Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Episode 9

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – قسط نمبر 9

–**–**–

ہانیہ گال پہ ہاتھ رکھے حیرت اور صدمے سے عائشہ کو دیکھنے لگی-اُسے اِس بات کا یقین کرنے میں کئی پل لگے تھے کہ عائشہ نے اُس پر ہاتھ اُٹھایا-وہ اپنی جگہ فریز ہو چکی تھی-گال پہ اُس کی پانچوں انگلیوں کے نشان چھپ چکے تھے-ایک طویل خاموشی کے بعد وہ بولنے کے قابل ہوئی-
“عاشی تم نے مجھے مارا۔۔۔”-ہانیہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے-دونوں گالوں پہ چند لمحوں میں ہی ندیاں رواں دواں ہو گئیں-اُس کی آواز میں دکھ سے زیادہ حیرت تھی-
“ہاں میں نے تمہیں مارا کیونکہ تم اِسی لائق ہو”-وہ اپنے کیے پہ شرمندہ نہیں تھی-یہ بات ہانیہ کو مزید دکھی کر گئی-اُسے لگا تھا کہ وہ ابھی کہے گی سوری ہانی مجھ سے غلطی ہو گئی اور ہانیہ آگے سے تھوڑی دیر نخرے دکھائے گی مگر عائشہ ہمیشہ کی طرح اُسے ایموشنل بلیک میلنگ سے منا لے گی-ہانیہ نے یہ سوچا تھا مگر ایسا نہیں ہوا تھا-فہد مرتضی کے لیے اُس کے دل میں نفرت کا گراف اور بڑھ گیا-چند دنوں میں ہی وہ اُس کی زندگی کو جہنم بنا گیا تھا-
“جتنی تمہیں ڈھیل دی ہوئی ہے تم اتنا ہی سر پہ چڑتی جا رہی ہو۔۔۔کم از کم کسی بڑے کا ہی لحاظ کر لیا کرو۔۔۔بولنے سے پہلے سوچ تو لیا کرو کہ کیا بول رہی ہو۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح منہ پھاڑ کہ کچھ بھی بول دیتی ہو۔۔۔اگر مریم انٹی یہ سب سن لیں تو سوچو کیا گزرے گی اُن کے دل پر۔۔مگر تم کیوں سوچو گی کسی کے بارے میں ۔۔۔تمہیں اپنے علاوہ کسی کی پروا ہو تب نہ۔۔۔۔”-عائشہ بولتی جا رہی تھی بنا یہ سوچے کہ اُس کا ایک ایک لفظ ہانیہ کے دل میں کسی نشتر کی طرح لگ رہا ہے-اُس کا مان کرچی کرچی ہو کر اُس کا اندر زخمی کر رہا ہے-
لفظوں کی مار سب سے سخت ہوتی ہے- ان کے ساتھ کانٹے نہیں ہوتے مگر یہ کانٹوں سے ذیادہ چبتے ہیں ….ان میں زہر نہی ہوتا مگر انسان کی نس نس میں زہر پھیلا دیتے ہیں ..یہ تلوار نہیں ہوتے مگر تلوار کی تیز دھار سے بھی ذیادہ لگتے ہیں – ان کاوجود زبان سےنکلنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے مگر جاتے جاتے ایسا گہرا گھاو دے جاتا ہے کہ زندگی بھر لہو رستا رہتا اس سے ….یہ انسان کی روح میں سرایت کر جاتے ہیں اس کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں انسان بکھر جاتا ….مر جاتا ….حالانکہ لفظوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا- جیسے نمک کو پانی میں گھولیں تو وہ اپنا وجودکھو دیتا مگر اس پانی میں اپنا اثر ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتا – لفظوں کے زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ اگر بظاہر مندمل ہو بھی جائیں تو بھی زندگی بھر کے لئےنشان چھوڑ جاتے ہیں –
ہانیہ اپنی صفائی میں کچھ بھی کہنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ صفائی وہاں دی جاتی ہے جہاں گنجائش ہو اور عائشہ نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی- ہانیہ کو اپنی وجود بکھرتا ہوا معلوم ہوا-وہ چپ چاپ وہاں سے جانے لگی مگر کچن میں کے دروازے پر ساکت کھڑے فہد کو دیکھ کر رک گئی-وہ ناجانے کب وہاں آیا تھا-ہانیہ نے اُس پر زخمی سی نظر ڈالی اور اُس نظر نے فہد مرتضی کا دل چیر کے رکھ دیا-
“ہانی۔۔۔۔۔”-فہد نے اُسے پکارا-اُس پکار میں تڑپ تھی-محبت تھی-فکر تھی-ہر وہ جزبہ تھا جو فہد مرتضی ہانیہ شفیق کے لیےمحسوس کرتا تھا-
“یہی چاہتے تھے نہ آپ کہ میرا سب کے سامنے تماشہ بنے۔۔۔میں سب کی نظروں میں گر جاؤں۔۔۔سب مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں ۔۔۔”-وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کرب سے بولی- “آپ کامیاب ہو گئے اور اِس کا عملی نمونہ کچھ دیر پہلے آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو گا”-وہ انسووں کے درمیان بمشکل بول رہی تھی-کچھ فاصلے پہ کھڑی عائشہ حیرت سے سب دیکھ اور سن رہی تھی-ہانیہ اپنی بات کہہ کہ جا چکی تھی-
“فہد بھائی۔۔۔”-عائشہ نے اُس کے قریب آکر اُس کو پکارا-
“عائشہ آج کہ بعد اُس پر دوبارہ کبھی ہاتھ مت اُٹھانا ۔۔۔اسے میری پہلی اور آخری ریکوسٹ سمجھ لو”-وہ کہہ کہ رُکا نہیں تھا- لمبے لمبے ڈگ بھرتا لاؤنج کا دروازہ پار کر گیا-وہ دن اُس گھر میں فہد مرتضی کا آخری دن تھا-اُس نے وہاں سے نکلتے ہوئے قسم کھائی تھی کہ وہ اب کبھی اِس گھر میں قدم نہیں رکھے گا-اور آنے والے وقت میں یہ بات اُس نے سچ ثابت کر کے دکھائی تھی-
گھر جاتے ہی اُس کا ضبط جواب دے گیا-ڈی ایس پی فہد مرتضی ہانیہ شفیق کے لیے کسی بچے کی طرح ٹوٹ کر رویا تھا- کانٹوں پہ سفر کرنا کیسا ہوتا ہے یہ اُسے آج پتہ چلا تھا- نظروں سے انسان کیسے مرتا ہے یہ اُس نے تب جانا تھا جب ہانیہ نے اُس کو وہاں دیکھ کر اُس پر پہلی نظر ڈالی تھی- وہ مر گیا تھا ہمیشہ کے لیے اندر سے مر گیا تھا-ہانیہ اُس کی نہیں تھی اور نہ کبھی ہو سکتی تھی-
**************
وہ تصویر ہاتھ میں لیے بار بار اُس کو چوم رہی تھی-آنکھوں سے اشک تھے کہ خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے-
“ماما اگر آپ آج میرے پاس ہوتی تو دیکھتیں آپ کی ہانی کتنی تکلیف میں ہے۔۔۔۔وہ رو رہی مگر اُس کو کوئی چپ نہیں کروا رہا۔۔۔آپ مجھے چھوڑ کہ کیوں چلی گئیں ۔۔۔۔کیا آپ کو نہیں پتہ تھا کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے آپ بابا کو بھی اپنے ساتھ لے گئیں اور میں بلکل اکیلی ہو گئی ۔۔۔”-وہ پاگلوں کی طرح رو رہی تھی-
کرامت حسن کے بس دو ہی بیٹے تھے-بڑے رفیق حسن اور چھوٹے شفیق حسن۔۔وہ بیٹی جیسی نعمت سے محروم تھے-ہانیہ کے بابا شفیق حسن اور اُن کی اہلیہ ملیحہ شفیق دونوں اُسے چھوڑ کر جا چکے تھے-
وہ دس سال کی تھی جب اُس کی ماما بلڈ کینسر کی وجہ سے اُسے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئیں-تب وہ بچی تھی بہک گئی مگر جوں جوں بڑھی ہوتی گئی اُس کو اپنی ماما کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی-تب بابا نے اور باقی گھر والوں نے اُسے سنبھالا مگر جب وہ نائتھ کا لاسٹ پیپر دے کہ گھر آئی تو ایک قیامت اُس کی منتظر تھی- اُس کے پیارے بابا ایک روڈ ایکسڈینٹ کی وجہ سے اُسے چھوڑ کر چلے گئے ہانیہ شفیق اُس دنوں میں سہی معنوں میں یتیم ہو گئی-وہ تب بچی نہیں تھی-اُسے گہرے صدمے کی وجہ سے چپ لگ گئی-تب تائی اماں کرن اپی، ماریہ اپی، حارث، علی اور عائشہ نے اُس کا پھولوں کی طرح دیہان رکھا-بڑے ابو اُس کے منہ سے نکلنے سے پہلے اُس کی ہر خواہش پوری کر دیتے عائشہ نے ایک دوست اور بہن کی طرح اُس کا خیال رکھا-دادا جان اُس کا کسی چھوٹی بچی کی طرح دیہان رکھتے وہ آہستہ آہستہ سنبھل گئی-مگر آج جو ہوا تھا وہ ہانیہ کیسے بھولتی۔۔۔
دوپہر سے رات ہو گئی مگر وہ کمرے سے نہ نکلی۔۔۔۔ہر کوئی تقریباً ہو کہ جا چکا تھا مگر اُس نے دروازہ نہ کھولا-عائشہ نے دوپہر والی ساری بات سب کو بتا دی-رفیق حسن نے بیٹی کو بہت ڈانٹا وہ از حد پریشان تھے-تائی امی کی الگ جان نکلی جا رہی تھی-شکر تھا کہ دادا جان گھر پہ نہیں تھے- ورنہ طوفان آجاتا-کرن نے عائشہ کی الگ کلاس لی-جب سب حربے ناکام ہو گئے تو کرن نے فون کر کہ ماریہ کو بلا لیا-کیونکہ وہ واحد ہستی تھی جسکی بات ہانیہ نہیں ٹال سکتی تھی-وہ فورا چلی آئی-اُس نے پہلے تو عائشہ کی خوب کھنچائی کی پھر ہانیہ کے پاس آئی-اُس کی آواز سنتے ہی اُس نے کچھ لمہوں بعد ہی دروازہ کھول دیا تھا-
“ہانی میری جان۔۔۔۔”-ماریہ اُس کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئی-سوجی ہوئی آنکھیں خشک ہونٹ اور زردے کے طرح رنگ اُس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکھڑ لیا-ہانیہ اُس کی بانہوں میں بکھر گئی ماریہ سے سنبھالنا مشکل ہو گیا-
“ہانی پلیز چپ ہو جاؤ میرا دل بند ہو رہا ہے”-وہ اُس کے انسو صاف کرتے ہوئے بولی تو وہ کچھ سنبھلی-کرن نے اُسے پانی پلایا-
“اب بتاؤ کیا ہوا ہے؟ “-اُس نے اُس کا ہاتھ تھام کر پوچھا-تو ہانیہ نے روتے ہوئے سب کچھ بتا دیا-ماریہ نے عائشہ کی طرف گھور کر دیکھا جو پہلے ہی بہت شرمندہ تھی-اُسے ہانیہ پر غصہ نہیں آیا تھا کہ اُس نے ماریہ کو سب کچھ بتا دیا کیونکہ وہ جانتی تھی وہ بہت حساس ہے-جن بچوں کو بچپن میں ہی اِتنے دکھ مل جاتے ہیں وہ دوسرے بچوں کی نسبت واقعی ذیادہ حساس ہوتے ہیں-زرا زرا سی بات پہ ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ نیچلی ہوتا اِس میں اُن کا اپنا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا-
“تم فکر مت کرو میں تمہیں اپنے ساتھ کچھ دنوں کے لئے لے جاؤں گی”-ماریہ نے اُسے ساتھ لگا لیا-
“میں عاشی سے کبھی بات نہیں کروں گی اب”-وہ کسی چھوٹے کی طرح روٹھی ہوئی بولی-
عائشہ نے سب کے گھورنے پر پھر سر جھکا لیا-ماریہ نے چند گھنٹوں میں ہی اُس کا دل بہلا لیا-
**************
ہم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ہر خواہش
زندگی کی آنکھوں سے
اشک بن کے بہہ جائے
گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اُس بدن کے ملبے میں
خود ہی کیوں نہ دب جائیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عزاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گیے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اِس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں
کب عزاب ٹلتے ہیں
بچ کہ نکلنے کا بھی
راستہ نہیں جاناں!!!!
جس طرح تم کو بھی
لازوال لمہوں سے
واسطہ نہیں جاناں!!!
ہم نے بھی سوچ رکھا ہے
تم سے کچھ نہیں کہنا
فہد نے اُس کے بعد ہانیہ سے ملنے اور بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی-اُس نے خود کو اپنے کام میں بہت مصروف کر لیا-وہ صبح کا گیا رات گیے ہی گھر آتا اور کبھی کبھی تو آتا ہی نہ۔۔۔۔مریم بیٹے کی حالت پر ازحد پریشان تھیں-اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اُسے آخر ہو کیا گیا ہے-وہ پہلے کی طرح ہی سنجیدہ ہو گیا تھا-ہنسنا یا مسکرانا تو اس پر جیسے حرام تھا-وہ جب بھی پوچھتی تو کام کا بہانہ کر کے ٹال جاتا-وہ خود کو ہر طرح سے تکلیف دے رہا تھا-مریم کی راتوں کی نیند اُڑ گئی اور فہد تو شاید ہی اُس دن کے بعد کبھی سو سکا تھا-جب ذیادہ طبیعت خراب ہونے لگتی تو سلیپنگ پلز کا استعمال کرنا شروع کر دیتا-جب طبیعت سنبھل جاتی تو پھر وہی روٹین ۔۔۔پوری پوری رات اسموکنگ کرنا اُس نے اپنی روٹین بنا لی-وہ دن بدن اُس نشے کا عادی ہوتا جارہا تھا-
دن ڈھلنے کے قریب تھا-وہ کچھ دیر پہلے ہی ڈیوٹی سے دو دن گھر واپس آیا تھا-مریم نے اُس سے بات کرنے کی ٹھان لی-وہ کافی بنا کر اُس کے کمرے میں ہی چلی آئیں-راکنگ چئر پہ جھولتا وہ آنکھیں نیم وا کیے اسموکنگ کر رہا تھا-سامنے رکھا ایش ٹرے بھرا پڑا تھا-مریم کا دل ایک لمہے کے لئے دھڑکنا بھول گیا-پہلے بلیک کافی اور اب اسموکنگ ۔۔۔۔وہ دھیرے دھیرے زہر اپنے اندر لے کہ جا رہا تھا-
وہ کافی کا کپ ٹیبل رکھ کہ قالین پر ہی گھٹنوں کے بل اُس کے پاس بیٹھ گئیں-
“فہد۔۔۔۔۔”وہ رو پڑیں-فہد نے آنکھیں کھول کر اُن کو دیکھا-ہاتھ میں پکڑا آدھ جلا سگریٹ ایش ٹرے میں ڈال دیا-
“ماما پلیز اُٹھیں۔۔۔۔”-وہ اُنہیں اُٹھا کر بیڈ تک لے آیا-ہمیشہ کی طرح ان کو اوپر بٹھایا اور خود اُن کے قدموں میں بیٹھ گیا-
“کیوں دے رہے ہو مجھے یہ سزا۔۔۔۔”-اُن سے بولا نہیں جا رہا تھا-
فہد نے اُن کی گود میں منہ چھپا لیا-مریم اُس کے بالوں پر پاگلوں کی طرح بوسے دینے لگیں-
“فہد تمہیں کچھ ہو گیا نہ تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گی”-
“آپ ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں “-وہ تڑپ کر سیدھا ہوا-اُن کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ لیا-
مریم نے ناجانے کتنی ہی بار اُس کا ہاتھ چوما-
“بتاؤ تو سہی آخر کیا ہو ہے ؟”- اُنہوں نے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے لیا اور فہد مرتضی ایک بار پھر ٹوٹ گیا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: