Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 7

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 7

–**–**–

“ہاں ۔۔۔۔”-وہ بلا تمہید اقرار کر گیا تھا-
چاند کتنے ہی لمہے اُس کی طرف دیکھتا رہا-
“تم سیریس ہو؟ “-اُس نے ایک لمبا سانس خارج کیا ناجانے کیوں کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا-مگر وہ کچھ بھی بولنے سے پہلے اُس کا جواب سننا چاہتا تھا-
“اف کورس یار سو فیصد سیریس ہوں”-وہ اپنے دیہان میں تھا-ورنہ چاند کی اتنی سنجیدگی ضرور نوٹ کرتا-اُس کی آنکھوں میں اُترنے والے رنگوں نے چاند کو خوف میں مبتلا کر دیا تھا-
“چیٹنگ کر رہے ہو”-وہ اُس کو پرکھ رہا تھا-دل میں خیال تھا کہ شاید کہہ دے ہاں میں ایسا ہی کر رہا ہوں-کسی کی زندگی کا سوال تھا-کسی معصوم کے ساتھ ذیادتی ہو رہی تھی-بنا کسی جرم کے ہی کسی کو سزا ملنے والی تھی-
“تمہیں لگتا میں چیٹنگ کر سکتا ہوں؟”-اُس نے لفظوں پہ زور دیتے ہوئے اُسی سے اُلٹا پوچھا تھا-انگلی کی مدد سے اپنی طرف اشارہ کیا تھا-چاند کا الجھا انداز اُس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا-
“تو پھر یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ “-چاند کے چہرے پر سنجیدگی ہنوز برقرار تھی-
“کیا مطلب”-وہ ناسمجھی سے اُسکو دیکھنے لگا-
“تم اچھی طرح جانتے ہو کہ نیہا تم سے کتنا پیار کرتی ہے پھر بھی تم یہ سب کر رہے ہو”-چاند کی بات پر وہ ایک لمہے کے لئے ساکت ہوا تھا-اِس بات سے وہ بہت اچھی طرح واقف تھا- نیہا کئی بار چھپے لفظوں میں اُس کو یہ باور کروا چکی تھی کہ وہ اُس کے لیے کیا ہے اُس کی زندگی میں میران شاہ کی اہمیت ہر چیز سے ذیادہ ہے-
“ہاں تو۔۔۔”-اُس کی پیشانی پر کئی بل پڑ گیے-چاند کو ایسے ری ایکشن کی امید نہیں تھی-
“مانی میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں”-وہ ناگواری سے بولا تھا-
“ہاں تو میں نے کونسا مزاق کیا ہے-میں بھی تو سیریس ہوں “-میران شاہ نے اُس کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے جواب دیا-
“تم سب کچھ اچھی طرح جانتے ہو پھر بھی یہ سب کر رہے ہو-یہ تو سراسر غلط ہے”-چاند کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ایک منٹ میں اُس کا دماغ ٹھکانے لگا دیتا-
“دیکھو میں نے نیہا کو ہمیشہ اپنادوست سمجھا ہے اِس سے ذیادہ فیلنگز نہیں ہیں میرے دل میں اُس کے لیے۔۔۔وہ لڑکی مجھے اچھی لگتی ہے تو اِس میں غلط کیا ہے جو جزبات میرے دل میں اُس کے لیے ہیں وہ میں نیہا کہ لیے نہیں محسوس کرتا تو کیا اب اپنے ساتھ زبردستی کروں”-اُس کے لہجے میں ناگواری صاف واضح تھی-
“گڈ یعنی کہ جب تک وہ لڑکی تمہاری زندگی میں نہیں تھی تب تک تمہارے لیے سب سے زیادہ نیہا اہم تھی اور آج اُس سے ملنے کے بعد تم اُس کے ساتھ ہو گیے ہو۔۔۔۔بہت اچھے”-چاند نے بھر پور طنز کیا تھا-میران شاہ کی تیوری چڑھ گئی-
“کیا فضول باتیں کر رہے ہو-تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔۔؟”-وہ غصے سے بولا تھا-“نیہا کو میں نے ہمیشہ اپنا دوست مانا ہے اور آج بھی مانتا ہوں-میں نے اس سے کبھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں کی کہ کوئی مجھ پراُس کی وجہ سے الزام لگائے- میں نے اُس کے ساتھ اپنا ریلشن ہمیشہ لمٹس کے اندر رکھا ہے-اُس کے جزبات کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی-اگر وہ ایسا ویسا کچھ سوچتی ہے تو اِس میں میری کیا غلطی ہے”-میران شاہ کی ایک ایک بات میں سچائی تھی-چاند کچھ لمہوں کے لیے چپ ہو گیا تھا-
“بٹ مانی اُس کا دل ٹوٹ جائے گا یار جب اُسے یہ سب پتہ چلے گا”-چاند کسی حد تک اُس کی بات سے قائل ہوا تھا-
“اگر ہانیہ مجھے نہ ملی تو میرا دل ٹوٹ جائے گا”-وہ سفاکیت سے بولتے ہوئے اپنی چیزیں سمیٹنے لگا-
“میں گھر جا رہا ہوں”-اُس نے اُٹھتے ہوئے کہا-پھر بنا اُس کا جواب سنے وہاں سے چلا گیا-
“اپنے دل کی فکر ہے بس۔۔۔۔کمینہ کہیں کا”-چاند نے اُس کی پشت کو گھورتے ہوئے زیرِلب کہا-
وہ کچھ دیر وہییں بیٹھا رہا پھر وہاں سے اُٹھ کر کیفے چلا آیا-باقی لوگ وہیں موجود تھے-وہ خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا-
“مانی کہاں ہے؟ “-نیہا نے اُسے دیکھتے ہی پوچھا-
“چوبیس گھنٹے مانی مانی کرتی رہتی ہو کوئی اور کام بھی کر لیا کرو”-وہ چلایا تھا-میران شاہ کا غصہ نیہا پہ نکل گیا-وہ آنکھیں پھیلائے حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی-یقین کرنے کی کوشش کرنے لگی کہ چاند ایسی بات کر رہا تھا-
“میں نے کیا کر دیا”-وہ فورا رونے لگی تو چاند پریشان ہو گیا-باقی سب بھی اُس کو گھورنے لگے-
“سس سوری نیہا ۔۔۔میرا موڈ تھوڑا سا آف تھا اِس ایسے لیے بولا۔۔۔ایی ایم ویری سوری”-اُس نے فورا اُس کا ہاتھ تھام کر کہا تو وہ سوں سوں کرنے لگی-چاند اور نیہا دونوں کزنز تھے-
“کہاں ہے وہ؟ “- اُس کی سویی اب بھی وہیں اٹکی تھی-
“گھر چلا گیا-اُس کو شاید کوئی کام تھا”-اُس نے اُسے تسلی دیتے ہوئے اگلی بات خود سے بنائی تھی-
“اُس دن کیا ہوا تھا اُسکو؟ “-وہ اُسے کے لیے پریشان نظر آرہی تھی-
“کچھ نہیں ویسے ہی تھوڑا سا ڈسٹرب تھا-اب ٹھیک ہے بلکل۔۔۔”-چاند نے ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا- “تم اس کی اتنی فکر کیوں کرتی ہو؟ “-چاند کو نیہا پر بھی غصہ آیا-اُس کے لیے وہ کچھ زیادہ ہی پاگل تھی-
“پتہ نہیں ایسا نیچرلی ہوتا-میں خود کچھ نہیں کرتی”-وہ معصومیت سے بولی تھی-
چاند کتنے ہی لمہے اُس کا چہرہ دیکھتا رہا-
!———————–!
دل نے یہ کہا ہے دل سے
محبت ہو گئی ہے تم سے
ہانیہ نے صوفے پہ لیٹے لیٹے اونچی آواز میں کہا تو ٹی وی دیکھتی عائشہ اور حارث دونوں نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے-اُس نے جان بوجھ کہ اُن دونوں کو تنگ کرنے کے لئے ہی ایساکیا تھا-
“ہانی اپنا پھٹا ڈھول بجانا بند کر دو ورنہ میرے کان جواب دے جائیں گے”-عائشہ نے ایک کشن اُٹھا کہ اُس کو مارا جسے ہانیہ نے سرعت سے کیچ کر لیا تھا-
“مستقبل کی سنگر پریکٹس کر رہی ہے اگر کسی کو پرابلم ہے تو اُٹھ کہ جا سکتا ہے”-وہ بھی پوری ڈھیٹ تھی- اُن کو زچ کر کہ ہی دم لیتی-
“اِس سنگر صاحبہ سے مودبانہ درخواست کی جاتی ہے کہ اپنی پریکٹس سٹور روم میں دروازہ لاک کر کہ کریں۔۔۔۔یہاں اپنی ڈراؤنی آواز سے معصوم لوگوں کو نہ ڈرائیں”-حارث نے دانت پیس کر کہا تھا-ٹی وی پہ میچ چل رہا تھا اور وہ اُس کی وجہ سے بار بار ڈسٹرب ہو رہا تھا-
“دفعہ دور۔۔۔۔”-وہ منہ بنا کر بولی-اتنی عزت افزائی پہ اب اُس میں دوبارہ گانے کا حوصلہ نہیں تھا-
ہانیہ نے ڈائجسٹ کھول کہ منہ کے سامنے کر لیا-اِسی اثنا میں فون بجا تھا-وہ صوفے پر لیٹی ہوئی تھی-اور فون اُس کے بلکل پاس پڑا ہوا تھا-
“ہانی دیکھ تو کس کا فون ہے”-عائشہ نے وہیں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی-
ہانیہ نے لیٹے لیٹے ہی ریسور اُٹھا کر کان سے لگا لیا-
“جی فرمائے۔۔۔۔”-بڑے لٹھ مار انداز میں پوچھا گیا-
“آپ فرما دیں کچھ ۔۔۔میں نے آپ کی فرمائشیں سننے کے لیے فون کیا ہے”-دوسری طرف سے بڑے مزے سے جواب دیا گیا تھا-ہانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی-یہ لہجہ۔۔۔۔۔یہ شوخی اُس کی دھڑکن تیز سے تیز ہوتی جارہی تھی-ہانیہ بے ساختہ اُٹھ کہ بیٹھ گئی-
“کک کون۔۔۔۔؟”-وہ جان گئی تھی مگر پھر بھی پوچھ لیا-
“خاکسار کو میران شاہ کہتے ہیں ۔۔۔۔کچھ مہینے پہلے ہماری ملاقات بھی ہوئی تھی-کافی دفعہ ہم ٹکرا بھی چکے ہیں۔۔۔اور تعارف کی ضرورت ہے کہ سمجھ گئی ہیں آپ”-میران شاہ کی شوخیاں عروج پر تھیں-
“آپ نے فون کیوں کیا؟ “-زبان پھسل گئی- گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا- کوئی بھی نہیں تھا-وہ دونوں میچ میں گم تھے-
“آپ سے بات کرنے کے لیے”-آج تو میران شاہ کے رنگ ڈھنگ ہی بدلے ہوئے تھے-
“دیکھیے آپ پلیز آئندہ اِس نمبر پہ فون مت کیجیے گا۔۔۔یہ گھر کا نمبر ہے کوئی بھی اُٹھا سکتا ہے”-اُس نے چور نگاہوں سے پھر اِدھر اُدھر دیکھا-کہیں کوئی آ ہی نہ جائے-آواز حد سے بھی ذیادہ مدھم تھی-
“اچھا ٹھیک ہے نہیں کروں گا۔۔۔۔تم مجھے اپناسیل نمبر دو۔۔۔۔ہم اُدھر بات کریں گے “-
وہ کچھ سنجیدہ ہوا تھا-
مگر میرے پاس سیل نہیں ہے”-ہانیہ نے آہستگی سے جواب دیا تو وہ ایک لمہے کے لئے چپ ہو گیا-
“اِتنی مشکل سے طلحہ سے یہ والا نمبر لیا تھا-اب اِس کے علاوہ کیسے بات کریں گے”-وہ تھوڑا پریشان ہوا تھا-
“مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔”-ہانیہ کے کہنے پر وہ سوچ میں پڑ گیا-وہ گھٹنوں پر سر رکھے ریسور کان سے لگائے بیٹھی تھی-
“اچھا ایک کام کرتے ہیں جب گھر میں سب لوگ بزی ہونگے تم مجھے ایک بار رنگ کر دینا میں خود فون کر لوں گا”-اُس کی بات ہانیہ کو بھی معقول لگی تھی- اُس نے ہامی بھر لی-
“اب میں رکھ دوں؟ “-وہ مدھم سے لہجے میں اجازت طلب کر رہی تھی-میران اُس کی پرابلم سمجھ گیا تھا-اِس لیے خدا حافظ کہہ کہ فون بند کر دیا-ہانیہ نے لرزتے ہاتھوں سے ریسور واپس رکھا-ہتھلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں-
!————————!
ہانیہ لاؤنج میں بیٹھی عائشہ کے ساتھ مٹر چھیل رہی تھی جب حارث بڑی عجلت میں لاؤنج میں داخل ہوا-اُس کے چہرے پر پریشانی کے اثار صاف دکھائی دے رہے تھے-وہ بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں گیا-واپسی پر ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی-
“حارث کیا ہوا؟ “-عائشہ نے اُسے پیچھے سے آواز دی تو وہ رُک گیا-عائشہ اُٹھ کہ فورا اُس کے پاس گئی-اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں-
یار فہد بھائی کو گولیاں لگی ہیں-اُن کی حالت بہت سیریس ہے-میں دادا جان کو لے کر یاسپٹل جارہا ہوں-تم لوگ دعا کرنا اُن کے لیے پلیز۔۔۔۔”-وہ اپنی بات کہہ کہ رکا نہیں تھا- عائشہ سن کھڑی دروازے کو دیکھتی رہی-ہانیہ کے ہاتھ سے مٹروں کی پھلیاں نیچے گر گئیں-
“عاشی یہ کیا کہہ کہ گیا ہے”-ہانیہ فورا اُس کے پاس آئی-
“پتہ نہیں میں تو خود حیران ہوں-ابھی صبح تو میں نے اُن کو دیکھا تھا- جب وہ جارہے تھے”-عائشہ کی آنکھوں میں نمی تھی- جب کہ ہانیہ کی آنکھوں سے انسوؤں کی ندیاں جاری تھیں-
وہ دونوں وہیں کھڑی تھیں جب کرن لاؤنج میں آئی-اُن دونوں کو روتا دیکھ کہ وہ کچھ حیران ہوئی-
“تم لوگوں کو کیا ہوا؟ “-اُس نے نزدیک آنے پر حیرت سے استفسار کیا-
“اپی فہد بھائی کو گولیاں لگی ہیں اور وہ ہاسپٹل میں ہیں”-عائشہ نے روتے ہوئے بتایا-وہ ایسی ہی تھیں زرا سی تکلیف پر رونے بیٹھ جاتیں-
“یااللہ خیر۔۔۔۔”-کرن خود بھی پریشان ہو گئی تھی-“
“تمہیں کس نے بتایا؟ “-اُس نے سوں سوں کرتی عائشہ سے پوچھا-
“حارث نے ۔۔۔۔”-وہ مدھم سی آواز میں بولی تھی-
“میں امی لوگوں کو بتا کر آتی ہوں”-کرن اندر کی جانب بھاگی-
ہانیہ وہاں سے سیدھی اپنے کمرے میں آگئی-ناجانے کیوں رونا آرہا تھا-اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ مسکراتا ہوا آگیا-پچھلے دنوں سے وہ اُن کے گھر اکثر آتا رہتا تھا-گھر کے سب افراد کو وہ بہت پسند تھا-عائشہ تو کئی بار اُن کے گھر سے بھی ہو آئی تھی- البتہ ہانیہ کبھی نہیں گیی تھی-
دوپہر سے رات ہو گئی-مگر اُس کی حالت نہیں سنبھل رہی تھی-گھر کے سب بڑے ہاسپٹل جا چکے تھے-ہانیہ ریلنگ کے پاس آن کھڑی ہوئی-اُس کی نظروں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب وہ اُس کی تصوریں لے رہا تھا-وہ مزید اُداس ہو گئی-
عائشہ چائے کا کپ تھامے اُس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی-
“تمہیں پتہ مریم انٹی کا فہد بھائی کے سوا اور کوئی نہیں ہے-فہد بھائی کے پاپا کی بھی ڈیتھ ہو چکی ہے-پتہ نہیں مریم انٹی کیسی ہونگی”-وہ اُداسی سے بولی-ہانیہ چپ چاپ سامنے دیکھتی رہی-اُن کے گھر کی سب لائٹس بند تھیں-پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا-اگر فہد کو کچھ ہو جاتا تو اُس کی ماما کی زندگی بھی ایسے ہی اندھیری ہو جانی تھی-
“اللّہ جی اُن کو ٹھیک کر دیں پلیز”-ہانیہ کے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی تھی-
اِسی اثنا میں حارث سیڑھیاں چڑتا ہوا اوپر آیا تو اُن دونوں کو وہاں دیکھ کر حیران ہوا-
“تم لوگ یہاں کیوں کھڑی ہو؟ “-وہ اُن کی طرف چلا آیا-
“ویسے ہی۔۔۔۔فہد بھائی کیسے ہیں اب”-عائشہ نے اُس کے تھکے تھکے چہرے کو دیکھا-
“اللہ کا شکر ہے خطرے سے باہر ہیں مگر ابھی تک ہوش نہیں آیا -کل تک انشاء الله آجائے گا”-وہ اپنی کنپٹیاں ہاتھ سے دباتے ہوئے بولا-
“عاشی پلیز ایک کپ چائے بنا دو اور ساتھ میں ایک ٹیبلٹ بھی لے آنا”-وہ عائشہ کو کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا-عائشہ فورا نیچے چلی گئی-ہانیہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی-
!———————–!
دن سست روی سے گزرنے لگے-وقت کچھ مزید آگے سرک گیا-زندگی کی کتاب سے دن بدن صفحے گھٹتے جارہے تھے-وقت کی سوئیاں ایک تواتر سے چل رہی تھیں-حالات خواہ کیسے بھی ہوں وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ گزر جاتا ہے-بڑے سے بڑے حادثات بھی وقت کے مرہم سے کسی حد تک ٹھیک ہو ہی جاتے ہیں-زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں-کبھی خوشیاں ہوتی ہیں تو کبھی غم ڈھیرے جمانے آجاتے ہیں-کبھی تاریکی زندگی کو سیاہ کر دیتی ہے تو کبھی اجالا زندگی کو روشن کر دیتا ہے-حالات بدلتے رہتے ہیں-
ہانیہ کا رزلٹ آنے والا تھا-وہ آجکل کافی پریشان رہتی تھی پہلے کی طرح اچھل کود بھی نہیں کرتی تھی-دن بدن اُس کے رویے میں سنجیدگی کا عنصر شامل ہو رہا تھا-وقت کے ساتھ سب شوخیاں جاتی ہیں-وہ اب کام کاج میں بھی کسی حد تک دلچسپی لینے لگی تھی-
اِس وقت بھی وہ کچن میں کھڑی عائشہ کے ساتھ سبزی بنا رہی تھی- جب اچانک اُسے فہد کے بارے میں یاد آیا-
“عاشی ایک بات تو بتاؤ؟ “-ہانیہ نے عائشہ کو مخاطب کیا-
“ہمممم پوچھو”-وہ مصروف سے انداز میں بولی تھی-
“یہ فہد بھائی لوگ یہاں کب شفٹ ہوئے؟ “-وہ کیی دنوں سے یہ بات جاننا چاہ رہی تھی-
“تین مہینے پہلے فہد بھائی کی پوسٹنگ ہوئی تھی تب شفٹ ہوئے تھے”-وہ تیز تیز ہاتھ چلا رہی تھی-
“حیرت ہے مجھے پتہ ہی نہیں ۔۔۔۔”-وہ حیران تھی-
“تمہارے ایگزامز ہو رہے تھے۔۔۔تب تمہیں اپنا ہوش نہیں تھا-اور فہد بھائی حارث کے سکول فیلو بھی رہ چکے ہیں۔۔۔وہ اُن کو کافی پہلے سے جانتا ہے”-عائشہ نے اُسے مختصراً بتایا-
“عاشی فہد بھائی کیسے ہیں اب؟ “-اُس نے ہاتھ روک کر عائشہ سے پوچھا-عائشہ اُس کے بھائی کہنے پہ حیران نہیں ہوئی تھی- کیونکہ وہ اب جب بھی اُس کے بارے میں بات کرتی تھی عزت سے ہی کرتی تھی-
“پہلے سے کافی بہتر ہیں اب۔۔۔کل میں جب دوپہر میں گئی تھی تو بہت فرش لگ رہے تھے۔۔۔۔الله نے اُن کو نئی زندگی دی ہے”-عائشہ کام کرتے ہوئے سادگی سے بولی-
“ہانی تم ایک بار بھی اُن سے ملنے نہیں گئی”-عائشہ نے اُس کک طرف دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا- “اگر چلی جاتی تو فہد بھائی کے ساتھ ساتھ مریم انٹی کو بھی بہت اچھا لگتا”-اُس نے سبزیاں دھو کہ رکھتے ہوئے کہا-
“ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ کسی دن جاؤں گی”-ہانیہ اچھل کر شیلف پہ بیٹھ گئی اور گاجر اُٹھا کر کھانے لگی-
“تو جاؤ چلی جاؤ۔۔۔۔اِس میں سوچنے والی کیا بات ہے”-عائشہ نے اُسے مشورہ دیا-
“ابھی۔۔۔۔”-وہ حیران ہائی-
“ہاں تو ابھی کیا۔۔۔۔کل کو تمہارا کیا پتہ پھر نیت بدل جائے”-عائشہ نے ہلکی سے مسکراہٹ سے جواب دیا-
“چلو آؤ چلتے ہیں”-وہ فورا نیچے اُتری-
“نہیں یار تم اکیلی چلی جاؤ۔۔۔مجھے کھانا بنانا ہے ۔۔۔ماریہ اپی اور طلحہ بھائی آرہے ہیں رات کے کھانے پر۔۔۔۔دیر ہو جائے گی”-عائشہ نے انکار کر دیا تو اُس کا منہ لٹک گیا-
“پر میں کبھی اُن کے گھر ہی نہیں گئی”-وہ کچھ جھجک رہی تھی اکیلے جانے پر۔۔
“کچھ نہیں ہوتا چلی جاؤ”-وہ برنر آن کرتے ہوئے بولی-
“ٹھیک ہے”-ہانیہ نے گلے میں بے ترتیبی سے لیے دوپٹے کو پھیلا کر سر پہ لے لیا-
“جلدی آنا”-عائشہ نے اُسے ہدایت کی تو وہ سر ہلاتی ہوئی باہر نکل آئی-
چوکیدار نے اُسے دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا وہ اُسے پہچان گیا تھا-
“مجھے مریم انٹی سے ملنا ہے”-وہ ہولے سے بولی-چوکیدار سے شرمندہ نظر آرہی تھی اُس دن کی بدتمیزی کے لیے-
“میڈم صاحبہ اندر ہیں آئے میں آپ کو لے چلتا ہوں”-چوکیدار کے چہرے پر پرانی کسی بات کے کوئی آثار نہیں تھے-وہ اُسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے اندر کی طرف بڑھنے لگے-ہانیہ نے اردگرد دیکھا-گھر بہت خوبصورت تھا-اُس نے دل میں بے ساختہ تعریف کی-
وہ اندر داخل ہوا تو مریم اُسے لاؤنج میں ہی ملازمہ کو ہدایت دیتی مل گئیں-
“میڈم صاحبہ یہ لڑکی آپ سے ملنے آئی ہے”-چوکیدار نے اپنی پیچھے کھڑی ہانیہ کی طرف اشارہ کیا تو اُنہوں نے ایک نظر اُس کامنی سی لڑکی پر ڈالی-
“بیٹا میں نے آپ کو پہچانا نہیں ۔۔۔”-وہ کچھ دیر دیکھنے کے بعد بولیں-
“انٹی میں ہانیہ ہوں”-اُس نے اُس نفیس سی خاتون کو دیکھا-وہ بلکل ینگ تھیں ابھی ۔۔۔
“عائشہ کی کزن۔۔۔”-اُن کی آنکھوں میں شناسائی کے رنگ اُترے-
“جی۔۔۔۔”-وہ بمشکل یہی کہہ سکی-چوکیدار اُسے چھوڑ کر جا چکا تھا-مریم نے ایک پیار بھری نظر اُس پر ڈالی-اُن کے بیٹے کی پسند واقعی لاجواب تھی-
“آؤ بیٹا بیٹھو ۔۔۔۔”-اُنہوں نے ہانیہ کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا-ہانیہ نے ایک ستائشی نظر چاروں طرف ڈالی- “عائشہ اکثر تمہاری باتیں کرتی ہے مجھ سے۔۔۔تمہاری شرارتوں کے بارے میں بتاتی ریتی ہے۔۔۔مجھے بہت شوق تھا تم سے ملنے کا مگر جب سے فہد بیمار ہے کہیں آنے جانے کا دل ہی نہیں کرتا”-وہ ہانیہ کو یہ سب یوں بتا رہی تھیں جیسے برسوں کی شناسائی ہو-
“عائشہ بھی اپکی بہت تعریف کرتی ہے”-وہ ہلکا سا مسکرائی تھی-
“ماشاء اللہ وہ بچی بہت پیاری ہے۔۔۔۔اللہ اُس کا نصیب اچھا کرے”-اُن کے لہجے میں عائشہ کے لیے بہت پیار تھا-
“انٹی میں فہد بھائی سے ملنا تھا”-ہانیہ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا-
“ہاں کیوں نہیں ۔۔۔۔اپنے کمرے میں ہے وہ آپ مل لو اُس سے۔۔۔۔”-اُنہوں نے خوشدلی سے کہا- “آپ کولڈ ڈرنک لو گی یا چائے کافی وغیرہ”-اُنہوں نے اُٹھتے ہوئے پوچھا-
کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔تھینک یو”-ہانیہ نے معزرت کر لی-
“بلکل نہیں آپ پہلی بار آئی ہو۔۔۔ایسے نہیں چلے گا۔۔۔۔کچھ تو لینا ہو گا”-اُن کے پیار بھرے انداز پر ہانیہ مسکرائی-
“کافی۔۔۔۔”-
“چلو ٹھیک ہے میں بھیجتی ہوں آپ مل لو اُس سے۔۔۔”-وہ دوپٹہ سنھالتے ہوئے بولیں-
“فہد کا کمرہ سیڑھیاں چڑتے ہی سب سے پہلے ہے”-اُنہوں نے اُسے اشارے سے بتایا تو ہانیہ نے سر اثبات میں ہلا دیا- ہانیہ کے جانے کے بعد وہ خود کچن میں آگئیں-
!———————!
ہانیہ دھیرے سے ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی-کمرے میں زیرو پاورکا بلب جل رہا تھا-ہانیہ نے کمرے کا جائزہ لیا-وہ کسی شہزادے کی خواب گاہ معلوم ہو رہی تھی-ایک سے بڑھ کر ایک چیز۔۔۔۔کمرے میں ہر چیز آسمانی رنگ کی تھی- شاید اُس کمرے کے مکین کو آسمانی رنگ سے بہت پیار تھا-
اُس نے ڈور پر ہلکا سا ناک کیا-بیڈ پر نیم دراز کسی کتاب کے مطالعے میں غرق فہد چونکا تھا- نظریں اُٹھا کر ڈور کی طرف دیکھا مگر پھر پلٹنا بھول گئیں-اُس کی زندگی اُس کے کمرے کی دہلیز پر کھڑی سانس لے رہی تھی-
“ہانیہ۔۔۔۔”-وہ زیرِ لب بولا تھا- وہ خواب ہر گز نہیں تھا-سب کچھ حقیقت تھا-
“کم ان۔۔۔۔”-اُس نے سیدھے ہوتے ہوئے اُسے اندر آنے کے لیے کہا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اندر آگئی-فہد نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کر دی-
“بیٹھو نہ۔۔۔۔”-وہ اُسے کھڑے دیکھ کر بولا-شہزادے کو شہزادی کے بیٹھنے کے لائق اُس کمرے میں کوئی چیز نہ نظر آئی-اُس کا بس چلتا تو پلکوں پر بیٹھا لیتا-ہانیہ اُس کی دکی کفیت سے مکمل انجان تھی-
وہ وہاں رکھی چئیر پر بیٹھ گئی-فہد اُس کو دیکھنے لگا-ہانیہ نے کچھ کنفیوز ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا-
“کیسی طبیعت ہے آپکی؟ “-مدھم سے لہجے میں پوچھا گیا-فہد کو یقین کرنے میں کافی دیر لگی کہ ہانیہ شفیق اُس سے یعنی فہد مرتضی سے اُس کا حال پوچھ رہی تھی-
“میں بلکل ٹھیک ہوں “-وہ مسکرایا تھا-
ہانیہ نے ایک بار بھی اُس کی طرف نہیں دیکھا تھا-
“عائشہ کہہ رہی تھی کہ آپ کی طبیعت کا پوچھ لوں”-اُس نے جتانا ضروری سمجھا-فہد کی ساری خوش فہمیوں پر پانی پھر گیا-
“چلیں آپ آئیں تو سہی جس کے کہنے پر بھی آئیں”-وہ اپنی اندرونی حالت اُس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا-زبردستی چہرے پر مسکان سجانے کی کوشش کی-
“ہانیہ چپ چاپ اپنی ہتھیلیوں پر نظریں ٹکائے بیٹھی رہی-اب اور کیا بات کرتی-
فہد کو پیاس محسوس ہوئی-گلا ایک دم جیسے خشک ہو گیا- اُس نے سائیڈ ٹیبل سے پانی والا جگ اُٹھانے کی کوشش کی مگر اِس دوران بازو میں درد کی شدید لہر اُٹھی-ابھی زخم مندمل نہیں ہوئے تھے-چہرے پر تکلیف کے آثار نظر آنے لگے-ہانیہ نے اُس کی طرف دیکھا-
“آپ کو کچھ چاہیے؟ “-
“جی پانی چاہیے تھا”-وہ بازو کو دباتے ہوئے بولا- جہاں ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں-
“میں دے دیتی ہوں”-وہ فورا اُٹھ کہ اُس طرف بڑی-ٹیبل پہ رکھے جگ میں سے پانی گلاس میں ڈالا-گلاس پکڑنے لگی تو وہاں پڑی تصویروں پر نظر پڑی-اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُن کو تھاما-وہ تو اُس کی تصویریں تھی- ہانیہ کے ہاتھ میں گلاس لرزنے لگا-اُس نے وہ تصویر رکھ کر ایک اور اُٹھا لی-رینگ سے جھانکتی وہ کھلے ہوئے بالوں میں مسکرا رہی تھی- ہانیہ کو یاد آیا یہ اُسی دن والی تصویریں تھی-اُس کا دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا-تصویر پہ لکھے وہ الفاظ اُس کی دھڑکن رک گئی-
“میری زندگی ۔۔۔۔میرا سب کچھ۔۔۔میری محبت ۔۔۔۔میری ہانی کے نام۔۔۔۔۔”-اُس نے زیر لب وہ الفاظ پڑے-نیچے ایک شعر لکھا ہوا تھا-ہانیہ کی ٹانگوں میں جان ختم ہونے لگی-پانی والا گلاس ہاتھ سے گر گیا-
فہد نے فورا اُس کی طرف دیکھا-اُس کے ہاتھ میں موجود تصویر دیکھ کر اُس کا جیسے سانس رُک گیا تھا-فہد مرتضی کو لگا سب کچھ ختم ہو گیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: