Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 21

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 21

–**–**–

“مارخ اور خاشر بیس دن بعد واپس آچکے تھے اور ان کو آئے ہوے بھی پندرہ دن گزر چکے تھے”
“سب مہمانون کا آنا جانا لگا ہوا تھا، کام تو خیر سارا نوکر کرتے تھے، لیکن مارخ تو مہمانون کے پاس بیٹھ بیٹھ کر ہی طبیعت خراب کرلتی تھی”
“ابھی کچھ مہمان کم ہوۓ تو خاشر نے مارخ کو روم میں آنے کا اشارہ کیا، اور مارخ اپنے روم کی طرف چلی گئ”
“آپ کو کام تھا کوئی خاشر؟ مارخ روم میں داخل ہوئی ہی تھی کہ خاشر نے روم لاق کردیا، اور مارخ کو اپنی باہوں میں لے لیا”
“خاشر آپ کو ہر وقت کے رومینس کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے؟؟
“آتا ہے نا میری جان۔۔
“کیا؟؟
” تمہیں پیار کرنا، مارخ نے خاشر کو غصہ سے دیکھا”
“خاشر چھوڑے مجھے، باہر مہمان آرہے ہیں اور آپکو رومینس سوج رہا ہے۔۔
“بہت ظالم ہو مجھے اپنی بیوی سے جی بھر کر پیار بھی نہیں کرنے دیتی، خاشر نے معصوم شکل بناکر کہا”
“یہ آپ کے پیار کی نشانی ہی ہے جو مجھے دن کو چین نہیں لینا دیتا اور رات کو ان کے پاپا میری نیند کے دشمن بن جاتے ہیں، مارخ نے اپنے پیٹ کی طرح اشارہ کرکے کہا، کیوں کے مارخ کی پریگننسی تھی”
“اچھا میری جان کی تو طبیعت خراب رہتی ہے ان دنوں مجھے تو یاد ہی نہیں رہا تھا، خاشر نے مارخ کی گال کو پیار سے چھوتے ہوے کہا”
“اچھے جانے دیں اب باقی کا پیار بعد کے لیے سنبھل کر رکھ لیں، پھر کہا سے لایں گۓ، مارخ نے شرارت سے کہا۔۔
“ماہی میری جان تم فکر نہیں کرو، میرا پیار تمہارے لیے کبھی کم نہیں ہوگا، خاشر کے ایسے کہنے پر مارخ خاشر کے سینے لگ گئ۔۔ ہاں بلکل جب تم دادی اماں بن جاو گئ تب بھی میں تمہیں ایسی ہی رومینس کیا کرو گا، اس بات پر مارخ اس کے سینے پر مکاے برساتی باہر نکل گئ….
_____________________________________***
“پیچھے آدھے گھنٹے سے ایس ایچ او دائم فائلوں میں سر کھپا رہا تھا” “دراصل اس کو انفارمیشن ملی تھی کہ مری میں 2003 میں کافی کیسز کو بند کر دیا گیا تھا، کیوں کہ ان کیسز کا پولیس کوئی سراغ نہیں لگا سکی تھی،”
“لیکن دائم نے یہ بھی سن رکھا تھا، کہ ان کیسز کو پولیس اسٹیشن تک لایا ہی نہیں گیا.. بلکہ ان کو گاٶں محلے کے سربراہوں نے اپنے طریقہ سے ہنڈل کیا تھا”
“کافی مغز ماری کے بعد اسے ایک کسز ملا،
“نام ثمن خانم”
“عمر 19 سال”
” زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس لڑکی کو۔۔
فائل کے فرنٹ پر اسے یہ سب ملا۔۔
آگلے صفحہ پر قتل کا کیس تھا، غالبا اسی کیس کا دوسرا رخ تھا۔۔
“نام زہن علی خان”
“عمر 36 سال”
“ملزم تھا، جس نے اپنی غیرت میں 6 قتل کیے تھے۔۔۔ جن میں سید جابر شاہ، ظاہد چوہان، کامران بیگ، تہمور، رضا اور سلیم بٹ تھے۔۔۔
” یہ ایک ہی کیس تھا تھا، اسی فائل کے ساتھ کچھ عرصے تقریبا دس بارہ منتھ کے بعد، ایک اور بات شامل تھی..
” زین علی خان”
“عمر 36 سال”
“دوسری شاید بیوی تھی اس کی۔۔
“زارا زین خان”
“عمر 28 سال”
پہلا نام دیکھتے ہی دائم کو شدید جھٹکا لگا۔۔۔کیوں کے جس ملزم نے چھ قتل کیے اس کی یہاں، ٹریفک خادثے میں موت بتا کر کیس کلوز کردیا گیا تھا…
“دائم چودھری نے چپراسی سے کہہ کر ایس پی کو بلوایا۔۔
“یس سر آپ نے بلایا، ایس پی خاور نے کہا”
“خارو آپ ایسا کریں اس کیس کو میں ری اوپن کررہا ہوں، اس کی تمام معلومات اور جہاں ان کی کار خادثے کا شکار ہوئی وہاں کے روڈ کی سی سی ٹی وی فوٹج (cc Tv footage) مجھ لاکر دیں”
“خاور جلدی کریں۔۔ میں انصاف میں زیادہ دیر نہیں کرسکتا ہوں اب، دائم کو اس کیس کو ریڈ کر کے بہت دکھ پہنچا تھا، وہ اپنی سروس کے اتنے سالوں میں پہلی بار بہت دکھی ہورہا تھا”
_____________________________________***
” ویسے شارق! بھیا اور انابیہ آپی کا نکاح بچپن میں ہی ہوا تھا، پر کب مجھے یاد نہیں ہے، عروا نے پرشانی سے شارق سے سوال کیا”
“کیوں کہ اسے گھر سے کال آئی تھی بابا سائیں کی کے چھٹی لے کر گھر آ جاو، احد کی شادی ہے انابیہ سے۔۔۔
” کیوں کہ مائی بیبی تم شاید اس وقت ایک دو سال کی تھی، اس لیے تمہیں نہیں پتہ، اور نہ یہ پتہ ہے تمہارے خاندان نے ہمارے خاندان کو کیسے برباد کیا ہے”
” کیا مطلب برباد کیا ہے؟؟ شارق عروا نے ناسمجھی سے پوچھا”
” خود ہی پتہ چل جائے گا، تمہیں کبھی، شارق نے گردن کو نفی میں ہلاتے ہوے کہا”
“پلیززززز شارق بتایں نا”
” عروا چپ بلکل کوئی سوال نہیں، اور تمہارا گھر آگیا ہے، جاو اور تیاری پکڑو بھائی کی شادی کی، عروا خاموشی سے گاڑی سے اتر گئ”
۔۔۔۔۔۔
” آج انابیہ اور احد کی مہندی کا فنکشن ختم ہوچکا تھا، یلو اور گرین شرارے کے ساتھ پھولوں کے زیور پہنے انابیہ مرر کے سامنے گھری اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی، جس پر احد کے نام کی مہندی لگ چکی تھی”
” بدلہ تو میں تم سے ضرور لو گئ۔۔۔ احد شاہ انابیہ اپنی دوپٹہ کی پنز نکلالتے ہوے سوچنے لگی۔۔ اس وقت انابیہ کے موبائل پر رنگ ہوئی”
“انابیہ نمبر دیکھ کر جی بھر کر بدمزہ ہوئی، اس نے عجیب و غریب منھ بناتے ہوے کال رسیو کی۔۔
“کیوں کال کی تم نے، انابیہ نے منھ پھٹ لہجے میں احد کو کہا؟؟
“او ہیلو کس مائی کے لال میں اتنی ہمت ہے، جو مجھے میری بیوی کو کال کرنا سے روک سکے، احد نے مزاحيہ لہجے میں شوخی سے کہا۔۔
“وہ ہی بیوی!! جیسے تم ایک پرائی لڑکی سمجھ کر لوٹ چکے ہو، مجھ نا تمہیں اپنا سوکالڈ ہیسبنڈ تصور کرنے کا بھی کوئی شوق نہیں ہے۔۔ سمجھ تم اور بدلہ تو میں تم سے۔۔ ابھی لفظ انابیہ کے منھ میں ہی تھے کہ احد کی غصے سے بھری آواز سنائی دی۔۔۔
“شٹ اپ۔۔ جسٹ شٹ اپ انابیہ۔۔
“تم اچھے سے جانتی ہوں وہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا، اور دوسری بات تم اس وقت بھی میرے نکاح میں تھی۔۔ تم جتنا جلدی یہ رشتہ قبول کر لو تو اچھا ہے۔۔ ورنہ احد شاہ اگر اپنی پرانی ٹون میں واپس آگیا نا تو تمہارے لیے بہت مسلہ بن جائے گا، یہ کہتے ہی احد نے کھٹک سے فون بند کر دیا”
“احد چینج کی عرض سے ڈریسنگ کے سامنے سے گزرا تو، اسے رکنا پر اپنا ہینڈسم روپ دیکھ کر وہ چاکلیٹی سوٹ پہنے گلے میں ریڈ دوپٹا ڈالے وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا، اسے یاد آیا کیوں نہ وہ اپنی تعریف وصولے انابیہ سے لیکن اس اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا کال کرنے کا ارادہ بہت غلط تھا”
“انابیہ نے اس کا موڈ بہت خراب کردیا تھا”
“وہ خراب موڈ سے چینج کر کے سو گیا…
_____________________________________***
“برات آچکی تھی”
برات کا سارا ارینج بتول خانم کی خواہش پر گھر میں ہی ہوا تھا”
“انابیہ اور احد ساتھ ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے”
” گلابی اور مہرون کلر کی میکسی جس پر گولڈن کام بنا تھا ساتھ گولڈن ہی جولیری براڈل میک آپ، گولڈن ہی بال جس کا پیارا سے سٹائل بنا ہوا تھا۔۔ وہ کوئی آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی، احد بھی کچھ کم خوبصورت نہیں لگ رہا تھا، گولڈن شیروانی کے ساتھ مہرون کلر کی پگڑی وہ کسی ملک کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ دونوں پر شادی کے ڈریس بہت جچ رہے تھے۔
“سب مختلف نام دے رہے تھے ان دونوں کے کپل کو، چاند سورج کی چوڑی، اور پتہ نہیں کیا کیا”
“اب کھانا کھل گیا اور سب کھانا کھانے لگے”
“عروا نے پہلا چمچا سالن کا ڈالا ہی تھا کہ اس کے کپڑوں پر سالن گر گیا، بتول خانم نے دیکھا تو کہا جاو بیٹا، اسے صاف کرلو ورنہ داغ بن جائے گا”
“وہ سامنے والا واشروم یوز کرلو، انہوں نے شارق کے روم کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا، اور عروا روم میں بن ناق کیے چلی، جہاں شارق پہلے ہی شرٹ اتارے مرر کے سامنے کھڑا تھا، روم کھولنے کی آواز پر جب شارق پلٹا تو عروا کو دیکھ کر خشگوار خیرت ہوئی، لو جناب پہلے ہی اپنے روم میں آگئ، جی نہیں شارق وہ میرے کپڑے خراب ہوگے تھے، تو آپ کی دادو نے بھجا ہے، مجھ تو معلوم بھی نہیں تھا کہ یہ آپ کا روم ہے”
“اچھا اچھا آرام سے جاو صاف کرو لو کپڑے، عروا بغیر کچھ کہے کپڑے صاف کرنے چلی گئ”
۔۔۔۔
دولہا دولہن بھی کھانا کھا رہے تھے، کہ انابیہ نے کولڈرنک سے بھرا ہوا کلاس احد کی گود میں الٹ دیا، جیسے اور تو کسی نے نہیں لیکن خاشر اور مارخ نے ضرور دیکھا۔۔
اوو سوری سوری میرے ہاتھ سے گلاس سلیپ ہوگیا، احد نے کھا جانے والی نظروں سے انابیہ کو دیکھا تب، اثناء شاہ نے کہا کوئی بات نہیں انابیہ بیٹا ہوجاتا ہے سوری کی کوئی بات نہیں، احد بیٹا جاو اسے ڈرائئ کر لو، ماری بچے احد بیٹے کو شارق کا روم بتادو وہاں پر خشک کرلے اپنے کپڑے، بتول خانم نے مارخ کو کہا۔۔
“مارخ تھوڑا آگے جاکر احد کو روم کا بتا کر خود واپس آگئ”
۔۔۔۔
“,عروا جب واشروم سے نکلی تو ابھی بھی شارق شرٹ کے بغیر کھڑا تھا”
“شارق آپ شرٹ اتارے کیوں کھڑے ہیں؟؟
“یار پتہ نے درخت کے نیچے کھڑا تھا اوپر سے کچھ شرٹ میں آ گرا اور تب سے خارش ہورہی ہے”
“کدھر بتایں مجھ، یہ یہاں شارق نے اپنی پیٹھ کی طرح اشارہ کیا۔۔
“اففف شارق جی یہ تو بہت ریڈ ہورہا ہے”
” کچھ ہے آپ کے پاس میں لگا دو؟؟
“ہاں اس ڈرا میں ہے، چیک کرو، شارق نے سامنے ڈرا کا کہا، جس میں سے عروا کو دوا ملگئ۔۔۔
“عروا شارق کی پیٹھ پر دوا لگا رہی تھی تب ہی روم کھلا، اور احد اندر داخل ہوا”
“احد عروا کو شارق کی پیٹھ پر دوا لگاتا دیکھ چکا تھا، اور اسے شدید غصہ آیا”
“عرواااااااا۔۔۔۔۔
“احد نے غصے سے عروا کو پکارہ۔۔
“احد کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر جب احد کو دیکھا تو اک پل کو دونوں پرشان ہوگۓ۔۔۔ پر تھوڑی دیر بعد شارق تو نارمل ہوگیا، جب کہ عروا کی تو زبان ہی تالو سے چپک گئ تھی”
“احد نے آکر شارق کو لگےبان سے پکڑ لیا، احد کچھ اور بولتا لیکن عروا شارق کے سامنے کھڑی ہوگئ۔۔۔ نہیں بھیا پلیز میری بات تو سن لیں آپ شارق کو چھوڑیں۔۔۔
“احد اپنی چھوٹی سی بہن کو دیکھ کر دنگ رہ گیا، جو مشکل سے شارق کے کندھے تک آرہی تھی، لیکن شارق کی کیسے ڈھل بنا ہوئی تھی”
“احد شدید غم اور غصہ میں عروا کے منھ پر تھپڑ مارنے ہی والا تھا، کی شارق نے اپنی قوت سے احد کا ہاتھ پکڑ کر عروا کو تھپڑ لگنے سے بچا لیا”
“احد بھائی آپ میری وائف پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے ہیں، آخر کو اس کی غلطی کیا ہے؟؟ یہ ہی کہ وہ اپنے ہیسبنڈ کو دوا لگا رہی تھی”
“شارق کے لفظ تھے یا سیسہ جو شارق احد کے کانوں میں انڈیل رہا تھا”
“واٸف۔۔۔۔ یہ کب ہوا؟؟
“عروا ہم نے تمہیں اسی لیے گھر سے دور ہوسٹل بجھوا تھا کہ تم اپنی پسند کی شادی کرتی پھرو اور ہمے کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔۔. ہاں جواب دو ؟؟اب بولتی کیوں نہیں ہو؟؟، احد نے عروا کی جھکی ہویی گردن دیکھ کر اس سے سوال کیا”
“وہ کیا بتایے گئ آپ کو میں بتاتا ہوں، شارق نے احد کو کہا”
“تبرز ملک سے آپ کی کیا دشمنی ہے؟؟ شارق نے احد سے پوچھا”
“احد کو یاد نہیں آیا کے شارق کس تبرز ملک کا کہہ رہا ہے، اس لیے اس نے کہا میں اس نام کے بندے کو جانتا نہیں”
“تو پھر اس کا آدمی آپ کی بہن کی عزت خراب کرنے کے در پر کیوں تھا؟؟
“اس دن اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو آپ اس وقت شان سے کھڑے نا ہوتے، بلکہ ساری دنیا میں بدنام ہوچکے ہوتے، ساتھ ہی شارق نے موبائل سے اسی آدمی کی پیکس احد کے سامنے کی، یہ ہے وہ کمینہ”
“یہ تو وہ ہی ہے، جس کے مینے ڈرگز پکڑوایے تھے، اور اس نے مجھ دھمکی بھی دی تھی، کہ وہ مجھ سے بدلہ لے گا۔۔ اس کمیمنے کو تو میں چھوڑو گا نہیں، جب شارق نے ساری بات احد کو بتائی تو احد نے کہا”
“احد نے کہا تم دونوں کے نکاح کا کس کس کو معلوم ہے؟؟
“جسٹ ہما اور ثمر کو شارق نے بتایا”
“احد کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا، اوکے کسی کو بتانا بھی مت، اس مسلے پر بعد میں بات کریں گۓ”
“ہممم چلو باہر آجاو رخصتی کا وقت ہوچکا یے، احد کہتا ہوا باہر نکل گیا”
“عروا ابھی بھی پرشان حال بیٹھی تھی”
” میری جان اب پرشان مت ہو اب بہت جلد میں تمہیں اپنے پاس بلوانے والا ہوں ہمیشہ کے لیے، شارق نے عروا کو زور سے ہگ کیا، اففف شارق کیا کرتے ہیں”
” اچھا چلو باہر چلتے ہیں، دونوں باہر چلے گۓ”
” دادی کے گھر سے رخصت ہوکر انابیہ احد کے گھر آچکی تھی”
“عروا انابیہ کو احد کے سجے سجایے روم میں بیٹھاکر آگئ تھی”
” انابیہ اپنی خوبصورت گلاب کے پھولوں سے سجی سیج سے اٹھی اور نہا کر سمپل سے کپڑے پہن کر بیڈ پر لیٹ گئ”
” احد جب آیا تو وہ اسے سمپل حالت میں. بیڈ پر لیٹی نظر آئی، احد کو لگ رہا تھا، کہ انابیہ اس کی آج کی رات خاک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے”
” احد بھی چینج کرکے آیا، اور انابیہ کے کھنچ کر اپنے قریب کیا، اوو ہیلو مجھ سے دور رہو، انابیہ خود کو چھڑواتی ہوئی بولی، یہ ایٹیوڈ مجھے مت دیکھو، تم جانتی تو ہوں مجھ، جانتی ہوں یا نہیں فلخال میرا ہاتھ چھوڑو سمجھ، انابیہ احد کا ہاتھ جھٹک کر دوسری جانب کروٹ بدل کر سوگئ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: