Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 6

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 6

–**–**–

“کیوں تمہیں کیا۔۔۔”-کرن نے اُسے گھورا تو ہانیہ گڑبڑا گئی-
“کک کچھ نہیں ۔۔۔۔لائیں میں کاٹ دیتی ہوں”-اُس نے فورا پلیٹ تھام لی-عائشہ زیرِ لب مسکراتی رہی-ہانیہ کا بس نہیں چل رہا تھا اُس کو کچا کھا جاتی وہ اُس کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہی تھی-
“عائشہ چائے بن گئی؟ “-کرن اپی نے سینک پہ ہاتھ دھوتے ہوئے عائشہ سے پوچھا-
“جی اپی بن گئی”-وہ چائے کپ میں انڈیل رہی تھی-کرن دوپٹے کے پلو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے اُس کے پاس آئی-اُس نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھ کر کرن کو تھمایا-ہانیہ بت بنی کھڑی تھی-پیاز کاٹنا اُس کے نزدیک دنیا کا مشکل ترین کام تھا-انسان بلا وجہ ہی اپنی آنکھوں پر اِتنا ظلم ڈھاتا ہے-یہ اُس کے اپنے نادر خیالات تھے-
“تم میرے آنے تک بریانی کا مصالحہ تیار کرو میں فہد کو چائے دے آؤں-کب سے بیٹھا ہے بیچارا”-اُنہوں نے ٹرے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تو عائشہ نے اثبات میں سر ہلا دیا-
“ہانی تم بھی زرا تیز ہاتھ چلاؤ”-جاتے جاتے اُسے بھی ہدایت کی جو چھری ہاتھ میں لیے دنیا کی مسکین ترین مخلوق نظر آرہی تھی-
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔”-کرن کے جاتے ہی عائشہ کی ہنسی کا فوارا چھوٹ گیا-ہانیہ نے چھری کا دستہ اُس کے بازو پہ دے مارا-عائشہ تھوڑا پیچھے ہوئی تھی-
“کچھ شرم کرو۔۔۔۔میرا مزاق اُڑا رہی ہو تم”-وہ قدرے ناراض ہوئی تھی-عائشہ پیٹ پکڑے مسلسل ہنس رہی تھی-
“تمہارا کیا بنے گا ہانی۔۔۔۔تمہیں کوئی کام نہیں آتا کرنا۔۔۔۔کیا کرو گی سسرال جاکر”-عائشہ نے اُس کو بڑی بوڑھیوں کی طرح طعنہ مارا-
“مجھے کافی بنانی آتی ہے”-اُس نے بڑے فخر سے بتایا-
“اپنے میاں کو پوری زندگی کافی ہی پلاتی رہو گی”-وہ اُس کے قریب آتے ہوئے بولی-
“کھانا ہم ہوٹل سے منگوا لیں گے”-وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی-اگلے بندے کو چپ کروا دیتی تھی خود نہیں ہوتی تھی-ہر سوال کا اُس کے پاس تیار شدہ جواب ہوتا تھا-
“تم خود کچھ مت سیکھنا”-عائشہ نے اُس کے خیالات پر تاسف کا اظہار کیا-
“جب میرا ٹائم آئے گا سیکھ لوں گی تو میری ٹینشن نہ لیا کر”-وہ اُسے تسلی دیتے ہوئے بولی-
“اور تیرا ٹائم کب آئے گا؟ “-عائشہ نے بھنویں اچکا کر پوچھا-وہ ساتھ ساتھ بریانی کے لیے مصالحہ جات گرینڈ کر رہی تھی-
“وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی۔۔۔ابھی تم یہ پیاز کاٹ دینا”-اُس نے اُس کے ہاتھ میں موجود سامان کو لے کہ نیچے رکھا اور چھری پکڑا دی-پلیٹ بھی اُس کے آگے رکھ دی جس میں چھیلے ہوئے پیاز تھے-
“مگر تم کہاں جا رہی ہو؟ “-وہ حیران ہوئی-
“میرا فیورٹ شو آنے والا وہ دیکھوں گی”-اُس نے جلدی جلدی میں جواب دیا-
“ہانی پر میں بھی تو دیکھنا”-عائشہ نے منہ بنا کر کہا-
“تجھے میں سٹوری سنا دوں گی۔۔۔۔تو بس پیاز کاٹ دینا”-وہ اُس کا کاندھا تھپتھپا کر بولی- “اور سن کرن اپی کو کہنا ہانیہ نے کاٹا”-کچن کے دروازے میں رک کر اُسے یاد دہانی کروائی-
“ہاہ۔۔۔۔کام بھی میں کروں اور جھوٹ بھی میں بولوں۔۔۔۔یہ تو چیٹنگ ہے”-اُس نے دہائی دی مگر وہ سنی ان سنی کرتی بھاگ گئی-
!——————-!
“ہانی سو گئی ہو؟ “-عائشہ نے آنکھوں پہ بازو رکھے اونگھتی ہانیہ سے پوچھا-
“اوں۔۔۔۔”-وہ آدھی نیند میں تھی-پتہ نہیں سنا بھی تھا یا نہیں-
“کیا اوں۔۔۔۔میں پوچھ رہی ہوں سو گئی ہو”- وہ اُسے دونوں ہاتھوں سے ہلاتے ہوئے بولی-
“کیا تکلیف ہے”- اُس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے اُسے گھورا-
“مجھے تم سے بات کرنی ہے”-وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی-تکیہ اُٹھا کر گود میں رکھ لیا-
ہانیہ نے پھر آنکھوں پربازو رکھ لیا تھا-
“کرو باتیں میں سن رہی ہوں”-وہ جانتی تھی کہ اُس نے اپنی بات سنائے بغیر اُس کی جان نہیں چھوڑنی-چاہے کچھ ہو جائے-
“میں فارحہ کی مہندی کے لیے تمہارا ماریہ اپی کی مہندی والا لہنگا لے لوں؟ “-عائشہ کی آنکھوں کے سامنے پیلے اور سبز رنگوں کے امتزاج والا خوبصورت لہنگا آگیا-فارحہ اُس کی کلاس فیلو اور دوست تھی-جسکی کچھ دن بعد شادی تھی-
“ہاں لے لو”-وہ بنا کسی تردود کے مان گئی تھی-عائشہ ایک دم خوش ہو گئی-
“تھینک یو میری پری”-اُس نے چمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ کہا-
“ہاں مگر اُسے پہننا مت۔۔۔۔”-ہانیہ نے آنکھیں موندے موندے ہی کہا-
“اچھا ٹھیک ہے”-وہ جلدی میں بول گئی تھی-اُس کی بات پر غور نہیں کیا تھا-خوشی سے بیڈ سے نیچے اُترنے لگی تو دماغ میں اُس کا جملا دوبارہ گونجا-
“ہانی۔۔۔۔۔”-عائشہ چلائی تھی- ہانیہ نے قہقہ لگایا تو عائشہ نے اُس پرتکیے برسانے شروع کر دیے- “کتنی تم چالو چیز ہو”-وہ اپنے حملے سے بچتی ہانیہ کو دیکھ کر غصے سے بولی-
“یار تم نے لینے کا بولا تھا پہننے کا کب کہا تھا-ہانیہ اُس کے ہاتھ سے تکیہ کھینچ کر معصومیت سے بولی تھی-
“جاؤ میں تم سے بات نہیں کروں گی”- وہ اُس سے ناراض ہوئی-بیڈ سے اُترنے لگی تو ہانیہ نے فورا روکا-
“یار مزاق کر رہی تھی ۔۔۔سوری”- وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئےاُسے منانے لگی- “تم پہن لینا بیشک”-کھلے دل سے آفر کی-
“اچھا چلو معاف کیا مگر میں وہ لہنگا پکا پکا لوں گی”-عائشہ نے گویا اُس پہ احسان کیا تھا-
“تم ناراض ہی رہو”-وہ اُسے پرے دھکیلتے ہوئے بولی-
“ہانی میری پیاری بہن”- عائشہ نے اُس کی منت کی-
“کوئی بہن نہیں ۔۔۔تم پرے ہٹو نہ زرا”-وہ اُس کی چالاکی سمجھ گئی تھی-
عائشہ اُس کے گلے لگ گئی-ہانیہ نے اُس کو گھورا-کچھ دیر کے مسکوں کے بعد اُس نے ہانیہ کو بالاآخر راضی کر ہی لیا-
“میری چیزوں پہ ہی نظریں ہوتی ہیں تمہاری ۔۔۔بدتمیز کہیں کی”-وہ مصنوعی غصے سے بولی تو، عائشہ کھلکھلا پڑی-
“چلو اِسی خوشی میں تمہیں میں اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے کافی پلاتی ہوں”-عائشہ نے اُس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا-وہ جانتی تھی ہانیہ فورا خوش ہو جائے گی-اور وہی ہوا تھاوہ تیار ہو گئی تھی-
“سنو کافی پہ چاکلیٹ سے دل بھی بنا کر لانا”-اُس نے دوبار لیٹتے ہوئے کہا تو جوتا پہنتی عائشہ رک گئی-
“کس کا دل؟ “-عائشہ نے اُس کو گھورا-
“میران شاہ کا۔۔۔۔”-وہ شرارت سے بولی تو عائشہ تاسف سے اُس کو دیکھتی باہر نکل گئی-ہانیہ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کیں تو چھم سے کسی کا چہرہ تصور میں اُتر آیا-
!————————!
فہد راکنگ چئیر پہ ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھا ہوا تھا-تصور میں وہ آئی تو لب خود بخود مسکرا اُٹھے-ہمہ وقت سنجیدہ رہنے والے فہد مرتضی کو ہانیہ شفیق نے مسکرانا اور خوش ہونا سیکھا دیا تھا-وہ کرسٹل کی گڑیا اُس کے حواسوں پر چھاتی جا رہی تھی-فہد مرتضی کے دل و دماغ پر ہر طرف اُس کا قبضہ تھا-اُس کی آنکھوں میں ہانیہ شفیق کی تصویر بس گئی تھی-اُس کے دل پر ہانیہ شفیق کانام ہمیشہ کے لیے لکھا جا چکا تھا-اُس کے دماغ پر ہانیہ شفیق کک حکمرانی تھی-وہ اُس کی سوچوں پر مکمل طور پر قابض ہو چکی تھی-فہد مرتضی تو خود میں کہیں بھی نہیں تھا-ہر طرف ہانیہ شفیق ہی تو تھی-
مریم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں-حیرت سے اپنے پیارے بیٹے کے لبوں پہ سجی مسکان دیکھی-یہ مسکان کوئی ایسی ویسی نہیں تھی-کوئی بہت خاص بات تھی-
“یہ رہی تمہاری کافی”-مریم نے بلیک کافی کا بڑا سا مگ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تو وہ چونکا فورا آنکھیں کھول کر اُن کو دیکھا-
“بیٹھیں نہ ماما۔۔۔۔”-اُس نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا-
مریم بیڈ پر بیڈ گئیں-فہد کافی کا کپ لے کہ نیچے قالین پر اُن کے قدموں میں بیٹھ گیا-مریم نے پیار سے بیٹے کو دیکھا-
“آپ اپنی کافی نہیں لائیں؟ “-وہ اُن کے گھٹنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھنے لگا-
“میں بلیک کافی نہیں پی سکتی تم ہی پیو یہ کڑوا زہر”-اُنہوں نے منہ بناتے رہے کہا تو فہد ہنس پڑا-مریم نے دل ہی دل میں ماشاء اللہ کہا-
فہد کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لینے لگا-مریم پیار سے اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں-فہد کے اندر تک سکون اُترتا گیا-دنیا میں اُسے دو چیزوں کی ہی بس ضرورت تھی ایک اپنی ماما کا پیار اور دوسرا بلیک کافی جس کے بغیر وہ کبھی رہ ہی نہیں سکتا تھا-
“کیا بات ہے بہت خوش رہنے لگے ہو۔۔۔۔۔”-اُنہوں نے محبت پاش نظروں سے بیٹے کو دیکھا-دنیا میں اُن کے جینے کی وجہ ہی بس وہ تھا-
“اچھی بات نہیں ہے یہ تو۔۔۔”-وہ دھیمی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بولا تھا-
“اچھی نہیں بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔”-وہ اُس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں- “لیکن یہ تبدیلی اچانک کیسے آئی ہے ۔۔۔۔کون ہے وہ”-اُنہوں نے اُس کی آنکھوں میں وہ راز پالیا تھا جو اُس کے مسکرانے کا سبب تھا-
“حارث کی کزن ہے”-فہد اُن سے کچھ نہیں چھپاتا تھا-وہ واحد ہستی تھی اُس کی زندگی میں جس سے وہ اپنی ہر بات بلا جھجک شئیر کر لیتا تھا-
“بہت پیاری ہے کیا؟ “-اُنہوں نے بیٹے کے چہرے پر پھیلے محبت کے رنگ دیکھتے ہوئے پوچھا-
“بلکل گڑیا جیسی ہے ماما”-اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ لمہہ آیا جب پہلی بار دیکھا تھا- “لیکن غصے والی بہت ہے۔۔۔۔اگلے بندے کو چپ کروا کہ رکھ دیتی ہے۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پہ مرنے مارنے پہ تل جاتی ہے “- وہ اُس کے بارے میں اُن کو بتانے لگا-مریم مسکراہٹ لبوں پہ سجائے اُس کو سن رہی تھیں-
“کیا خیال ہے پھر لے نہ آئیں اُسے اِس گھر میں ۔۔۔”- اُنہوں نے شرارت سے پوچھا تو فہد نے شرماتے ہوئے سر کھجایا-
“ابھی بہت چھوٹی ہے وہ ماما۔۔۔۔اُس کے گھر والے اتنی جلدی نہیں مانیں گے”-فہد کو یاد آیا ابھی تو وہ سیکنڈ ائیر کے پیپرز سے فری ہوئی تھی-
“چلو ٹھیک ہے تھوڑا انتظار کر لیتے ہیں لیکن میں کل ملنے جاؤں گی اُس سے اور دیکھوں گی کہ آخر کیسی ہے وہ گڑیا جس نے میرے بیٹے کو ہنسنا سکھا دیا”-مریم نے اُس کے ہاتھ سے کافی والا خالی مگ لے کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھ دیا-
“جی ضرور جائے گا”- وہ اُن کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا-
“چلو اب سو جاؤ شاباش بہت رات ہو گئی ہے صبح ڈیوٹی پہ بھی جانا ہے تم نے”-اُنہوں نے اُس کا ماتھا چوم کر اُسے اُٹھایا- فہد سستی سے اُٹھ کر بیڈ پر لیٹ گیا-مریم نے اُس کے اوپر کمبل ڈالا-کھڑکی کے پردے برابر کیے اور اے سی آن کر دیا-
وہ گڈ نائٹ کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں-فہد نے آنکھیں بند کر لیں-ہانیہ بند آنکھوں کے پیچھے مسکراتی ہوئی دکھائی دی-
“آئی لو یو سو مچ ہانی۔۔۔۔”-فہد نے بند آنکھوں سے ہی مسکراتے ہوئے کہا اور تکیا بانہوں میں لیتے ہوئے کروٹ لی-
!————————-!
کمپیوٹر کی کلاس ختم ہوئی تو وہ دونوں لان میں آگیے-گرمی کی شدت کل ہونے والی بارش سے کسی حد تک ٹوٹ چکی تھی-موسم بہت ذیادہ تو نہیں مگر تھوڑا بہت تبدیل ہو رہا تھا-
“اففف کتنی بورنگ کلاس تھی”-میران شاہ گھاس پر بیٹھتے ہوئے بولا-
“کلاس بورنگ نہیں تھی سر بورنگ تھے”-چاند اُس کے سامنے ہی بیٹھ گیا-بیگ درمیان میں رکھ لیا-
“بات تو ایک ہی ہے”-میران شاہ کا موڈ کسی حد تک خراب تھا-
“اچھا خیر چھوڑو جیسی بھی تھی جو بھی تھی گزر تو گئی نہ-ایک ہفتے کے کیے جان چھوٹی”-چاند نے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے ماتھے سے پیچھے کیا-
“تم مجھے یہ بتاؤ کل کیا بکواس کی تھی”-چاند نے سیدھے ہوتے ہوئے اُس سے پوچھا-
وہ آج اُس سے راز اگلوا کر ہی دم لینا چاہتا تھا-
“کونسی بات ۔۔۔۔”-وہ انجان بنا-
“ڈرامے نہ کرو انسانوں کی طرح بتاؤ”-وہ اُسے گھورتے ہوئے بولا تو میران شاہ سر کھجانے لگا-
“وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے یار ۔۔۔”-وہ گھاس کا تنکا نوچتے ہوئے بولا-
“کون۔۔۔۔؟”-چاند نے اِس آدھی ادھوری بات پر اُس کو گھورا-
“ظاہر سی بات ہے لڑکی ہی ہے”-میران شاہ کو اُس کی کم عقلی پر افسوس ہوا-
“مجھے بھی پتہ لڑکی ہی ہو گی۔۔۔۔مگر ہے کون؟ “-
“ماریہ بھابھی کی کزن ہے ہانیہ نام ہے اُسکا شاید”-اُسنے گھاس کا ایک اور تنکا نوچ کہ دور پھینکا-
“صاف صاف لفظوں میں یہ کہ تمہیں محبت ہو گئی ہے”-چاند نے سنجیدگی سے کہا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: