Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 11

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 11

–**–**–

“دادو اماں میں گاٶں جانا چاہتا ہوں”
“ناشتہ کرتے شارق نے بتول خانم سے کہا،بتول خانم کے گلاس میں جوس ڈالتے ہاتھ رک گۓ۔۔
پر کیوں بیٹا؟؟
“بتول خانم نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا”
“ویسے ہی دادو اپنا گاؤں دیکھنا چہتا ہوں”
بتول خانم جو سوچ رہی تھیں، کہ شارق کو کچھ پتہ تو نہیں چل گیا، اپنی پھپھو کے متعلق پر اب ان کو اطمنان ہوگیا، کے شارق ویسے ہی جانا چاہتا ہے۔۔۔
“ہممم ٹھیک ہے بیٹا پر ادھر کسی کو مت بتانا کہ تم کون ہو”
“جی ٹھیک ہے دادو اماں”
“شارق ویسے بھی ابھی کچھ انفارمیشن حاصل کرنا کے ارادے سے جارہا تھا”
“دادو اماں میں نکلتا ہوں شام تک واپس آجاو گا”
“شارق ڈائينگ ٹیبل کی کرسی پیچھے کرتا اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔
_____________________________________***
“انابیہ واپس اپنی سیٹ پر آٸی تو مارخ کو گم ثم پایا”
“کیا ہوا؟؟؟
“انابیہ نے مارخ کو کسی اور دنیا میں جاتے دیکھ کر پوچھا، پر مارخ نے جیسے سنا ہی نہیں۔۔۔
“مارخ۔۔۔۔۔
انابیہ نے اس کے سامنے چٹکی بجاتے ہوۓ دوبارہ سوال کیا۔۔۔
“ت۔۔تم کب آٸی؟؟
“ابھی ابھی تم بتاو خاشر سر کیا کہہ رہے تھے؟؟
کچ۔۔کچھ۔ نی۔۔ نہیں۔۔۔
مارخ ادھر دیکھو میری طرف انابیہ نے مارخ کا فیس اپنی طرف کیا تو مارخ نظر ملاٸے بغير سر جھکا گٸ”
“مارخ سچ بتاو مجھے؟؟
“و۔۔وہ۔۔ خاشر مجھے پسند کرتے ہیں”
“کیا کیا کیا۔۔ نہ سر نہ پروفیسر ڈریکت خاشر یہ کب سے چل رہا ہے بتا مجھے”
“انابیہ بن رکے بولے جارہی تھی”
“قسم لے لے یار آج ہی پرپوز کیا ہے انہوں نے، اور مینے وقت مانگا ہے سوچنے کے لیے۔۔
“کیوں کیوں وقت کیوں مانگ لیا پاگل اتنا ڈیشنگ بندہ تو ہے وہ”
“انابیہ تم تو جانتی ہی ہو نہ مجھے محبت نام سے بھی ڈر لگتا ہے”
“مارخ ہر بار انسان کے ساتھ برا نہیں ہوتا ہے، اور خاشر سر ایک اچھے انسان ہیں، وہ تمہارے ساتھ کبھی دھوکا نہیں کریں گۓ، اور میری جان پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی، ضروری نہیں ہر بار تمہارے حصے میں دھوکا آٸے یا ہر بار تمہارے ساتھ برا ہو”
“ایک بار پھر ٹرسٹ کرکے دیکھو ان پر”
“وادی نیلم آچکی تھی”
“سب اسٹوڈنٹ وادی نیلم کی سیر کو نکل چکے تھے، انابیہ اور مارخ بھی اتری اور سب کا ساتھ دینے لگی۔۔
_____________________________________***
“بابا ساٸیں میں گاٶں جارہی ہوں دادا اور دادو سے ملنے مجھے, بہت یاد آرہی ہے دونوں کی”
“عروا نےلیپ ٹاپ پر کام کرتے جازب شاہ کو محاطب کر کے کہا”
“پر بیٹا کس کے ساتھ, احد بھی ادھر مجود نہیں, اور میرے پاس بلکل وقت نہیں بہت کام، ہے آفس کا”
“بابا ساٸیں آپ کی بیٹی اب بڑی ہوچکی ہے، وہ ہوسٹل راولپنڈی سے مری گھر آجا سکتی ہے، تو گاٶں کیوں نہیں؟؟
“عروا نے منھ بنا کر جازب شاہ سے سوال کیا”
“بیٹا بات وہ نہیں ہے، میں جانتا ہوں، میری گڑیا اب اچھے برے میں تمیز جانتی ہے، بات یہ ہے کہ گاٶں میں سب برا سمجھتے ہیں، ایسے اکیلی لڑکی کا آنا جانا، جازب شاہ نے پیار سے عروا کو سمجھیا”
“بابا ساٸیں آپ کس زمانے کی بات کررہے ہیں، مجھ جانا ہے پلیز۔۔۔
“جازب شاہ بھی اپنی پرنسز کی صد کو جانتا تھا ٬تبھی آفس کے سارے کام کو ایک طرف رکھ کر خود عروا کو لے جانے کا فیصلہ کیا”
” اوکے اوکے گڑیا میں لے چلتا ہوں آپ کو، جازب نے عروا سے کہا”
” اووو بابا لو یو میں ابھی تیار ہوکر آتی ہوں، اور عروا اوپر اپنے کمرے میں بھاگ گٸ”
_____________________________________***
“ممی میں اپنے روم میں جارہی ہوں ریسٹ کرنے، پڑھ پڑھ کر تھک چکی ہوں، ہما نے دن کا کھانا کھا کر، اپنی ممی سے کہا”
“اوکے میرا بچا جاو شام میں اٹھا دو گی، ہما کی ماں نے کہا”
“ہما اپنے روم میں آکر سونے کی کوشش کرنے لگی”
“تھوڑی دیر بعد، اس کا موبائل بج اٹھا”
“ہما نے اسکرین پر نظر ڈالی، جس پر ثمر کالنگ لکھا آرہا تھا”
” ہما نے بے قرار ہوتے دل سے جلدی سے کال پک کی، جیسے جلدی سے پک نہ کی تو بند ہی نہ ہو جاٸے”
“اسلام و علیکم ہما”
“کیسی ہو تم؟؟
“ثمر کی آواز ہما کے کانوں میں رس گھولنے کا کام کررہی تھی، ہما کا دل چہتا تھا، کہ وہ ایسے ہی بولتا رہے اور وہ اس کی خوبصورت آواز سنتی رہے”
” ہما آر یو لسن”
“Huma Are you listen”
“جی جی میں سن رہی ہوں”
“و علیکم اسلام ثمر”
” میں ٹھیک، آپ کیسے ہیں؟؟
“ہاٸے شکر ہے، تمہاری آواز تو میرے کانوں میں پڑھی، ہم تو بہت مس کررہے تھے، اس پیاری سی آواز کو”
“ثمر نے ہما کے دل کی بات کی وہ بھی تو ثمر کو مس کررہی تھی، جب سںے آٸی تھی ہوسٹل سے”
“ہما مجھ ایک ضروری بات کرنی ہے٬ تم سے”
“جی ثمر آپ کہے میں سن رہی ہوں”
“ہما مجھ نہیں معلوم ان کچھ دنوں میں کیا ہوا، جو تم میرے دل کے اتنے قریب ہوچکی ہوں، ہر وقت تمہارے بارے میں سوچتا ہوں، میں زیادہ لمبی چوڑی بات نہیں کرو گا”
ہما لو یو، آٸی ریلی لو یو”
“Love you, I really love you”
بہت پیار کرتا ہوں، تم سے اور مجھے تم سے جواب ماگنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ تمہاری آنکھوں میں دھکتا ہے میرے لیے پیار”
“ہما کا دل جہاں، اتنے خوبصورت اظہار محبت پر خوشی سے باغ بہار ہوچکا تھا، ادھر دکھ سے آنسو نکل آٸے تھے..
“کیوں کہ ان دونوں کا ایک ہونا نہ ممکن تھا ہما کی نظر میں”
“ثمر پر..
“How it’s possible”
“I’m already engaged”
“اور اور آپ کی بھی تو مگنی ہوچکی ہے نہ، ہما نے بھری ہوٸی آواز میں کہا، صاف ظاہر تھا، وہ رو رہی ہے”
“میں توڑ دو گا مگنی اور تم بھی توڑ دو مگنی، ثمر نے بڑے آرام سے اتنی بڑی بات کہی تھی, جس کا ہما تصور بھی نہیں کرسکتی تھی”
“ثمر میں بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں، لیکن میں مگنی نہیں توڑ سکتی، اپنے گھر والوں کی عزت خراب نہیں کر سکتی، اور ہما نے ساتھ ہی کال بند کر دی”
٬ثمر کا جاندار قہقہا کمرے میں گونجا، ہما کے ایسے کرنے، پر اسے کیا پتہ تھا اسے ہما کے ساتھ مزاح ہما کی طرف سے بہت مہنگا پڑنے والا تھا”
_____________________________________***
“ابھی دس منٹ ہی گزرے تھے, وادی نیلم میں سیر کرتے ہوۓ، کہ شدید برف باری شروع ہوچکی تھی”
“سب اسٹوڈنٹ نے قرہبی ریسٹورینٹ کا رخ کیا، جو کہ بڑے ریسٹورینٹ میں سے ایک تھا”
“کافی دیر برف باری کی وجہ سے اب راستے بند ہوچکے تھے، اس لیے اب ٹریپ کا آگے بڑنا ناممکن ہوچکا تھا، اس لیے یونيورسٹی انتظاميہ نے سب کے رومز بک کرواٸے، ہوٹل میں ہی کیوں کہ اب رات کا اندھرہ بھی آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا, اس لیے انتظامیہ نے ادھر ہی رکنا مناسب سمجھا”
“اب مکمل طور پر رات پھیل چکی تھی، انابیہ سردی سے بچنے کے لیے تیار تھی، مارخ نے اس کی تیاری دیکھ کر اس پر سوالیے نظر ڈالی؟؟
“یار مجھ نا باہر جانا ہے وادی کی سیر کو انابیہ نے اپنے اونی کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوۓ کہا”
“کیا تم پاگل ہوگٸ ہو؟
“مارخ نے بلیکنٹ کو مزید اپنے گرد لپیٹتے ہوۓ کہا, نہیں پر مجھے جانا ہے، تمہیں اسی لیے کہا نہیں ساتھ چلنے کا کیوں کہ تم نے انکار ہی کرنا تھا”
“پر آنی یار اتنی سردی میں باہر اور اگر یونی انتظامیہ کو پتہ چل گیا تو”
“مارخ نے فکرمندی سے سوچا”
“ارے یار تو آرام سے سو جا کچھ نہیں ہوتا اور کون بتاۓ گا انتظامیہ کو، اور انابیہ باہر نکلا گٸ، بغیر مارخ کی بات سنے”
۔۔۔
“او ہیلو تم کدھر چلے؟؟
“خاشر نے احد کو باہر جاتے دیکھ کر کہا، یار کچھ کھانے بھوک لگی ہے”
“تو کھانا کے وقت کیوں نہیں کھایا تھا، خاشر نے کہا، خاشر یار میرے ساتھ چلنا ہے تو چلو ورنہ لکچر نہ دے”
“میں تو نہیں جارہا تو جا، خاشر نے بلیکنٹ سر تک کرتے اپنا فیصلہ سنایا، تو ہہاں مر احد پاٶں پٹھتا باہر نکلا گیا”
۔۔۔
“انابیہ چلتے چلتے بہت دور نکل آٸی تھی، ہوٹل سے بہت دور۔”
۔۔۔
“احد کھانے کی عرض سے قرہبی ریسٹورینٹ میں گیا پر اس وقت برف باری کی وجہ سے سب بند تھے، احد کافی آگے نکل گیا تب اسے ایک ریسٹورینٹ کھولا نظر آیا”
“احد نے جو کھانا تھا، کھایا اور اٹھ کر جانے لگا”
۔۔۔
“انابیہ کو جب احساس ہوا کہ وہ بہت دور نکل آٸی ہے، اب وہ واپس جارہی تھی کہ، اسے اپنے پیچھے سے آواز سناٸی دی”
“ہیلو بیبز” babies”
کہا جارہی ہو اکیلی اس وقت، اگر کہو تو ہم چھوڑ دیں”
“انابیہ نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو دس بارہ لڑکے جو ڈرنک کیے ہوۓ تھے، اور ایک دو نے تو بوتل بھی ہاتھ میں اٹھاٸی ہوٸی تھی”
“انابیہ نے ہمت کر کے کہا تمہیں کیا لگے، اپنے کام سے کام رکھو، اور تیز تیز قدم بڑھنے لگی”
“ہاہاہاہاہاہاہا ہمیں کیا لگے یاروں ہم نے تو آج انجواٸے کرنا ہے، پکڑ لو سالی کو، ان میں سے ایک نے کہا اور تھوڑی دیر بعد ہی انابیہ ان کے ہاتھ لگ چکی تھی”
“پلیز مجھے جانے دو چھوڑ دو مجھے، انابیہ نے زور کی چینج ماری”
۔۔۔
“احد جارہا تھا کہ, اسے کسی لڑکی کی چینج کی آواز سناٸی دی”
“احد نے جب اپنے لیفٹ طرف دیکھا تو اسے انابیہ نظر آٸی جو کہ دو لڑکوں اسے پکڑ کر ساتھ لے جارہے تھے”
“ارے یہ کمبحت لڑکی اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہے، اور یہ ان لوگوں کو کیسے ملی”
“پر تمہیں کیا احد شاہ اچھا ہے نہ تمہارا بدلہ بھی ایسے پورا ہوجاٸے گا، احد نے لے انابیہ کو پہچان کر کہا اور دوبارہ چل پڑا”
“انابیہ احد کو دیکھ چکی تھی، اور جب اس نے اسے جاتے دیکھا تو اس سچ میں پرشانی ہونے لگی” “پتہ نہیں کیوں اسے لگتا تھا کہ ,احد اسے ضرور بچاۓ لے گا, پر جب اس نے اسے جاتے دیکھا تو اسے آواز لگاٸی”
“پلیز احد ہلپ می”
“Please Ahad help me”
“احد تمہیں اس کی مدد کرنی چاہے, بےشک اس نے تمہارے ساتھ غلط کیا, لیکن اس وقت وہ مصيبت میں ہے”
“احد بھاگ کر انابیہ تک پہنچا، وہ ایک منٹ میں فیصلہ کرچکا تھا، کہ اسے انابیہ کی خفاطت کرنی ہے”
“لڑکی کو چھوڑ دو احد نے لڑکوں سے کہا”
“ہاہاہاہاہاہاہا کیوں بے ہیرو تیری بیوی ہے کیا ایک لڑکے نے شراب سے جھومتے ہوۓ کہا ؟؟
“میری جو بھی ہے لڑکی کو چھوڑ دو احد نے دوبارہ کہا”
“اوو ہیرو یہ ہیروگیری کہیں اور جاکر دیکھانا، نکل ادھر سے”
“احد نے ایک پنچھ اس کے منھ پر دے مارا، تب چار پانچ لڑکوں نے احد کو پکڑ لیے، ایک لڑکا آگے پڑھا، اور ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل پکڑ کر احد کے منھ میں انڈیلنے شروع کردی، احد روز روز سے کھانسنے لگا، احد اپنی پوری قوت لگا رہا تھا، لیکن وہ پانچ لڑکے بہت طاقتور تھے اور تھے بھی پانچ”
” ایک اور پانچ کا کیا مقابلہ”
اب دوسری بوتل بھی وہ لڑکا احد کے منھ میں ڈال رہا تھا “
“احد نے بہت کم کبھی ڈرنک کی تھی اور اسے چڑ بھی بہت جلدی جاتی تھی اس لیے وہ پیتا بی نہیں تھا”
“احد نے دل میں سوچا ایسے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا، اسے فوران یاد آیا کہ اس کہ بلٹ میں پستول بھی رکھی ہے”
“پلیز میری بات سنو۔۔احد نے کہا”
” نہ تو بہت پیرو بن رہا تھا نکل گٸ ہیرو گیری”
” تم لوگوں کو جو بھی کرنا ہے کرو اس لڑکی کے ساتھ پر مجھے جانے دو”
“ہاہاہاہاہاہاہا نہ بیٹا اب تو تمہیں جان سے ہاتھ دھونے پڑھے گۓ”
“کاشف یار جانے دے اس لڑکے کو کیوں موڈ خراب کررہا ہے، اس لڑکے نے خیانت سے انابیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا”
” احد کو ناجانے کیا ہوا کہ اسے اس لڑکے کا انابیہ کو یو دیکھنا بہت برا لگا”
“جا جا تمہیں چھوڑ رہے ہیں ان لڑکوں نے احد کو روز سے دھکا دیا اور خود انابیہ کو لے کر چل بڑھے”
“احد نے بجلی کی سی تیزی سے پستول نکلا اور اسی لڑکے کی ٹانگ پر گولی ماری جس نے انابیہ کو خیانت سے دیکھا تھا”
“خبردار لڑکی کو چھوڑو، احد نے ایک اور گولی فضا میں چلاٸی، پستول دیکھ کر سب کو سانپ سونگھ گیا اور کچھ کسر ان کے زخمی ساتھ نے پوری کردی تھی ، اس لیے انابیہ کو فوران چھوڑ دیا”
“ایک منٹ کے اندر ہہاں سے بھاگ جاو ورنہ کسی کو نہیں چھوڑو گا، احد نے پستول دوبارہ سے دیکھاتے ہوۓ کہا، تو سب وہاں سے ایسے بھاگے جیسے گدھے کہ سر سے سھنگ”
“اب احد کو اپنا آپ گھومتا لگ رہا تھا، کیوں کے شراب کا اثر ہورہا تھا”
“احد بہت شکریہ تمہارا، انابیہ احد کا ہاتھ پکڑ کر شکریہ ادا کررہی تھی ، پر احد کو تو کچھ اور ہی ہورہا تھا، انابیہ کا دوپٹہ اور کوٹ بھاگ دوڑ میں گر گیا تھا”
” انابیہ کی سفید چھوٹی سی کمیز اور بلیک پنٹ اور بغیر دوپٹے کے انابیہ احد کو دیوانہ بنارہی تھی، یا تو یہ شراب کا اثر تھا یا پھر احد کو انابیہ سے محبت ہوچکی تھی، یہ سب تھوڑی دیر میں ہی آپ سب کو پتہ چل جاٸے گا”
“انابیہ مجھ اس ہوٹل میں لے کر چلو، میری طبیعت خراب ہورہی ہے میں اپنے ہوٹل تک پہنچ نہ پاو گا، اور جلدی کرو میں اگر ادھر بےہوش ہوگیا تو، ان غنڈوں کا کیا بھروسا پھر سے تمہیں اٹھا کر نہ لے جاۓ، احد نے اس اندز میں کہا کہ انابیہ کو احد کی بات مانی پڑھی”
“انابیہ احد کو تھام کر روم تک لاٸی اور بیڈ پر لیٹا دیا”
“تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ انابیہ نے احد کو کہا احد مجھے اپنے ہوٹل جانا ہے پلیز مجھے لے جاو، وہ خود بہت ڈرچکی تھی اس لیے اکیلی نہیں جانا چاہتی تھی”
“احد نے بند آنکھیں کھول کر انابیہ کو دیکھا، احد کو اب یہ ہوش نہیں تھا، کہ انابیہ کون ہے، اسے بس انابیہ ایک لڑکی نظر آرہی تھی”
“احد لڑکھڑتے قدموں سے بیڈ سے اٹھا تو انابیہ سمجھی کے وہ اسے ہوٹل لے کر جارہا ہے، پر یہ کیا احد نے اٹھکر روم کا ڈور لاق کیا، اور انابیہ کو بازوں سے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا”
“احد کیا کررہے ہو تم پیچھے ہٹو، پر انابیہ اپنے آپ کو احد کی گرفت سے آزاد نہیں کرپاٸی، احد نے انابیہ کو بیڈ پر دھکا دیا اور اس پر مکمل جھک گیا، وہ اس وقت ہوش میں نہیں تھا،پر جب اسے ہوش آتا تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: