Chori Jo Khanki Hath Main Novel by Pari Chehra – Last Episode 16

0
چوڑی جو کھنکی ہاتھوں میں از پری چہرہ – آخری قسط نمبر 16

–**–**–

فہد دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا- کمرے میں ملگجی سی روشنی ہو رہی تھی- اُس نے ایک نظر اپنے نفاست ذدہ کمرے پر ڈالی- کوئی بھی چیز اپنی اصلی حالت میں نہیں تھی- ہر چیز کا حلیہ بگاڑ دیا گیا تھا- پھولوں کی لڑیاں جو بیڈ کے گرد پہلے بڑی خوبصورتی سے سجی ہوئی تھیں اِس وقت زمین پر بکھری اپنی حالت پر ماتم کناں تھیں- اُنہیں کس قدر بے دردی سے نوچ کر پھینکا گیا تھا یہ اُن کی حالت سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا- کمرے کے سارے گلدان فرش پر کرچیوں کی صورت میں پڑے تھے- اور یہ سب کرنے والی خود اِس وقت بیڈ کے وسط میں گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہچکیاں لے رہی تھی- دوپٹے کو اتار کر صوفے پر پھینک دیا گیا تھا- فہد نے ایک تاسف بھری نگاہ ہر طرف ڈالی اور کانچ کے ٹکڑوں سے بچتا بچاتا بیڈ تک آیا- بیڈ کے ایک کنارے پر ٹک کر وہ کتنی ہی دیر اُس دشمنِ جاں کو دیکھتا رہا- سیاہ لمبے بالوں میں اُس کو چہرہ بلکل چھپا ہوا تھا- وہ اُسے مخاطب کرنے کے لیے الفاظ تلاشنے لگا-
“ہانی۔۔۔۔۔”- دھیرے سے اُسے پکارا- لہجے میں جزبات کی شدت بلکل واضح تھی-
ہانیہ نے ایک جھٹکے سے سر اُٹھا کر اُس کو دیکھا- رو رو کر آنکھیں سوجھ چکی تھیں- کاجل پھیل چکا تھا- میک اپ کا ستیاناس مار چکی تھی وہ-
“خبردار جو مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔۔”- وہ چلاتے ہوئے بولی-
فہد کے دل کو کچھ ہوا- وہ فوراً اُس کے قریب ہوا-
“ہانی میری بات سنو پلیز۔۔۔۔”- اُس نے اُس کو شانوں سے تھامتے ہوئے کہا تو وہ بدک کر پیچھے ہٹی- پورے جسم میں بجلی سی کوند گئی تھی-
“کہا نہ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔۔”- وہ پھر رونا شروع ہو گئی-
“تو اور کس سے بات کروں پھر۔۔۔۔”- فہد بے بسی سے بولا-
“جس سے مرضی کریں ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔”-وہ اُس سے کچھ فاصلے پر ہوئی-
“سوری۔۔۔۔”- فہد نے اپنے بالوں کو مٹھی میں جھکڑتے ہوئے کہا مگر وہ ہنوز ناراض رہی- اُس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا-
“ہانی میری جان۔۔۔۔۔”- فہد نے اُسے بانہوں کے گھیرے میں لے لیا-
“نہیں ہوں میں آپ کی جان۔۔۔۔اپنی جان کے ساتھ کوئی ایسے کرتا ہے”- وہ مزاحمت کرنے لگی- حصار کو توڑنے کی کوشش کی-
“کیا کر دیا میں نے ایسا۔۔۔۔۔”- فہد حیران ہوا-
“آپ مجھے چھوڑ کر کیوں گیے تھے”- وہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی تو فہد کا دل چاہا ایسی معصومیت پر فدا ہو جائے- کیا شان تھے محترمہ کے پہلے خود ہی دور رہنے کے لئے کہا اور اب شکوہ کر رہی تھیں کہ وہ اُس کو چھوڑ کر کیوں گیا-
“تم نے خود تو کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہے۔۔۔۔میں تمہارے سامنے نہ آیا کروں”- وہ اُس کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے بولا- ہانیہ اُس کا چہرہ دیکھنے لگی-
“تو آپ نے سچ مچ ایسا کر دیا”-وہ مدھم سے لہجے میں بولی-
“تمہاری بات کیسے ٹال سکتا تھا ہانی۔۔۔”- فہد نے اُس کے انسو اپنی پوروں پر چن لیے- ہانیہ کو لگا جیسے زندگی سے سارے غم دور ہو گیے ہوں- اُس کے اندر تک سکون اتر گیا-
“میں نے آپ کو بہت مس کیا تھا۔۔۔۔”- وہ اُس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی- فہد نے کسی قیمتی متاع کی طرح اُسے سمیٹ لیا- یہ وہ لڑکی تھی جس کو اُس نے پوری شدتوں سے چاہا تھا- جس کو پانے کے لیے وہ لمحہ لمحہ تڑپا تھا-
ہانیہ آنکھیں موندیں لمبے لمبے سانس لینے لگی- اندر کی ساری گھٹن باہر نکال دی-
“یار کیا حال بنا لیا اپنا۔۔۔۔ابھی تو میں نے ٹھیک سے تمہیں دیکھا بھی نہیں تھا اور تم نے اپنا حلیہ بگاڑ دیا”- وہ اُس کی حالت دیکھ کر افسوس سے بولا-
“یہ سب آپ کی وجہ سے ہی ہوا ہے” – وہ اپنی غلطی کسی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی-
“اچھا ایک بات تو بتاؤ؟ “- وہ اُس سے الگ ہوئی تو فہد سیدھا ہو کہ اُس کے سامنے بیٹھ گیا-
“کیا؟ “- ہانیہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا-
“اب تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو اب تم مجھے خود سے دور ہونے کے لیے نہیں کہو گی نہ۔۔۔؟”- وہ معصومیت سے بولا-اُس کے مہندی اور چوڑیوں سے سجے ہاتھ تھام لیے-
“میں نے کب کہا کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں”- ہانیہ نے اُس کی چالاکی پر اُس کو مصنوعی گھوری سے نوازا-
“تو میڈم آپ نے یہ بھی تو نہیں کہا نہ کہ آپ نہیں کرتیں”- وہ اُس کی بات پر مسکرایا تھا-
“اور یہ بھی نہیں کہا کہ کرتی ہوں”- وہ اُسے تنگ کرنے لگی-
“اوکے فائن۔۔۔”- فہد نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اُس کے ہاتھ چھوڑ دیے-
“ناراض تو نہیں ہوئے نہ۔۔۔۔”- وہ اُس کی طرف جھکتے ہوئے بولی-
“تمہیں کونسا فرق پڑتا۔۔۔۔”- وہ خفگی سے بولا تو ہانیہ کو اُس پر ڈھیروں پیار آیا- وہ روٹھا ہوا بہت معصوم لگ رہا تھا- اُس شخص کے لیے اُس کے دل میں کئی گنا پیار بڑھ گیا- وہ واقعی بہت خوش قسمت تھی-اتنی محبت بھی تو قسمت والوں کو ملتی ہے- اُسے خود پہ رشک آیا-
“بہت فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔”- وہ اُسے مزید ناراض نہیں کر سکتی تھی-
“اچھا چلو پھر کہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے”- وہ اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو ہانیہ نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑوا لیا-
“یہ چیٹنگ ہے ۔۔۔”- اُس نے دہائی دی-
“کوئی چیٹنگ نہیں ہے۔۔۔۔چلو بولو”- وہ اُسے فورس کرنے لگا-
“میں نہیں بولوں گی”- اُس نے پھر نخرے دکھائے-
“پلیز بولو ہانی ۔۔۔۔بس ایک بار ۔۔۔۔پلیز”- وہ ضد کرنے لگا-
“نہیں ۔۔۔”- ہانیہ کو اُسے تنگ کرنے میں مزہ آنے لگا-
“اچھا چلو یہ بتاؤ تمہیں اِس دنیا میں کس چیز سے سب سے ذیادہ پیار ہے؟”- فہد جانتا تھا کہ وہ اتنی آسانی سے نہیں مانے گی- اِس لیے اُسے ٹریک سے نیچے اتارتے ہوئے پوچھنے لگا-
“مجھے اِس دنیا میں سب سے ذیادہ پیارچوڑیوں سے ہے”- وہ اُس کو مزید تنگ کرنے لگی-
“واٹ۔۔۔۔”- فہد کو اِس جواب کی اُمید نہیں تھی- وہ حیرانگی سے بولا-
“ہاں سچی۔۔۔۔مجھے چوڑیوں سے بہت پیار ہے”- وہ اپنی کلائی میں پہنی سرخ چوڑیوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی-
“آپ کو کس سے ہے؟ “- وہ جانتی تھی پھر بھی پوچھ لیا-
“مجھے پھولوں سے بہت پیار ہے”- فہد نے بھی اُسے وہ جواب نہ دیا جو وہ سننا چاہتی تھی- تھوڑا تو تنگ کرنے کا حق اُس کا بھی بنتا تھا-
“اور مجھ سے۔۔۔۔”- ہانیہ صدمے سے بولی-
“تم سے۔۔۔۔”- وہ سوچ میں پڑ گیا- “تم بھی اچھی لگتی ہو مجھے”- وہ انجان بن رہا تھا-
“بس اچھی۔۔۔”-ہانیہ نے حیرت سے اُس کو دیکھا- “جاؤ میں آپ سے بات نہیں کروں گی”- وہ ناراض ہوئی-اُٹھ کر جانے لگی-
“ارے یار یہ ظلم مت کرنا پلیز۔۔۔۔مزاق کر رہا تھا میں۔۔۔”- فہد نے اُس کو روکا-
“سچ بول رہے ہیں ۔۔۔”- وہ مشکوک ہوئی-
“تمہاری قسم۔۔۔۔”- فہد نے پیار سے اُس کو دیکھا-
“اچھا میں چینج کر کے آتی ہوں”- وہ اب اتنے ہیوی ڈریس سے تنگ آچکی تھی-
“چلو ٹھیک ہے جلدی آنا۔۔۔۔”- فہد بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے بولا تو وہ مسکراتے ہوئے چینج کرنے چلی گئی-
**************
اگلی صبح بڑی چمکیلی اور روشن تھی- رات بھر ہونے والی بارش کے بعد مطلع صاف ہو گیا تھا- فہد شاور کے کر واپس کمرے میں آیا تو وہ ابھی تک سو رہی تھی- اُس کے بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے- اُس نے ایک پیار بھری نظر اُس پر ڈالی اور چلتا ہوا قریب آگیا- کتنی ہی دیر اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا- پھر جھک کر اُس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے- وہ تھوڑا سا کسمسائی تھی مگر جاگی نہیں تھی- کروٹ بدل کر سو گئی-
“ہانی۔۔۔۔۔”- فہد نے اُسے ہلایا- وہ چیخ مار کر اُٹھ بیٹھی- فہد خود بھی ڈر کے تھوڑا پیچھے ہو گیا-
“کک کیا ہوا؟ “- اُس نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا-
“صبح ہو گئی ہے میڈم اُٹھ جائیں ۔۔۔”- وہ ایک لمبی سانس خارج کر کہ اُس کے نزدیک بیٹھ گیا-
“کب ہوئی؟ “- وہ ابھی تک ہونقوں کی طرح اُسے دیکھ رہی تھی-
“جب تم خوابوں کی وادی میں گھوم رہی تھی”- وہ دراز کھول کر کچھ دیکھنے لگا-
“ویسے تم دنیا کی پہلی دلہن ہو گی جو ایسے چیخ مار کر اُٹھی ہے”- فہد نے ایک مخملی ڈبیا نکالی- اُس میں ایک ڈائمنڈ رنگ تھی-
“سوری یار رات کو نہیں دے پایا- منہ دکھائی کا تحفہ ویسے تو رات کو ہی بنتا ہے مگر شادی اتنی جلدی میں ہوئی ہے کہ اِس کا ٹائم ہی نہیں ملا- ابھی منگوائی ہے”- وہ اُس کی انگلی میں پہناتے ہوئے بتانے لگا- ہانیہ حیرت سے اُس کا چہرہ دیکھ رہی تھی- صفائی دینے کی ضرورت نہیں تھی مگر وہ پھر بھی دے رہا تھا-
“کیسی لگی۔۔۔۔”- وہ اُسے چپ پاکر گویا ہوا-
“بہت پیاری ہے۔۔۔”- وہ بمشکل یہی بول پائی- اچانک سے ناجانے کیوں اتنی شرم آرہی تھی-
“تم سے ذیادہ پیاری نہیں ہے۔۔۔۔”- فہد نے اُس کے ہاتھ کی پشت کو چوما تھا- ہانیہ کے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا- پوری جان ہاتھ میں سمٹ آئی-
“اچھا اب بولو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے”- وہ پھر رات والی بات لے کر بیٹھ گیا-
“میں نہیں بولوں گی۔۔”- وہ پھر انکاری ہوئی-
“میں اب کی بار سچ میں ناراض ہو جاؤں گا”- فہد نے دھمکی دی-
“ہو جائیں ۔۔۔۔”- وہ شرارت سے بولی-
“پلیز ایک بار بول دو میں ترس گیا ہوں سننے کے لیے۔۔۔”- وہ اُس کی منت کرنے لگا-
“ابھی نہیں ۔۔۔”- اُس نے بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیے-
“کب بولو گی۔۔۔۔”- وہ ناجانے کیوں اتنا فورس کر رہا تھا-
“جب موڈ ہو گا”- ہانیہ بھی اپنے نام کی ایک تھی-
“ابھی بنا لو نہ موڈ۔۔۔۔”- وہ اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بے چارگی سے بولا-
“پھر کبھی بولوں گی۔۔۔۔جب موڈ ہو گا”- ہانیہ ابھی بھی اُسے تنگ کرنے سے باز نہ آئی- ٹیبل پہ پڑا اپنا کافی کا مگ اُٹھا لیا جو اُس کے سونے کے دوران رکھا گیا تھا- فہد اپنی پی چکا تھا-
“اور کیا پتہ جب تمہارا موڈ ہو تب میں تمہارے پاس ہی نہ ہوں ۔۔۔۔”- اُس کے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا جس نے ہانیہ کو سن کر دیا- کافی والا مگ ہاتھ میں لرزنے لگا-
“فہد۔۔۔۔”- وہ بے یقینی سے اُسے دیکھنے لگی-
“ایک بار بول دو ہاں کیا جائے گا تمہارا۔۔۔۔”-وہ بے چینی سے بولا تھا-
“میں نہیں بولوں گی آپ نے کیوں کہا ایسے۔۔۔۔”- اُس کی آنکھوں میں انسو آگئے-
“اچھا جاؤ میں اب بات نہیں کروں گا”-اُس نے ہانیہ کا ہاتھ چھوڑ دیا-وہ ناراض ہو کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا-
ہانیہ نے اُسے پکارا مگر وہ نہ رکا-وہ فہد کے اتپُنے عجیب سے رویے پر حیران تھی- اچانک سے اُسے ناجانے کیا ہو گیا تھا-اُس کا دل گھبرانے لگا- عجیب سی بے چینی رگ رگ میں سما گئی- اُس نے کافی کا مگ ویسے کا ویسا ہی واپس رکھ دیا-فہد کچھ دیر بعد ہی ناراض ناراض سا کمرے سے نکل گیا- ہانیہ کو دکھ ہوا-
****************
ولیمے کی تقریب رات کو تھی- پورا دن اُس کے گرد فہد کی کزنز گھیرا ڈالے بیٹھی رہیں-ؤ ہانیہ کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا- فہد کی ناراضگی اُس کی جان نکال رہی تھی- پورا دن وہ اُس کو نظر نہ آیا- عائشہ شام سے زرا پہلے آئی تو اُسے کچھ حوصلہ ہوا- لڑکیاں ایک ایک کر کے کمرے سے نکل گئیں-
“عاشی فہد کہاں ہے؟ “- کمرہ خالی ہوتے ہی اُس نے عائشہ سے پوچھا تو وہ جو اُس کا ولیمے کا ڈریس سیٹ کر رہی تھی حیرانگی سے اُسے دیکھنے لگی-
“ہزبینڈ تمہارا ہے مجھے کیا پتہ ہو۔۔۔۔”- وہ اُسے گھور کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئی-
“وہ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔”- اُس نے افسردگی سے بتایا-
“اے لو۔۔۔۔ایک دن میں ہی ناراض بھی کر دیا۔۔۔کیا بنے گا تمہارا ہانی۔۔۔۔مجھے تو تمہارے فیوچر کی ٹینشن لگ گئی ہے”- عائشہ سر تھام کہ بیٹھ گئی-
“ذیادہ ڈرامے نہ کرو اب۔۔۔۔”- وہ اُسے گھور کر بولی-
“اچھا ویسے وہ ناراض کیوں ہوئے ہیں “- عائشہ پھر سے اپنے کام میں لگ گئی-
“یہ میں تمہیں کیوں بتاؤں۔۔۔۔ہماری پرسنل بات ہے”- وہ ناک سکوڑ کر بولی-
“تو اپنا یہ پرسنل مجھے بتایا کیوں تھا”- عائشہ نے اُس کو بازو پہ چٹکی کاٹی-
“افففف ظالم۔۔۔۔۔دلہن ہوں میں اور دلہن کے ساتھ ایسے کرتے ہیں”- وہ اپنا بازو سہلانے لگی-
“تو دلہنوں والی حرکتیں کرو نہ تم بھی۔۔۔۔”- اُس نے بھی دو بدو جواب دیا- “ویسے ہانی تم بہت چھپی رستم ہو۔۔۔۔محبت کا ڈھنڈورا میران شاہ سے پیٹا اور شادی فہد بھائی سے کر لی۔۔۔۔واہ واہ۔۔۔۔آپ کی تو کیا ہی بات ہے”-وہ اُسے چھیڑنے لگی-
“یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے میں اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔۔تم سے میں بہت اچھے سے نبٹوں گی۔۔۔ابھی تم مجھے یہ بتاؤ کہ میں اُس کو کیسے مناؤں”- وہ یاد آنے پر پھر پریشان ہو گئی-
“ارے یار فہد بھائی تم سے ناراض ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔۔اویں ٹینشن لے رہی ہو”- عائشہ نے اُس کو تسلی دی-
“پتہ نہیں کہاں غائب سے صبح سے۔۔۔۔”- اُس کی پریشانی جوں کی توں تھی-
تبھی وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا-دونوں اُس کی طرف متوجہ ہوئیں-
“آئیے آئیے فہد بھائی آئیے ۔۔۔۔لوگ پلکیں بچھائے آپ کے منتظر ہیں ۔۔۔۔اپنا دیدار کروا دیں اُن کو”- اُسے دیکھتے ہی عائشہ شوخ ہوئی- وہ اُن کے پاس ہی چلا آیا- ہانیہ کے پاس بیٹھا تو وہ خود میں سمٹ گئی-
“رئیلی۔۔۔۔ویسے لگ تو نہیں رہا ایسا کچھ۔۔۔۔”- اُس نے شرارت سے ہانیہ کو ایک نظر دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی-
“ہاں بلکل۔۔۔۔بار بار آپ کو یاد کیا جا رہا”- وہ ہانیہ کے شرمائے لجائے کو دیکھ کر بولی- اُس کے چہرے پر دھنک رنگ بکھر گئے تھے- عائشہ نے دل میں اُس کی خوشیوں کی دعا مانگی-
“یقین تو نہیں آرہا مجھے۔۔۔۔”-وہ پھر بولا-
“میں چلتی ہوں آپ زرا یقین کر لیں پلیز۔۔۔۔”- عائشہ چیزیں سمیٹتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی-
“تھینک یو۔۔۔۔”- فہد نے شرارت سے کہا تو وہ اُسے گھورنے لگی-فہد مسکرایا-
“بہت تیز ہیں آپ ویسے۔۔۔۔۔”- وہ ہنستی ہوئی باہر نکل گئی-
“جی تو آپ بتائیں زرا محترمہ آپ کا دماغ ٹھکانے پر آیا کہ نہیں ۔۔۔۔”- وہ ہانیہ کی طرف مڑا-
“نہیں ۔۔۔۔”- وہ بڑے آرام سے بولی-
“یہی امید تھی تم سے مجھے ظالم لڑکی۔۔۔”- فہد نے منہ بناتے ہوئے کہا-
“ویسے آپ تھے کہاں صبح سے۔۔۔۔ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا۔۔۔۔”- وہ اُس کے کندھے سے سر ٹکاتے ہوئے بولی تو فہد نے بازو سے اُس کے گرد حصار بنا لیا-
“تم نے مجھے مس کیا تھا”- وہ اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا-
“بہت ذیادہ۔۔۔۔”-وہ بلا تردود اقرار کر گئی- فہد کو خوش گوار سی حیرت ہوئی-
“میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا تھا سچی۔۔۔۔”- وہ ایک دم خوش ہو گیا- اُس کے لئے اتنا ہی کافی تھا-
“آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں ۔۔۔۔”- ہانیہ نے سر اُٹھا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا- جہاں محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا-
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔۔۔بھلا کوئی اپنی زندگی سے ناراض ہو سکتا”- وہ انسان واقعی سراپا محبت تھا-
“ایک بات پوچھوں ؟”- ہانیہ نے کچھ سوچ کر ہوچھا-
“دو پوچھ لو۔۔۔۔”- وہ فراخدلی سے بولا-
“آپ میران شاہ کے بارے میں سب جانتے ہیں ۔۔۔آپ کے دل میں اُس کے حوالے سے کوئی سوال تو نہیں ہے۔۔۔۔”- وہ پوچھتے ہوئے جھجک رہی تھی-
“ہانیہ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میں تم پر خود سے بڑھ کر ٹرسٹ کرتا ہوں۔۔۔۔میران شاہ کے حوالے سے میرے دل میں نہ کل کوئی بات تھی نہ آج ہے۔۔۔۔اور تم میری بیوی ہو اب تو کسی شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے”- وہ دھیرے دھیرے اُس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا-
“میران شاہ تمہارا ماضی تھا۔۔۔اس لیے کبھی بھی یہ مت سوچنا کہ میں تمہیں اُس کے حوالے سے کوئی طعنہ دوں گا یا کبھی تم پر شک کروں گا۔۔۔۔میری سوچ اتنی چھوٹی نہیں ہے۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم بہت معصوم اور پاکیزہ ہو”- مرد جب عورت کو اعتبار کی امید دلاتا ہے تو وہ خود کو بہت خوش قسمت تصور کرتی ہے- عورت محبت سے ذیادہ عزت کی کرنے والے سے پیار کرتی ہے-ہانیہ کو لگا اگر اِس دنیا میں کوئی انسان لفظوں سے جادو کرتا ہے تو وہ فہد مرتضی ہے- وہ شخص اُسے اس وقت دنیا کا سب سے خوبصورت لگا-
“آئی لو یو فہد۔۔۔۔آئی رئیلی رئیلی لو یو۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں”- ہانیہ نے اُس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ جو کل سے اُس کی منتیں کر رہا تھا- وہ اتنی آسانی سے بول دے گی- اُس کو لگا اگر کچھ سچ تھا تو صرف وہ جو ہانیہ بول رہی تھی اور ہانیہ کے لیے وہ سچ تھا جو فہد بول رہا تھا باقی سب جھوٹ تھا-
میران شاہ جیسا بھی تھا مگر اُس نے ایک چھوٹی سی بات پر ہانیہ پر شک کیا تھا- اور ہانیہ کے دل سے وہ اُسی دن اُتر گیا تھا- ہانیہ کو اُس سے محبت تھی مگر فہد مرتضی سے عشق تھا- وہ انسان جو اُس سے محبت کے ساتھ ساتھ اُس کی عزت بھی کرتا تھا- اُس پر اعتبار کرتا تھا اور ہانیہ کو اِس سے ذیادہ اور کس چیز کی خواہش تھی-
“تھینک یو ہانی۔۔۔میری زندگی میں آنے اور اُسے مہکانے کے لیے”- فہد نے اُس کے بالوں پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا تو ہانیہ کے اندر باہر سکون چھا گیا-
خوشیاں اُن کی زندگی میں ڈھیرا جمانے آچکی تھیں- زندگی اب اُس کے سنگ بہت پرسکون گزرنی تھی- ہانیہ نے سکون سے آنکھیں موند لیں-

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: