Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 4

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 4

–**–**–

اگلے دو منٹ میں ہانیہ اُس بنگلے کے داخلی دروازے پر کھڑی تھی-اُس نے بیل پہ ہاتھ رکھا تو پھر اُٹھانا ہی بھول گئی-پورے پانچ منٹ کے جان لیوا انتظار کے بعد آخر کار گیٹ کھل ہی گیا-
“جی کس سے ملنا ہے آپ کو؟ “-چوکیدار نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-
“تمہارے باپ سے۔۔۔۔”-وہ اُسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہو گئی-چوکیدار ہکا بقا کھڑا آنے والے طوفان کو دیکھتا رہا-
وہ تن فن کرتی اگلے ہی لمہے اُس اجنبی کے سامنے کھڑی تھی-جو ہاتھ میں کیمرہ لیے شوخ سی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا-ہانیہ کا پارہ مزید ہائی ہوا-
“نہایت ہی بے شرم قسم کے انسان ہیں آپ”-وہ اُس کے پاس جا کر غصھ سے باز پرس کرنے لگی-اُس اجنبی کے لبوں کی مسکراہٹ میں کوئی کمی نہیں ہوئی تھی-وہ اب بھی بڑی دلچسپی سے اُس شعلے کو دیکھ رہا تھا-ہانیہ کا دل چاہا اُس کی آنکھیں نوچ لے-
“مسٹر میں آپ سے مخاطب ہوں”-اُس نے چٹکی بجاتے ہوئے اُس کی نگاہوں کے ارتکاز کو توڑا-چہرہ ہمیشہ کی طرح غصے کی وجہ سے انار بنا ہوا تھا-
“جانتا ہوں۔۔۔۔”-وہ سر کھجاتے ہوئے بولا-
“تو بولنے کی تکلیف بھی کریں۔۔۔۔”-وہ دانت پیس کر گویا ہائی-
“میرا تو بس آپ کو سننے کو دل کر رہا ہے ۔۔۔یقین مانیے میں نے اپنی پوری لائف میں آج تک کسی کو اتنا پیارا بولتے نہیں سنا۔۔۔۔پلیز اور بھی کچھ کہیں نہ”-وہ کھویا کھویا سا بولا تھا-
“او ہیلو مسٹر اپنی یہ چیپ ٹائپ گفتگو اپنے پاس ہی رکھیں اور مجھے بس اس بات کا جواب دیں کہ آپ نے میری پکس کیوں لی ہیں”-ہانیہ نے لڑاکا انداز میں ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر اُس سے پوچھا-
“میں نے آپ کی پک کہاں لی ہیں ۔۔۔۔میں نے تو قدرت کے ایک شاہکار کو اپنے کیمرے میں مقید کیا ہے”-وہ اب بھی سنجیدہ نہیں ہوا تھا-
“اب قدرت کے اُس شاہکار کا کارنامہ بھی دیکھیں پھر۔۔۔۔”-ہانیہ نے دانت کچکچاتے ہوئے کہا تو وہ اجنبی پُر شوق نگاہوں سے رئیلی کہہ کر اُس کو دیکھنے لگا-
ہانیہ نے قریب ہی میز پہ پڑی موٹی سی بک اُٹھا کر سیدھی اُس کے ناک پہ دے ماری-
“اففففففففففف۔۔۔۔۔”-وہ اجنبی دردسے چلایا تھا-اُس نازک دھان پان سی لڑکی سے اُسے اس قسم کی توقع نہیں تھی-اُس کی ناک سے فورا خون نکلنے لگ گیا-بک پوری قوت سے ماری گئی تھی-
“میرا ہتھیار اور میں ہی شکار۔۔۔۔”-وہ اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو کارنامہ سرانجام دینے کے بعد اب دور کھڑی اُسے ہی دیکھ رہی تھی-اُس کی ناک سے خون نکلتا دیکھ کر ہانیہ کا رنگ اُڑ گیا-وہ بے تحاشہ ڈر گئی تھی-
اُس نے ہاتھ میں پکڑی بک وہیں پھینکی اور وہاں سے دوڑ لگا دی-پیچھے مڑ کر دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی-اُس نے وہاں کا سانس روکا اپنے گھر آکر ہی خارج کیا تھا-اب دل میں یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں وہ گھر شکایت لگانے ہی نہ آجائے-وہ فورا کمرہ بند کر کے بیٹھ گئی-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
“ہانیہ شفیق حاضر ہوں ماہ بدولت نے یاد فرمایا ہے”-حارث کی یہ فریاد کوئی چوتھی بار ہانیہ کے کانوں میں پڑی تھی-وہ پورے لاؤنج میں اُس کے نام کی دہائیاں دیتا پھر رہا تھا-
“اِس نمونے کواب ناجانےکیا تکلیف ہے جو میرے نام کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے”-ہانیہ نے بڑبڑاتے ہوئے برتن سلیب پہ پٹخا-وہ اِس وقت کچن میں تائی اماں کے زیرِ نگرانی کام کر رہی تھی اور وہ کچھ دیر پہلے ہی کچن سے کسی کام کی غرض سے نکلی تھیں-ایک تو گرمی کے مارے پہلے ہی بُرا حشر ہو رہا تھا اور اوپر حارث کی ڈراؤنی آواز میں دہائیاں اُس کو مزید تپا گئیں-وہ کام وہیں چھوڑ کر کچن سے نکلی-لاؤنج میں آئی تو عائشہ اور حارث نے وہاں اودھم مچایا ہوا تھا-حارث صوفے پر چڑا ہاتھ کامائیک بنائے اُس کو آوازیں دینے میں لگا ہوا تھا جبکہ عائشہ دوسرے صوفے پر ترچھی لیٹی اُس کی باتیں سُن رہی تھی-
“آئیے آئیے محترمہ آئیے ماہ بدولت کب سے یاد کر رہے آپ کو”-حارث اُسے دیکھتے ہی چہکا-“بڑی دیر لگا دی مہرباں آتے آتے ۔۔۔”-ساتھ ہی اُس نے دکھی سا منہ بناتے ہوئے شعر والے سٹائل میں کہا-
“اِس ماہ بدولت کی میرے ہاتھوں چھترول ہوئے کافی دن بیت گئیے ہیں نہ اِسی لیے اِس کو چین نہیں آرہا آج کل”-وہ بدتمیزی سے بولتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی-حارث اُس سے چھ سال بڑا تھا مگر وہ پھر بھی ہر وقت اُس کی دادی اماں بنی رہتی تھی اور تو اورجب مرضی اُس کی ٹھکائی بھی کر لیتی تھی-
عائشہ بھی فورا صوفے سے اُٹھ بیٹھی-اُن دونوں نے سرسے پاؤں تک اُس کا جائزہ لیا تو وہ حیرت سے اُن کو دیکھنے لگی-پھر ایک نظر خود پر بھی ڈالی۔۔۔اُس میں ایس کیا غیر معمولی، تھا جو وہ یوں ایکسرے کرتی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے-بارہا دیکھنے پر بھی کچھ سمجھ نہ آئی-ایسا ویسا تو کچھ بھی نہیں تھا اُس میں پھر وہ لوگ کیوں ایسےدیکھ تھے-
“کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو کھا جانے کا ارادہ ہے مجھے کیا”-وہ کچھ پزل ہوئی تھی-دل کی بات زبان پر بھی آگئی-
“ہانی تم لگتی تو نہیں ہو ایسی۔۔۔۔”-عائشہ نے تھوڑی پہ ہاتھ رکھ کر کچھ سوچتے ہوئے بولی-
“کیسی۔۔۔۔”-اُس نے ایک بار پھر خود کو دیکھا-اُس کے ایسے کونسے سینگ نکل آئے تھے-
“ویسی۔۔۔”-وہ پہیلیاں بجھانے کے چکروں میں تھی-ہانیہ کو شدید کوفت ہوئی-
“ہانی تمہیں پتہ ہمارے پڑوس میں آج کیا ہوا ہے”- حارث نے ہانیہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی کہا-ہانیہ نے بھنویں اُچکا کر سوالیہ انداز میں حارث کو دیکھا تھا-وہ دونوں اِس وقت از حد سسپنس کریٹ کیے ہوئے تھے-
“دن دیہاڑے کھلے عام ایک نوجوان پر تشدد ہوا۔۔۔ایک نامعلوم لڑکی اُس نوجوان کی ناک توڑ کر فرار۔۔۔۔۔”-حارث نے ڈرامائی انداز میں بتایا تو ہانیہ کا دل ایک دم رُک گیا-جس کا ڈر تھا وہی ہوا-سب کو پتہ چل گیا تو مطلب اُس نے شکایت لگا ہی دی تھی-
“اور ہانی ہمیں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ اُس لڑکی کا تعلق ہمارے گھر سے ہے۔۔۔۔افففف مجھے تو ٹینشن لگی ہے کہ ایسا کس نے کیا”-عائشہ بھی حارث کے ڈرامے میں اُس کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی-وہ دونوں کن آکھیوں سے اُس کو دیکھ رہے تھے جس کی حالت لمحہ بہ لمحہ غیر ہوتی جا رہی تھی-
“ہانی تم جانتی ہو کہ ایسا کون کر سکتا ہے”-حارث نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پھر اُس کو مخاطب کیا-
“کک کیا بک رہے ہو بھلا مجھے کیا پتہ ہو”-وہ فورا انجان بنی تھی-
“یار مگر جہاں تک ہمیں خبر ملی ہے اُس لڑکی کا حلیہ بلکل تمہارے جیسا تھا”-عائشہ نے اُس کے رنگ اُڑے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا-
“ہاں میں نے توڑی ہے اُس لمبو کی ناک۔۔۔۔تو”-وہ ذیادہ دیر اُن سے چھپا نہیں سکی تھی-لڑاکا انداز میں چلا کر پوچھا تو عائشہ نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے-
“ظالم لڑکی اتنا ظلم کیوں کیا بیچارے فہد بھائی پہ۔۔۔”-حارث کو فہد سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی-
“شکر کرو ابھی تک تو صرف ناک کی ہڈی توڑی ہے ورنہ تو میرا اُس کا سر پھاڑنے کو دل چاہ رہا تھا”-وہ دانت پیستے ہوئی بولی تو اُس کے ارادے جان کہ حارث نے کانوں کو ہاتھ لگائے-
“ہانی تمہیں پتہ فہد بھائی کی ناک سوج کر بلکل پکوڑے کی طرح ہو گئی ہے اور رنگ تو اُس کا سٹرابری کو بھی مات دے رہا ہے”-حارث کے تصور میں فہد کی سوجی ہوئی سرخ ناک آ گئی-اُس کے نزدیک فہد اِس وقت دنیا کا مظلوم ترین انسان تھا-وہ بڑھ چڑھ کر اُس کی حمایت میں بول رہا تھا-
“کیا واقعی۔۔۔۔۔”-وہ کچھ پریشان ہوئی تھی-مگر فہد کے لئے اِس طرح حارث کا اُس کی سائیڈ لینا اُسے ایک آنکھ نہیں بنایا تھا-
“ہاں یار تم نے خواہ مخواہ ہی بیچارے فہد بھائی پر اِتنا تشدد کیا ہے”-عائشہ بھی بولی تو اُسے سچ مچ افسوس ہوا-
“اب پھر میں کیا کروں؟ “-اُس نے مدد طلب نظروں سے اُن دونوں کو دیکھا-وہ جتنی باہر سے سخت نظر آنے کی کوشش کرتی اندر سے اُتنی ہی نرم تھی-بقول حارث کے چڑیا سے بھی چھوٹا دل ہے اسکا-
“تم اُن کو گھر بلا کر ایک اچھی سی کافی پلاؤ اور معافی مانگ لو”-عائشہ نے اُسے مشورہ دیا-وہ جانتی بھی تھی کہ ہانیہ ایسا کام کبھی نہیں کرے گی پھر بھی مفت کے مشورے سے نواز دیا-
“کافی کے حصے کا میں منہ نہ توڑ دوں اُس لمبو کا”-وہ پھر بگڑی تھی-اب وہ اُس لمبو سے معافی مانگے گی-بھلا یہ کہاں لکھا تھا-
“ناک توڑنے پہ تو اُنہوں نے تمہیں معاف کر دیا ہے مگر منہ توڑنے پہ سیدھا جیل میں ڈال دیں گے”-حارث نے اُسے ڈرایا تھا-
“کیوں اُس کے باپ کی جیل ہے جو اویں ڈال دے گا”-وہ بنا سوچی سمجھے بول گئی تھی-عائشہ نے بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹا تھا-
“ہاہاہاہا۔۔۔۔اُن کے باپ کی نہیں بلکہ یوں سمجھ لو اُن کی اپنی جیل ہے”-حارث نے قہقہ لگاتے ہوئے بتایا-
“کیا مطلب؟ “-اُس نے ہونقوں کی طرح منہ کھولتے ہوئے پوچھا-
“مطلب یہ کہ فہد بھائی ڈی ایس پی ہیں”-حارث نے اُس کی انفارمیشن میں اضافہ کیا تھا-
“سچ میں ۔۔۔۔”-ہانیہ نے تصدیق چاہی تھی-وہ اب تک نے یقین تھی کہ وہ ایک ڈی ایس اپی کی ناک توڑ آئی تھی-
“جی جناب سو فیصد سچ۔۔۔۔فہد بھائی پولیس میں ہیں”-عائشہ نے ہنستے ہوئے اُسے بتایا-
“ویسے ہانی یہ تو بتاؤ تم نے اتنا بڑا ظلم اُن پر ڈھایا کیوں آخر؟ “- حارث کو اچانک یاد آیا تو فورا پوچھا-
“میں ٹیرس پہ کھڑی کافی پی رہی تھی تو اُس لمبو نے میری تصویریں بنائی تھیں”-اُس کے ذہن میں وہ لمحہ پھر تازہ ہوا تھا-
“ہاہاہا فہد بھائی کی نیچر سے محبت تو آج اُن کو بڑی مہنگی پٍڑی ہے”-حارث ہنسا تھا- “یار تم نے خواہ مخواہ اُن کے ساتھ ایسے کیا وہ تو اتنے اچھے ہیں”-
“ہاں اُن کی اچھائی تو میں نے دیکھ ہی لی ہے زرا سی چوٹ کیا لگ گئی فورا ہمارے گھر شکایت لے کہ آ گئیے-ہائے اب دادا جان میرا کیا حشر کریں گے”-ہانیہ کو نئی فکر لاحق ہوئی تھی-
“او نہیں یار تم غلط سمجھی ہو اُنہوں نے کسی کو تمہاری شکایت نہیں لگائی بلکہ وہ تو میں اُن کے گھر کسی کام سے گیا تھا-اُن کی ناک سوجھی دیکھ کر میں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک ظالم حسینہ کا کارنامہ ہے-جب میرے بار بار پوچھنے پر اُنہوں نے بتایا کہ تمہاری کزن نے کیا ہے تو میں فورا سمجھ گیا کہ ایسی جراءت صرف ہماری ہانی ہی کر سکتی ہے-ویسے ہانی تمہاری ہمت پر میں اُس وقت عش عش کر اُٹھا تھا ایک پولیس افیسر کے گھر میں گھس کر تم نے اُس کی ناک توڑ دی۔۔۔۔تمہارے لیے تالیاں بنتی ہیں”-حارث نے ہنستے ہوئے اُسے ساری تفصیل بتائی تو وہ سچ میں پشیمان ہو گئی-اُس کی شرارتی شکل دیکھ کر بھی اُسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا- اُسے لگا وہ سچ میں لگا ہوا تھا-وہ اتنی بھولی اور بے وقوف تھی کہ وہ اُسے آسانی سے اُلو بنا لیتا تھا-ہانیہ کو آخر تک اُس کک شرارت سمجھ میں نہیں آتی تھی- وہ اُسے زچ کر کے رکھ دیتا-
“دفعہ ہو جاؤ تم”-وہ اپنی خجلت مٹانے کو بولی تو اُن دونوں کے قہقے پھوٹ پڑے اور وہ بیچاری شرمندہ شرمندہ سی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی-اب کئی دنوں تک اُن دونوں نے اِس بات پہ اُس کا ریکارڈ لگانا تھا-ایک چٹخارے دار موضوع اُن کے ہاتھ لگ چکا تھا بیٹھے بیٹھائے وہ بھلا کیوں نہ فائدہ اُٹھاتے-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
شام کے سائے گہرے ہوتے جارہے تھے-دن کو رات کی سیاہ چادر اپنے انچل میں چھپا رہی تھی-ہر طرف ایک عجیب سی خاموشی اور یاسیت چھائی ہوئی تھی-عائشہ ٹیرس پہ بیٹھی جھولا جھولنے میں مگن تھی-ٹیرس اُس کی اور ہانیہ کی پسندیدہ جگہ تھی-وہ دونوں گھنٹوں وہاں بیٹھ کہ گزار دیتیں-یہاں سے ایک تو پورے لان کا منظر نظر آتا تھا اور دوسرا اِس جگہ جھولا لگا ہوا تھا-فارغ وقت میں جھولا جھولنا اُن دونوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا-عائشہ فون کے ساتھ لگی رہتی اور ہانیہ اِدھر اُدھر تانک جھانک کرتی-
ہانیہ کافی کے دو مگ ٹرے میں رکھ کہ وہاں اُس کے پاس چلی آئی-کافی کی وہ دونوں شیدا تھیں-دن میں جتنی پی سکتی تھیں اُتنی پیتی تھیں-گرمی ہو یا سردی وہ کافی کے بغیر ایک دن نہیں گزار سکتی تھیں-
“یہ لو۔۔۔۔”-ہانیہ نے ایک مگ عائشہ کی طرف بڑھایا-عائشہ نے جھولا روک کر کپ تھام لیا-شکریہ کہنے کی زحمت نہیں کی تھی-اُن دونوں کی عمروں میں کافی فرق تھا پھر بھی دونوں کی گاڑھی چھینتی تھی-
ہانیہ اپنا مگ لے کر ریلنگ کے پاس آن کھڑی ہوئی-عائشہ نے کافی کا ایک سپ لیا اور اُس کو دیکھا-ہانیہ کافی بنانے میں جتنی ایکسپرٹ تھی اُتنا شاید ہی کوئی اور گھر میں تھا مگر یہ بات بھی سچ تھی کہ اُسے کافی کے علاوہ انڈا بھی اُبالنا نہیں آتا تھا-وہ ہر کام میں پھوہڑ تھی-اُس کو کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی-وہ ایک نمبر کی کام چور تھی کام کا سن کے ہی اُس کو موت پڑ جاتی تھی-
“حارث کہاں ہے؟”-عائشہ کو یاد آیا اُس نے حارث کو دوپہر سے نہیں دیکھا تھا-ورنہ تو وہ یونی کے بعد کا سارا ٹائم اُن دونوں کا سر کھاتا تھا-آج وہ دوپہر سے غائب تھا تو عائشہ کو اُس کی کمی محسوس ہوئی-
“یار حارث کو کہہ کہ پزا منگواتے ہیں آج میرا پزا کھانے کو بہت دل کر رہا ہے”-عائشہ فاسٹ فوڈ کی دیوانی تھی-آئے روز اُسکا دل للچا رہاہوتا تھا-ہانیہ کو بھی اُس کے ساتھ کھا کھا کر اب ایک طرح سے عادت ہو گئی تھی-
“اُس کا میچ ہے آج یونی سے آتے ہی اُدھر چلا گیا تھا”-ہانیہ نے سرسری سے انداز میں جواب دیا-وہ اندھیرے میں ناجانے کیا کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی-
“علی بھی اکیڈمی ہو گا اِس وقت ورنہ اُسی کو کہتے ۔۔۔۔”-عائشہ کچھ افسردہ ہوئی-
“عاشی ایک بات پوچھوں؟ “-ہانیہ نے کھوئے کھوئے انداز میں استفسار کیا-
“ہممممم پوچھو ۔۔۔۔”-وہ آدھی سے زیادہ کافی پی چکی تھی جبکہ ہانیہ نے بمشکل دو تین سپ ہی لئے تھے-
“کیا اُس لمبو کو واقعی ذیادہ زور سے لگی تھی”-اُس نے پلر سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا-
عائشہ فورا سیدھی ہوئی تھی-
“پہلے تو تم یہ لمبو لمبو کہنا بند کرو ۔۔۔۔اتنا پیارا نام ہے فہد بھائی کا تم وہ نہیں لے سکتی”-عائشہ کو اُس کا لمبو کہنا حیرت میں مبتلا کر گیا-اتنے ہینڈ سم اور خوبرو سے فہد کو اُس نے کیا نام دیا تھا-وہ اُن کی پرسنالٹی سے بہت مرعوب تھی-
“اچھا نہیں کہتی ۔۔۔۔اب بتاؤ”-وہ جرح نہیں کرنا چاہتی تھی اِس لیے بلا تردود مان گئی-
“ہاں یار چوٹ تو لگی تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے”-عائشہ نے ایک ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے کہا تھا-کافی ختم ہو چکی تھی اُس نے جھک کہ کپ نیچے رکھ دیا-
“یار مجھے اُن کے لیے بہت برا لگ رہا ہے پتہ نہیں کتنی زور سے لگی ہو گی”-وہ مسلسل اندھیرے میں دیکھ رہی تھی-ہر گزرتے لمہے کے ساتھ اندھیرے میں اضافہ ہو رہا تھا-
عائشہ فورا اُس کے پاس آئی- “دیکھو ہانی خدا کے واسطے اب یہ مت کہنا کہ تمہیں فہد بھائی سے محبت ہو گئی ہے کیونکہ یہ صدمہ میں برداشت نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔ہو سکتا ہے سن کہ مجھے ہارٹ اٹیک بھی ہو جائے رحم کرنا مجھ معصوم پر پلیز ۔۔۔”-عائشہ نے باقاعدہ اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے-
ہانیہ نے ایک زور دار دھموکا اُس کے بازو پہ جڑ دیا-عائشہ اُسے گھورتے ہوئے اپنا بازو سہلانے لگی-
“مرو جا کہ کہیں تم۔۔۔۔اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے کہ میں اُس لمبو سے ایک ہی دن میں محبت کرنے لگ جاؤں”-وہ برا مناتے ہوئے بولی- “ہانی کے دل میں بس ایک شخص ہے ۔۔۔۔اور اُسی سے وہ محبت کرتی ہے۔۔۔میران شاہ کی جگہ وہ لمبو تو کیا دنیا کا کوئی انسان نہیں لے سکتا”-میران شاہ کے نام پر دل دھڑکا تھا-آنکھوں میں ستارے چمکے تھے-چہرے پر دھنک رنگ بکھر گئے تھے-عائشہ اندھیرے کے باعث دیکھ نہیں پائی تھی-
“پھر ٹھیک ہے۔۔۔”-عائشہ کو کچھ تسلی ہوئی تھی- “اور سنو اتنا زیادہ نہ سوچا کرو ۔۔۔۔ننھا سا تمہارا دماغ ہے اُس پہ بلا وجہ بوجھ نہ ڈالا کرو”-عائشہ کو وہ انمول دل والی خوبصورت لڑکی بہت عزیز تھی-وہ اُسے کسی صورت دکھی نہیں دیکھ سکتی تھی-گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ سب کی لاڈلی تھی اِسی لیے تھوڑی سی بگڑ گئی تھی-اپنے سے کئی سال بڑوں کے بھی نام لیتی تھی-گھر میں سوائے کرن اور ماریہ کے وہ کسی کو اپی نہیں کہتی تھی-ماریہ کا بھی ذیادہ تر نام ہی لیتی تھی-
“نیچے بہت شور ہو رہا۔۔۔میرا خیال ہے حارث آگیا۔۔۔۔چلو آؤ میچ کے جیتنے پر اُس سے ٹریٹ لیتے ہیں”-عائشہ نے اُس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا تو وہ فورا تیار ہو گئی-وہ ایسی ہی تھی چھوٹی سے چھوٹی بات پر دکھی اور خوش ہونے والی-اُس کا چہرہ ایک دم کھل اُٹھا تھا-عائشہ نے دل ہی دل میں اُس کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: