Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 2

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

بتول خانم اور زارا خانم دونوں نے قرہبی گھروں میں جاکر دیکھ لیا تھا پر ثمن انہے نہیں ملی۔۔۔
اب تو بتول خانم کا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا،، اماں جی چپ ہو جایۓ، ثمن مل جایے گی۔۔
ارے زارا دیکھو تو کیا وقت ہوگیا ہے ابھی تک تو اسے آ جانا چاۓ تھا۔۔ اللہ جانے کس حال میں ہوگی میری بچی،، میرے دل میں تو ہول اٹھ رہے ہیں۔۔
اور یہ چھوٹا خان بھی کیوں نہیں آیا اب تک،،
اب انہے زین خان کی فکر ہونے لگی، اماں زین کو کچھ کام پڑ گیا ہونا تب ہی اب تک نہیں پہنچے ہیں۔۔ زارا خانم اپنی طرف سے بتول خانم کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی پر بتول خانم بھی ماں تھی انہے کیسے جوان بیٹی کی فکر نہ ہوتی۔۔
اے اللہ!! میرے بچوں کو اپنی امان میں رکھنا،
بتول خانم اب رو رو کر نڈہال سی ہوچکی تھی۔۔
_______________________***
صبح کے تین کا وقت ہوگیا تھا زین خان نے پتہ کروایا تو اسے معلوم ہوا کے ایک ادھ گھنٹے تک سب روڈ کھل جانے تھے اور پھر زین کو بھی اسی وقت نکلنا تھا۔ کیوں کے گاٶں پہنچنے میں بھی اسے ایک گھنٹا درکار تھا۔۔
________________________***
رات کے دو بجے جابر شاہ کے تمام مہمان کھانا وانہ کھا کر جاچکے تھے۔۔۔
ڈیرے پر اب صرف جابر شاہ اور اس کے قرہبی دوست تھے۔۔
یاروں کیسا لگی آج کی دعوت؟؟
جابر شاہ نے تعریف طلب نظروں سے دوستوں کی جانب دیکھا۔۔
جابر شاہ کھانا تو بلاشبہ بہت مزہدار تھا پر ایک کمی تھی وہ کیا جابر شاہ نے پوچھا۔۔ یار اب شراب تو نظر آرہی ہے پر شباب۔۔۔
بگڑے ہوۓ امیرزادوں نے حوس خور لہجے کہا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا یاروں ایسا ہو سکتا ہے ہے تم سب جابر شاہ کے مہمان خانے میں دعوت میں آٶ۔ اور جابر شاہ تمہے شباب ہی نہ دے سکے تو کیا فائدہ تم سب کو مدعو کرنے کا،، آج جابر شاہ ایسی چیز لایا ہے کے تم سب دیکھ کر خوش ہو جاٶ گۓ۔۔
اوو تم ایسے کہ رہے ہو تو یقينا ایٹم ہی ہوگی ظاہد نے خیانت سے کہا۔۔۔
اوکے تم سب جام نوش فرماٶ۔۔
میں بلبل کو لیکر آتا ہوں۔ اور پھر سب نے ہستے ہوۓ شراب کی بوتلے اٹھالی۔۔۔
ثمن کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا وہ روتی رہی گڑگڑاتی مدد کو پکارتی رہی پر کوٸی اس کی مدد کو نہ آیا شاید اس کی زندگی میں اب سیاھی ہی لکھی تھی۔۔
سات سے آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے کوٸی نہیں آیا تھا بس وہ ملازم آیا تھا جو کھانے کی پلیٹ رکھ کر واپس چلا گیا تھا۔۔
ابھی ثمن یہ سب ہی سوچ رہی تھی کے دروازہ کھلنے کی آواز آٸ، ثمن پھر سے سمٹ کر بیٹھ گٸ، وہ جابر شاہ ہی تھا ثمن کو کچھ کچھ اندارہ ہوگیا تھا کے وہ کہا پھس گٸ ہے۔۔
ارے بلبل ابھی تک یوہی بیٹھی ہو اور یہ کھانا بھی نہیں کھایا نہ۔۔ نہیں کھانا مجھے پلیز مجھے گھر جانے دو پلیز۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا جابر شاہ زور سے ہسا،۔
بےبی گھر کو تو اب تم تب ہی جاو گی جب ہم تم سے سراب ہو جایے گے۔۔
آخر تم کیوں کر رہے ہو میرے ساتھ ایسا اور تم کون ہو۔۔۔
ویری گڈ ڈارلینگ یہ بھی بتا دیتے ہیں۔۔۔
تو سنو!!۔۔
جابر شاہ نام ہے میرا اور تم ثمن خانم زین خان کی بہن آج میرا شکار ہو۔۔۔
اور تم جانا چاہتی ہو میں کیوں تمہارے ساتھ ایسا کر رہا ہو؟؟۔۔
کیوں کے تم زین خان کی بہن ہو اور زین میرا دشمن ہے۔۔
اسے کتے نے میری گرلفرنڈ کا ریپ کرنے سے اسے بچایا تھا اب میں تمہارے ریپ کرکے خساب برابر کرو گا۔۔
ثمن نے جب اپنی جان سے پیارا بھاٸی کے لیے گالی سنی تو خود کو نہ روک پاٸ اور جابر شاہ کے گال پر چٹخ سے چانٹا لگایا۔۔۔
اور پھر جابر شاہ غصہ سے ثمن کو کندھے پر ڈال کر اوپر حال نما کمرے میں لے گیا جہاں سب عیاش لوگ شراب پی رہے تھے۔۔۔
________________________***
یہ شہر کا مشہور ہوٹل تھا۔۔
اور زہن خان آج رات اس ہوٹل ہو رکنے آیا تھا کیوں کے کل ہی اس کے ہاں اس کے بیٹے کی ولادت ہوٸ تھی ہوسپیٹل میں مردوں کو رات گزارنے کی اجازت نہیں تھی تو زین اس قرہبی ہوٹل میں رات گزارنے گیا۔۔
وہ کونٹر سے اپنے روم کی کی لیکر اپنے روم میں جارہا تھا کے اسے ایک روم سے رونے کی آواز آٸ۔۔۔
پلیز جابر ایسا مت کرو۔۔
میرا پاپا کی سرکل میں بہت عزت ہے ۔۔می۔۔ میں تو تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں پر تم یہ سب۔۔
پلیز مجھے جانے دو میں اس طرح کی لڑکی نہیں ہوں۔۔ ارے بےبی شادی میں کیا رکھا ہے اج رات مجھ انجواۓ کرنے دو کل کسی اور کو پکڑ لینے۔۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں اور تم نے دوکھے سے مجھے ادھر بلایا کے تمہاری مدر آٸٸ ہیں مجھ سے ملنے شادی کے لیے اور میں آگٸ اور لڑکی رونے لگی۔۔
تب ہی زین روم میں داخل ہوا۔۔ یہاں کیا چل رہا ہے۔۔
زین کی آواز پر وہ لڑکی فورن جابر کی آغوش سے نکلی اور زین کے پیچھے چھپ گٸ،، پلیز مجھے بچا لے یہ میری عزت۔۔۔ اور لڑکی رونے لگی۔۔
زین نے لڑکی سے کیا تم جاو اور لڑکی ایک منٹ ضایع کیے بغیر باہر بھاگ گیٸ۔۔۔
یہ کیا کیا تم نے جابر نے اپنے رات یوں خراب ہوتے دیکھا کر زین کو غصہ سے کہا۔۔
یہ کیا بےہودگی ہے، جابر شاہ!!, اپنی زات کا ہی خیال کرلو، شاہ خاندان سے ہو تم۔۔
بس مجھ زیادہ لیکچر دینے کی ضرورت نہیں ہے اور تمہے تو میں دیکھ لو گا۔۔
اور وہ تن فں کرتا باہر نکلا گیا۔۔
زین کو کیا معلوم تھا کے جابر شاہ اس بات کا انتکام اس سے اسکی بہن کے بدلے میں لیگا۔۔۔
_______________________***
رات دونوں ساس بہو نے کانٹوں پر گزاری ایک پل بھی نہیں سوٸ۔۔۔
پر نہ جانے کیسے اب دونوں کی آنکھ لگ چکی تھی اور دونوں دیوار کے ساتھ بیٹھے بیٹھے ہی سوچکی تھیں۔۔
صبح کے چار بجے زین خان بھی ہوٹل سے نکل چکا تھا اور اب وہ آرام سے ڈراٸونگ کررہا تھا ایک ڈیڈ گھنٹے میں وہ گاٶں پینچ جاتا۔۔۔
_______________________***
جابر شاہ نے جاکر ثمن کو صوفے پر گرایا۔۔
اوو سو بیوٹیفل۔
دوسرے نے کہا پریٹی۔۔
تیسرے نے کہا سو سیکسی۔۔
چوتھے نے کہا واہ مست ہے۔۔
اور ایسے ہی سب نے ثمن کو خیانت سے دیکھا اور اپنی گندی نظر سے تعریف کی ثمن کا جی چاہ رہا تھا کے زمین پھٹے اور وہ اسے میں سما جایے۔۔۔۔
پانچ دوست جابر شاہ کے اور چھٹا وہ خود۔۔۔
اس معصوم کو چار پانچ گھنٹے نوچتے رہے،، جب اس کے جسم میں چند سانسے باقی رہ گیٸ۔۔
تب اسے جابر کے آدمی نہر کے کنارے ڈال کر خود نکل گۓ۔۔۔
_______________________***
زین گھر کے تھوڑے قریب ہی تھا کے اسے نہر کے کنارے کوٸی لڑکی پڑی نظر آٸ زین بھاگ کر گیا جب لڑکی کے چہرہ پر نظر پڑی تو اس کے پیرو کے نیچے سے زمین نکل گٸ۔۔
کیوں کے وہ اس کی چھوٹی بہن ثمن تھی۔۔ ثم۔۔۔ثمن۔۔۔ ثمن۔۔۔ آنکھیں کھولوں کیا ہوا تمہے۔۔
چن۔۔۔چندہ بولو نہ زین کی زبان بھی لڑکھڑا رہی تھی۔۔
زین کو کچھ سمجھ نہیں لگ رہی تھی کیوں کے ثمن کے کپڑے بلکل ٹھیک خالت میں تھے۔۔
زین نے کچھ سوچتے ہوا اسے اپنے کار میں پیچھلی سیث پر ڈالا اور ہوسپیٹل لے گیا۔۔
_______________________***
شاہ جی شاہ ۔۔۔۔
ملازم بھاگتا ہوا جابر شاہ اور اس کے دوستوں کے کمرے میں داخل ہوا۔۔
غلامے دفا ہوجا کیا تکلیف ہے تجہے۔۔ ابھی تو سوۓ تھے۔۔۔
شاہ جی غزب ہو گیا ارے بک بھی اب جابر شاہ نے نیند میں پھری آنکھوں سے ملازم کو دیکھا۔۔
شاہ جی لڑکی کوٸی کار میں ڈال کر لے گیا۔۔
اچھا تو اس میں پرشانی کی کیا بات ہے اچھا ہے نہ مصيبت کو خود ہی کوٸی لے گیا شہر۔۔۔
جابر شاہ نے لاپرواٸی سے کہا۔۔ اور دفا ہو نکل مر ادھر سے اور تم سب جاو حویلی اور دس بجے ناشتہ لیکر آنا اب سب جاو ادھر سے۔۔۔
بہتر شاہ جی۔۔
ملازم کہتا ہوا نکل گیا۔۔۔
_______________________***
مسٹر زین آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں۔۔
میں بھاٸی ہوں ثمن کا۔۔
ڈاکٹر کیا ہوا میری گڑیا کو،،؟؟
“are you serious”
ڑاکٹر نے خیرانگی سے زین کو دیکھا۔۔
کیا آپ کو واقع میں نہیں پتہ کے آپ کی سسٹر کے ساتھ کیا ہوا ہے۔؟؟.
نہیں ڈاکٹر میں جب گھر پہنچا تو گھر میں کویٸ نہیں تھا مجھے یہ ایسے ہی ملی تو میں اسے ہوسپیٹل لے آیا۔۔۔
زین کو مناسب نہیں لگا کے وہ کہتا کے میں نہر کنارے سے بہن کو لیکر آیا ہوں۔۔ تبھی اس نے جھوٹ کہا دیا۔۔۔
مسٹر زین جیسے ہم آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں۔۔۔
اس لیے پولیس کو انفارم نہیں کررہے ورنہ یہ پولیس کیس ہے۔۔۔
آپ پلیز بتایں کیا بات ہے۔۔
زین کو کچھ گربڑ لگی۔۔
مسٹر زین آپ کی سسٹر کا ریپ ہوا ہے۔۔۔
وٹ۔۔؟؟
زین کرسی سے اٹھاکر کھڑا ہوگیا۔۔۔
جی بلکل پیشنت کے ساتھ بہت درندگی سے ریپ کیا گیا ہے ہم نے ٹریٹمنٹ کردیا ہے اور کچھ دیر تک انہے گھر لیجایا گا۔۔ کیوں کے ہوسپیٹل میں خطرہ ہے پولیس کا۔۔ ۔
اوکے ڑاکٹر زین نے بہت مشکل سے اپنے آنسو روکتے ہوا ڈاکٹر سے اوکے کہا۔۔
زین ثمن کے ہوش میں آتا ہی۔۔۔
گڑیا ایک بار بتا دو صرف ایک بار کے تمہارے پاکیزہ وجود کو کس خرامزادے نے گندہ کیا ہے؟؟.
اور ثمن نے جابر شاہ اور اس کے دوستوں کا بتادیا اور یہ بھی کے جابر شاہ نے کس بات کا بدلہ لیا ہے۔۔
زین نے ہوسپیٹل میں بہت مشکل سے اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔۔
________________________***
زین گھر پہنچا ثمن کو بیوی اور ماں کے پاس چھوڑ کر اپنے کمرے سے اپنا ریوارور نکالا اور باہر نکل گیا۔۔۔
زین۔۔ زین۔۔ آپ کدھر جارہے ہو۔۔
زارا نے پوچھا تو زین نے غصے سے کہا جابر شاہ کو زندگی سے اٹھانے اور وہ باہر نکل گیا زارا اسے روکتی رہ گٸ۔۔
_______________________***
زین سیدھا سیدوں کے ڈیرے پر گیا صبح کے ساڑھے نو بجے تھے۔۔۔
سیدوں کے ڈیرے پر کو ملازم تو تھا نہیں کیوں کے انہے جابر شاہ نے ہی حویلی بجا تھا۔۔۔
زین اسے کمرے میں گیا جدگر جابر شاہ اور اس کے دوست تھے دروازے کے زور سے کھلنے پر جابر شاہ نے غصے سے دیکھا پر،، وہ زین اور اس کے ہاتھ میں ریوارور کو دیکھ کر گھبرا گیا۔۔
ز۔۔۔۔ زین۔۔ ت۔۔ت۔تم۔۔۔
ہاں میں تم نے خانوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے نہ۔۔
آج تک وہ پیدا نہیں ہوا۔۔
جو خانوں کی عزت کو بری نظر سے دیکھے۔۔
پر تم نے میری گڑیا کی جسم کو ہاتھ لگا کر خود اپنی موت کو دعوت دی ہے۔۔
یہ کہتے ہی۔۔
زین نے گولی جابر شاہ کی پیشانی پر ماری اور جابر شاہ دوسرا سانس بھی نہیں لے سکا۔۔ پھر زین نے باری باری ان پانچوں کو بھی گولیاں ماری اور سیدوں کے ڈیرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: