Chunni Novel By Tawasul Shah – Episode 24

0
چنی از تاوسل شاہ – قسط نمبر 24

–**–**–

احد نے جازب شاہ سے عروا اور شارق کے نکاح کی بات کی تھی، لیکن جازب شاہ نے بیٹے کو حيرت سے دیکھا، بیٹا جی شاید آپ بھول رہے ہیں، ہم سید فیملی سے بیلونگ کرتے ہیں، اور ہم کیسے خان فیملی میں عروا دے دیں؟
“بابا سائیں پلیز مجھ سے وجہ نہ پوچھے بس عروا کی شادی شارق سے کردیں وہ بھی چار پانچ دن میں احد نے بات کو ختم کرنے والے انداز میں کہا”
“لیکن احد ایسے کیسے میں کرسکتا ہوں، نا تمہاری مما سے بات کی ہے نہ عروا سے اس کی زندگی کا فیصلہ ہم کیسے کر سکتے ہیں، اس کی بھی رضامندی ہونا ضروری ہے نا، جازب شاہ نے الجھ کر بیٹے سے کہا، انہے کچھ گربڑ لگ رہی تھی”
” بابا سائیں آپ مما سے بات کرلں اور عروا کی فکر نہ کریں وہ خوش ہے اس رشتے سے اور ان دونوں کا نکاح مینے پہلے ہی کرو دیا تھا، اب پلیز بابا سائیں مجھ سے یہ مت پوچھے کے نکاح کیوں کروایا ہے، احد نے باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا تو جازب شاہ نے بھی ہاں میں گردن ہلایی، انہے ایسا لگا جیسے ان کا بیٹا کچھ چھپا رہا، لیکن ایک تو انہے شارق عروا کے لیے اچھا لگا دوسرا عروا بھی راضی تھی تو اس لیے انہوں نے بیٹے کو کھریدنے کی کوشش نہیں کی، جلدی جلدی میں شادی کے انتظامات ہوۓ احد کے کہنے پر جازب شاہ نے مجید شاہ کو نہیں بتایا کہ وہ کبھی یہ رشتہ نہیں ہونے دیں گے، اسی لیے جازب شاہ نے بھی خاموشی میں ہی آفیت جانی”

“,آج شارق اور عروا کی رخصتی تھی، عروا وائٹ اینڈ بلیو شرارے مین ملبوس شارق کے بیڈ روم میں بھیٹی تھی، مہرون گلاب اور وائٹ موتیے کے پھولوں کی بنی سیج سے بہت مزے کی خوشبو اٹھ رہی تھی، عروا بیڈ کے بیک سے ٹیک لگائے اس خوشبو کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کررہی تھی، عروا کو اس کنڈیشن میں پھولوں سے اور بھی زیادہ پیار ہوگیا تھا، اور اس خوشبو کو محسوس کرتے کرتے سو چکی تھی”
“بلیو سوٹ پہنے وہ ہینڈسم سا لڑکا اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا تو اپنی پیاری سی باربی ڈول لگتی دولہن کو سوتا پایا، شارق آیا اور چینج کر کے ایک دو بار عروا کو بلایا لیکن وہ بہت گہری نیند سو ہوئی تھی، شارق جانتا تھا عروا پیچھلے دو تین دن سے بہت پرشان تھی، اپنے پریگنٹ ہونے پر اسے لیے وہ مکمل نیند نہیں لے سکی تھی، اسے لیے شارق نے اسے اٹھنا مناسب نہیں سمجھا، اور عروا کو بیڈ پر سیدھا لیٹا کر اس پر بلیکنٹ ڈالی اور بیڈ کی دوسری جانب جاکر لیمپ آف کرکے سکون سے سو گیا، کیوں کے اب اس کی چیز اس کی بیوی اس کے پاس تھی اسے اب کسی قسم کا ڈر نہیں تھا۔۔۔
_____________________________________***
“سارا حال مہمانون سے بھر چکا تھا، سب لوگ بصبری سے دولھا دولھن کا انتظار کر رہے تھے”
“انتے میں دولھا دولھن حال میں انٹر ہوۓ اور تمام گرلز جو کہ دولہا دولہن کے استقبال کے کھڑی تھیں، ان دونوں پر گلاب کی پتیاں برسانے لگی، پھولوں کی بارش میں دونوں سٹیج تک آئے”
“ڈیپ ریڈ اینڈ بلیک کلر کی ساڑی زیب تن کیے ڈارک براڈل میک آپ عروا شارق پر ستم ڈھا رہی تھی، عروا نے آج ولیمے کے لیے شارق کے کہنے پر ساڈی پہنی تھی۔۔ شرٹ ریڈ بلیک سوٹ میں شارق بھی پیارا لگ رہا تھا”
“سٹیج تک پہنچ کر شارق نے عروا کے سامنے سٹائل سے نیچے بیٹھ کر گلابوں کا بکے عروا کی جانب بڑھیا جسے عروا نے برپور مسکرہٹ سے پکڑ لیا”
“اب دونوں سٹیج پر لگے صوفہ پر بیٹھ چکے تھے”
“اب سامنے اسٹیج کے خاشر اور ثمر بھنگڑا ڈال رہے تھے، خاشر نے سامنے کھڑے احد کو بھی کھنچ کر اپنے ساتھ شامل کیا، اور ثمر شارق کو بھی اسٹیج سے اٹھا لایا، اور سارے بھنگڑا ڈالنے لگے”
“ادھر عورتیں بھی لڈی ڈالا رہی تھیں کے ساری لڑکیاں عروا کو بھی کھنچ لائی، اب عروا سنٹر میں کھڑی تھی اور انابیہ ، ہما، دانیہ اور باقی سب لڑکیاں لڈی ڈال رہی تھی، جبکہ مارخ صوفہ پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی کیوں کہ وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی کہ لڈی ڈالتی، اس کا ساتواں منتھ چل رہا تھا”
“اتنے میں سٹیپ چینج ہوۓ اور سب اپنے اپنے کپلز کے ساتھ ہولیے”
“اب کی بار شارق نے ایک ہاتھ عروا کی کمر پر ہاتھ رکھا اور عروا نے شارق کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا،اور دوسرا ہاتھ شارق نے عروا کا اپنے ہاتھ میں لیا اور ساتھ ہی گانا چل پڑا””” ہوا ہے آج پہلی بار جو ایسے مسکرایا ہوں، تجہے دیکھا تو جانا یہ کہ کیوں دنیا میں آیا ہوں”””
“”” یہ جان لے کر کے جان میری تجہے جینے میں آیا ہوں، تجہ سے عشق کرنا کی اجازت رب سے لایا ہوں””
“””زمین سے آسمان تک ہم ڈھنڈ آئے جہاں سارا بنا پایا نہیں اب تک خدا تم سے کوئی پیارا”””
“”” میں لکھ دو آسمان پر یہ کہ پڑھ لے گا جہاں سارا، ہوا نہ ہو گا اب کوئی یہاں ہم دو سا دوبارہ”””
“””میں دنیا بھر کی تعریف تیرے سجدے میں لایا ہوں، میں تم سے عشق کرنا کی اجازت رب سے لایا ہوں”””
“گانا ختم ہوا اور عروا اور شارق دوبارہ اسٹیج پر بیٹھ گے، اب باری باری تمام کپلز نے ڈانس کیا جب احد اور انابیہ کی باری آئی تو گانا چلا”
“””مجھ سے محبت کا اظہار کرتی۔۔۔ کاش کوئی لڑکی مجھ پیار کرتی۔۔ کاش کو لڑکی مجھ پیار کرتی”””
“گانے کے بول احد کے دل کا درد بیان کر رہے تھے، لیکن وہاں پروا کسے تھی، تھوڑی دیر بعد کھانا کھا کر سب رخصت ہوگۓ”

“,سب گھر واپس آچکے تھے، انابیہ عروا کو شارق کے روم میں چھوڑ کر خود بتول خانم کو دوایں دے کر خود اپنے روم میں آگئ”
“احد اور انابیہ آج خان ہاوس ہی رکے تھے”
“انابیہ جب روم میں آئی تو احد آگے شرٹ اتارے ڈریسنگ کے سامنے کھڑا تھا، انابیہ نے تنز بھرے لہجے میں کہا شرٹ کیوں اتری ہے پہنو اسے، احد انابیہ کی بات پر معنی خیزی سے مسکرایا۔۔ کیوں پہنو اپنی بیوی کے سامنے ہوں کسی غیر لڑکی کے سامنے نہیں اور جو شرٹ بازوں پر باقی تھی وہ بھی اتار کر احد صوفہ پر اچھال چکا تھا”
” اوکے جاتی ہوں میں تم ہی رہو ہیاں، انابیہ جانے لگی تھی کہ احد اس کی نازک کائی پکڑ چکا تھا، اور انابیہ اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوے احد کے سینے سے جالگی تھی، اور احد نے اسے خود میں بیچ لیا تھا، انابیہ بھی کچھ پل ہل نہ سکی اس کا فایدہ اٹھتے ہوے احد انابیہ کی لپسٹک کا فلیور ٹیسٹ کررہا تھا، کہ انابیہ فورا اس کے خسارے سے نکل کر واشروم میں بھاگ گئ”
” انابیہ نے سوچ لیا تھا اب احد اس سے معافی مانگے پچھلی باتوں کی تو وہ اسے مایوس نہیں کرۓ گئ لیکن احد کو الہام تو ہوا نہیں تھا کہ وہ اس کی مرزی پر دوبارہ اس سے معافی مانگتا جو گناہ اس نے کیے ہی نہیں تھا”

“شارق جب روم میں آیا تو آج عروا اس کا ویٹ کررہی تھی”
“شارق آیا اور بیڈ پر بیٹھ کر عروا کے ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگائے، جان شارق آج بہت کیوٹ لگ رہی ہو، اور کل میری گولڈن نائٹ تھی اور تم سوگئ آرام سے شارق نے باظاہر ناراضگی سے کہا”
“سوری شارق مجھ پتہ نہیں چلا کچھ نیند میں چلی گئ، آپ اٹھا دیتے نا مجھ، عروا نے شرمندگئ سے کہا”
“اچھا خیر چھوڑو ان سب کو کل میں تمہیں منھ دیکھائی بھی نہیں دے سکا تھا، شارق نے سیف سے ایک جولیری بوکس نکلا اور اس میں سے پیار سا ڈائمنڈ کا نیکلس نکالا اور عروا کو پہنا دیا یہ رہا تمہارے گفٹ، یہ تو بہت پیارا ہے شارق عروا نے پسندیدگی سے کہا”
“اسپیشل میری جان کے لیے پیرس سے منگوایا ہے، شارق نے بتایا اور تب ہی بادل گرجے اور تیز بارش ہونے لگی، اور عروا تو شروع سے بارش کی دیوانی تھی”
“شارق بارش لگی ہے میں دیکھ لو پلیز عروا نے اجازت طلب نظروں سے دیکھا”
“یار لڑکیاں تو ڈرتی ہیں بارش سے اور تمہیں پسند ہے، جی اب میں جاو کیا، عروا کی سوئی ابھی بھی ادھر ہی اٹکی تھی، جاو یار دیکھ لو شارق نے اپنی معصوم سی بیوی کی معصوم سے فرمائش پر مسکراتے ہوے کہا”
“عروا ٹیرس کا ڈور کھول کر باہر نکل گئ کیوں کہ شارق کا روم اوپر تھا”
“ارے عروا باہر نہیں جاو بیمار ہوجاو گئ، تمہاری آگے طبیعت ٹھیک نہیں شارق آواز لگاتا اس کے پیچھے چلا گیا”
“عروا اپنے ساڑی کا پلو سنبھلتی بارش میں بھیگنے لگی اور شارق اپنے چھوٹی سی باربی ڈول کو دیکھنے لگا، عروا جب مکمل بھیگ گئ تو شارق کی طرف دیکھ کر بولی آپ بھی آجایے شارق بہت مزہ آرہا ہے، نہ بابا نہ میں ادھر ہی ٹھیک ہوں شارق نے انکار کیا لیکن دوسرے ہی لمحے عروا شارق کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ لے گئ اور شارق کو جانا ہی پڑا کافی دیر بعد عروا اور شارق روم میں گۓ”
“عروا کا ارادہ اب واشروم میں جانے کا تھا لیکن شارق نے جب عروا کو لاٸٹ کی روشنی میں بھیگی ساڑی میں دیکھا تو عروا کی ساڑی کا پلو پکڑ لیا اور عروا کے واشروم کی طرف جاتے قدم رک گے”
“شارق عروا کو اس کے پلو کے زریعہ اپنی جانب کھنچ رہا تھا اور عروا چلتی اس کی طرف آرہی تھی”
“شارق نے عروا کو پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا لیا اور اس کی ساڑی کا پلو نیچے گیر چکا تھا۔۔۔
_____________________________________***
“پولیس مجید شاہ کے گاٶں پہنچ چکی تھی اور ان کو اریسٹ کرنا چاہتی تھی لیکن وہ ویل چیئر پر تھے اس لیے پولیس کے کہنے پر جازب شاہ اور احد شاہ کو اسی وقت گاٶں جانا پڑا”
“جازب شاہ اور احد شاہ کو جب پتہ چلا کے یہ شارق کی پھپھو والا کیس ہے تب جازب شاہ نے شارق کو کال کر کے گاٶں بلا لیا، دائم احد کو پہچان گیا تھا کہ یہ خاشر کا دوست ہے اسی لیے وہ شاہ حویلی کی بیٹھک میں بیٹھے تھے”
“شارق کو بتایا گیا تھا کہ اسے کس لیے بلایا گیا ہے اس لیے اس نے عروا سے کہا اپنے خاندان کی حقيقت جاننا چاہتی ہو تو چلو میرے ساتھ”
“شارق جب عروا کو گاٶں لے کر پہنچا وہاں، مجید شاہ بھی وہاں ہی تھے”
“عروا اور شارق کو آتا دیکھ کر بولے بیٹا تم دونوں ساتھ ساتھ حیریت ہے نا، مجید شاہ نے شارق سے پوچھا”
” جی اب ظاہری بات کے بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ہی تو آئے گئ نا، یہ کہتے ہی شارق نے مجید شاہ کو اپنا تعارف کچھ اس انداز میں کروایا”
“مجید شاہ صاحب!! میں ہوں، شمروز علی خان اور بتول خانم کا پوتا۔۔۔ زین علی خان کا بیٹا شارق علی خان۔۔۔جی ہاں میں وہی ہوں جس کے مما بابا کو آپ نے قتل کروایا تھا”
“اور ہاں یہ ہے عروا شارق خان میری بیوی۔۔۔ پہلے تو مجید شاہ شارق کو حیرت سے دیکھا رہے تھے لیکن ” عروا شارق خان” یہ لفظ ان کو گولی کی طرح لگے”
” جازب۔۔۔۔۔ مجید شاہ نے جازب شاہ کو بلا یا صرف ہاں یا نہ میں جواب دینا، کیا تم نے عروا کو خانوں کی بہو بنا دیا۔۔۔ بابا سائیں شارق ٹھیک کہہ رہا ہے، جازب شاہ کے بتانے کی دیر تھی مجید شاہ دل پر ہاتھ. کر زمین پر گیر پڑے”
” بابا سائیں۔۔۔۔ مجید شاہ اور احد فورا بھاگے اور مجید شاہ کو اٹھاکر بیڈ پر ڈال لیکن مجید شاہ کو شکست کھانا سے ایسا دل کا دورہ پڑا جس سے وہ دنیا سے رخصت ہوگۓ”
” عروا کو اپنے خاندان کا سچ معلوم ہوچکا تھا”

” باقی تمام مجرموں کو سزائے موت تک دائم نے پہنچایا، اور ثمن کیس اب مکمل ہوچکا تھا “

“آج مجید شاہ کو اس دنیا سے گۓ ایک منتھ گزر چکا تھا” اب ثروت شاہ مری جازب شاہ کے پاس شفٹ ہوچکی تھیں”

_____________________________________***
” شارق نے اپنا ہوسپیٹل شروع کرلیا تھا ثمر اور ہما کے ساتھ اور اب عروا بھی شارق کے ساتھ ہوسٹل سنبھل رہی تھی”
” ابھی شارق کے ہوسٹل میں ہی مارخ کو لایا گیا تھا اور ہما اور عروا نے ہی مارخ کی ریلیوری کروائی تھی، ہما خاشر کا بیبی اٹھاکر باہر آئی”
” خاشر بھائی میں اپنے پیارے سے بتجہے کی پھپھو بن گئ اور آپ پاپا ہما نے بیبی خاشر کو پکڑاتے ہوۓ کہا”
” ماہی کیسی ہے ہما؟ بلکل ٹھیک ہیں بھائی آپ ٹنشن نہ لیں”

” مارخ اور خاشر نے اپنے بیٹے کا نام موئز رکھا تھا”
” انابیہ اور احد جب موئز کی مبارک بات دینے آئے تو مارخ نے انابیہ سے کہا یار تمہارا انتظار کرتے کرتے میں خود ماما بن گئ ہوں تم بھی اب خالہ بنا دو مجھ یار میری تو بہن بھی نہیں ہے اب تم پر ہی امید ہے ، انابیہ نے جب احد کو اپنی طرف دیکھتا پایا تھا مارخ سے کہا چپ کر ماری خاشر بھائی سن رہے ہیں کچھ بھی بولے جارہی ہوں”
” ارے نہیں نہیں بھابی ابھی تو مجھ بھی چاچو چاچو سنے کا دل چاہ رہا ہے، خاشر نے بھی مارخ کی طرح کہا تو انابیہ اٹھ کر باہر چکی گئ شرما کر”
_____________________________________***
” واپسی پر انابیہ اور احد گھر جارہے تھے کہ راستے میں انابیہ کو گول گپوں والا نظر آیا تو اس نے شور مچا دیا کے گول گپے کھانے ہیں، احد کو بل آخری اس کی بات مانی پڑی احد گاڑی سائڈ پر لگا کر اتارا اور انابیہ کو پیچھے آنے کا کہا”
“انابیہ دو قدم ہی چلی تھی کہ اس کی سینڈل کا اسٹرپ کھل گیا انابیہ اپنے سینڈل بند کر رہی تھی کہ قریب سے گزرتا ٹرک جس میں بڑے بڑے اور لوہے کے بہت وزنی ویل تھے، سڑک میں بڑے سے گھڑے کی وجہ سے ویلز کو زور دار قسم کا جھٹکا لگا اور ایک ویک اڑتا ہوا آیا او انابیہ کی ٹانگوں پر جالگا”
“انابیہ کی ایک ہی چینح نکلی اور احد بھاگ کر اس تک پہنچا پر انابیہ کو خون میں لت پر دیکھ کر پاگل سا ہوگیا”
_____________________________________***

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: