Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 18

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 18

–**–**–

“شارق نے جا کر سب جگہ دیکھی، اپنا گھر بھی… جی ہاں اپنا گھر “خان حویلی”
” سب نے بہت چاہا، خان حویلی ٹوٹ جائے، لیکن جازب شاہ نے اسے خفيہ طور پر ٹوٹنے نہ دیا، فلحال، جازب شاہ نے حویلی بیچی ضرور تھی، لیکن جازب شاہ نے سحتی سے منع کیا تھا، کہ اس گھر میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی”
“جس نے یہ حویلی خریدی تھی، جازب شاہ اسے کہا تم ادھر دہ سکتے ہو، لیکن اسے ٹوڑنے کا سوچنا بھی مت، اور اس کے لیے، جازب شاہ نے اسے پانچ لاکھ دیا تھا”
“جازب شاہ کا ارادہ تھا، جب شارق ڈاکٹر بن جائے گا، تب اسے اس حویلی کا بتائے گا، سرپرائز دے گا، لیکن، شارق پہلے ہی سب جان چکا تھا”
“ابھی تھوڑی دیر ہی گزری ہو گئ کہ اسے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی، کوئی گھوڑے پر بہت تیز رفتاری سے آرہا تھا”
“گھوڑے والا تھوڑے قریب ہوا تو، شارق نے دیکھا، وہ گھڑ سوار کوئی آدمی نہیں، بلکہ کوئی لڑکی تھی”
“شام کا وقت تھا، اور گاٶں کے لوگ سر شام ہی گھروں میں گھس جانے کے عادی تھے، کیوں کہ سب نے صبح منھ اندھرے اٹھکر کام روزگار کرنا ہوتا تھا”
“شارق نے دیکھا ہوا میں اڑتے بال اس بات کی گوائی تھے کہ وہ پکا لڑکی ہی یے، لیکن شام ہونے کی وجہ سے شارق ابھی بھی اس کا چہرہ مکمل دیکھ نہیں سکا تھا”
“ہوا میں اڑتے بال، سر پر ہٹ پہنے، وہ جو بھی کوئی تھی ہوا سے باتیں کرتی آرہی تھی”
_____________________________________***
“شاہ والا میں، اس وقت شام کی چاہے پی جارہی تھی، جس میں احد شاہ اور اثناء شاہ کے علاوہ، خاشر (سی ایچ) چودھری اور مارخ خاشر سی ایچ تھے، جازب شاہ بزنس ٹریپ پر اور جب کہ عروا شاہ اپنے گاٶں گئ ہوئی تھی”
“احد تو خاشر اور مارخ کی دعوت کرنا چاہتا تھا، جسے خاشر نے یہ کہہ کر روک دیا، ہمارے عمرے سے واپسی پر دعوت رکھ لو، ابھی ہمیں بہت سے رشتدار سے ملنے ملانے جانا ہے، اور ہے بھی آج کا دن، کل ہماری فلایٹ ہے”
“خاشر، مارخ، اور خاشر اور مارخ کی ممی، یہ چاروں عمرے کی عظيم سعادت حاصل کرنے جارہے تھے”
۔۔۔۔
“ماہی یار جلدی کرو، فلایٹ سے لیٹ ہو جایں گۓ، خاشر نے اپنی چیزیں ڈالتے ہوے، مارخ کو آواز لگائی، جو اپنی اور خاشر کی پیکنگ کر رہی تھی”
“تو کیا آپ میرے بن پلین میں بیٹھ جایں گۓ، ہاں بلکل تم نے لیٹ کروایا، تو مینے تمہارے بغیر ہی چلا جاٶ، یو نو ڈارلینگ یہ سعادت اللہ پاک نصیب والوں کو دیتا اور بلاتا ہے”
“افففففففففف توبہ خاشر آپ میرے بغیر جانے کی بات بھی کیسے کر سکتے ہو، مجھ بھی تو اللہ پاک نے ہی آپ کے نصیب میں. لکھا ہے، نہ مارخ نے رونے والی شکل بناکر کہا”
“ارے میری جان میں تو مزاق کررہا ہوں، اب چلو دیر ہوجائے گئ، خاشر مارخ کو لے کر باہر نکل گیا، ملازم نے سارا سامان گاڑی میں رکھا”
“ایررپوٹ پہنچ کر سب نے انہيں الودہ کیا، اور وہ چاروں خوبصورت دیس کے لیے اڑانا بھر گۓ”
_____________________________________***
“آج مری ماڈل ٹاون یونيورسٹی میں فنکشن تھا”
“مارخ اور انابیہ کا رزلٹ آچکا تھا، مارخ نے ساری یونی میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، جب کہ انابیہ نے یونی میں سے ٹاپ کیا تھا۔۔”
“یونی انتظامیہ نے اولڈ سٹوڈنٹس کو الودہ کہنے کے لیے فنکشن ارینج کیا تھا، مارخ تو پاکستان تھی نہیں، اس لیے انابیہ کو اکیلا آنا پڑا تھا”
“میم شو کا کیا بنے گا، رامز تو پاکستان میں نہیں ہے، اور کوئی لڑکا، ان لائنز کو بولنے کو تیار نہیں ہے، سر کا سحت آرڈر ہے، محالف یونی کے پرنسپل نے خود سر کو کال کر کے کہا ہے کہ ہم آپ کا شو دیکھنا چاہے گۓ، انابیہ نے شو سے پندرہ منٹ پہلے ساری صورتحال بتائی”
“کون سی لائنز ہیں، پروفیسر زرقہ نے کہا”
یہ والی ہیں ، میم۔۔۔ ہممم یہ تو اتنی مشکل نہیں ہیں، انابیہ”
“پر میم میں پندرہ لڑکوں سے کہہ چکی ہوں، ان کا کہنا ہے، شور سے ایک گھنٹا پہلے اگر انفام کرتے تو پھر بھی ہم کرلیتے، اب پندرہ منٹ پہلے نہیں کرسکتے، انابیہ نے ساری بات پروفیسر زرقہ کے گوش گزار کی”
“انابیہ وہ جو نیو پروفیسر ہیں، خاشر ان سے کہو وہ کرلے، اب شو خراب ہورہا ہے، مجھ یقین ہے وہ کرلے گۓ، وہ ہیں تو چھٹیوں پر لیکن آپ انکو کال کرو”
“میم سوری وہ تو پاکستان میں نہیں ہیں، شادی کے فورا بعد وہ عمرے کے لیے گۓ ہوۓ ہیں”
“اتنے میں احد سٹاف روم میں داخل ہوا، پروفیسر زرقہ سر کہہ رہے ہیں شو ریڈی ہے؟؟
“انابیہ آپ کا سین تیار ہے؟؟
“یس میم میرا بلکل تیار ہے، اوکے آپ جاکر تیار ہوں میں آتی ہوں، ابھی پانچ منٹ باقی ہیں”
“اوکے میم کہتی انابیہ باہر نکل گئ”
“پروفیسر احد پلیز آپ ہلپ کردیں میری جاب کا سوال ہے، یہ شو خراب ہوگیا تو سر مجھ کھڑے کھڑے نکال باہر کریں گۓ، اور آپ تو جانتے ہی ہیں میری پرابلمز کو”
“کون سی ہلپ زرقہ جی، احد نے زرقہ سے کہا جو اس سے تھوڑی ہی بڑی تھی”
“اور زرقہ نے ساری بات احد کو بتائی، احد نے یس کہہ دیا اور زرقہ احد کا شکریہ ادا کرتی باہر شو کے لیے چلی گئ”
“یہ کم عمری میں ہی بیوہ ہوگئ تھی ، تین بچے تھے، اس کے اور آمدنی کا زریعہ صرف زرقہ تھی، اسی وجہ سے احد اسے انکار نہیں کر سکا تھا:- اور ایسے بھی جو غزل زرقہ نے احد کو سٹیج کے لیے دی تھی، وہ اسے ایک ایک لفظ یاد تھا، وہ احد کی پسندیدہ غزلوں میں سے تھی”
“ہہلو گائز اب جو سٹیج ڈرامہ چلنے جارہا ہے، مجھے امید ہے وہ اپ سب کو بہت پسند آیے گا”
“تو آپ کی بھرپور تالیوں میں انابیہ اور ساتھ۔۔۔۔۔”
“ہاتھ میں مائیک تھامے وہ لڑکی انابیہ کی کلاس میٹ ہی تھی”
“خوبصورت سفید سوٹ میں پیشانی پر بال بکھرے احد بہت ہینڈسم لگ رہا تھا اس پر یونی کی لڑکیاں دیوانی ہورہی تھی”
“انابیہ خوبصورت سفید لہنگے میں بہت پیاری لگ رہی، بلاشبہ وہ دونوں ایسے ساتھ ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے، لیکن اس وقت یونی کی لڑکیاں کو سٹیج پر سب سے بری انابیہ لگ رہی تھی ، جو احد کے ساتھ کھڑی تھی”
“اب ڈرامہ شروع ہوچکا تھا”
“”” 🌹میں کہتی ہوں، سنو، جانا۔۔ محبت موم کا گھر ہے۔۔ تپش بدگمانی کی کہیں پگلا نہ دے اس کو🌹“””
“انابیہ نے احد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، جو دوسری طرف منھ کیے کھڑا تھا”
“”” 🌹میں کہتا ہوں، جس دل میں زرا بھی بدگمانی ہو وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی🌹“””
“احد نے انابیہ کا ہاتھ کندھے سے اٹھ کر اپنے ہاتھ میں لیتے ہوے کہا”
“””🌹میں کہتی ہوں، صدا ایسے ہی کیا؟ تم مجھ کو چاہو گے، کہ میں اس میں کمی گوارہ کر نہیں سکتی🌹“””
“انابیہ یہ لائین کہتے ہوۓ، احد سے نظرے چرانےلگی”
“””🌹میں کہتا ہوں، محبت کیا ہے، یہ تم نے ہی سکھایا ہے، مجھ تم سے محبت کے سوائے کچھ بھی نہیں آتا🌹“””
“احد نے دونوں ہاتھ، انابیہ کے کندھوں پر رکھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ کہا، صاف ظاہر تھا، وہ ڈرامہ میں ہی اظہار محبت کررہا ہے، اور انابیہ کے دل کے کسی کونے میں بھی تو احد تھا”
“””🌹میں کہتی ہوں۔ جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل، کے خود کو تم سے ہٹ کر دیکھو ممکن نہیں اب یہ🌹“””
“اس بار انابیہ نے بھی احد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا، جس پر احد مسکرانے لگا”
“””🌹میں کہتا ہوں۔ یہ خدشے بہت ستاتے ہیں۔۔ مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے🌹“””
“احد اب جانے کی ایکٹنگ کرتے ہوے، دوسری طرف جانے کو مڑا”
“””🌹میں کہتی ہوں۔ بتاو کیا میرے بن جی سکو گے تم؟؟ میری باتیں، میری یادیں، میری آنکھیں بھلا دو گۓ؟؟؟🌹“””
“انابیہ نے جاتے ہوے، احد کا ہاتھ پکڑ کر لائین بولی”
🌹“””میں کہتا ہوں، کبھی اس بات پر سوچا نہیں مینے۔۔ مگر اک بل کو بھی سوچو تو سانسے رکنے سی لگتی ہیں🌹””’
“احد نے انابیہ کو باغور دیکھ کر یہ لائین بولی”
“”””🌹 میں کہتی ہوں۔ تمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے؟ کہ میں اک عام سی لڑکی تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں🌹“””
“انابیہ نے اس لائین کو شرما کر پورا کیا”
“”””🌹میں کہتا ہوں، کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو، میری دیوانی کیوں ہے، خود ہی جان جاو گئ🌹“””
“اس کی بار انابیہ شرما کر دوسری طرف دیکھتی ہے”
“”””🌹میں کہتی ہوں۔ مجھے لفظوں کے جگنو نہیں ملتے، کہ تم کو بتا سکو۔۔ دل میں میرے تمہارے لیے کتنی محبت ہے🌹“””
“انابیہ احد کی طرف کمر کیے کھڑی رہی”
“””🌹 میں کہتا ہوں۔۔ محبت تو نگہوں سے جھلکتی ہے، تمہاری خاموشی۔ مجھ سے تمہاری باتیں کرتی ہے🌹“””
“احد انابیہ کی تھوڑی کو اوپر کرتے ہے”
“””🌹 میں کہتی ہوں۔۔ بتاو نہ کسے کھونے سے ڈرتے ہو۔۔۔🌹“””
“انابیہ احد کے کالر کو ہلکا سا پکڑ کر بولی”
“””🌹میں کہتا ہوں۔ یہ شاعری ہے، دیھکو آنکھوں میں میری،، بتاو تمہیں اس میں کیا نظر آیا🌹“””
“””🌹 میں کہتی ہوں۔۔ “احد جی”
بہت باتیں بناتے ہو، مگر سچ ہے، یہ باتیں بہت ہی شاد کرتی ہیں🌹“””
“انابیہ نے احد کی بازو پر ہاتھ رکھ کر کہا”
“””🌹میں کہتا ہوں۔۔ یہ سب باتیں، یہ افسانہ اک بہانہ ہیں۔۔۔ کہ بل کچھ زندگی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں۔۔ پھر اس کے بعد خاموشی کا دلکش رکت ہوتا ہے۔۔ نگہیں بولتی ہیں اور لب خاموش رہتے ہیں🌹“””
“احد نے دونوں ہاتھوں میں انابیہ کا منھ لے کر آخری لائین مکمل کی”
“اور پورا حال سیٹیوں اور تالیوں سے گونج اٹھا”
“دونوں کا ڈرامہ سب کو بہت پسند آیا، ہرنسپل نے سٹیج پر آکر دونوں کو بسٹ پرفامس کا آواڈ دیا”
_____________________________________***
“جب گھوڑے والی قریب آکر رکی تو، شارق اسے دیکھ کر خیران رہ گیا”
“عروا تم۔۔۔ جی شارق میرا تو یہ گاٶں ہے، پر آپ ادھر کیسے؟؟
“وہ وہ میں سیر کرنے آیا تھا، دوستوں کے ساتھ، وہ چلے گے، میں ابھی نہیں گیا”
“اور تم نے کیا ڈریس پہنا ہوا ہے، شارق نے اس کی ٹائیٹ جینز اور تنگ شرٹ کو دیکھ کر گھور کر کہا”
“,شارق میں جانتی تھی، اس وقت کوٸی نہیں ہو گا اسی لیے پہن لی”
“اور جیسے میں ادھر تھا اور تم اس وقت میرے سامنے ہو، میری جگہ کوئی اور ہوتا تب؟؟ شارق نے غصے سے عروا کو دیکھ کر کہا” “اچھا پلیز سوری نہ شارق، آنیدہ خیال رکھو گئ ، اب کسی نے دیکھا تو نہیں نہ”
“ہمم آنیدہ خیال رکھنا، اور شادی کے بعد صرف میرے سامنے پہنا کرنا،”
“اچھا چلے میں آپکو اپنے دادا دادی سے ملواتی ہوں، عروا شارق کا بازو پکڑ کر گھوڑے تک لائی”
“آپ کو ڑائیڈنگ آتی ہے، تمہیں آتی ہے، تو میری جان ہمیں کوئی کاسبی سمجھ رکھا ہے کیا”
“شارق نے عروا کو بیٹھنے کا کہا اور خود اس کے پیچھے بیٹھ گیا”
“دادا سائیں!! عروا نے حال میں داخل ہوتے ہوۓ کہا”
“اسے سامنے ہی مجید شاہ مل گۓ”
“ارے پتر یہ کون ہے، مجید شاہ نے شارق کی طرف اشارہ کرکے پوچھا”
“دادا سائیں یہ شارق ہے، میرے ساتھ میڈکل میں ہیں اور گروپ میں بھی ہیں، یہ گاٶں سیر کرنے آئے تھے، مینے دیکھا تو آپ سے ملوانے لے آئی”
“،شارق نے آگے ہو کر مجید شاہ سے ہاتھ ملایا، آویے پتری فر تو یہ ہمارا مہمان ہے نہ اور شارق کو بیٹھنے کا اشارہ کیا”
“پتری کوئی لسی پانی کا کہہ شانو کو مجید شاہ نے عروا سے کہا تو، وہ جی کہتی کچن کی طرح چلی گئ شانو کو بتانے”
“لے دس تیرا تو تعارف کرواگئ میرے سے پر میرا نہیں کروایا تیرے سے جھلی نے، مجید شاہ نے مسکرا کر کہا”
” او پتر میں ہوں سید مجید علی شاہ، اور پیچھے بیس سال سے پنچاہیتی سربراہ بھی ہوں، تو جانتا ہے پنچایت ونچایت کو، مجید شاہ نے بتانے کے ساتھ سوال بھی کیا”
” جی جانتا ہوں..”
“شارق کو جس کی تلاش تھی یہ ، وہی ہے، اور عروا افسوس صد افسوس عروا جانی تو کیوں اس گھر پیدا ہوئی، اب کوئی نہیں بچا سکتا مجھ سے سیدوں کو، پندرہ سال پیچھے کا منظر یاد نے دلا دیا تو میرا نام شارق خان نہیں”
مجید شاہ اور بھی بہت باتیں کرتے رہے پر اس سن کون رہا تھا، شارق تو پلان ترتیب دے رہا تھا، وہ بس ہو ہاں میں جواب دیتا رہا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: