Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 15

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 15

–**–**–

“جازب شاہ نے آج بزنس ٹریپ سے شہر سے باہر جانا تھا، احد سے انکو کوئی بات کرنی تھی”
“جازب شاہ اپنے کمرے سے نکل کر احد کے کمرے کی طرف بڑھ گۓ”
“دروازہ ناق کرکے جازب شاہ احد کے کمرے میں داخل ہوۓ, ان کی نظر جب کمپيوٹر اسکرین پر پڑی تو واپس پلٹنا بھول گئ”
“جازب شاہ نے غور سے اسکرین پر آئی پیکس کو کو دیکھا، اور اس پر لکھی عبادت کو زیرلب پڑھا۔۔۔”my attitude girl””My love, my LiFe”
“جازب شاہ نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے ان لفظوں کو پڑھا، جو کہ اس پیکس پر لکھے تھے، اور جلدی سے کمرے سے باہر نکل گۓ، کیوں کے اب انکو احد سے بات نہیں کرنی تھی”
“احد واشروم میں تھا، اسے اپنے کمرے کے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی”
“لیکن جب وہ باہر آیا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا، احد اپنا وہم سمجھ کر دوبارہ کمپيوٹر کے سامنے بیٹھ گیا”
“اتنے میں احد کے سیل فون کی رٍنگ ہوئی، خاشر کالنگ لکھا دیکھ کر احد نے آنسر کا آپشن کلیک کیا “
“کیسا ہے بیڈی؟ خاشر نے چہکتی آواز سے پوچھا”
“ہمم ٹھیک ہوں یار، احد نے نارمل لہجے میں کہا”
” اچھا یہ بتا کیا کررہے تھے؟،سچ بتا دو؟، احد نے معصومیت سے کہا”
“بلکل اب بکواس کر بھی دیں آپ، خاشر نے آدھے ادب اور آدھی بےتمیزی سے چڑ کر کہا”
“یار وہ نہ، انابیہ کی پیکس ایڈیٹ کررہا تھا.”
“کیا۔۔۔ خاشر کو تو شاک ہی لگا تھا، کہاں انابیہ کے نکاح کا رونا ختم نہیں ہوتا تھا، احد کا اور یہ پیکس تک بات کیسے پہنچ گئ”
“بڑی جلدی نہیں مان گئ تمہاری انابیہ۔۔، خاشر نے تمہاری پر زور لگا کر پوچھا”
“ارے نہیں نہیں یار، وہ کہاں مانی ہے”
“پھر تیرے پاس انابیہ کی پیکس کہاں سے آئی؟؟”
“وہ نا مینے تیرے موبائل سے پیکس لی تھی انابیہ کی جس فولڈر میں مارخ کی پیکس تھی ادھر انابیہ کی بھی تھی”
“اوو تو بہت بڑا کمینہ ہے، کیوں نکالی پیکس میری سالی کی؟۔ خاشر نے باظاہر غصے سے کہا، لیکن اندر سے وہ اپنے دوست کی چالاقی پر ہس رہا تھا”
“ابے یار کیا بتاو، پیار ہوگیا ہے، تیری سالی سے ، احد شاہ کے سینے میں گھر کر گئ ہے، اس کی معصومیت، اسکے نحرے، اسکے کا ڈرا ہوا روپ، یقین مان اس کی ہر ہر ادا پر دیوانہ ہوگیا ہے احد شاہ، احد نے پیار سے چور لہجے میں کہا”
“ارے یہ کیسے ہوا؟ اور میں کیسے مان لوں، احد شاہ جسے گرلفرنڈ جیسے رشتے سے ہی نفرت ہے، جس احد شاہ کی ہر لڑکی دیوانی ہے لیکن احد شاہ لڑکیوں کو گھاس نہیں ڈالتا، جیسا کہ یہ لڑکیاں کہتی ہیں، پھر یہ احد شاہ، اس لڑکی سے کیوں پیار کر بیٹھا، جس کے ساتھ وہ رات بھی گزار چکا ہے”
“خاشر نے تو مزاح میں یہ بات کہی تھی لیکن۔۔۔”
“کیا بکواس ہے یہ؟؟ خاشر احد نے بہت ہی غصے میں خاشر سے کہا، مینے اس کے ساتھ رات نہیں گزاری نہ ہی وہ کوئی ایسی ویسی لڑکی ہے، وہ سب نشے میں ہوا سمجھے تم، احد نے گرجدار آواز میں کہا”
“س ۔ سوری احد یار میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔ لیکن دوسری طرف سے فون بند ہوچکا تھا “
_____________________________________***
“شارق عروا کو روم میں بیٹھاکر آیا، پھر گاڑی سے چنی(چنری) کا پیکٹ نکالا گاڑی لاق کی اور دوبارہ روم میں آگیا”
“عروا نے بلیک کلر کی لونگ فراح کے ساتھ ٹائیٹ پیٹ پہنی ہوئی تھی”
“ہما نے عروا کے نہ نہ کرنے پر بھی کافی تیار کردیا تھا، بلیک ڈریس کے ساتھ گولڈن بال ہما نے ایک سائیڈ پر ڈالے تھے، نیلی آنکھیں جو کے بہت زیادہ رونے کی وجہ سے اندر سے اب سرخی ظاہر کر رہی تھیں، لیکن پھر بھی وہ معصوم گڑیا بہت پیاری لگ رہی تھی، اسی لیے اب شارق کو عروا سے نظرے ہٹانا مشکل ہورہا تھا”
“شارق نے بیڈ پر بیٹھ کر بات کا آغاز کیا”
“دیکھو عروا پیار، تو میں پہلے بھی تم سے کرتا تھا، اور میں تمہیں اپنی زندگی میں بھی ہر حال شامل کرتا، کیوں کہ جسے بھی شارق اپنا مان لے اسے پھر خود سے دور نہیں ہونے دیتا، پر اب ماشااللہ تم میری زندگی میں آچکی ہوں، بےشک ہمارا نکاح جن بھی خالات میں ہوا، اس کا مجھ بہت دکھ ہے”
“لیکن اب تم عروا شارق خان بن چکی ہوں، یقین مانو کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑو گا، ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ کھڑا پاٶگئ، زندگی کے کسی بھی سفر میں تمہیں خود سے دور نہیں کرو گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے”
“شارق کی بات سنے کے بعد عروا کے آنسو اسکی نیلی آنکھیں سے نکل کر اس کے گال بگھو رہے تھے، کیا ہوا چندہ؟ اب بس اب یہ آنسو نہ نکلے شارق نے عروا کے آنسو صاف کرکے اس گلے لگاتے ہوۓ کہا”
“اب عروا خاموش ہوچکی تھی”
“شارق نے چنی کا پیکٹ کھولا اور اس میں سے خوبصورت چنی نکالی، عروا مائی سویٹ وائیف۔۔ اتنی جلدی میں میں تمہاری منھ دیکھائی لا نہیں سکا، اس پر عروا بلش کرنے لگی، لیکن یہ ہماری خاندانی چنری ہے، میری ممی کی تھی، اب میں تمہیں دے رہا ہوں، شارق نے عروا پر چنی ڈالتے ہوۓ بتایا”
“نہیں یہ بہت خوبصورت ہے، عروا نے کہا’
“شارق نے عروا کی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی، اور اعرو سے کہا جاٶ چینج کرکے آٶ”
“شارق کا بہت جی چاہ رہا تھا، کہ وہ عروا کو بہت پیار کرے، اسے اپنی محبت کی برسات میں بگھو دے، لیکن اس وقت یہ سب عروا کے لیے ٹھیک نہیں تھا، اس لیے اس نے عروا کو چینج کرنے کا کہہ دیا “
“عروا واپس آئی تو شارق نے کہا، چلو چندہ سو جاو ریسٹ کرو، شارق نے عروا کو بیڈ پر لیٹ کر اس پر بلیکنٹ ڈالا، اور دوسری طرف آکر خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا”
_____________________________________***
” آج ان کا آخری پیپر تھا ، اور آج انابیہ وقت سے پہلے ہی آچکی تھی” “مقصد احد کو مینٹلی ٹارچر کرنا تھا”
” انابیہ کو مارخ سے یہ بھی پتہ چل چکا تھا، کہ احد اس سے پیار کرنے لگا ہے، انابیہ نے بھی مارخ کو ٹریپ والے سارے واقعہ کے بارے میں بتا دیا تھا”
“مارخ بھی بہت پرشان تھی، دوست کے ساتھ ایسا ہونے سے لیکن اب کر بھی کیا سکتی تھی”
“پیپر دینے کہ بعد اسے احد جلد ہی مل گیا، پیپر سے پہلے ہی وہ اسے ڈھونڈتی رہی لیکن احد لیٹ آیا تھا صبح”
“احد شاہ مجھے تم سے بات کرنی ہے، انابیہ نے سیدھا سیدھا نام ہی لیا، کیوں کہ احد اس وقت اکیلا ہی تھا”
“ہاں بولو انابیہ میں سن رہا ہوں، احد نے انابیہ کے سامنے کھڑے ہوتے کہا”
“مسٹر احد شاہ تمہارا گناہ میرے پیٹ میں پل رہا ہے”
” اب تم ہی بتاو میں کیا کرو، ہاں مجھ برباد کردیا تم نے انابیہ کے آنسو نکلنے لگے، ڈراپس اپنا اثر کررہے تھے”
“احد تو سکتے میں ہی آگیا تھا، انابیہ کی یہ بات سن کر ہی، اس سے پہلے احد کچھ کہتا انابیہ وہاں سے جاچکی تھی”
“احد کو اب نیئے سرے سے فکر ہونے لگی تھی”
“احد یار پلیز غصہ تھوک دے، نہ میں نے جسٹ مزاق میں کہا تھا، خاشر نے دوبارہ احد سے معزرت کی”
“ہمم میں ناراض نہیں ہوں، تم سے یار، بس وقتی غصہ آیا تھا”
“شکر ہے تو ناراض نہیں جگر، ورنہ تمہیں پتہ ہے، لوگ اپنی محبوبہ کے بغیر رہ سکتے ہیں، پر خاشر احد کے بغیر نہیں، خاشر ابھی کومڈی کرنے میں مصروف تھا، لیکن احد چہرہ پر سنجیدگی لائے گہری سوچ میں تھا”
“ابے کیا ہوا؟ اب تمہیں، کیوں رہنجا بنا سوچ رہا ہے، خاشر نے احد کو باغور دیکھتے ہی کہا”
“خاشر ” شی از پریگنٹ” میرے بچے کی ماں بنے والی ہے وہ، احد نے پرشان لہجے میں کہا”
“وٹ احد تمہیں پتہ بھی ہے، تو کیا کہہ رہا ہے”
“خاشر میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں، میرا گناہ پل رہا ہے اس کے پیٹ میں ایسا خود انابیہ نے کہا ہے”
_____________________________________***
“آج خاشر کی ممی عباسی ہاٶس کے ڈراینگروم میں برجمان تھیں، کیوں کہ آج مارخ اور خاشر کی شادی کی تاریح رکھنی تھی”
“راحیلہ چودھری(خاشر کی ممی) نے مسسز صدیقی اور فاروق نے سلاح مشورے سے دونوں کی شادی کی تاریح رکھی”
“آج سے پندہ دن بعد شادی تھی خاشر اور مارخ کی”
“اس متعلق خاشر بہت خوش تھا کے شادی جلدی ہورہی ہے، لیکن مارخ خاشر کو جانتی تھی، اس کا اورکنٹرول ہونا، ایسے میں شادی کے بعد مارخ کا سوچ کر ہی پرشان ہوجاتی”
“پیپ۔۔ پیپ۔۔۔ مارخ کا موبائل بجا، خاشر کالنگ لکھا آرہا تھا، مارخ نے کال اٹینڈ کی”
“ہائی میری جان ماہی کیسی ہو یار؟ خاشر نے خشگوار لہجے میں مارخ سے پوچھا”
“میں ٹھیک ہوں، خاشر آپ کا کیا حال ہے؟
“ہائی ہمارا حال ہم کیا بتایں، پاس آوگے تو جان جاو گے، خاشر نے سونگ گنگنا کر بتایا”
“ہمم آنا تو پڑے گا، اب آپ کے گھر، آپ نے اتنی جلدی شادی جو رکھ دی، مارخ نے بےچارگی سے کہا”
“ماہی یار پرشان نے ہو، میں تمہیں اتنا پیار دوگا، کے تمہارے چہرہ پر غم کا سایہ بھی نہیں آئے گا”
“اسی سے تو ڈر لگتا ہے، مارخ جلدی میں جو منھ میں آیا کہہ گئ”
“کس سے ڈر لگتا ہے؟ “میری ماہی کو، خاشر نے تنگ کرنا ضروری سمجھا”
“کچھ نہیں اور مارخ نے کال کٹ کر دی، خاشر ہیلو ہیلو کرتا ہی رہ گیا”
_____________________________________***
“شارق اور عروا کے نکاح کو ایک منتھ ہوگیا تھا”
“ان کے پیپرز بھی ہوچکے تھے،ثمر اور شارق کہ چار سال مکمل ہوچکے تھے”
” اب دونوں نے جسٹ ہوسپیٹل میں رہ کر سیکھنا اور پڑھنا تھا”
“جب کہ عروا اور ہما دونوں کا ابھی ایک ایک سال رہتا تھا کالج اور ہوسٹل میں”
“اب چاروں پیکنگ کررہے تھے، اپنے اپنے گھر جانے کی”
“آج صبح ہی سمیر نے بھی ثمر کے لیے گاڑی بجوائی تھی گھر سے، اور ثمر نے ڈرائيور کو جانے کا کہہ دیا، اسکا ہما کو اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ تھا”
“اب چاروں مل رہے تھے ثمر اور شارق ملے، اور عروا اور ہما”
“دونوں اپنے اپنے پاٹنر کے ساتھ گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئیں”
“عروا نے احد کو آنے سے منع کردیا تھا، کہ وہ لینے نہ آئے، وہ اپنی دوست کے ساتھ آجایے گئ”
۔۔۔
“ثمر آئیسکریم کھاتے ہیں، ہما نے فرمائیش کی”
“پالر میں جاکر کھانی ہے یا گاڑی میں ثمر نے ہما سے پوچھا”
“گاڑی میں لے آو ، تھوڑی دیر بعد ثمر آئیسکریم گاڑی میں لے آیا”
“کھانے کے روران ثمر کے فیس پر تھوڑی آئیسکریم لگ گئ، تو ہما کے اپنی انگلی سے ثمر کے فیس سے صاف کی، لیکن اب ہما کی فنگر پر لگ چکی تھی، ثمر نے ہما کی فنگر پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لی، اور آئیسکریم کھا لی، ہما تو شرما کر نیچے دیکھنے لگی”
“اوو ہیلو ابھی شرمانا چھوڑو، اپنی بارات پر شرما لینا، ابھی یہ ختم کرو، تاکہ گھر کے لیے نکلے ابھی کافی سفر ہے، ثمر نے ہما کو کہا، جس پر ہما نے گھور کر ثمر کو دیکھا”
۔۔۔۔
“عروا وہ دیکھو مہندی، شارق نے عروا کو ونڈو سے باہر اشارہ کر کہ بتایا، جدھر مہندی کا سٹال لگا ہوا تھا”
“تو میں کیا کرو شارق جی مجھے تو بلکل پسند نہیں مہندی لگانا، عروا نے منھ بنا کر بنایا”
“ڈیئر وائیف جی آپ کے ہیسبنڈ کو مہندی بہت پسند ہے، اس لیے جلدی اترو، نہیں میں نہیں جارہی شارق مجھے نہیں پسند نہ”
“عروا۔۔۔، شارق نے تھوڑے آڑر دینے والی ٹون میں کہا تو، عروا کو اترنا ہی پڑا، عروا کے نہ نہ کرنے پر بھی شارق نے عروا کے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگوادی”
“آج عروا نے شارق کہ کہنے پر بال کھلے چھوڑے تھے”
“عروا اور شارق راولپنڈی سے جارہے تھے، اس وقت پنڈی میں کافی گرمی تھی، اس لیے شارق نے ونڈو کھلی رکھی”
“عروا دونوں ہاتھوں پر مہندی لگائے، منھ بناتی شارق کے ساتھ برجمان تھی”
“شارق۔۔۔ ہممم کیا بات ہے، میرے بال آنکھوں میں آرہے ہیں، انکو پیچھے کریں”
“شارق نے مسکراتے ہوے عروا کے بال پیچے کردیے،ابھی دو منٹ بھی نہیں ہوۓ تھے کہ عروا نے دوبارہ کہا”
“شارق یہ پھر تنگ کررہے ہیں، میرے بیگ سے ربن نکال کر انکو بھند دیں”
“شارق نے ربن نکالا، اور عروا کے بال بھندنے لگا، بال بھندتے وقت شارق عروا کی نیلی آنکھیں میں ہی دیکھ رہا تھا اور اس کے نیچرل پنک لپس کو”
“شارق کا دل کر رہا تھا، وہ ان ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوے، لیکن وہ چپ چاپ گاڑی ڈرائیو کرنا لگا”
“شارق میرا موبائل اس طرف گرگیا اٹھا کر دیں، عروا نے اپنی لفٹ سائیڈ کی طرف اشارہ کیا”
“شارق نے عروا کا موبائل اٹھانے کے لیے اس کی سیٹ کی طرف جھکا، اس لیے عروا شارق کے بلکل قریب تھی، اسی بات کا فائدہ شارق نے اٹھیا اور عروا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، عروا تو شرم سے پانی پانی ہوگئ، اور اپنے مہندی والے ہاتھ شارق کی سفید شرٹ پر لگا دیے ، تب شارق پیچے ہوا اور عروا پر شکایتی نظر ڈال کر ڈرائيو کرنا لگا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: