجنبی کیمرے سے کھٹا کھٹ اُس کی تصویریں لینے میں مگن تھا-ہانیہ کا دماغ بھک سے اُڑ گیا-وہ جتنی مرضی بولڈ سہی مگر یہ حرکت اُسے سخت ناگوار گزری تھی-
“اِس ارسطو کی اولاد کا دماغ تو میں ٹھکانے لگاتی ہوں”-وہ کافی کا کپ وہیں رکھ کر غصے سے بڑبڑاتی ہوئی سیڑھیاں اُترنے لگی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: