Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 13

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 13

–**–**–

“گڈ مورنگ اسٹوڈنٹ”
“خاشر نے کلاس میں داخل ہوتے ہوۓ کہا”
“چلے کلاس شروع کرتے ہیں”
“خاشر نے لکچر دینے کے بعد کلاس سے نوٹس جمع کروانے کا کہا”
“باری باری سب اسٹوڈنٹ نے نوٹس جمع کروائے، لیکن مارخ نے نہیں”
“مارخ آپ کے نوٹس خاشر نے مارخ سے سوال کیا”
“س،سر وہ میں نہیں بنا پائی،کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی”
“مارخ شروع سے ہی جب بھی خاشر سے بات کرتی، یا خاشر اسے خود سے محاطب کرتا، تب وہ یوہی کنفیوز ہوجاتی”
“اوکے۔۔ آپ میرے آفس میں آئیں مارخ”
“خاشر کہتا ہوا کلاس سے باہر چلا گیا”
“سر آئی کم ان”
“یس یس کم ان مارخ”
“سیٹڈاٶن ماہی آئی مین مارخ، خاشر نے فوران سے کہا”
“نہیں سر میں ادھر ہی ٹھیک ہوں مارخ نے کنفیوز ہوکر کہا”
“مارخ یونی سے آف کے بعد مجھے جناح پارک میں ملنا”
“پر س۔۔ سر، پر ور کچھ نہیں مارخ میں آپ کا ویٹ کرو گا یونی کے بعد خاشر نے فیصلہ کن لہجے میں کہا”
“مارخ کو ہاں میں گردن ہلانی پڑھی، اور وہ فوران روم سے باہر نکل گئ”
“خاشر جان گیا تھا، کہ مارخ کی طبیعت کیوں خراب تھی، اور وہ کیوں نوٹس کمپلیٹ نہیں کرپائی”
۔۔۔۔
“احد کا زمیر احد کو بار بار ملامت کررہا تھا، اور احد چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پارہا تھا، آخر کر بھی کیا احد، نکاح ہوا ہے انابیہ کا اب میں کیا کرو، کیسے کرو اس گناہ کا بوجھ کم، کیا طریقہ ہو کہ انابیہ کی عزت بھی واپس آ جائے، اور میرے گناہ کا بوجھ بھی، ایسا تو ناممکن سا لگتا ہے، احد نے پرشانی سے اپنی پیشانی مسلی”
“آج کل انابیہ یونی بھی نہیں آرہی تھی، جب سے ٹریپ واپس آیا تھا”
“اگر ایسا ہو جائے تو بات بن سکتی ہے، احد کے دماغ میں جیسے کوئی دمھکا ہوا”
“اگر وہ انسان انابیہ کو طلاق دے دے جس کی وہ منکوحہ ہے، تو میں انابیہ سے نکاح کر سکتا ہوں، لیکن وہ میرے کہنے پر کیوں طلاق دینے لگا انابیہ کو اور ایسے تو انابیہ کی بدنامی کا بھی خطرہ ہے”
“احد نے ہاتھ کا مکاہ بناکر زور سے دیوار پر مارا، وہ سوچ سوچ کر تھک چکا تھا، لیکن کوئی حل نہیں مل رہا تھا”
“مجھے خاشر سے ڈسکس کرنا چاہے، اس مسلہ کو، احد نے سوچا، ساتھ ہی فون نکل کر کسی کا نمبر ملانے لگا”
“ہاں خاشر کہا ہوں تم؟؟
“یونی ہوں۔۔۔ کیوں حریت ؟؟
“خاشر نے پوچھا، کیوں کہ دو دن سے احد یونی نہیں آیا کیوں کے اسے بخار تھا”
“تُو یونی کے بعد مجھ پارک میں مل، کچھ بات کرنی ہے تم سے”
“ارے نہیں نہیں یار خاشر نے جلدی سے کہا”
“کیا مطلب؟
” احد کو خاشر کے نہیں کرنے پر غصہ آیا”
“یار میرا مطلب ہے، مجھ یونی کے بعد ملنا ہے کسی سے تم سے نہیں مل سکتا، خاشر نے اپنے سر میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا”
“کس سے؟ کون مجھ سے بھی زیادہ تمہارے لیے اہم ہوگیا؟؟
“احد نے ایک ساتھ سوال کیے”
“احد یار اور کوئی نے مینے ماہی سے ملنے تھا، کہتے ہو تو آجاتا ہوں میں تمہاری طرف”
“ماہی کون؟؟
“ماہی مارخ یار خاشر نے چڑ کر کہا”
“اوکے تو مل بھابی سے لیکن رات کا کھانا میرے گھر پر اوکے، احد نے ساتھ ہی شرط رکھی”
“اوکے اوکے، خاشر نے کہا اور کال بند کر دی”
۔۔۔۔
‘جناح پارک میں اکا دکا لوگ تھے، کیوں کہ دن کا وقت تھا اس لیے”
“مارخ ابایا میں تھی، خاشر اسے دور سے ہی پہچان چکا تھا”
“مارخ آکر رکی سلام سر”
“و علیکم اسلام مارخ بھیٹو”
“مارخ بیچ پر بھیٹ گٸ، اور خاشر بھی بھیٹ گیا اس کے فاصلہ پر”
“مارخ تم میری وجہ سے پرشان ہونا، اسی لیے، تم نوٹس نہیں بنا سکی؟؟
“جی سر مارخ نے گردن ہلائی”
“مارخ ایک بات کلاس کے علاوہ مجھے آنیدہ اگر سر کہا تو مینے تم سے ناراض ہوجانا ہے”
“ایک بار مجھ ہاں کردو میں تمہاری زندگی سے پرشانی نام کا لفظ ہی نکال دو گا انشالللہ”
“میں ایک دھدکاری ہوئی لڑکی ہوں، میرا دل کہتا ہے، آپ پر عتبار کروں، لیکن دماغ پھر سے دغابازی کی داستان سناتا ہے، اب مجھے نہیں پتہ میں کیا کرو”
“مارخ تم مجھ پر عتبار کر کے دیکھو یقین مانو تمہارے عتبار کو کبھی ٹھس نہیں پہنچے گئ، اور دوسری بات تمہارے ساتھ کیا ہوا میں سنا چاہ گا باشرط تم ایزیلی سنا سکو تو”
“سر مارخ کی آنکھیں پھر آئی”
“ماہی پلیز خاشر کہو مجھے”
“خا۔۔خاشر آج سے پانچ سال پہلے، جب میں 17 سال کی تھی”
“میرا نکاح میرے دور کے کزن سے ہوا تھا”
“خاشر کے دل کو کچھ ہوا، جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں جکھڑ لیا ہو مارخ کا شادی شدہ سن کر لیکن وہ پھر بھی مارخ کو اپنا بنانا چاہتے تھا”
“اس کزن نے مجھے پرپوز کیا تھا اور مجھ کس کرنے کو کہا، تب مینے اس کے منھ پر تھپڑ دےمارا اور اس کے بعد اس نے مکمل طور پر مجھ سے بات جیت ختم کردی”
” میں دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ شکر ہے جان چھوٹی، لیکن اس وقت میرے بابا کو بزنس میں اتنا لاس ہوا کہ اگر وہ بابا کی مدد نے کرتا تو ہم سڑک پر آجاتے”
“بابا بہت خوش ہوۓ اس سے کہ اس نے بابا کا بزنس بچا لیا”
“اسی اخسان کے بدلہ، اس نے بابا سے میرا رشتہ مانگ لیا”
“پھر ڈریکٹ نکاح کا کہا، وہ بزنس کے ہوالے سے بھی سٹرونگ تھا اور فیملی میں سے بھی تھا، اسی لیے بابا نے میرا نکاح اس سے دو ہفتے کے اندر اندر کردیا”
“مارخ یہ کہہ کر رک گئ”
” پھر۔۔۔
خاشر نے بےتاب ہوکر پوچھا”
“مارخ نے ٹھنڈی سانس لی”
“پھر نکاح کے بعد فرخان کافی بےتکلف ہوگۓ، جو کہ مجھ بلکل پسند نہیں تھا”
“نکاح کے ایک منتھ بعد، میرے ممی بابا لاہور شادی میں گۓ ہوۓ تھے، بھائی فاروق بھی ساتھ تھے، میں اس لیے نہیں گئ کیوں کہ میرا دوسرے دن میٹرک کا پورڈ کا پیپر تھا”
“میرے گھر والوں کو گۓ، بیس منٹ ہی ہوۓ تھے، کہ فرخان ہمارے گھر آگۓ”
“میں ٹیوی خال میں بھیٹکر پڑھ رہی تھی کہ فرخان آۓ”
“مجھ کہا میرے ساتھ روم میں چلو، مینے منع کیا تو مجھے بازو سے پکڑ کر گسھٹتے ہوۓ، روم میں لے گۓ”
“روم میں لے جاکر مجھ بیڈ پر دھکا دیا اور میں بیڈ پر گر گٸ”
“تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا، نہ آج میں تمہیں بتاو گا”
“شرم کریں فرخان میں منکوحہ ہوں اپکی، اور آپ اپنی ہی عزت کو غیروں کی طرح لوٹے گۓ”
“ہاہاہاہاہاہاہا منکوحہ ہو لیکن کچھ بھی کرنے سے پہلے، اس کے بعد میں تمہیں طلاق دے دوگا، فرخان نے کمینگی سے کہا”
“میرا تو دل ہی دہل گیا تھا ، فرخان کا بہینک روپ دیکھ کر، میں دروازے کی طرف بھاگنا چاہ لیکن اس نے مجھ پکڑ کر بیڈ پر پھینکا تو میرے منھ سے دلخراش چینج نکلی، کیوں کہ میرا سر سائیڈ ٹیبل پر لگا تھا”
“میرے بابا شوگر کے لاسٹ سٹیج پر تھے، ڈاکٹر کا کہنا تھا، کہ میڈیسن ایک دن بھی چھوڑی گئ، تو بابا کچھ دن بھی نہیں بچ پائیں گۓ، اسی لیے ہم بابا کی میڈیسن میں ناغہ نہیں کرتے”
“خدا کی قدرت، لاہور جاتے وقت بابا کی میڈیسن گھر رہ گئ، اور تھوڑی دور ہی گۓ اور ممی نے یاد کروائی، تب فاروق بھائی گھر میڈیسن لینے آۓ، تو انہے میرے روم سے چینج کی آواز آئی تو وہ دیکھنے آۓ”
“شکر ہے روم لاق نہیں تھا، بھائی نے جب فرخان کو میرے روم میں دیکھا اور میرے سر سے خون نکلتے دیکھا تو وہ سب سمجھ گۓ”
“اور یہ کہتے ہی مارخ روز زور سے رونے لگی، تو خاشر نے مارخ کو سائیڈ سے گلے لگا لیا”
“بس ماہی چپ ہوجاو پلیز اور مارخ تھوڑی چپ ہوئی”
“بھائی خود تو سمجھ گے تھے، لیکن مجھ سے پوچھ کر انہے نے فرخان کے منھ پر تھپڑ مارا اور گھر سے باہر نکال دیا”
“پھر میری ڈائیورس کوٹ کے زریعہ لی ہم نے”
“تین سال پہلے بابا کی ڈیتھ ہوگئ ہے اور ہم مری شفٹ ہوگۓ”
“خاشر یہ ہے میرا پاسٹ، کیا اب بھی آپ کی فیلینگز ویسی ہی ہیں میرے لیے مارخ نے آنسو صاف کرتے ہوۓ پوچھا”
“ماہی آئی ریلی لو یو”
“ول ہو میری می”
“Mahi I really love you”
“Will you marry me”
“خاشر میں بھی آپ سے بہت وہ کرتی ہوں، مارخ نے شرما کر کہا”
“وہ کیا ماہی پلیز بتاو، خاشر نے منت بھرے لہجے میں کہا”
“وہ ہی”
“وہ کیا بتاو بھی یار”
“اللہ حافظ کافی دیر ہوگئ ہے، میں چلتی ہوں، اور مارخ اٹھ کر چلی گئ”
_____________________________________***
“گڈ مورنگ”
“عروا نے آکر شارق سے کہا، جو ہوسٹل کے باہر اس کا ویٹ کررہا تھا” “کیوں کے کل ہما کی خالہ کی ڈیتھ ہوگئ تھی اور وہ ابھی تک ہوسٹل واپس پہنچی نہیں تھی، اسی لیے عروا نے شارق کو ٹیکسٹ کیا کے مجھ کالج چھوڑ دیں، اور شارق آگیا”
“مورنگ میڈم صاحبہ”
“شارق یہ آپ کیا مجھ میڈم صاحبہ کہتے ہیں، عروا کہا کریں”
“ہاہاہا وہ کیوں میڈم صاحبہ”
“پلیز شارق جی، عروا نے منت بھرے لہجے میں کہا, اور شارق کو عروا کے شارق جی کہنے پر عروا پر مر مٹنے کو جی چاہ”
“اوکے میں پھر “حور” کہا کرو گا، شارق نے عروا کو نیا نام دیتے ہوۓ کہا”
“ہمم گڈ عروا کو اپنا نام پسند آیا”
“حور”
“جی”
“میں جو تم سے کہنے جارہا ہوں، اسے میرے دل کی آواز سمجھنا پلیز”
“حور مجھ تم سے محبت ہوگئ ہے، بلکہ ایسا لگتا ہے ،جیسے میں تمہیں ازل سے جانتا ہوں”
“حور پلیز کچھ تو بولو، عروا کی تو زبان تالو سے چپک گئ تھی، محبت کا اظہار اس انداز میں سن کر”
“شارق میرا کالج آگیا ہے، میں چلتی ہوں، واپسی دو بجے ہوگئ”
“عروا بغیر کچھ کہے چلی گئ، اور شارق ارے ارے ہی کہتا رہ گیا”
“چلو میری حور ، ایکسیپٹ تو تمہیں مجھ کرنا پڑھے گا، اور شارق اپنے موبائل کو ہوا میں اچھل کر کیچ کرتا ہوسٹل کی جانب بڑھ گیا”
_____________________________________***
“اسلام و علیکم انکل آنٹی,خاشر حال میں داخل ہوتے ہی، جازب شاہ اور اثناء شاہ کو سلام کیا”
“و علیکم اسلام خاشر بیٹا کیسے ہو؟ آپ”
“الحَمْدُ ِلله میں ٹھیک ہوں، آپ دونوں کیسے ہیں”
“اللہ کا شکر ہے بیٹا”
” ہیلو بیڈی کیسا ہے، احد بھی خاشر سے بغلکیر ہو کر کرسی پر بھیٹ گیا”
“مما ڈنر میں کتنی دیر ہے، بہت بھوک لگی ہے”
“بس بیٹا ریڈی ہے، مسرت ملازمہ کھانا لگا رہی ہے”
“تھوڑی دیر بعد پر سکون ماحول میں کھانا کھایا گیا، اور احد خاشر کو لے کر اپنے روم میں چلاگیا”
“خاشر روم میں آکر اب بول کیا بات تھی”
“احد نے ٹریپ پر انابیہ سے ہونے والی ٹریچڈی کے بارے میں سب سچ سچ بتایا”
“اب تم بتاو میں کیا کروں ، احد نے پرشان لہجے میں کہا”
“یار گناہ تو تم سے واقع میں بہت بڑا ہوا ہے، لیکن تم ہوش میں. نہیں تھے، اور تم تو انابیہ کو اپنے نکاح میں لینا چاہتے ہو نہ، اب مسلہ یہ ہے، کہ انابیہ کو ڈائیورس کیسے دلوانی ہے”
“ہممم بلکل یہ ہی مسلہ ہے، احد نے کہا”
“چل کل دیکھتے ہیں، اس مسلہ کو ابھی کافی لیٹ ہوگیا ہے مجھے چلنا ہے”
“چل ٹھیک ہے جا تو، احد نے کہا”
“اللہ حافظ، پرشان نہ ہو کوئی نہ کوئی حل نکل آۓ گا انشالللہ، خاشر کہتا ہوا باہر نکلا گیا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: