Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 17

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 17

–**–**–

“آج خاشر کی برات تھی، سب ہی میرج حال میں جمع تھے”
“عروا احد کے ساتھ آچکی تھی، اور انابیہ شارق کے ساتھ”
“عروا آج وائیٹ ڈریس میں تھی اور شارق وائیٹ سوٹ میں:- عروا اور شارق نے میچنگ کی تھی، یہ بس دونوں کے فرنڈز جانتے تھے، ورنہ کسی کو کیا خبر یہ دونوں ہیسبنڈ وائیف ہیں، اور دونوں نے میچنگ کی ہے”
“ہما اور ثمر نے بھی میچنگ کی تھی، ہما نے بلیک کامدار شرارہ زیب تن کر رکھا تھا، اور ثمر نے بلیک پنٹ شرٹ۔۔۔”
۔۔۔
“مارخ کو جہیز میں فاروق نے ڈیفینس میں ایک بنگلہ، اور خاشر کو سلامی میں ایک jLi کار، بزنس میں جتنے مارخ کے شیئرز تھے،اس مطابق آفس میں جاب اور دنیا کی تمام چیزیں دی، دیتا بھی کیوں نہ آخر کو مارخ اس کی اکلوتی بہن تھی”
۔۔۔۔
“دولہن کو سٹیج پر لایا گیا، جب کہ دولہے کی جگہ انابیہ بیٹھی ہوئی تھی تھی”
“مارخ نے آج پرپل کلر کی میکسی پہن رکھی تھی، جس پر گولڈن خوبصورت کام بنا ہوا تھا اور براڈل میک آپ کیے وہ کوئی پری معلوم ہوتی تھی:- اور خاشر گولڈن کلر کی شیروانی پہنے بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا”
“چل یار بیٹھ جا، اب تیری اپنی چیز ہے، احد نے خاشر سے کہا”
“پہلے دیکھ تیری گرلفرنڈ بیٹھی ہے، اسے روکڑا دینا ہوگا، پھر ہی جگہ ملے گی تیرے بھائی کو، خاشر نے معصوم بنے کی برپور ایکٹنگ کی”
“احد نے جب مارخ کے ساتھ بیٹھی انابیہ کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا، سی گرین ڈریس پہنے ، گولڈن بال ایک طرف ڈالے، وہ حسن کا نمونہ احد کو لگی”
“چل اسے میں دیکھتا ہوں، احد نے کہا”
“محترمہ جگہ دے دیں دولہے کو، احد نے انابیہ کو مخاطب کر کے کہا”
“، نیوی بلیو کلر کا سوٹ پہنے، پیشانی پر پڑے بال، اور گورا چٹا رنگ احد کی پرسنیلٹی کو چار چاند لگا رہا تھا، انابیہ نے جب نظر اٹھا کر دیکھ تو ایک منٹ کو وہ بھی نظر ہٹا نہ سکی، لیکن پھر جلدی سے سنبھل کر بولی:- پہلے صوفے کے پیسے دینے ہوگۓ ، خاشر بھائی پھر ہی آپ اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آخر کو اکلوتی سالی ہوں آپکی”
“ارے آپ کے ہاں صوفے پر بیٹھنے کے بھی پیسے لگتے ہیں، تو بتا دیتی ہم گھر سے لے آتے، احد نے انابیہ کو باغور دیکھتے ہوۓ کہا، جس سے حال میں بیٹھے تمام کا قہقہا گونج گیا”
“ہاں بلکل لیتے ہیں، پیسے وہ بھی صرف نیے دولہے سے، اور پورا ایک لاکھ لو گی میں ورنہ کھڑا رکھے اپنے دوست کو، انابیہ کہا چپ بیٹھنے والی تھی، احد کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا”
“ارے لیڈیز اور جنٹلمین یہ صوفہ کچھ زیادہ مہنگا نہیں ہے کیا، احد نے دوسرے لوگوں سے کہا”
“ابے دے اسے پیسے وہ ایسے جان نہیں چھوڑے گئ، خاشر نے پاس کھڑے احد سے کہا ، خاشر سے صبر نہیں ہورہا تھا وہ جلدی سے مارخ کے ہیلو میں بیٹھ جائے”
“ابے صبر رکھ رات تیرے پاس ہی ہوگئ، مجھ اپنا خساب چکتا کرنے دے، احد نے آنکھ مارتے ہوۓ کہا”
” اچھا جی یہ لے اپنے پیسے، احد نے ایک ہزار کا نوٹ انابیہ کے سامنے لہرایا، اب جگہ دے ہمارے دولہے میاں کو”
“ایوے ہی جگہ دے دیں، ، ایک لاکھ کہا ہے، ہزار نہیں، انابیہ نے ٹرخ کر کہا”
“حال کے تمام لڑکے لڑکیاں اب سیٹیں بجاتے ہوۓ انابیہ انابیہ کہہ کر انابیہ کی حوصلہافزائی کررہے تھے”
“ہممم یعنی دینے ہی پڑیں گۓ، احد نے پچاس ہزار نکال کر انابیہ کو دیا، اب اٹھ جایں”
“شارق ادھر آٶ، انابیہ نے شارق کو بلایا،جی آپی۔۔
کانڈ کرو پیسے”
” آپی یہ پچاس ہزار ہیں”
” پروفیسر صاحب لگتا ہے، آپ میتھ میں کمزور ہیں، یہ پچاس ہزار ہیں لاکھ نہیں، انابیہ نے احد کو کہا، اور پھر سے سارا حال سیٹیوں سے گونج اٹھا”
“، دولہن والے جیت گئے۔۔۔۔
” خاشر جب بیٹھ چکا، تب احد نے بلند آواز میں مسکراتے ہوۓ کہا، محترمہ پیسے تو گن لیتی، آپ شاید بھول رہی ہیں، ہم آپ کے پروفیسر ہیں، آپ ہماری نہیں”
” اوو نو یہ تو نوے ہزار ہیں، انابیہ نے افسوس سے کہا”
” اب کی بار سب نے دولہے والے جیت گئے کے نارے لگائے”
“پھر رخصتی کا مرحلہ گزرا، مارخ اپنی ماں اور بھائی کی دعاٶں میں خاشر کے سنگ رخصت ہوکر چودھری والا آگئ”
“انابیہ شارق کے ساتھ، چودھری والا آگئ تھی کیوں کہ اس نے مارخ کو روم میں بیٹھاکر جانا تھا”
“احد بھی بارات کے ساتھ خاشر کے ساتھ آیا تھا، اور عروا کو بھی بھائی کے ساتھ آنا پڑا”
“انابیہ اکیلی کھڑی تھی، جب احد اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا، انابیہ یہ لو باقی کے دس ہزار، مجھ اب نہیں چاہیے ہیں، انابیہ نے منھ بنا کر کہا، اور چلی گئ”
“عروا بیٹا یہ دولہن کے کمرے میں رکھ آو، رحیلہ چودھری نے آکر عروا کو قران پاک دیا جو مارخ کے سر پر سایہ کر کے رخصت کیا تھا، عروا جی کہتی چلی گئ”
“شارق جو کہ عروا کو ہی ڈھونڈ رہا تھا، عروا کو خاشر کے روم کی طرف جاتے دیکھا کر اس کے پیچھے چلا گیا”
“عروا قران پاک رکھ کر جانے لگی کہ، شارق نے عروا کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا”
“ارے شارق کیا کررہے ہیں، آپ کوئی آجاہے، گا، پلیز اتارے مجھے، عروا بن پانی کے مچھلی کی طرح شارق کی باہوں میں پڑپتی ہوئی بولی”
“کوئی آتا ہے، تو آجائے، میں کون سا کسی غیر کے ساتھ ہو، اپنی منکوحہ کے ساتھ ہوں”
۔۔۔۔
“خاشر یار اب میں چلتا ہوں، احد نے خاشر سے کہا”
” رک نہ یار چلے جانا، نہیں یار کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ، اچھا چل پھر ٹھیک ہے، خاشر نے اجازت دیتے ہوے کہا”
” کامو خاشر نے پاس سے گزرتے ملازم کو بلایا، یہ میرے پگڑی اندر رکھ آو..
” ارے خاشر کیا کر رہا ہے، خاندانی پگڑی ملازم کے ہاتھ دے رہے ہو، وہ بھی شادی کے دن۔۔ یہ بہت بڑا ابشگن ہے، خاشر کے خاندان کی بڑی عمر کی عورت نے کہا”
” احد یار تو رکھ آ، تھک گیا ہوں یار بہت بھاری ہے یہ، خاشر نے معصوم شکل بناتے کہا، تو احد خاشر کے ہاتھ سے پگڑی لے کر خاشر کے روم کی جانب بڑھ گیا”
۔۔۔
“پلیز شارق جانے دیں، عروا نے منت بھرے لہجے میں کہا، چلوں چلی جانا۔۔ پہلے کس می، شارق نے اپنے گال پر انگلی رکھ کر کہا”
” عروا جانتی تھی، وہ ایسے جان نہیں چھوڑے گا اس لیے عروا اس کے گال کی طرف اپنے ہونٹ بڑھنے لگی کہ۔۔ کھٹک سے دروازہ کھل گیا”
“دروازے کی آواز سے دونوں بجلی کی سی تیزی سے بھاگے اور پردے کے پیچھے چپ گے”
“شارق عروا کے منھ پر ہاتھ رکھے بلکل اس کے قریب کھڑا تھا”
” اگر وہ عروا کے منھ پر ہاتھ نہ رکھتا تو عروا کچھ نہ کچھ ایسا کردیتی جس سے، احد نہ دیکھنے والا بھی ہوتا تو بھی دیکھ لیتا”
” شکر تھا کہ احد پگڑی رکھ کر جلدی سے چلاگیا”
“عروا تم واشروم میں بھاگ جاو، شارق نے عروا کو پردے کے پیچھے سے باہر لاتے ہوا کہا”
“لیکن عروا احمقوں کی طرح شارق کا منھ تاکنے لگی”
” یار کس پاگل لڑکی سے پالا پڑا ہے، تم واشروم میں جاو، میں باہر نکلتا ہوں، تم تھوڑی دیر بعد نکل آنا، ساتھ گۓ تو پتہ نہیں سب کیا سمجھے، شارق اسے سمجھتا ہوا باہر نکل گیا”
” اسے کسی نے نہیں دیکھا خاشر کے کمرے سے نکلتے ہوۓ سوائے انابیہ کے”
“انابیہ مارخ کو پکڑ کر خاشر کے کمرے میں بیٹھنے جارہی تھی”
“انابیہ مارخ کو بیٹھاکر جانے لگی کہ، واشروم کے دروازے کی آواز آئی، اور عروا باہر آئی، وہ۔۔ وہ اور واشروم میں پانی نہیں آرہا تھا، اس لیے میں ادھر آگئ، اور عروا فورا باہر بھاگ گئ”
“انابیہ جو پہلے ہی شارق کو دیکھا چکی تھی، اب عروا کو دیکھ کر کچھ سوچنے پر مجبور ہوگئ”
“اوکے ماری آل دی بسٹ۔۔
نیئ زندگی کی پہلی رات مبارک ہو، خدا کرے تمہیں خاشر کے ساتھ ساری خوشياں نصيب ہو امین!!
اللہ حافظ اب میں چلتی ہوں”
“انابیہ مارخ کے گلے مل ، اسے سجے سجایے کمرے میں چھوڑ کر باہر نکلا گئ، “
_____________________________________***
“عروا گڑیا کدھر تھی؟؟، میں کب سے تلاش کررہا ہوں اپکو!”
“بھیا وہ میں ہما کہ ساتھ تھی، ہمم اچھا چلو گھر چلتے ہیں”
۔۔۔
آپی!! چلیں گھر؟؟
“ہاں چلو شارق، بہت تھک گئ ہوں”
“ہممم جیسے ہوٹل کا سارا کھانا آپ نے بنایا ہے ، جو تھک گئ ہیں، شارق بہن کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھا”
“یہ پانچ انچ اونچی ہیل، اور ڈارک میک آپ کا نتیجہ ہے”
“بس کر بکواس نہ کر چپ کرکہ گاڑی ڈرائيو کر”
“شارق نے چپ میں ہی عافیت جانی “
_____________________________________***
“اسلام و علیکم!!
“, خاشر روم میں داخل ہوتے ہی بولا”
“مارخ نے گردن ہلا کر سلام کا جواب دیا”
“خاشر خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گیا مارخ کی گود میں سر رکھ کر”
” ماہی میری جان کیسی ہو؟؟، خاشر نے لیٹے لیٹے ہی سوال کیا”
” میں ٹھیک۔۔۔
” خاشر اٹھ کر بیٹھ گیا، اور مارخ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، بہت بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے، خاشر نے مارخ کے ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگائے”
“ماہی آئی لو یو میری جان، اور خاشر نے مارخ کو گولڈ رنگ پہنائی”
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو، کیا اس حسن کو سراہنے کی اجازت ہے؟؟
“مارخ نے بس گردن جھکا دی، یہ ہی رضامندی تھی مارخ کی۔۔۔
” خاشر نے مارخ کی لپسٹک کا فلیور ٹیسٹ کیا، اور مکمل اس پر جھکتے ہوۓ، لمپ آف کردیا۔۔۔۔
_____________________________________***
” دادو اماں میں دو تین دن کے لیے شہر سے باہر جارہا ہوں، کوئی کام ہے”
“شارق نے بتول خانم سے کہا، کب واپسی ہے بیٹا؟؟
” تین دن بعد، اچھا خیر سے جاو”
“شارق کو سب معلوم ہوگیا تھا، کے کیسے اس کے خاندان کو تباہ برباد کیا گیا ہے”
“اسے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس کے ماں بابا کو سید مجید شاہ نے قتل کروایا ہے، اور اس کی پھپھو کو درندگی کا نشانہ اس کے بیٹے جابر شاہ نے بنایا تھا:- اور اس کے بعد اسی خاندان کے ایک لڑکے کے ساتھ اس کی آپی کا نکاح کردیا گیا تھا، ونی کے تحت”
“اس کے سینے میں بدلے کی آگ بہت تیز ہوچکی تھی، اسی لیے اس کے سینے کو جلاتی تھی”
“اسے بدلہ لینا تھا، شاہ خاندان سے، شاہ خاندان کے ایک ایک فرد سے، لیکن اسے مجید شاہ کے چھوٹے بیٹے کا پتہ نہیں چل رہا تھا، کہ وہ کدھر ہے ، اور وہ کدھر ہے جس سے اس کی آپی، ان دیکھے بندھن میں جڑی ہوئی ہے”
“اسی لیے وہ آج گاوں جارہا تھا”
“بتول خانم کو جان بوجھ کر اس نے جھوٹ کہا کہ وہ شہر سے باہر کام کے سلسلہ میں جارہا ہے”
“کیوں کہ وہ اپنی بوڑھی دادی کو پرشان نہیں کرنا چاہتا تھا”
_____________________________________***
“بھیا بھیا مجھے گاوں جانا ہے، دادا دادی سے ملنے، پلیز مجھے چھوڑ آئے، گڑیا ٹائیم نہیں ہے میرے پاس، اوکے میں اکیلی چلی جاو گی”
“ارے پاگلی رکو، احد نے جاتی ہوئی عروا کو روکا، آپ تو نہیں جارہے تھے نا، اب جاو گا جناب، احد نے مسکرا کر کہا”
“ایک کھنٹے بعد عروا اپنے گاوں تھی، جب کہ احد واپس جاچکا تھا کیوں کہ اسے اپنی ممی کی فکر تھی، وہ اکیلی تھیں گھر”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: