Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 19

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 19

–**–**–

“تھوڑی دیر بعد ہی عروا شانو کے ساتھ چاہے سموسے، پکوڑے، اور کافی اہتمام کے ساتھ ڈراینگروم میں داخل ہوئی”
“عروا نے سوچا شارق پہلی بار اپنے سسرا۔۔ یہ سوچ کر خود ہی شرما گئ، اسی لیے وہ اس کی خاطر میں کوئی کمی نہیں کرنا چاہتی تھی”
“خشگوار ماحول میں چاہے اور دیگر لازمات سے انصاف کیا گیا”
“اچھا پتری مہمانون نوازی میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہے، آخر یہ پہلی واری ہماری حویلی آیا ہے، مجید شاہ نے عروا سے کہا”
“اوکے دادا سائیں”
“اچھا پتر اب میں چلتا ہوں، ڈیرے پر صبح ملاقات ہوئی گئ، اب کی بار شارق سے کہتے مجید شاہ باہر نکل گۓ”
“اچھا عروا جانی اب میں چلتا ہوں، رات کو ملاقات ہوئی گئ، مجھ کچھ کام ہے، کتنے بجے؟؟ شارق جانے لگا پیچھے سے عروا نے سوال کیا”
“دس بجے، اور ہاں اچھے سے تیار ہونا، وہ کیوں شارق؟ عروا نے پوچھ، تمہارا ہیسبنڈ ہوں، اتنا تو حق بنتا ہے، میرا تم پر، عروا جی کہتی نیچے دیکھنے لگئ، اور شارق باہر نکل گیا”
۔۔۔۔
“شارق یہ بھی تو جان گیا، تھا اس کی آپی کا ہیسبنڈ احد ہے، اور اسے اچھا بھی لگا احد اپنی آپی کے لیے، لیکن کیا احد شاہ انابیہ کو اپنائے گا؟؟ یہ بات ہی شارق کو پرشان کررہی تھی”
“شارق کچھ سوچتے ہوۓ مسکرانے لگا۔۔ اپنائے گا ضرور اپنائے گا۔۔ آخر کار میں بھی تو عروا کا ہیسبنڈ ہوں”
“شارق نےکال ملائئ ہاں رگو ایک ٹائم بمب چاہے، ہاں ٹھیک ہے میں تمہیں لوکیشن بھج رہا ہوں ایک گھنٹے میں مجھ چاہے”
_____________________________________***
“ثمر گھر میں داخل ہوا تو اسے ڈراینگروم سے ہسنے اور باتوں کی آوازے سنائی دی”
” چھوٹے صاحب جی، بڑے صاحب جی نے کہا تھا، جب آپ آجاٶ تو آپ کو ڈراینگروم میں بھج دو۔۔ ملازم نے سمیر کا آرڈر ثمر کو سنایا، ٹھیک ہے۔۔ اور ثمر اپنے کمرے جگہ ڈراینگروم کی طرف بڑھ گیا”
“لو ثمر بھی آگیا دانیہ۔۔ ہانیہ سمیر کی بیوی نے کہا”
“ارے بھائی کدھر رہ گۓ تھے، دانیہ کب سے تمہارا پوچھ رہی تھی، ہانیہ نے کہا، بھابی کسی کام سے گیا تھا”
“ہائی دانیہ کیسی ہو تم؟؟ “ثمر کے نہ چاہے ہوا بھی ثمر کو اسے مخاطب کرنا پڑا۔۔ کیوں کہ وہ اس کی بھابی کی چھوٹی بہن تھی”
“میں ٹھیک ہوں۔۔مجھ وقت ہی کہاں ملتا ہے، میں ابھی ابھی یونی سے فری ہوئی، اوپر سے اتنے عرصے بعد آپی کی گڈ نیوز سنی تو رہا نہیں گیا مجھ سے میں واہ کینٹ آگئ دانیہ نے تفصیلی جواب دیا”
“کون سی نیوز ثمر نے حیران ہو کر سمیر سے پوچھا؟؟ ارے تو چاچو بنے والا ہے یار سمیر نے خوشی سے ثمر کو گلے لگا لیا، سچ میں بھیا ثمر نے بے یقینی سے کہا، کیوں کے اتنے عرصے بعد تو انہے یہ خوش خبری ملی تھی۔۔ بلکل سچ اللہ پاک اب خیر حیریت سے اسے ہمارے آگن میں اتار دے، سمیر نے اپنے آنے والے بچے کے لیے دعا کی، جس میں سب نے آمین کیا”
“بھابی بھائی آپ دونوں کو بہت بہت مبارک ہو، تمہیں بھی ثمر سمیر نے کہا”
“اچھا بھیا میں فرش ہو کر آتا ہوں ثمر کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا”
“ثمر نہا کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑا برش کر رہا تھا کہ اسے آٹھ سال پیچھے کا منظر یاد آگیا”
“ثمر بریک کے وقت کینٹین میں بیٹھا بائیولوجی کی بک اٹھائے اس پڑھنے میں مصروف تھا، کیوں کہ میٹرک کے پیپرز میں صرف بیس دن رہ گۓ، اور وہ اچھے نمبروں سے میٹرک کرنا چاہتا تھا کیوں کہ اسے میڈیکل میں جانا تھا”
“ہیلو ثمر کیا ہورہا ہے، دانیہ نے آکر کہا، دیکھو لو ثمر نے مصروف سے انداز میں کہا”
“ثمر میری بات سنو! میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتی ہوں، دانیہ نے ثمر کی بک اس سے لے کر بند کر دی”
“ہمم بولو ثمر نے اخسان کرنے والا انداز میں کہا”
“ثمر آئی لو یو میں بہت پیار کرتی ہوں تم سے، دانیہ نے ثمر کا ہاتھ پکڑ لیا تھا”
“دانیہ یہ کیا پاگل پن ہے، ثمر نے اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوۓ کہا، مجھے اس طرح کی فصول باتیں بلکل پسند نہیں ہیں”
“ثمر میں مزاق نہیں کررہی ہوں۔۔ میں سچ میں تم سے پیار کرتی ہوں ، بس دانیہ یہ کوئی عمر ہے، ایسی باتوں کی، بہتر یہ ہی ہے تو اپنی پڑھائی پر توجہ دو، ان باتوں کو سوچنے سے بہتر ہے، تم گھر میں پڑھا کرو۔۔ ڈیلی جو تمہاری انسلٹ ہوتی ہے ٹیچر سے اس سے بچ جاو گئ۔۔ اور ثمر رکا نہیں بلکہ وہاں سے واک آوٹ کرگیا،”
” ثمر کو وہ شروع سے ہی پسند نہیں تھی، کیوں کہ اس کی حرکتیں اچھی نہیں تھی، پکے آموں کی طرح ہر کسی کی گود میں آ گرنے والی لڑکی کسی لڑکے کو بھی پسند نہیں آتی، خود وہ لڑکا چاہے کیسا بھی ہو، اس بیوی کا کرداد شیشے کی طرح شفاف چاہے ہوتا ہے”
“دانیہ اور ہانیہ دونوں بہنے تھی، اور سمیر اور ثمر کیا تایا زاد کزنز۔۔ ثمر نے جب میڈیکل میں داخلہ لیا تب اس کے تایا کی خواہش تھی کہ جیسے ہانیہ سمیر کی دولہن ہے، ایسے دانیہ بھی ثمر کی دولہن بنے، اس کے تایا نے جب ثمر سے دانیہ کے متعلق بات کی تو ثمر نے صاف انکار کیا، جس وجہ سے اس کے تایا تو تایا لیکن ہانیہ کو بھی ثمر پہلے سے بھی برا لگنے لگا۔۔ اور اسی لیے ہانیہ نہیں چاہتی تھی کہ ثمر کی شادی ہو اور جاٸیداد میں آدھ حصہ ثمر کی طرف جائے”
۔۔۔۔۔
“,پتہ نہیں ہہ پھر کیوں ہماری زندگی میں زہر گولنے آگئ ہے، ثمر دوبارہ سے دانیہ کا سوچ رہا تھا کے وہ اتنے عرصے بعد ضرور کسی وجہ کے تحت آٸی ہے لیکن اس کی یہ سوچ درست ثابت ہونے والی تھی”
_____________________________________***
“جی بابا آپ کہہ رہے تھے دن میں کسی سے ملوانا ہے، تیار رہنا”
“احد نے جازب شاہ کے سامنے صوفہ پر بیٹھتے ہوا یاد دہانی کروائی”
“جازب شاہ پرسو رات بزنس ٹریپ سے واپس آئے تھے”
“ہممم گڈ چلتے ہیں، برخوردار۔۔ جازب شاہ نے چاہے کا سلپ لیتے ہوۓ کہا”
“چاہے پی کر دونوں باپ بیٹا چل پڑے”
“احد گاڑی میں ڈرائيو کرو گا، جازب شاہ نے کہا، تو احد دوسری سائیڈ پر چلا گیا”
“ڈرائیونگ کے دوران جازب شاہ نے احد سے کہا، تمہیں پتہ ہے احد ہم کدھر جارہے ہیں؟؟
“نہیں بابا سائیں یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں”
“ہم تمہارے سسرال جارہے ہیں۔۔۔”
“جازب شاہ نے احد کی کانوں پر دمھکہ کیا”
“کیا مطلب بابا سائیں۔۔ کون سے سسرال؟۔۔ میں بلکل بھی آپ کی بات نہیں سمجھ پایا!
“تم شاید بھول گے، احد شاہ کہ تمہارا نکاح پندرہ سال کی عمر میں ہوچکا تھا، اور پندرہ سالہ بچا اتنی جلدی اتنی بڑی بات بھول نہیں سکتا ہے”
“پر بابا سائیں وہ تو اسی وقت کہیں بھاگ گئ تھی نہ اپنی دادی کے ساتھ۔۔ اور شاید اس کی شادی بھی۔۔۔ ابھی احد شاہ کے لفظ منھ میں ہی تھے کہ جازب شاہ نے غصے سے کہا کیا بکواس ہے سنی۔۔ نکاح پر نکاح کبھی ہوا ہے کیا؟؟
“سوری بابا سائیں پتہ نہ میں جو منھ میں آیا بول گیا، احد نے شرمندگئ سے سر جھکا لیا”
“گھر آچکا ہے، تمہیں اگر تمہاری منکوحہ پسند آتی ہے، تو ٹھیک ورنہ بغیر شور شرابے کے طلاق دے کر اسے اس بندھن سے آزاد کردینا، جازب شاہ اپنے بیٹے کی دل کی بات تو جانتے تھے، لیکن انجان بنے کی اداکاری کرتے رہے”
“احد ایک بڑے سے خوبصورت بنگلہ کے سامنے اترا، ڈبل اسٹوری یہ ایک پیاری سی کوٹھی تھی”
“دونوں جب گھر میں داخل ہوے، تو سب ملازم جازب شاہ کو شاہ جی شاہ جی کہہ کر سلام پیش کررہے تھے، صاف ظاہر تھا، جازب شاہ یہاں آتے رہتے ہیں”
” جازب شاہ اور احد شاہ دونوں ڈراینگروم میں بیٹھ گے ”
” تھوڑی دیر بعد ایک ملازمہ چاہے اور باقی تمام لازمات لے کر داخل ہوئی، بشری بڑی بیگم صاحبہ سے کہوں شاہ جی اور انکا بیٹا تشریف لائے ہیں، جی شاہ جی”
” بتول خانم کو جازب شاہ پہلے ہی بتا چکے تھے کہ، انابیہ کو بھجیے گا”
” انابیہ سلیقہ سے ڈوپٹے کو کیے ڈراینگروم میں داخل ہوئی، سلام چاچ۔۔۔
انابیہ کی بات منھ میں. ہی رہ گئ احد کو دیکھ کر اور ادھر احد کو بھی شاک لگا انابیہ کو دیکھ کر۔۔ آجاو آنی بیٹا انابیہ آرام آرام سے قدم اٹھتی آرہی تھی، جازب شاہ نے احد کو سرگوشی سی آواز میں کہا یہ ہی ہے تمہاری منکوحہ۔۔ احد کو دوسرا شاک لگا کہ انابیہ اس کی منکوحہ ہے، اور اور جو ہوا وہ گناہ کے زملے میں نہیں آتا، جہاں احد کو شاک لگا تھا وہاں اب اسے سوچ کر خوشی ہورہی تھی، کہ رب تعالی نے اس کی دعا کو رد نہیں کیا اس نے انابیہ کا ساتھ مانگا تھا اللہ پاک سے اور یہ اللہ پاک نے اسے عطاء کیا تھا”
” انی بیٹا کیسی ہیں آپ؟ میں ٹھیک چچا جان آپ کیسے ہیں، اللہ کا شکر ہے بچے۔۔۔ ان سے ملو یہ ہے میرا بیٹا احد علی شاہ، سنی اس کا نیک نیم ہے”
“اور سنی یہ ہے میری بیٹی انابیہ خان آنی..”
“اسلام و علیکم سر۔۔ انابیہ کو جازب شاہ کے سامنے احد کو سلام کرنا پڑھا”
“و علیکم اسلام کیسے مزاج ہیں آپ کے، احد نے ابھی بھی انابیہ کو چھڑنا ضروری سمجھا”
” انابیہ بچے یہ آپکی یونی میں پکچرا تھا کیا؟؟
” جی چچا جان”
“بیٹا خالہ جان کدھر ہیں؟ وہ ان کو آج صبح سے گٹھنوں کا درد ہے، اپنے کمرے سے باہر نہیں آئی”
” اچھا تم لوگ بیٹھو میں ان کی طبیعت پوچھ کر آتا ہوں، یہ کہتے جازب شاہ اٹھ کر چلے گۓ”
“سناو وائف جی کیسی ہو، احد اپنی پرانی ٹون میں واپس آیا، جبکہ اس اب یہ بھی پتہ چل چکا تھا کہ انابیہ اس کی بیوی ہے تو احد نے تھوڑا انجوائے کرنا کا سوچا”
“کیا مطلب وائف جی انابیہ نے ناسمجھی سے کہا”
“اب بندہ اپنی بیوی کو بیوی نہیں کہے گا تو اور کیا کہے گا، یہ کہتے ہی انابیہ کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھنچا، انابیہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی تبی کھچتی ہوئی احد کے سینے سے جالگی”
” کیا بتمیزی ہے احد۔۔۔
“بتمیزی تو اب میں تمہیں شادی کے بعد بتاو گا، سوچ لو کچھ دن ہی ہیں، تمہارے پاس”
” بس کرو یہ جھوٹ بولنا،۔۔ اوکے اپنی دادی جان سے پوچھ لو یا اپنے چچا جان سے، تمہیں مجھ پر جو یقین نے اپنے ہیسبنڈ جان پر..”
“احد پھر سے انابیہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ صوفہ پر بیٹھتے ہے، ویسے جو تم نے جھوٹ بولا ہے نہ اب میں. اسے سچ میں سچ کرو گا، احد نے انابیہ کے پیٹ پر ہلکا سا مکاہ مارتے ہوے کہا”
“تبی ڈراینگروم میں جازب شاہ داخل ہوے، تو انابیہ بجلی کی سی تیزی سے احد سے دور ہوئی”
“احد بیٹا آپ بھی جاو خالہ جان سے مل آو پھر چلتے ہیں، انابیہ بیٹا جاو احد کو کمرہ دیکھو، انابیہ جی کہتی ساتھ ہو لی”
_____________________________________***
“شاہ حویلی میں سب خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے”
“بتول خانم دوایں لے کر ایک قسم کی بہوش تھیں”
“مجید شاہ جابر کی وفات کے بعد سے اپنے ڈیرے پر ہی رات سوتے تھے”
“عروا اپنے کمرے میں تھی جو کہ دو منزلہ عمارت کے اوپر ٹیچ باتروم کے ساتھ تھا”
“عروا نے فروزی اور ٹی پنک کلر کا فراح زیب تن کیے اور ساتھ ہلکا سا میک آپ اسے کانچ کی گڑیا کو مزید جازب اور پرکشش بنا رہا تھا”
۔۔۔
“شارق نے مجید شاہ کے ڈیرے پر رگو سے کہہ کر بمب سیٹ کروایا تھا”
“اور ہاں یہ بمب دس بجے کر تیس منٹ پر ہی بلاسٹ ہونا چاہے، اور مجھ کسی قسم کی گڑبر نہیں چاہے، سمجھ گے نا تم رگو، آپ فکر ہی نہ کریں خان جی، یہ میرا بھی فرص ہے اور میرا عہد بھی آج پورا ہو گا” یہ رگو اسی گارڈ کا بیٹا تھا، جس کی ٹانگ پر مجید شاہ کی بدولت گولی لگی، اور بعد میں گولی نے کینسر کا روپ دہر لیا، اور اس کا باپ زندگی کی بازی ہار گیا”
“اس وقت اس کی عمر اٹھارہ سال تھی، اور اس نے دل سے عہد کیا تھا کہ اپنے باپ کے قاتل کو انجام تک ضرور پہنچائے گا، اور آج وہ دن آیا تھا”
۔۔۔۔
ٹک۔۔ ٹک۔
“کون؟؟؟
“عروا نے پوچھا، کیوں کہ ابھی ساڈھے نو ہی ہوۓ تھے”
” جان شارق میں ہوں، اوپن دی ڈور”
“عروا نے ڈور کھولا، شارق نے ڈور لاق کیا، عروا جانے کے لیے مڑی تھی ، کہ شارق نے اسے پیچھے سے ہگ کرلیا، شارق پلیز چھوڑے، نہیں جان شارق آج چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہوں، پلیز کوئی انکار نے سنا مجھ عروا”
“شارق پلیز یہ سب کیا ہے، ایسا شادی سے پہلے ممکن نہیں پلیز۔۔۔۔ شارق جو عروا کے ہونٹوں کو نشانہ بنا رہا تھا، غصہ سے عروا کو دیکھا ”
“عروا لڑکی تھی اور شارق کی طلب اور نظرے سمجھ رہی تھی”
“عروا تم بھول رہی ہوں۔۔ تم بیوی ہو میری اور شرعی اور قانونی حق رکھتا ہوں تم پر۔۔۔”
“لیکن شارق رخصتی۔۔۔ بس عروا شارق نے غصے سے کہا۔۔ میرے ساتھ ہی رخصتی کرنی ہے یا کسی اور کے ساتھ، شارق آپ کے ساتھ ہی آپ کسی باتیں کررہے ہیں، اگر تمہیں میرے ساتھ ہی کرنی ہے، تو تمہیں مسلہ نہیں جانا چاہے، جب مجھ کوئی مسلہ نہیں تو،۔۔۔ عروا اب میں کوئی آواز نہ سنو۔۔۔۔”
“شارق عروا کو اٹھا کر بیڈ کی جانب بڑھ گیا”
“عروا کو اپنی پناہوں میں لے کر عروا کو سچ مچ کا شرمانے پر مجبور کردیا”
” اب عروا شارق کی شدتیں برداشت کرتے کرتے اب شارق کی باہوں میں ہی سو چکی تھی”
“گھڑی نے جب دس بجے کر اکتیس کا ہنسہ کراس کیا تو، شارق کا موبائل بج اٹھا شارق نے کال رسیو کی ہاں رگو۔۔۔۔ کام ہوگیا خان جی۔۔۔ اوکے گڈ۔۔۔ تم فورا غائب ہو جاو۔۔۔ اور صبح ہوتے ہی تمہیں دوبئ کی ٹیکٹ ملی گی اور تب تک ادھر ہی رکنا جب تک میں واپسی کا نہ کہوں۔۔ بہتر خان جی۔۔۔
۔۔۔۔
” رات بارہ بچے کا وقت تھا ۔۔عروا کو محسوس ہوا کے کوئی اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا ہے، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو شارق اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا”
“اٹھ گئ میری جان شارق کے ایسے دیکھنے پر عروا شرما گئ”
“اچھا ہٹے نہ۔۔۔ کدھر جارہی ہو؟”
“شاور لینے اور عروا واشروم میں بھاگ گئ”
“جب عروا واشروم میں تھی تو شارق عروا کا موبائل دیکھتا رہا، احد اور باقی سب فرنڈز کی اور عروا کی پیکس تھی، لیکن ایک پیکس پر شارق کو بہت زور کا شاک لگا، کیوں کہ وہ پیکس چچا جان کی تھی، یعنی جازب شاہ کی۔۔۔ کیا رشتہ ہے عروا کا چچا جان سے؟؟. جیسے پیکس میں عروا ان کے کندھے کے ساتھ کھڑی ہے، ایسے تو صاف ظاہر تھا کوئی بہت قرہبی ہیں؟؟ اب شارق کے دماغ میں بہت سے سوال گردش کررہے تھے، جن کا جواب صرف عروا کے پاس تھا، لیکن عروا آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے عروا تین چار گھنٹے سے اندر ہے”
“عروا باہر آئی اور اپنے نم بالوں کو خشک کرنے لگی”
” عروا یہ کون ہیں تمہارے، ماموں ہیں کیا؟؟؟
“شارق نے خود کو نارمل رکھتے ہوے، عروا سے سوال کیا”
“آپ کو نہیں لگ رہا میرے کون ہیں، میری شکل نہیں ملتی کیا ان سے؟؟
“یار بتاو نہ۔۔۔ بابا ہیں میرے عروا نے آرام سے بتایا اور بالوں میں برش کرنے لگی”
“، لیکن شارق کے پیروں سے زمین ہی نکل گئ تھی۔۔ ”
“اوو مینے کیا کردیا۔۔۔۔ “اللہ جی۔۔۔ چچا جان کے اخسانوں کا بدلہ میں عروا کی صورت لے لیے ان سے افففففففففف میرے خدایا۔۔۔۔ شاہ خاندان سے انتکام کی آگ میں میں نے کیا کردیا”
“شارق بشتا رہا تھا، لیکن اب بشتئے کیا بنے۔
” جب چڑیاں چگ گئ کھیت”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: