Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 12

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 12

–**–**–

“عروا جازب شاہ کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر برجمان تھی”۔۔
“عروا اور جازب شاہ کو گاٶں کے لیے نکلتے نکلتے دن کا وقت ہوچکا تھا”۔۔
“گاٶں میں پندرہ سال کے بعد کافی تبدیلی آچکی تھی، اسکول، کالج، یونيورسٹی، کپڑے کی چھوٹی موٹی دوکانے ، اب گاٶں تھوڑی بہت شہر کی شکل پیش کرتا تھا”
“مجید شاہ نے اپنے ڈیرے پر بھنسوں کا ڈیری فارم بنا لیا تھا، جن کا دودھ پورے گاٶں میں سپلائی کیا جاتا پر جو جو دودھ لیتا تھے اور جگہوں سے مہنگا پڑتا تھا، لیکن لوگوں کو مجبورن لینا پڑتا کیوں کہ اور گاٶں میں بھنس کا خالص دودھ کہیں دستياب نہیں تھا”
“اس کے علاوہ گھوڑوں کی ایک بڑی تعداد تھی مجید شاہ کے ڈیرے پر، گھوڑے کی جو نسل بھی مانگی جاتی مجید شاہ کے ڈیرے پر مجود تھی”۔۔۔
۔۔۔
“عروا اور جازب شاہ گاٶں کی حدود میں داخل ہوۓ، عروا کا پورا پورا دھیان سامنے تھا، کہ سامنے سے آتی بلیک پراڈو پر نظر رکی کیوں کہ وہ گاڑی اور گاڑی والے دونوں کو پہچان چکی تھی”۔۔
“بلیک پراڈو والا شاید ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا، جو تیزی کے ساتھ نکل گیا، لیکن عروا کی نظر سے بچ نہیں سکا، اسے نے تو عروا کو نہیں دیکھا جب کہ عروا نے اسے دیکھ بھی تھا اور پہچان بھی تھا”۔۔۔
“شارق ہمارے گاٶں میں کیسے ؟؟
“اور وہ ادھر کس کے گھر مہمان تھے؟،
” یا گھومنے پھرنے آۓ تھے؟؟،
“عروا کے دماغ میں بہت سے سوال چل رہے تھے”۔۔
“اففف میں بھی کن سوچوں میں پڑھ گٸ ہوں”
“عروا نے اپنے دل میں سوچا”
“اب گاڑی حویلی میں داخل ہورہی تھی”
“ثروت بیگم اور مجید شاہ عروا کو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ، اور ہوتے بھی کیوں نہ جان بستی تھی، ان دونوں کی عروا میں”
” لیکن عروا زیادہ اپنی دادی سے اٹیچ تھی”
“وہ جب بھی زیادہ چھٹاں کے لیے آتی، تب ضرور ادھر اپنے دادا دادی سے ملنے آتی تھی”
“راے ہماری ڈاکٹر صاحبہ آٸی ہیں، ثروت بیگم نے پیار سے کہا، عروا باری باری دونوں سے ملی”
“اور اب سب صوفوں پر برجمان چاہے اور دیگر لازمات سے انصاف کررہے تھے”
_____________________________________***
“احد کی آنکھ کھلی تو احد نے فورن وقت دیکھا، صبح کے چار کا وقت تھا،
احد کی جب بیڈ سے نیچے کارپٹ پر بھیٹی انابیہ پر نظر پڑی، تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا”
“رات احد نے انابیہ کو درندوں سے بچا کر خود ایک وہشی جیسا برتاو کیا تھا”
“وہ انابیہ کے ساتھ وہ کر چکا تھا، جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا”
“وہ اس کی ازخد پیاری عزت کو مٹی میں ملا چکا تھا”
“لیکن وہ ہوش میں نہیں تھا، رات کو اسے ان کمبحتوں نے حرام چیز پلادی دی تھی، بلا وہ کیسے ہوش میں رہتا”
“لیکن اب جب اسے انابیہ کو دیکھ کر یاد آیا کہ وہ کیا گھنونہ کام رات کو نشے کی حالت میں کر چکا ہے،تو اسے اپنے آپ سے گھن آرہی تھی”
“ٹوٹی بکھری اجھڑی انابیہ جو کہ اب بھیٹے بھیٹے سو چکی تھی، احد کی نظر اس کی حالت پر پڑی، تو احد کے آنکھ سے آنسو نکل، کیوں کے اس کی بکھری حالت کا زمہدار صرف احد شاہ تھا”
“میں سید ہوں، میں اتنا کیسا گر سکتا ہوں، کہ ایک لڑکی کی عزت سے کھیل گیا”
“ارے سید تو عزتوں کے رکھوالے ہوتے ہیں”
“احد شاہ تم سے یہ کیا گناہ کبیرہ سرزد ہوگیا، جس کی کوٸی طلافی نہیں”
“نہیں نہیں نہیں احد نے ہاتھ کا مکا بنا کر سامنے لگے شیشے پر مارا تو، احد کا ہاتھ خون سے نہا گیا”
“ہاں ایک طریقہ ہے ۔۔
“احد کو جیسے کچھ یاد آیا، میں اس گناہ کو مٹا تو نہیں سکتا پر، کم کرنے کی کوشش کرو گا، میں انابیہ سے نکاح کرلو گا، اس طرح شاید مجھے کچھ سکون مل سکتا ہے”
“انابیہ۔۔ احد نے اسے پکارہ تو انابیہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا”
“اٹھو اپنے ہوٹل چلے”
“انابیہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور احد کا گلبان پکڑ لیا، برباد کردیا تم نے مجھے، ان لوگوں سے بچا کر خود کی آگ بجالی”
“ارے مینے ایک تھپڑ ہی مارا تھا تمہیں نہ دس تھپڑ مارلیتے پر ایسے مجھے بےآبرو تو نہ کرتے، انابیہ پھر سے رونے لگی”
“انابیہ پلیز میں ہوش میں نہیں تھا، یقین مانو مینے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا ہے، احد نے انابیہ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا”
“تم نے جیسے بھی کیا میں تو برباد ہوچکی ہوں نہ میرا دامن تو داغداد ہوچکا یے نہ انابیہ زمین پر بھیٹکر رونے لگی”
“انابیہ میں تم سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں، مجھ سے نکاح کرلو شاید میرا گناہ کچھ کم ہوجاۓ، احد نے انابیہ کو اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوۓ کہا”
“بکواس بند کرو احد میں ایک شادی شدہ لڑکی ہوں، میں بچپن سے کسی کے نکاح میں ہوں، تم چاہ کر بھی اس گناہ کا کفارہ ادا نہیں کر سکتے”
“انابیہ اپنی پھٹی کمیز کو بار بار اوپر کررہی تھی لیکن وہ پھٹی ہونے کی وجہ سے پر ایسی ہوجاتی، احد اس کی پیشانی سمجھ کر اس کی طرف اپنا کوٹ پھڑاتا ہے جیسے انابیہ بغیر کچھ کہے لے لیتی ہے اور باہر نکل کر اپنے ہوٹل کا رخ کرتی ہے”
“احد بھی اس کے ساتھ ساتھ جارہا تھا، ابھی مکمل اندھرہ تھا اسی لیے کوٸی بھی باہر نہیں تھا، انابیہ اور احد دونوں ہوٹل پہنچے”
۔۔۔۔
“انابیہ بغیر آہٹ کیے اندر داخل ہوٸی، حدا کا شکر تھا، کہ مارخ جاگ نہیں رہی تھی، ورنہ انابیہ کی حالت دیکھ کر ضرور سمجھ جاتی کی مسلہ کیا ہے”
“انابیہ جلدی سے واشروم میں بھاگ گٸ، انابیہ نے شاور کھولا اور کپڑوں پہنے ہوۓ ہی شاور کے نیچے کھڑی ہوگٸ”
“وہ شارو کے نیچے کھڑی آنسو بہا رہی تھی اور پانی میں اس کے آنسو بہ رہے تھے، کافی دیر شاور لیتی رہی،جیسے اپنے جسم پر لگے داغ مٹا رہی ہو، اس کے بعد انابیہ نے گرم کپڑے پہنے اور بال خشک کر کے ،اس نے نماز ادا کی اور رو رو کر نہ کردہ گناہ کی معافی اپنے رب سے مانگنے لگی، جو گناہ نہ ہی انابیہ نے کیا تھا نہ ہی احد نے”
_____________________________________***
شارق زین اور زارا کے ورڈروب سے ان کی چیزوں کو دیکھنے لگا، جو کہ بتول خانم نے اپنی حویلی سے زین اور زارا سے منسوب ورڈروب اسی حالت میں شہر منتقل کروائی تھی”
“جو کہ ایک خاص کمرے میں تھی جہاں زین اور زارا کی سب چیزیں مجود تھی، اس کمرے میں کسی نوکر کو جانے کی اجازت نہیں تھی، اس کمرے کی صفاٸی انابیہ خود کرتی تھی، اور انابیہ، شارق اور بتول خانم کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں تھی اس
کمرے میں جانے کی”
۔۔۔۔۔
شارق زین اور زارا کی سب چیزوں کو بہت عقيدت سے دیکھ رہا تھا”
“اب شارق ورڈروب کے اس حصے میں آیا جہاں دونوں کے کپڑے لٹک رہے تھے”
“شارق باری باری سب کپڑے دیکھ رہا تھا، کہ چنڑی سی جو کہ پیک میں بند تھی، شارق اسے نکلا کر بیڈ پر آگیا”
“شارق بیڈ پر بھیٹکر ، چنڑی کے پیک کو اوپن کرنے لگا، شارق نے پیک اوپن کیا تو”
“ایک خوبصورت سی نیوی بلیو اور ڈارک پنک کلر کی چنری تھی، جس پر سلور کلر کا نفیس سے کام بنا تھا”
“شارق کو وہ چنری بہت پسند آٸی، شارق کا دل چاہا وہ عروا کو یہ چنری گیفٹ دے ، لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں یار کسی کی چیز کیفٹ نہیں کرتے’
“شارق وہ چنری اٹھاکر باہر نکل گیا کہ دادو سے پوچھ سکے کہ یہ کسی کی ہے”
” کیوں کہ یہ سب کپڑوں میں سب سے زیادہ سیف جگہ پر تھی ، شارق کے خیال میں یہ کچھ خاص تھی”
“دادو اماں یہ کس کی ہے؟؟؟
“شارق بتول خانم کے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ ہی چنری کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا”
“ارے یہ تو ہماری خاندانی “”چنی”” ہے بیٹا، مینے تمہاری ماں کو دی تھی، اور تم اپنی بیوی کو دینا، بتول خانم نے ساری بات بتاتے ہوۓ کہا”
“اوو ریلی دادو اماں شارق نے پرجوش لہجے میں. کہا”
“آپکو پتہ ہے دادو مجھے دیکھتے ہی یہ بہت پسند آٸی ہے”
“چلو لے جاو اسے سنبھل کر رکھو جب تک تمہاری بیوی نہیں آتی ہے، بتول خانم نے ہستے ہوۓ کہا”
_____________________________________***
“ثمر ہما کو دو دن سے لگاتار کال کررہا تھا، لیکن وہ کوٸی رسپونس نہیں دی رہی تھی، ثمر نے تھک ہار کے اب فون رکھ دیا تھا، ثمر واقع ہی اب احساس ہو رہا تھا کہ اس ہما سے مزاح کرنا، واقع ہی مہنگا پڑا تھا”
“ہما نے رو رو کر آنکھیں سوجا لی تھی، ہما کی ماں نے بہت پوچھا کیا ہوا ہے، پر وہ کسی کو کچھ بتا نہیں رہی تھی”
“ہما کو دل چہاتا تھا، کہ وہ ثمر کی بات مان کر مگنی توڑ دے، لیکن پھر اسے اپنے بھیا اور ماں کا خیال ایسا کرنے سے روک دیتا”
_____________________________________***
“نو دن ہوگۓ تھے، ٹریپ کو کل یونی ٹریپ نے واپس جانا تھا”
” ان نو دس دنوں میں انابیہ نے چپ سادھ لی تھی، سارے ٹریپ میں بھی وہ خاموشی سے رہی”
“, گم ثم سی رہی، مارخ کے پوچھنے پر اس نے کہا کچھ نہیں طبیعت خراب ہے بس”
“احد کو بہت دکھ تھا کہ، اس نے جانے انجانے میں انابیہ کے ساتھ بہت غلط کیا”
” لیکن احد بھی کیا کرتا ، انابیہ کسی طور مان کر نہ دے رہی تھی نکاح کے لیے”
“”میں شادی شدہ ہوں، بچپن سے کسی کے نکاح میں ہوں، منکوحہ ہوں کسی کی،،،””
“احد کا بھی تو نکاح ہوچکا تھا بچپن میں۔۔
احد کو انابیہ کی بات نے پندرہ سال پیچھے لکر کھڑا کردیا تھا”
“,جب اس کا نکاح ونی کے تحت ایک آٹھ سالہ بچی سے ہوا تھا، پھر کچھ عرصے بعد احد کی منکوحہ کو اس کی دادی اسے اور اسکے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر بھاگ گئ تھی”
” اس کے بعد ان کا کچھ پتہ نہیں چلا”
“”پانچ دن بعد””
“یونی ٹریپ کو آج واپس آئے پانچ دن ہوچکے تھے”
_____________________________________***
“شارق ہوسٹل جانے کی تیاری کر رہا تھا”
“اس کے بیڈ پر اس کے سارے کپڑے پھیلے پڑھے تھے”
“شارق جلدی جلدی میں بیگ میں کپڑے ڈال رہا تھا”
“ایسے میں شارق کے کپڑوں میں زارا کی پڑھی چنری جو کے شارق اٹھاکر لایا تھا، لیکن واپس رکھنا بھول گیا تھا”
“جلدی جلدی کپڑے ڈالنے سے ساتھ زازا کی چنری بھی شارق کے بیگ میں چلی گئ ، اور شارق کو پتہ بھی نہیں چلا تھا”
“شارق باہر آیا اور اپنا بیگ گاڑی میں رکھا، ساتھ ہی شارق کا فون بج اٹھا”
“ہیلو”
” ہاں ثمر میں بس نکل رہا ہوں، گھر سے ،اوکے تم مجھے اسلام آباد سٹاپ پر ملنا، میں ادھر سے تمہیں پک کرلو گا”
“فون رکھ کر شارق گاڑی میں بھیٹکر نکل گیا”
_____________________________________***
“ہیلو”
“ہما تم میرا اسلام آباد ویٹ کرو میں تمہیں پک کرلو گی، میں بھیا کے ساتھ آرہی ہوں”
“اوکے عروا تم آجاو میں ویٹ کر رہی ہوں”
۔۔۔۔۔
“احد عروا اور ہما کو کالج کے سامنے اتارا اور باہر نکل کر عروا کو ملا، تب ہی دو آنکھیں عروا اور احد کو دیکھ رہی تھی ہما تو تھوڑے آگۓ جاچکی تھی”
“احد عروا سے مل کر چلا گیا”
“ثمر اور شارق بھی کالج پہنچ چکے تھے”
۔۔۔۔۔
“شام کو جب ہوسپیٹل سے آف کے بعد ثمر، شارق، ہما اور عروا ساتھ ہوسٹل جارہے تھے”
“ہما ثمر سے بلکل بات نہیں کررہی تھی”
“بہت اگنور کررہی تھی ثمر کو اور ثمر سے ہما کا اگنور کرنا برداشت نہیں ہورہا تھا”
“شارق تم دونوں جاو، مجھے ہما سے بات کرنی ہے کچھ”
“اوکے ہم چلتے ہیں”
“پر ثمر مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ہے ہما نے ناراض لہجے میں کہا”
“ثمر نے جیسے ہما کی بات سنی ہی نہیں اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر ساتھ لے گیا”
“ہما یہ دیکھو اس پیکس کو، ثمر نے ہما کو بنچ پر بھیٹکر کہا”
“یہ پیکس تو میری ہے، ہما نے اپنی اینگیجمنٹ کی پیکس دیکھ کر کہا، پر آپ کے پاس کہاں سے آئی”
” یہ پیکس تو صرف میرے سسرال والوں کے پاس تھی”
“محترمہ آپ کے سسرال سے ہی لی ہے”
“کیا مطلب ہما نے کنفیز ہوکر کہا”
“مطلب میری جان ثمر نے ہما کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ کہا”
“تمہاری مگنی اور کسی سے نہیں بلکہ میرے ساتھ ہی ہوئی ہے، مجھے بھی اس بار گھر جانے پر پتہ چلا، جب تمہاری پیکس بھیا کہ فون میں دیکھی”
“ریلی ثمر ہما کے آنسو نکل آئے تھے”
“ارے پگلی اس میں رونے کی کیا بات ہے، یہ تو خوشی کے آنسو پیں، ثمر”
“اور دونوں اٹھکر ہوسٹل چلے گۓ”
۔۔۔۔
“عروا یہ آدمی ہمارا پیچھا کر رہا ہے، شارق نے عروا سے کہا”
“نہیں شارق یہ آپ کا نہیں میرا پیچھا کررہا ہے آئی تھنک”
” کیوں کہ دو تین دفا پہلے بھی نوٹ کیا ہے” “جب بھی میں کہیں جاو تو یہ میرا پیچھا کرتا ہے”
“یہ تو ملک تبرز کا آدمی ہے یار”
“پر میرا پیچھا کیوں کرتا ہے عروا نے پرشان ہوکر کہا”
“خیر چھوڑو تم اب سے اکیلی کہیں مت جانا، اگر ہما ساتھ نہ ہو تو مجھ کال کر کے بتا دیا کرنا”
“ہمم ٹھیک ہے”
“اور ہوسٹل آگیا اور عروا جانے لگی”
” عروا بات سنو””
“جی””
“کچھ نہیں پھر سہی شارق نے کہا”
“ہمم ٹھیک ہے، عروا نے کہا اور ہوسٹل چلی گئ”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: