Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 5

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 5

–**–**–

یونیورسٹی کے کیفے میں وہ سب بیٹھے گوش گپیوں میں مصروف تھے-ساتھ ساتھ کوک اور سموسوں سے بھی بھر پور انصاف ہو رہا تھا-میران شاہ البتہ وہاں ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں تھا-چاند نے ایک نظر اُس کے کھوئے کھوئے چہرے پر ڈالی-وہ سوچ سوچ کر ایک طرح سے پاگل ہو گیا تھا کہ آخر میران شاہ کی سوچوں کا سرا کس جگہ اٹک گیا-ہمہ وقت بولنے والے میران شاہ کو ایک دم چپ کیوں لگ گئی ہے-گروپ کے باقی میمبرز نے بھی یہ بات نوٹ کی تھی مگر کسی نے پوچھا نہیں تھا-سب چپ چاپ اُس کے بدلے بدلے انداز نوٹ کر رہے تھے-
“مانی تمہارا برتھ ڈے کہاں سیلیبریٹ کرنا چاہیے تم بتاؤ”-نیہا نے اچانک اُس سے رائے مانگی-وہ چونکا تھا غائب دماغی سے نیہا کو دیکھا-کچھ دن بعد اُس کا برتھ ڈے تھا-وہ سب ٹریٹ کے لئے جگہ پلان کر رہے تھے-
“میں کیا بتاؤں”-وہ بے دلی سے بولا تو نیہا کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی چونکے-نیہا نے اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا جسے میران شاہ نے دھیرے سے نکال لیا-وہ سب سے نظریں چرا رہا تھا-
“تم ٹھیک تو ہو نہ”- نیہا کو تشویش ہوئی تھی-
“ہاں میں ٹھیک ہوں”-وہ مدھم سے لہجے میں بولا-
وہ سب کبھی اُس کو تو کبھی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے-میران شاہ کچھ شرمندہ ہوا-
“ایم ٹوٹلی فائن یار ڈونٹ وری۔۔۔”-اُس نے اُن کو پھر تسلی دی- “اور ٹریٹ کے لئے جو جگہ تم لوگ ڈیسائیڈ کرو گے ہم وہیں چلے جائیں گے”-وہ زبردستی مسکرا کر بولا تھا-کبھی کبھی انسان کتنا بے بس ہوتا-ناچاہتے ہوئے بھی وہ کام کرنے پڑتے ہیں جو دل لاکھ دفعہ چاہنے پر بھی نہیں کرنا چاہتا-اپنوں کی خوشی کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا اِس کا اندازہ اُسے آج ہوا تھا-میران شاہ نے ایک لمبا سانس خارج کیا-
“گائز اِس کو چھوڑو ہم خود ڈیسائیڈ کر لیتے ہیں”-چاند کو وہ بہت ڈسٹرب لگا تھا-
باقی سب نے پھر خود ہی مل کر سب کچھ فائنل کر لیا تھا-
“میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں آپ لوگ باتیں کریں”-میران شاہ کو اُس ماحول سے وحشت ہونے لگی تو اُس نے وہاں سے اُٹھنے کافیصلہ کیا-وہ اُن سب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی چلا گیا-نیہا نے حیرت سے چاند کو دیکھا تو اُس نے لا تعلقی سے کندھے اچکا دیے-وہ خود کچھ نہیں جانتا تھا-
“جاؤ پوچھو کیا ہوا اِس کو”- نیہا نے چاند کو بھی اُس کے پیچھے جانے کے لئے کہا کیونکہ وہ جانتی تھی اگر کوئی بات ہوئی بھی تو وہ بس اُسی کو بتائے گا-باقی کسی کا جانا اور پوچھنا فضول تھا-چاند سر ہلاتے ہوئے اُس کے پیچھے بھاگا-کچھ دور ہی اُسے جا لیا-
“اُوئے ہیرو رکو تو۔۔۔”-اُس نے کچھ دور سے ہی اُسے آواز دی-میران شاہ البتہ چلتا رہا-چاند ہانپتا کانپتا اُس تک پہنچا-
“کیا ہوا ہے؟ “-وہ اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-میران شاہ کے قدموں میں سستی آگئی تھی-
“نتھنگ۔۔۔”-وہ بیگ کو دوسرے کاندھے پر منتقل کرتے ہوئے سرسری انداز میں بولا-
“تو منہ پر بارہ کیوں بجائے ہیں۔۔۔۔”-چاند نے اُسے پکڑ کر روکا-وہ دونوں اب آمنے سامنے کھڑے تھے-
“ویسے ہی۔۔۔”-وہ لاپرواہی سے بولا تھا-
“کون ہے وہ؟ “-چاند نے بنا اِدھر اُدھر کی بات کیے مطلب کی بات پوچھی-
“تیری ہونے والی بھابھی۔۔۔۔”-میران شاہ کچھ لمہے اُس کو دیکھتا رہا پھر سنجیدگی سے کہہ کہ آگے بڑھ گیا-
“ہیںں۔۔۔۔”-وہ ایک منٹ تو کچھ سمجھ ہی نہ سکا تھا۔۔۔اور جب سمجھ آئی تو اُس کے پیچھے بھاگا-
“یار رک تو سہی۔۔۔۔”-چاند نے اُسے آواز دی مگر وہ سنی ان سنی کرتا چلا گیا-
“کچھ نہیں ہو سکتا اس کا۔۔۔۔اب پتہ نہیں کیا نیا گل کھلایا ہے”-وہ بڑبڑاتا ہوا واپس مڑا-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں
ہائے چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں
یاد پیا کی آنے لگی
ہائے بھیگی بھیگی راتوں میں
کپڑے نچوڑتی ہانیہ لہک لہک کر گا رہی تھی-ساتھ ساتھ ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں بھی کھنک رہی تھیں-اُس نے اور عائشہ نے مشین لگا رکھی تھی-عائشہ کپڑے پھیلانے لان میں گئی ہوئی تھی اور اُسے کنگھالے ہوئے کپڑے نچوڑنے کے لیے بول کر گئی تھی مگر ہانیہ بی بی کام کم رہی تھیں اور گلا پھاڑ پھاڑ کر گا زیادہ رہی تھیں-پورے گھر میں اُس کی آواز گونج رہی تھی-وہ ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی-
ٹھنڈی ٹھنڈی بون چلی
تن من میں ہائے آگ لگی
تیرے پیار کی چنگاری
انگ انگ میں ہائے میرےجلی
رم جھم سی برساتوں میں
یاد پیا کی آنے لگی
ہائے بھیگی بھیگی راتوں میں
چوڑی جو کھنکی۔۔۔۔ابھی یہ فقرہ اُس نے بولا ہی تھا جب کمر پر کرن کا زور دار تھپڑ پڑا-گیلے کپڑے ہاتھوں سے گر گیے-وہ شاکی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی-
“ہاتھوں میں ۔۔۔۔”-گانے کا اگلا جملا اُس نے تھپڑ کھانے کے باوجود بھی منہ میں ادا کیا-
“کس کی یاد ستا رہی ہے تمہیں ۔۔۔۔”-اُس نے نیچے سے سفید کپڑے اُٹھاتے ہوئے غصے سے پوچھا-
“میران شاہ کی۔۔۔۔”-وہ صرف سوچ سکی تھی بولنے کی جرات نہیں کی تھی-
“اپی کسی کی بھی نہیں۔۔۔۔مم میں تو گانا گا رہی تھی بس۔۔۔۔”-اُس نے اپنی کمر سہلاتے ہائے منمنا کر جواب دیا-تھپڑ اچھا خاصا زور سے پڑا تھا-
“چوبیس گھنٹے تو منہوس انڈین گانے سنتی رہتی ہو تو وہی پھر زبان پر بھی رہیں گے نہ۔۔۔ہانی تم نے کسی دن میرے ہاتھوں قتل ہو جانا ۔۔۔سدھر جاؤ”-کرن نے سارے کپڑے ٹب میں رکھتے ہوئے کہا- “نہوست پھیلا رکھی ہے ہر طرف”-وہ بڑبڑاتی ہوئی واپس جانے لگی-
“اور دیہان سے سنو اب تمہاری آواز آئی نہ تو میں بہت بری طرح پیش آؤں گی تمہارے ساتھ یاد رکھنا”-اُس نے جاتے جاتے وارننگ دی-
“جی اچھا”-وہ منہ بنا کر بولی تو کرن اُسے گھورتی ہوئی چلی گئی-
عائشہ واپس آئی تو اُسے بت بنا دیکھ کر حیران ہوئی-
“تمہیں کیوں سانپ سونگھ گیا”-اُس نے ہانیہ کو کہنی مارتے ہوئے پوچھا-
“سانپ نہیں کرن اپی سونگھ گئی ہیں”-دکھ سی آواز میں جواب آیا-
“ہائیں ۔۔۔کیا کہہ رہی ہو”-عائشہ کے کچھ بھی پلے نہ پڑا-
“سچ کہہ رہی ہوں”-وہ دوبارہ سے کپڑے نچوڑنے لگی-عائشہ بھی اُس کا ساتھ دینے لگی- “عاشی تم کرن اپی جیسی ہٹلر بہن کے ساتھ کیسے گزارا کر لیتی ہو؟”-اُس نے سفید کپڑے الگ کرتے ہوئے پوچھا-
“ہوا کیا یہ تو بتاؤ؟”-عائشہ نے ناسمجھی سے پوچھا-
“بس کچھ مت پوچھو۔۔۔۔میں اپنی سریلی آواز میں ایک خوبصورت گانا گا رہی تھی تو اوپر سے کرن اپی آگئیں-اُس کے بعد تمہیں پتہ ہی ہے پھر کیا ہوا ہو گا”-وہ معصومیت سے بولی تو عائشہ کی ہنسی نکل گئ-
“توبہ ہے ہانی ۔۔۔۔تمہیں کس نے کہا تھا کہ یوں سرِ عام گلا پھاڑو”-وہ مسکراتے ہوئے بولی تو ہانیہ نے اُسے گھورا-
“کسی کو میرے ٹیلنٹ کی قدر ہی نہیں ہے۔۔۔”-اُس کا چہرہ اتر گیا- “ارے مستقبل کی مشہور سنگر ہوں۔۔۔میں یعنی ہانیہ شفیق۔۔۔۔”-وہ کام چھوڑ کر پُرجوش انداز میں بولی-
“ہاہاہاہا۔۔۔جب تم نے گانا شروع کیا تو باقی سب سنگروں کی چھٹی ہو جائے گی”-عائشہ اُس کی خوش فہمیوں پر مسکرائی تھی-
“تم تو چپ ہی رہو۔۔۔ہٹلر کی بہن۔۔۔”-وہ منہ بنا کر بولی- “ہنہہ بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔۔۔تمہیں کیا پتہ اصلی سنگر کیسا ہوتا”-
وہ بھی کہاں ہار ماننے والوں میں سے تھی- اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے وہ گھنٹوں کسی سے بھی بحث کر سکتی تھی-
“ہاہاہاہا۔۔۔۔مستقبل کی سنگر ہانیہ صاحبہ پلیز کپڑےدھونے پہ فوکس کریں ورنہ کرن اپی آپ کی اچھی والی کلاس لیں گی-عائشہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا-اُس نے کپڑے بالٹی میں رکھے اور پھیلانے چلی گئی-
“ان سب کو کیا پتہ ہانیہ شفیق کیا چیز ہے۔۔۔۔دنیا کے موسٹ ٹیلنٹیڈ لوگوں میں میرا شمار ہوتا۔۔۔۔اور اِدھر کسی کو قدر نہیں”-وہ بڑبڑاتے ہوئے پھر کام کرنے لگی- “ٹینشن نہ لو ہانیہ اِن سب کو کیا پتہ میرے بارے ميں ۔۔۔۔”-اُس نے خود کو تسلی دی-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
ہانیہ کیاری میں پانی والا پائپ رکھے خود کرسی پر براجمان تھی-ٹانگیں سامنے میز پر پھیلا رکھی تھیں-پانی کیاری سے نکل نکل کر اب لان کی گھاس پہ گر رہا تھا-مگر ہانیہ کا دیہان اُس طرف ہوتا تو وہ دیکھتی نہ-
دھوپ کی وجہ سے چہرہ پسینے میں تر تھا-
گیٹ سے اندر داخل ہوتے فہد کی نظر اُس پڑی تو وہ وہیں رُک گیا-کتنے ہی لمہے اُس کی طرف دیکھتا رہا-تبھی دھیرے دھیرے چلتا ہوا اُس تک آیا-ہانیہ خود میں اتنی مگن تھی کہ اُس کے آنے کی خبر ہی نہ ہوئی-فہد اُس سے کچھ فاصلے پہ کھڑا اُس کو یک ٹک دیکھ رہا تھا-تبھی اُسے اپنے پیروں پر گیلا پن محسوس ہوا-اُس نے چونک کر نیچے دیکھا-کیاری پانی سی بھر چکی تھی اور اب فالتو پانی باہر اِدھر اُدھر پھیل رہا تھا-آس پاس کوئی بھی موجود نہیں تھا-اُس نے آگے ہو کر پائپ پکڑ کر ساتھ والی کیاری میں ڈال دیا-ہانیہ اب بھی متوجہ نہیں ہوئی تھی- فہد نے ہلکا سا گلا کھنکارا-ہانیہ ایک دم سیدھی ہوئی-پھر بنا اِدھر اُدھر دیکھے ٹیک لگا لی-
“ملکہ عالیہ کے دربار میں حاضر ہوا جائے-وہ کب سے آپ کو یاد فرما رہی تھیں”-وہ ایک ہاتھ ہوا میں لہرا کر ایک ادا سے بولی-اُسے لگا حارث ہے-
فہد کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آگئی-وہ اُس کے سامنے آگیا-آنکھیں بند کیے وہ کسی ملکہ کی طرح بیٹھی تھی-رف سے حلیے میں بھی وہ بہت دلکش لگ رہی تھی-فہد مرتضی نے ایک پیار بھری نگاہ اُس پہ ڈالی-
“جی مادام۔۔۔۔”-وہ مودب ہو کہ بولا تھا-
“ہیںں یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا”-ہانیہ نے بھنویں اچکا کر حیرت کا اظہار کیا-دیکھنے کی زحمت اب بھی نہیں کی تھی-
“کیا ہوا؟ “-فہد نے مسکراہٹ دبا کر اُلٹا اُسی سے پوچھا-
ہانیہ نے اب فورا آنکھیں کھولیں تھی-سامنے کھڑے فہد کو دیکھ کر وہ ایک دم گھبرا گئی-
“لمبو۔۔۔۔”-بے ساختگی میں منہ سے پھسل گیا؛ دوپٹہ فورا سیدھا کیا تھا-
“جج جی کیا کہا آپ نے۔۔۔۔میں سمجھا نہیں”-فہد کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا-
“اچھا ہوا نہیں سمجھے۔۔۔”-اُس نے منہ میں ہی آہستگی سے کہا اور کرسی سے اُٹھ کہ کھڑی ہو گئی-
“آپ یہاں کیسے آئے ہیں؟ “-اُس کی موجودگی کا خیال آیا تو فورا پوچھا-
“دروازے سے آیا ہوں۔۔۔۔دیورایں کافی اونچی ہیں ورنہ پھلانگ کر آجاتا”-وہ شوخ ہوا تھا-جیسا سوال آیا تھا ویسا ہی جواب دیا گیا تھا-ہانیہ گڑبڑا گئی-جلدی میں ناجانے کیا منہ سے نکل گیا تھا-
“نہیں میرا مطلب ہے کہ آپ کس کام سے آئے ہیں؟ “-اپنی بات کی وضاحت کی مبادا وہ کچھ غلط ہی نہ سمجھ لے-
“میں آپ کے دادا جان سے ملنے آیا ہوں”-اُس نے نرمی سے جواب دیا-
“تو جائے ملیے جا کہ۔۔۔۔”-وہ اندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی-
فہد ایک مسکراہٹ اُس کی طرف اچھال کر آگے بڑھ گیا-
“سنیے۔۔۔۔”-اُس نے پیچھے سے پکارا-وہ رک گیا-
“جی جی سنائے۔۔۔”-فہد نے شرارت سے جواب دیا-
“آپ کی ناک صحیح ہو گئی؟ “-اُس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا-
“جی ہو گئی۔۔۔آپ دوبارہ حملہ کر سکتی ہیں”-وہ شرارت سے بولا تو ہانیہ پر گھڑوں پانی آن پڑا-
“کیا ہوا؟ “-اُسے گم سم دیکھ کر فہد نے استفسار کیا-
کچھ نہیں آپ جائیے یہاں سے”-وہ رُخ موڑ گئی-
فہد کچھ دیر کھڑا اُس کی پشت کو دیکھتا رہا-اُس کی چوٹی کے بلوں میں اُس کا دل اُلجھنے لگا-جزبات پر قابو پانا جب مشکل ہو گیا تو اُس نے اپنے قدم اندر کی جانب بڑھا دیے-
!،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،!
ہانیہ کچن میں داخل ہوئی تو کرن اور عائشہ دونوں وہاں تھیں-وہ دبے پاؤں عائشہ کے پیچھے جا کھڑی ہوئی-عائشہ نے مڑ کہ دیکھا اور ہلکی سمائل دے کر پھر اپنےکام میں مگن ہو گئی ہو-کرن نے بھی ایک سرسری نگاہ اُس پر ڈالی تھی-
“کیا کر رہی ہو؟ “-ہانیہ نے اُس کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں پوچھا-
“فہد بھائی آئے ہوئے ہیں اُن کے لئے چائے بنا رہی ہوں”-وہ بھی جواباً اُسی سرگوشی میں بولی تھی-
“وہ لمبو کیوں آیا ہے؟ “-ہانیہ نے منہ بناتے ہوئے پوچھا-
“ایسے نہیں کہتے ہانی ۔۔۔وہ مہمان ہیں”-عائشہ نے اُسے پیار سے سمجھایا تو وہ آگے سے چپ رہی-
“ہانیہ یہ پیاز کاٹ دو شاباش “-کرن اپی نے چھیلے ہوئے پیازوں والی پلیٹ اُس کی طرف بڑھائی-
“مم میں ۔۔۔”-اُس نے منمناتے ہوئے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کر کے تصدیق چاہی-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: