Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 14

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 14

–**–**–

“پ۔۔۔پلیز لیومی.۔۔۔۔۔”
“چھوڑو مجھ پلیز، یہ تم کیا کررہے ہو یہ سب”
“ہٹو پلیز۔۔۔”
“وہ اسے کے ہاتھوں سے اپنی نازک کلایوں چڑوانے کی ناکام کوشش کررہی تھی، لیکن وہ اتنے بڑے مرد کے ہاتھوں سے اپنی کلایں چڑوا نے میں ناکام رہی”
۔۔۔۔۔۔
“بیگم صاحبہ!!
“شاہ جی آئے ہیں، نیچے”
“ملازمہ نے آکر بتول خانم کو بتایا، جو اپنے گھٹنے پر تیل سے مالش کررہی تھیں”
“تم چاہے کا انتظام کرو، میں آرہی ہوں، نیچے”
“بتول خانم نے ملازمہ کو ہدایت دیتے ہوۓ کہا، ملازمہ جی کہتی باہر چلی گئ”
۔۔۔۔۔
“نہیں پلیز۔۔۔۔، اور ساتھ ہی انابیہ کی آنکھ کھلی گئ، انابیہ کا سارا جسم پسینے سے شرابور ہوچکا تھا، اور آنکھوں سے آنسو”
“اووو خدایا!!,وہ سب دوبارہ خواب تھا”
“برباد کردیا ہے، تم نے مجھے احد شاہ، انابیہ نے آنکھوں سے آنسو کو بری طرح رگڑ کر صاف کرتے ہوۓ سوچا”
“انابیہ جب سے ٹریپ سے واپس آئی تھی، تب سے ہی اسے احد کا اس رات کا منظر بار بار خواب میں آکر ڈراتا تھا، اور ابھی بھی یہ ہی ہوا تھا”
“انابیہ جو بھی ہوا، اب تمہیں حالات سے مقابلہ کرنا ہوگا، تبھی تو تم احد شاہ کو سبق سکھا سکی گئ، بےشک اس نے نشے میں سب کیا، لیکن نشے میں بھی انسانیت نہیں بھولنی چاہے”
“انابیہ نے بہتی آنکھوں اور پرشان دماغ سے سوچا”
“ہاں بلکل اب میں، کل سے یونی جاو گئ، اور اسے منٹلی ٹارچر کرو گئ، انابیہ اٹھ کر واشروم میں چلی گئ”
“انابیہ واشروم سے باہر نکلی، تو ملازمہ نے انابیہ؛ کو نیچے ڈراینگ روم میں شاہ جی کے آنے کی اطلاع دی”
“انابیہ برش کرنے کے بعد سر پر دوپٹہ سیٹ کرکہ نیچے ڈراینگ روم میں چلی گئ”
“اسلام چچا جان!۔ انابیہ ڈراینگروم میں داخل ہوتے ہی، بولی”
“و علیکم اسلام، آنی بیٹا کیسی ہو؟؟
” ڈراینگروم میں بھیٹے نفوس نے پیار سے انابیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ، پوچھا”
“میں ٹھیک ہو چچا جان”
“لیکن ہم نے تو سنا ہے، آپ دو ویک سے یونی نہیں جارہی ہو، کیا بات ہے بیٹا؟، کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاو، لیکن یونی سے ایسے چھٹیاں کرنا تو بلکل اچھی بات نہیں جب کہ، اگزامز میں صرف پچیس دن رہ گۓ”
“چچا جان صبح جاو گئ انشالللہ، انابیہ نے کہا”
“گڈ میری گڑیا شاہ جی نے کہا”
“آپ کی طبیعت اب کیسی ہے؟ خالہ جان، شاہ جی نے اب بتول خانم سے پوچھا”
“ارے کیا بتاو بیٹا، اس گھٹنے کے درد نے تو جان نکال رکھی ہے، اور بس ٹھیک ہوں، بتول خانم نے اپنا گھٹنا سہلاتے ہوۓ کہا”
“چلے میڈیسن استعمال کرتی رہے، انشالللہ شفاء ملے گی”
“شارق نہیں آیا پنڈی سے چھٹی کیا؟۔۔ آیا تھا بیٹا پر جب انابیہ ٹریپ پر گئ تھی، پھر واپس چلا گیا تھا”
“ہمم کیسی جارہی ہے، اس کی پڑھائی؟؟
“بیٹا کہتا تو ہے ٹھیک جارہی ہے”
“آپ پوچھتی رہا کریں، میڈکل کی پڑھائی کون سا آسان ہے، شاہ جی نے کہا”
“ہاں کرتی رہتی ہوں کال اسے، وہ خود بھی کرتا رہتا ہے، بتول خانم نے بتایا”
” پھر ملازمہ چاہے اور لازمات لے کر داخل ہوئی، تو انابیہ چاہے بنانے لگی”
_____________________________________***
“شام میں ہوسپیٹل کا وقت تھا،جب عروا کو واڈ بوائے نے آکر اطلاع دی کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے”
“عروا یہ سوچتے ہوۓ ویٹنگ روم کی جانب بڑھنے لگی، کہ اس وقت کون اس سے ملنے آیا ہوگا”
“جب عروا ویٹنگ روم میں داخل ہوٸی تو، تبرز ملک کے آدمی کو دیکھ کر سکتے میں آگئ، کیوں کہ یہ وہ ہی آدمی تھا، جب عروا احد کے ساتھ آئی تھی، تو اس آدمی اس کا پیچھے کیا تھا اور اس کے بعد یہ اس آدمی کا روز کا معمول بن چکا تھا”
“عروا تبرز ملک کے آدمی کو دیکھ کر واپس جانے لگی کہ، اس آدمی نے عروا کو پکڑ لیا، اور منھ پر ہاتھ رکھ کر ساتھ لے جانے لگا”
“عروا نے ہمت کر کے اس کا ہاتھ اپنے منھ سے ہٹا کر زور کی چینح ماری”
“کوریڈور سے گزرتے شارق نے چینح کی آواز صاف سنی اور جلدی جلدی ویٹنگ روم کی جانب بڑھنے لگا”
” چینح اتنی زور کی تھی کہ ویٹنگ روم کے قریب تمام ڈاکٹرز نے بھی سنی”
“عروا کے چیہنے پر اس آدمی کو بہت غصہ آیا، اور اس نے عروا کے منھ پر تھپڑ مارا اور عروا زمین پر جا گری، لیکن عروا فوران اٹھ کر بھاگنے لگی، کہ اس آدمی نے عروا کو پکڑنا چاہا تو عروا کی کمیز کا بازو پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا”
“اتنے میں شارق روم میں داخل ہوا، اور عروا کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گیا، شارق کو فکر تھی تو عروا کی پھٹی کمیز کی جس سے اس کا جسم صاف نظر آرہا تھا”
“اس آدمی نے جب شارق کو دیکھا تو جلدی سے بھاگنے میں ہی آفیت جانی”
“شارق نے جلدی سے اپنی شرٹ اتاری اور عروا کے کندھوں پر ڈال دی، جو عروا نے فوران پہن لی، اور بےاحتياط شارق کے سینے سے لگ گئ”
“اتنی دیر میں ہوسپیٹل انتظامیہ بھی ویٹنگ روم میں داخل ہوۓ”
“شارق!!!۔۔ یہ کیا بے ہودگی ہے؟؟۔۔ تم دونوں کو یہ ہی جگہ ملی تھی یہ سب کرنے کہ لیے ایک اور لیڈی ڈاکٹر نے عروا کی کمیز کے پھٹے ٹکڑے کو دیکھتے ہوا کہا”
“ن۔۔ نہیں ڈاکٹرز ایسا کچھ نہیں ہے، جیسا آپ سب سمجھ رہے ہیں، شارق نے وصاخت دینا چاہی، عروا تو ڈاکٹرز کی باتیں سن کر ہی شرم سے پانی پانی ہوچکی تھی”
“ایسا نہیں تو کیا ہے، یہ سب سسٹر عروا کے جسم پر آپ کی پہنی شرٹ اور آپ کے جسم پر صرف انڈرشرٹ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے، تمام ڈاکٹرز نے کہا، جو جو اس وقت ویٹنگ روم میں تھے”
“عروا تو نظر نہیں اٹھا پارہی تھی”
“پلیز ڈاکٹرز ایسا کچھ نہیں ہے، میں بار بار کہہ رہا ہوں آپ سب سے”
“ہاں ہاں گناہ کرکے کون کرتا ہے، گناہ کا عتراف”
“تم لوگوں نے شادی کو مزاق بنا رکھا ہے، کیوں کے تم لوگ شادی سے پہلے ہی سب کر لیتے ہو،شادی کا کیا کام۔۔”
“یہ بات سنتے ہی عروا نے زمین پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا”
“ارے یہ تو لڑکا ہے سسٹر عروا، تم ہی خیال کرلیتی اپنی ماں باپ کی عزت کا، اب یہ رونے کا ڈرامہ کس لیے”
“بس ڈاکٹر پاکیزہ بس ایک لفظ اور نہیں، آپ عروا کے کردار پر اس طرح کیچڑ نہیں اچھل سکتی، آپ جانتی ہی کیا ہے اس کے بارے میں”
“جب ڈاکٹر پاکیزہ نے عروا کے کردار پر انگلی اٹھائی، تو شارق سے برداشت نہیں ہوا”
“مجھ ضرورت نہیں تم دونوں کے بارے میں. جانے کی، بات یہ ہے، تم دونوں ابھی اسٹوڈنٹ ہو، اور ایسے یہ بات جب دوسرے اسٹوڈنٹ تک پہنچے گئ اور ہماری ہوسپیٹل اور ہوسٹل کی رپوٹیشن خراب ہوگی،۔۔
کون بھجے گا، ہمارے ہوسپیٹل اور ہوسٹل میں اپنے بچوں کو، اس لیے ہم تم دونوں کو اس کالج اور ہوسپیٹل سے فائر کرتے ہیں، اس کے بعد تم دونوں کوئی بھی کالج اور ہوسپیٹل نہیں لے گا، انتظامیہ نے بات ختم کرتے ہوۓ کہا”
“شارق ایک منٹ میں نتيجے پر پہنچا”
“سر پلیز یقین مانے ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا،اگر پھر بھی آپ کو یقیں نہیں تو میں عروا کو اپنے نکاح میں. لینے چاہو گا، آپ خود میرا نکاح کروا دیں، لیکن کسی اور کو کچھ مت بتائے گا، کیوں کے عروا کی عزت کا سوال ہے، پلیز میری ریکویسٹ ہے آپ سے شارق نے انتظامیہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دیا”
“اوکے تم دونوں کا نکاح کروا کر ہم اپنے ہوسپیٹل کی رپوٹیشن کو بچا سکتے ہیں، ہہاں پر جو ڈاکٹر ہیں، کان کھول کر سن لے ہہاں کی بات باہر نہیں نکلنی چاہے، ہوسپیٹل کی رپوٹیشن کا سوال ہے”
“اگر یہ بات باہر نکلی تو تم تین ڈاکٹرز اور دو اسٹوڈنٹ کو میں منٹ سے پہلے فائر کرو گا اور یو نو یہاں سے فائر کے بعد تم سب کو پاکستان کے کسی بھی ہوسپیٹل میں جاب نے ملنی، انتظامیہ نے سحت لہجے میں کہا تو سب نے ہاں میں گردن ہلائی”
“پانچوں ڈاکٹرز میں ایک ڈاکٹر پاکیزہ، ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹر جبران، ثمر اور ہما تھے”
“آدھے گھنٹے بعد عروا اور شارق کا نکاح ہوسپیٹل انتظامیہ کے سامنے ہوا، انتظامیہ تو نکاح کے بعد نکل گۓ، پیچھے ڈاکٹر سلیم اور ڈاکٹر جبران اور باقی دو نے شارق کو مبارک بات دی اور باہر چلے گۓ”
“پھر شارق کو ثمر نے لگے لگا کر مبارک دی، اور ہما عروا کے لگے لگی”
“ثمر نے شارق سے کہا یار یہ سب کیا ہے، کیا ہوا تھا ادھر؟؟ میں جانتا ہوں تم دونوں کیسے ہو، اور ایسی گری ہوئی حرکت کبھی نہیں کرسکتے”
“تب شارق نے ثمر کو تمام حقيقت بتائی”
“ثمر مینے اپنے فائر کے ڈر سے یہ سٹینڈ نہیں لیا، مینے عروا کی عزت کے ڈر سے یہ کیا، کیوں کے عزت کے جانے کا درد میرا خاندان پندرہ سال پہلے جھل چکا ہے، اس لیے میں یہ درد ایک بار پھر عروا کے والدین کے حصہ میں نہیں لانا چاہتا”
“عروا اب بھی رورہی تھی ، ہما اسے چپ کروا کروا کے تھک چکی تھی، لیکن وہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی”
“شارق بھائی یہ چپ نہیں ہورہی ہے، ہما نے شارق کو کہا، شارق اٹھ کر گیا تو عروا کو سمجھایا تو وہ تھوڑی چپ ہوئی”
“شارق جب واپس ثمر کے پاس آیا تو ثمر کال پر کسی سے بات کررہا تھا، جی جی ایک روم ویڈنگ نائیٹ کے لیے، اچھا سا ڈیکوریٹ ہو۔۔۔ جی ٹھیک ہے، کال بند کرنے کے بعد شارق نے پوچھا کون تھا؟؟
“چل یار تیری آج شادی ہوئی ہے، چاہے جیسے بھی خالات میں ہوئی، اس لیے میں نے تمہارے لیے آج روم بک کروایا ہے، ثمر نے اپنا کارنامے بتایا”
“ارے نہیں یار ایسے کیسے عروا پہلے ہی رو رہی ہے، یار اسی لیے تو اسے لے جاو نا ساتھ اور یقین دلاو کے تم اس کے ساتھ ہو، ہمم لیکن عروا نہیں جائے گئ تو؟؟
“ایسے کیسے نہیں جائے گئ، اب بیوی ہے، وہ تمہاری، اور مینے پہلے ہی ہما کو اسے تھوڑا سا تیار کرنا کے لیے کہہ دیا ہے، اسی وقت ہما بھی روم میں داخل ہوئی، شارق بھائی دولہن تیار ہے، لے جائے بہت مشکل سے تیار کیا ہے اسے، ہما نے شرارتی ہسی ہستے ہوا کہا”
“ثمر نے شارق کو ٹیبل سے اسکی گاڑی کی کی اٹھا کر ہاتھ میں تھمائی اور باہر کی طرف لے جانا چاہا”
“ارے یار رک مینے ایک چیز لینی ہے، شارق اپنی ورڈروب کی جانب بڑھا، جب شارق نے اس میں سے زارا کی چنی نکالی، جو وہ جلدی میں اپنے ساتھ لے آیا تھا، لیکن اب اسے شاید چنی کا ساتھ آنا سمجھ آیا تھا”
“اوو سو سویٹ یار امیزنگ، بہت خوبصورت ہے یہ دوپٹہ، تو کہاں سے لیا، ثمر نے ستائیش نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا؟”
“یار یہ ہماری خاندانی چنی ہے، میری مما کی تھی، اب یہ عروا کو دو گا، ہمم ثمر نے آنکھ مارتے ہوۓ کہا، اور شارق باہر گاڑی کی جانب چلا گیا، جدھر ہما پہلے ہی عروا کو لیے کھڑی تھی”
_____________________________________***
“یونی کے بعد مارخ گھر جانے کے لیے نکلی ہی تھی، کہ خاشر بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا”
“ہائی ڈئیر کیسی ہو؟؟
“خاشر نے شوہی سے پوچھا”
“میں ٹھیک ہوں، سر آپ کیسے ہیں؟؟
“مارخ کے سر کہنے پر خاشر نے منھ بنا لیا، پھر سے کیوں سر کہا؟؟
“س۔۔سوری اب نہیں کہوں گی سر”
“چلو پھر خاشر کہوں، ابھی”
“خاشر”
“مارخ نے ہار مانتے ہوۓ کہا”
“جی خاشر کی جان”
“پلیز خاشر آپ اب رومینس مت چھڑے، مارخ نے شرما کر کہا”
“اچھا ماہی یہ بتاو میں ممی کو کب تمہارے گھر رشتہ کے لیے بھجوں؟؟
“خاشر آپ جب مرزعی بھج دیں، ماما اور بھائی میری بات کبھی نہیں ٹالے گۓ”
“ہمم ٹھیک ہے، ایک ویک کے بعد ٹھیک ہے نہ تمہارا “اگزامز بھی ختم ہوجانے گۓ، تب تک”
“ہمم جیسا آپ کو مناسب لگے”
“اللہ حافظ خاشر”
” ماہی میں چھوڑ دو گھر؟؟
“نہیں آپ جایے میں چلی جاو گی”
“ہممم چلو ٹھیک ہے ٹیکئر”
۔۔۔۔
“مجنو اپنی لیلا سے فرصت ملگئ ہو، تو میرے مسلے پر بھی زرا غور کرو، کوئی دوست کی بھی فکر کرو، جب سے لیلا ملی ہے، تو دوست کو تو بھول ہی گیا ہے،احد نے خاشر پر تانوں کے نشتر چلائے”
“ماشااللہ بول چل، خاشر نے سیریس ہونے کی ایکٹنگ کی”
” جا جا ماشااللہ، اب اگر رشتہ نے ملا تو مجھے مت الزام دینا، احد نے بھی خساب برابر کرتے کہا”
“ارے توبہ کر یار، اللہ نہ کرے ایسا کبھی ہو”
“ہاہاہا میں نے ایسے ہی تمہیں مجنو کا لقب نہیں دیا، صحیح سوٹ کرتا ہے، تم پر یہ نام “مجنو” واہ واہ کیا نام ہے، ہاہاہاہاہاہاہا”
“بریک لگا بریک ورنہ میں جارہا ہوں، خاشر نے ناراض ہوتے ہوۓ کہا”
“ارے میں مزاق کررہا ہوں یار، احد نے خاشر کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا”
“ہممم احد ایسا کر تو، انکل کو انابیہ کی پیکس دے اور اس کے بارے میں پتہ کرنے کا کہ، جب انکل، انابیہ کے متعلق تمہیں انفارمیشن دے گۓ، تو اس کے نکاح کے متعلق اور اس انسان کا بھی تمہیں پتہ چل جایے گا، جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، پھر تو اس آدمی سے مل لینا انابیہ جس کی منکوحہ ہے اور پھر اسے کچھ دے دلا کر انابیہ کی طلاق لے لینا، خاشر نے ساری بات احد کے گوش گزار کی”
“واہ واہ یار کیا بات بتائی ہے ، تیرا منھ چومنے کا دل چاہ رہا ہے، احد نے خوش ہو کر کہا”
“بس بس شکریہ ادا کردے اتنا ہی بہت ہے، خاشر نے کہا”
“شکریہ میرے یار، احد نے خوشدلی سے کہا”
“اچھا احد اب گھر چل دیر ہو رہی ہے، خاشر نے کہا اور احد نے گاڑی سٹارٹ کردی”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: