Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 22

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 22

–**–**–

” ہما اپنا سوٹکیس تیار کیے بس کے انتظار میں کھڑی تھی”
“ہما!…..
” ثمر اپنی مہران گاڑی کا مرر نیچے کرتے ہوۓ ہما کو پکارہ”
“ہما نے دیکھ کر منھ دوسری جانب کرلیا”
“ہما مسلہ کیا ہے، آخر تمہارے ساتھ؟؟ میں کتنے دنوں سے تمہیں نوٹ کررہا ہوں، تم مجھ بہت اگنور کررہی ہو۔۔
“ثمر گاڑی سے باہر نکلا کر ہما کو اپنے سامنے کرتے ہوا بولا”
“ہاتھ چھوڑے میرا ثمر۔۔۔ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ہے، ہما نے برخی سے ثمر کا ہاتھ جھٹک کر کہا”
“چلو گاڑی میں یہاں میرا تماشہ مت بنواٶں، ثمر نے اردگرد لوگوں کو دیکھتے ہوۓ کہا، اور ہما کو بازو سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھا دیا”
“کیا ہے مینے آپ کے ساتھ نہیں جانا ہے، ہما منھ پھلا کر بیٹھ گئ”
” کیا ہوا میری جان برہم ہونے کی کوئی وجہ بھی تو بتا دو؟؟ ثمر نے پرشان ہوکر کہا”
” آپ کی زندگی میں کتنی لڑکیاں ہیں، اور مجھ سے پہلے کتنی تھی، اپنی ساری گرلفرنڈ بتایں؟؟ ہما نے غصے سے بھری آواز میں کہا”
” ثمر نے اپنا ہاتھ ہما کے سر پر رکھ کر کہا، مجھ قسم یے تمہاری، میری زندگی اور دل میں آنے والی تم پہلی اور آخری لڑکی ہو۔۔ ہما کو اتنا تو یقین تھا کہ ثمر اس کی جوٹھی قسم نہیں کھا سکتا ہے”
“پھر وہ سب کیا تھا؟؟؟.۔۔ ہما نے اس دن والی ساری بات ثمر کو بتا کر اس سے سوال کیا۔۔
“ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا”
“آپ پاگل ہوگۓ ہیں؟,ثمر اس طرح کیوں ہنسے جارہے ہیں، ہما ثمر کو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتا دیکھ کر بولی۔”
” یار تم پاگل ہو کیا پوری بات سن لیتی تو اتنی بڑی غلطی فہمی نا پالنی پڑتی اتنے دن، ثمر اب بھی ہنس رہا تھا”
” اب بتا گۓ یا میں اتر جاو گاڑی سے، ہما نے باظاہر غصے سے کہا”
” یار وہ سب ایک چوہیا کے لیے کہا تھا مینے اور ثمر نے ساری بات ہما کو بتائی تو ہما بھی ہنسے لگی”
“ہما!!!….
” جی ہما نے ہنسی روکتے ہوا کہا”
” تمہیں پتہ ہے، تم ہنستے ہوے بہت پیاری لگتی ہو، ثمر نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا”
” ریئلی ثمر”
“بلکل ہما میں تو تمہاری ہنسی میں کھو سا جاتا ہوں، اچھا اچھا باتیں بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے، چلیں اب دیر ہو رہی ہے”
_____________________________________***
” آئی کم ان سر، ایس پی خاور نے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی”
” یس یس کم ان خاور۔۔۔
” سر یہ رہی سی سی ٹی وی فوٹج، اور یہ رہی ساری معلومات کیس کے متعلق۔۔ ایس پی خاور نے تمام معلومات دائم چودھری کے ٹیبل پر رکھتے ہوا کہا”
” دائم نے پلیئر میں سی ڈی ڈالی جس میں سی سی ٹی وی فوٹج تھی”
#پاسٹ!!
“ایک گاڑی ہوسپیٹل ایریا میں آکر رکی اور اس میں سے ایک مرد اور ایک عورت اترے۔۔
جو کے دائم نے کیس کے فرنٹ میں دیکھا تھا، جس نے چھ قتل کیے تھے اور ساتھ اس کی بیوی تھی دائم نے کیس میں ہی ریڈ کیا تھا۔۔۔”
” وہ دونوں اتر کر ہوسپیٹل کے اندر چلے گۓ۔۔
ان کے جانے کے پانچ منٹ بعد ایک آدمی گاڑی کے پاس آیا جس کے ہاتھ میں کچھ تھا۔۔ وہ آیا اور گاڑی کے پاس بیٹھ کر گاڑی کے نیچے کچھ فٹ کرنے لگا، وہ آدمی اپنی مطلوبہ چیز گاڑی میں فٹ کرکے اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا”
” آدھے گھنٹے بعد، وہ دونوں واپس آئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر دوبارہ روانہ ہوگۓ، لیکن وہی آدمی جس نے گاڑی میں کچھ سیٹ کیا تھا، وہ گاڑی ان کو فالو کررہی تھی”
“تقریبا پندرہ منٹ کی ڈرائيو کے بعد اس آدمی نے اپنے پاکٹ سے ایک چھوٹا سا ریموٹ نکالا اور اس کا بٹن پریس کیا، ادھر زین کی گاڑی بلاسٹ ہوکر ڈیزل ٹنکر سے جا ٹکرائی، جس سے ایسا لگا جیسے گاڑی ٹنکر سے ٹکڑانے کی وجہ سے بلاسٹ ہوئی ہے”
” یہ کون آدمی ہے؟؟ ایس پی، دائم نے ایس پی سے اسکرین کی طرف اشارہ کرکے پوچھا”
” سر یہ آدمی ملک تبرز کا آدمی ہے، ملک تبرز اس شہر کا چھٹا ہوا بدماش ہے، جس کے کہیں غیرقانونی کام ہیں، کوئی بھی اس کے خلاف نہیں جاتا کیوں کے اول تو اس کے خلاف کسی کو کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اگر غلطی سے کوئی ایماندار اس کے خلاف ثبوت اگھٹے کرلے تو اسے رات او رات اسے دنیا سے اٹھا لیا جاتا ہے۔۔ ایس پی خاور نے تفصیلی جواب دیا”
” سب سے پہلے خاور اس آدمی کو ابھی کے ابھی اریسٹ کرو، یہ لو اریسٹ وارنٹ، دائم نے ایس پی کو وارنٹ دیتے ہوے حکم دیا، خاور یس سر کہتا باہر نکل گیا”
” ایس پی خاور نے انسپکٹر امجد کو ریڈ ڈالنے کا کہا کہ تیار کرو سب کو، اور تھوڑی دیر بعد ملک تبرز کے بنگلہ کی طرف پولیس کی گاڑیاں جارہی تھیں۔۔۔
_____________________________________***
“تمام مہمان آچکے تھے، لوگوں کی آنکھیں اب دولہا دولہن کو تلاش رہی تھی، اتنے میں بچے بھاگتے ہوا اپنی اپنی ماوں کے پاس پہنچھے، کہ دولہا دولہن آرہے ہیں”
“عروا اور مارخ انابیہ کا لہنگا تھامے انابیہ کو چلنے میں مدد دے رہی تھیں کیوں کہ انابیہ کا لہنگا بہت ہیوی تھا، اس لیے اسے اکیلے چلنا مشکل ہورہا تھا، اسی لیے مارخ اور عروا اسکی چلنے میں ہلپ کررہی تھیں”
“مارخ مینے ہاتھ پکڑنا ہے، احد نے کہا تو مارخ نے انابیہ کا لہنگا ایک طرف سے چھوڑ دیا، تب احد نے انابیہ کا ہاتھ ایک ہاتھ میں لیا، اور انابیہ آرام آرام سے چلنے لگی”
” آج انابیہ نے اپنی پسند کا ڈریس پہنا تھا۔۔۔ سی گرین لہنگا جس کی پرپل کلر کی شرٹ کے ساتھ دونوں شیڈز میں لہنگے کا دوپٹا تھا، سارے ڈریس پر گولڈن کلر کا نفیس کام بنا ہوا تھا”
“گولڈ کی جولیری پہنے، مہارت سے کیا میک آپ آج وہ بلکل ایک پری لگ رہی تھی۔۔۔
سی گرین کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک سوٹ میں ساتھ چلتی انابیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے وہ بھی آج لڑکیوں کے دل میں اتر رہا تھا لیکن ساتھ چلتی اس کی بیوی نے نگاہ غلط بھی اس پر نہیں ڈالی تھی۔۔۔
” وہ دونوں جیسے ہی ہال میں انٹر ہوے تو لائٹس آف ہوچکی تھی، دونوں لیزر لائٹ میں چلتے ہوے اسٹیج پر پہنچے تھے”
“ولیمے میں دولہن تو نظروں کا مرکز ہوتی ہی ہے لیکن اس ولیمے میں دولہا دولہن سے بھی زیادہ سب کی نظروں میں تھا، ایسا نہیں کے انابیہ کم لگ رہی تھی، پر احد آج بہت زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا، جس کا انداز احد کو باخوبی تھا”
“تھوڑی دیر بعد ہی مارخ اور خاشر نے آکر احد اور انابیہ کو مبارک بات دی اور مووی بنوائی”
“عروا احد کے ساتھ مووی بنوا رہی تھی تبی شارق بھی اپنی آپی کے ساتھ بیٹھ گیا، اس طرح ان دونوں کا بھی کپل بن گیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا، شارق اسٹیج سے نیچے جاتے وقت عروا کو اشارہ سے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر گیا، جیسے احد نے بھی دیکھا ، احد کو بہت برا لگ رہا تھا، شارق کا عروا میں انٹرسٹ لینا، بے شک وہ اس کی بیوی تھی، لیکن وہ سید نہیں تھا اور ہم سید ہو کر اپنی بیٹی کیسے خانوں میں دے سکتے ہیں، مجھے جلدی ہی شارق سے بات کر کے عروا کے لیے ڈائیورس لینے ہوگے، احد سوچتا ہوا اپنے آپ کو مطمئن کرنے لگا”.
” آج انابیہ نے شارق کے کہنے پر بلیک ڈریس پہنا تھا، کیوں کہ شارق کو بلیک کلر بہت پسند تھا، اور شارق خود بھی بلیک سوٹ میں تھا، وہ دونوں ہی نظر لگ جانے کی حد تک پیارے لگ رہے تھے”-
” جی کیا بات ہے جناب، عروا ہال کے باہر شارق قریب پہنچ کر بولی”
” بس اپنی جان کی تعریف کرنے تھی اسی لیے بلایا، شارق عروا کی گال پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوے بولا، شارق کیا کررہے ہیں، کوئی دیکھا گا تو کیا کہے گا، عروا نے پرشان نظروں سے اردگرد دیکھ کر کہا”
” ارے یار کوئی بھی نہیں ادھر، ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو، آج تو جان لو گی شارق نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا، جناب اتنا ڈر تھا اپنی جان کا تو مت کہتے یہ ڈریس پہنے کو عروا نے آنکھیں گھوما کر کہا”
” نہیں یار اسی لیا اس کا کلر کا کہا کیوں کہ تم پر بہت ججتا ہے یہ بلیک کلر اور مجھے بھی پسند ہے”
” اچھا اب میں چلتی ہوں، عروا جانے لگی تو عروا کو زور کا چکر آیا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی شارق نے اسے تھام لیا، کیا بات ہے، عروا کیا ہوا تمہیں، تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟ شارق نے کہیں سوال عروا سے ایک ساتھ کر لیے”
” مین ٹھیک ہوں، شارق بس صبح سے چکر آرہے ہیں، شاید تھکن کی وجہ سے آرہے ہیں”
” اچھا اپنا خیال رکھا کرو میری جان، شارق نے پیار سے اس کا گال کھنچا، اور عروا اندر چکی گئ”
” تھوڑی دیر بعد کھانا کھل گیا، سب نے کھایا اور پھر مووی بنائی گئ اور پھر آہستہ آہستہ سب گھروں کو روانہ ہوگے”
“انابیہ اپنی ڈریسنگ کے سامنے مرر میں اپنا آپ کو براڈل روپ میں دیکھ رہی تھی، انابیہ اپنا موبائل اٹھا کر اپنی سلفیاں لینے لگی،۔تب ہی احد روم میں داخل ہوا اور اپنی دولہن کو اپنی سلفیاں لیتے پاکر اس کو تنگ کرنے کا ارادہ کیا”
“اہم اہم۔۔۔ انابیہ نے مڑ کر دیکھا، تو احد آنکھوں میں شرارت لیے انابیہ کو دیکھ رہا تھا، تم تو زرا پیاری نہیں لگ رہی تھی، ایسے ہی اپنی سلفیاں لے لے کر خوش نہ ہو کے تم بہت خوبصورت لگ رہی تھی، احد نے چرانے والے انداز میں کہا، پھر احد شاید بھول گیا تھا کے سامنے کوئی نہیں انابیہ ہے۔۔ نہیں بلکہ #انابیہ_احد_شاہ
“تمہیں پتہ ہے، تم کیسے لگ رہے تھے؟؟
“ہاں بلکل ہمیشہ کی طرح ہینڈسم ڈیشنگ، احد نے اپنے بالوں میں ہاتھ بھرتے ہوے کہا”
“ہاہاہاہاہاہاہا ڈیشنگ نہیں کریشنگ (crashing) اور ہینڈسم نہیں(Badsome) لگ رہے تھے، ہاہاہا انابیہ نے ہنستے ہوے احد کا مزاق بنایا، اور احد کو سچ مچ تپ چڑ چکی تھی”
“احد نے انابیہ کو پکڑ کر اپنے سامنے کیے انابیہ کے نخروں سے احد کو پاوں کارپٹ کے ساتھ اٹکا اور احد اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکھا جس وجہ سے انابیہ نیچے اور احد اس کے اوپر بیڈ پر جاگرا، چھوڑو مجھ چھوڑو انابیہ مشکل سے احد کو ہٹا کر اٹھنے لگی تھی کے اس کے کام دار گلے کے نگ، احد کی شرٹ میں اٹک گے”
“دیکھ لو ڈیئر وائف جی اس روم کی ہر چیز چاہتی ہے کہ تم بس احد کے قریب سے قریب تر رہو، اور اس سے دور نہ جاو، احد نے معنی خیز سے کہا، جس پر انابیہ کے گالوں کے ساتھ ناک بھی سرخ ہوگئ، وہ جلدی سے ڈریسنگ روم میں بھاگ گئ”
_____________________________________***
“خاشر اور مارخ، جب ولیمے سے واپس آئے اور چینج کرنے جانے لگی تھی کہ خاشر نے اس پکڑ لیا، اور مارخ کے چلتے قدموں کو بریک لگ گئ”
“خاشر پلیز جانے دیں، میں بہت تھک چکی ہوں، چپ، خاشر اسے بیڈ کی جانب لے جارہا تھا، خاشر میری طبیعت بھی خراب ہے، نو ماہی ہر زور طبیعت کا بہانہ نہیں چلے گا، خاشر سمجھا کریں نا صبح بھی تقریب ہے دائم بھائی کے نکاح کی پلیز۔۔ مارخ نے آخری کوشش کی، یار تم نے کونسی دیگے پکانی ہیں، اب مجھ آواز نہیں آئے، اور ماہی کو خاموش ہونا پڑھا”

“آج دائم چودھری کے نکاح کی تقریب تھی دانیہ ملک کے ساتھ”
“دائم پہلی نظر میں دانیہ پر فدا ہوچکا تھا، اسی لیے اس نے ڈریکت خاشر کی ممی اور خاشر سے بات کی، خاشر اور اس کی ممی دانیہ کے والد کے پاس گے، دائم کا رشتہ لے کر، جسے، دانیہ کے والد نے اور اس کی بہن ہانیہ سمیر نے دائم کو اور اس کی اچھی جاب اور روپے پیسے کو دیکھ کر قبول کر لیا تھا اور دانیہ کو بھی کوئی عتراص نہیں تھا، کیوں کہ وہ دائم کو دیکھ چکی تھی، اور اسے بھی پسند تھا دائم”
“آج دائم کی پسند پر سادگی سے نکاح رکھا گیا تھا”
” تھوڑی دیر بعد نکاح ہوچکا تھا، اور وہ دانیہ ملک سے دانیہ دائم چودھری بن چکی تھی”
“کھانا وانہ کھا کر دانیہ کو دائم کے سنگ رخصت کردیا گیا تھا”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: