Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 16

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 16

–**–**–

“یونی سے آف کے بعد خاشر گاڑی کی طرف آیا تو احد کو گم ثم بیٹھا پایا”
“کیا ہوا جگر؟؟
“یار وہ ہی پرشان ہے، انابیہ کی”
“اچھا تو نے انکل سے بات کی؟
“یار بات کرنا والا تھا، لیکن اسی دن بابا بزنس ٹریپ سے شہر سے باہر چلے گۓ، میں بات نہیں کرسکا، احد نے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں کہا”
“اچھا ٹنشن نہ لے سب ٹھیک ہو جائے گا، خاشر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا”
“کچھ ٹھیک نہیں ہو گا یار، اگر وہ بدنام ہوگئ، تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کرسکوں گا، مینے نشے میں بھی کیوں اس کہ ساتھ ایسا کیا، کیوں۔۔۔۔ کیوں، احد نے سامنے پڑے کانچ کے کلاس پر مکاہ مارا، تو احد کا ہاتھ خون سے نہا گیا”
“بس کردے یار ، خاشر نے مشکل سے احد کو پیچھے کیا، پاگل ہوگیا ہے کیا، یہ سب کرنا مردوں کو شیوہ نہیں دیتا تو سمجھتا کیوں نہیں ہے”
“تو کیا جو مینے کیا، وہ مردوں کو شیوہ دیتا ہے؟؟
“تو یہ مت بھول احد! کے وہ سب تم سے ہوش میں نہیں ہوا، اور غلظی بھی تو انسان سے ہوتی ہے”
” انکل آجائے میں پھر خود بات کرو گا ان سے چل اب گھر چلے، خاشر احد کو پکڑ کر ساتھ لے گیا”
۔۔۔
“احد اب کافی بہتر فیل کررہا تھا، خاشر سے بہت سی باتیں شیئر کرکے”
“ثناء شاہ اور احد شاہ دونوں ماں بیٹا لونچ میں بیٹھے شام کی چاہے پی رہے تھے”
“مما بھیا کہتی عروا سامنے آئی، اور ثناء کے گلے لگ گئ”
“آگیا میرا بچا ثناء بیگم نے عروا کو کس کرتے ہوے کہا، جی مما”
“اب عروا احد سے بھی ملی اور احد کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئ”
“ارے عروا بیٹا! آج سورج کدھر سے نکلا ہے، میری بیٹی نے مہندی لگائی ہے، وہ بھی دونوں ہاتھوں میں، سب ہی جانتے تھے، عروا کو مہندی لگانا پسند نہیں اور نہ ہی کوئی اسے فورس کرتا اور نہ وہ کبھی لگواتی تھی، اسی لیے ثناء بیگم کو بھی حیرت ہوئی”
” وہ مما دوست نے زبردستی لگوادی اس لیے، عروا کو صفائی دینا بہت عجیب لگ رہا تھا، یا پھر دل میں کوئی بات ہو تو انسان کو خود سے ہی لگتا ہے ایسا عجیب عجیب”
“ویسے مما بہت پیاری لگ رہی ہے، گڑیا کو مہندی تو، احد نے عروا کا ہاتھ پکڑ کر دیکھتے ہوے کہا”
“ہمم ماشااللہ بہت پیاری”
“مما ایک بات تو ہے، اس دوست کا شکریہ ہے اس نے مزاح میں ہی بہت اچھا کام کیا عروا کو مہندی لگاکر، احد نے ہنستے ہوے کہا”
“ہمم بلکل اس دوست سے ملنا پڑے گا”
“جاو بیٹا فریش ہوکر آجاو، لمبے سفر سے آئی ہو تھک گئ ہوگی، ثناء بیگم نے عروا سے کہا تو، وہ اپنے روم کی جانب بڑھ گئ”
_____________________________________***
“پندرہ دن چٹکی بجاتے گزرگے، آج مارخ اور خاشر کا نکاح اور دن رکھے جانے تھے”
“ہما نے ثمر اور عروا کو ایک ساتھ کونفرنس کال کی، جی ہما کیسی ہو، ثمر نے پیار لٹاتے لہجے میں کہا”
“محترم آرام سے کال پر کوئی اور بھی مجود ہے، ہما نے ثمر کا انداز سمجھ کر کہا، انتے میں عروا کے ہاہاہاہا ہنسنے کی آواز آئی”
“ہما شکر ہے، وقت سے بتا دیا، ثمر نے کہا”
“اسلام ثمر بھیا! کیسے ہیں آپ، عروا نے ثمر سے دعا سلام کی، الحَمْدُ ِلله بھابی میں ٹھیک ہوں، آپ سنائے، ہمارا بھائی کیسا ہے، نکاح کے بعد تو دوست کو بھول ہی گیا وہ، ثمر نے لگے ہاتھ شارق کا بھی گلہ کیا”
“اوو ہیلو گائز مینے آپ دونوں کے گلہ شکوے سنے کے لیے کال نہیں کی، بات سنو میری غور سے ہما نے دونوں کو کہا”
“ارشاد ارشاد ثمر نے کہا”
“عروا شارق جیجو کو کال لگاو، عروا اوکے کہتی کال کرنے لگی”
“ہیلو جان شارق کیسی ہو، لگتا ہے تمہیں اپنے ہینڈسم ہیسبنڈ کی بہت یار آنے لگی ہے، کہ دن میں دو چار چار بار بات کرکہ بھی دل نہیں بھرا، شارق نے کال اٹینڈ کرتے ہی بن رکے بولنا شروع کر دیا، وہ تب چپ ہوا جب ہما اور ثمر کے زور زور کی ہنسنے کی آواز سنائی دی”
“عروا تو شرم سے دو تین منٹ بول ہی نہ سکی”
“عروا یار بتانا تھا نہ کہ یہ دونوں الو بھی کال پر ہیں”
“شارق آپ نے بتانے کا موقع ہی نہیں دیا، عروا نے معصوم سی آواز میں کہا”
“ویسے شرم کر شارق، ثمر نے شارق کو چڑایا”
“شرم کیسی بھائی میں شادی شدہ ہوں، اور اپنی بیوی کو جان کہا، تمہیں کیا تکلیف ہے”
“جملہ درست کر، شادی شدہ نہیں نکاح شدہ، ثمر کہا چپ رہنے والا تھا”
“لکھ دی لعنت ثمر تیرے تے، روم بک کروایا کے خود دیا اور ابھی بھی نکاح شدہ کہہ رہا ہے”
“بس کر شرم کر بھابی فوت ہوجائے گئ شرم سے پر تمہیں نہیں آئے گئ”
“ہیلو جیجو میری بات سنے، آپ دونوں بعد میں کال کرلینا، ہما نے جب دیکھا کہ یہ دونوں بھی شروع ہوچکے ہیں تو مجبورن بولی”
“جی جی بولیں بولیں شارق نے ہما کا تنز سن کر کہا”
“آپ سب کی طرف انوٹیشن کارڈ پہنچ گیا ہے نا؟؟ بھیا کی شادی کا، ہما نے سب سے پوچھا”
“سب نے کہا ایک منٹ چیک کرتے ہیں”
“ہماری طرف تو دو دن پہلے ہی پہنچ گیا تھا، ثمر نے کہا، تو آپ زرا چپ رہے، مینے آپ سے کہا بھی نہیں یے ہما نے رکھ کر جواب دیا، جس پر ثمر ہنسنے لگا”
“ہما خاشر وڈ مارخ یہ ہی والا ہے کیا”
“جی جی شارق بھیا یہ ہی”
“پر ہما یہ تو دو کارڈ ہیں، ایک اسپیشل فار شارق اور دوسرا، اسپیشل فار انابیہ، یعنی، ایک میری آپی کا آپ جانتی ہیں، میری آپی کو؟؟
“نہیں شارق بھیا میں نے تو ایک ہی بجھوایا تھا”
“چلے شاید آپ کے بھیا جانتے ہوں، شارق نے بات ختم کی”
“ہیلو!! کوئی ہے، عروا نے آتے ہی کہا ”
“شکر ہے تم آگئ، ہما نے کہا”
“ارے ہما تیرا کارڈ تو نہیں پہنچا، پر بھیا کہ دوست کہ دو دو کارڈ آئے ہیں، ایک اسپیشل میرے لیے ایک بھیا کہ لیے”
“ارے ٹھیک سے چیک کرنا مینے خود بجھوایا تھا”
“یار جس پر میرا نام لکھا ہے اسے بھی صحیح سے دیکھ چکی ہوں، یہ لے تمہیں دوبارہ سنا دیتی ہوں”
“خاشر چودھری وڈ مارخ عباسی اون۔۔۔ عروا اتنا ہی بولی تھی کہ ہما بیچ میں بول پڑھی، یہ ہی ہے میرے بھیا کا پاگل”
” اوو یعنی تو خاشر بھائی کی بہن ہے، جی بلکل ہما نے کہا”
“اوکے گائز آپ سب نے سب فنکشن پر ضرور آنا ہے، اب میں رکھتی ہوں”
“ہم نکاح کہ لیے نکل رہے ہیں”
“اللہ حافظ”
_____________________________________***
“آج مارخ اور خاشر کی مہندی تھی”
“مہندی کا ارینج میرج حال میں کیا گیا تھا، “دونوں کا نکاح تو ہوچکا تھا، اس لیے دونوں کی مہندی ساتھ تھی”
“حال کے سامنے ایکس ای آکر رکی،اس میں سے احد اور عروا اترے،”
” دونوں بہن بھائی اپنے اپنے دوستوں کے لیے آئے تھے”
” اگر احد کو خاشر کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی نہ آتا، اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا”
۔۔۔۔
“آپی کس کی شادی میں جارہی ہو؟،”
“مارخ کی شادی میں، انابیہ نے مصروف سے انداز میں جواب دیا اور فیس پر بیس لگانے لگی”
“آپ کی فرنڈ ماری آپی کیا! ، شارق نے حیرت سے پوچھا”
“ہاں اسی کی ہے، پر تمہیں کیوں اتنا شاک لگ رہا ہے، کہیں تم نے تو نہیں کرنی تھی اس سے شادی، انابیہ نے مزاق سے کہا اور اپنا آئی لائنر لگانے لگی”
“مجھ بتایا نہیں آپ نے اور نہ ہی ماری آپی نے، شارق شروع سے مارخ کو ماری آپی کہتا تھا”
“ویسے اس شادی میں مین بھی انوئیٹڈ ہوں، مطلب میرے لیے الگ سے کارڈ آیا ہے، شارق نے دانتوں کی نمائش کرواتے ہوۓ، اپنا کارڈ دیکھ آیا”
“انابیہ میک آپ چھوڑ کر کارڈ دیکھنے لگی، تمہیں کس نے بلایا ہے، اس طرح؟
“دولہے کی بہن نے شارق نے مسکرا کر بتایا”
“دولہے کی بہن کہیں ہماری ہونے والی بھابی تو نہیں، انابیہ نے جاپتی نظروں سے دیکھ کر پوچھا”
“أَسْتَغْفِرُ اللّٰه آپی، شارق زور سے ھانسا، وہ میری دین دنیا کی بہن ہے یار آپی”
“پھر تمہیں کیسے جانتی ہے؟”
“یار آپی وہ بھی میڈیکل میں ہے، اور ہم ایک ہی گروپ میں ہیں، اس لیے انوئیٹ کردیا”
“اچھا ٹھیک ہے، تم بھی تیار ہوجاو، دونوں ساتھ چلتے ہیں، انابیہ نے اب اپنے مطلب کی بات کی”
“تھوڑی دیر بعد دونوں بہن بھائی تیار تھے جانے کے لیے”
۔۔۔۔۔۔۔
“دولہا اور دولہن کو سٹیج پر لایا گیا”
“ریڈ اور گرین لہنگے کے ساتھ ریڈ چولی اور گرین ڈوپٹا کہے، پھولوں کا زیور پہنے، مارخ بہت پیاری لگ رہی تھی:-
“سفید کرتا پاجامہ پہنے گلے میں ریڈ ڈوپٹا ڈالے خاشر بھی بہت پیارا لگ رہا تھا”
۔۔۔۔
“احد ایک کونے کی چیئر پر بیٹھا ہوا تھا، کہ حال سے اندر آتی انابیہ اور اس کے ساتھ ایک لڑکے پر پڑی”
“انابیہ نے اورنج اور پرپل کلر کا لہنگا پہنا رکھا تھا، اس پر براون بال اور خوبصورت سے کیا میک آپ وہ احد کو اپنے دل میں اتری محسوس ہوئی:- احد نے سفید سوٹ پہن رکھا تھا، وہ بھی ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا”
“احد خاشر کو سٹیج پر جاکر مل آیا تھا اور اب آرام سے کرسی پر بیٹھا تھا”
۔۔۔۔
“انابیہ نے مارخ کو مٹھائی کھلا کر خاشر کی طرف لڈو بڑھایا، اور ساتھ کہا ویسے جیت ہی لیا ہماری دوست کو، پروفیسر صاحب، انابیہ جی جیتنا ہی تھا ساتھ تھا جو آپ کی دوست کا، اور انابیہ نیچھے اتر گئ”
“عروا اور ہما دونوں سٹیج پر جاکر مارخ کو کنگنہ پہنایا، اور مٹھائی کھلا کر نیچھے آگئ”
“ارے آج اپنے شوہر نامدار کو قتل کرنے کا ارادہ ہے کیا،شارق نے عروا کے پاس کھڑے ہوکر کہا”
“کیا مطلب شارق میں پیاری نہیں لگ رہی کیا، عروا نے بُری سی شکل بنا کر پوچھا”
“ارے پاگل بہت پیاری لگ رہی ہو اور۔۔۔ دوسرا جملہ شارق نے عروا کے کان میں کہا جسے سن کر عروا اپنے لباس کی طرح سرخ ہوگئ”
“عروا نے سرخ کامدار فراح پہنا تھا وہ چھوٹی سی باربی ڈول لگ رہی تھی، شارق نے بلیک ڈریس پہنا ہوا تھا”
” آپ بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں ماشااللہ سے، عروا نے شارق سے کہا”
“سچ ماشااللہ اب تم میری بیوی لگی ہو نا، شارق نے عروا کو آنکھ مارتے ہوے کہا”
“چلے ہما اور ثمر بھائی کی طرف چلتے ہیں، چلو”
“ہما نے آج گولڈن کلر کی ساڑی پہن رکھی تھی:- اور ثمر اس کے آگے پیچھے پھر رہا تھا، ثمر نے سفید کرتا پاجامہ پہنا تھا، ساتھ یولو کلر کا دوپٹا گلے میں ڈال تھا یہ دونوں بھی اچھے لگ رہے تھے”
” شارق آیں میں آپ کو اپنے بھیا سے ملواتی ہوں، ہما ثمر بھائی آپ بھی چلے نا، اور سب احد کی ٹیبل کی طرف چلنے لگے”
“بھیا عروا نے احد کو بلایا تو احد اپنی کرسی سے کھڑا ہوگیا”
“بھیا ان سے ملے یہ سب میڈیکل میں ہیں اور ہم سب ایک ہی گروپ میں ہیں، یہ ہے ہما چودهری خاشر بھائی کی بہن، میں بھی جانتا ہوں گڑیا ہما کو”
“ریلی بھیا، ہمم”
“اچھا ان سے ملے یہ ہیں، ثمر بھائی، ہما کے منگیتر، اور یہ ہیں، شارق علی خان، عروا سب کا تعارف کروا کر احد کا کروانے لگی اور یہ ہیں میرے پیارے بھیا احد علی شاہ”
“بہت اچھا لگا تم سب سے مل کر احد نے سب کو کہا”
“ہمے بھی بہت اچھا لگا آپ سے مل کر بھیا، شارق کے بھیا کہنے پر ثمر نے مشکل سے اپنی ہنسی روکی”
” پاس سے گزرتی انابیہ کو شارق نے آپی کہہ کر روک لیا”
” کیا بات ہے شونو، آیں میں اپنے فرنڈز سے ملواتا ہوں آپ کو، اور شارق انابیہ کو احد اور باقی سب کے پاس لے آیا”
“آپی یہ ہیں عروا شاہ، یہ ہما چودھری، ثمر ملک، اور یہ ہیں عروا کہ بھیا احد شاہ، اور یہ ہیں میری آپی انابیہ خانم آنی، شارق نے انابیہ کے پیچھے سے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ بتایا”
” باقی سب تو ٹھیک ہے شارق لیکن، ان کو میں جانتی ہوں، احد شاہ کو، میرا مطلب سر احد شاہ کو یہ ہمارے پکچرا ہیں”
” اوو ریلی آپی شارق کے ساتھ سب نے کہا، ہمم ”
“جی شارق میں بھی جانتا ہوں، آپکی آپی کو بہت اچھے سے، احد کہ بہت اچھے سے کہنے پر کسی نے غور نہیں کیا”
” اب سب کھانا کھانے میں مصروف ہوگے”
” کھانا کھانے کے روران پتہ نہیں کہاں سے انابیہ کے کھانے کی پلیٹ میں مچھر آکر گرا اور انابیہ وامٹنگ کرنے لگی”
احد کی نظر انابیہ پر ہی تھی، اب اسے ایک بات کا یقین سا ہوگیا تھا، اور وہ اب اور بشتا بھی رہا تھا”
“کچھ دیر بعد مہندی کا فنکشن ختم ہوا، اور سب نے گھر جانے کی اجازت چاہی خاشر سے، اجازت ملتے ہی سب اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوے”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: