Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 1

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

یہ کہانی پنجاب کے ایک گاؤں کی ہے، یہ گاؤں کافی بڑا اور خوبصورت ہے، چاروں طرف کھیت اور درخت گاؤں کو مزید خوبصورت بناتے تھے۔۔
آج کے ماڈرن دور میں بھی اس گاؤں میں کچھ دقیانوسی رسم رواج پائے جاتے ہیں، اس گاؤں میں آج بھی لڑائی جھگڑے ،قتل و غارت ہو یا کوٸی بھی مسئلہ مسائل ہو، فيصلوں کا حق صرف پنچایت کو حاصل تھا۔۔
______________________***
پنجاب کا یہ گاؤں کافی امیر تھا، پر اس میں دو خاندان امیری میں سب سے اوپر تھے۔۔۔۔
ایک سیدوں کا خاندان اور دوسرا خانوں کا خاندان تھا۔۔
اور پنچایت کا سربراہ بھی سید مجید علی شاہ تھا۔۔
سید مجید کی فیملی میں ان کی بیگم ثروت شاہ اور دو بیٹے تھے، بڑا بیٹا سید جابر علی شاہ تھا، چھوٹا بیٹا سید جازب علی شاہ تھا۔۔۔
جابر شاہ سارا کا سارا اپنے باپ پر گیا تھا۔ ظالم، مغرور، عیاش ، بدتمیز، بد لحاظ، اور اپنے باپ کا فخر تھا۔ وہ ایک بگڑا ہوا نوابزادہ تھا۔۔
جب کے جازب شاہ بلکل اس کے برعکس اپنی ماں کی طرح نرم دل سلجھہ ہوا انسان تھا۔۔
مجید شاہ کے بےحد اصرار پر بھی جابر شاہ نے شادی نہیں کی تھی۔۔ اسکا کہنا تھا بابا ساٸیں ابھی شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا ابھی زندگی کو انجواۓ کرنا ہے۔ اور مجید شاہ بھی ٹھنڈی آہ بھر کے رہ جاتے۔۔
جب جابر شاہ کے انکار کو دیکھتے ہوۓ، مجید شاہ نے جازب کی شادی کرنے کا ارادہ کیا جسے فرمانبردار جازب نے خوشی سے قبول کیا اور مجید شاہ کی بہن کی بیٹی ثناء سید حویلی میں ثناء جازب شاہ بن کر آئی اور اب ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، بیٹا پندرہ سال کا شاہ خاندان کا اکلوتا وارث اور بیٹی دو سال کی تھی،۔۔
جابر شاہ نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی۔۔۔۔
_____________________***
بھایی میں باغ میں جارہی ہوں لالا نے پوچھا تو بتانا کے میں ارم کے ساتھ جاو گی۔۔ ثمن اپنی بھابی کو بتاتے ہوئے بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی ۔۔
یہ ثمن تھی زین علی خان کی چھوٹی بہن۔۔
زین خان آج کل ثمن کی شادی کا سوچ رہا تھا۔۔
آپ شاید کنفیز ہورہے ہیں تو زین علی خان کی فیملی کے بارے میں بتاتی ہوں۔۔۔
زین علی خان کی ماں بتول خانم تھی اور چھوٹی بہن ثمن خانم، دو سال پہلے ہی شمروز علی خان،
زین خان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا، اور سب ذمہ داری زین علی خان پر آگی تھی یعنی چھوٹے خان پر، زین کی شادی کو نو سال ہوچکے تھے اسکی بیوی کا نام خانم زارا زین تھا جو زین علی خان کی من چاہی تھی۔۔۔۔
اس کے دو بچے تھے ایک بیٹا ایک بیٹی،،۔۔۔
بیٹا سات سال کا اور بیٹی آٹھ سال کی تھی۔۔۔
______________________***
پنجاب کے اس گاؤں میں کوئی بھی غریب نہیں تھا البتہ اس گاؤں میں ریٸس اور کروڑ پتی صرف دو ہی خاندان تھے، ایک سید خاندان اور دوسرا خانوں کا خاندان،،۔۔
زین علی خان بھی سید مجید شاہ کے ہم پلے تھا پر سیدوں اور خانوں میں برسوں سے چلتی آرہی خار کبھی کبھار گاؤں کا ماحول خراب کرنے کا باعث بنتی تھی کھبی سیدوں کی فصل خانوں کے آدمی خراب کرتے نظر آتے تو کبھی سیدوں کے آدمی خانوں کے ڈیری فارم میں آگ لگاتے دیکھے جاتے دونوں خاندانوں نے کبھی خود سے میدان میں آنے کی پہل نہ کی تھی دونوں طرف صرف آدمیوں کے زریعہ ہی بدلہ لیا جاتا۔۔
_____________________***
سلام!!
بابا ساٸیں آؤ آؤ میرا شیر آیا ہے۔۔
مجید شاہ نے فحر سے سینہ چوڑا کرتے جابر شاہ کے بغلگیر ہوتے ہوۓ کہا۔
دس لاکھ چاہیے تھے۔۔ بابا ساٸیں۔۔
کسی پارٹی شارٹی کا پرگرام ہے کیا۔ مجید شاہ نے پوچھا۔۔ وہ بابا ساٸیں میرا دوست لندن سے واپس آیا ہے تو اسے پارٹی دینی ہے۔۔ ابھی سے انتظام کرنا ہوگا رات میں ہے آخر اسے بھی تو پتہ چلے نہ کے وہ ہمارے پنجاب میں آیا ہے۔۔
ارے واہ واہ میرا شیر پتر بلکل مجھ پر گیا ہے اور تجھے کب سے میری اجازت کی ضرورت پڑنے لگی پتر نکال لے جتنے چاہیے ہیں پر سن مہمانوازی میں کمی نہیں ہونی چاہیے آخر کار میرے پتر کا دوست ہے نہ جی بابا ساٸیں،،
شاہ جی بہت سر چڑھایا ہے آپ نے جابر کو کہیں آپ ہی کی پگ پر مٹی نہ ڈال دے ثروت بیگم نے پرشانی سے کہا۔۔
ارے ثروت میرے شیر میرا فحر ہے آئندہ خیال رکھنا۔۔
مجید شاہ تکبر سے بولے۔۔
_____________________***
ارم،ثمن،ایمن،سویرہ،انم،
اور بھی بہت سی لڑکیاں باغ میں پیٹو گرام کھلنے میں مشغول تھی۔۔۔
یہ باغ ہر طرح کے پھولوں کا تھا اور بہت خوبصورت تھا اور جنگل کے قریب ہی تھا، اس سے آگے سیدوں کا فارم ہاوس یعنی ڈیرا تھا اور دوسری طرف نہر اور نہر کے بلکل سامنے خانوں کا ڈیرا تھا۔۔
سیدوں کا ڈیرا تو ہر روز بلکے ہر شام آباد رہتا پر خانوں کے ڈیرے پر صرف خانوں کے خاص آدمی ہی ہوتے زیادہ تر۔۔زین خان بھی ڈیرے پر آتا تھا پر کبھی کبھار ۔۔
پر اس وقت عصر ہونے والی تھی کے باغ میں سب لڑکیاں پیٹو گرام کھیل میں مصروف تھی ۔۔
ارے انم تم نے بےایمانی کی ہے پاٶں مار کے سویرہ نے بھی ارم کی بات سے اتفاق کیا نہیں مینے کوئی بےایمانی نہیں کی ہے انم اپنی بات پر قاٸم تھی۔۔ ایسے ہی انم کی ٹیم کی لڑکیوں نے کھیلنے سے ہی انکار کر دیا اور اپنی ساتھی لڑکیوں کو لیکر گھر کی جانب چل پڑی۔۔
پیچھے سویرہ،ارم،ثمن ہی رہ گی تھی۔۔
یار یہ منہوس ماریاں تو سچ میں نکل گئی ہے ثمن نے کہا اچھا دفا کر انکو ہم آم توڑتے ہیں ارم نے کہا پر ۔مجھے تو درخت پر چڑھنا بھی نہیں آتا، ثمن نے معصوم شکل بناتے ہوئے کہا۔۔
اچھا تم ادھر بیٹھوں ہم دونوں توڑ کر لاتی ہیں سویرہ نے کہا، یار دیکھو مغرب بھی ہونے کو ہے گھر چلتے ہیں لالا بھی آنے والا ہوگا ثمن نے کہا یار کچھ نہیں ہوتا تو ادھر رک ہم آتے ہیں ارم نے کہا اور دونوں درخت پر چڑثنے لگی۔۔
_____________________***
آج سیدوں کے ڈیڑے پر معمول سے کچھ زیادہ اہتمام ہو رہا تھا۔۔۔
دیگے پک رہی تھی مختلف کھانوں کی اور موسيقی کا بھی کافی انتظام تھا اور ڈیرے کے کافی دور سے بھی میوزک کی آواز آرہی تھی۔۔
ارے یار یہ سیدوں کے ڈیرے پر آج کچھ زیادہ رونق ہے کیا وجہ ہے گاٶں کے ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا تمہیں نہیں پتہ آج جابر شاہ کا دوست باہر سے آیا یے تو جابر شاہ نے اس کی دعوت کی ہے اووو اچھا ہاں جی اور دعوت بھی ایسی ہے کے دیکھتے رہ جاؤ گے ۔۔
کیوں ایسی کیا خاص بات ہے دعوت میں..؟؟ دوسرے آدمی نے پوچھا
“یار آج پینے اور پلانے کے ساتھ ساتھ شباب کا بھی دور ہے ادھر اچھا دوسرا آدمی حیرانی سے کہتا ہوا اٹھا۔۔ ہاں جی اور سب شہر کے دوست ہونگے جابر شاہ کے آج رات تو بڑی رنگینیاں ہونگی۔۔
اوو یار تو جابر شاہ پہلے کون سا یہ سب نہیں کرتا لڑکی شراب تو اس کا روز کا کام ہے۔۔ پر آج اس محفل میں مجرا بھی شامل ہے نہ دوسرے نے کہا اور دونوں ہنستے ہنستے گھر کی جانب چلے گئے۔۔۔
_____________________***
مغرب کی ازان شروع ہو چکی تھی بتول خانم اور زارا خانم پرشان ہو رہی تھیں ثمن خانم کے لیے اور اوپر سے زین خان بھی گھر میں نہیں تھا دونوں عورتیں کرتی بھی تو کیا کرتی بیشک ان کے ہاں نوکر چاکر تھے پر مغرب سے پہلے سب چھٹی کرجاتے تھے اب دونوں ساس بہو ثمن کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی۔۔۔
زین صبح سے شہر کسی کام کے تحت گیا ہوا تھا اور اسے کافی دیر ہوچکی تھی۔۔۔
زارا خانم بچوں کو کھانا کھلا کر سلادو پھر دونوں چلتی ہیں ثمن کو دیکھنے ارم کے ہاں ہو گی جھلی ۔۔ بتول خانم نے جیسے خود کو یقین دلایا تھا جی اماں زارا جی کہتی ہوئی کچن کی طرف چلی گٸ۔۔
_____________________***
ارم اور سویرہ آم تورنے میں لگی تھی کے اب اندھرا ہورہا تھا۔ یار بس کرو گھر چلو ثمن کو اب جیسے دل نے انہونی کا پتہ دیا تو ثمن نے دہل کر دونوں کو چلنے کو کہا۔۔
دونوں اترنے ہی والی تھی کے دو گولڈن رنگ کے گیدڑ ثمن کی طرف آتے دیکھے ثمن بھاگ گیدڑ وہ دونوں درخت پر سے ہی ثمن کو بولی ثمن بہت ڈر گئی اور اندھا دھند بھاگںنے لگی۔۔
ثمن بس بھاگ ہی رہی تھی اسے نہیں پتہ تھا کے وہ کن لوگوں کے ڈیرے کی طرف جاریی ہے ایک موت سے بچنے کے لیے دوسری موت کے منھ میں جارہی ہے، وہ بھاگے جارہی تھی اپنے بہیانک انجام سے بیخبر ۔۔
گیدڑ اب بھی اس کے پیچھے تھے۔۔
اور ثمن بھاگ رہی تھی ثمن کو ایک گھر سا نظر آیا جدھر سے میوزک کی آواز آرہی تھی۔ بس اس نے سوچ لیا تھا اسے اس گھر میں جانا تھا اپنی جان بچانے کے لیے۔۔۔
_____________________***
زین علی خان اپنی زمینوں کے قبضے کے مسلے میں شہر آیا تھا اور ادھر کسی تنظيمی پارٹی کے جلسے کی وجہ سے روڈ بلاک تھے اسی وجہ سے اسے کل صبح کو ہی اپنے گاٶں کے لیے نکلنا تھا۔۔۔
_____________________***
شاہ جی سب مہمان آچکے ہیں۔ اچھا سب انتظام ہوگے ہیں نہ اچھے سے؟؟ جی شاہ جی باقی سب تو ہوگیا ہے پر شینی میڈم نے لڑکیاں بھیجنے سے انکار کر دیا۔،،
اویے کیوں اویے شینی سید جابر شاہ کو نہیں جانتی کیا۔۔۔ جابر شاہ نے ملازم کو گھورتے ہوۓ کہا۔۔ شاہ جی وہ کہتی ہے کے لڑکیوں کا آج رات کسی اور جگہ پرگرام ہے۔۔
شاہ جی سے کہوں کل آپ کی طرف بھج دو گی۔۔
اور آج رات جابر شاہ اپنے دوستوں کے سامنے شرمند ہو؟؟!
جابر شاہ تن فن کرتا باہر نکل گیا۔۔
ثمن بھاگ رہی تھی اسے وہ مکان سا اب قریب نظر آرہا تھا۔۔ اس کی ٹانگے شل ہوچکی تھی بھاگ بھاگ کر۔۔
ثمن بھاگتے ہوۓ مکان کے دروازے سے لگنے لگی تھی کے دروازے سے باہر آتے جابر شاہ کے سینے سے جالگی۔۔۔
مجھے بچالو و۔۔ہ۔وہ گیدڑ میرے پیچھے لگے ہیں۔۔ ثمن نے زور زور سے سانس لیتے ہوۓ جابر شاہ کو بتایا۔۔ اچھا جابر شاہ اسکے جسم پر بھرپور نظر ڈالتے ہوے کہا تم زین خان کی بہن ہو نہ؟؟؟
جی جی میں اس کی بہن ہوں۔۔
او او تم بلکل ٹھیک جگہ پر پہنچی ہو۔۔
جابر شاہ نے اس کو خیانت سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
آپ مجھے میرے گھر چھوڑ دیں۔ ثمن نے اندھرے کو دیکھتے ہوۓ کہا ارے ارے اتنی جلدی ہی کیا ہے چھوڑ دو گا پہلے اندر تو چلو ۔۔۔ نہیں میں اندر نہیں جاو گی ثمن نے جابر شاہ سے اپنی کلائی چھڑاتے ہوئے کہا ثمن کو اس کا دل جیسے کچھ انہونی کا پتہ دے رہا تھا۔۔
چلو اندر اب کی بار جابر شاہ اسکو گھسیٹتا ہوا اندر لے کر جارہا تھا۔۔۔
اور ثمن روتے ہوۓ ساتھ کھچی چلی جارہی تھی۔۔
غلامے او غلامے اسے سنبهال رات کے لیے انتظام ہوگیا اسے لے جاکر کمرے میں بند کردے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: