Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 20

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 20

–**–**–

” وہ ان ہی سب سوچو میں تھا کہ، اس کے ہاتھ میں اٹھایا عروا کا موبائل رٍنگ کرنے لگا”
“شارق نے رات کے اس پہر موبائل کو دیکھا تو اس پر بابا سائیں کالنگ لکھا آرہا تھا”
“عروا تمہارے بابا کی کال ہے، شارق نے اس کی جانب موبائل بڑھاتے ہوا کہا”
“بابا کی وہ بھی اس وقت۔۔ اللہ پاک سب خیر کریں، عروا نے دعا کرتے ہوۓ، کال پک کی”
“سلام بابا سائیں خیرت تو ہے، اس وقت کال کی آپ نے؟؟ عروا نے اک ہی سانس میں پوری بات کی، بیٹا جی خیرت ہی تو نہیں یے، بابا سائیں اس وقت آئی سی یو میں ہیں”
“کیا پر انہے ہوا کیا؟؟؟
“عروا نے دل پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا”
“ڈیرے پر بلاسٹ ہوا ہے۔۔ بابا سائیں اور ان کے تمام آدمیوں کو سحت زخمی خالت میں ہوسپیٹل منتقل کیا گیا ہے،آپ ایسا کرو بیٹا اماں جان کو لے کر فورا ہوسپیٹل پہنچو”
“جی بابا سائیں میں دادو کو لے کر ابھی پہنچ رہی ہوں”
“کیا ہوا عروا سب ٹھیک تو ہے نا، شارق نے عروا سے پوچھا، اور عروا شارق کے لگے لگ کر رونے لگی۔۔ اور پھر عروا نے سب شارق کو بتایا”
“بس میری جان چپ ہوجاو، اللہ سب بہتر کریں گۓ۔ تم جاو دادو کو انفام کرو۔۔ میں لے چلتا ہوں، ہوسپیٹل”
_____________________________________***
“ساجد آج میں اپنے ہی پولیس اسٹیشن آیا ہوں نا، انسپکٹر امجد نے پولیس اسٹیشن کے اندر داخل ہوتے ہوا، اپنے سپاہیوں کو الرٹ انداز میں ڈیوٹی دیتے ہوۓ پا کر حوالدار سے پوچھا یہ اپنا ہی پولیس اسٹیشن ہے نا؟؟
“کیوں سر جی، کیوں کیا ہوگیا”
“یہ اتنا ڈسپلن کیسے قائم ہے، آج ہمارے پولیس اسٹیشن میں”
“، انسپکٹر امجد اج کہیں چھٹیاں کے بعد پولیس اسٹیشن آیا تھا، وہ اپنی شادی کے لیے لیو پر تھا، اسی لیے اسے پولیس اسٹیشن کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا”
“وہ سر جی نیے ایس ایچ او صاحب آئے ہیں، آپ کو نے بتایا کسی نے؟، حوالدار نے بتانے کے ساتھ پوچھ لیا”
“ارے نہیں کب آئے ہیں، اور کیسے ہیں، ایس ایچ او صاحب؟ امجد نے رازدارنہ انداز میں پوچھا”
“آئے تین دن پہلے ہیں، اور بہت ہی سحت اور وقت کے پابند ہیں، اسی لیے تو سارا عملہ سدھر گیا دو دن میں ہی، حوالدار نے امجد کی معلومات میں اضافہ کیا، اوو نہیں کر پھر میں چلتا ہوں”
“سر آپ کو ایس ایچ او سر یاد کررہے ہے، ابھی وہ آکر بیٹھا ہی تھا، کہ چپراسی نے آکر انسپکٹر امجد کو اطلاع دی”
” اسلام سر جی۔۔ انسپکٹر امجد نے سلیوٹ کرتے ہوا کہا”
“و علیکم اسلام، آپ ہہاں کے سب انسپکٹر امجد ہیں؟ یس سر”
“امجد آپ لیو پر تھے، مجھ معلوم ہوا، لیکن دفتر آنے کا یہ وقت ہے کیا؟ یا آپکی گھڑی خراب ہے”
“سوری سر نیکسٹ دھیان رہے گا”
“ہممم، دیکھے امجد مجھ دائم چودھری کہتے ہیں،میں وقت کی قدر کرنے والا انسان ہوں، اور میں اپنے کام کرنے والوں سے بھی یہ ہی چاہو گا وہ بھی وقت کی قدر کرتے ہوۓ ہر کام وقت پر کریں۔۔۔”
“آپ سب سمجھ گے ہوگۓ”
“یس سر میں سب سمجھ گیا”
“اینی وے، آپ ایسا کریں 2003 کے تمام کیسز کی فائل مجھ بجوایں بیس منٹ میں، اوکے سر کہتا امجد باہر نکل گیا”
_____________________________________***
“مجید شاہ ہوسپیٹل سے گھر آچکے تھے، لیکن دونوں ٹانگوں سے معزور ہو کر”
“دراصل بلاسٹ سے کچھ وقت پہلے مجید شاہ کو کسی نے بتایا کہ، نہر کے قریب والے باغ سے کچھ لوگ درخت کاٹ رہے ہیں بغیر اجازت کے، جس وجہ سے انہے بہت غصہ آیا اور وہ گھوڑے پر سوار ہوکر خود ہی معملہ سے نبٹنے چلے گے، یہ دیکھا بغیر کہ یہ نیا گھوڑا ہے جو کہ بہت منھ زور اور اتھرہ جانور ہے، جب سے اسے لایا گیا تھا، اسے کوئی بھی قابو نہیں کرسکا تھا۔۔۔
“گھوڑے پر سوار ہوۓ،ابھی مشکل سے تین چار منٹ ہوۓ تھے، کہ گھوڑے نے اپنا آپ دیکھنا شروع کردیا، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا سے باتیں کرنے لگا، دس منت تک مجید شاہ اس پر مشکل سے سوار رہے، لیکن دس منٹ تک گھوڑا ریل پٹھڑی تک پہنچ چکا تھا، اور اسی وقت ریل گاڑی بھی دوھا اڑاتی آرہی تھی، گھوڑے نے مجید شاہ کو گیند کی طرح ریل پٹھڑی پر پھینکا، اور ریل کچھلتی ہوئی مجید شاہ کو آگے نکل گئ”
“وہ تو مجید شاہ کو اللہ نے جان سے بچا لیا، کہ صرف آدھا دھر ہی ٹرین کے نیچے آیا تھا، اور وہ دونوں ٹانگوں سے معزور ہوچکے تھے”
“شارق کو عروا سے ساری جانکاری حاصل ہوچکی تھی، اسے دکھ تھا کہ مجید شاہ اس کے وار سے بچ گیا، لیکن قدرت نے شاید اسے اسی ہی سزا دینی تھی، تل تلغاری مرنے کی سزا۔۔”
_____________________________________***
“آپی ثمر سے کہو نا مجھ اپنی منگیتر سے ملواۓ، میں بھی تو دیکھو، اس میں ایسی کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں، اچھا میں کہتی ہوں”
“جی بھابی آپ نے بلایا، ثمر نے ہانیہ سے پوچھا”
“ہاں ثمر دانیہ کو ہما سے ملوا دو ، یہ ملنا چاہتی ہے، اس سے۔۔ پر بھابی۔۔ دیکھو ثمر مینے پہلی بار تمہیں کوئی بات بولی ہے، اور اب ہما بھی تو اتنی دور نہیں مری میں آگئ ہے، اور ایک گھنٹے کا سفر ہے، ثمر گھر میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتا تھا اسی لیے ، اسے ہانیہ کو ہاں کرنی پڑھی، اور وہ دانیہ کو تیار ہونے کا کہہ کر آگیا”
۔۔۔۔
“ثمر اور دانیہ ہما کہ گھر پہنچے تو ہما، ایک پولیس والا کے ساتھ باہر آرہی تھی”
“ارے ثمر آپ نے بتا تو دیا ہوتا مجھ آپ آرہے ہیں، ہما نے ثمر کو دیکھ کر کہا”
“کیوں تم جارہی تھی کہں کیا، ثمر نے دائم کو دیکھ کر پوچھا”
“نہیں میں تو دائم بھائی کو دروازے تک چھوڑنے آئی تھی”
“اینی وے..
“دائم بھائی ان سے ملیں، یہ ہیں آپکے ہونے والے بہنوئی ثمر ملک۔۔۔ اور ثمر یہ ہیں میرے فرسٹ کزن ایس ایچ او دائم چودھری۔۔ یہ کراچی میں تھے کافی وقت سے ابھی مری پوسٹنگ ہوئی تو۔۔ ہمارے پرانے گھر سے یہاں کا ایڈریس لے کر ملنے چلے آئے۔۔ ہما نے ثمر کو بتایا، ثمر اور دائم آپس میں ملے تو، ثمر نے بولنا شروع کیا۔۔۔ ہمم میں بھی دانیہ سے تمہیں ملوانے لایا ہوں۔۔
دانیہ یہ ہے ہما مائی لو مائی لائف اینڈ مائی فیوچر وائف، ثمر نے شوخی سے دانیہ کو بتایا”
“اور ہما یہ ہیں میری بھابی کی بہن اور میری کرن دانیہ ملک، اب دانیہ اور ہما بھی آپس میں ملیں”
“ان سب میں دائم صاحب صرف ایک ہی انسان کو دیکھ رہا تھا، وہ تھی دانیہ۔۔ دائم کو وہ ماڈرن سی لڑکی بہت اچھی لگی، اور وہ اس کی طرف ہی دیکھتا رہ گیا، اور ویسے بھی دانیہ اس قابل تو بھی کہ دہکھنا والا دیکھتا رہ جاتا۔ گورا چٹا رنگ گرین آنکھیں، کالے بال جینز شرٹ میں چھوٹا سا قد پہلی نظر میں دائم کو وہ پسند آچکی تھی۔۔ دانیہ نے جب اپنے اوپر کسی کی نظر محسوس کی تو دیکھا دائم اسے ہی دیکھ رہا تھا”
“دانیہ کی کمزوری تھے خوبصورت اور کامیاب لڑکے۔۔ آنچا لمبا قد توانا بوڈی بھوری آنکھیں اور جسم پر پولیس یونفام بلاشبہ وہ بہت ہینڈسم لڑکا تھا، لیکن لڑکیاں کی نیچر کے متبق دانیہ نے بھی دائم کو دیکھ کر منھ بنا لازمی سمجھا، جس کو دائم نے انجوائے کیا۔ اور جانے کے لیے بڑھ گیا”
“دانیہ آئی تو کسی اور ارادہ سے تھی لیکن، ہما کی معصومیت کو دیکھ کر اب اس نے ہما کو مہرہ بنا کا پلان سیٹ کرلیا تھا اور اس نے بہت سی غلط فہمیاں ہما اور ثمر کے بیچ پیدا کردی تھیں، پھر اس کا نتیجہ سامنے آنا باقی تھا”
_____________________________________***
“مارخ اور خاشر اور دونوں کی مدرز عمرے کی عظيم شان سعادت حاصل کر کے واپس لوٹ آئے تھے”
“مجید شاہ کی معزوری کو ایک منتھ گزر چکا تھا، جازب شاہ اور بتول خانم نے دس دن بعد احد اور انابیہ کی رخصتی کی تاریح رکھی تھی”
۔۔۔۔
“انابیہ شاور لیکر نکل اور ڈریسنگ کے سامنے اپنے بال سلجھنے لگی، انابیہ کافی دنوں سے محسوس کر رہی تھی، کہ پتہ نہ کیوں کب کیسے احد شاہ اس کی سوچو کا مرکز بنتا جارہا ہے خود سے ہی، وہ اسے سوچنا نہیں بھی چہتی تو بھی وہ اس کے خیالوں، میں کیوں آجاتا ہے، انابیہ کا دل زور زور سے شور مچارہکد اسے بتا رہا تھا، کے، انابیہ خان نہ چاہتے ہوے بھی تمہیں احد شاہ سے محبت ہوگئ ہے، لیکن انابیہ اپنی دل کو مٹھی میں بند کر کے منع کرتی، لیکن دل نادان کہا چپ رہنے والا تھا، وہ بار بار اسے یاد دلاتا کے تم احد کی منکوحہ ہو، احد نے جو بھی کیا اس کا خدا کے ہاں گناہ نہیں کیوں کہ وہ اس کا شوہر تھا، لیکن انابیہ اس بات کو مانے کو تیار نہیں تھی، اس کا کہنا تھا، احد تو انجان تھا کہ میں اس کے نکاح میں ہوں، اس لیے انابیہ کی نظر میں احد نے غلط کیا، اور وہ احد کو معاف نہیں کرنے والی تھی۔۔۔۔
_____________________________________***
“شارق اور ثمر نے میڈیکل مکمل کرلیا تھا، جب کہ عروا اور ہما کا بس ہوسپیٹل کا ایک سال رہ گیا تھا”
“شارق نے اپنا پرانا گھر یعنی اپنی گاٶں میں حویلی کو اچھے سا دوبارہ سیٹ کروا لیا تھا، اور شارق نے اپنے گاٶں میں زاتی ہوسپیٹل بنا لیا تھا، ہوسپیٹل تقریبا مکمل ہونے کو تھا، بس پینٹ باقی رہ گیا تھا، اس کے بعد شارق نے ثمر کے ساتھ خود اپنا ہوسپیٹل شروع کرنا تھا، فلحال وہ دونوں راولپنڈی ہی اسی ہوسپیٹل میں جاب کررہے تھے، کیوں کے دونوں کی جان زززز یعنی عروا اور ہما ادھر تھیں اسی لیے ان کو بھی ادھر رہنا پڑھا”
۔۔۔۔۔
“آج شارق ہوسپیٹل نہیں آیا تھا اور وہ ہوسٹل میں ہی تھا، کیوں کے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی”
“ہما کے دل میں جو غلط فہمی دانیہ نے ڈالی تھی، اس پر ہما کو یقیں نہیں آرہا تھا”
“، اسی لیے آج وہ خود ثمر سے ملنے جارہی تھی، کہ اس سے مل کر بات کرلے کر جو غلط سہی ہے سامنے آجائے گا۔۔
“ہوسپیٹل کے پارکنگ کی طرف اسے ثمر دیکھائی دیا، ہما اس طرف چل پڑھی، ثمر واپس جانے ہی لگا تھا کہ اس کے موبائل پر رنگ ہوئی”
“شارق کالنگ دیکھ کر اس نے کال رسیو کی”
“ہمم کیا بات ہے، آج ہی ہوسپیٹل نہیں آیا اور دوست کی یاد ستانے لگی،ثمر نے شوخی سے کہا،ابے او تیری ورڈروب میں چویے آگے ہیں، اور تیری ساری شرٹس چٹ کرگۓ ہیں، کیا بات کررہا ہے شارق۔۔۔ ثمر کو تو صدمہ ہی لگا تھا، اپنے نیئ شرٹس کا سن کر، ہاں اور ایک نہیں ہے، پوری بارات ہے، اماں ابا اور ان کے بچے۔۔۔ شارق نے ہستے ہوا بتایا، ابے یار اٹھا کر باہر پھیک دے پلیز۔۔۔ اوکے رک میں پھینکتا ہوں۔۔۔ لے پھینک دیے سب لیکن ایک رہ گئ ہے، چوہیا شی ہے، اور اسے نہیں پھینک سکتا۔۔
“کیوں کیوں نہیں پھینک سکتے، یار اس کا پھولا ہوا پیٹ یہ بتا رہا ہے کہ وہ پریگنٹ ہے، اور میں اسے کے بچوں کو کیسے نقصان پہنچاو، شارق نے سارے جہاں کی ہمدردی چوہیا کے لیے اگھٹی کر کے کہا۔۔۔
“ابے یار پلیز اسے اٹھاکر بلڈنگ سے نیچھے پھینک، وہ پریگنٹ ہے تو تمہیں مطلب نہیں ہوتا چاہے، اور میرے آنے سے پہلے اسے باہر نکال مجھ وہ نظر نہیں آنی چاہے”
“ثمر کے منھ سے ادا ہونے والا آخری فقرہ ہما نے سن لیا اور اس کے پاوں سے زمین نکل گئ، اسے دانیہ کی بولی سب باتیں سچ لگنے لگی، اس نے بھی تو ایسا ہی کچھ بتایا تھا، ثمر کے متعلق، کے وہ کرکٹرلس ہے، اور ہما یہ جانے بن کے یہ سب ثمر نے ایک چوہیا کے لیے کہا ہے، وہ ثمر کے پیچھے دیکھنے سے پہلے وہاں سے بھاگ گئ”
“وہ کہتے ہیں نا، کبھی کبھار ہمارے منھ سے نکلی چھوٹی سی بات بھی ہمارے لیے عمر کی غلطی نکل سکتی ہے، ثمر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا، بات چوہیا کی ہورہی تھی لیکن ہما اسے لڑکی کی سمجھ کر ثمر سے اور بھی زیادہ بدگمان ہوگئ، دانیہ کی چھوڑی چنگاری جو ہما کے دل میں تھی، ہما کی تھوڑی سی غلط فہمی سے آگ لگ چکی تھی”
” وہ کہتے ہیں نا اگر جنگل میں پہلے سے چنگاریاں چھوڑی گئ ہوں اور پھر ہوا کے ایک جھونکے سے ہی سارا جنگل راکھ کے ایک ڈھیر بنے سکتا ہے”
_____________________________________***
“احد اور انابیہ کی شادی کو صرف پانچ دن باقی تھے، شارق اور عروا ساتھ گھر جارہے تھے، جب کہ ثمر اور ہما نے دونوں کو صرف ولیمے پر آنا کا کہا تھا”
“آدھا رستہ خاموشی کی نظر ہوچکا تھا، شارق بہت شرمندہ تھا کہ اس نے عروا کو بدلہ کے طور استمال کیا، پر اب ہو بھی کیا سکتا تھا”
“عروا۔۔۔۔
“جی شارق۔۔۔
“آئی ایم ریلی ویری سوری عروا، اس رات پتہ نہیں کیا ہوا میں تمہیں دیکھ کر خود پر کنٹرول نہیں کرسکا، مجھ رخصتی سے پہلے تمہیں اپنی زوجہت میں نہیں لینا چاہیے تھا، شارق عروا کا ہاتھ تھام کر شرمندہ لہجے میں بولا”
“شارق پلیز مجھ سے معافی مانگو کر مجھ گناہ گار مت کریں، آپ میرے ہیسبنڈ ہیں، مانا کہ آپ کو رخصتی سے پہلے نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن خدا نہ خواستہ آپ نے گناہ یا غلط تو نہیں کیا میں نکاح میں ہوں آپ کے، وائف ہوں آپ کی سو پلیز معافی مت مانگے،عروا شارق کے گلے لگ کر تڑپ کر بولی”
” تھوڑی دیر بعد ۔۔۔شارق رکے گاڑی۔۔۔
“کیوں عروا۔۔۔
“وہ پھولوں کے گجھرے۔۔۔
” سو بیوٹیفل شارق نے کہا، یہ تو مجھے بھی بہت پسند ہیں، رکو میں تمہارے لیے لے کر آتا ہوں۔۔
“شارق گجھرے لے کر آیا اور باری باری عروا کی دونوں کلایوں میں پہنا دہے۔۔۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: