Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 23

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 23

–**–**–

“پولیس تبرز ملک کے بنگلے کی جانب جارہے تھی، کہ ایس پی خاور کے پاکٹ میں پڑا موبائل رنگ کرنے لگا”
“یس سر خاور نے کال رسیو کر کے کہا”
” خاور ایسا کرو تبرز کے بنگلے پر نہیں جاو بلکے ڈریکٹ ٹرنگ کلب جاو مجھے انفارمیشن ملی ہے کہ اس کے سارے آدمی اس وقت کلب میں کسی خاص مقصد کے لیے جمع ہوۓ ہیں، ایس ایچ او دائم نے کال پر ساری بات سمجھتے ہوۓ کہا، خاور نے اوکے کہتے ہوے کال رکھ دی ڈرائيو سے ٹرنگ کلب جانے کا کہا ”
“کلب کو چاروں طرف سے گیرلو، ایس پی خاور نے حکم دیا جس پر فورا عمل کیا گیا”
” کلب میں ریڈ کے روران اس آدمی کے علاوہ بھی بہت سے لوگ مجود تھے، جنے پولیس شک کے بناء پر خراست میں لے چکی تھیا۔۔

” سر اس آدمی کا کہنا ہے اس نے سب جمشید کے کہنے پر کیا تھا، ان دونوں میاں بیوی کی کار بلاسٹ اور بریک لگالنے کا کام، ایس پی خاور نے ایس ایچ او دائم کو ساری بات سے آگاہ کیا”.
” اور یہ جمشید کون ہے؟ دائم نے خاور سے پوچھا کیوں کہ وہ خود ابھی اس شہر میں نیا تھا اس لیے وہ شہر میں بسنے والے مجرموں کو نہیں جانتا تھا”
” سر جمشید ملک، تبرز ملک کا چھوٹا بھائی ہے، اور ان کے بارے میں سنے کو آتا ہے، کہ کچھ سال پہلے تبرز نے اپنے بھائی جمشید سے ناراضگی کے باعث تعلق ختم کردیا تھا، جس وجہ سے جمشید کو الگ سے دوسرے لوگ کے ساتھ کام کرنا پڑا تھا،۔۔
“خاور ایسا کرو جمشید کو فورا اریسٹ کرو اور تبرز کے خلاف ثبوت اگھٹے کرکے کے اسے بھی پولیس کسٹڈی میں لو، اب میں کسی کو بھی نہیں چھوڑو گا، کیوں کہ جہاں دائم چودھری جاتا ہے وہاں سے جرم کا خاتمہ ضرور ہوتا ہے۔۔۔ انشالللہ سر خاور دائم کو سلیوٹ کرکے باہر نکل گیا”
_____________________________________***
” آج انابیہ اور احد کی شادی کو مہینا گزر چکے تھا، لیکن انابیہ احد کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتی تھی، احد نے بھی سوچ لیا تھا کہ اب جب انابیہ چاہے گی تب ہی وہ اس کے نزدیک آئے گا چاہے اسے سالوں انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے”
۔۔۔
” آج احد اور انابیہ بتول خانم کی طرف گے ہوے تھے، اور اتفاق سے شارق بھی گھر پر ہی مجود تھا کیوں، وہ کل ہی ہمیشہ کے لیے مری شفٹ ہوچکا تھا کیوں کہ بہت جلد اسے اپنا ہوسپیٹل شروع کرنا تھا، عروا کے اب فائنل ائیر کے اگزامز ہورہے تھے اس کے بعد اسے بھی مری شفٹ ہوجانا تھا”
” شارق اپنے روم میں تھا کے روم کا ڈور ناق ہوا اور شارق کے اجازت دینے پر احد روم میں داخل ہوا”
” ارے! احد بھائی آپ آئیں آئیں بھیٹے شارق احد کو بغلگیر ہوکر، صوفہ کی طرح اشارہ کیا، جس پر احد آرام سے بیٹھ گیا”
” شارق مجھ تم سے ضروری بات کرنی ہے، احد نے بغیر لگی پٹی کے بات کا آغاز کیا”
” جی جی احد بھائی آپ کہیں میں سن رہا ہوں”
” شارق کو لگا وہ اس کے اور عروا کی رخصتی کے متعلق کوئی بات کرئے گا”
“شارق تم عروا کو ڈائیورس دے دو۔۔۔۔
“وٹ۔۔۔ شارق ایک دم سے صوفے پر کھڑا ہوگیا۔ شارق کو احد سے اس بات کی امید نہیں تھی، اسی لیے شارق کو احد کی بات سے شاک ہی تو لگا تھا ۔۔
اس میں اتنی حیرت کی کیا بات ہے، میں تم سے عروا کے لیے طلاق چاہتا ہوں بس، احد نے بڑے آرام سے اتنی بڑی بات کہی تھی، جیسے اس سے آسان تو کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی”
” آپ جانتے بھی ہیں احد بھائی آپ کہہ کیا رہے ہیں، عروا بیوی ہے میری، اور یہ تو تہ ہے اسے میں اپنی زندگی میں خود سے الگ تو نہیں کرو گا”
” شارق یہ بات یاد رکھو وہ میری بہن ہے، اور میں تمہارا بہنوئی، احد نے شارق کے سامنے کھڑے ہوتے ہوے کہا”
” غلط احد بھائی بلکل غلط، وہ آپ کی بہن تھی، لیکن میری بیوی ہے اس لیے آپ کی بہن میری زندگی میں تو عروا شارق خان ہی رہے گی اور میرے مر جانے کے بعد میری بیوہ، لیکن عروا کو شارق سے دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کرسکتی، آج تو آپ نے بات کرلی طلاق کی لیکن آنیدہ مت کیجے گا۔۔ میں برداشت نہیں کرو گا اب کی بار، عروا کے بھائی اور اپنے بہنوئی کی بات آج برداشت کرلی، اس کے بعد اگر کوئی میرے اور عروا کے ریلیشن کے بارے میں بات کرئے گا، تو وہ میرا دشمن ہوگا، شارق احد سے سحت لہجے میں بات کر کے رکا نہیں بلکہ روم سے باہر نکلا گیا”
_____________________________________***
“آج ہما اور عروا کا میڈیکل کمپیلٹ ہوچکا تھا، وہ دونوں ڈاکٹر بن چکی تھیں”
“اب عروا ہما اور ثمر نے مل کر شارق کے ہوسٹل کو وقت دینا تھا”
“وہ دونوں اپنی اپنی پیکنگ کر رہی تھیں، ہما نے ثمر کے ساتھ جانا تھا، جو کہ ادھر راولپنڈی میں ہی تھا، جب کہ عروا کو شارق لینے آیا تھا، تھوڑی دیر بعد دونوں اپنے اپنے بیگز سنبھلتی اپنے اپنے گھر کو روانہ ہوچکی تھی”

” گاڑی میں بیٹھے ابھی دس منٹ ہی ہوے تھے عروا کو کے اسے وامٹنگ ہونے لگی”
“شارق گاڑی روکے۔۔ عروا نے شارق سے کہا تو اس نے گاڑی روک دی”
“عروا کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری، شارق نے اسکی زرد پڑتی رنگت کو دیکھ کر پرشانی سے کہا”
“عروا نے جی پھر کے وامٹنگز کی، اور اب وہ نہال ہوچکی تھی، شارق نے اسے سہارا دیکر گاڑی میں بیٹھایا”
“شارق میری طبیعت کافی دن سے ایسے ہی خراب ہے، آپ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے، عروا نے ہلکی آواز میں شارق سے کہا، اور شارق اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا”
“لیڈی ڈاکٹر عروا کو لے کر روم میں چلی گی، اور تھوڑی دیر بعد واپس آئی، پیشنٹ آپ کی کیا لگتی ہیں؟ ڈاکٹر نے شارق سے سوال کیا”
“مسسز ہے میری، شارق نے عروا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا، کیا مسلہ ہے ڈاکٹر صاحبہ عروا کو اس کی طبیعت اتنی خراب کیوں ہے، شارق نے ڈاکٹر سے پوچھا”
“ارے نہیں پرشانی کی کوئی بات نہیں، شی از پریگنٹ، اور ایسی خالت میں وامنٹنگ آنا تو عام بات ہے، ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا، جب کہ عروا کا دل ہی بند ہونے لگا تھا، جب اسے یہ خبر ملی تو، جب کہ شارق تو مطمئن تھا”
“اوکے شکریہ ڈاکٹر صاحبہ، اور شارق ڈاکٹر کی فیس ادا کرکے عروا کو سنبهلتا ہوا گاڑی تک لایا”

“ثمر ایک بات تو بتایں نا، کافی دیر خاموشی کے بعد ہما نے ثمر سے کہا”
“ہممم وہ کیا، ثمر نے ڈرائیونگ کرتے ہوۓ مصروف سے انداز میں کہا”
“یہ دائم بھائی کو کیا نظر آیا دانیہ میں جو وہ انہوں نے اتنی جلدی شادی بھی کرلی؟؟
“یار اب ایسی بھی کوئی بات نہیں، شکل صورت میں کون سا کم ہے دانیہ بس تھوڑی عادتیں بری ہیں، اور مجھ لگتا ہے، دائم جیسا سنجیدہ بندہ اسے بلکل ٹھیک کردے گا، ثمر نے منھ بنا کر آخری بات کی”
“ہمم یہ تو ہے، دائم بھائی اسے ٹھیک کردے گۓ۔۔ لیکن میں تو کبھی اسے معاف نہیں کرو گی، اس نے جیسا کیا میرے ساتھ، ہما نے نفی میں گردن ہلاتے ہوۓ کہا”
“ہممم”
“چلیں جناب آپ کا اسٹاپ آگیا، اور باتوں باتوں میں پتہ بھی نہیں چلا، ثمر نے ہما کو بتایا، چلیں ٹھیک ہے میں چلتی ہوں، وہ خاشر بھائی بھی آچکے ہیں مجھے رسیو کرنے، ہما نے ونڈو سے باہر کھڑے خاشر کی طرح اشارہ کرتے ہوۓ کہا، اور ثمر کو بائے بولتی چلی گئ”

“شارق اب کیا ہوگا، عروا نے رو دینے والی آواز میں شارق کے سینے لگتے ہوۓ پوچھا”
“کچھ بھی نہیں میری جان ہماری جائز اولاد ہے، تم پرشان نہیں ہو میں احد بھائی سے رخصتی کی بات کرتا ہوں، شارق نے مشکل سے عروا کو چپ کروایا”
“عروا گھر آچکا ہے، شارق نے خیالوں میں کھوئی عروا کو بتایا، شارق پلیز جلدی کچھ کریں، عروا نے شارق سے کہا، اور تب ہی احد گھر سے باہر نکلتا نظر آیا، تو عروا جلدی سے گھر میں چلی گئ”
“احد جانے لگا، تو شارق نے اس کہا، احد بھائی بات سنے۔۔
“کیا بات ہے، احد نے اخسان کرنے والا انداز میں کہا”
“احد بھائی بات یہ ہے، کہ پلیز جلدی سے ہماری رخصتی کروا دیں۔۔
“ایسا کھبی نہیں ہو گا، شارق بہتر یہ ہی ہے تم خاموشی سے عروا کو طلاق دے دو، احد نے شارق سے کہا اور جانے لگا”
“احد بھائی میری بھی بات سنتے جائے، عروا میری بیوی ہے، اور اسے میں اپنی زوجہت میں لے چکا ہوں، مہربانی کریں اور اب ہماری عزت سے شادی کروا دیں، شارق کے لفظ احد کو گولی کی طرح لگے، وہ کچھ اور کہتا شارق کو لیکن شارق نے ایک اور بمب احد کے دماغ پر پھوڑا، اور احد بھائی جو کرنا ہے جلدی کرلیں ورنہ بدنامی ہوجائے گئ، کیوں کہ آپ میرے بچے کے ماموں بنے والے ہیں، لوگ تو بہت باتیں کریں گۓ، اس لیے کچھ دنوں میں ہماری شادی کردیں، یہ مجھ بھی پتہ ہے اور آپ کو بھی چچا جان جازب شاہ آپ کی بات نہیں ٹالے گۓ، شارق احد کو مینٹلی ٹارچر کرنے کے بعد وہاں سے جاچکا تھا جب کہ احد ابھی بھی ادھر ہی کھڑا تھا”
_____________________________________***
“احد رائیگنگ چیئر پر لیٹا، شارق کی باتیں سوچ رہا تھا، اسے بہت برا لگ رہا تھا شارق کا عروا کے ساتھ ریلیشنشپ میں ہونا ، پر اس کا زمیر. بار بار اسے یاد کروا رہا تھا، کہ تم نے بھی تو رخصتی سے پہلے انابیہ کو اپنی زوجہت میں لیا تھا، تو شارق نے کیا غلط کیا، اور انابیہ بھی تو شارق کی بہن تھی، جیسے عروا تیری ہے تو آج درد کیوں، احد کا زمیر اسے بتا رہا تھا، اور احد شاہ یہ سب تمہارے مقافات عمل ہے، تیرا کیا تیرے سامنے آیا ہے”
اور اب بھی اگر تو ان دونوں میاں بیوی کے درمیان آیا تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگئ بلکہ گناہ۔۔۔
” احد نے سوچ لیا تھا اس کا زمیر جاگ چکا تھا، احد ایک نیے عزم سے اٹھا کے وہ اپنی بہن کی خوشیاں اسے ضرور دے گا، شارق اور عروا کی شادی اب وہ جلدی اور ضرور کروائے گا۔۔۔
_____________________________________***
“پیپ پیپ۔۔۔
“ہما تمہارا فون بج رہا ہے، ڈراینگروم سے گزرتی مارخ نے ہما کو بتایا جو کافی دیر سے ٹی وی دیکھنے میں مشعول تھی، اوکے بھابی میں دیکھ لیتی ہوں، ہما کہتی ہوئی اپنے روم کی جانب بڑھ گئ”
“ہیلو ہما میں دانیہ دائم بات کررہی ہوں، پلیز کال مت کاٹنا، ہما کال کو ڈیکینٹ کرنی ہی والی تھی کہ اسے دانیہ کی آواز سنائی دی”
“مینے آپ سے بلکل بات نہیں کرنی ہے، جو پہلے آپ نے کیا وہ کیا کم ہے جو ابھی بھی آپ مجھ سے بات کرنے چاہتی ہیں، ہما نے مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول رکھتے یوے بات کی”
“دیکھو ہما میں بہت شرمندہ ہوں، میں سوری بولتی ہوں تمہے پلیز مجھ معاف کردو، دیکھو اب تو میں تمہاری بھابی بھی بن چکی ہوں، دانیہ کی شرمندگی سے بھری آواز اسے سنائی دی”
“ہما کو لگا اسے احساس ہوگیا یہ ہی کافی ہے، اور یہ ہی غلطی اس سے ہوئی، وہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی فورا کسی بھی بات کا یقین کر لیتی چاہے آگلا بندہ ڈرامہ ہی کیوں نہ کررہا ہو”
“آپ کو احساس ہوگیا یہ بہت یے، مینے آپ کو معاف کیا دانیہ، ہما نے ظرف سے کہا”
“اور ادھر دانیہ اپنی ایکٹنگ پر خود کو شاباش دے رہی تھی”
“اچھا ہما تم فری ہو تو میری طرف آجاو، تمہیں ایک گڈ نیوز بھی دینی ہے اور میں اکیلی بھی ہوں گھر، دائم صبح کے گۓ، شام کو واپس آتے ہیں، اوکے دانیہ میں آجاتی ہوں، دانیہ کی حد درجہ اپنایت سے ہما انکا نہیں کرسکی، لیکن ہما کو کیا پتہ تھا وہ کس جال میں پھنس رہی ہے”
“اوکے میں تمہارا ویٹ کررہی ہوں، اور دانیہ نے ہما کی کال بند کر کہ ایک اور نمبر ملایا”
“ہاں تارہ بائی!!! ہاں ہاں تم فکر نہ کرو میں تین دن بعد تمہے لڑکی پہنچا دو گئ، ہاں پر یاد رکھنا کہ اس لڑکی کو دوبارہ میں اس ملک میں بھی نہ دیکھو۔۔ دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جس سے دانیہ کے چہرے پر جاندار مسجراہٹ آئی”
_____________________________________***
“سر جی یہ رہے سارے ثبوت تبرز ملک کے خلاف، ڈرگز سپلائی، شراب اور جوے کے اڈے، کڈنیپنگ اور مرڈر جیسے گھنونے کام کا سردار تبرز ملک ہے، باظاہر وہ شرہف اور نیک انسان ہے، لیکن اب ہمارے پاس اس کے خلاف سارے ثبوت ہیں، اور میں ابھی اور اسی وقت اسے اریسٹ کرنے کی اجازت آپ سے چاہتا ہوں، ایس پی خاور نے تمام انفارمیشن دے کر آخر میں تبرز ملک کا اریسٹ وارنٹ مانگا”
“ویل ڈن خاور تم نے بہت کم دنوں میں اچھا کام کیا ہے، ایک بار تبرز ملک اور اس سے جڑے ہر شخص کو سزا ہوجاۓ تو میں تمہاری پرموشن کی بات کرو گا، ایس ایچ او دائم نے خاور کو سراہتے ہوا کہا، تھینکس سر اور وہ سلیوٹ کرکے باہر چلا گیا”

” تبرز ملک کے تمام اڈوں پر پولیس ریڈ ڈالی گئ، جس سے کافی مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا، اب پولیس تبرز ملک کے بنگلے پر ریڈ ڈال رہی تھی جس میں تبرز ملک کو اریسٹ کیا گیا”
“چار دن بعد”
“مبارک ہو سر جی، خاور دائم کے آفس میں داخل ہوتے ہی بولا، کس بات کی خاور؟؟ سر جی تمام مجرموں نے اقرار جرم کرلیا ہے، اب تبرز اور اس کے ساتھی بچ نہیں سکتے ہیں”
“ہمم گڈ خاور اب میری سیٹ پر آنے کی تیاری پکڑو، دائم نے مسکراتے ہوۓ خاور سے کہا, جس پر اس نے بھی سمائل پاس کی”
“سر جمشید کے بیان کے مطابق، ثمن کیس میں اس گاٶں کا سربراہ شامل ہے، اور زین زارا کیس میں قتل کروانے والا بھی یہ شخص ہے، دائم نے فائل پر لگی فوٹو دیکھتے ہوا نام زیر لب نام پڑھا۔۔ سید مجید علی شاہ۔۔
“میرے خیال میں یہ اسی مقتول کا کوئی رشتدار ہے، جس کو عصت فروشی کے جرم میں لڑکی کے بھائی نے اسے اور اس کے ساتھوں کو قتل کردیا تھا، دائم نے مجید شاہ اور جابر شاہ کی فوٹو کو دیکھتے ہوا خاور سے دریافت کیا”
“یس سر یو آر راٸٹ” یہ اسکی کا والد ہے، جس نے بیٹا کا بدلہ لینے کی خاطر ایک عورت زات اور بےگناہ کا بھی قتل کروایا، اور تو اور جمشید کے بیان کے مطابق ابھی مجید شاہ نے اور بھی تین قتل کروانے تھے، اسی گھر کے، پر کسی وجہ سے نہیں کروا سکا، خاور چلو اس آدمی کو اریسٹ کرنا ہے اور میں بھی تمہارے ساتھ چلو گا، پولیس کی گاڑیاں اب مجید شاہ کے گاوں کی جانب بڑھ رہی تھیں”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: