Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 10

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 10

–**–**–

ڈائينگ ٹیبل پر ناشتے کے لازمات سج چکے تھے۔
سمیر اور مسسز سمیر دونوں ناشتے کے لیے پہنچ چکے مسسز سمیر نے شوہر کو ناشتہ نکال کردیا، تو سمیر نے ملازمہ سے کہا ثمر کو بلاو ناشتے کے لیے۔۔
اتنے میں ثمر بھی ڈائينگ ہال میں داخل ہوا،۔
اسلام و علیکم بھیا بھابی۔۔
و علیکم اسلام آجاو ثمر ناشتہ کرتے ہیں، سمیر نے دوسرے طرف کی کرسی کی طرف اشارہ کیا،
سب نے خاموشی کہ ساتھ ناشتہ کیا۔۔
بھیا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔
ثمر نے ناشتہ کرنے کے بعد کہا۔
ہاں ہاں کہو میں سن رہا ہو ثمی۔۔
بھیا اکیلے میں پلیز، ثمر نے اپنی بھابی کو دیکھتے کہا۔۔
ہاں ہاں کوٸی نٸی فرماٸش کرنی ہوگی نہ، اسی لے اکیلے میں بات کرنی ہے، پاکٹ منی بھی ملتی ہے وہ کافی نہیں کیا کالج کی فیس ہوسٹل کی فیس یہ سب آسان ہے جو کچھ اور بھی چاہے ہے، ثمر کی بھابی شروع ہوچکی تھی۔۔
بس کردو ہانیہ سمیر نے بیوی کو جھڑک کر کہا۔۔
بھابی پلیز میں کوٸی فرماٸش نہیں کررہا بھیا سے آپ ٹنشن نہ لے اور ثمر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
سمیر ہانیہ کو گھورتا ہوا ثمر کے پیچھے چلا گیا۔۔
ثمر کی آنکھیں نمکین پانی سے بھر چکی تھی، اسے بھابی کی باتیں سوٸی کی طرح چھبی تھی۔۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا جب بھی ثمر گھر آتا ہانیہ کوٸی نہ کوٸی بات کرکے اس کا دل توڑنے کا سبب بناتی تھی اور ایسے میں اسے اس کے ماں باپ بہت یاد آتے تھے، ایسا نہیں تھا کہ سمیر اس سے پیار نہیں کرتا تھا بلکہ سمیر نے ماں باپ کی ڈیتھ کے بعد ثمر کو ماں باپ بن کر پالا تھا اور کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی اور سب ٹھیک چل رہا تھا پر جب ثمر پندرہ سال کا تھا تو سمیر نے ہانیہ سے پسند کی شادی کرلی پھر کیا تھا ادھر ہانیہ گھر میں داخل ہوٸی ادھر ثمر کی زندگی غزاب بن گٸ۔۔
سمیر ہر وقت تو گھر رہ نہیں سکتا تھا اسی لیے اس نے ثمر کو ہوسٹل بجھوا دیا اور ضرورت کی ہر چیز مہایا کی ثمر ہر ویکینڈ کو گھر آتا اور اگلے روز چلا جاتا بھر بھی ہانیہ کو چین نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔
ٹک۔۔ ٹک۔۔۔
آجاٸیں۔۔
ثمر کو پتہ تھا آنے والا کون ہے۔۔
ثمر ہانیہ کہ طرف سے میں معافی۔۔۔ لفظ سمیر کے منھ میں ہی تھے کہ ثمر سمیر کے گلے لگ گیا۔۔
بس بھیا آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔
اچھا ضروری بات تو بتاو۔۔
سمیر نے ثمر کو صوفے پر بھیٹنا کا اشارہ کیا خود اس کے پاس بھیٹکر پوچھا۔۔
بھیا اپنا موبائل دیں زرا۔۔
سمیر نے اس سیل پکڑیا۔۔
بھیا یہ لڑکی کون ہے؟؟ آٸی مین آپ اسے جانتے ہیں۔۔
ثمر نے موبائل سمیر کے سامنے کرتے ہوۓ پوچھا۔۔
پہلے تم بتاو تم اسے جانتے ہو کیا؟؟
جی بھیا یہ ہما ہے میرے گروپ میں شامل ہے یہ بھی میڈیکل میں ہے۔۔
سمیر نے اسے تنگ کرنے کا ارادہ کیا۔۔
کہیں پیار ویار تو نہیں ہوگیا اس کے ساتھ۔۔
ارے نہیں بھیا مگنی کرکے پیار کرو گا اب بلا ثمر نے اداس لہجے میں کہا۔۔
آپ بتایں نا کیسے جانتے ہیں آپ اور یہ دولہن کیوں بنی ہے۔؟؟
بیٹا جی یہ ہی تو ہے تمہاری دولہن ہما اسی کے ساتھ ہی تو مگنی کی ہے اور یہ مگنی کی پیکس ہیں تمہاری سمیر نے مسکراتے ہوۓ بتایا۔۔
سچ بھیا ثمر نے خوشی سے جھومتے ہوۓ سمیر سے یقین دہانی چاہی۔۔
جی بلکل سچ
آٸی لو یو بھیا ثمر اپنے بھاٸی کے گلے لگ گیا۔۔
اچھا چلو اب بتاو پیار ہوگیا ہے نہ میرے چھوٹے کو دیکھ جھوٹ مت بولنا میں سمجھ سکتا ہوں پیار کی فیلنگ۔۔
جی بھیا آپ سچ سمجھے۔۔
ثمر نے عتراف کیا۔۔۔
اللہ پاک سب خوشیاں دے میرے بھاٸی کو سمیر نے دعا دی اور کمرے سے باہر نکلا گیا۔۔
_____________________________________***
ہیلو مارخ!..
ابھی سے کال کردی ابھی چار ہونے میں وقت ہے تو مارخ نے انابیہ کی کال پک کی تو کہا۔۔
ارے یار ٹریپ تین دن لیٹ ہوگیا ہے اس لیے صبح گیارہ بجے تیار رہتا میں پک کرلو گی تمہیں انابیہ نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہی تو مارخ نے کہا ارے ارے سانس تو لے لے لڑکی۔۔
لے لیا سانس انابیہ نے کہا۔۔
اوکے آنی یار امی بلارہی ہیں پھر بات ہوتی ہے اوکے تیار رہنا صبح
سی یو۔۔
_____________________________________***
بھیا بھیا اٹھ جاۓ نہ ساڈھے دس ہوگے مجھ شاپنگ پر جانا ہے اور پرسو آپ نے ٹریپ سے چلے جانا ہے، عروا نے معصوم شکل بناتے ہوۓ کہا۔۔
اٹھ گیا گڑیا چلو تیار ہوکر آو جلدی۔۔
اوکے بھیا۔۔
عروا آدھے گھنٹے بعد تیار ہو کر نیچے آٸی تب احد ناشتے سے فارغ ہوچکا تھا۔۔
چلے بھیا عروا اپنا حجاب کو موبائل کی سکرین میں ٹھیک کرتے ہوۓ بولی۔۔
گڑیا یہ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا احد نے عروا کے حجاب کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا، نہیں بھیا ہوگیا۔۔
اور دونوں کار میں بیٹھ کر بازار چل دہے۔۔
۔۔۔۔۔۔
مارخ میڈم صاحبہ آپ کی دوست انابیہ میڈم باہر گاڑی میں آپ کا ویٹ کررہی ہیں، مارخ کی ملازمہ نے اسے انابیہ کے آنے کی اطلاع دی، اور مارخ جلدی سے باہر کی جانب لپکی۔۔
لیڈیز مال آچکا ہے، شارق نے انابیہ اور مارخ کو بتایا جو دنیا جہاں سے بےخبر باتوں میں مگن تھیں۔
اچھا سچ پتہ ہی نہیں چلا انابیہ نے گاڑی سے نکلتے ہوۓ کہا۔۔
اوکے آپ لوگ شاپنگ کرو میں. اپنے لیے شوز دیکھ لو۔۔
اوکے اور دونوں مال میں گھس گٸ۔۔
۔۔۔
عروا نے دو تین ڈریس پسند کیے تھے، جب احد پیمنٹ کرنے لگا تب اس یاد آیا کے اس کا واٸیلٹ تو گاڈی کے ڈش بوڈ پر رہ گیا ہے، عروا میرے واٸیلٹ گاڈی میں رہ گیا میں لے کر آتا ہوں، اوکے بھیا میں فسٹ فلور پر سینڈل دیکھ رہی ہوں آپ پیمنٹ کرکے میرے ڈریسز لے آیۓ گا۔۔
ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔
انی یار اتنی زیادہ شاپنگ یار مجھ سے شاپنگ بیگ اٹھاکر اوپر نہیں جانے ہوتا تم ایسا کرو یہ سب گاڑی میں رکھ آو پر اوپر چلتے ہیں، مارخ نے انابیہ کو کہا۔۔۔
ہاں کہہ تو تم ٹھیک رہی ہوں میں رکھ کر آتی ہوں تم رکو ادھر ہی۔۔
۔۔۔۔
عروا شاپ میں انٹر ہونے لگی کہ شارق اور عروا کی ہلکی سی ٹکر ہوٸی۔۔
ارے میڈم صاحبہ سنبھل کر شارق نے کہا اور عروا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔
ارے یہ سچ میں آپ ہی ہیں کہ میں جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہوں۔۔
نہیں شارق میں عروا ہی ہوں عروا نے ایسے کہا جیسے شارق کو سچ میں یقین دلارہی ہوں، شارق کو اس کے انداز پر ہسی آٸی۔۔
اچھا یہ بتایں ادھر کیسے شارق نے پوچھا۔۔
وہ میں بھیا کہ ساتھ شاپنگ کرنے آٸی ہوں، اوو اچھا سالے صاحب کدھر ہیں؟؟ شارق نے سرگوشی میں کہا تو عروا سہی سے سمجھ نہیں سکی۔۔
جی کیا کہا عروا نے پوچھا۔۔
میرا مطلب آپ کے بھیا کدھر ہیں۔۔
وہ گاڑی میں کچھ بھول گے وہ ہی لینے گے ہیں۔۔
ہممم۔۔۔
اور آپ اب عروا نے بھی پوچھا میں بھی آپی کے ساتھ آیا ہوں وہ اپنی فرنڈ کے ساتھ شاپنگ کررہی ہیں اور میں ادھر اپنے لیے کچھ دیکھنے آگیا۔۔
ہمم چلے شارق میں چلتی ہوں۔۔
ہمم اللہ حافظ۔۔
۔۔۔۔
انابیہ شاپنگ بیگ رکھ کر واپس مال میں جارہی تھی کہ احد مال سے باہر نکلتا نظر آیا۔۔
انابیہ سومنگ پول کے ساتھ سے گزر رہی تھی کہ ساتھ سے گزرتے احد کی بازو لگنے سے انابیہ پول میں جاگری اور احد پہلے ہی انابیہ کو آتے دیکھ چکا تھا کھڑا ہوکر ہسنے لگا۔۔۔
انابیہ کا سردی سے برا حال ہورہا تھا اوپر سے پول کا ٹھنڈا پانی اور تو اور انابیہ کو سومنگ بھی نہیں آتی تھی۔۔۔
احد کے بچے مجھے باہر نکالو انابیہ نے التجہ لہجے میں کہا تو احد کو ترس آگیا اور وہ پول کے پاٸیپ کو پکڑ کر نیچے ہوا اور انابیہ کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکلا۔۔۔
انابیہ کے کپڑے گیلے ہوچکے تھے۔، اس لیے وہ باقی کی شاپنگ اس نے اون لاٸین کرنے کا فیصلہ کیا اور گھر آگٸ۔۔۔۔
_____________________________________***
یونی کے سٹوڈنٹ اور سب پروفیسرز ٹریپ کے لیے تیار کھڑے تھے۔۔۔
انابیہ،مارخ،احد،خاشر، دانیہ، ارج، راغبہ اور باقی تمام سٹوڈنٹ بس میں سوار ہوچکے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وادی نیلم آنے ہی والی تھی، یونی ٹریپ میں وادی نیلم بھی شامل تھی اس کے بعد ٹریپ آگے بڑنا تھا۔۔
۔۔۔۔
احد یار “آٸی ایم ان لو”
(I am in love)
پر کس سے احد نے خاشر سے پوچھا۔۔
مارخ سے۔۔۔
وٹ!!! وہ تیری سٹوڈنٹ؟؟
ہاں وہ ہی مارخ، احد یار قسم سے
“لو ان فسٹ ساٸیڈ”
(Love in fist side)
پر کب یار احد نے خیرانگی سے خاشر کو دیکھ کر پوچھا۔۔
یار جس دن تیری ٹکر اس کی دوست سے ہوٸی تھی۔۔
اچھا چھ منتھ سے یہ سب چل رہا ہے اور تم مجھے اب بتا رہے ہو، احد ناراض ہوۓ کہا، ارے یار نہیں اظہار محبت نہیں کیا ابھی تک۔۔
دیکھ خاشر میں تم جانتا ہوں اچھی طرح پر پھر بھی پوچھنا چاہتا ہوں، کیا تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو کیا؟؟
آف کورس یار میں شادی کا خواہش مند ہوں اس سے تم تو جانتے ہوں مجھے میں نے کبھی کسی لڑکی کے جزبات کے ساتھ نہیں کھیلا۔۔۔۔
ہمم پھر جا اور اسے پرپوز کرکے آ احد نے سامنے بھیٹی مارخ کی طرف آنکھ سے اشارہ کیا۔۔۔
ابھی نہیں یار خاشر نے جانے سے انکار کیا۔۔
جا احد نے اسے مارخ کی جانب دہکیلا اور خاشر کو جانا پھڑا۔۔۔
انابیہ اور مارخ ایک ساتھ بھیٹی تھیں جب خاشر نے انابیہ کو محاتب کیا۔۔
انابیہ کیا آپ تھوڑی دیر میری جگہ پر جاٸۓ گٸ پر کیوں سر انابیہ نے خاشر سے پوچھا؟
مجھے مارخ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
جی اچھا انابیہ کو مجبورن جانا پھڑا۔۔
مارخ کو اپنی دڑکن رکتی محسوس ہوٸی مارخ کے دل نے ہلچل مچا رکھی تھی کیوں کہ دل کے کسی کو نے میں وہ بھی خاشر کو پسند کرتی تھی پر اسے محبت سے ڈر سا لگتا تھا کہ کہیں پھر سے اس کے ساتھ وہ ہی سب نہ ہو۔۔۔
۔۔۔۔
انابیہ منھ ٹیڑا بناتی احد کے ساتھ والی سیٹ پر برجمان ہوچکی تھی۔۔۔
احد نے بات کا آغاز کیا ویسے تم تو بڑی اخسان فراموش نکلی۔۔
انابیہ نے احد کی جانب ایسے دیکھا جیسے احد دوسرے سیارے کی محلوق ہو۔۔
احد پھر بھی چپ نہ ہوا، ہاں بلکل تم بہت اخسان فراموش ہو کل مینے تمہیں پانی سے باہر نکلا اور تم نے مجھے تھینکس تک نہیں بولا،
تھینکس کیسا؟؟
انابیہ نے ٹڑخ کر کہا، گرایا بھی تو آپ نے تھا اس لیے تھینکس بنتا ہی نہیں تھا، انابیہ نے اردگرد سٹوڈنٹ کو دیکھتے ہوۓ ادب کے داٸرے میں احد کو جواب دیا۔۔
۔۔۔۔
مارخ میں تم سے باٸے ٹیچر بات کرنے نہیں آیا مجھے ایک عام لڑکا سمجھ کر جواب دینا جو میں تم سے پوچھنے جارہا ہوں۔۔
خاشر نے بات کا آغاز کیا، مارخ جدھر بھیٹی تھی وہاں کسی کی نظر نہیں پڑتی تھی کیوں کے یہ بس کی لاسٹ سیٹ اور کارنر والی سیٹ تھی۔۔
خاشر نے مارخ کا نازک ہاتھ تھامتے ہوۓ بات شروع کی، مارخ کی تو مانو جان پر بن چکی تھی، اور دڑکنے الگ شور مچارہی تھیں۔۔
مارخ میں تمہیں اپنی محرم بناکر اپنی زندگی میں شامل کرنا چہتا ہوں، میں تمہیں سے نکاح عشق کرنا چاہتا ہوں کیا تمہیں میرے ساتھ قبول ہے خاشر نے بات کے آخر میں سوالیے نظروں سے مارخ کی طرف دیکھا، مجھ جواب دو مارخ تاکے میں تمہارے گھر عزت سے اپنا پرپوزل اپنی ممی کے ہاتھ بیجوں۔۔
س۔۔س۔۔سر م۔۔میں آپ کو سوچ کر بتاو گی۔ مارخ نے بے ترتیب سانسوں سے جواب دیا اور نرمی سے اپنا ہاتھ واپس لے لیا۔۔
پلیز مارخ تم سوچ جتنا مرزی لو پر جواب ہاں میں ہونا چاہے پلیز۔۔۔
اور ساتھ ہی خاشر اٹھ گیا۔۔
۔۔۔۔
ویسے انابیہ تمہیں پتہ ہے کیا میرا دوست تمہاری دوست سے کیا بات کرنے گیا ہے۔۔
نہیں تو۔۔
وہ اسے پرپوز کرنے گیا ہے احد نے انکشاف کیا۔۔
وٹ۔۔۔ انابیہ نے خیرانگی سے کہا۔۔
اتنے میں خاشر آتا دیکھاٸۓ دیا اور انابیہ بغیر کچھ کہے ادھر سے اٹھ کر اپنی سیٹ پر چلی گٸ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: