Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 8

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 8

–**–**–

“ہانیہ لسن ٹو می ۔۔۔”-فہد نے اپنی صفائی میں بولنا چاہا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر آج وہ چپ رہا اور کچھ غلط ہو گیا تو اُسے ہمیشہ کے لیے کھو دے گا-
“آپ اتنا گر سکتے ہیں ۔۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی”-وہ بے یقینی سے ہاتھ میں موجود تصویریں دیکھ رہی تھی-آنکھوں میں انسو کب آئے پتہ بھی نہ چلا-فہد نے بے بسی سے اُس کو دیکھا-
“ایک بار پلیز میری بات سن لو ۔۔۔۔میں سب سمجھا دوں گا”-فہد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اُس کی غلط فہمی کیسے دور کرے-وہ کیسے اُس کو بتائے کہ وہ اُس کے لیے کتنا پاگل ہے-
“یہ سب دیکھنے کے بعد بھی آپ کو کچھ سمجھانا ہے”-اُس نے تصویریں اُس کے سامنے کرتے ہوئے کہا-فہد نے زور سے آنکھیں میچ لیں- “آپ اس طرح سوچتے ہیں میرے بارے میں ۔۔۔۔”-وہ شاکڈ کیفیت میں تھی-
“تم ایک بار مجھے بولنے کا موقع دو پلیز ہانیہ ۔۔۔بس ایک بار۔۔۔۔پلیز”-وہ اُس کی منتیں کر رہا تھا-اگر ہانیہ اُس کی بات سننے کے لیے اپنے پیروں میں گر کر گڑگڑانے کی شرط رکھتی تو یہ بھی فہد کو منظور تھا-مگر وہ ایسا کرتی تب نہ۔۔۔۔وہ تو کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی-
بن تیرے اگر جی سکتے
یوں نہ کرتے منتیں تیری !
“آپ کو پتہ میں نے آپ کے بارے ميں اپنے خیال بدل دیے تھے- میں سمجھتی تھی آپ بہت اچھے ہیں مگر میں غلط تھی-آپ تو ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہیں- لوگوں کے سامنے اچھا ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں مگر حقیقت میں۔۔۔۔۔ حقیقت میں یہ ہیں”-اُس نے چلاتے ہوئے وہ تصویریں اُس کے منہ پر ماریں-وہ فہد مرتضی جس کے سامنے کوئی اونچی آواز میں بولتا تک نہیں تھا اس کی انسلٹ کرنا تو بہت دور کی بات تھی آج ایک معمولی سی لڑکی کے ہاتھوں اتنا ذلیل ہونے کے بعد بھی چپ تھا-کاش وہ دیوانی جان سکتی کہ فہد مرتضی کے لیے وہ کیا ہے-وہ اُس سے کتنی شدت سے محبت کرتا ہے-
“ہانی۔۔۔۔”-اُس نے لہجے میں جزبات کی شدت لیے ایک بار پھر پکارا تھا-
“شٹ اپ ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔اپنی گندی زبان سے میرا نام بھی مت لیں۔۔۔نفرت ہے مجھے آپ سے بے تحاشہ، بے حساب۔۔۔ میں ہی پاگل تھی جو یہاں آگئی میری بلا سے آپ جیو یا مرو”-اُس نے پھنکارتے ہوئے کہا تھا-
اپنی بات کہہ کہ وہ وہاں رکی نہیں تھی-ایک قہر آلود نفرت بھری نگاہ ڈال کر وہاں سے چلی گئی تھی جس نے اُس کی روح تک کو گھائل کر دیا تھا- فہد کو لگا جیسے وہ اُس کا دل بھی جاتے ہوئے اپنےپیروں تلے بے رحمی سے کچل گئی ہو-اُس دن فہد مرتضی کی زندگی اُس سے روٹھ گئی-اُس کی مسکراہٹ اُس کی خوشیاں سب کچھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا-
!———————–!
موسم بدل رہا تھا-گرمی کا زور اب تقریباً ٹوٹ چکا تھا-ہانیہ نے ایک نظر کافی دور تک پھیلے لان پر ڈالی-وہ اِس وقت لاؤنج میں جانے والے سیڑھیوں پر بیٹھی تھی- اچانک اُس کی نظر طوطے کے پنجرے پر پڑی-
یہ طوطا حارث کا تھا-اس کی جان تھی اس طوطے میں وہ اکثر اس سے باتیں کرتا تھا اور میٹھو اگے سے جواب بھی دیتا تھا-ہانیہ کو یہ طوطا دل و جان سے پسند تھا-وہ کئی بار حارث کی منتیں کر چکی تھی کہ وہ یہ طوطا اُس کو گفٹ کر دے-دیکھنے میں وہ بہت خوبصورت تھا مگ حد سے زیادہ نخریلا اور گمنڈی تھا ۔۔۔حارث کے علاوہ کم ہی کسی سے مخاطب ہوتا تھا-یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی اس کے قریب نہیں گئی تھی-
“میٹھو سنو ۔۔۔۔۔”-وہ بے ساختہ ہی ناجانے کس خیال کے تحت اسے پکار بیٹھی-اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر منہ پھیر لیا-ہانیہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا-
“لو بھلا میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے-بدتمیزنا ہو تو”-وہ غصے سے بڑبڑائی-اُس کا دل چاہا اُس کا گلا دبا دے-
“دفعہ ہو ۔۔۔۔”-اُس نے اُس پر لعنت بھیجی اور اُس کی طرف سے رُخ پھیر کر بیٹھ گئی-تبھی نظر اپنے سے کچھ فاصلے پہ کھڑے فہد پہ پڑی-وہ وہاں کھڑا سنجیدگی سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا-ہانیہ کی آنکھوں میں دو دن پہلے والا سارا منظر گھوم گیا-وہ ایک نخوت بھری نگاہ اُس پر ڈال کر اندر جانے لگی-
“ہانیہ پلیز میری بات سنو”-فہد نے اُس کی کلائی تھام لی-ہانیہ کو جیسے کرنٹ لگا-اتنی بے باکی پر وہ ششدر رہ گئی-
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی”-وہ کسی بھوکی شیرنی کی طرح اُس پر جھپٹی تھی- ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑا لی-آپ بہت ہی بے شرم انسان ہیں -اتنا کچھ ہونے کے بعد پھر آ گئے ہیں”-اُس نے فہد کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا-
“کیا ہم آرام سے بیٹھ کہ دو منٹ بات کر سکتے ہیں؟ “-فہد کی برداشت اُس کے معاملے میں واقعی کمال تھی- وہ اب بھی سختی سے نہیں بولا تھا-اُس کا سر چکرا رہا تھا-کمزوری کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا-اپنے گھر سے وہاں تک آتے ہوئے اُسے کتنی تکلیف ہوئی تھی یہ صرف وہی جانتا تھا-مگر محبت کی تھی اب تو یہ سب برداشت کرنا پڑنا تھا-اگر اُس کو کوئی کہتا کہ کانٹوں کے اوپر سے گزر جاؤ تمہیں ہانیہ شفیق مل جائے گی تو وہ سوچتا بھی نہ اور عمل کر لیتا-مگر ایسا کوئی امتحان ہوتا تو۔۔۔۔وہاں تو وہ اُس کی بات سننے کو ہی تیار نہیں تھی-
وہ تو صدیوں کا سفر کر کہ یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کہ جس کو دیکھا بھی نہیں
“آپ کو لگتا کہ میں آپ کی بات سنوں گی؟ “-وہ اُلٹا اُسی سے پوچھنے لگی-
“ہاں کیونکہ صفائی کا موقع تو ہر کسی کو دیا جاتا ہے۔۔۔مجھے بھی چاہیے تاکہ میں اپنی بات کہہ سکوں”-اففف آخر اِس محبت کے سامنے اور کتنا جھکنا تھا-
“اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو بہت غلط سوچتے ہیں ۔۔۔۔میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی آپ سے بات کا تو سوال ہی نہیں اُٹھتا”-وہ سفاکیت کی ساری حدیں پار کر گئی- “اور پلیز اب یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ میں اپنے گھر میں کوئی تماشہ نہیں چاہتی”-وہ اُس کی حالت سے انجان اپنے لفظوں کے نشتراُس کے دل میں اُتار رہی تھی-
“میں جو سوچتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں۔۔۔۔اور تمہیں میرے بات سننی پڑے گی”-فہد نے آگے بڑھ کہ اُسے شانوں سے تھامتے ہوئے کہا-ایسا کرتے ہوئے اُس کے بازو میں جہاں زخم تھا از حد تکلیف ہوئی-مگر اُس سے کہیں ذیادہ تکلیف وہ اپنے دل میں محسوس کر رہا تھا-ہانیہ ساکت نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی-
“چھوڑیں مجھے۔۔۔۔”-وہ چلائی-
“اگر نہ چھوڑوں تو۔۔۔۔”-فہد نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا-اُس کے شانوں پر دباؤ بڑھ گیا-وہ ایک لمہے کے لیے بھول گیا کہ اتنی سختی سے چھونے پر وہ کرسٹل کی گڑیا ٹوٹ بھی سکتی تھی-
“آپ آخر چاہتے کیا ہیں؟ “-وہ پھٹ پڑی-
“تمہیں چاہتا ہوں۔۔۔”-وہ اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو نگاہوں کے راستے اپنے اندر اُتار رہا تھا-وہ اُس کے بہت قریب تھی-اور یہ پل فہد مرتضی کی زندگی کے سب سے خوبصورت پل تھے-
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔”-وہ پھر مزاحمت کرنے لگی تو فہد کو غصہ آگیا-کب سے وہ اُس کی منتیں کر رہا تھا-
“آئی لو یو ڈیم اٹ۔۔۔۔تم یہ بات سمجھتی کیوں نہیں ہو”-اُس نے ہانیہ کو جنجھوڑ ڈالا-ہانیہ کے مزاحمت کرتے ہاتھ رُک گیے-اتنا کھلا اور واضح اظہار۔۔۔۔شرم کے مارے اُس کا سر جھک گیا-سارا غصہ اور ہمت کہیں اُڑن چھو ہو گئی-زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا-کوئی مرد اُس کے اتنا قریب آیا تھا- اور یہ سب کہا تھا- ہانیہ کے معصوم اور کچے دماغ پر یہ لفظ ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیے-وہ اب کیا کر سکتی تھی- آنکھوں سے انسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے-فہد جیسے ایک دم ہوش میں آیا تھا-یہ کیاہو گیا تھا-جزبات میں آکراُس نے کتنی بڑی غلطی کر ڈالی تھی-وہ فورا اُس سے دور ہوا-اُس نے ہانیہ کو کیسے چھو لیا تھا-وہ یہ کیسے کر گیا تھا-وہ اُس کی محبت تھی وہ اُسی کا دامن داغدار کرنے چلا تھا-اگر کوئی دیکھ لیتا یا سن لیتا تو ہانیہ کی کیا عزت رہ جاتی-وہ معصوم سی لڑکی تو ٹوٹ جاتی-اُس سے آگے سوچنے کی ہمت نہیں تھی-مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ٹوٹ چکی ہے-فہد نے اپنے بال اضطراب کی حالت میں مٹھیوں میں جھکڑ لیے-ہانیہ اُس کے چھوڑتے ہی اندر بھاگ گئی-اور وہ خود وہیں سیڑھی پہ ہی گر گیا-ساری ہمتیں جواب دے گئیں-جسم میں صدیوں کی تھکن اُتر آئی-وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ہو گیا جو اپنا سب کچھ خود اپنے ہاتھوں سے لٹا لیتا ہے-زندگی نے آج اُس کا بہت سخت امتحان لیا تھا-
!—————————!
ہانیہ کچن میں داخل ہوئی تو عائشہ کو وہاں مصروف پایا-عائشہ کو بھی شاید کچن کے کاموں کا جنون تھا-ہر وقت وہیں پائی جاتی ہے-ہانیہ خاموشی سے فریج میں سے پانی والی بوتل نکال کر پانی پینے لگی-اُس کی آنکھوں میں رات بھر رونے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں-سر بھی بھاری ہو رہا تھا- وہ دو تین گھونٹ لینے کے بعد لمبے لمبے سانس لینے لگی-جسم میں جیسے آگ جل رہی تھی-کل کی رات اُس کی زندگی کی سب سے بری رات تھی-وہ شاید ہی کبھی اتنا روئی تھی- قسمت بھی کیسے کیسے جھٹکے دیتی ہے انسان کو۔۔۔اُس کی طاقت سے ذیادہ اُس کو تکلیف مل رہی تھی-
“ہانی میکرونی پڑی ہے اوون کے پاس کھا لو”-عائشہ اُسے دیکھ چکی تھی- میکرونی ہانیہ کو بہت پسند تھی-کچھ دیر پہلے اُس نے حارث کے لیے بنائی تھی تو اُس میں سے کچھ نکال کر ہانیہ کے لیے بھی رکھ لی تھی-
“میرا دل نہیں چاہ رہا”-وہ بوتل واپس رکھ کہ اُس کے پاس چلی آئی-اُس کے کندھے سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں-
“کیا بات ہے ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔”-عائشہ کو تشویش ہوئی-ہانیہ میکرونی کھانے سے منع کر رہی تھی اُس کی حیرت بجا تھی-
“ہاں ٹھیک ہوں”-وہ سکون کی خاطر اُس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی- “تم یہ اتنی ساری تیاری کس کے لیے کر رہی ہو؟ “-ہانیہ نے اتنے سارے لوازمات دیکھ کر کچھ حیرت کا اظہار کیا تھا-
“فہد بھائی اور مریم انٹی آئیے ہوئے ہیں اُن کے لیے بنا رہی ہوں”-عائشہ نے سرسری سے انداز میں جواب دیا مگر ہانیہ کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی-وہ ایک جھٹکے سے اُس سے الگ ہوئی-
“یہ لوگ کیوں آئیں ہیں؟ “-اُس نے غصے سے پوچھا- چاہنے کے باوجود بھی اپنی آواز کو آہستہ نہ رکھ پائی-
“ویسے ہی آئیں ہیں۔۔۔تم کیوں اتنا چلا رہی ہو”-عائشہ نے مڑ کہ ایک نظر اُس پر ڈالتے ہوئے کہا-
“اتنی عزت افزائی کے بعد بھی اِس ڈھیٹ انسان کو اثر نہیں ہوا۔۔۔۔ناجانے کونسی مٹی سے بنا ہے”-اُس کے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا کہ عائشہ دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو گئی-
“کیا بولے جا رہی ہو۔۔۔ہواس تو نہیں کھو گیے کہیں”-وہ اُس کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر زرا سخت لہجے میں بولی تھی-
ہاں تو اور کیا۔۔۔۔ہر دوسرے دن منہ اُٹھا کہ چلے آتے ہیں ۔۔۔اپنے گھر میں تو اُن کو چین ملتا نہیں دوسروں کا بھی چین حرام کرنے آجاتے ہیں”-اُس کی آنکھیں غصے کی شدت سے انگاروں کی طرح دہکنے لگی تھیں-
“ہانی۔۔۔۔کیا بکواس کر رہی ہو”-عائشہ نے اُس کو بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا-وہ اُسے اِس وقت کوئی زخمی بپھری ہوئی شیرنی لگ رہی تھی-
“وہی جو تم سن رہی ہو۔۔۔”-وہ بدتمیزی سے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی-عائشہ کو اُس سے خوف محسوس ہوا-
“تم پاگل تو نہیں ہو گئی”- عائشہ آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی-
“پاگل میں نہیں تم لوگ ہو گیے ہو جو اُن کے آنے پر خاطر مداریوں میں لگ جاتے ہو۔۔۔۔کنسی رشتے داریاں نبھا رہے ہو تم لوگ اُن سے”-وہ یقیننا اپنے ہواسوں میں نہیں تھی ورنہ وہ ایسی باتیں کبھی نہ کرتی-اُس کو شاید خود بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے-
“ہانی بی ہیو یور سیلف۔۔۔۔۔شرم آنی چاہیے تمہیں اِس طرح کی باتیں کرتے ہوئے”-عائشہ کی برداشت جواب دیتی جا رہی تھی-
“ہنہہہ ۔۔۔۔مجھے کیوں شرم آئے ۔۔۔شرم تو اُن کو آنی چاہیے جو جب مرضی منہ اُٹھا کر ہمارے گھر آجاتے ہیں”-اُس نے نخوت سے جواب دیا-
“ہانی۔۔۔۔۔”-عائشہ نے کھینچ کہ ایک زوردار تھپڑ اُس کے منہ پہ مارا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: